Anokhi Muhabbat Season 2 By Rimsha Khan Readelle50283

Anokhi Muhabbat Season 2 By Rimsha Khan Readelle50283 Last updated: 6 October 2025

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Anokhi Muhabbat Season 2

By Rimsha Khan

تو رو کیوں رہی ہوں۔۔۔ ہم کونسا یہاں تم پر مظالم ڈھا رہے ہیں ۔۔۔۔ اور تم پر کوئی روک ٹوک نہیں ۔۔۔۔ جو من میں آئیں کرو۔۔۔۔۔ارمغان تو بس صرف اسکو اپنے نام کروانا چاہتا تھا شادی اتنی جلدی کرنے کے حق میں وہ بھی نہیں تھا۔۔۔۔ اسے احساس تھا حبا کا بچپنا سب کے سامنے تھا۔۔۔۔
تو پھر آپ میرے لئے دوسرا روم سیٹ کروادے نا۔۔۔۔ میں یہاں آپکے ساتھ کمفرٹیںبل نہیں ہوں۔۔۔۔ کل رات بھی مجھے صوفے پر نیند نہیں آرہی تھی۔۔۔۔
تو کس نے بولا تھا وہاں سونے کو۔۔۔۔ یہ اتنا بڑا بیڈ جو ہے۔۔۔ارمغان کو اس کی بیوقوفی پر غصہ آیا۔۔۔۔
م۔م۔میں آپکے ساتھ ۔۔۔۔۔ شرم و حیا سے اس کی پلکیں لرزی۔۔۔سر جھکا کر بات ادھوری چھوڑ دی۔۔۔۔
حبا میں نے کل رات کو بولا تھا نا میں تمہیں سپیس دے رہا ہوں۔۔۔۔ تو پھر یہ جھجھک کیوں۔۔۔۔
م۔م۔میں حورم آپی کے ساتھ سو جاؤں گی۔۔۔۔ حبا بضد تھی۔۔۔۔۔
یہ غلط ہے حبا ۔۔۔۔۔ سب کی نظروں میں آکر ہمارے درمیان موجود رشتے کو بے مول کردو گی تم۔۔۔۔۔
وہ ہونٹ بھینچے بیٹھی تھی۔۔۔۔ اس کے قریب آکر اس نے حبا کے دونوں ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لیے ۔۔۔۔۔
میں بہت پیار کرتا ہوں تم سے۔۔۔۔ اور میرے لئے اتنا ہی کافی ہے کہ تم اس وقت میرے روم میں میری بیوی کی حیثیت سے میرے ساتھ ہو۔۔۔ تمہاری رضامندی کے بغیر میں تمہیں ہاتھ بھی نہیں لگاؤں گا۔۔۔۔ مگر میں یہ نہیں چاہتا کہ ہم اپنے رشتے کا اشتہار لگوائیں اور مجھے ہر ایک کو وضاحتیں دینی پڑے۔۔۔۔ میری بیوی ہوکر دوسرے کمرے میں رہ کر کیا ثابت کرنا چاہتی ہو تم کہ میں تمہارے ساتھ زبردستی کر رہا ہوں۔۔۔۔؟؟؟ وہ بہت تحمل سے اسے سمجھانے کی کوشش کر رہا تھا۔۔۔
ن۔نن۔نہیں۔۔۔۔۔ اس نے نفی میں سر ہلایا ۔۔۔۔۔
تو پھر یہ پھیلاوا سمیٹو سو جاو۔۔۔ میں کل سے خود تمہیں کالج ڈراپ کرکے پھر آفس چلا جاؤں گا۔۔۔۔ وہ بچوں کی طرح اسے ٹریٹ کر رہا تھا۔۔۔۔یہ سب کچھ اتنا آسان بھی نہیں تھا جتنا وہ سوچ رہا تھا۔۔۔۔۔
اس نے بکس اٹھا کر ٹیبل پر رکھ دی۔۔۔۔ خود جاکر کپڑے چینج کرکے بیڈ کے دوسرے طرف جاکر لیٹ گئی۔۔۔۔ تو ارمغان نے لائٹ آف کردی۔۔۔۔۔
سنیں۔۔۔۔ وہ جو رح موڑ کر اپنی جگہ لیٹ گیا حبا نے پکارا۔۔۔۔
ہممممم۔۔۔
و۔وہ میں نیند میں لاتیں مارتی ہوں ہاتھ پیر چلاتی ہوں۔۔۔ وہ جو رخ اسکی جانب کرکے اسے دیکھنے لگا تھا نائٹ بلب کی روشنی میں اس کے معصوم چہرے پر چھائی تشویش نوٹ کرگیا۔۔۔۔۔
تو؟؟؟ ارمغان نے بھنویں اچکائی۔۔۔۔
اس نے گڑبڑا کر نظر اٹھائی ۔۔۔۔۔ آپ کی نیند ڈسٹرب ہوگی نا اور اگر زور سے لات ماری تو آپکو لگ بھی سکتی ہے۔۔۔۔ ایزل آپی نے بچپن سے ہی میرے ساتھ سونا چھوڑ دیا تھا کہ میں نیند میں اس کو ہرٹ کرتی ہوں۔۔۔۔ آج تو وہ معصومیت کے سارے ریکارڈ توڑنے کا اردہ کر چکی تھی۔۔۔۔۔
کچھ نہیں ہوتا۔۔۔اور اتنے چھوٹے سے پیروں سے کتنا ہرٹ کروگی ۔۔۔۔ میں تمہاری ایزل آپی کی طرح نازک اندام نہیں ہوں۔۔۔۔ سو جاؤ۔۔۔۔