Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Anokhi Muhabbat Season 2 (Episode 1)

Anokhi Muhabbat Season 2 By Rimsha Khan

گڈ مارننگ سویٹ ہارٹ۔۔۔۔۔ نیند میں ہی اپنے چہرے پر پرتپش سانسیں محسوس کرتے ہوئے اس نے جھٹ سے آنکھیں کھولی۔۔۔ تو عائش کو اپنے اوپر جھکے دیکھ کر خون کھول اٹھا۔۔۔۔

شرم نہیں آتی تمہیں۔۔۔۔ یہ بے ہودہ حرکتیں بند کردو ورنہ مجھے مجبوراً پاپا کو تمہارے بارے میں بتانا پڑے گا۔۔۔۔

اوہ رئیلی۔۔۔۔ اور پاپا کو آپ کیا بتاوگی۔۔ کہ میں پانچ سال سے آپ کے عشق کی گہرائیوں میں ڈوبا ہوا ہوں۔۔۔۔ روزانہ آکر آپ کو گڈ مارننگ وش کرتا ہوں۔۔۔۔کیونکہ آپ کو دیکھے بنا میری صبح نہیں ہوتی۔۔۔۔پاپا کو میں بھی بول سکتا ہوں۔۔لیکن ان کو تو اپنی بیٹی بیٹوں سے بھی زیادہ عزیز ہے۔۔۔۔اور ان کی مرضی کے بغیر تو پاپا میری بات مانیں گے نہیں ۔۔۔ اس لئے پانچ سال سے آپ کے پیچھے خوار ہو رہا ہوں۔۔۔۔

جسٹ شٹ اپ ۔۔۔۔ سٹوپڈ۔۔۔ یہ کیا عشق عشق کی رٹ لگا رکھی ہے ۔۔۔ چھ سال بڑی ہوں تم سے۔۔۔ بھائی مانتا ہوں تمہیں۔۔۔۔ اور تم اس طرح میرے کمرے میں آکر میری پاکیزگی کو داغدار کرنے پر تلے ہوئے ہو۔۔۔ حورم فاروقی ہوں میں کوئی عام لڑکی نہیں ہوں میں۔۔۔۔ جتاتا لہجہ تھا ۔۔۔

بھائی بھائی بھائی۔۔۔۔نہیں ہوں میں آپ کا بھائی۔۔۔ اور میں بھی کوئی گلی کا آوارہ غنڈہ نہیں ہوں جو آپ مجھے بار بار دھتکار رہی ہے۔۔۔۔ عائش فاروقی ہوں میں ۔۔۔ آئی جی صارم فاروقی کا ایک قابل اور ہونہار بیٹا۔۔۔ اور کتنی بار سمجھا دوں آپ کو۔۔۔ پیار عمر دیکھ کر نہیں ہوتا۔۔۔ آپ کو میری یہ دیوانگی میرا پیار دکھ نہیں رہا ہے۔۔۔بس عمر کی رٹ لگا رکھی ہے۔۔۔ میری جذبوں کی سچائی سے کیسے آپ لا علم رہ سکتی ہوں۔۔۔ کیوں۔۔۔۔۔۔ اس کا چہرہ دونوں ہاتھوں میں مضبوطی سے تھامے آنکھوں میں پیار کے ہزاروں جگنو لئے اس کی آنکھوں میں دیکھ کر بول رہا تھا۔۔۔۔ اور یہی آنکھیں اس کی کمزوری تھی۔۔۔ جو ہوبہو اس کے پاپا کی کاپی تھی۔۔۔

~~~~~~~~~~~~~~~

صارم فاروقی کے دو ہی بیٹے تھے۔۔۔ بڑا بیٹا عائش فاروقی جو میڈیکل کی پڑھائی کر رہا تھا اور چھوٹا بیٹا عاریز فاروقی بورڈنگ اسکول میں زیر تعلیم تھا۔۔۔۔

عائش نے قد کاٹ حسن سب کچھ صارم سے چرایا تھا۔۔۔۔سخت کھٹور لڑکا تھا۔۔۔غصے کا بہت تیز تھا۔۔۔ اکڑ غرور کھوٹ کھوٹ کے بھرا تھا اس میں۔۔۔ اس کے برعکس عائز کافی سمجھدار بچا تھا۔۔۔ اپنی ماں پر گیا تھا۔۔۔۔

اتنے سال گزرنے کے باوجود بھی حورم آریز کو باپ جتنا مان اور پیار نہیں دے پائی جتنا وہ صارم سے لاڈ اٹھواتی تھی۔۔۔ دونوں کے مابین گریز اب بھی برقرار تھا۔۔۔۔ اسے صارم سے کافی انسیت تھی ۔۔۔ جو وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ پروان چڑھ رہی تھی۔۔۔۔ کبھی کبھی عائش کو صارم کی حورم کے لیے حد درجہ توجہ کھٹکتی ۔۔۔ لیکن جیسے ہی وہ جوانی کی دہلیز پار کرتا گیا حورم کی زیادہ توجہ او چاہت اسے خود حورم کے قریب لے آیا ۔۔۔ اور کب حورم اس کے دل میں گھر کر گئی وہ خود نہیں جانتا تھا۔۔۔

ارمغان بزنس میں انٹرسٹڈ تھا۔۔۔اسلئے وہ بزنس کی دنیا میں اپنے قدم مظبوطی سے جما رہا تھا۔۔۔۔ ابھی تک سنگل تھا۔۔۔۔ اور زارش اپنی سٹیڈیز کپپملیٹ کر چکی تو اس کا نکاح اپنے ماموں زاد اطہر سے پڑھوایا گیا۔۔۔۔اور جلد ہی شادی کے بندھن میں بندھنے والے تھے ۔۔۔۔

گڈ مارننگ ۔۔۔۔ حورم ناشتے کے لئے آگئی تو سب کو ویٹ کرتے پایا۔۔۔

گڈ مارننگ پاپا کی جان۔۔۔ صارم کے گلے لگی اور پیار کیا۔۔۔۔

یہ عائش کہا رہ گیا۔۔۔ آریز نے ادینہ سے پوچھا جو ناشتہ سرو کر رہی تھی ۔۔۔۔۔

آپ کیے بے جا لاڈ پیار کا نتیجہ سامنے ہے ۔۔۔۔ اس نے ہمارے گھر کے برسوں پرانے روایات کا ستیا ناس کر دیا ہے۔۔۔۔نا کھانا ساتھ میں کھاتا ہے نا ناشتہ۔۔ صارم نے سارا ملبہ اپنے بھائی پر ڈال دیا ۔۔۔۔۔۔۔

تم لوگوں ویسے ہی میرے بچے کے پیچھے پڑھ گئے ہو۔۔۔ کتنا ہونہار بچا ہے میرا۔۔۔ کتنے مڈلز جیت چکا ہے۔۔۔۔۔ کیا ہوا اگر تھوڑا سا ٹیڑھا ہے تو۔۔۔۔اریز نے سب کی توپوں کا رخ اپنی طرف دیکھ کر دلیل پیش کی۔۔۔ اور سچ بھی تھا۔۔۔ آریز نے ہی اسے نک چڑھا بنا رکھا تھا۔۔ بات منہ سے نکلی نہیں کہ پوری ہوجاتی۔۔۔

تھوڑا سا نہیں بھائی ۔۔۔کتے کی دم ہے وہ۔۔ مجال ہے جو میری کوئی بات سنے یا مانے۔ ۔۔۔۔ ادینہ بھی تنگ تھی عائش کے ازلی ڈھیٹ پن سے ۔۔۔

گڈ مارننگ لیڈیز اینڈ جنٹل مین۔۔۔ ہیو آ گڈ ڈے۔۔۔۔ عائش نے سب کو اپنی طرف متوجہ کیا ۔۔۔

اور حورم کے ساتھ والی چئیر کھسک کر بیٹھ گیا۔۔۔۔

حورم اسے سلگتی نگاہوں سے دیکھنے لگی۔۔۔۔

آپکا کوئی ادھار دینا تھا کیا۔۔۔۔ عائش نے ایک آبرو آچکا کر اس سے پوچھا۔۔۔

ہاں برخوردار ۔۔۔ کسی کی شادی میں جا رہے ہو کیا ؟؟؟ آریز نے آنکھوں کی پتلیاں سکیڑ کر پوچھا۔۔۔۔

نوووو ڈیڈ۔۔۔۔۔ کیوں۔۔۔۔؟؟

تو یہ اتنا بھن ٹھن کر تم کالج جا رہے ہو ؟؟؟اب مخاطب ارمغان تھا۔۔۔۔

بھائی ایسے ہی تو جاتا ہوں ڈیلی۔۔ کچھ نیا تو نہیں کیا۔۔۔ عائش نے ناک چڑھائی۔۔۔۔

ڈیٹ ویٹ تو فکس نہیں کی ہوئی۔۔۔۔۔ زارش نے پتا پھینکا۔۔۔۔۔

سارے آج اس کو زچ کرنے پر تلے ہوئے تھے۔۔۔

یار آپی ۔۔۔۔آپ جلدی سے شادی کرواکر پیا دیس سدھار کیوں نہیں جاتی۔۔۔ ایک بندہ تو کم ہو جائے گا۔۔ عائش نے جھنجھلا کر کہا۔۔۔۔۔

سب ہنسنے لگے۔۔۔۔

چلو ناشتہ شروع کرو سب۔۔۔

سب نے ساتھ ناشتہ شروع کردیا ۔۔۔۔

بھائی آپ سے حورم کے بارے میں بات کرنی تھی۔۔۔ ناشتہ ختم کرلیا سب نے تو صارم نے آریز کو سنجیدگی سے مخاطب کیا۔۔۔

عائش جو ناشتہ کرکے اٹھنے والا ہی تھا۔۔۔ حورم کے نام پر دوبارہ بیٹھ گیا۔۔۔ اور محویت سے اپنے پاپا کو دیکھنے لگا ۔۔۔۔

وہ ڈاکٹر حمدانی کا بیٹا ہے نا حیدر وکالت کی ڈگری لے کر آیا تھا ابراڈ سے ۔۔۔ پریکٹس بھی ختم ہوگئی ان کی۔۔ وہ حورم کے رشتے کے لئے آنا چاہتے ہیں ۔۔۔ آپ کی اجازت ہو تو بلا لوں۔۔۔۔

عائش کے تو جیسے سر پر لگی تلوؤں پر بجھی کیفیت ہوگئی۔۔۔۔ چہرہ ضبط سے سرخ ہو گیا ۔۔۔۔

ہاں نیکی اور پوچھ پوچھ۔۔۔۔ میں جانتا ہوں حیدر کو۔۔۔ میرے ساتھ پڑھتا تھا۔۔۔ ہماری حورم کے لیے بیسٹ ہے۔۔ ارمغان نے ہی لقمہ دیا۔۔۔

حورم بیٹا تمہیں کچھ کہنا ہے۔۔۔ صارم نے حورم کی مرضی معلوم کرنی چاہی۔۔۔۔

نہیں پاپا آپ لوگوں کو جو صحیح لگے ۔۔۔ یہ اختیار آپ کو ہے۔۔۔ مجھے آپ کے فیصلے پر کوئی اعتراض نہیں۔۔۔۔

عائش حیرت سے گنگ حورم کی طرف دیکھ رہا تھا۔۔۔ جس کا اطمینان قابل دید تھا ۔۔۔۔۔

لیکن پھر بھی تم مل لو ایک بار اس سے۔۔۔ تسلی کر لو۔۔۔ آریز بھی باپ تھا اپنا فرض ادا کرنا تھا اسے۔۔۔۔

اچھا مل لوں گی۔۔۔ اور اپنے روم میں چلی گئی ۔۔ کیونکہ وہ جانتی تھی کہ عائش کے اندر سونامی امڈ رہا ہوگا۔۔۔۔ وہ اپنے ذات کو لے کر کوئی تماشا بنانا نہیں چاہتی تھی ۔۔۔۔ وہ خود دستبردار ہوجائے گا۔۔ اسکا بچپنا ہے یہ۔۔۔۔

ادھر عائش اس کے پیچھے ہی روم میں اگیا۔۔۔ اور جھٹ سے ڈور لاک کردیا ۔۔۔۔

آپ کسی کو دیکھنے اور ملنے نہیں جاوگی۔۔۔ سمجھی آپ ۔۔۔۔۔ زور سے حورم کا بازوؤں دبوچے وہ غرا رہا تھا۔۔۔۔ ورنہ میں مار ڈالوں گا اسے۔۔۔

چٹاخ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اور یہ زندگی میں پہ پہلی بار ہوا کہ عائش کو ایک زناٹے دار تھپڑ پڑا وہ بھی حورم کے ہاتھوں۔۔۔۔۔۔

ابھی تک تمہارا بچپنا سمجھ کر سب کچھ برداشت کرتی رہی ۔۔۔ لیکن نہیں۔۔۔ اب اگر مجھے ہاتھ بھی لگایا نا تو ہاتھ توڑ دونگی تمہارا۔۔۔

سدھر جاؤ۔۔۔۔

عائش اپنے گال پر پڑنے والے تھپڑ پر ششدر ساکھڑا پھٹی پھٹی آنکھوں سے حورم کو دیکھ رہا تھا۔۔۔ ہاتھ اٹھانا تو دور کی بات کسی نے آج تک اونچی آواز میں بات تک نہیں کی تھی ان سے ۔۔۔۔

حورم اس کو سکتے میں چھوڑ کر روم سے باہر نکلی۔۔۔ اوپر ٹیرس پر چلی گئی ۔۔۔ اور اپنے سرخ ہاتھ کو دیکھ کر اسے اپنے تھپڑ کی شدت کا اندازہ ہوگیا اسے۔۔۔۔اور پھوٹ پھوٹ کر رو دی۔۔۔۔ عائش سب کی آنکھوں کا تارا تھا۔۔۔۔ کسی طرح کی شکایت نہیں ملی آج تک اس کی۔۔۔ وہ کوئی بگڑا بچا نہیں تھا۔۔ اخلاقیات اور تمیز کے دائرے میں ہی رہتا تھا۔۔۔۔۔

ایم سوری عائش۔۔۔ تمہارے بڑھتے قدموں کو روکنا تھا۔۔ ورنہ ہمارے فیملی کے بیچ محبت اور مان کا جو رشتہ ہے وہ ٹوٹ جائے گا۔۔۔ ہماری فیملی بکھر جائے گی۔۔۔۔

~~~~~~~~~~~~~~~~~~~

شارق کالنگ۔۔۔۔ موبائل رنگ پر اس کا سکتہ ٹوٹا تو شارق کی کال اٹینڈ کی۔۔۔۔۔

کہاں ہے تو۔۔ کالج نہیں انا۔۔۔

ہیلو۔۔۔۔ عائش۔۔۔۔ دوسری طرف ہنوز خاموشی تھی۔۔۔۔

عائش۔۔۔ تم ٹھیک ہو۔۔۔۔۔

شارق اس نے مجھ پر ہاتھ اٹھایا۔۔۔ شادی کر رہی ہے وہ ۔۔۔ رشتہ آیا ہے۔۔۔۔ وہ ایک ہاتھ سے فون تھامے دوسرے سے اپنے بالوں کو زور سے مٹھی میں جھکڑے دیوانوں کی طرح ادھر ادھر گھوم رہا تھا۔۔۔

عائش کام ڈاون۔۔۔۔ میں گھر جارہا ہوں۔۔۔۔وہاں آجاو۔۔ بابا سے بات کرتے ہیں ۔۔۔وہ کوئی حل نکال لے گا۔۔۔

اوکے۔۔۔۔ بے زاری سے کہا۔۔۔۔

وہ بائیک کی کیز اٹھا کر نکل گیا۔۔۔ صارم جیسے شوق عائش بھی پالتا تھا ۔۔۔۔ ابھی نیو سپورٹس بائیک لاکر دیا تھا اسے آریز نے۔۔۔۔۔

~~~~~~~~~~~~~~~~~

عائش بیٹا۔۔۔ حورم کی بات ٹھیک ہے نا وہ بڑی ہے تم سے۔۔۔ اسفند کو بھی عائش کی بات نے حیران و پریشاں کر دیا۔۔۔۔۔

اسفند کا ایک بیٹا شارق تھا جو کہ عائش کا ہم عمر تھا اور ایک ہی بیٹی تھی۔۔۔ سنینہ ۔۔۔۔

عائش اور شارق دونوں ایک ہی کالج میں پڑھتے تھے۔۔۔۔ اپنے پیرنٹس کی طرح دونوں کی دوستی بھی مثالی تھی۔۔۔ اسفند صارم کو بھی بہت عزیز تھا اور اب عائش کو بھی۔۔۔۔جو بات عائش صارم کو کہنے سے کتراتا تھا وہ بلا جھجھک اسفند سے شئیر کرتا تھا ۔۔۔۔

انکل کان پک گئے میرے یہ چھوٹا چھوٹا لفظ سن کر۔۔۔ پلیز آپ تو سمجھے۔۔۔۔

میں صارم سے بات کر لوں۔۔۔۔اسفند نے کچھ سوچ کر پوچھا۔۔۔

نہیں وہ حورم پر کبھی اپنی مرضی مسلط نہیں کریں گے۔۔۔۔ عائش ہولے سے بولا۔۔۔۔

کون کون جانتا ہے کہ تم حورم کو پسند کرتے ہو۔۔۔ اسفند نے عائش کے چہرے کو غور سے دیکھتے ہوئے پوچھا۔۔۔۔

شارق۔۔ اور اب آپ۔۔۔۔ سب ہی مجھے غلط سمجھیں گے اس لئے کسی کو نہیں بولا۔۔۔

اور حورم کو کب بتایا۔۔۔ دوسرا سوال۔۔۔

پانچ سال پہلے۔۔۔ جواب آیا ۔۔۔

یار مسئلہ کافی گھمبیر ہے۔۔۔

نہیں انکل آپ کچھ کرے پلیز۔۔۔ عائش اس کے سامنے دوزانو بیٹھ گیا۔۔۔ میں مر جاؤں گا۔۔۔ عائش گڑگڑایا۔۔۔

آللہ نا کریں۔۔۔ میں ہوں نا سب سمبھال لوں گا۔۔۔ عائش کی شکستہ حالت دیکھ کر وہ تڑپ اٹھا ۔۔ اسے وہ دن یاد آنے لگا جب صارم اسی طرح پیار کرکے بے بسی کا شکار تھا۔۔۔مجھے بس یہی خوف ہے کہ صارم حورم کے ساتھ زبردستی نہیں کرسکتا اور حورم مان نہیں رہی۔۔۔ پہلے ہم اسے منانے کی کوشش کریں گے۔۔۔

تو آپ منا لے نا اسے۔۔وہ آپکو بہت مانتی ہے۔۔۔۔ ویسے بھی پاپا بولتے ہیں نا اسفند انکل کے پاس ہر پروبلم کا سلوشن ہوتا ہے۔۔۔۔ عائش التجائیہ لہجے میں بولا۔۔۔۔

~~~~~~~~~~~~~~~~~

تیسرا منظر ۔۔۔۔۔ ارسلان اور مہک کی دو ہی بیٹیاں ہیں۔۔۔ ایزل اور حبا۔۔۔۔۔ بڑی بیٹی ایزل جو پندرہ سال کی عمر میں اپنے تایا کے بیٹے ارحم سے منسوب تھی۔۔۔۔ دونوں کا نکاح ہوا تھا۔۔۔۔ عین شادی والے دن ہی وہ اپنی بیوی اور دو بچوں کے ساتھ گھر میں داخل ہوا۔۔۔۔ تو گویا شادی کے گھر میں ماتم مچ گئی ۔۔۔۔ ارحم نے واضح کیا کہ میں نے باپ کے فورس کرنے پر یہ نکاح کیا تھا۔۔ اور اب بھی اگر ایزل کو دوسری بیوی بننے پر اعتراض نہیں تو وہ اس کے ساتھ شادی کرلے گا۔۔۔ لیکن ارسلان اور ایزل دونوں سخت برہم تھے۔۔۔ اور یہ نکاح ہی ختم کردیا۔۔۔۔ یہ سچ ہے۔۔۔ اولاد کا دکھ انسان کو وقت سے پہلے بوڑھا کر دیتے ہیں۔۔۔ارسلان نے وقت سے پہلے ریٹائرمنٹ لے لی تھی۔۔۔۔ اور ایزل آنے والے ہر رشتے کو ٹکراتی رہی۔۔۔۔۔۔

اور چھوٹی بیٹی حبا سترہ سال کی ہے۔۔۔۔۔

ارسلان ریٹائرمنٹ لے چکے تھے۔۔۔ اس کی بیٹی حبا کو اپنے باپ کی طرح ائیر فورس جوائن کرنے کا شوق چڑھا تھا۔۔۔

~~~~~~~~~~~~~~~

آج اس کی کلائنٹ کے ساتھ میٹنگ تھی۔۔۔ آور آفس کی بجائے ایک ریسٹورنٹ میں ارینجمنٹ کی گئی تھی۔۔۔۔ ڈیل فائنل ہوگئی تو لنچ کا خاصا اہتمام کیا گیا تھا۔۔۔ اسے کال آنے لگی تو موبائل کان سے لگائے وہ ریسٹورنٹ کے دوسرے طرف آگیا ۔۔۔۔

ارے میڈم جب پیسے تھے ہی نہیں تو یہاں اتنا عمدہ اور ایکسپینسیو کھانا کھانے کیوں آئے تھے۔۔۔ فائیو سٹار ہوٹل ہے یہ۔۔۔ کوئی گلی کا ڈھابہ نہیں۔۔۔ اچھی طرح جانتے ہیں ہم تم جیسے لوگوں کو ۔۔۔۔ جیب میں ریڑھی والے سے کچھ لینے کی اوقات نہیں ہوتی۔۔۔ اور یہاں آکر اے سی کے ماحول میں بیٹھ کر دو تین ڈشز آرڈر کر دیتے ہوں۔۔۔ اور جب پیٹ میں مزید گنجائش نہیں رہتی پھر جھوٹ موٹ کے بہانے گھڑتے ہو کہ والٹ گھر بھول آئے ہیں۔۔۔ یا پھر والٹ چوری ہوا ہے۔۔۔ فلاں فلاں ۔۔۔ہم روزانہ ہزاروں ایسے بیکاریوں کو فیس کرتے ہیں ۔۔۔۔ شرافت سے پیسے نکالو ورنہ آج سارا دن یہاں برتن دھونے ہوںگے۔۔۔۔

بسسسس بہت ہوگیا۔۔ کیا ہم آپ کو شکل سے کوئی بیکاری لگتے ہیں ۔۔۔۔ میں نے بتایا نا میں والٹ گھر بھول آئی ہوں۔۔۔۔ وہ بار بار موبائل پر نمبر ٹرائی کر رہی تھی لگ ہی نہیں رہا تھا۔۔۔

اس نے دیکھا کہ پانچ لڑکیاں تھیں سیم کالج ڈریس پہنے۔۔۔ شائید لنچ کرنے آئی تھی۔۔۔ اسے یہ ڈارمہ دیکھنے میں کوئی دلچسپی نہیں تھی۔۔ سو وہ واپس جانے لگا۔۔۔ کہ ان میں سے ایک لڑکی کی نظر اس پر پڑی اور خوشی سے اسے پکارنے لگی۔۔۔

ارمغان بھائی۔۔۔۔۔ اپنے نام کی پکار سن کر وہ پیچھے مڑا تو سامنے حبا کھڑی تھی۔۔۔جو خوشگوار تاثرات لئے اسے دیکھ رہی تھی۔۔۔۔ ایک لمحے کی دیری کیے بغیر وہ اس کے پاس پہنچ گئی۔۔۔

بلاشبہ وہی تھی جو ویٹر کے ساتھ بحث کر رہی تھی۔۔۔

تم یہاں کیا کر رہی ہو۔۔۔ ماتھے پر تیوری چڑھائےاس سے ہوچھا۔۔۔

بھائی ہم فرینڈز ہر ہفتے کسی نا کسی ریسٹورنٹ میں لنچ کرنے جاتے ہیں ۔۔۔ آج لنچ میری طرف سے تھا۔۔۔ صبح ڈیڈ سے کافی سارا کیش لیکر میں نے اپنے چھوٹے پرس میں رکھ دیا۔۔ بٹ آتے وقت دھیان ہی نہیں دیا اور دوسرا پرس اٹھا لائی ابھی پیمنٹ کرنے پرس کھولا تو پیسے ندارد۔۔۔ حبا نے اہانت سے سر جھکا دیا۔۔۔

ارمغان غور سے اس چھوٹی سے لڑکی کو دیکھ رہا تھا جو کالج یونیفارم میں اپنی عمر سے کچھ زیادہ چھوٹی بچی لگ رہی تھی۔۔۔ دو چوٹیاں بنا رکھی تھی۔۔۔ ارسلان انکل کی پیاری سے من موہنی بیٹی۔۔۔۔

تو۔۔۔۔ ارمغان نے سوالیہ لہجے میں پوچھا ۔۔۔۔

تو کیا۔۔۔۔ آپ پیمنٹ کردے نا۔۔۔ اب یہ مجھ سے برتن دھلوائے گا۔۔ میں نے تو ایک کپ تک کبھی نہیں دھویا۔۔۔ بڑی بڑی آنکھوں میں حددرجہ معصومیت سموئے وہ روہانسی ہو گئی۔۔

اس نے اپنے پی اے کو ٹیکسٹ کیا۔۔۔۔

دو سیکنڈ میں وہ سامنے تھا۔۔۔۔

اس کے کان کے قریب سرگوشی کی تو اس نے سر ہلایا اور ویٹر کی طرف بڑھ گیا۔۔۔۔

کچھ اور کھانا ہے۔۔۔۔ اپنی فرینڈز سے پوچھو۔۔۔

نہیں بس ویٹر کو تھوڑی سی سنانی ہے۔۔۔ جو پبلکلی مجھے چور اور بیکاری سمجھ کر مجھے میری اوقات یاد دلا رہا تھا۔۔۔۔۔ اسے بھی پتہ چلے نا کہ میں حبا ارسلان ہوں۔۔۔ ناک سکوڑ کر فخریہ کالر جھاڑے تو ارمغان کے ہونٹوں پر مسکراہٹ رینگنے لگی ۔۔۔ ہاں ارسلان انکل کی آفت ںیٹی۔۔۔۔

حبا نے ویٹر کو بلایا۔۔۔ وہ دور سے ہی ارمغان کو دیکھ کر پہچان گیا تھا۔۔ آج ریسٹورنٹ کا وی آئی پی پورشن فاروقی اینڈ سنز کے سی او ارمغان فاروقی کے نام پر بک کیا گیا تھا۔۔۔ اسے اپنے الفاظ کی سنگینی کا احساس ہوگیا تھا ۔۔۔

سوری میڈم۔۔۔ معاف کردو ۔۔۔ قریب آکر اس کے بولنے سے پہلے ہی معافی مانگی۔۔

وہ جو اس کو جلی کٹی سنانے کے لئے الفاظ سوچ رہی تھی۔۔۔اچانک ہی سارے ارمانوں پر پانی پھیر گیا ۔۔۔۔

چلو معاف کیا۔۔ میرے ڈیڈ کہتے ہیں معاف کرنے والوں کا ظرف بڑا ہوتا ہے۔۔۔

ارمغان جانچتی نظروں سے اسے دیکھنے لگا۔۔۔۔

سنو۔۔۔ ان سب کو اپنی پسندیدہ آئیس کریم فلیور سرو کردو۔۔۔ ارمغان نے ویٹر کو مخاطب کیا۔۔۔

تھینکس بھائی ۔۔۔۔ حبا اس کے اتنی نوازشوں کو دیکھ کر اس کے سینے سے لگی تو ارمغان کو اس کی اتنی قربت ہراساں کر گئی۔۔۔ دل کی دھڑکنیں منتشر ہوگئی۔۔۔ اور جلدی سے اپنے بے ہنگم دھڑکنوں کو اعتدال میں لاکر خود کمپوز کرکے اسے دور کیا ۔۔۔۔

چلو انجوئے کرو۔۔۔۔۔ اور متوازن چال چلتا ہوا آگے بڑھنے لگا۔۔۔۔

کام ڈاون ارمغان بچی ہے۔۔۔۔ دس سال چھوٹی ۔۔۔ اکثر پارٹی میں ملاقات ہوجاتی تھی ایک دوسرے سے بس ہیلو ہائے تک۔۔۔ لیکن کبھی اس نظر سے دیکھا نہیں تھا۔۔۔اپنی غیر ہوتی حالت سے وہ خود انجان تھا۔۔۔ اپنی سوچ کو جھٹک کر گیسٹ کے ساتھ لنچ کرنے لگا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

~~~~~~~~~~~~~~~