Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Anokhi Muhabbat Season 2 (Episode 18)

Anokhi Muhabbat Season 2 By Rimsha Khan

باجی کوئی خاص مہمان آنے والے ہیں کیا۔۔۔ صبح سے ہی حورم کو کسی نا کسی کام میں مصروف دیکھ کر نورین نے پوچھ لیا ۔۔۔

ہاں میرے بھائی اور چھوٹی سی نٹ کھٹ بھابھی آرہی ہے۔۔۔وہ پیرس گئے تھے ابھی یہاں پہنچنے والے ہیں۔۔۔۔۔ حورم کی آواز میں شیرینی مٹھاس بھری تھی اور خوشی دیدنی تھی۔۔۔۔۔۔

اچھا مجھے بتائے میں بھی کچھ ہیلف کردیتی ہوں۔۔۔۔کب سے اکیلے ہی خود کو ہلکان کئے جارہی ہے۔۔۔۔۔۔

ہاں تم اس کبرڈ سے برتن نکال کر دھو لو۔۔۔۔۔۔ اور بریانی دم پر رکھی ہے پانچ منٹ بعد چولہا بند جدو۔۔۔۔باقی سب میں نے کردیا ہے۔۔۔۔ بس فریش ہونے جانا ہے ابھی عائش اور شارق بھی آجائیں گے کچھ سامان لینے بھیجا ہے ۔۔۔۔۔

نورین تم نماز نہیں پڑھتی اچانک کچھ یاد آنے پر اس سے پوچھا۔۔۔۔

نہیں باجی۔۔۔ گاؤں میں مدرسے جاتی تھی تب پڑھتی تھی۔۔۔ جب سے یہاں آئیں ہے نہیں پڑھی۔۔۔۔ نورین نے شرمندگی سے سر جھکا دیا۔۔۔۔

میں سکھا دوں گی۔۔۔۔ تمہیں پتہ ہے نماز فرض ہے۔۔۔۔کسی بھی صورت میں معاف نہیں۔۔۔ کوشش کرو ایک بھی نماز قضا نا ہو۔۔۔۔۔

جی باجی میں پڑھوں گی ان شاءاللہ۔۔۔۔ اور مجھے آپکی طرح یہ دوپٹہ اوڑھنا بھی سکھا دے ۔۔۔۔ نورین نے اسکے حجاب اسٹائل دوپٹے کی طرف اشارہ کرکے کہا ۔۔۔۔

گڈ گرل۔۔۔۔ حورم نے اسکا گال تھپتھپایا۔۔۔۔۔

اسے اچھے سے سمجھا کر وہ اپنے روم میں آگئی اور عائش کا خریدا ہوا ایک خوبصورت سوٹ نکال کر باتھ لینے چلی گئی۔۔۔۔۔

جلدی جلدی فریش ہوکر باہر نکلی تو ہیئر ڈرائر نکال کر بال ڈرائے کرنے لگی۔۔۔ اور جو سب سے مشکل تھکا دینے والا کام تھا اس کے لئے وہ اپنے بال ڈرائے کرنا تھا۔۔۔۔۔

کچھ لمحے بعد روم ڈور بغیر ناک کے دھڑام سے کھل گیا تو اس نے آنکھیں میچ کر گہرا سانس بھرا۔۔۔۔ وہ جانتی تھی بغیر ناک کے روم میں صرف عائش ہی آتا تھا ۔۔۔۔ مگر اپنے سراپے پر نظر ڈالتے ہی وہ جیسے زمین میں دھنستی گئی۔۔۔۔۔ایک تو اس بندے میں تمیز نام کی کوئی چیز نہیں ہے۔۔۔۔۔ ناک کرکے آجاتا تو اس کے شان میں کیا کمی آجاتی ۔۔۔۔۔

عائش تم ناک کرکے بھی آسکتے تھے۔۔۔۔ اسکی طرف مڑے بغیر کہا۔۔۔۔ آواز میں غصے کی ہلکی سی آمیزش بھی شامل تھی۔۔۔۔

اوہ۔۔۔۔۔ جیسے کہ آپ بھول گئی تھی کہ میں کتنا شریف انسان ہوں۔۔۔کہ کوئی جائز رشتہ نا ہونے کے باوجود میں کبھی آپ کے روم میں ناک کرکے نہیں آیا تو اب یہ پابندیاں عائد کرنے کا کیا مطلب ۔۔۔۔۔ڈھکے چھپے الفاظ میں وہ بہت کچھ جتا گیا۔۔۔۔۔ حورم کے پورے وجود میں سنسنی پھیلنے لگی۔۔۔۔۔ اسکی طرف رخ موڑ کر دیکھا ۔۔۔۔۔۔۔

عائش کا ارادہ بھانپ کر اس نے ڈرائر پکڑے ہاتھ کو پیچھے کرلیا۔۔۔۔۔ آپ تھک گئی ہونگی نا کیوں نا باقی کا کام میں کر لوں۔۔۔۔ سنجیدگی کا لبادہ اوڑھے اس کے ہاتھ سے ڈرائیر لے کر خود کو تکتی اس کی نیلی آنکھوں پر پھونک مار کر اسے کندھے سے پکڑ کر گھمایا۔۔۔۔۔

سٹپٹا کر متغیر چہرے کے ساتھ اس نے باہم لب پیوست کر دیے۔۔۔ اگر کچھ بولتی تو عائش کو پھر سے اپنے شان میں گستاخی لگتی۔۔۔۔ اس نے مرر میں زیرک نگاہوں سے اسکے چہرے کو فوکس کیا ہوا تھا۔۔۔ مگر انتقام کی ہلکی سی رمق بھی اس کے چہرے پر موجود نہیں تھی۔۔۔۔

کتنی نفرت کرتی ہیں آپ مجھ سے۔۔۔۔ عائش اسکے بال ڈرائے کرتا پوچھ بیٹھا ۔۔۔۔ اس کے کیے گئے سوال پر اس کے قدم ڈگمگائے تو عائش نے اسکو کندھوں سے تھام لیا۔۔۔۔۔سمبھل کے ۔۔۔۔۔۔۔۔

مم۔میں نہیں کرتی نفرت تم سے نا ابھی نا پہلے ۔۔۔۔ اپنا اعتماد بحال کرکے جواب دیا۔۔۔۔

ہاہاہاہاہا۔ ایک فلک شگاف قہقہہ روم میں گونجا۔۔۔۔ حورم تو سالوں بعد اسے اس طرح کھل کے ہنسے پر آنکھیں پھاڑ کر دیکھ رہی تھی۔۔۔۔ بے خودی میں ہی اپنا ہاتھ اس کے گال پر رکھ دیا۔۔۔۔ یہاں آنے کے بعد عائش کلین شیو نہیں کرتا تھا۔۔۔۔ ہلکی سی بڑھی ہوئی شیو تھی جو کہ اس کی وجاہت کو چار چاند لگا رہی تھی ۔۔۔۔وہ اس کے سحر میں جکڑتی چلی گئی ۔۔۔

پنجوں کے بل کھڑے ہوکر اس نے عایش کے ٹھوڑی کو نرمی سے چھوا۔۔۔۔ عائش کے مظبوط کسرتی بدن کے مقابلے میں اس کا نازک سا سراپا دب جاتا۔۔۔۔

ہمممم۔۔۔تو نفرت نہیں کرتی آپ۔۔۔۔ کہیں آپ بھی دقیانوسی سوچ کے تحت یہ تو نہیں کہنا چاہتی کہ نکاح کے دو بولو میں اتنی طاقت ضرور ہوتی ہے کہ آپ کو بھی مجھ سے پیار ہوگیا ۔۔۔۔۔ سر تھوڑا سا اسکے قریب جھکا کر استہزائیہ انداز میں کہتے اس نے سرد تاثرات کے ساتھ ایک بار پھر قہقہ لگایا۔۔۔۔

میں تم سے پیار نہیں کرتی۔۔۔۔۔ نروٹھے انداز میں کہتی اس سے فاصلہ بنا کر اس نے اپنی غیر ارادی کی جانے والی حرکت پر خود کو کوسا۔۔۔۔ جسکا اس نے پل بھر میں مذاق بنا ڈالا۔۔۔۔۔

اچھا لگ رہا ہے سوٹ ۔۔۔ اچانک پنتیرا بدل کر کہا تو مانو جیسے اسکا دل کانوں میں دھڑکنے لگا۔۔۔۔

“” تھم تھم کے جلاتا ہے مجھے سوزمحبت

گر آگ لگانی ہے تو ایک بار لگا دے “”””

اس کندھے پر ٹھوڑی ٹکا کر کانوں میں اپنی خوبصورت گھمبیر آواز میں سرگوشی کی تو وہ واقعی اس کے پرتپش لہجے سے سلگ اٹھی۔۔۔۔۔

اور ایک جھٹکے سے اسے گھما کر اپنے سامنے لے ایا۔۔۔۔۔ اور پرفیوم اٹھا کر اس پر چھڑکنے لگا۔۔۔۔

یہ یہ کیا رہے ہو۔۔۔۔ادھی بوتل اس کے اوپر انڈیل کر وہ اسکا ہاتھ روکنے لگی۔۔۔۔۔ اور پھولتے سانسوں کے ساتھ پرفیوم چھین لیا۔۔۔۔۔

اپنی شرٹ اتارنے لگا تو اس نے خوف سے آنکھیں میچی ۔۔۔۔۔ کک۔۔کیا کر رہے تت تم۔۔۔۔۔۔بند آنکھوں سے ہی ہکلا کر پوچھنے لگی۔۔۔۔۔ ضبط سے اسکے لال گلنار چہرے کو مسکرا کر دیکھا اور وارڈروب سے اپنا دوسرا شرٹ نکال کر پہنے لگا۔۔۔۔

حورم نے دائیں آنکھ کو ہلکا سا واہ کیا تو اسے شرٹ پہنتے دیکھ کر جھٹ سے آنکھیں کھول دی۔۔۔۔

بدتمیز۔۔۔۔۔ جان ہی نکال دی۔۔۔۔ وہ گڑبڑا گئی۔۔۔۔۔

وہ اس کے قریب واپس آکر ٹھوڑی کے نیچے انگلی رکھ کر اسکا سر اوپر اٹھایا تو اس نے سختی سے ہونٹ بھینچے۔۔۔۔گال تپ اٹھے۔۔۔اور اسکے شرٹ کو سختی سے مٹھیوں میں دبوچا۔۔۔

بس اتنی سی میں جان جانے لگی ۔۔۔۔ابھی تو میں نے کچھ کیا بھی نہیں۔۔۔۔۔ پھر مزید تنگ کرنے کا ارادہ ترک کرکے شرافت کا لبادہ اوڑھ کر اسکے پیشانی پر بوسہ دیا اور سینے میں بھینچ لیا ۔۔۔۔

آپ کے جسم سے کوئی سروکار نہیں صرف روح تک رسائی حاصل کرنا چاہتا ہوں۔۔۔۔۔ آپکے خوشبو میں بھیگنا چاہتا ہوں ۔۔۔۔۔ بھاری سانسوں کے ساتھ اس سے دو قدم پیچھے ہوا۔۔۔۔

سمارٹنس کے چکر میں سوکھی تیلی بن گئی ہو ۔۔۔۔ کچھ کھایا پیا کرو۔۔۔۔ اس کے گال کو سہلا کر وہ چلا گیا۔۔۔۔۔۔

تو کیا موٹی گائے بن جاؤ۔۔۔۔ باہر نکلتے اسکی بڑبراہٹ وہ واضح سن چکا تھا۔۔۔۔۔

بالوں کا رف سا جوڑا بنا کر سکارف اوڑھ کر وہ باہر نکلی۔۔۔۔

ارے باجی کیا ہوا آپ اتنی بلس کیوں کر رہی ہے۔۔۔ نورین نے جلدی سے اسکے ماتھے پر ہاتھ رکھ کر ٹمپریچر چیک کرنا چاہا۔۔۔۔ وہ معصوم اس کے خوبصورت چہرے پر چھائی شرم و حیا کے پھیلتے رنگوں سے ناواقف تھی۔۔۔۔

اس نے گھبرا کر اس کا ہاتھ نرمی سے اپنے ہاتھ میں لیکر دبایا۔۔۔۔نورین بلس نہیں ہوتا بلش ہوتا ہے۔۔۔۔اور مجھے کچھ نہیں ہوا۔۔۔ بال ڈرائی کر رہی تھی تو گرمائش کی اس وجہ سے ہوا ہوگا۔۔۔ تم جلدی جلدی ہاتھ چلاو۔۔۔۔۔

کیا کیا تو نے کمینے۔۔۔۔۔۔کیوں بلش کر رہی تھی۔۔۔۔ شارق نے کھوجتی نگاہوں سے دیکھا تو اس نے ایک بار پھر گلہ پھاڑ قہقہ لگایا۔۔۔۔۔ کچن میں کھڑی حورم کے ہاتھ سے گلاس چھوٹ کر فرش پر گرا اور وہ بے بسی سے ٹوٹی گلاس کی طرف دیکھنے لگی ۔۔۔۔۔۔

تم تو ایسے پوچھ رہے ہو جیسے مجھے جانتے نہیں اور شرافت کی توقع کر رہے تھے۔۔۔۔ عائش نے آنکھ دبا کر شرارت سے ٹانٹ کیا۔۔۔۔۔

دیکھ لیا ۔۔۔۔ ریزلٹ بھی سامنے ہے۔۔۔۔ ابھی تک حواسوں میں نہیں ہے۔۔۔ فلحال تو صرف گلاس ٹوٹا۔۔۔ پتہ نہیں اور کیا کیا ٹوٹنے والا ہے۔۔۔۔عائش نے تاسف سے سر ہلایا۔۔۔۔

اور کیا کیا تو پتہ نہیں اگر تم نے اب کچھ بک بک کیا تو تمہاری ہڈیاں تڑواسکتا ہوں۔۔۔ عائش نے حورم کو کچن سے باہر نکلتے دیکھ کر اسے کچھ بولنے سے باز رکھا۔۔۔۔۔ کیونکہ وہ الریڈی تپی ہوئی تھی۔۔۔۔

کاٹو تم دونوں یہ ۔۔۔ سلاد کا ٹوکرا ٹیبل پر پٹخ کر اپنی انگلی پر دباؤ ڈال کر خون روکنے کی کوشش کرنے لگی۔۔۔۔ جو کانچ اٹھاتے وقت زخمی ہوگئی تھی ۔۔۔۔

ہم کیوں کاٹے۔۔۔۔ شارق صوفے پر پھیل کر بیٹھ گیا۔۔۔۔

تمہارا تو باپ بھی کاٹے گا۔۔۔۔ عایش نے نائف اس کو پکڑوادیا ۔۔۔۔ اور آپ جاکر انگلی پر سنی پلاسٹ لگائیں۔۔۔ میں لگالیتا مگر۔۔۔۔۔۔

نن۔۔ نہیں تم تو رہنے دو۔۔۔۔ حورم نے سرد غصیلی نظروں سے اسے دیکھا۔۔۔۔ابھی تو اسکے بے باک جسارتیں حواسوں پر قابض تھی۔۔۔۔۔

شارق پٹخ پٹخ کر سلاد کاٹنے لگا ۔۔۔۔ اور تیز تند نظریں گاہے بگاہے عائش پر بھی ڈالتا۔۔۔جو اسکی حالت سے لطف اندوز ہوکر ٹانگیں پھیلاکر بیٹھا تھا۔۔۔

باقی تم کاٹو۔۔۔ نوکر نہیں تم سب کا۔۔۔۔ چھری ٹیبل پر پٹخ کر جیب سے ببل نکال کر منہ میں ڈالا اور تیز تیز چبانے لگا۔۔۔۔۔

ڈور بیل پر شارق اٹھا ۔۔۔۔ ارمغان کا لوکیشن گھر کے قریب شو ہو رہا تھا۔۔۔۔ وہ پہنچ گیا تھا ۔۔۔۔

بھائی۔۔۔۔ ارمغان سے گلے لگ گیا۔۔۔۔ ارمغان نے اسکے سر پر بوسہ دیا۔۔۔۔ بھائی کی جان۔۔۔ کیسا ہے ۔۔۔

الحمدللہ ۔۔۔۔

کیسی ہو حبا۔۔۔۔ حبا کو ساتھ لگایا۔۔۔۔

ٹھیک ہوں۔۔۔۔۔

اہہاں میرا ببر شیر ۔۔۔۔میرا شہزادہ۔۔۔۔ عائش کو دیکھ کر ارمغان کی آنکھوں میں ڈھیر سارا پیار امڈ آیا ۔۔۔۔۔۔

اسلام وعلیکم بھائی۔۔۔۔

وعلیکم السلام ۔۔۔۔۔ بھائی کے گلے لگ جا۔۔۔۔۔ سینے میں بھینچ کر اس کو پیار کرنے لگا۔۔۔۔

بھائی آپکے پہلو میں آپ کی بیوی کھڑی ہوکر دیکھ رہی ہے اور پیچھے میری بیوی۔۔۔۔۔ ارمغان کے کان میں سرگوشی کی۔۔۔۔۔ تو وہ قہقہ لگا کر الگ ہوا۔۔۔۔ میری بیوی تو جانتی ہے تمہارے لئے میری فیلنگز کے متعلق۔۔۔۔ البتہ تمہاری بیوی کو بتانا پڑے گا۔۔۔۔۔

حورم کو گلے لگاتے اس نے معنی خیز لہجے میں کہا تو وہ جھینپ گئی۔۔۔۔

کیوں حورم کیا میں اپنے بھائی پلس سالے کو پیار کر سکتا ہوں۔۔۔۔۔۔ ہمارے ساتھ واقعی نا انصافی ہو رہی ہے ۔۔۔ بچپن سے ہی عائش کی زندگی کی ڈور تم نے تھامی تھی اور اب قسمت کی ستم ظریفی دیکھئے کہ تمہاری زندگی پر عائش کے نام کی مہر لگا دی گئی۔۔۔۔ بچپن تو ہمارا حق تم زبردستی چھین لیتی مگر اب ہم اپنا حصہ وصول کرتے ہی رہیں گے ۔۔۔۔

میری طرف سے اب کوئی روک ٹوک نہیں بھائی۔۔۔۔ حورم نے کہہ کر حبا کو گلے لگایا ۔۔۔۔

اسکا سامان شارق نے اپنے روم میں رکھ دیا۔۔۔

ناانصافی تو میرے ساتھ ہو رہی ہے بھائی ۔۔۔ اپنے کمرے سے دربدر ہوں۔۔۔۔

کیا مطلب۔۔۔ ارمغان نے ترچھی نظر سے اسے دیکھا۔۔۔۔

فضول بھونکنے کی عادت ہے اسے آپ چھوڑیں۔۔۔ جائے فریش ہوکر آجائے تو پھر لنچ کرتے ہیں۔۔۔عایش نے اسے کڑے تیوروں سے دیکھ کر ارمغان کو روم میں بھیج دیا۔۔۔۔۔

یہ فضول بھونک رہا تھا میں آج رات پتہ چل جائے گا جب میرے ساتھ تو بھی ہال میں سونے لگے گا۔۔۔۔شارق دبے بھینچے ہوئے لہجے میں اسے کہنے لگا۔۔۔۔

لوگ زیادہ تھے تو حورم نے ہال میں دسترخوان لگایا ۔۔۔۔ اور نورین کی مدد سے کھانا لگا دیا۔۔۔۔

حبا اور ارمغان فریش ہوکر باہر نکلے تو حورم کیساتھ دوسری لڑکی کو کام کرتے دیکھا۔۔۔۔

اسلام وعلیکم ۔۔۔ نورین نے مہمانوں کو دیکھ کر سلام میں پہل کی۔۔۔۔

وعلیکم السلام بیٹا۔۔۔۔ حورم یہ پیاری بچی کون ہے۔۔۔۔ ارمغان جان گیا تھا اسلئے اسے احساس کمتری فیل نا کروانے کے لئے طرز تحاطب نرم رکھا۔۔۔۔۔

بھائی یہ نورین ہے میری چھوٹی سی دوست ۔۔۔ میں اکیلی زیادہ کام نہیں کرتی تو یہ میرا ہاتھ بٹاتی ہے۔۔۔۔ حورم نے نورین کے گرد حصار باندھ کر اسکا تعارف کروایا۔۔۔۔ نورین کو تو یقین ہی نہیں ہورہا تھا کہ یہ لوگ اسے اتنے عزت سے متعارف کراوارہے ہیں۔۔۔۔ وہ تو اپنے لئے ہمیشہ کام والی اور ملازمہ جیسے الفاظ سنتی آئی تھی۔۔۔۔ مگر ایسے مخلص لوگ بھی ہوتے ہیں جو کمتر نہیں سمجھتے۔۔۔۔۔۔اور پھر سب کے ساتھ ہی اس نے لنچ کیا۔۔۔۔ سب باری باری اسے کچھ نا کچھ پیش کر رہے تھے جیسے وہ کوئی خاص مہمان ہو۔۔۔۔

بھائی آپکی شادی کب ہوئی تھی۔۔۔۔سب کی دیکھا دیکھی نورین نے بھی ارمغان کو بھائی کہہ کر محاطب کیا۔۔۔اس کے پہلو میں بیٹھی سندر سی لڑکی اسے بہت پسند ائی۔۔۔۔

ایک سال سے اوپر کا ٹائم ہوگیا ۔۔۔۔ کیوں ۔۔۔۔

اور بچے وچے نہیں ہے کیا۔۔۔۔ میری بہن کو تو سال بعد ایک بیٹا ہوا تھا۔۔۔۔۔

نورین کی بات سن کر سب نے مشترکہ قہقہ لگایا۔۔۔۔

بیٹا تمہاری یہ بھابھی خود ابھی بچی ہے نا۔۔۔۔ ارمغان نے پیار سے اس کے سر پر ہاتھ رکھ کر کہا۔۔۔۔

لو جی یہ کیا بات ہوئی۔۔۔ میری بہن کی تو چودہ سال عمر میں شادی کروادی گئی تھی۔۔۔اسکو کوئی کام وام بھی نہیں آتا تھا اس کا شوہر اور ساس بہت مارتے تھیں اسے۔۔۔ میری بھی کروانا چاہتے تھے جب میں تیرا سال کی تھی مگر اللہ بھلا کرے بڑے صاحب جی کا اس نے مجھے بچا لیا۔۔۔۔ نورین نے گویا سب کے سروں پر بم پھوڑ دیا۔۔۔۔

یا اللّٰہ ۔۔۔۔مگر میری تو ساس نہیں ہے ۔۔ حبا کو تو سن کر جھرجھری آنے لگی۔۔۔۔۔

بلکل۔۔۔ حبا کی تو کوئی ساس نہیں۔۔۔ اس کی ایک موم ہے اور ایک پیاری سی مما جو حبا پر جان چھڑکتی ہے ۔۔۔۔ ارمغان جانتا تھا کہ حبا ان چیزوں سے انجان ہے۔۔۔ یہ ساس سسر کے قصے۔۔۔

چلو نورین ہم کافی بناتے ہیں بھائی کے لئے ۔۔۔ حورم نے حبا کا زرد رنگ اور کپکپاتے ہاتھوں کو دیکھ کر کہا اور برتن سمیٹ لئے۔۔۔۔

حبا ارمغان کے قریب کھسک کر بیٹھ گئی۔۔۔۔ابھی تک وہ نورین کی کہی گئی باتوں کے زیر اثر تھی۔۔۔۔سب کے ہونٹوں پر دبی دبی مسکراہٹ تھی۔۔۔۔

بھائی ارام سے کہی گود میں چڑھ کر نا بیٹھ جائے۔۔۔ شارق نے حبا کو ارمغان کے ساتھ چپک کر بیٹھتے دیکھا تو ذبان میں کجھلی ہونے لگی ۔۔۔۔

آپکو کیسے پتہ کہ میں ان کی گود میں بیٹھتی ہوں ۔۔۔۔ حبا کے معصومیت سے جواب دینے پر سب کے فلک شگاف قہقہے گھونجنے لگے۔۔۔ ہنسی سے لوٹ پھوٹ ہونے لگے۔۔۔ ارمغان نے ہاتھوں میں سر گرا دیا ۔۔۔۔۔ اور حبا ناسمجھی سے برے منہ بنانے لگی ۔۔۔۔۔

کافی ترس آرہا ہے آپ پر بھائی کیسے جھیل رہے ہیں آپ۔۔۔۔ہم ابھی آتے ہیں بھائی۔۔۔ عایش نے شارق کا ہاتھ پکڑ کر باہر کی راہ لی۔۔۔۔ جبکہ حورم کا چہرہ مارے حجالت کے سرخ قندھار ہوگیا اور کچن کا رخ کیا۔۔۔۔۔۔

اب میں نے کیا کیا؟؟؟؟ حبا روہانسی ہوکر ارمغان کے جھکے سر کو دیکھ کر بولی ۔۔۔۔۔

لگتا ہے تمہیں سمجھانے کا وقت آچکا ہے۔۔۔ ارمغان نے جھٹکے سے اسے کھنیچ کر اپنے گود میں بٹھا لیا۔۔۔۔۔

کک کیا مطلب۔۔۔۔۔

کچھ نہیں۔۔۔ رات کو فرصت میں بتا دوں گا۔۔۔۔ اب چلو تیار کو جاؤ سب کے ساتھ باہر جانا ہے۔۔۔۔۔ اور اسکے گال پر کس کرکے اسے نیچے اتار دیا۔۔۔۔

^^^^^^^^^^^^^^^^^^

رات دیر تک وہ لوگ باہر تھے۔۔۔۔ ڈنر بھی باہر کیا۔۔۔۔ تھکے ہارے واپس آئے تو باہر ہال میں بیٹھ گئے۔۔۔۔۔ عائش ارمغان کی گود میں سر رکھ کر لیٹ گیا۔۔۔۔

عایز کو تم لوگوں نے انفارم نہیں کیا۔۔۔ ارمغان نے عایش کے بالوں میں انگلیاں چلاتے پوچھا۔۔۔۔

کیا تھا۔۔۔ چھٹی نہیں ملی ۔۔۔ کل اجائے گا ۔۔۔۔ عائش اسکے مہربان لمس کو محسوس کرکے آنکھیں موندھ گیا۔۔۔۔۔

چلو بھئی اٹھو اب۔۔۔ باقی تھکن حورم اتار دے گی۔۔۔۔ ارمغان نے عایش کا سر اپنی گود سے اٹھا کر کہا۔۔۔۔

جی نہیں۔۔۔ ہم آج ساتھ میں سوئیں گے ۔۔۔ حبا حورم کے ساتھ سو جائے گی۔۔۔۔میں جا کر حبا سے بول کر آتا ہوں۔۔۔ اسکے کچھ کہنے سے قبل ہی عائش اٹھ کر حورم کے کمرے میں داخل ہوا۔۔۔۔

حبا تم حورم کے ساتھ سو جاؤ آج۔۔۔۔

کیوں ۔۔۔۔ آپی کیساتھ سے ٹشنگ ٹشنگ تو نہیں ہوئی۔۔۔۔۔

نہیں۔۔۔۔میں سورہا ہوں آج رات اپنے بھائی کے ساتھ۔۔۔۔ اتنے ٹائم بعد ملا ہوں۔۔۔۔تم ان کی بہن کے ساتھ سو جاؤ۔۔۔۔

ہر گز نہیں۔۔۔۔۔ مجھے انکے بغیر نیند نہیں آتی ۔۔۔۔ میں تو اپنے گھر جاتی ہوں تو بھی رات کو واپس آجاتی ہوں۔۔۔۔

یا اللہ میں تو پاگل ہو جاؤں گا ۔۔۔ عایش سر جھٹک کر نکل گیا۔۔۔۔۔

مجھے نہیں سونا بھائی آپکے ساتھ۔۔۔۔۔ اور آپکے پیشنس کو ہزار توپوں کی سلامی۔۔۔۔ آگر مزید ایک منٹ بھی اپنی بیگم کو اکیلا چھوڑ دیا تو عزت کا فالودہ بنا دے گی۔۔۔۔ جاکر لے آئیں اسے۔۔۔۔عایش سیدھا ارمغان کے روم میں جاکر معذرت طلب کی۔۔۔۔

ہاہاہاہاہاہاہا پھر کیا گل کھلائے میری معصوم چیونٹی نے۔۔۔۔۔۔ ارمغان جو فریش ہوکر سلیپنگ سوٹ پہن کر عایش کے آنے کا ویٹ کر رہا تھا اسکی بات سن کر ہنسنے لگا۔۔۔۔۔

ویسے ایک بات تو بتائیں مجھے۔۔۔ عایش اس کے قریب جا کر بیٹھ گیا۔۔۔ اور رازداری کے ساتھ بولا۔۔۔

کونسی بات۔۔۔۔۔۔

مجھے ایسا کیوں لگ رہا ہے کہ اس کی ان بچکانہ حرکتوں کے پیچھے آپ ہی کا ہاتھ ہے ۔۔۔۔ آپ ہی اسے بڑا ہونے نہیں دے رہے۔۔۔۔۔ ابھی تک تو اسے سمجھ جانا چاہیئے نا کہ کونسی بات کب اور کہاں کرنی ہے۔۔۔۔۔ اسکو پریکٹیکل لائف میں لاؤ یار۔۔۔ میری مما اور موم کو پوتا پوتی دے دو۔۔۔۔

مجھے تم سے عشق ویسے تو نہیں ہوا ہے میری جگر ۔۔۔۔ وہ جو ساکت سا عائش کو سن رہا تھا اچانک سے اسے خود سے لگایا۔۔۔۔

کیوں ہوا ۔۔۔۔

کچھ نہیں ۔۔۔۔ اور میں متفق ہوں تمہاری باتوں سے میں نے ڈیل دی تھی اسے بچی سمجھ کر۔۔۔۔ سدھار دوں گا۔۔۔۔ اب تم جاؤ اسے بھیج دو۔۔۔۔۔

عائش نے اس کے ہاتھ کی پشت پر عقیدت بھرا بوسہ دیا۔۔۔۔ اور چلا گیا۔۔۔۔۔

^^^^^^^^^^^^^^^^^^^

شارق میرے بھائی میرے دوست۔۔۔۔ مان جاؤ نا۔۔۔۔

یہ دیسی مکھن مجھے مت لگا۔۔۔۔ اسکا بھائی موجود ہے یہاں جو اس کے ساتھ ساتھ تم سے بھی بے انتہا پیار کرتا ہے۔۔۔۔ کیا سوچے گا وہ کہ اسکی نازو پلی بہن کو زبردستی تمہارے سر پر مسلط کیا گیا ہے۔۔۔۔ بیشک اندر جاکر نیچے فلور پر سو جاؤ مگر یہاں باہر نہیں سونے دوں گا۔۔۔۔۔ مجھے سونا ہے۔۔۔۔ شارق نے سر تک چادر اوڑھ لیا۔۔۔۔۔

لعنت ہو تم جیسے بےغیرت دوست پر جو بجائے ساتھ دینے کے دھتکارے۔۔۔۔ عائش نے ایک کاٹ دار نظر اسکے وجود پر ڈالا اور اٹھ گیا ۔۔۔۔

^^^^^^^^^^^^^^^^^^^