Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Anokhi Muhabbat Season 2 (Episode 14)

Anokhi Muhabbat Season 2 By Rimsha Khan

حبا بس کردو 2 بج رہے ہیں میری نیند ڈسٹرب ہورہی ہے۔۔۔۔ ارمغان نے اسے اس وقت تک پڑھتے دیکھا تو ڈانٹا۔۔۔

بس تھوڑا سا ریوائز کرنا ہے۔۔۔۔ کل لاسٹ پیپر ہے ۔۔۔۔ منت بھرا لہجہ تھا ۔۔۔۔۔

کل صبح جلدی اٹھ کر کر لینا ۔۔۔۔ اس ٹائم مائنڈ فریش ہوتا ہے۔۔۔۔ اور اس کے بکس سمیٹ کر ٹیبل پر رکھ دئیے۔۔۔۔۔اور لائٹ آف کرکے لیٹ گیا ۔۔۔۔

بہت برے ہیں آپ۔۔۔ اس نے منہ بسورا۔۔۔۔

بلکل۔۔۔۔ اسکا سر اپنے سینے پر رکھ کر آنکھیں بند کردی۔۔۔۔

سو جاؤ یار۔۔۔۔ وہ اس کے ساتھ چھیڑ خوانی کرنے لگی تھی۔۔۔ آپ نے شیو نہیں کی۔۔۔

نہیں۔۔۔ کل کرلوں گا۔۔۔ کیوں۔۔۔۔بند آنکھوں سے جواب دے دیا۔۔۔۔۔

آپ ایسے اچھے لگ رہے ہیں۔۔۔۔ نا کیا کریں۔۔۔۔۔اس کے بئیرڈ میں کجھلی کرتے ہوئے وہ بولی۔۔۔

حبا نا کرو۔۔۔۔تم میرے سوئے ہوئے جذبات کو جگا رہی ہو اگر میں نے کچھ کردیا تو صبح منہ چھپاتی پھروگی تم۔۔۔۔

نن۔نہیں کرتی میں۔۔۔ جلدی سے ہاتھ ہٹا کر اس کے گرد نرم سا حصار بنایا۔۔۔۔

کل ایگزامز ختم ہو جائیں گے تو آپ نے وعدہ کیا تھا کہ ہم گھومنے جائیں گے۔۔۔۔۔حبا پھر سے اسکے اسکے آنکھوں پر انگلی پھیرنے لگی۔۔۔۔

شادی شدہ لوگوں کے لیے ہنی مون ہوتا ہے بےبی۔۔۔۔ اسکی بالوں میں انگلیاں چلاتا ہوا اس کا ہاتھ گلے پر پہنے چین پر آکر رک گیا۔۔۔۔۔حبا کی سانسیں اٹک گئی۔۔۔۔۔

اور زور سے آنکھیں موندھ لی۔۔۔۔

ایگزامز ختم ہو جائے نا تو پھر تمہارا یہ ڈر خوف سب ختم کردوں گا۔۔۔ اس کے سر پر بوسہ دیتے ہوئے کان میں سرگوشی تو وہ کانپ گیی۔۔۔۔۔

^^^^^^^^^^^^^^^^^^^^^^

یہ اریشہ تم سے ہر وقت اتنی چپکی کیوں رہتی ہے۔۔۔ فاصلہ رکھو اس سے۔۔۔۔۔ مجھے نہیں پسند یہ سب بے باکیاں۔۔۔۔وہ دونوں کچن میں کھڑے شام کی چائے بنا رہے تھے کہ عائش نے شارق کو گہری نظروں سے دیکھ کر پوچھا۔۔۔۔

یار وہ معصوم بے ضرر لڑکی ہے۔۔۔ تمہیں کیوں چڑ ہے اس سے۔۔۔۔۔شارق اسکی حمایت میں بول پڑا۔۔۔۔۔

سب لوگ جانتے ہیں کہ اسکا باپ ایک کرمنل ہےبرسوں سے جیل میں بند ہے۔۔۔۔ عائش نے اسے یاد دہانی کروائی ۔۔۔۔

ہاں تو اسے تھوڑی پتہ تھا کہ اسکا باپ کرمنل ہوگا۔۔۔ وہ تو ایک سال کی تھی جب اسکا باپ جیل چلا گیا تھا۔۔۔۔اور وہ پاکستان کی ہے نا تو اس وجہ سے بس رسمی دعا سلام کر لیتا ہوں۔۔۔۔

رسمی دعا سلام تو نہیں تھا۔۔۔ تم لوگ برگر شییر کر رہے تھے۔۔۔۔ سب دیکھا تھا میں نے۔۔۔۔عائش نے تیکھی چتونوں سے اسے دیکھا ۔۔۔۔۔

عائش یہ ٹیٹو ہٹوا دو یار۔۔۔۔کل رات حورم کا ردعمل کافی جارہانہ تھا۔۔۔۔شارق نے بات کا رخ اس کی طرف موڑ لیا۔۔۔۔

جس کے دیکھنے کا خوف تھا وہ تو دیکھ چکی۔۔۔ تھپڑ بھی مارا۔۔۔۔ اب کیوں ہٹواؤں۔۔۔ اور یہ میں نے کسی عارضی سیاہی سے بنوایا ہے کیا۔۔۔ کہ پانی ڈال کر تھوڑا سا مل لیا اور دھل گیا۔۔۔۔ سینہ چھیر کر بنایا ہے میں نے۔۔۔۔ اور چھوڑو تم یہ بتاؤ اریشہ ایڈریس کیوں مانگ رہی تھی۔۔۔۔؟؟؟

وہ میں نے اسکو بولا تھا کہ میری بھابھی آئی ہے پاکستان سے تو وہ آج آئے گی حورم سے ملنے۔۔۔۔

پاگل ہو تم۔۔۔۔ اور یہ کیا بھابھی بھابھی کی رٹ لگا رکھی ہے۔۔۔ اگر حورم کو پتہ چل گیا نا تو مجھے صرف تھپڑ مارا تھا تمہاری لاتوں ڈنڈوں سے تواضع کردے گی۔۔۔ کیوں شیر کے منہ میں ہاتھ ڈال رہے ہو۔۔۔۔

میں ڈرتا ورتا نہیں ہوں اس سے۔۔۔۔ شارق نے بہادری سے ہاتھ نچا کر کہا۔۔۔۔۔

اوہ رئیلی۔۔۔۔

حورم آپ یہاں ۔۔۔۔ اچانک عایش نے دروازے کی طرف دیکھ کر اونچی آواز میں گڑبڑا کر کہا تو شارق کے ہاتھ سے چائے کا کپ نیچے گر کر ٹوٹ گیا۔۔۔۔ اور عایش کا ایک شاندار قہقہہ فلیٹ میں گونجا۔۔۔۔

تم گھٹیا انسان ابھی میرا ہارٹ فیل ہو جاتا۔۔۔۔ دروازے پر کسی کو نا پاکر وہ عائش کو صلواتیں سنانے لگا۔۔۔۔

کیوں تم تو اس سے ڈرتے نہیں ہو۔۔۔۔ یہ رنگ کیوں نیلا پیلا ہرا ہوگیا تمہارا ۔۔۔۔ عائش کا ہنس ہنس کر برا حال ہوگیا تھا۔۔۔

دفعتاً ڈور بیل بجی ۔۔۔۔

جاؤ تمہاری اریشہ بے بی آگئی۔۔۔۔اسے حورم سے چند فٹ دور رکھنا۔۔۔۔ عایش نے چائے کپس میں ڈال دی اور اتھا کر باہر لے آیا۔۔۔۔حورم کو وہاں بیٹھے دیکھ کر دونوں کے قدم ایک ساتھ جم گئے۔۔۔۔ جس کی آنکھیں ضبط سے لہو تھی۔۔۔۔

یار اس نے تو واقعی سب کچھ سن لیا ہے۔۔۔ عائش نے شارق کے کان میں سرگوشی کی۔۔۔۔

سر جھٹک کر وہ ٹیبل کے قریب آگیا حورم کا کپ اس کے سامنے ٹیبل پر رکھا۔۔۔ اور اس سے تھوڑے فاصلے پر خود بھی بیٹھ گیا۔۔۔۔ شارق دروازہ کھولنے گیا اور واپس آیا تو ایک پیاری سی لڑکی ساتھ میں تھی۔۔۔۔

حورم یہ میری فرینڈ ہے اریشہ۔۔۔۔اور یہ میری۔۔۔۔۔

زہے نصیب ۔۔۔۔ شارق کی بھابھی ہوں میں۔۔۔ بتایا تھا نا اس نے۔۔۔۔۔۔۔ حورم نے چبا چبا کر بولا تو شارق آنکھیں پھاڑ کر اسے دیکھنے لگا۔۔۔ جبکہ عایش کو کوئی فرق نہیں پڑا۔۔۔ جب وہ سب خود سن چکی تھی تو ۔۔۔ وہ سر کجھا کر تماشہ دیکھنے لگا۔۔۔۔

اسلام وعلیکم ۔۔۔۔۔اریشہ نے سلام میں پہل کی۔۔۔

وعلیکم السلام ۔۔۔۔

ہائے عائش۔۔۔ اس نے حورم سے ہاتھ ملانے کے بعد عائش کی طرف ہاتھ بڑھایا جو شارق نے پھرتی سے اپنے ہاتھ میں پکڑ کر اسے تھپتپھایا۔۔۔

مروادے گی یہ لڑکی۔۔۔۔۔

آپ بہت پیاری ہے۔۔۔ بلکل عائش کی طرح۔۔۔ جب مجھے پتہ چلا کہ عایش شادی شدہ ہے تو مجھے بڑی چاہ تھی آپ سے ملنے کی۔۔۔اریشہ جو حورم کا ایکسرے کرنے میں مصروف تھی اچانک بول اٹھی۔۔۔

چائے پیتے عائش کو زور کا اچھو لگا ۔۔۔۔۔سفید رنگت میں سرخی گھل مل گئی۔۔۔۔

ویسے شارق اگر ہماری یونی کی جو لڑکیاں عائش کو چپکے چپکے دیکھتی ہیں۔۔۔اگر ان کو پتہ چل گیا کہ عائش میریڈ ہے تو سب کا دل ٹوٹ کر ریزہ ریزہ ہوجائے گا۔۔۔۔جو صرف عائش کی نظروں میں آنے کے لئے اتنی بن ٹھن کر تیار ہوکر آتی ہے۔۔۔۔۔ اور بیوی بھی اتنی سندر۔۔۔۔اپکو پتہ ہے کافی ساری لڑکیوں نے عائش کے پکچرز وال پیپر پر بھی سیٹ کئے ہیں۔۔۔۔اریشہ نے صاف گوئی کی حد کردی۔۔۔۔

اریشہ بے بی۔۔۔۔ وہ کیا ہے نا۔۔۔ ان دونوں کی بھی شادی نہیں ہوئی۔۔۔۔۔ یہ صرف ۔۔۔۔۔

اوہ ۔۔۔اچھا یہ لیونگ ریلیشن شپ میں ہے۔۔۔۔ جلتی پر تیل ڈال گئی اریشہ بی بی ۔۔۔۔۔ اور دھواں حورم کے کانوں سے نکلنے لگا۔۔۔۔۔شعلہ انگار آنکھوں سے شارق اور پھر عایش کو دیکھا۔۔۔۔

یہ ہماری کزن ہے۔۔۔ شارق اب پچھتا رہا تھا کہ اس مصیبت کو کیوں بلایا۔۔۔۔

تم یہ چھوڑو تم آجاؤ ہم بالکنی میں بیٹھ کر اکیلے میں ٹایم سپینڈ کرتے ہیں نا۔۔۔۔۔ شارق کن اکھیوں سے حورم کے چہرے کے بدلتے تاثرات اور آنکھوں کی ناگواریت دیکھ رہا تھا وہ جلدی سے اس بغیر بیٹری والے ٹٹر پٹر کرنے والی مشین کو یہاں سے غائب کروانا چاہتا تھا۔۔۔۔ اسے بلوا کر خود اپنے پیروں پر کلہاڑی ماری تھی۔۔۔۔

اس کے جانے سے ماحول میں گہرا سکوت چھا گیا۔۔۔۔عایش لب پیوست بیٹھا تھا۔۔۔ جبکہ حورم بھی لبوں پر قفل لگائے ماتھے پر لا تعداد بل لیکر اسے گھورنے لگی تھی ۔۔۔

کیا۔۔۔۔ عائش نے آئی برو اچکائی ۔۔۔۔

یہ کیا تھا۔۔۔ ضبط و غصے سے اسکا چہرہ آگ اگلنے لگا۔۔۔۔

شارق کا بچپنا پن۔۔۔۔ اگنور ہم۔۔۔۔ جانتی تو ہے آپ اسے ۔۔۔ آفٹر آل آپکے پیارے چاچو کا بیٹا ہے۔۔۔۔۔

عائش کپ اٹھا کر جانے لگا ۔۔۔۔

کب بنوایا تھا یہ ٹیٹو۔۔۔۔ حورم بنا تمہید باندھے بولی۔۔۔

آپ سے مطلب۔۔۔۔۔

مطلب ہے نا۔۔۔۔ میرے نام کا بنوایا ہے۔۔۔۔اور وہ بھی دل کے مقام پر۔۔۔۔

نام کا بنوایا ہے اپکو اٹھا کر وہاں چسپاں نہیں کیا ہے۔۔۔۔ اسلئے پوچھنا بےکار ہے۔۔۔اور آپ ڈیڈ یا پاپا کو بلا کر اس کے ساتھ واپس چلی جائیں ۔۔۔۔ میں بہت کچھ جھیل چکا ہوں۔۔۔ مزید ہمت نہیں ہے۔۔۔۔یہاں آکر آپ پھر سے میرے جذبات کو اکسا رہی ہے۔۔۔۔میں کوئی عابد و زاہد یا پارسا نہیں ہوں۔۔۔ ۔ وہ آگ برساتے لہجے میں اٹل جنونی انداز میں کہتا ہوا چلا گیا اور پیچھے حورم جو اس کے اتنے جنون سے پیار کرنے لگی تھی اس کے ارمانوں پر اوس پڑھ گئی۔۔۔۔ سارا بھرم ٹوٹ گیا۔۔۔پور پور میں تکلیف کی شدت بڑھ گئی۔۔۔۔

ڈیڈ مجھے لینے آجائے۔۔۔۔۔ میسج ٹائپ کرکے سینڈ کردیا۔۔۔۔۔اسکے آنا پر کاری ضرب لگ گیا تھا۔۔۔۔

مجھے مس کرکے اپسٹ تھی آپ۔۔۔ عایز نے اس کے قریب آکر چٹکی بجائی۔۔۔ تو وہ ایک دم خیالوں کی دنیا سے لوٹ ائی۔۔۔۔۔۔۔اور عائز صوفے پر ہی اسکی گود میں سر رکھ لیٹ گیا۔۔۔۔

آپی آپ بہت پیاری ہے۔۔۔۔ عائز کے چہرے پر بلا کی معصومیت تھی۔۔۔۔

حورم نے اس کے ماتھے پر بوسہ دیا۔۔۔۔۔اور بالوں میں انگلیاں پھیرنے لگی ۔۔۔۔۔

وہ جو کچن میں کپس رکھ کر واپس آرہا تھا۔۔۔ یہ منظر دیکھ کر ٹھٹھکا۔۔۔۔ آنکھوں میں کرچیاں چھبنے لگی۔۔۔۔۔

حورم نے اسکو دیکھا تو آنکھوں کی چمک گہری ہوگئی۔۔۔۔

عائز۔۔۔ تم بھی بہت پیارے ہو۔۔۔۔ اور پھر اس کے گال پر کرنے لگی۔۔۔۔۔

ہاں وہ۔۔۔۔ عایش کے سرد خطرناک تیور دیکھ کر وہ ہچکچایا۔۔۔۔ اور جلدی سے اٹھ کر عائش کے گلے لگا۔۔۔۔۔

عایز حورم سے فاصلے پر رہنا۔۔۔۔ بھائی ہو میرے اسلئے لحاظ کیا۔۔۔۔ باقی تم خود میرے جذبات سے باخبر ہو۔۔۔۔ کھردرے اور پختہ لہجے میں کان میں سرگوشی کرکے بہت کچھ باور کروا گیا تھا۔۔۔تو عایز نے شکوہ کناں نظروں سے اسے دیکھا۔۔۔۔

بھائی بہن ہے میری۔۔۔۔ مارے اذیت سے زبان ساتھ ہی نہیں دے رہی تھی۔۔۔۔۔

عایز میرا سامان ہے ہوٹل میں۔۔۔ اس میں میری ضرورت کی چیزیں ہیں ۔۔۔ وہ لے آنا۔۔۔ حورم ابھی تک عایش کے ہی کپڑے یوز کر رہی تھی۔۔۔۔ ابھی بھی وہ وائٹ کلر کی ایک لوز سے ٹی شرٹ پہنی ہوئی تھی کمفرٹیںبل تھی اس میں مگر ہالف سلیوز کیوجہ سے اسکے دودھیا بازوؤں چھلک رہے تھے۔۔۔۔

اچھا میں لیکر آتا ہوں ۔۔۔ اور میں نے رات یہی گزارنی ہے۔۔۔۔ عایش کو دیکھ کر خلق تر کرکے بول دیا۔۔۔۔

ہمارے اوپر سوئے گا تو۔۔۔ ہم الریڈی ایک بیڈ یوز کر رہے ہیں۔۔۔۔ شارق اریشہ کا ہاتھ پکڑے اندر اگیا۔۔۔۔ تو عائز نے غیر شناسا نظروں سے ایک انجان لڑکی کو دیکھنے لگا ۔۔۔۔

میں نے پاپا کو بتانا ہے کہ اب لڑکیاں بھی فلیٹ پر آنے لگی ہے۔۔۔۔ عایز کو برا لگا شارق کا ایک انجان لڑکی کے سامنے اس کو ٹوکنا۔۔۔۔

نہیں میری جان میرے چھوٹے پٹاخے۔۔۔۔

میں یہاں صوفے پر سو جاؤں گا۔۔ بس ایک رات ہی کی تو بات ہے نا تو اپنے بھائی کے ساتھ میرے بیڈ پر آرام سے سو جانا۔۔۔۔ شارق کے تو ہاتھوں کے طوطے اڑ گئے۔۔۔۔

ہاؤ سویٹ۔۔۔ یہ ہوئی نا بات۔۔۔۔ میں آپی کا سامان لیکر آتا ہوں۔۔۔۔وہ کالر جھاڑ کر چلا گیا۔۔۔۔

آپ روم میں جائے سر کی پٹی ہٹانی ہے۔۔۔ اسے دیکھے بغیر مخاطب ہوا ۔۔۔۔۔

عایز آرہا ہے وہ کر لے گا۔۔۔ ویسے بھی مزید تمہارا کوئی احسان نہیں لینا میں نے۔۔۔۔ حورم ابھی تک اسکے باتوں کے زیر اثر تھی۔۔۔۔ دو ٹوک الفاظ میں وہ اس پر بہت کچھ جتا گیا تھا۔۔۔۔۔

سوچنا بھی مت۔۔۔۔میں نے آپ کے سارے بال جڑ سے اکھاڑ کر ہاتھ میں دینے ہیں اگر کسی اور کی نظر بھی غلطی سے پڑ گئی ان پر۔۔۔۔ جس طرح ایک گھر میں ساتھ رہتے ہوئے بھی میں نے نہیں دیکھے تھے ۔۔۔۔

اور ہاں جس طرح میں راتوں کو جاگ جاگ کر آپکے لئے تڑپا ہوں پھر بھی آپکو اپنا مقدر نہیں بنا پایا ۔۔۔۔ تو یہ حق کسی اور کو بھی نہیں دوں گا۔۔۔۔ آپکو پانے کی طلب میرے رگ رگ میں جنون بن کر دوڑ رہی ہے۔۔۔۔اگر آپ کے من میں ایسی کوئی خواہش ہے بھی تو ابھی سے اس پر فاتحہ پڑھ لے ۔۔۔۔۔ وہ اس پر جھکا اور اس کے ٹھوڑی کو دو انگلیوں سے اوپر اٹھا کر اسکی سبز آنکھوں میں اپنی گہری سنہری آنکھیں گاڑ کر غرایا۔۔۔۔ حورم کے وجود میں سرسراہٹ پھیل گئی اور دھڑکنیں ساکت ہوگئی۔۔۔۔

اہمممم۔۔۔۔ اس گھر میں اور بھی لوگ رہتے ہیں ۔۔۔ کیوں ان کو بے راہ روی کا شکار کرنے پر تلے ہوئے ہو ۔۔۔۔ شارق جو اریشہ کو رخصت کرکے واپس آیا تھا دونوں کو ایک دوسرے میں اتنے قریب سے مدغم دیکر دانستہ گلا کھنکھارا ۔۔۔۔

عائش نے فاصلہ بنایا۔۔۔۔ جب دیکھ ہی لیا تھا تو الٹے پیر چپ چاپ واپس چلے جاتے ۔۔۔۔۔

آپ جائے اندر۔۔۔۔ میں پٹی کھول دیتا ہوں۔۔۔

اسکی پٹی کھول دی تو زخم کافی حد تک مندمل ہوچکا تھا۔۔۔ دوبارہ پٹی کی ضرورت نہیں تھی اسلئے کھلا چھوڑ دیا اور بالوں کو دوبارہ جوڑے کی شکل میں باندھ دیا ۔۔۔ اس کا دیا گیا چین ابھی تک اس کے گلے کی زینت بنا ہوا تھا۔۔۔۔۔ سر کے اوپر سکارف سیٹ کردیا۔۔۔۔۔

وہ جانے لگا تو حورم پکاری۔۔۔۔

عائش۔۔۔۔۔۔

جی۔۔۔۔۔ کچھ چاہیے ۔۔۔۔۔

تم۔۔۔۔۔۔یک لفظی جواب دیا ۔۔۔۔

واٹ ۔۔۔۔۔میں کیا۔۔۔۔عائش نے اسکی طرف دیکھا تو کشمکش میں اپنی گھنیر پلکوں کو بار بار جھپکا رہی تھی۔۔۔۔

مم۔میرا مطلب ہے تم میرے ساتھ چلو وہ حبا سنینہ لوگوں کے لئے چیزیں لینے ہیں اتنی بڑی لسٹ پکڑوادی تھی۔۔۔۔

یہ کیا بچکانہ حرکتیں کرنے لگے ہوں میں۔۔۔ خود کو سرزنش کرنے لگی۔۔۔۔

عائز کو آنے دو۔۔۔ آپکے کپڑے لے آئے گا تو چلیں جائیں گے۔۔۔ اب ان کپڑوں میں تو لے جانے سے رہا میں ۔۔۔۔اسکا اشارہ اس کے ہالف سلیوز سے چھلکتے سفید دودھیا بازوؤں کی طرف تھا۔۔۔۔

وہ اسکی توجہ کی طلبگار تھی مگر وہ تو دن بدن پر اسرار ہوتا جارہا تھا۔۔۔مسلسل اسے اگنور کئے جارہا تھا۔۔۔۔ آتش فشاں بنتا جارہا تھا بات بات پر پھٹتا ۔۔۔۔۔

^^^^^^^^^^^^^^^^^

بڑا تیار شیار ہوکر گھومتی ہو گھر میں۔۔۔۔ شوہر کی نظروں میں آنے کے لئے کافی تگ ودو کررہی ہو شوہر پر دورے ڈالنے کے۔۔۔۔ وہ جو مہمانوں کو چائے سرو کرنے کے بعد کچن میں آرہی تھی ارسہ اس کے پیچھے اگئی۔۔۔۔ اسے ایک آنکھ نہیں بھایا ایزل کا اس طرح سج دھج کر رہنا۔۔۔ آج سنڈے تھا تو ایان بھی گھر پر تھا ۔۔۔۔۔

مجھے اپنے شوہر کی نظروں میں آنے کے لئے کسی طرح سنگھار بناوٹ کی ضرورت نہیں ہے۔۔۔ وہ پہلے سے ہی مجھ پہ فدا ہے۔۔۔۔ بس اس کی خواہش کا احترام کرتے ہوئے تھوڑا سا تیار ہوئی ہوں۔۔۔۔ یہ جو تم چوبیس گھنٹے بغیر دوپٹہ لئے فل میک اپ میں اپنا اصلی چہرہ چھپا کر اسے اٹریکٹ کرنے لئے جتن کئے جارہی ہو میرا ہسبنڈ ایسی رنگینیوں پر تھوکتا بھی نہیں ۔۔۔ اسے میری سادگی اسیر بنا گیا ہے۔۔۔۔

اچھا اگر تم اتنی خود سے اتنی ایمپریس ہو تو تمہارے کزن کو یہ سادگی کیوں نہیں دکھی۔۔۔۔ جو تم اس کے نکاح میں تھی اور اسکا رحجان دوسری طرف تھا۔۔۔۔تھوک کر چلا گیا تمہاری سادگی پر۔۔۔۔ارسہ نے دل چھیرنے والا طعنہ مارا۔۔۔۔

ایزل نے سختی سے آنکھیں میچی ۔۔۔۔تم میرے ذاتیات میں گھسنے کی کوشش مت کرنا ۔۔ ورنہ تمہارا یہ مکروہ چہرہ سب کے سامنے لانے کیلئے مجھے ایک بھی سیکنڈ نہیں لگے گا۔۔۔۔۔

اور کوئی تمہاری بات کا یقین کرے گا بھی کیسے۔۔۔۔ الٹا تمہیں جوابدہ ہونا پڑے گا ۔۔۔ میری پھپھو کے سامنے۔۔۔۔ سو بی کئرفل۔۔۔۔۔اسے وارن کرتی ارسہ ایک ادا سے بال جھٹکتی نکل گئی۔۔۔۔

کیا یہ ناسور میری زندگی سے کبھی نکل بھی پائے گا کہ نہیں۔۔۔۔ کئی انسو ایک ساتھ آنکھوں کی باڑ توڑ کر نکلے۔۔۔۔۔

وہ باہر نکلی تو مہمان جاچکے تھے اور ہال میں ہی ارسہ ایان کے بازوؤں سے چپک کر بیٹھی تھی۔۔۔ وہ بہن سمجھ کر اسکی غلیظ ارادوں سے بے خبر اسکے لاڈ اٹھواتا۔۔۔ ایزل کو اپنی طرف دیکھ کر اس نے کمینے پن سے آنکھ دبا دی۔۔۔ ایزل نے ایک سرد سانس خارج کی۔۔۔۔۔اللہ اسے ہدایت دے۔۔۔ دل میں ہی اللہ سے مخاطب ہوگئی۔۔۔۔۔۔

^^^^^^^^^^^^^^^^^^

وہ بالوں میں تیل لگانے لگی تھی۔۔۔ رات کو سوتے وقت وہ تیل لگاتی ۔۔۔۔ کہ ایان روم میں داخل ہوا۔۔۔۔۔

اس کے قریب آکر اس کے گرد حصار بنا کر ٹھوڑی اس کے کندھے پر ٹکا دی۔۔۔۔۔

مجھے یاد ہے کسی نے کچھ دن پہلے ایک فرمائش کی تھی۔۔۔۔ سوچ رہا تھا اب عملی جامہ پہناوں۔۔۔۔۔

کک۔کیا۔۔۔ وہ ہچکچائی۔۔۔۔

۔

ابیان بول رہا تھا اسے چاچو بنا دے۔۔۔ مما بول رہی ہے اسے پوتے پوتی کی چاہ ہے۔۔۔ تو میرا بھی من کیا کہ پاپا ہی بن جاوں۔۔۔۔کیا تم بننا پسند کرو گی میرے بچوں کی مما۔۔۔۔

ایزل نے مارے خفت کے اسکے سینے میں پناہ ڈھونڈی۔۔۔۔

آپکو کیا چاہیے ۔۔۔ سر اٹھا کر ایان کی ٹھوڑی کو چھو کر وہ بولی۔۔۔ بیٹا یا بیٹی ۔۔۔۔۔

افکورس پہلے بیٹی۔۔۔۔ ایان کی آنکھوں میں ڈھیر ساری چمک ائی۔۔۔۔اور اسے خود میں بھینچ لیا۔۔۔۔۔

^^^^^^^^^^^^^^^^^^

دسمبر کا لاسٹ ویک چل رہا تھا ٹھٹھرتی ہوئی سردی میں وہ سب لان میں بیٹھے گپ شپ لگا رہے تھے۔۔۔۔

صارم ۔۔۔۔ آریز نے خوشگوار موڈ میں اسے پکارا۔۔۔۔

جی بھائی۔۔۔۔۔ گرما گرم چائے پکوڑوں سے سب لطف اندوز ہورہے تھے ۔۔۔۔۔۔

اگر مجھے تم سے کچھ قیمتی چاہیے تو کیا وہ تم مجھے دے دو گے ۔۔۔۔۔۔ آریز کی بات سن کر سب کے چلتے ہاتھ رک گئے۔۔۔۔ ادینہ کے دماغ میں ہل چل مچ گئ۔۔۔ کیا چاہتے ہیں بھائی ۔۔۔۔

بھائی جان مانگو وہ بھی آپ پر قربان ۔۔۔۔۔ صارم نے سر کو تھورا سا خم کرکے دل پر ہاتھ رکھ کر کہا۔۔۔۔

جان ہی تو مانگ رہا ہوں تمہاری ۔۔۔۔ آریز شطرنج کا کھلاڑی تھا۔۔۔۔ ہر داؤ سوچ سمجھ کر کھیلتا تھا۔۔۔۔

ڈیڈ کیا بات ہے۔۔۔ کیوں پہلییاں بجھوا رہے ہیں ۔۔۔۔ ارمغان کا تجسس بڑھ گیا ۔۔۔۔

حنا فاروقی بھی اپنے شوہر کو دیکھ رہی تھی جو سنجیدگی سے ٹھوڑی کے نیچے ہاتھ جمائے صارم کی طرف دیکھ رہا تھا۔۔۔۔

سوچ لو صارم ۔۔۔۔ اگر تم نا دے سکیں تو شاید میں برداشت نا کر پاؤں ۔۔۔۔۔وہ تحمل سے گویا ہوا۔۔۔۔

صارم اٹھ کر اس کے قدموں میں آکر بیٹھ گیا۔۔۔۔ اور اس کے گھٹنوں پر ہاتھ رکھ کر گویا ہوا۔۔۔۔

آزما کر تو دیکھ لے ۔۔۔ مایوس نہیں کروں گا ۔۔۔ اسے کچھ تو کھٹکا تھا۔۔۔ اس کا بھائی کبھی اس طرح بے بس نہیں دکھا جتنا وہ آج نظر آرہا ہے۔۔۔۔۔

مجھے عائش چاہیے ۔۔۔۔۔

عائش تو آپ کا ہی ہے بھائی۔۔۔۔ بچپن سے۔۔۔۔ مجھ سے زیادہ آپکا لاڈلہ ۔۔۔۔ صارم ناسمجھی سے اپنے بھائی کو دیکھنے لگا۔۔۔۔۔

ہاں میرا لاڈلہ ہے اس لئے تو خود سے اور قریب پاس رکھنا چاہتا ہوں۔۔۔۔۔

بھائی آپ صاف صاف بول دے۔۔۔۔

حورم تمہاری بیٹی ہے نا۔۔۔۔ اور عائش میرا بچا ہے ۔۔۔ تو دونوں کو ایک کردے۔۔۔۔ آپکی بیٹی آپکے پاس رہ جائے گی اور میرا بیٹا میرے پاس ۔۔۔۔ آریز نے شطرنج کا آخری داؤ بڑی مہارت سے کھیلا۔۔۔۔۔

بھائی ۔۔۔۔ حورم۔۔۔۔۔ وہ متحیر سا آریز کو تکنے لگا۔۔۔۔۔اسکی بات نے صارم کی دل کی دھڑکنیں زیر و زر کردی ۔۔۔۔

آپ سے عایش نے کچھ کہا ہے۔۔۔۔ ادینہ نے سپاٹ لہجے میں پوچھا ۔۔۔۔

نہیں ۔۔۔۔ عائش کو خود بھی نہیں پتہ۔۔۔۔ اگر عائش نے بولا ہوتا تو تم لوگوں سے کیوں مانگتا اسے۔۔۔وہ سراپا محبت ہے۔۔۔۔ یہ میری خواہش تھی بہت پہلے سے کہ دونوں بچے میری نظروں کے سامنے ہو۔۔۔۔۔

ڈیڈ۔۔۔ پاپا کو کوئی بھی اعتراض نہیں ہوگا مگر عایش۔۔۔ آپ نے ہی تو ہمیں احتیار دیا تھا اپنے فیصلے خود لینے کا۔۔۔۔ عایش کے ساتھ یہ بے انصافی کیوں۔۔۔۔ ارمغان عائش کی چاہت میں بول اٹھا ۔۔۔۔۔

ادینہ نے سکھ کا سانس لیا ۔۔۔۔ کہ عایش نے ماں کا مان تہس نہس نہیں کیا۔۔۔۔

بس کیا کروں۔۔۔ اس کے معاملے میں دل تھوڑا خود غرض ہوگیا ہے۔۔۔۔ وہ مجھے انکار کر ہی نہیں سکتا ۔۔۔۔ مجھے بھروسہ ہے اپنے بچے پر۔۔۔۔ آریز کے آنکھوں میں عائش کے لئے محبت صاف دکھ رہی تھی۔۔۔۔

بلکل جس طرح میں انکار نہیں کر پایا تھا ۔۔۔۔ جب آپ نے حبا کی جگہ ایزل کا نام لیا تھا ۔۔۔۔ آپکی حکم عدولی نا ہو اسلئے میں چپ رہا۔۔۔ اگر آیان ایزل کے لئے سیرئیس نا ہوتا تو مجھے بھی اپنے پیار کی قربانی دینی پڑتی اور آپکی بات کا مان رکھ کر ایزل سے شادی کر لیتا ۔۔۔۔

صارم تو گومگو کیفیت میں مبتلا تھا۔۔۔ ایک طرف جان سے پیارا بھائی تو دوسری طرف سینے میں دھڑکتا بیٹا۔۔۔۔ آگے کنواں پیچھے کھائی۔۔۔۔ نا بھائی کو نا کہنے کی ہمت تھی نا ہی بیٹے کے ساتھ زبردستی کرنے کی۔۔۔۔۔

ٹھیک کہہ رہا ہے ارمغان۔۔۔۔ حنا نے بھی تائید کی۔۔۔۔ ہم اس طرح اس پر اپنے فیصلے مسلط نہیں کر سکتے۔۔۔۔

اپنی بیٹی کا روتا تڑپتا وجود اس کی آہیں سسکیاں یاد کرکے آریز نے آنکھیں بند کرکے چئیر کی پشت پر سر ٹکا دیا۔۔۔۔ وہ واقعی خودعرض ہوگیا تھا۔۔۔۔۔

بھائی حورم کی شادی ہوگی عائش سے۔۔۔ آپکی خواہش پوری ہوگی اگر عائش نہیں چاہے گا تب بھی ۔۔۔۔ اپنے بھائی کے چہرے پر درد اور تکلیف رقم دیکھ کر صارم نے پرعزم لہجے میں کہا۔۔۔۔۔۔

صارم کے بولنے پر اسکی روح کو جیسے تسکین مل گئی۔۔۔۔۔

اچھا تم لوگ چائے پی لو۔۔۔ صارم نے زبردستی مسکان لبوں پر سجا کر کہا۔۔۔۔۔

^^^^^^^^^^^^^^^^^^

ادینہ ۔۔۔۔ رات کو لیٹنے لگے کہ صارم نے ادینہ کو ہولے سے پکارا۔۔۔۔

ہمممم۔ ادینہ نے اسکے کندھے پر سر رکھ کر کہا۔۔۔۔

کیا حورم عائش کو پسند کرتی ہے۔۔۔۔ جب سے بھائی نے بات کی ہے میری سوئی وہی اٹکی ہوئی ہے۔۔۔ ورنہ بھائی اتنی بڑی بات کیسے بولتے۔۔۔۔۔

نہیں۔۔۔۔ اگر وہ عائش سے پیار کرتی تو حیدر کے رشتے کے لئے حامی کیوں بھرتی۔۔۔ اور اگر آپکو یاد ہو حیدر کے رشتے کے لئے بھی بھائی نے خود انکار کیا تھا ۔۔۔۔ ادینہ کو اچھے سے یاد تھا حورم کا عائش کو دھتکارنا ۔۔۔۔ وہ اسے بھائی مانتی تھی۔۔۔۔۔ اسلئے ادینہ کا شک اس پر نہیں گیا۔۔۔۔۔۔

حورم بھی میری بیٹی ہے۔۔۔ میں نہیں چاہتا دونوں کے ساتھ ذیادتی ہو۔۔۔ اگر دونوں ایسا نہیں سوچتے تو۔۔۔۔۔

دونوں نہیں صرف حورم۔۔۔ ادینہ صرف سوچ سکی۔۔۔ کیونکہ عائش کے آنکھوں میں حورم کے لئے محبت کے جذبے سے وہ واقف تھی۔۔۔۔

آپ سٹریس نا لے ۔۔۔ سب ٹھیک ہو جائے گا ۔۔۔ ادینہ نے اس کے خوبصورت چہرے پر بوسہ دیا۔۔۔ اتنے سال گزرنے کے باوجود بھی صارم کی خوبصورتی ماند نہیں پڑی تھی۔۔۔۔ آگے کے بالوں میں چاندی اس کی شخصیت کو مزید پرکشش بنا رہی تھی۔۔۔۔

ادینہ کے ماتھے پر لب رکھ کر وہ آنکھیں موندھ گیا۔۔۔۔۔۔

^^^^^^^^^^^^^^^^^^

آگر ایان بھائی ایزل آپی کو پسند نہیں کرتے اور آپ کی اس کیساتھ شادی ہوجاتی تو میرا کیا ہوتا۔۔۔۔۔وہ جو شام میں ارمغان کی باتیں سن کر اندر ہی اندر جلتی جا رہی تھی۔۔۔ پوچھ ہی لیا۔۔۔۔

تو اچھا ہوتا نا۔۔۔ ایزل کے ساتھ شادی ہوجاتی میری تو اب تک کنواروں جیسی لائف تو نہیں گزارتا۔۔۔ ارمغان نے موقع دیکھ کر تیر پھینکا ۔۔۔۔

حبا آنکھیں اور منہ واہ کرکے اسکی زومعنی بات کو اچھے سے سمجھ کر گھورنے لگی۔۔۔۔

میں آپکی جان نکال لوں گی اگر پھر کسی اور کے بارے میں اس طرح بات بھی کی۔۔۔ اور ارمغان پر جھپٹ پڑی۔۔۔۔

ہاہاہاہاہاہاہا وہ کوئی اور تو نہیں بہن ہے تمہاری ۔۔۔۔ وہ اب اسے زچ کرنے لگا۔۔۔۔۔اور سہ ہو رہی تھی ۔۔۔۔۔۔

ہاں تو وہ میری بہن ہی کیوں نا ہو ۔۔۔۔ آپ صرف میرے ہیں۔۔۔ سمجھے اپ۔۔۔۔ اور اسے اس وقت یہ ہوش بھی نہیں رہا کہ وہ پوری اس کی گود میں چڑھ کر بیٹھ گئی تھی۔۔۔۔۔ اور اسکے گردن کے گرد بازوؤں حمائل کردی تھی۔۔۔۔۔

کیا حورم آپی عائش کو پسند کرتی ہے؟؟ ۔۔۔۔ کب سے دل میں مچلتا ہوا سوال اس نے پوچھ لیا ۔۔۔۔

نہیں۔۔۔۔ مجھے تو کبھی نہیں لگا۔۔۔ دونوں کے رویوں سے ۔۔۔۔ پتہ نہیں ڈیڈ کو بیٹھے بیٹھے کیا سوجھی ۔۔۔۔

اتنی اچھی تو ہے حورم آپی ۔۔۔۔ حبا کی آنکھوں میں اسکا معصوم چہرہ گھومنے لگا ۔۔۔

اچھی ہے مگر ایج ڈیفرینس بھی ہے نا۔۔۔ اس نے حبا کا سر اٹھا کراسکے ماتھے پر کس کیا ۔۔۔

ایج کا کیا ہے۔۔۔ میں بھی تو دس سال آپ سے چھوٹی ہوں نا۔۔۔ اور آپی عائش سے چھ سال۔۔۔ اس سے کیا ہوتا ہے بھلا۔۔۔۔ مجھے تو بہت پسند ہے آپی۔۔۔۔ حبا نے کچھ سوچ کر بولا۔۔۔۔

واہ میری پٹاخہ تو کافی سمجھداری کی باتیں کر رہی ہے ۔۔۔۔۔ارمغان نے ناک اسکی ناک سے ٹچ کیا۔۔۔۔

ہاں تو۔۔۔ مما بولتی ہے شادی کے بعد لڑکے اور لڑکیاں سمجھدار ہوجاتی ہے ۔۔۔ عائش چھوٹا ہے وہ بھی شادی کے بعد سمجھدار ہو جائے گا نا۔۔۔۔ اپنے تئیں اس نے عائش کو بھی خود کی طرح ناسمجھ جانا ۔۔۔۔

میری جان ہمارا عائش اب بھی کافی سمجھدار ہے ۔۔۔۔ مجھ سے بھی ذیادہ۔۔۔۔ کبھی کبھی اسکے سامنے میری بھی بولتی بند ہوجاتی ہے۔۔۔۔اور تم اسے بھائی بولا کرو نا۔۔ بڑا ہے تم سے۔۔۔۔

نہیں۔۔۔بچپن سے نہیں بولی اب عادت نہیں ہے۔۔۔۔اتنا بھی ہمارا ایج ڈیفرینس نہیں ہے کہ میں اسے بھائی کہہ کر بلاؤ۔۔۔۔ اس نے ٹیڑھا میڑھا منہ بنایا تو ارمغان کو بے اختیار اس پہ پیار آیا اور ایک شوخ جسارت کی۔۔۔ جس سے اسکا چہرہ گلنار ہوگیا۔۔۔۔

اگر عایش نے انکار کیا تو۔۔۔۔ حبا تو سوچ کر ہی جھرجھری لینے لگی۔۔۔۔ کیونکہ عائش کا سرد رویہ وہ دیکھ اور سہہ چکی تھی۔۔۔۔ اور پھر ڈیڈ اور پاپا دونوں ہرٹ ہونگے ۔۔۔۔۔ رشتوں میں بدمزگی پیدا ہوگی۔۔۔۔

سنو۔۔۔ ارمغان دوسری طرف کروٹ لینے لگا تھا کہ حبا نے پکارا ۔۔۔۔۔

ہاں ۔۔۔ آپ مم۔میری طرف منہ کرکے سوجائے۔۔۔۔ پلکیں گرا کر اسنے اٹکائے لہجے میں کہا۔۔۔۔چہرے پر حیا کے ہزاروں رنگ بکھر گئے۔۔۔۔

سوچ لو۔۔۔ تمہارے لئے مشکل ہو جائے گی۔۔۔۔

سوچ لیا ہے۔۔۔۔ اسکے دل کے مقام پر اپنے لب رکھ کر وہ لیٹ گئی۔۔۔۔۔۔۔

^^^^^^^^^^^^^^^^^^^