Anokhi Muhabbat Season 2 By Rimsha Khan Readelle50283 Anokhi Muhabbat Season 2 (Episode 7)
No Download Link
Rate this Novel
Anokhi Muhabbat Season 2 (Episode 7)
Anokhi Muhabbat Season 2 By Rimsha Khan
وہ دونوں کالج جانے کے لئے جیسے ہی باہر نکلے دونوں کے موبائل پر ایک ساتھ میسج نوٹیفیکیشنز آگئے۔۔۔۔۔
یہ ایک ساتھ ہماری یاد کس کو آئی۔۔۔۔۔شارق نے پاکٹ سے موبائل نکالتے ہوئے کہا ۔۔۔۔
آف کورس دی اونلی ون مس سنینہ ۔۔۔۔۔۔ عائش نے کہہ کر بائیک سٹارٹ کردی۔۔۔۔
تمہیں کیسے پتہ۔۔۔۔۔۔ شارق نے آنکھیں سکیڑ کر پوچھا۔۔۔
بس بتا دیا نا چیک کرلو اپنا موبائل۔۔۔۔۔۔۔ اندازہ غلط نہیں ہوگا ۔۔۔۔۔
بھائی کالج میں آج آرٹ ایگزیبیشن ہیں۔۔۔ حورم آپی بھی آئیں گی۔۔۔۔ آپ اور عائش بھائی بھی آجائے نا۔۔۔۔ کافی دن ہوگئے ۔۔۔۔ بہت یاد آرہی ہے۔۔۔۔۔شارق نے لاؤڈلی میسج پڑھ کر سنایا۔۔۔۔۔
میں نے بولا تھا نا۔۔۔۔ایک وہی ہے جیسے ہماری فکر ہوتی ہے۔۔۔۔ بہن ہے نا۔۔۔۔
تو ہمیں کونسا جانا ہے ۔۔۔ ہمارا کیا کام ہے ایگزیبیشن میں۔۔۔۔۔شارق نے موبائل پاکٹ میں رکھ کر بے پرواہی سے کہا۔۔۔۔۔
کام تو ہے نا۔۔۔ اور ہمیں جانا بھی ہے۔۔۔۔۔۔ عائش کا انداز دوٹوک تھا۔۔۔۔۔
اپنی کلاسز بنک کرکے جائیں گے کیا۔۔۔۔ شارق نے سرد تیوروں سے گھورا۔۔۔
بلکل بھی نہیں۔۔۔۔ ایگزیبیشن کافی لیٹ تک چلتی رہتی ہے۔۔۔ کلاسز کی بعد چلے جائیں گے ۔۔۔۔۔۔
°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°
حورم بیٹا تم تیار نہیں ہوئی ابھی تک۔۔۔ سنینہ اور ایزل نے کالز کر کرکے ناک میں دم کر رکھا ہے کہ حورم آپی کب آئیں گی۔۔۔۔۔
وہ جو سکارف سر پر اچھی طرح اوڑھ کر پنز سے سیٹ کر رہی تھی دروازے میں کھڑی ادینہ کو دیکھ کر ہولے سے مسکرائی۔۔۔۔
بس ریڈی ہو گئی مما۔۔۔۔ پاپا گھر پر ہے؟؟؟ اس نے بولا تھا مجھے جاتے ہوئے ڈراپ کردےگا۔۔۔۔۔
وہ تو آج صبح سویرے ہی نکلے تھے۔۔۔ تمہارے ڈیڈ کو بتا کر گئے ہیں وہ ڈراپ کردےگا۔۔۔۔۔
اچھا جی۔۔۔۔ میں ٹھیک لگ رہی ہوں نا۔۔۔۔۔
بہت پیاری لگ رہی ہو۔۔۔۔۔
اپنا موبائل اٹھا کر پرس میں رکھا اور ادینہ کے ساتھ روم سے باہر نکلی۔۔۔۔۔
آریز کے روم کو ہلکا سا ناک کرکے اندر چلی گئی تو بیڈ کے اوپر لگے پورٹریٹ کو دیکھ کر اسے ایسا لگا کہ وہ سامنے ہی بیٹھا ہے ایک خوبصورت مسکان لبوں پر سجائے۔۔۔۔۔۔ اس کی بنائی گئی شاہکار کو آریز نے ایک خوبصورت فریم میں بند کر بلکل اپنے بیڈ کے اوپر ہی سیٹ کرکے آویزاں کیا تھا۔۔۔۔۔ یہ شخص اسے خفظ ہوچکا تھا۔۔۔۔اس نے خود اپنے ہاتھ کی خوبصورتی کو داد دی۔۔۔۔۔
اچانک واشروم کا دروازہ کھلا اور آریز ہاتھ میں ٹاول لئے باہر نکلا۔۔۔۔
سو سوری بیٹا تھوڑی دیر ہوگئی ۔۔۔۔ بس پانچ منٹ دے دو۔۔۔ وہ برش اٹھا کر جلدی جلدی بالوں کو سیٹ کرنے لگا تو حورم نے اس کے لئے جیکٹ نکال لیا۔۔۔۔ اور اسکو پہنانے میں ہیلف بھی کی۔۔۔۔۔
تھینکس بیٹا۔۔۔۔۔ چلیں۔۔۔۔۔۔
وہ دونوں ایک ساتھ باہر نکلے تو حنا بھی باہر ادینہ کے ساتھ بیٹھی تھی۔۔۔ دونوں سے اجازت لیکر وہ لوگ نکلے۔۔۔۔ باپ بیٹی کو پہلی بار ساتھ باہر جاتے دیکھ کر ایسا لگا کہ کوئی بھاری بوجھ سر سے سرک گیا ہو۔۔۔۔۔
°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°
کالج کے سامنے اسے آریز نے ڈراپ کیا۔۔۔۔
جب فری ہوجاو تو پھر کال کر لینا۔۔۔۔ لینے آجاؤں گا۔۔۔۔
اوکے ڈیڈ۔۔۔۔۔
وہ گیٹ کے اندر قدم رکھنے لگی تو سامنے ہی سنینہ اور ایزل کو محوانتظار پایا۔۔۔۔۔
یار آپی اتنی دیر لگا دی۔۔۔ پتہ ہے آپ کے سارے پینٹنگز کو کافی سراہا جا رہا ہے۔۔۔ ہر کوئی آپ کے بارے میں پوچھ رہا ہے۔۔۔۔ حورم ان دونوں کی پریشانی بھانپ گئی تھی۔۔۔۔۔
ابھی تو بس بارہ بج گئے ہیں ڈئیر۔۔۔ ریلیکس۔۔۔۔
اور پھر اس کےساتھ قدم آگے بڑھانے لگی۔۔۔۔ کالج کے بڑے سے ہال میں کافی بھیڑ جمع تھی۔۔۔۔ سٹوڈنٹس کے علاؤہ ٹیچرز بھی کافی مقدار میں موجود تھے۔۔۔۔ میڈیا والوں کو بھی بلایا گیا تھا۔۔۔۔ ہر قسم کے پینٹنگز مصور کی کارکردگی کا منہ بولتا ثبوت تھا ۔۔۔۔ وہ بھی سنینہ او ایزل کے ساتھ ایک ایک پینٹنگ کے پاس جاتی۔۔۔۔ میڈیا والوں کا ایک جم غفیر اسے دیکھ کر پاس آیا اور کیمرون کا رخ اس کیطرف موڑ دیا۔۔۔ دبا دب پکچرز کھینچنے لگے۔۔۔۔۔ اور سوالات کا انبار شروع ہوگیا۔۔۔۔ ایزل نے مضبوطی سے اس کا ہاتھ پکڑا تھا۔۔۔ اسے وحشت ہوتی تھی اس طرح ہجوم سے۔۔۔۔ دور سےہی ایان کی نظر حورم اور اسکے ساتھ چپک کر کھڑی ایزل پر پڑی تو اس کی طرف چلا ایا۔۔۔۔۔
اور ان سب کو ایک سائیڈ پر لے گیا۔۔۔۔۔
تھینکس آنے کے لئے ۔۔۔۔ ایان کی آنکھوں میں تشکر کا تاثر واضح تھا۔۔۔۔۔
آنا تو تھا ہی۔۔۔ میری مما کے بھتیجے جو ٹھہرے ۔۔۔ حورم نے مسکرا کر جواب دیا ۔۔۔۔۔ایزل حورم کے پیچھے کھڑی تھی ۔۔۔۔ وہ اس شخص کا سامنا کرنے سے کترا رہی تھی۔۔۔۔ اور سنینہ کو بخوبی اندازہ تھا اس کی گریز کا۔۔۔۔۔
ہم ذرا باہرسے ہو آتے ہیں۔۔۔۔ سنینہ نے ایزل کا ہاتھ پکڑا اور باہر گراؤنڈ کی طرف جانے لگی تو ایزل نے سکھ کا سانس لیا۔۔۔۔۔
یہ تمہیں کیا ہوگیا۔۔۔۔ اچھا بلا خوبصورت انسان ہے۔۔۔ اسے دیکھ کر تمہاری ہوائیاں کیوں اڑ جاتی ہے۔۔۔۔
پتہ نہیں۔۔۔۔ تم چھوڑو یہ۔۔۔۔ تم نے عائش اور شارق کو میسج کیا تھا نا وہ کب تک آئیں گے۔۔۔۔۔۔
ابھی پہنچ جائیں گے۔۔۔۔۔
ادھر ایزل کی جانے سے ایک دم ایان کے آنکھوں کی روشنی غائب ہوگئی ۔۔۔۔ وہ یک ٹک ایزل کو نظروں سے دور ہوتا ہوا دیکھ رہا تھا۔۔۔ اس کی بے چینی حورم نے محسوس کی تو اس کے سامنے چٹکی بجائی۔۔۔۔۔
ہیلو۔۔۔۔۔۔
ایان نے سر جھٹک کر اس کی طرف دیکھا۔۔۔۔ جی۔۔۔۔۔۔
تم میری بہن کو میری موجودگی میں تاڑ رہے ہو۔۔۔۔۔
تمہاری بہن کو پسند کرتا ہوں میں۔۔۔ بغیر کوئی تمہید باندھے کہا گیا۔۔۔۔۔
اور وہ۔۔۔۔۔۔ حورم نے اس کی طرف دیکھا تو اس کی آنکھیں صحرا بنی ہوئی تھی ۔۔۔۔۔
اسکا گریز تم نے صاف دیکھ لیا۔۔۔۔۔ ایان کے لہجے میں یاسیت تھی۔۔۔۔
مطلب آگ یک طرفہ ہے۔۔۔ کوئی بات نہیں۔۔۔ایزل باقی لڑکیوں سے مختلف ہے۔۔۔ بہت چھوٹی عمر میں اس نے بہت کچھ سہا ہے۔۔۔کافی پیچ و خم ہیں اس کی لائف میں۔۔۔تم مماسے ڈائریکٹ بات کرلو۔۔۔۔ اس کے لئے ایک اچھا رشتہ آیا ہے اور آئی تھنک انکل کو کافی پسند بھی ہے۔۔۔کہیں آپکے خوب اٹھنے سے پہلے ٹوٹ کر بکھر نا جائے۔۔۔ حورم نے دانستہ ارمغان کا نام نہیں لیا تھا۔۔۔۔۔
م۔۔م۔میں آج ہی پھپھو سے ملتا ہوں۔۔۔ اور موم کو میں نے بتایا تھا ۔۔۔۔ ابھی وہ دونوں بات کر رہے تھے کہ سنینہ اور ایزل کے قریب دو لڑکوں کو کھڑے ہوتے دیکھا۔۔۔۔ ایک لڑکے نے صرف سنینہ کو گلے لگایا۔۔۔ جبکہ دوسرا لڑکا جو بلا کا خوبصورت تھا اس نے سنینہ اور ایزل دونوں کو گلے لگایا۔۔۔۔ آیان کے ماتھے پر ناگواری کے بل پڑنے لگے ایزل کو اس طرح کسی کے گلے لگتے۔۔۔۔ جبکہ اس کی کنڈیشن سے یکسر انجان حورم خود عائش کو اتنے دنوں بعد دیکھ کر خوشی اور حیرانی کی ملی جلی کیفیت کا شکار تھی۔۔۔۔
میں آپ دونوں سے بات نہیں کرتی ۔۔۔ کتنے دن ہوگئے ہاسٹل شفٹ ہوئے ایک بار بھی گھر نہیں آئیں آپ دونوں۔۔۔ سنینہ بڑے ناز و ادا سے بولی۔۔۔۔
یہ تو اچھی بات ہے ۔۔۔شارق اس کے اور ایزل کے لئے ہم جو چاکلیٹس لائے ہیں وہ سب ایزل کو دی دیں گے۔۔۔۔ عائش نے ایک ماہر اداکار کی طرح پتہ پھینکا۔۔۔۔۔
خبردار ۔۔۔۔ جلدی نکالے ۔۔۔۔۔۔اپنا حصہ تو میں کبھی کسی کو نا دوں۔۔۔۔ اس نے عائش کے جیکٹ کے اندر خود ہاتھ ڈال کر سارے چاکلیٹس نکال دیے ۔۔۔۔ تو دور کھڑی حورم کے ہونٹوں پر مسکراہٹ رینگنے لگی ۔۔۔۔۔۔
بھوکی۔۔۔ یہ سب تمہاری نہیں ہے ایزل کو بھی دو۔۔ شارق نے اسے سب پرس میں ڈالتے دیکھا تو جھپٹ کر اس کے ہاتھ سے چاکلیٹس چھین کر ہالف واپس کر دئیے اور ہالف ایزل کو تھما دیے۔۔۔۔
جس پر سنینہ کا منہ بن گیا۔۔۔۔۔
حورم کہاں ہے؟؟؟ شارق نے اردگرد نظر دوڑا کر ایزل سے سوال کیا۔۔۔۔
وہ اندر ہے ہال میں۔۔۔۔ انٹرویو لے رہے تھے کچھ میڈیا والے۔۔۔۔
چلو مل لیتے ہیں۔۔۔۔۔ شارق سنینہ اور ایزل کے کندھوں پر ہاتھ رکھ کر جانے لگا۔۔۔۔۔۔
تم نہیں آرہے۔۔۔۔۔ ایزل نے اسے ایستادہ کھڑے دیکھ کر پوچھ لیا۔۔۔۔
آجائے گا۔۔۔ اسکا ایک فرینڈ آرہا ہے اس کا ویٹ کر رہا ہے۔۔۔شارق کو پتہ تھا وہ حورم کے سامنے نہیں آئے گا بس دور سے ہی دیدار کرے گا۔۔۔۔
یہ لڑکا۔۔۔۔ ایان جو کب سے خاموش کھڑا شارق اور عائش کو دیکھ رہا تھا حورم سے پوچھ لیا۔۔۔۔
یہ شارق ہے۔۔۔۔۔ اسفند چاچو کا بیٹا۔۔۔۔ چونکہ عائش پیچھے رہ گیا تھا تو اس نے صرف شارق کی طرف اشارہ کیا۔۔۔۔
اوہ۔۔۔ اچھا۔۔۔ وہ دونوں بھی ہال کے انٹرنس پر جانے لگے تاکہ شارق لوگوں سے ملے۔۔۔۔ عائش ان لوگوں کے پیچھے آرہا تھا کہ ہال کی سیڑھیوں پر سب سے پہلے سنینہ چڑھ رہی تھی پھر شارق اور پیچھے ایزل جو بیگ میں چاکلیٹس ڈال رہی تھی بے خیالی میں اس کا پیر پہلی ہی سیڑھی پر لڑکھڑایا اور وہ گرنے والی تھی کہ ایان نے اسکو بازوں سے پکڑ کر سیدھا کیا۔۔۔۔ عائش نے دو قدم آگے بڑھا کر بہت زود سے اسکا ہاتھ جھٹک کر ایزل کے گرد بازووں حائل کئے۔۔۔۔۔
ہاؤ ڈییر یو۔۔۔ دور رہ ۔۔۔۔۔ ایک دم آنکھوں میں اشتعال بھر کر آیان کی طرف دیکھا۔۔۔۔ ہاتھ کیوں لگایا اسے۔۔۔۔۔
آئی ایم سوری وہ گر رہی تھی۔۔۔ ایان نے جلدی سے وضاحت کی۔۔۔۔۔
میں بچا لیتا ۔۔۔۔۔غصے سے کنپٹیوں کے رگیں ابھرنے لگی۔۔۔۔۔
شارق بھی جلدی سے نیچے اترا اور اس کے پیچھے سنینہ ۔۔۔ جبکہ حورم اوپر ہی رہ گئی تھی۔۔۔۔ اسے پتہ تھا عائش کے غصے کا۔۔۔۔ جب ایان نے دوڑ کر ایزل کا بازو پکڑا تھا حورم کو کسی انہونی کا احساس ہوا تھا۔۔۔۔
ایزل کا پیر سوج گیا تھا۔۔۔۔ تھوڑا سا پیچھے کی طرف مڑ گیا تھا۔۔۔ گرنے سے تو بچ گئی تھی بٹ بیت زور سے دباؤ پڑنے پر پیر میں موچ آگئی تھی۔۔۔
عائش میرا پیر ۔۔۔۔ اس نے عائش کو غصے سے بپھرا دیکھ کر ٹھنڈا کرنا چاہا۔۔۔۔ تو عائش نے قریب بینچ پر اسے بٹھایا۔۔۔ اور اسکے سامنے زمیں پر بیٹھ کر اسکا پیر اپنے گھٹنے پر رکھ کر اسکا جائزہ لینے لگا۔۔۔۔ ایان نے قریب سے عائش کو دیکھا تو مسکرا کر حورم کی طرف دیکھا ۔۔۔۔ جو اوپر سے ہی عائش کو فکرمندی سے ایزل کے پاؤں کا جائزہ لیتے دیکھ رہی تھی۔۔۔۔
یہ ادینہ پھپھو کا بیٹا ہے نا۔۔۔۔ایان کے پوچھنے پر حورم نے اثبات میں سر ہلایا۔۔۔۔
پاپا کی طرح اپنے رشتوں کو لے کر کافی پوزیسیو ہے۔۔۔ حورم نے نیچے اتر کر معذرت خوانہ انداز میں بتایا۔۔۔ اسے برا لگا عائش کا ایان کو اس طرح ٹوکنا۔۔۔۔۔
یار تم دیکھ کر چل نہیں سکتی۔۔۔۔ پیر اچھا خاصا سرخ ہوگیا تھا۔۔۔۔۔عائش نے الجھن سے ایزل کو جھاڑا۔۔۔۔
تکلیف سے ایزل کی آنکھیں سرخ ہوگئی ۔۔۔۔۔
چلو اسے ڈاکٹر کے پاس کے کر چلتے ہیں ۔۔۔۔ اس نے شارق کو مخاطب کیا۔۔۔۔۔
اور آپ ۔۔۔۔۔ آپکی عمر کا لحاظ کرکے کچھ نہیں بولا آئیندہ خیال رکھنا ۔۔۔۔ میری بہن سے دور رہنا ۔۔۔۔ ایان جو عائش اور ایزل کی اتنی نزدیکی اور بے تکلفی پر تذبذب کا شکار تھا اس کے بہن بولنے پر ایک دم ہی اپنا آپ ہلکا پھلکا لگنے لگا۔۔۔۔۔۔ اور بہت زور سے عائش کو ہگ کرلیا۔۔۔۔۔
شارق حیرانی سے اس پاگل شخص کو دیکھ رہا تھا جو اتنی انسلٹ کے باوجود بھی عائش کے گلے لگ کر اس کے غصے کو ہوا دے رہا تھا۔۔۔۔۔
عائش نے اسے جھٹکے سے خود سے الگ کردیا۔۔۔۔
ایکسیوزمی ۔۔۔۔۔۔ غیر شناسا نظروں سے اسے دیکھ کر کہا۔۔۔۔۔
عائش بھائی ۔۔۔یہ اپکے ماموں کا بیٹا ہے آیان احمد۔۔۔۔ سنینہ نے جلدی سے تعارف کروایا ۔۔۔۔۔۔
تو عائش کے چہرے پر چھائی سختی اور سنجیدگی پل بھر کو سمٹ گئی۔۔۔۔۔
آپ لوگ کہاں گئے تھے۔۔۔۔۔۔۔۔ میری مما سے ملے اپ۔۔۔۔ عائش کو جلدی اپنے مما کی یاد آگئی جو اپنے بھتیجوں کو یاد کر کر کے اداس رہتی ۔۔۔۔۔
ہاں ملے تھے ہم۔۔۔۔ پچھلے ہفتے تمہارے گھر میں گرینڈ پارٹی تھی ہم گئے تھے۔۔۔ تم ہاسٹل میں تھے اس لئے ملاقات نہیں ہوئی۔۔۔۔۔
آئی ایم سوری میں کچھ زیادہ روڈ ہوگیا تھا۔۔۔
اٹس اوکے۔۔۔۔ آئی انڈرسٹینڈ۔۔۔۔۔شکل کے ساتھ ساتھ عادتیں بھی صارم انکل سے چرائی ہے۔۔۔۔ ایان نے خوش اخلاقی کا مظاہرا کیا۔۔۔۔۔
اور پھر اچانک ایان کے پیچھے کھڑے وجود پر عائش کی نظر پڑی۔۔۔۔۔حورم کی آنکھیں اسکی آنکھیں سے الجھ پڑی۔۔۔۔۔اور پہلی بار ایسا ہوا کہ عائش کو دیکھ کر حورم کی دھڑکنیں بے ترتیب ہوگئی۔۔۔۔۔ اور اپنے احساسات میں تبدیلی محسوس کرکے اس نے نظریں جھکا لی۔۔۔۔۔
عائش چلے۔۔۔۔۔شارق نے عائش کی نظروں کی بے ساختہ وارفتگی نوٹ کی تو اسکا کندھا ہلایا۔۔۔۔
ہوں۔۔۔ہاں چلو۔۔۔۔ نظریں حورم سے ہٹا کر شارق کی طرف دیکھا۔۔۔۔
ہم تو بائیک پر آئے ہیں۔۔۔۔ شارق نے اسے یاد دلایا۔۔۔۔
تم لوگ میری کار لے جانا۔۔۔۔ ایان نے جلدی سے کیز اسے پکڑوادی۔۔۔۔
عائش نے کیز شارق کو تھما دی ۔۔۔۔ اور خود ایزل کو بازوں سے نرمی سے پکڑ کر اٹھایا۔۔۔۔
عائش مجھ سے چلا نہیں جائے گا۔۔۔۔۔ اس نے بہت زور سے عائش کے کندھے کو پکڑا تھا۔۔۔۔
شارق گاڑی اندر لے آو۔۔۔۔
اسے پرمیشن نہیں ہوگی ۔۔۔ میں لے آوں گا۔۔۔۔ ایان نے بات سمبھالی۔۔۔۔ کیونکہ کالج کے اندر گاڑی صرف سٹاف کے لیے لانا الاؤ تھا سٹوڈنٹس کے لیے نہیں ۔۔۔۔ اور ایان کو کچھ ہی لمحوں میں عائش کی ضدی طبیعت کا اندازہ ہوگیا تھا۔۔۔۔
اوکے جلدی۔۔۔۔۔
عائش بھائی آپکو پتہ ہے حورم آپی کی پینگٹنز سب سے ٹاپ پر تھی۔۔۔۔ سب سے زیادہ ڈیمانڈڈ تھی۔۔۔۔۔
ہمممم۔۔۔۔ اس کی طرف دیکھے بغیر عائش نے کہا۔۔۔۔۔۔
کانگریچولشن حورم۔۔۔ شارق نے بے ساختہ بولا تو ایزل اور سنینہ نے ٹھٹھک کر اسے دیکھا۔۔۔۔
سوری حورم آپی ۔۔۔۔۔ اس نے چبا کر کہا۔۔۔
تو حورم مسکرا دی۔۔۔۔۔
تھینکس۔۔۔۔۔
ایان کی گاڑی آگئی تو عائش نے ایزل کو احتیاط کے ساتھ بٹھایا۔۔۔ شارق فرنٹ سیٹ پر جاکر بیٹھ گیا ۔۔۔
سنینہ تم حورم کے ساتھ چلی جانا۔۔۔ ایزل کو ہم ڈراپ کر لیں گے۔۔۔۔ شارق نے سنینہ کو گاڑی میں بیٹھنے سے روک دیا۔۔۔۔
جی بھائی۔۔۔۔۔
ایان گاڑی سے نکلا ۔۔۔۔ اور عائش ڈرائیونگ سیٹ کی طرف بڑھنے لگا کہ دل کی خواہش پر لبیک کہہ کر پیچھے مڑا اور حورم کے روبرو کھڑا ہوگیا۔۔۔۔
ایم سوری۔۔۔۔
کک۔۔ کس لئے۔۔۔۔حورم کے ماتھے پر پسینہ آنے لگا۔۔۔ عائش کی اتنی سے قربت سے اس کی جان جانے لگی۔۔۔
حورم کے گلے لگا ۔۔۔۔ تو شارق اور حورم دونوں کی آنکھیں عائش کی اس حرکت پر حیرانی سے پھیل گئی۔۔۔۔باقی تین نفوس نے نوٹس ہی نہیں کیا۔۔۔۔۔ کیونکہ تھوڑی دیر پہلے ایان نے سنینہ اور ایزل کو بے تکلفی سے عائش کے گلے ملتے دیکھا ۔۔۔۔ اور حورم تو اپنی کزن تھی۔۔۔۔لیکن حورم اور شارق صدمے میں تھے ۔۔۔۔
ہگ کرنے کے لئے۔۔۔۔ عائش نے اس کے کان میں سرگوشی کی۔۔۔۔اور پینٹ کے پاکٹ سے پیکٹ نکال کر اس کے ہاتھ میں رکھا تو حورم بغیر کسی ردعمل کے بے ترتیب سانسوں سے اسے دیکھنے لگی۔۔۔۔
اور وہ جاکر ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھ گیا۔۔۔۔۔
بے شرم بے حیا ڈھیٹ انسان۔۔۔۔۔ اگر ایزل کا خیال نا ہوتا تو شارق نے اس کے بے باک حرکت پر اسے شرمندہ کرنا تھا۔۔۔۔
ایزل ۔۔۔کیا میں تمہیں سنینہ یا حورم کو ہگ کروں گا تو بے شرم یا ڈھیٹ کہلاؤں گا۔۔۔ عائش نے بلکل سپاٹ انداز میں ایزل کو مخاطب کیا۔۔۔۔۔
تم اتنا نیگیٹو کب سے سوچنے لگے ہو۔۔۔۔ اور نا ہم کوئی غیر ہے۔۔۔۔ ایک ساتھ پلے بڑھے ہیں ہم۔۔۔۔ اور جلدی چلاؤ گاڑی پیر دکھ رہا ہے
میرا۔۔۔۔۔۔
عائش نے ایک آئی برو اچکا کر شارق کو دیکھا۔۔۔۔۔
حورم گومگو کیفیت میں کھڑی اپنی ہی سانس وہ دھڑکن کو ترتیب میں لانے کے لئے سعی کرنے لگی۔۔۔۔۔ میں ڈیڈ کو کال کرتی ہوں وہ لینے آجائیں گے ۔۔۔۔اتھل پتھل سانسوں میں کہہ کر وہ ایک سائیڈ پر رکھی بینچ پر بیٹھ گئی۔۔۔
°°°°°°°°°°°°°°°°°°°
عائش اور شارق نے ایزل کو گھر ڈراپ کیا تو ارسلان خواس باختگی میں کار کی طرف آیا۔۔۔۔
عائش کیا ہوا ہے میری بیٹی کو۔۔۔۔
وہ ایگزیبیشن تھا کالج میں تو میں اور شارق گئے تھے بس اسکے پاؤں میں تھوڑی سی موچ آئی ہے۔۔۔۔ عائش جو ایزل کو سہارا دے کر گاڑی سے باہر نکال رہا تھا ارسلان کے چہرے پر چھایا تفکر دیکھ کر جلدی سے گویا ہوا۔۔۔۔۔۔
ایزل نے دوسرا پیر جس پر پٹی بندھی تھی زمین پر رکھا تو لڑکھڑائی۔۔۔۔ آؤچ۔۔۔۔۔۔
عائش نے جلدی سے اسے باہوں میں اٹھایا اور اس کے کمرے میں بٹھا کر دوائیاں سمجھا دی۔۔۔۔
پیار چھپن چھپائی کھیل نہیں ہوتا ۔۔۔۔ جب کیا ہے تو ڈٹ کر سامنا کرو۔۔۔۔ باہمت بنو ۔۔۔ جو پیار محبت مل رہا ہے اسے خوشی سے قبول کرلو۔۔۔۔عایش اس کی انکھوں میں دیکھ کر اسکے دل میں چھپے محبت کے بھیدوں سے اسے آشنا کر رہا تھا۔۔۔۔۔۔
ایزل کے حواس مفلوج ہوگئے وہ پھٹی پھٹی نظروں سے اسے دیکھنے لگی۔۔۔۔ وہ منتشر اعصاب کو یکجا کرکے کچھ بولنے والی تھی کہ عائش پھر سے بول پڑا۔۔۔۔۔
ایان کی نظروں کی وارفتگی میں نے بخوبی نوٹ کی۔۔۔اور یہ تو سب جانتے ہیں کہ عائش فاروقی کے پاس چھٹی حس کے علاؤہ بھی کافی حسیں ہیں۔۔۔۔ مگر پھر تمہارے چہرے پر بھی قوس و قزح کے ہزاروں رنگ دیکھے میں نے۔۔۔
ابھی تم نے گاڑی میں بولا نا کہ ہم ساتھ پلے بڑھے ہیں ۔۔۔۔ تو صرف اتنا نہیں۔۔۔۔ ہم سکول تک بھی ساتھ پڑھے تھے۔۔۔۔ تمہیں کوئی تنگ گرتا تو میں اس کی اچھی خاصی دھلائی کرتا۔۔۔ تمہیں ٹیچر مارتی میں تمہیں اپنے حصے کی چیزیں دے کر تمہیں بہلاتا۔۔۔۔۔۔ تمہارا ہوم ورک میں کرواتا۔۔۔۔ اور ۔۔۔۔۔۔۔۔
اور تمہارا یہ تکیہ کلام آج کافی سالوں بعد تمہارے منہ سے سنا۔۔۔۔” دور رہ میری بہن سے” جو تم سکول میں دن میں کئی بار بولتے تھے۔۔۔۔ ایزل نے اس کی بات درمیان میں کاٹ کر اپنے طریقے سے مکمل کی۔۔۔۔۔
عائش کے سنجیدہ چہرے پر ایک شاندار مسکراہٹ ابھری۔۔۔۔۔ میں نے تمہیں اور سنینہ میں کھبی فرق نہیں کیا۔۔۔ بچپن سے سنتا آرہا تھا جب پاپا بولتے تھے عائش اپنی بہنوں کا خیال رکھنا ۔۔۔۔۔۔
عائش مجھے لوگوں کا مرکز نگاہ بننے سے ڈر لگتا ہے۔۔۔۔ میں ایک ریجیکٹ کی گئی لڑکی ہوں جو عین شادی والے دن ہی شوہر کے ہوتے ہوئے بھی بیوہ ہوچکی ہوں۔۔۔ اور شائید ایان سر یہ جانتے بھی نہیں ہوں گے۔۔۔۔ اور اگر اس نے بھی یہ کھڑوا سچ سن کر منہ موڑ لیا تو م۔م۔میں۔۔۔ باقی الفاظ منہ میں گڈ مڈ ہوگئے ۔۔۔۔۔۔
کچھ بھی۔۔۔۔۔ تمہاری شادی نہیں ہوئی تھی۔۔۔صرف نکاح ہوا تھا۔۔۔ رخصتی سے پہلے بات ختم۔۔۔ اور اگر اس کے جذبات سچے ہوںگے اسے ان باتوں سے فرق نہیں پڑنا چاہیے ۔۔۔۔۔عایش نے اسے آئینہ دکھایا۔۔۔۔تم آرام کرلو۔۔۔ میڈیسن ٹائم پر لے لینا۔۔۔۔ اور رات کو اپنی طبیعت کی اطلاع دے دینا۔۔۔۔۔اس کے سر پر ہاتھ رکھ کر وہ چلا گیا۔۔۔۔۔۔عائش کا دل پسیجا تھا اس کی باتوں سے۔۔۔۔۔۔
عائش ۔۔۔۔۔۔۔ او مائی گاڈ۔۔۔ تم یہاں۔۔۔۔۔ وہ جیسے ہی راہداری میں پہنچا حبا کی چہکتی ہوئی آواز نے اس کے قدم روک لئے۔۔۔۔۔
بھائی بولا کرو۔۔۔۔۔ اتنے بھی مینرز نہیں ہے تم میں ۔۔۔۔ بے نیاز ازلی حشک لہجہ تھا۔۔۔۔۔
بھائی نہیں ہو میرے۔۔۔۔ حبا زبان درازی میں سب پر سبقت لے گئی تھی۔۔۔۔۔
اگر نہیں ہوں تو بلانا بھی مت۔۔۔ میں غیروں سے بات نہیں کرتا۔۔۔۔کرختگی سے کہہ کر عائش آگے بڑھ گیا۔۔۔۔۔اور وہ دم سادھے پیچھے اس کے الفاظ پر غور کرتے سکتے میں چلی گئی تھی۔۔۔۔۔
انکل آپ پریشان نہ ہو۔۔۔ معمولی سی موچ ہے۔۔ شام تک بلکل ٹھیک ہوں گی۔۔۔۔ اور نیچے اتر آیا تو ارسلان کو شارق کے سامنے مضطرب سا بیٹھے دیکھ کر قریب ایا۔۔۔۔
تھینکس بیٹا۔۔۔۔مہک ہاتھ میں ٹفن اٹھاتی کچن سے نکل رہی تھی۔۔۔۔
بیٹے بھی بولتے ہوں تھینکس بھی۔۔۔۔ عائش نے مصنوعی غصے میں کہا۔۔۔۔
یہ لو۔۔۔ تمہاری فیورٹ مٹن کڑاہی ۔۔۔۔ پتہ نہیں تھا کہ تم آؤں گےاپنی قسمت کا کھانے۔۔۔۔ مہک نے اسے ٹفن پکڑوایا۔۔۔۔۔
اوووو جو آر گریٹ ۔۔۔ لو یو ۔۔۔ عائش نے اسکے کندھے کے گرد بازوؤں حائل کرکے اظہار کیا۔۔۔۔۔
°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°
