Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Anokhi Muhabbat Season 2 (Episode 23)

Anokhi Muhabbat Season 2 By Rimsha Khan

اریشہ ایان بھائی اور ایزل آئے ہیں جلدی چلو نیچے۔۔۔۔ وہ شارق کیساتھ ویڈیو کال پر بات کر رہی تھی کہ حبا دوڑتی ہوئی آئی۔۔۔۔

کال بند کرکے وہ عجلت میں نیچے آئی تو ادینہ کے ساتھ بیٹھے ایان کو دیکھ کر اسکے قدم لڑکھڑائے ۔۔۔۔ اس نے صرف اپنے باپ کو فوٹوز میں دیکھا تھا۔۔۔ مگر سامنے بیٹھے اپنے بڑے بھائی کو دیکھا جو اسکی باپ کی فوٹو کاپی تھا۔۔۔۔ اسکی آنکھیں دھندلائی۔۔۔۔

بھائی۔۔۔۔۔ ہولے ہولے قدم اٹھاتی وہ ایان کے سامنے آ رکی۔۔۔ ایان جو ادینہ سے محو گفتگو تھا اسکی پکار پر تڑپ اٹھا ۔۔۔

ایان نے اسے ہنوز خاموشی سے کھڑا دیکھا تو اسکے لئے کھڑا ہوگیا اور اسے سینے سے لگایا۔۔۔

کیسا ہے میرا بچا ۔۔۔۔ اسکے سر پر بوسہ دیکر ایان نے پوچھا۔۔۔۔

آپ بلکل ڈیڈ کی طرح دکھ رہے تھے۔۔۔ اسکے چہرہ پر ہاتھ پھیر کر اریشہ کی آنکھوں سے آنسوں کی لڑیاں بہنے لگی۔۔۔۔۔

اس کے ساتھ ساتھ ادینہ بھی رونے لگی۔۔۔۔۔ایان اپنے باپ سے کافی مشابہت رکھتا تھا ۔۔۔۔ جبکہ ابیان نے نین نقش شازمہ سے چرائے تھے۔۔۔۔

ایان نے اپنے چہرے سے اسکا ہاتھ ہٹا کر ہونٹوں سے لگایا۔۔۔۔

آئی ایم سوری میرا بچا ۔۔۔۔ اگر میرے علم میں ہوتا کہ ہماری ایک بہن بھی ہے میں کب کا تمہیں اپنے پاس بلا لیتا۔۔۔۔ شائد تب تک حالات اتنے کشیدہ نہ ہوتے۔۔۔۔

ہال میں موجود تمام لوگوں کی آنکھیں نم تھیں ۔۔۔

یہ تمہاری بھابھی ہے۔۔۔۔۔۔۔ایان نے پاس کھڑی ایزل کی طرف اشارہ کیا وہ بھی بہت چاہت سے ملی۔۔۔۔

بھائی میں نے آپ لوگوں کے ساتھ رہنا ہے۔۔۔ اپنے گھر میں۔۔۔ پلیز۔۔۔ پھپھو بہت اچھی ہے ۔۔۔ مگر مجھے موم کے پاس آپ لوگوں کے پاس رہنا ہے۔۔۔

وہ بالکل بچوں کی طرح ضد کر رہی تھی۔۔۔۔

ایان تم اسے لے جاؤں گھر۔۔۔ سمجھدار بچی ہے یہ بھابھی کو منا لے گی۔۔۔ مجھے تو کبھی بھائی کا پیار نصیب نہیں ہو۔۔۔مگر اریشہ کو آپ دونوں نے سگے بھائیوں سے بڑھ کر مان دینا ہے۔۔۔ اسکا سایہ بننا ہے۔۔۔۔ ادینہ کو احساس تھا اریشہ کو پہلی بار فیملی ملی تھی۔۔۔۔۔ جب سے آئی تھی اپنے گھر جانے کی رٹ لگا رکھی تھی۔۔۔۔

پھپھو آپ جانتی ہے نا موم کو۔۔۔ انکی کنڈیشن کا پتہ ہے ۔۔۔۔۔ اگر غصے میں اریشہ کو کچھ الٹا سیدھا بول دیا اسے ہرٹ کیا تو اسکا دفاع کرنے ہم سامنے آئیں گے جو یقیناً موم کو برا لگے گا ۔۔ ایان نے دلیل پیش کی۔۔۔۔

بھائی موم مجھے ڈانٹے مارے میں ماینڈ نہیں کروں گی۔۔۔ میں سب کچھ خوشی خوشی سہہ لوں گی۔۔۔ انکے پیر پڑوں گی۔۔۔ مگر مجھے لے چلے پلیز۔۔۔۔ اریشہ بچپن سے رشتوں کے لئے ترسی تھی۔۔۔ اب جب مل گئے تو وہ اسے اپنانے تھے ۔۔۔

ٹھیک ہے۔۔۔ تم جاکر اپنا سامان پیک کرکے آجاؤ۔۔۔۔ایان اسے ساتھ لے جانے پر آمادہ ہوگیا ۔۔۔۔

آئی لو یو بھائی۔۔۔ اس کی آنکھوں کی چمک بڑھ گئی ۔۔۔ایان کے گال کو کس کرکے وہ ڈورتی ہوئی گئی اور بیگ میں سامان ٹھونسنے لگی۔۔۔ خوشی اس کے انگ انگ سے چھلک رہی تھی۔۔۔

چلے بھائی۔۔۔۔ کچھ منٹوں بعد وہ دوبارہ نیچے موجود تھی۔۔۔۔

پھپھو میں آوں گی ۔۔۔۔۔ ابھی مجھے موم کو منانا ہے۔۔۔ آپ بہت اچھی ہے۔۔۔۔میرے لئے دعا کرے۔۔۔ ادینہ کے گلے لگ کر وہ بولی۔۔۔۔

ٹھیک ہے بیٹا۔۔۔۔ ضرور۔۔۔ بھابھی دل کی بہت اچھی ہے بس تھوڑی سی ناراض ہے۔۔۔۔ اگر کچھ بول بھی دے تو دل پر مت لینا ۔۔۔۔

جی پھپھو ۔۔۔۔۔۔

سب سے اجازت لیکر وہ ایان کے ساتھ گاڑی میں بیٹھ گئی۔۔۔۔

گاڑی گھر کے پورچ میں رکی تو ایزل دل ہی دل میں اریشہ کے لئے دعاگو تھی۔۔۔۔ یہ کٹھن مرحلہ اس نے طے کرنا تھا ۔۔۔۔

ایان نے اسے ایزل کو اسکا روم دکھانے

بھیج دیا۔۔۔ فی لحال موم سے نہیں مل سکتی وہ۔۔۔ کیونکہ یہ موم کی آرام کا وقت تھا ۔۔۔۔

^^^^^^^^^^^^^^

بھابھی۔۔۔ بھابھی۔۔۔کہاں ہو۔۔۔ارے آپ یہاں ہے۔۔۔۔۔جلدی بتائیں آپ ۔۔۔ جو میں نے سنا سچ ہے کیا۔۔۔۔ عایز کافی دنوں بعد آیا تھا اور عائش کا سارا غصہ بالائے طاق رکھ کر حورم کے گلے لگا تھا۔۔۔۔

کیا سنا تم نے۔۔۔۔حورم اور نورین کچن میں ڈنر کی تیاری کرنے میں مصروف تھی۔۔۔کہ عائش کی بے ساختگی پر اس نے گڑبڑا کر کچن کے سامنے ہال کے وسط میں رکھے گئے صوفے کی طرف دیکھا جہان عائش اور شارق براجمان تھے۔۔۔ وہ لوگ بھی ابھی تھوڑی دیر پہلے یونیورسٹی سے آئے تھے ۔۔۔ عائش کی نظریں خود پر گاڑتے دیکھ وہ جزبز ہوگئی مگر چہرے پر کسی قسم کی ناگواری کا شائبہ تک نہیں تھا ۔۔۔ تو اس نے بھی عائز کے گرد بازوؤ حائل کئے ۔۔۔

یہی کہ آپ کی شادی ہوگی ۔۔۔۔ آپ دلہن بنے گی۔۔۔۔ عائز کی خوشی دیدنی تھی۔۔۔۔

ہےےےے۔۔۔ باجی کیا آپ کی شادی نہیں ہوئی ہے۔۔۔ تو باہر جو صاب بیٹھے ہیں۔۔۔ یہ کون ہے۔۔؟؟۔۔ نورین آنکھوں میں ڈھیر سارا تخیر لیکر حورم کو دیکھنے لگی۔۔۔۔

نورین۔۔۔۔ میں تمہاری باجی کا اکلوتا ہسبنڈ ہی ہوں۔۔۔۔ وہ کیا ہے نا۔۔مجھے یہ دلہن کے روپ میں کچھ ذیادہ اچھی لگتی ہے ۔۔۔ تو اب یہ میرے لئے دوبارہ دلہن بنے گی۔۔۔۔۔ کیوں تمہیں اپنی باجی کو دلہن بنتے نہیں دیکھنا۔۔۔۔ اب نورین کے چھوٹے سے دماغ کے لئے اتنا بولنا بھی کافی تھا ۔۔۔۔۔ عائش نے بروقت کچن میں انٹری کرکے حورم کیلئے آسانی پیدا کردی۔۔۔۔جو مضطرب سی کھڑی کوئی سولڈ جواب سوچنے کے لئے سعی کر رہی تھی۔۔۔۔۔

واوووو۔۔۔ پھر تو ہمیں بھی بہت مزہ آئے گا۔۔۔ ہم بھی دیکھیں گے کہ باجی سادہ سادہ دل کو اتنی بھاتی ہے تو میک اپ کرکے تیار ہوکر زیور پہن کر تو اور بھی سندر دکھے گی۔۔۔ویسے کب ہوگی شادی۔۔۔ نورین بھی اکسائیٹڈ تھی۔۔۔۔

ابھی میرے پیپرز ہوں گے ۔۔ تو پورے دو ہفتے بعد۔۔۔ ان شاءاللہ ۔۔۔ عائش نے رسانیت سے جواب دیا ۔۔۔۔ شائد سب کچھ پہلے سے پلان کیا تھا۔۔۔۔ حورم سراسیمگی سی بے ترتیب دھڑکنوں کی ساتھ چولہے پر رکھے گئے پین میں چمچ ہلانے لگی۔۔۔۔

عایش کچن سے نکل کر عائز کے ساتھ ہی بیٹھ گیا۔۔۔۔ عائش کے پاکٹ سے گاڑی کی کیز لیکر وہ کہی چلا گیا۔۔۔۔

کیا تھا یہ ؟؟؟ عائش کے بیٹھتے ہی شارق نے اسے گھور کر دیکھا۔۔۔۔

تمہیں کیا لگا۔۔۔۔ وہ عائش ہی کیا جو سیدھے منہ جواب دے ۔۔۔۔

وہی تو تم سے پوچھ رہا ہوں۔۔۔ یہ عائز اور نورین کو کیا بکواس کرکے آئے ہو۔۔۔ وہ جارحانہ تیور لئے عائش کی جانب بڑھ گیا۔۔۔۔۔

قریب مت آنا اگر ہاتھ پیر سلامت چاہیے ہو تو۔۔شارق کے متحرک ہاتھوں کو دیکھ کر وہ وارن کر گیا۔۔۔۔ اور تو اتنا ہائپر کیوں ہو رہا ہے۔۔۔۔ تمہارے بھائی کی شادی ہے تمہیں تو خوش ہونا چاہیے ۔۔۔بھنگڑے ڈالو ۔۔۔

مطلب تم دو ہفتے پھر سے میرے بیڈ پر قابض رہو گے۔۔۔ مجھے زلیل و خوار کرنے۔۔۔ شارق اپنے دکھڑے سنارہا تھا ۔۔۔۔

ابے چل۔۔۔۔ تمہیں تو میرا احسان مند ہونا چاہیے ۔۔۔ ایک عدد نئی نویلی بیوی کے ہوتے ہوئے بھی تمہاری تنہائی دور کرتا ہوں ۔۔۔ بھلائی کا تو زمانہ ہی نہیں رہا۔۔۔

یہ احسان اگر تم اپنی بیوی پر کرلو گے تو کافی ثواب کما لو گے۔۔۔ کل رات کس طرح پورے بیڈ پر پھیل کر سکون کی نیند سویا تھا میں۔۔۔۔ غصے سے شارق کا چہرہ دھواں دھواں ہو رہا تھا۔۔۔۔

خود کو ہلکان مت کر۔۔۔ میں اپنے روم میں ہی سوؤں گا۔۔۔۔ آج تو عائز آیا ہے۔۔۔ اسکو برداشت کرلو۔۔۔۔

وہ تو معصوم سا بے ضرر بندہ ہے کوئی دقت نہیں ۔۔۔مگر تمہاری جو یہ لوہے کی باڈی ہے نا ایک پیر پڑتا ہے قسم سے کئی کئی دن پورا جسم دکھتا ہے۔۔۔۔ پتہ نہیں تیری معصوم بیوی کیا کرے گی۔۔۔۔ مجھے اس بیچاری سے سمپتی ہو رہی ہے۔۔۔شارق کی گل افشانیاں عروج پر تھی۔۔۔۔

ویسے عائش حورم کے بال واقعی بہت پیارے ہے۔۔ اچانک ہی اپنا دکھ بھلا کر وہ رازداری سے عائش کے کان میں سرگوشی کرنے لگا۔۔۔۔

عائش نے تیکھی چتونوں سے اسے گھورا ۔۔۔۔۔

ماشاءاللہ بولو ۔۔۔۔منحوس کہیں کے۔۔۔۔

میری نظر تو خیر نہیں لگے گی۔۔۔۔ مگر جس طرح تو اسے ترسی نظروں سے دیکھتا ہے نا تو ضرور لگ جائے گی۔۔۔۔ شارق پیچھے ہٹنے والوں میں سے نہیں تھا ۔۔۔۔

مجھے اب پاپا سے بات کرنی ہوگی۔۔۔۔ پرائیویسی نام کی بھی کوئی چیز ہوتی ہے۔۔۔۔ شادی شدہ بندہ ہوں۔۔۔۔۔تم یہاں رہو ہم لوگوں کے لئے دوسرا فلیٹ میں شفٹ ہو جائیں گے۔۔۔۔

واٹ۔۔۔۔ خود غرض انسان۔۔۔ جمعہ جمعہ آٹھ دن نہیں ہوئے بیوی کے آتے ہوئے اور بچپن کے یار کو بھول گیا۔۔۔۔ سوچنا بھی مت کہ مجھے چھوڑ کر تم کہی اور ٹھکانہ بنا لو گے۔۔۔۔ تم جہاں جاؤگے میں سائے کی طرح تمہارے آس پاس رہو گا۔۔۔۔۔

سچ بولنے میں کیا قباحت ہے؟؟؟ عائش نے اس کی بے چینی پر ٹونٹ کیا۔۔۔۔

کونسا سچ۔۔۔۔ شارق نے کھا جانے والی نظروں سے اسے دیکھا۔۔۔۔

یہی کہ تمہیں میرے ساتھ کی عادت ہوگئی ہے۔۔۔۔ عائش نے جلتی پر تیل چھڑک دیا۔۔۔

ہاں ہوگئی ہے۔۔۔۔ میری زندگی میں بابا کے بعد تم ہی تھے جو میرے دوست کم بھائی ذیادہ تھے۔۔۔۔ اگر میرا سگا بھائی بھی ہوتا شائد اس کیساتھ بھی میری دلی انسیت اتنی نہیں ہوتی ۔۔۔۔جتنی تمہارے ساتھ ہے۔۔۔شارق نے اقرار کرلیا۔۔۔۔

مگر میں تو تم سے زیادہ عائز سے پیار کرتا ہوں۔۔۔ عائش اسے مزید سلگا رہا تھا۔۔۔۔

شوق سے کرلو۔۔۔۔ مگر تم جیسے بے لگام گھوڑے کو میرے سوا کوئی سمبھال بھی نہیں سکتا ۔۔۔۔ خوشی ہو یا غمی تمہیں میرے ہی کندھے کی ضرورت ہوتی ہے۔۔۔۔ لاکھ انکار کرلو حقیقت کو جھٹلا نہیں سکتے۔۔۔۔۔

اسلئے تو بتا رہا ہوں۔۔۔ اب نہیں ضرورت۔۔۔۔ کندھا دینے من چاہی بیوی جو آگئی ہے اسلئے تمہیں ٹاٹا بائے بائے ۔۔۔۔۔

پھر سے بولو ۔۔۔۔ شارق نے اسکے گردن کو زور سے دبوچا۔۔۔۔

ہائے اللہ ۔۔۔ شارق کیا کر رہے ہو۔۔۔ چھوڑو اسے۔۔۔۔ حورم کی نظر دونوں پر پڑی جو آپس میں گتھم گتھا ہورہے تھے۔۔۔۔سرعت سے پاس چلی ائی۔۔۔۔۔

کیوں بھری جوانی میں بغیر رخصتی کے بہن کو بیوہ کرنے پر تلے ہوئے ہو۔۔۔ عائش نے کمینگی کی انتہا کردی۔۔۔۔

حورم نے اسکے ہاتھوں سے عایش کی گردن چھڑوائی۔۔۔۔۔

مرو تم زلیل انسان۔۔۔ شارق نے اسکے کندھے پر زوردار پنچ مارا۔۔۔۔

اللہ نا کرے شارق کیا اول فول بک رہے ہو۔۔۔ الفاظ تھے یا تیر جو حورم کے دل کو چیر گئے۔۔۔۔

کیا بچکانہ حرکتیں ہیں ۔۔۔۔ تم دونوں کب بڑے ہونگے۔۔۔۔ یہ دیکھو اسکی گردن کو ۔۔۔ عائش کے سفید گردن پر شارق کی انگلیوں کے نشان واضح تھے۔۔۔۔ حورم خشمگیں نگاہوں سے اسے دیکھ رہی تھی۔۔۔۔

شارق غصیلی نظر عائش پر ڈالکر روم میں چلا گیا۔۔۔۔۔

یار کچھ نہیں ۔۔۔ بس مذاق تھا۔۔۔۔حورم کی سبز آنکھوں میں سرخی نمایاں تھی۔۔۔۔ وہ عائش کے گردن پر انگلی پھیر رہی تھی۔۔۔۔ اور غیر ارادی طور پر اسکے گردن پر بنے نشان کو اپنے نرم اور نازک ہونٹوں سے چھوا۔۔۔۔۔عائش کے دھڑکنوں میں تلاطم برپا ہوگیا۔۔۔۔۔

اتنی پر اثر دوا تو دنیا کے کسی طبیب کے پاس بھی نہیں ملے گی۔۔۔۔ عائش کو اسکی بے اختیاری پر ٹوٹ کر پیار ایا۔۔۔۔

تم دونوں اپنی لڑائی میں مجھے کیوں گھسیٹتے ہو۔۔۔ حورم نے شکوہ کناں نظروں سے اسے دیکھا۔۔۔۔

کیونکہ

اکلوتی وارث ہو تم ۔۔۔۔۔

میرے بےشمار چاہتوں کی

اور اسکو یہ ہضم نہیں ہورہا۔۔۔۔۔

سٹوپڈ ۔۔۔بھائی ہے وہ تمہارا اور میرا بھی۔۔۔۔ وہ کیوں جیلس ہوگا۔۔۔۔ جب تمہارے پاس سہارا دینے کوئی نہیں تھا تو وہ تھا تمہارے پاس۔۔۔ اکیلے سنبھالا ہے تمہیں۔۔۔۔۔ مت چھیڑو اسے۔۔۔۔۔

ہاہاہاہاہاہاہا ۔۔۔۔۔ مزہ آتا ہے اسے چھیڑنے میں۔۔۔۔ حورم کے ناک سے ناک ٹچ کرکے وہ بولا ۔۔۔۔۔۔ پھر اسکے ماتھے پر اپنے لب رکھے تو حورم نے آنکھیں بند کردی۔۔۔ پھر اسکی آنکھوں کو چھوا ۔۔اسکے پور پور کو اپنے لمس سے مہکانے لگا ۔۔۔۔کہ اچانک ایک احساس کے تحت رک گیا۔۔۔۔۔

یہ سمل۔۔۔۔۔ عائش کچن کی طرف دیکھ کر زیرلب بڑبڑایا۔۔۔۔

نوووووو۔۔۔۔۔حورم نے جھٹ سے آنکھیں کھولیں ۔۔۔۔ میری دو گھنٹے کی محنت تم دونوں کی وجہ سے برباد ہوگئی ۔۔۔ حورم نے اسکے بازوؤں کا حصار توڑا اور کچن میں بھاگ کر گئی۔۔۔ جہان ہانڈی جل کر کوئلہ بن چکی تھی۔۔۔۔ پورے کچن میں جلنے کی بو پھیل گئی تھی۔۔۔ شارق بھی عجلت میں باہر ایا۔۔۔۔

کیا ہوا ۔۔۔۔

حورم کی ہاتھ میں جلا ہوا پین دیکھ کر وہ سمجھ گیا۔۔۔۔۔

حورم کی روہانسی شکل دیکھ کر دونوں بلند قہقہے لگانے لگے۔۔۔۔۔

بہت ہنسی آرہی ہے تم دونوں کو ۔۔۔اب بھگتو۔۔۔۔۔ بلکل ایسا کھانا تم لوگ بناؤگے ۔۔۔ میں باہر کا کھانا ہر گز نہیں کھاؤں گی۔۔۔ جلدی سے لگ جاؤ ۔۔۔۔ورنہ دونوں نکل جاؤ میرے گھر سے۔۔۔۔گھر میں رہنا ہے تو انسانوں کیطرح رہو۔۔۔۔ نا تم لوگ لڑتے نا میرا دھیان ہٹتا۔۔۔۔حورم دل کی بھڑاس نکالنے لگی۔۔۔اچھے بھلے کھانے کا ستیا ناس کر دیا گیا تھا۔۔۔۔۔

یہ ہم نے تھوڑی کیا ہے۔۔۔میں تو باہر کا کھانا بھی شوق سے کھا لیتا ہوں۔۔۔۔ شارق تو صدمے میں چلا گیا۔۔۔ کھانا بناتے ہوئے اسکی جان جاتی تھی اور کبھی بنا بھی لیتا تو یکھنے لائق نہیں ہوتا بجا کے کھانے ۔۔۔۔۔

تو پھر باہر جاکر سونا بھی۔۔۔۔ حورم نے فیصلہ سنا یا اور جاکر باہر بیٹھ گئی۔۔۔۔

چلو بھئی ۔۔۔۔ عائش بغیر حیل و حجت کے چولہا جلانے لگا۔۔۔۔۔

یہ حورم تو ایسی سنگ دل نہیں تھی۔۔۔ ہماری نرم دل پیاری سی بہن تھی۔۔۔ یہ اچانک ہٹلر کی روح کیسی گھس گئی ان میں۔۔۔۔یار عائش اب تو خسارے میں ہوگا ۔۔۔۔ شارق پھر سے شروع ہوگیا۔۔۔۔

کیونکہ اب وہ بہن سے بھابھی بن گئی ہے۔۔۔۔ اور اگر یہ خسارا ہے تو بھی ساری عمر نعمت اللہ سمجھ کر قبول کرلوں گا۔۔۔۔عائش نے لقمہ دیا ۔۔۔۔

ہاں تمہاری قربت کا رنگ اب اس پر بھی چڑھنے لگا ہے۔۔۔۔ اور تو اب سے زن مرید بن گیا۔۔۔۔۔

ہاتھ چلا جلدی۔۔۔۔ اگر کھانا انکی پسند کا نہیں بنا تو میرے ہاتھوں شہید ہونے کے لئے تیار رہو۔۔۔ دل لگا کر کھانے پر دھیان دو۔۔۔۔۔ عائش نے چکن فریج سے نکال کر اسے دھونے کا بولا ۔۔۔۔

^^^^^^^^^^^^^^^^^

کیا ضرورت تھی اس لڑکی کو یہاں لانے کی۔۔۔ میری پھپھو الریڈی اتنے بڑے صدمے سے گزر رہی تھی اوپر سے سوتن کی بیٹی بھی نظروں کے سامنے پیش کردی ۔۔۔۔

شام کی چائے پینے سب لان میں بیٹھے تھے۔۔۔۔ مگر کافی دیر ہوگئی اور شازمہ باہر نہیں آئی تو ارسہ جو ایان کی شادی میں آکر یہاں مستقل ٹیکہ لگا کر رہائش پذیر تھی۔۔۔وہ بولنے لگی۔۔۔۔

ارسہ زبان سنبھال کے بات کرو۔۔۔ وہ میری بہن ہے۔۔۔ اگر آئیندہ ہمارے گھر کے معاملے میں ٹانگ اڑانے کی کوشش کی تو ماموں کو کال کرکے تمہارے بارے میں سب کچھ بتا دوں گا۔۔۔۔۔

ابیان نے کڑی تیوروں سے اسے تنبیہ کی۔۔۔۔

اریشہ بھی آکر سب کے ساتھ بیٹھ گئی۔۔۔۔ پہلے ایان کے گال پر کس کیا اور پھر ابیان کے۔۔۔ ارسہ نے تنفر سے پہلو بدلہ۔۔۔ چال باز۔۔۔۔

موم نہیں آئی۔۔۔۔ ایک آس سے وہ باہر آئی تھی کہ اپنی موم سے مل لے گی۔۔۔

میں لیکر آتا ہوں گڑیا۔۔۔ ابیان نے اسکے سر پر بوسہ دیا اور موم کو لانے چلا گیا۔۔۔۔

اریشہ تمہاری چائے۔۔۔ ایزل نے اسے چائے کا کپ پیش کیا۔۔۔

بھابھی میں چائے نہیں پیتی۔۔۔۔ کافی پیتی ہوں ۔۔۔۔ اسے شرمندگی ہوئی۔۔۔۔

کوئی بات نہیں تمہارے بھیا کو بھی کافی پسند ہے ۔۔۔ آج کے بعد تمہارے لیے کافی بناؤں گی۔۔۔

ابیان شازمہ کو سہارا دیکر باہر لانے میں کامیاب ہوگیا تھا۔۔۔۔ اریشہ نے پیچھے مڑ کر بھائی کے ساتھ موم کو دیکھا تو دل پر منوں بوجھ اگرا۔۔۔ بکھرا خلیہ اجڑی حالت۔۔۔ اسے اپنا آپ مجرم لگا ۔۔۔ خود کو اسکی اس حالت کی ذمہ دار سمجھنے لگی۔۔۔۔۔

موم یہ اریشہ۔۔۔۔۔ ہماری بہن۔۔۔ ایان نے دوسری طرف سے اپنی موم کا بازو پکڑ کر اسے سہارا دیا اور پاس کھڑی اریشہ کی طرف اسکی توجہ دلائی۔۔۔۔۔

ارسہ جو بے چینی سے آنے والے طوفان کی منتظر تھی ۔۔۔کہ اس لڑکی کو یہاں دیکھ کر پھپھو آپے سے باہر ہو جائے گی۔۔۔ برا بھلا کہے گی۔۔۔۔مگر اسکے سوچ کے برعکس اپنی پھپھو کو شانت دیکھ کر اسکے نتھنے پھولنے لگے۔۔۔۔

موم۔۔۔۔اریشہ اسکے سینے سے لگی۔۔۔۔ اور ماں کی ٹھنڈی چھاؤں محسوس کرکے گرم مادہ آنکھوں سے بہنے لگا۔۔۔ جو شازمہ کے سینے میں جذب ہو رہا تھا۔۔۔۔۔ ممتا کا احساس اسکے اندر انگڑائی لینے لگا۔۔ مگر خود ہر ضبط کے کڑے پہرے بٹھا کر اسے خود سے دور کردیا۔۔۔۔ اور چئیر پر بیٹھ گئی ۔۔۔۔ اریشہ کا چہرہ کسی بھی قسم کے تاثر سے یکسر حالی تھا۔۔۔۔ اور وہ واپس اسکے پیروں میں زمین پر بیٹھ گئی۔۔۔۔ اور شازمہ کے گھٹنوں پر رکھے اسکے ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لیکر چھوم لئے ۔۔۔۔۔

ایان اور ابیان دونوں نے نظریں چرا لئے ۔۔۔ اریشہ کے لئے ایک آزمائش تھی جس میں اسے پورا اترنا تھا ۔۔۔۔۔

یہ ایزل کیا کم تھی حسن میں جو یہ انگریزن بھی دل جلانے چلی آئی ۔۔۔ ارسہ اسکے شولڈر کٹ گولڈن بالوں کو دیکھ کر تپ رہی تھی۔۔۔۔ اوپر سے بلکل فئیر کلر اور خوبصورت نقوش۔۔۔ اسکے مومی نرم ہاتھوں میں شازمہ کے سخت کھردرے ہاتھ تھے جس کو وہ محبت و عقیدت سے بار بار چوم رہی تھی۔۔۔

مجھے اندر جانا ہے۔۔۔ اریشہ کی من موہنی صورت دیکھ کر وہ پگھل رہی تھی۔۔۔ اور اسکو اپنانے کی ہمت بھی نہیں ہورہی تھی۔۔۔ ابیان اور آیان تو اسی میں خوش تھے کہ اسکی موم نے دھتکارا نہیں اور نا ہی ترش الفاظ استعمال کئے۔۔۔ ان کو یقین تھا وہ بہت جلد مان جائے گی۔۔۔۔۔

میں آپکو لے چلتی ہوں۔۔۔ ایان سے پہلے ہی وہ اٹھ کھڑی ہوئی اور اسے سہارا دیکر اندر کی طرف قدم بڑھائے۔۔۔ اسکو بیڈ پر آرام سے لٹا کر اسکے اوپر بلینکٹ سیٹ کردیا اور اسکو دونوں گالوں پر کس کرکے باہر نکل گئی۔۔۔۔ دروازہ بند کرکے وہ مڑی کہ ابیان کو کھڑا دیکھا اور خوشی سے اسکے گلے لگی۔۔۔۔

نیتیں صاف ہو تو راستے میں درپیش رکاوٹیں معنی نہیں رکھتی ۔۔۔۔ بس منزل تک پہنچنے کی کوشش کرنی چاہیے ۔۔۔۔۔ ابیان کا بس نہیں چل رہا تھا کہ وہ اپنی بہن کو دل کے کسی کونے میں چھپا لے جتنا اس نے سفر کیا ہے مزید اسے کچھ سہنا نا پڑے۔۔۔ پوری دنیا کی خوشیاں اس کی قدموں میں لاکر ڈھیر کردے۔۔۔ اس کے لاڈ اٹھوائے۔۔۔۔ اسکی ہر چھوٹی بڑی فرمائش پوری کرے۔۔۔۔۔ وہ حق جتائے۔۔۔۔۔

تم اور بھابھی کل تیار رہنا میں نے اپنی گڑیا کے لئے ڈھیر ساری شاپنگ کروانی ہے۔۔۔ ابیان نے اسکے سلکی بالوں میں ہاتھ پھیرتے ہوئے ماتھے سے ہٹائے اور وہاں بوسہ دیا۔۔۔۔۔

ہاں میں دل کھول کر شاپنگ کروں گی۔۔۔۔ پتہ ہے بھائی میں جب کوئی چیز لیتی تھی نا تو پہلے قیمت چیک کرتی تھی۔۔۔۔ اگر میری پاکٹ منی سے ذیادہ پرائس ہوتی میں وہ چھوڑ دیتی۔۔۔۔تب مجھے باپ بھائی کی کمی محسوس ہوتی۔۔۔آخر میں اریشہ کی آواز رندھ گئی۔۔۔۔۔

اور اب میری بہن مٹی میں بھی ہاتھ ڈالے گی تو اسکے بھائی اسے سونا بنا دے گی۔۔۔۔ تمہاری ہر خواہش پوری ہوگی۔۔۔۔ ایان نے راہداری سے گزرتے ہوئے اسکی آخری بات سن لی تو دل میں درد کی ٹھیسیں اٹھنے لگی۔۔۔۔۔ اور دونوں بھائیوں نے اسے اپنے حصار میں چھپا لیا۔۔۔۔

^^^^^^^^^^^^^^^^

عائش اور شارق نے کھانا لگایا تو عائز اور حورم کو بلایا۔۔۔

حورم نے اپنے پلیٹ میں کھانا نکالا اور پہلا نوالا توڑ کر منہ میں ڈالنے لگی کہ عائش نے اسکا ہاتھ روک لیا۔۔۔۔

یہ بھی میں کھلا دیتا ہوں ۔۔۔ اسکے ہاتھ سے نوالا لیکر حورم کے منہ میں ڈال دیا تو شارق اور عائز ہونقوں کی طرح منہ کھولے دیکھ رہے تھے۔۔۔۔

کیسا بنا۔۔۔۔ عائش نے دونوں کو اگنور کرکے حورم سے پوچھا۔۔۔۔

اچھا ہے۔۔۔ حورم نے ایک ادا سے کہا اور دوسرا نوالا منہ میں ڈالنے لگی کہ عائش نے پھر سے اسکا ہاتھ پکڑ لیا اور نوالا اپنے منہ میں ڈالا۔۔۔۔

حساب برابر۔۔۔۔عایش پرحدت نظروں سے اسے دیکھ کر بولا۔۔۔۔

عائش کی اتنی بے تکلفی پر شرم و حیا سے حورم نے پاس بیٹھے نفوس کو مکمل اگنور کردیا۔۔۔۔

یہ بھائی کو کیا ہوا ہے۔۔۔۔ عائز نے شارق کے کان میں سرگوشی کی۔۔۔۔

زن مرید بن گیا ہے۔۔۔۔ یہ تو گیا۔۔۔ تم کھانا شروع کرو۔۔۔

ویسے بھائی مبارک ہو۔۔۔ شوہر کےساتھ ساتھ آپ ایک بہترین شیف بھی بن گئے آپ۔۔۔۔ کیا ٹیسٹی کھانا بنایا ہے۔۔۔۔ یہ دیکھو میں نے فیملی گروپ میں فوٹو بھی سینڈ کیا ہے۔۔۔ سب کے اتنے اچھے اچھے ریمارکس آرہے ہیں۔۔۔۔عایز نے اسکی اچھی عزت کا جنازہ نکال دیا۔۔۔۔۔

تو۔۔۔ عائش کو تو جیسے فرق ہی نہیں پڑ رہا تھا۔۔۔۔ تم دونوں برتن دھو لو۔۔۔ کچن صاف کرلو۔۔۔ پھر چائے بنا کر ہمیں بھی سرو کردو۔۔۔ چلو حورم۔۔۔۔ حورم کا ہاتھ پکڑ کر اٹھایا ۔۔۔۔

بھابھی یہ بھائی دوپہر تک ٹھیک تھے نا اب کیا ہوگیا انہیں۔۔۔ پہلے تو ایسے دورے نہیں پڑتے تھے۔۔۔۔ آپ زرا درود پڑھ کر دم کرلے پتہ نہیں کسی کی نظر بد لگی ہے ۔۔۔ عائز تو ہق دق سا سنک میں پڑے برتنوں کے ڈھیر کو دیکھ رہا تھا صرف ایک سادہ ڈش بنانے کے چکر میں کچن کا برا حال ہوگیا تھا ۔۔۔۔۔

کیوں اکیلے ان دونوں نے کھانا کھایا ہے کیا۔۔۔ تم بھی ساتھ میں لگ جاؤ۔۔۔ حورم نے اگلا فرمان جاری کیا ۔۔۔عائش سنی ان سنی کرکے جانے لگا۔۔۔۔

میں دولہا ہوں ۔۔۔ اب ایسے کام کرتے اچھا تھوڑی لگوں گا۔۔۔۔ میرے ہاتھ خراب ہوجائیں گے۔۔۔۔ شادی ہونے تک تو مجھے اور میری بیوی کو بخش دو۔۔۔۔ اپنے ساتھ وہ حورم کو بھی گھسیٹ کر کچن سے باہر لے ایا۔۔۔۔

اگلے ایک گھنٹہ میں دونوں نے برتن بھی دھوئے اور ساتھ میں کچن بھی صاف کیا۔۔۔ اب ساتھ بیٹھے چائے پی رہے تھے۔۔۔۔۔

عائز میری جان اپنا موبائل ذرا چیک کرلو ۔۔۔۔ عائش نے چائے کا آخری گھونٹ خلق سے اتار کر کہا۔۔۔۔

بھائی ی ی ی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔

میں یہاں نہیں آوں گا پھر ۔۔۔۔ اب گروپ میں عائش کی ڈش کے بعد ایک اور ویڈیو چل رہی تھی جسمیں عائز اور شارق رگڑ رگڑ کر برتن دھو رہے تھے اور کچن کی صفائی کر رہے تھے۔۔۔۔

دھڑا دھڑ کومنٹس آرہے تھے سب کے۔۔۔

سب سے پہلا کومنٹس موم نے کیا ہے۔۔۔۔ عائش بلند آواز سے پڑھنے لگا۔۔۔۔۔

عائز تو پورا خانسا ماں لگ رہا ہے۔۔۔۔

دوسرا کومنٹ سنینہ نے کیا ہے۔۔۔

شارق بھائی اس طرح پائنچے فولڈ کر کے تو کبھی موم کا ہاتھ نہیں بٹایا۔۔۔۔

اسکے بعد اسفند انکل کا ۔۔۔۔۔

ارے میرے جوانوں پارٹ ٹائم کسی ریسٹورنٹ میں کام پر لگ جاؤ۔۔ پڑھائی کے ساتھ ساتھ اچھا خاصا انکم بھی ہاتھ آئے گا۔۔😚😚

اور پاپا نے لکھا ہے۔۔۔۔۔

بسسسس کردو کمینے ۔۔۔۔ شارق نے غصے سے پھنکارتے ہوئے اسے روکا۔۔۔۔۔

بھابھی میں سچ میں جا رہا ہوں۔۔۔ پھر نہیں آؤں گا شادی میں بھی۔۔۔عائز روہانسا ہوگیا اپنا موبائل اٹھا کر جانے لگا کہ پلک جھپکتے عائش نے اسے اوپر اٹھا کر اپنے کندھے پر بٹھایا۔۔۔۔

نیچے اتارے مجھے۔۔۔۔ بات نہیں کرنی میں نے۔۔۔ عائز اسکے کندھے پر مکے مارنے لگا۔۔۔۔مگر اگلے لمحے اسکا وجود ہوا میں معلق تھا ۔۔۔۔ اور عائز کی گلہ پھاڑ چیخیں فلیٹ میں گھونجنے لگی۔۔۔۔

عائش نیچے اتارو اسے ۔۔۔ گر جائے گا۔۔۔۔ حورم اسکو منع کر رہی تھی ۔۔۔۔۔

پھر دے گا دھمکی اپنی بھابھی کو۔۔۔۔۔عایش نے پھر سے اسے ہوا میں لہرایا۔۔۔۔۔۔ شارق ساکت سا عائش کی طرف دیکھ رہا تھا۔۔۔ کیا سچ میں کوئی جن یا چڑیل کا سایہ پڑ گیا ہے اس پر۔۔۔۔۔ جو وقتاً فوقتاً محبت پاش نظروں سے حورم کو دیکھ کر مسکراتا۔۔۔۔۔

میری توبہ جو کبھی آپکی بیوی کے شان میں گستاخی کی ۔۔۔۔۔ یار اتارو نیچے اب۔۔۔۔ عائز نے اسکے کندھے کو مضبوطی سے پکڑ لیا۔۔۔۔

سوری بھابھی۔۔۔۔ یہاں بھی آوں گا ۔۔۔ شادی میں بھی آوں گا۔۔۔۔ عائز اب باقاعدہ گڑگڑانے لگا۔۔۔۔

عائش اتارو اسے ورنہ میں نے بات نہیں کرنی تم سے۔۔۔۔ حورم نے پھر سے کوشش کی جو کامیاب ہوئی۔۔۔ اور اس نے عائز کو نیچے اتارا مگر چھوڑا نہیں۔۔۔۔

اب کیا ہے ؟؟؟۔۔۔۔ عایز کا چہرہ لہو رنگ تھا۔۔۔۔

بھابھی۔۔۔۔۔۔ عایز نے مدد طلب نظروں سے حورم کو دیکھا ۔۔۔۔

عائش چھوڑو اسے ۔۔۔۔ حورم کا دماغ ماؤف ہونے لگا۔۔۔

اور ہاں شارق آج اس کو بھی اپنے ساتھ روم میں برداشت کرلو۔۔۔۔ مجھے تو سچ میں لگ رہا ہے کہ اس پر کسی جن کا سایہ ہے۔۔۔ میں کوئی رسک نہیں لے سکتی۔۔۔۔ حورم نے کہنے کے ساتھ ہی روم کا دروازہ اندر سے بند کردیا۔۔۔۔

ہاہاہاہاہاہاہا ۔۔۔۔۔اب آیا اونٹ پہاڑ کے نیچے ۔۔۔۔ جس بیوی کے لئے تم ہم سے بے نیازی برت کر خدمتیں کروا رہے تھے نا ۔۔۔اس نے دو سیکینڈ میں تمہیں دودھ میں سے مکھی کی طرح باہر نکال پھینک دیا۔۔۔۔ جورو کے غلام۔۔۔ شارق کے زخموں پر جیسے کسی نے مرہم رکھا ہوں۔۔۔

تم کیوں بتیسی کی نمائش کر رہے ہو۔۔۔۔ بائے دا وے میرے پاس کیز ہے۔۔۔۔ میں تو گیا سونے۔۔۔۔ باقی اگر عائز کی طرح تمہیں بھی میرے کندھوں کی سیر کروانی ہے تو بندہ خاضر۔۔۔۔

نہیں ۔۔۔ مجھے اللہ اپنے امان میں رکھے۔۔۔۔ تم جاؤ۔۔۔۔

^^^^^^^^^^^^^^^^^