Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Anokhi Muhabbat Season 2 (Episode 2)

Anokhi Muhabbat Season 2 By Rimsha Khan

حبا کون تھا یہ۔۔۔۔ وہ مزے مزے سے آئیس کریم کھانے میں مصروف تھی کہ اس کی دوست مہوش نے پوچھا۔۔۔۔۔

کون۔۔۔۔ لاپرواہی سے پوچھا گیا۔۔۔۔

وہ ہینڈسم ۔۔۔ جس نے بل بھرا۔۔۔۔۔

وہ میرے ڈیڈ کے فرینڈ کے بیٹے ہے ہیں۔۔۔۔ہاں گڈ لکنگ ہے بٹ عائش کے سامنے کچھ بھی نہیں۔۔۔۔ حبا کے سامنے عائش کا دلکش مغرورانہ سراپا گردش کرنے لگا۔۔۔۔۔

چلو جلدی جلدی فنش کرو۔۔۔ الریڈی لیٹ ہوگئے ہم ڈیڈ تو کچومر بنا دے گے۔۔۔۔۔

~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~

سنڈے کو تو ویسے بھی فاروقی مینشن میں کافی رونق اور ہل چل مچی ہوتی ہے۔۔۔ لیکن آج یہاں کے مکینوں نے حورم کے رشتے کے لئے آنے والے مہمانوں کے لئے شاندار دعوت کا اہتمام کیا تھا۔۔۔۔۔ کافی گہما گہمی تھی۔۔۔۔ صارم نے ارسلان اور اسفند دونوں کو بلایا تھا۔۔۔۔

اسفند تھوڑا جلدی پہنچ گیا۔۔۔ اس نے موقع ڈھونڈ کر حورم سے اکیلے میں بات کرنی تھی۔۔۔۔۔

عائش ابھی سو کر اٹھا تھا۔۔۔ اس دن کے بعد حورم سے اس کی ملاقات نہیں ہوئی۔۔۔۔۔

وہ کسلمندی سے بغیر آستینوں والا شرٹ اور کیجول کھلا ٹراؤزر پہنے نیچے آیا۔۔۔۔

کچن کی طرف گیا تو حنا فاروقی کو دیکھا جو ملازموں کو ہدایات دے رہی تھی ۔۔۔۔۔

گڈ مارننگ موم۔۔۔۔۔۔

گڈ مارننگ ۔۔۔۔ اٹھ گیا میرا شہزادہ ۔۔۔۔۔

تم بیٹھو تمہاریے لئے گرما گرم ناشتہ تیار کر رہی ہوں۔۔۔

موم یہ گھر میں افراتفری کا عالم کیوں ہے۔۔؟؟؟

وہ حورم کے رشتے کے لئے ڈاکٹر حمدانی اپنی فیملی کے ہمراہ آرہے ہیں ۔۔۔ اور جوس کا گلاس عائش کو تھما دیا۔۔۔۔۔

گلاس پر عائش کی گرفت مضبوط ہوگئی۔۔۔

رگوں میں تیرنے والا خون منجمد ہوگیا۔۔

اسکے سفید پڑتے چہرے پر آنے والے لمحات کے متعلق خوف کے سائے پڑنے لگے ۔۔۔۔۔

موم بھوک نہیں ہے۔۔۔ کہہ کر عجلت میں کچن سے نکل کر روم میں چلا گیا۔۔۔۔

سب لوگوں کو مصروف دیکھ کر اسفند نے حورم کے روم کی طرف قدم بڑھائے۔۔۔۔۔۔

وہ معمولی سا تیار ہوکر بیٹھی تھی۔۔۔۔۔

ناک کرنے کے بعد اسفند روم میں انٹر ہوا۔۔

چاچو آپ۔۔۔ حورم خوشی سے اسفند کے گلے لگی ۔۔۔۔۔

مطلب میری چھوٹی سی گڑیا اب اتنی بڑی ہوگئی ہے کہ شادی کرنے جارہی ہے۔۔۔ حورم کا چہرا حجالت سے سرخ پڑ گیا اور سر جھکایا۔۔۔

۔اسفند نے اس کے سر پر بوسہ دیا۔۔۔۔

تم آو بیٹھو۔۔ بات کرنی ہے تم سے۔۔۔۔۔۔

دونوں صوفے پر بیٹھ گئے ۔۔۔۔

جو بولنے والا ہوں وہ کسی طرح کا ری ایکشن دئیے بغیر صبر و تحمل سے سنو۔۔۔۔

ادینہ کی آنکھوں میں ڈھیر سارا تخیر ابھرا۔۔۔۔انداز سوالیہ تھا۔۔۔۔۔

عائش آیا تھا ملنے وہ تمہارے لئے پسندیدگی کے جذبات رکھتا ہے۔۔۔۔ مجھے بھی عجیب سا لگا سن کر بٹ وہ کافی سیرئس ہے۔۔۔ بہت آگے بڑھ چکا ہے وہ۔۔۔۔

چاچو۔۔۔پلیز آپ اس کا دفاع تو نہ کریں۔۔۔ وہ تو پاگل ہے ۔۔۔۔ آپ تو سمجھے۔۔۔۔ وہ مجھ سے کتنے سال چھوٹا ہے۔۔۔۔ اگر پاپا یا ڈیڈ کو اس بات کی بھنک بھی پڑ گئی تو طوفان کھڑا ہوجایے گا۔۔۔ اور میں بھی اسے بھائی ہی مانتی ہوں۔۔۔اور اب تو میں نے پاپا کو ہاں بھی بول دیا۔۔۔۔وہ بچہ ہے اممیچیور ہے۔۔۔۔۔

نووووو۔۔ نا ہی وہ بچہ ہے نا ہی ام میچور ۔۔۔۔۔

اور یہ تم سے بہتر کوئی نہیں جانتا ۔۔۔۔

چاچو۔۔۔ میرے دل میں عائش کے لئے ایسی کوئی فیلنگز نہیں ہے۔۔۔۔ نا ہی وہ زبردستی میرے ساتھ کوئی رشتہ جوڑ سکتا ہے۔۔۔۔۔۔ دروازہ کھلنے پر دونوں نے سامنے ادینہ کو کھڑے دیکھا جس کا چہرہ لٹھے کی مانند سفید پڑ گیا تھا ۔۔۔

مما ووووہ ۔۔۔۔۔۔ حورم جلد ہی اس کے قریب آکر اس کے گرد بازوؤ حمائل کرکے کچھ بولنے والی تھی کہ ادینہ نے ہاتھ کے اشارے سے منع کردیا۔۔۔۔

عائش نے کیا کیا ہے؟؟؟ مجھے سچ سننا ہے۔۔۔۔وہ کھوجتی نگاہوں سے دونوں کو دیکھ کر سرد آواز میں بولی۔۔۔۔۔

عائش حورم کو لائک کرتا یے۔۔۔۔پانچ سال سے۔۔۔۔اسفند نے ایک ہی سانس میں اس کے کانوں میں زہر انڈیلا۔۔۔وہ لڑکھڑاتی ہوئی حورم کا ہاتھ پکڑنے لگی ۔۔۔۔

لوگ دنیا کے غلیظ نگاہوں سے اپنی بہن بیٹی کو بچاتے ہیں یہاں تو بیٹا ہی گھر کی مٹی پلید کرنے کی کوششوں میں لگا ہوا ہے ۔۔۔۔ بیٹا نہیں ہم نے بچھو پال رکھا ہے جو سگے رشتوں کو ڈس رہا ہے ۔۔۔۔ روایتی ماؤں جیسا سخت کٹھور لہجہ تھا۔۔۔۔۔

نن نن نہیں مما۔۔۔۔ وہ ایسا نہیں ہے۔۔۔ وہ غلط نہیں ہے۔۔۔ صارم فاروقی کا خون کبھی غلط ہو ہی نہیں سکتا۔۔بس نادان ہے ۔۔۔آپ پلیز پاپا کو یا ڈیڈ کو مت بتائیں۔۔۔۔ حورم کے چہرے پر ہوائیاں اڑ رہی تھیں ۔۔۔۔

ادینہ کی تو سننے سمجھنے کی صلاحیت مفقود ہوچکی تھی ۔۔۔۔ ٹرانس کی کیفیت میں عائش کے کمرے میں داخل ہوئی تو حورم اور اسفند بھی اس کے پیچھے آگئے۔۔۔۔

وہ بیڈ پر پیٹ کے بل الٹا لیٹا تھا۔۔۔اس اچانک افتاد پر سیدھا ہوکر بیٹھ گیا۔۔۔ ادینہ تیزی سے اس کی طرف بڑھی اور ایک زوردار تماچہ اس کے منہ پر رسید کیا ۔۔۔۔۔

اپنی حیثیت بھول گئے ہو تو یاد دلاؤ تمہیں۔۔۔۔ تم آئی جی صارم فاروقی کے بیٹے اور میجر اظہر فاروقی کے پوتے ہو۔۔۔ باپ دادا کی عزت مٹی میں ملانے کے درپے ہو۔۔۔ داد دینی پڑے گی۔۔۔ کمال کا حوصلہ ہے۔۔۔۔

مما۔۔۔۔ پلیز۔۔۔ حورم نے آگے بڑھ کر اسکے ہاتھ پکڑ کر التجاء کی۔۔۔۔

عائش جو دیدے پھاڑ کے اپنے گال پر ہاتھ رکھے ساکت و جامد کھڑا صورتحال کو سمجھنے کی کوشش کر رہا تھا۔۔۔ دھوپ چھاؤں جیسی حورم کو دیکھ کر سارے معاملے کی تہہ تک پہنچ گیا۔۔۔جو کبھی آگ لگاتی ہے اور پھر خود ہی پھونک مار مار کر بجھانے کی کوشش میں مزید شغلے بھڑکاتی ہے۔۔۔۔۔حورم نے اہانت و سبکی کے احساس سے آنکھیں جھکائے ۔۔۔۔۔

ادینہ میری بات سنو تم۔۔۔۔۔ اسفند کے لہجے میں واضح سرزنش تھی۔۔۔۔

ایسی کونسی بڑی غلطی سرزد ہوئی ہے جو تم اوقات کی بات کرتی ہو۔۔۔۔۔پیار کرنا غلط نہیں ہوتا ۔۔۔۔۔ اور یہ دونوں سگے بہن بھائی ہیں بھی نہیں۔۔۔۔ ایک دوسرے کے اتنے قریب رہتے ہوئے جذبات میں تبدیل آجاتی ہے۔۔۔۔ عائش نے کوئی گری ہوئی حرکت نہیں کی۔۔۔۔اسفند اپنے تئیں معاملے کو سلجھانے کی کوشش کر رہا تھا۔۔۔۔۔

عائش بغیر کچھ کہے بائیک کی کیز اٹھاتا روم سے نکل گیا۔۔۔۔۔

چاچو آپ روک لے اسے۔۔۔۔۔۔ وووو وہ بائیک کا ایکسیڈنٹ کروادے گا۔۔۔ حورم تڑپ اٹھی ۔۔۔۔

اسفند عائش کے پیچھے نکلا لیکن وہ جا چکا تھا۔۔۔۔

مما آپ کو میری قسم آپ کسی کو کچھ بھی نہیں بولیں گی۔۔۔ پاپا کو ڈیڈ کو۔۔۔۔ حورم نے ادینہ کا ہاتھ اپنے سر پر رکھ کر گویا اسے ایک وعدے کا پابند کردیا۔۔۔۔۔

حورم وہ تمہیں پانچ سال سے تنگ کر رہا تھا اور تم اب بھی اسکی حمایت کر رہی ہو۔۔۔

مما اس نے کچھ بھی غلط نہیں کیا۔۔۔فیلنگز رکھتا تھا تو بتا دیا تھا۔۔۔ آپ سمجھے۔۔۔۔۔سگی بہن تو نہیں ہوں نا۔۔۔

ادینہ نے حورم کو گلے لگایا تو وہ پھوٹ پھوٹ کر رو دی۔۔۔۔

ادینہ تم یہاں ہو ۔۔۔ کب سے ڈھونڈ رہی تھی تمہیں۔۔۔۔۔باہر گیسٹ آچکے ہیں۔۔۔اور یہ حورم رو کیوں رہی ہے۔۔۔ حنا جو ادینہ کو تلاش کرکے عائش کے روم میں آگئی تو دونوں کو گلے لگتے اور حورم کو روتے دیکھ کر متجسس ہوکر پوچھا۔۔۔۔۔

گھر کی لاڈلی بیٹی اپنے باپ کا گھر چھوڑ کر روتی ہی ہوگی۔۔۔۔ادینہ کی حاضر جوابی

چلو تم فریش ہو کر اجانا۔۔۔ ادینہ نے حورم کے ماتھے پر بوسہ دیا اور نکل گئی۔۔۔

بیٹا یہی دستور ہے دنیا کا ورنہ بیٹںاں سب کی سانجھی ہوتی ہے۔۔۔۔۔ حنا فاروقی نے بھی حورم کو ساتھ لگایا۔۔۔۔

موم میں فریش ہوکے آتی ہوں۔۔۔ گلو گیر لہجے میں بولتی ہوئی وہ اپنے روم میں چلی گئی ۔۔۔۔لیکن سوچیں مسلسل عائش کی طرف بھٹکی ہوئی تھی۔۔۔۔۔۔

وہ سوگوار اور سپاٹ چہرہ لئے نیچے چلی آئی۔۔۔ مہمانوں سے مل کر وہ اسفند اور صارم کے درمیان صوفے پر بیٹھ گئی۔۔۔ مگر دل اور دماغ کے مابین ایک سرد جنگ چڑھ گئی تھی۔۔۔۔

عائش کو سوچ سوچ کر اس کا دماغ ماؤف ہو رہا تھا۔۔۔۔۔اسفند نے اس کی غائب دماغی نوٹ کی تو اسکے ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر اسے تسلی دی۔۔۔ اس نے سر اٹھا کر اوپر دیکھا تو سب موجود تھے۔۔۔ نظر گھما کر مہمانوں کو دیکھا تو ڈاکٹر حمدانی کے ساتھ بیٹھے حیدر پر نظر پڑی۔۔۔ سخت پتھریلی آنکھوں سے اس کی طرف دیکھنے لگی۔۔۔ کوئی احساس کوئی جذبہ کسی بھی قسم کے تاثر سے حالی ۔۔۔۔۔۔وہ بھی اسے ہی دیکھ رہا تھا۔۔۔پھر ایک دم ذہن کے پردے پر عائش کی ضبط سے سرخ آنکھیں دکھائی دی۔۔۔۔۔

پاپا میں روم میں جاؤ۔۔ سر میں درد ہورہی ہے ۔۔۔۔

اس نے صارم کی طرف دیکھنے سے قصداً گریز کیا۔۔۔

ہاں جاؤ۔۔۔ اجازت ملتے ہی وہ سب کو باتوں میں مگن دیکھ کر روم میں چلی آئی۔۔۔۔۔اس کو اپنے رشتے کے خبر سے کوئی سروکار ہی نہیں تھی کہ صارم نے رشتے کے لئے ہامی بھری کہ نہیں۔۔ اسے کوئی دلچسپی نہیں رہی تھی۔۔۔۔

صارم نے حورم سے پوچھ کر جواب دینے کا وقت مانگا تھا۔۔۔۔

اسفند گھر پہنچ گیا تو عائش کو اپنے گھر میں صحیح سلامت دیکھ کر سکون کا سانس لیا۔۔۔۔

موبائل بھی وہ گھر پر چھوڑ آیا تھا۔۔۔ عائش کے کہنے پر صارم کو فون کرکے انفارم کر دیا کہ وہ یہاں شارق کے ساتھ کمبائن سٹڈی کے لئے رک رہا ہے۔۔۔

انکل آپ پاپا کو کہہ کر مجھے ہاسٹل میں شفٹ کروادے۔۔۔۔۔۔اسفند نے چونک کر عائش کی طرف دیکھا ۔۔۔چہرے پر پڑنے والے تھپڑ کے نشان ابھی بھی واضح تھے۔۔۔

جہاں تک مجھے یاد ہے ۔۔۔۔ تمہارے ہی کہنے پر میں نے صارم کو روکا تھا تمہیں ہاسٹل بھیجنے سے۔۔۔اسفند نے اسے یاد دلانا چاہا۔۔۔۔۔

اس ٹائم میں نہیں جانا چاہتا تھا ۔۔نہیں جانتا تھا میں کہ عشق کا نشہ سر چڑھ کر بولے گا ایک دن۔۔۔۔۔۔ اب یہ آپکا کام ہے کہ کس طرح پاپا کو کنوینس کرنا ہے۔۔۔۔ مجھے اب اس گھر میں جانے سے وحشت ہوتی ہے۔۔۔۔ اپنے آنکھوں کے سامنے اسے کسی اور کا ہوتے ہوئے نہیں دیکھ سکتا۔۔۔۔۔ عائش کے شفاف ماتھے پر ناگواری ابھری۔۔۔۔

اوکے تم کچھ کھا لو۔۔۔۔ کب سے بھوکے ہو۔۔۔

نہیں ہے مجھے بھوک ۔۔۔ ایک دن نہیں کھاؤں گا تو مر نہیں جاؤں گا۔۔۔۔حاصا جتاتا انداز تھا۔۔۔۔

کھینچ کر دو تین لگا دوں گا۔۔ خود کھا لیگا۔۔۔۔ اسفند کا دل دہل گیا۔۔۔۔

ہاں بس آپکی ہی کمی رہ گئی تھی۔۔۔ پہلے حورم پھر مما ۔۔۔ غنیمت سمجھ کر کچھ بھی کرلو ۔۔۔ آنکھیں غم کی شدت سے لبریز تھی۔۔۔۔طبیعت کے ٹھہراؤ اور رکھ رکھاؤ کے برعکس آج ان کا مزاج حد درجہ ہٹ دھرمی سے بھر پور تھا۔۔۔۔اور شارق کے روم میں گھس گیا۔۔۔۔۔ اور اوندھے منہ بیڈ پر گر گیا۔۔۔۔۔

عائش کچھ کھا لو پلیز۔۔۔۔ شارق فورس کرنے لگا۔۔۔

دل ڈوب رہا ہے میرا اور تمہیں کھانے کی پڑی ہے۔۔۔کتنا پریشان ہوں میں دکھ نہیں رہا۔۔۔ نکلو یہاں سے۔۔۔ اسودگی بھرا لہجہ تھا۔۔۔۔۔

اوووو مسٹر رومیو۔۔۔آپ کے اطلاع کے لئے عرض ہے کہ تم اس وقت میرے روم میں ہو۔۔۔۔ ہممم نکلو۔۔۔۔۔

تمہاری آسودگی دور کرنے کا سامان تو فاروقی مینشن میں ہیں ۔۔۔۔پھر وہاں جا ۔۔۔۔ اپنا غم غلت کر۔۔۔۔ اب کھانے سے بھلا کیا ناراضگی۔۔۔۔

سونے دو مجھے ۔۔۔ یہ لیکچر مجھ پہ مت جھاڑ۔۔۔۔ روکھے لہجے میں بول کر آنکھیں موندھ گیا۔۔۔۔

مجھے کیا۔۔۔ میں تو فرائض میزبانی سر انجام دے رہا تھا ۔۔۔

~~~~~~~~~~~~~~~~

پوری رات جاگ کر گزار دی اس نے۔۔۔۔ کروٹ بدلتے بدلتے صبح ہوگئی۔۔۔ ادینہ اسے اٹھانے آگئی تو سرخ آنکھیں رت جگے کی چغلی کھا رہی تھی۔۔۔۔

سوئی نہیں ہو۔۔۔۔

نہیں مما۔۔۔۔ عائش آیا تھا رات میں؟؟؟؟

وہ اسفند کی طرف تھا رات کو۔۔۔ شکر ہے کہ نہیں آیا ورنہ میرے ہاتھوں اس کی اچھی خاصی درگت بنتی۔۔۔۔۔ بڑا آیا من مانی کرنے والا ۔۔۔

مما پلیز۔۔۔۔۔ ۔حورم کو برا لگ رہا تھا۔۔۔۔

مما پاپا نے کیا جواب دیا حمدانی انکل کو ۔۔۔ حورم نے بی چینی سے استفسار کیا۔۔۔۔

ابھی تک کوئی جواب نہیں دیا۔۔۔۔ تم سے پوچھ کر ہی کچھ سوچے گا۔۔۔۔۔

چلو تم اٹھو سب ناشتے پر ویٹ کر رہے ہیں ۔۔۔۔

مما۔۔۔۔۔۔ ادینہ جانے لگی تو حورم نے پکارا۔۔۔

آپ یہ شادی ڈیلے نہیں کروا سکتی بس کچھ ہی دنوں کے لئے۔۔۔۔ میں مینٹلی بہت ڈسٹرب ہوں۔۔۔۔۔آپ پاپا کو اپنے طریقے سے ہینڈل کرلے۔۔۔۔

وہ بے دردی سے اپنے چہرے پر بہتے آنسو کو ہاتھ کی پشت صاف کرنے لگی۔۔۔۔۔

حورم تم عائش کو لے کر وریڈ ہو نا۔۔۔ اس صدمے سے باہر نکلو۔۔۔۔

ادینہ کے سرد نظروں سے خائف ہوکر اس نے سر جھکایا۔۔۔۔

اسکو ہاسٹل بھیجنے کا بندوبست کروایا ہے میں نے ۔۔۔ اب تمہیں تنگ نہیں کرے گا۔۔۔ وہاں رہ کر عقل بھی ٹھکانے آجائے گی اور عشق کا بھوت بھی اتر جائے گا۔۔۔۔

مما وہ آپکا خون ہے۔۔۔عائش کے خدا داد صلاحیتوں کے سب لوگ متعرف ہیں۔۔۔۔ اسے ہلکا سا تراشا جائے تو کندن بن سکتا اور آپ آتنی چھوٹی سی بات پر اس سے منہ موڑ رہی ہے۔۔۔ اسے ہاسٹل بھیج رہی ہے۔۔۔ اتنی کٹھور کیسے ہوسکتی ہے آپ۔۔۔۔ حورم کی آواز میں لڑکھڑاہٹ واضح تھی۔۔۔۔

اور تم میری بیٹی ہو۔۔ میرے جگر کا ٹکڑا۔۔۔۔ بیٹی بیٹے سے زیادہ مان سمان اور محبت کی حقدار ہوتی ہے۔۔۔۔۔ عائش میرے پیار کی نشانی ہے۔۔۔۔ لیکن وہ غلطی پر ہے۔۔۔ میں اسکو دلاسہ ہرگز نہیں دونگی یہاں۔۔۔۔۔۔میں بات کر لوں گی صارم سے۔۔۔ تم لے لو جتنا وقت لینا ہے ۔۔۔…

~~~~~~~~~~~~~~~~~~

وہ فاروقی اینڈ سنز کے بلند و بالا آسمان سے باتیں کرتی ہوئی عمارت کے سامنے کھڑی تھی۔۔۔ کالج سے وہ سیدھا یہاں تھی۔۔۔ کالج یونیفارم میں بیگ کندھے پر لٹکائے وہ خراماں خراماں چلتی ہوئی اندر داخل ہوئی۔۔۔ ریسپشن پر موجود لڑکی کے پاس چلی گئی۔۔۔۔

آپکے سر ہیں آفس میں؟؟؟ ملنا ہے مجھے۔۔۔۔۔

جی آپ کون۔۔۔۔ اپائنٹمنٹ لیا ہے آپ نے۔۔۔۔ ریسپشنسٹ نے پروفیشنل انداز میں پوچھا ۔۔۔۔۔

نہیں۔۔۔۔۔ بڑے تیکھے پن سے جواب ملا۔۔۔

تو پھر سر آپ سے نہیں مل سکتی۔۔۔

کیوں نہیں مل سکتی۔۔۔۔ اور آپ ہوتی کون ہے مجھے ان سے روکنے والی۔۔۔ حبا کے چہرے پر ناگواری در ائی۔۔۔۔

کونسے فلور پر آفس ہے انکا۔۔۔۔ جلدی بتائیں۔۔۔ حبا کی ضد برقرار تھی۔۔۔۔

دیکھیں میم۔۔۔ سر اس طرح کسی سے نہیں ملتے آپ سمجھے۔۔۔

کیا ہوا۔۔۔ ارمغان کا پی اے ارمان وہاں آگیا حبا کی اس طرف پشت تھی۔۔۔۔

مان سر یہ لڑکی ارمغان سر سے ملنے کی ضد کر رہی ہے بغیر کسی اپائنٹمنٹ کے۔۔۔۔۔ ارمغان کی دیکھا دیکھی آفس کے سب ورکرز ارمان کو مان کہہ کر بلاتے ۔۔۔۔۔

ایکسکیوزمی مس۔۔۔۔ ارمان نے اسے اپنی طرف متوجہ کرنا چاہا۔۔۔۔

حبا رخ موڑ کر اس کی طرف دیکھنے لگی۔۔۔۔۔

اوہ ۔۔۔ہائے مان سررر ۔۔۔ اس لڑکی کی نقل اتارتے ہوئے حبا نے ہاتھ ہلا کر ہیلو کہا۔۔۔ارمان نے اسے دیکھا تو پہچان گیا۔۔۔۔۔۔۔۔اپنے نام کو اتنا کھینچ کر سننے سے اس کے تیور بگڑے۔۔۔ موبائل نکال کر ارمغان کو کال ملائی۔۔۔۔۔

ہاں مان۔۔۔۔۔

سر وہ آفت آئی ہے۔

کون سی آفت ۔۔۔۔

آپ ریسپشن کا کیمرہ چیک کرلے۔۔۔۔ نام تو اس کو خود نہیں پتہ بس جانتا تھا۔۔۔۔

ارمغان جو کسی فائل کو ریڈ کر رہا تھا مصروف انداز میں سکرین پر نظر ڈالی۔۔۔۔

یہ پاگل یہاں کیا کرنے آئی ہے۔۔۔۔ بھیج دو اسے۔۔۔۔۔

اوکے سر۔۔۔۔۔۔

آپ آجائے میرے ساتھ۔۔۔ کہیں سے بھی آجاتی ہیں منہ اٹھا کر۔۔۔ اس کی گڑبڑاہٹ حبا نے اچھے سے سن لی۔۔۔ وہ حساب بے باک کرنے والوں میں تھی۔۔۔۔

وہ ارمان کے پیچھے پیچھے ارمغان کے آفس میں انٹر ہوگئی جو ففتھ فلور پر تھا۔۔۔۔

آفس دیکھ کر آنکھوں میں ڈھیر سارا تخیر اور بے یقینی ابھر ائی۔۔۔۔ اتنا شاندار آفس۔۔۔ ہر چیز وائیٹ کلر کی ایسا لگ رہا تھا کہ برف باری کی چادر چڑھائی گئی ہے۔۔۔ وال تھیم وائیٹ کلر۔۔۔ ایک سائیڈ پر رکھے گئے صوفے اور سامنے فلور پر بچھایا گیا دبیز چھوٹا سا قالین اور صوفوں کے پیچھے ونڈو کو کور کرتے وائیٹ کرٹنز ہر چیز سامنے بیٹھے شخص کی اعلی ذوقی کا منہ بولتا ثبوت تھا۔۔۔۔وہ انہماک سے آفس کا جائزہ لے رہی تھی۔۔۔۔۔

واووووو۔۔۔ بے اختیار زبان پسلی۔۔۔۔اور سلام کرکے آفس میں گھومنے لگی۔۔۔۔ونڈو کے قریب آکر کرٹنز سرکائے اور باہر کا دلفریب نظارہ دیکھنے لگی۔۔۔۔۔ پھر صوفے پر دھت سے بیٹھ گئی۔۔۔۔ حرکتوں سے دس سال بچی دیک رہی تھی۔۔۔۔۔

مان ایک سیکنڈ۔۔۔۔ ارمان جانے لگا تو ارمغان نے روکا۔۔۔

جی سر۔۔۔۔

کیا لوگی تم۔۔۔۔ ارمغان نے اس کاسکتہ توڑا۔۔۔۔

آئیس کریم ۔۔۔۔۔

حبا یہ آفس ہے۔۔۔۔ چائے کافی یا فریش جوس ہی ملے گا۔۔۔ ارمغان جھنجھلایا۔۔۔

ہاں تو اتنے سارے ورکرز کس لئے رکھے ہیں۔۔۔۔ مفت کی روٹیاں توڑ کر تنخواہ لیتے ہیں۔۔۔۔بیجھ دے نا کسی کو آئیس کریم لانے۔۔۔۔

یار وہ تو اپنا کام کر رہے ہیں نا۔۔۔۔ فری تو نہیں بیٹھتے ۔۔۔۔۔ ارمغان تو اس کے لب و لہجہ پر حیران تھا۔۔۔۔۔

پھر ان کو بھیج دے۔۔۔۔ ارمان کی طرف اشارہ کیا۔۔۔ سارا دن یہ کرتے کیا ہے بس جی حضوری کرکے ارمغان کے نام کی مالا جپتے ہیں۔۔۔۔ تھوڑا سا کام کرکے ان کی ناک چھوٹی نہیں ہوجائے گی۔۔۔۔

میں ملازم نہیں ہوں پی اے ہوں اور آپ کیا کرتی ہے ہر وقت کبھی پبلک میں سر کے گلے لگتی ہے۔۔۔جیسے رخصتی کا وقت ہونے چلا ہو۔۔۔کھبی بے دھڑک منہ اٹھا کر آفس آکر ہمارے سروں پر سوار رہتی ہے۔۔۔۔

تم پر ایک نام بڑا سوٹ کرتا ہوگا۔۔۔ چھوٹا فتنہ۔۔۔ ارمان اچھا خاصا برہم ہوا۔۔۔

ہاں تو پی اے بھی ملازم ہی ہوتا ہے۔۔۔اور تمہارے سر میرے کزن ہے۔۔۔۔ گلے لگو یا کس 😘 کرو ۔۔۔ آپ کیوں تاؤ کھا رہے ہیں۔۔۔۔

کزن کیا میری بلا سے ان کے بچوں کی اماں ہی بن جاؤ مگر۔۔۔۔۔۔۔

حبا۔ ۔۔۔ مان۔۔۔ ارمغان کو زور کا اچھو لگا ۔۔۔۔ کس 😘 ..بچوں کی اماں۔۔۔۔ وہ ورطہ حیرت سے جارحانہ تیور لئے دونوں کو گھور رہا تھا ۔۔۔۔

ارمان چلا گیا۔۔۔۔

ہاں بولو۔۔۔ کوئی کام تھا۔۔۔۔۔ارمغان اب اس کی طرف متوجہ ہوکر فرصت سے اسے دیکھنے لگا۔۔۔

وہ اس کے چیئر کے قریب آگئی اپنے بیگ میں ہاتھ ڈال کر کچھ ڈھونڈنے لگی۔۔۔۔ پھر ایک چھوٹا سا پاوچ نکال کر اس سے کچھ رقم سامنے ٹیبل پر رکھی۔۔۔۔

یہ رہا آپکا ادھار ۔۔۔۔

ارمغان کے ماتھے پر شکنوں کا جال بن گیا۔۔۔۔

تمہارے ڈیڈ میرے پاپا کے لئے بھائیوں سے بڑھ کر ہے۔۔۔ اس لحاظ سے تم میری کزن ہوگئی۔۔۔ اتنا تو کر سکتا ہوں نا۔۔۔۔

ہاں وہ تو ٹھیک ہے بٹ میں کسی کا ادھار نہیں رکھتی نا۔۔۔

ابھی کے لئے رکھ لو بعد میں سود سمیت سارے حساب چکتا کردینا۔۔۔ ارمغان نے مسرور آنکھوں سے اس کی آنکھوں میں جھانکا۔۔۔تو حبا سٹپٹا گئی۔۔۔

ارمغان کے دل میں پنپتے نازک سے محبت کے جذبے نے انگڑائی لی ۔۔۔۔ یہ تتلیوں کے پیچھے بھاگنے والی نٹ کھٹ سے چلبلی سترہ سال لڑکی اس کے دل میں سمانے لگی تھی۔۔۔۔۔جبکہ وہ ٹہرا ستائیس سال کا خوبرو متحمل اور مستحکم مرد۔۔۔۔

کیسا لگا میرا آفس ۔۔۔ ارمغان نے آتے وقت اس کے حرکات و سکنات نوٹ کئے تھے۔۔۔

ونڈرفل۔۔۔۔

میں چلتی ہوں ۔۔۔۔۔ آج اسے ارمغان کے زومعنی باتیں اور آنکھیں بہت کچھ باور کروارہی تھی۔۔۔۔ اس نے دانستہ طور پر اسے دیکھنے سے احتراز کیا۔۔۔۔۔اور بیگ اٹھا کر سرعت سے اس کے آفس سے نکلی۔۔۔۔۔

ہائے ادائے بے نیازی۔۔۔۔ پاپا سے بات کرنی پڑے گی۔۔۔۔۔

~~~~~~~~~~~~~~~~~

ابھی مشکل سے نیند اس پر مہربان ہوئی تھی کہ اپنے چہرے پر مانوس سی خوشبو اور سانسوں کی تپش محسوس کرکے وہ ہنوز آنکھیں بند کرکے لیٹی رہی۔۔۔۔ عائش رات کی تاریکی میں ہی اپنا سامان لینے آیا تھا۔۔۔ تو آخری بار اس دشمن جان کے دیدار کا سعادت حاصل کرنے کا من کیا۔۔۔۔۔

آپ کو جتنا دیکھو محبت کی تڑپ اور طلب بڑھ جاتی ہے۔۔۔ مگر اج کے بعد عائش فاروقی نے آپ کا سامنے نا کرنے کی قسم اٹھائی ہے۔۔۔ اپنے دل اور منہ کو ہمیشہ کے لئے مقفل کیا ۔۔۔ نہ دل میں کسی اور کے لئے گنجائش ہوگی اور نہ زبان سے دوبارہ کبھی اظہار۔۔۔۔۔۔کوئی چیز ضرورت سے زیادہ میسر ہو جائے تو اپنی قدر کھو دیتا ہے۔۔۔ دور ہونے پر پھر پتہ چل جاتا ہے کہ وہ ہمارے لئے کتنا ضروری تھا۔۔۔۔اس آخری گستاخی کے لیے معاف کردے ۔۔۔۔ اور اس کے ماتھے پر اپنا بھر پور لمس چھوڑ دیا۔۔۔اور اسکا سایہ رات کی تاریکی میں گم ہوگیا۔۔۔۔ اپنی خوشبو ہو سو بکھیرتا وہ چلا گیا تھا۔۔۔۔۔

تیز تنفس کے ساتھ حورم نے آنکھیں کھولی اور خلق تر کرکے میکانکی انداز میں اپنے ماتھے پر ہاتھ رکھ کر اس کے دہکتے لمس کو محسوس کرنا چاہا۔۔۔۔اور کئی آنسو آنکھوں سے نکل کر تکیے نے جذب کر دیے۔۔۔۔۔

~~~~~~~~~~~~~~~~~

بھائی یہ میتھ کوئیسچن سولو کردے کب سے ٹرائی کر رہی ہوں حل ہی نہیں ہورہا ۔۔۔۔۔ وہ جو کوئی اسائمنٹ لکھنے میں مصروف تھا سر اٹھا کر سنینہ کو دیکھا جو مضطرب اور الجھی سی کھڑی پن اور رجسٹر ہاتھ میں لئے اس کے جواب کی منتظر تھی۔۔۔۔

دکھاؤ۔۔۔۔ اس کے ہاتھ سے رجسٹر لے کر کوئسچن دیکھا۔۔۔۔

گڑیا بہت ایزی ہے یہ۔۔۔ ادھر بیٹھ جاؤ میں سمجھا دیتا ہوں۔۔۔۔ عائش جلدی جلدی پن چلانے لگا اور دس سیکینڈ میں آنسر سامنے تھا۔۔۔ جسے کل سے سولو کرنے میں اس کی آدھی جان چلی گئی تھی ۔۔۔ اور شارق نے بھی آدھے گھنٹے سر توڑ کوشش کے بعد ہری جھنڈی دکھا دی تھی۔۔۔۔۔اور اب صبح صبح عائش کو کچھ ہی سیکینڈ میں اسے حل کرتے دیکھا تو اس کی قابلیت پر رشک کرنے لگی۔۔۔

واووووو بھائی یو آر گریٹ۔۔۔۔ سنینہ کافی ایکسائیڈ تھی۔۔۔۔

بھائی کس کا ہوں۔۔۔۔ اس کے سر پر ہاتھ رکھا۔۔۔

سامنے بیٹھے اسفند نے عائش کو دل سے سراہا۔۔۔ ہیرا تھا وہ۔۔۔۔ بس پیار کے آگے بے بس تھا۔۔۔۔ خود کو بے مول کردیا ۔۔۔۔۔

بھائی آپ ہاسٹل شفٹ ہوجاوگے تو میری ہیلف کون کرے گا۔۔۔۔۔

ہاسٹل ایک فرلانگ کے فاصلے پر ہی تو ہے۔۔۔۔۔ اپنے بھائی کو ایک ٹیکسٹ کیا کرو ۔۔۔۔بھائی حاضر ۔۔۔۔

تھینکس بھائی۔۔۔۔۔

عائش تمہارا سب کلئیرنس کر دیا ہوسٹل کا۔۔۔۔ شارق بھی جا رہا ہے تمہارے ساتھ۔۔۔

اس کو کیوں دربدر کر رہے ہیں آپ ۔۔. یہ قید با مشقت تو ہم جیسے خودسر سرکش لوگوں کے لئے ہیں نا۔۔۔عائش کے چہرے پر بے زاری تھی۔۔۔۔لہجہ شکوہ کناں تھا۔۔۔۔

عائش تم خود جانا چاہتے تھے۔۔۔۔

ہاں مگر آپ کے بولنے سے پہلے ہی مما دی گریٹ کا حکم صادر ہوا۔۔۔ ویسے بھی میں مرکز نظر خود نہیں بنا میری سڑک چھاپ ضدی آوارہ ٹائپ جیسی حرکتوں نے ہی مما کو باور کروایا ہے کہ میں گھر میں رہنے کے قابل نہیں ہوں۔۔۔ آنکھوں میں ملال لئے ایک دلسوز مسکراہٹ کے ساتھ عائش نے اپنے آپ کو متعارف کروایا۔۔۔۔

عائش بیٹا تمہارہ سامان پیک کر دیا ہے آکر چیک کرلو ۔۔۔ ملیحہ کے پکارنے پر عائش اسفند کو اذیت کے گہرائیوں میں گاڑتا چلا گیا۔۔۔۔۔

~~~~~~~~~~~~~~~~~