Anokhi Muhabbat Season 2 By Rimsha Khan Readelle50283 Anokhi Muhabbat Season 2 (Episode 4)
No Download Link
Rate this Novel
Anokhi Muhabbat Season 2 (Episode 4)
Anokhi Muhabbat Season 2 By Rimsha Khan
حورم کیا بول رہی تھی۔۔۔۔ رات کو دیر سے سونے کے بعد دونوں صبح لیٹ اٹھے۔۔۔۔ ابھی بیٹھ کر ناشتہ ہی کر رہے تھے کہ شارق نے پوچھ لیا۔۔۔۔۔
عائش نے تیکی چتونوں سے اسے دیکھا۔۔۔۔
سوری ۔۔۔ حورم کے نام کی گردان کرتے کرتے ہم بھی عادی ہوگئے ہیں ورنہ کبھی وہ حورم آپی ہی ہوا کرتی تھی۔۔۔۔شارق ٹیڑھا میڑھا منہ بنا کر بولا۔۔۔۔۔
ہاں تو تمہیں اب کیا پرابلم ہے اب بھی آپی ہی بولو۔۔۔ میں تو آپا آپی یا باجی کہنے سے رہا۔۔۔ بعد میں بے شک چینج کرواکے بھابھی بولنا۔۔۔۔
اوووو ہیلو۔۔۔۔ تمہیں ایسا کیوں لگتا ہے کہ وہ تم سے شادی کرنے کے لئے مان جائے گی۔۔۔۔ اور بولو نا کیا بولنے آئی تھی تمہاری پاس ۔۔۔
تمہارا کیا خیال ہے وہ مجھ سے پیار کا اظہار کرنے آئی تھی۔۔۔ کہ میری طرح وہ بھی عشق کے سمندر کی اتھا گہرائیوں میں ڈوب گئی ہے۔۔۔۔۔
عائش نے شارق کا دھیان بٹانے کے لئے الٹا سوال داغا۔۔۔۔۔
۔۔ جس طرح اس نے تمہارا ہاتھ پکڑا تھا۔۔۔۔ لگ تو یہی رہا تھا۔۔۔ شارق نے ہوائی تجزیہ کیا۔۔۔۔۔
لائق سیرئیسلی ۔۔۔۔۔تمہیں وہ عقل سے پیدل لگتی ہے کیا۔۔۔۔ وہ تو پیار کے نام سے ہی نابلد ہے۔۔۔۔ اور یہ اسکی عنایت ہی تھی کہ ہاتھ پکڑا ورنہ ۔۔۔۔۔چلو یہ پھیلاوا سمیٹو تم۔۔۔۔ اور ہمارے ڈریسز مما نے بھجوائے ہیں وہ پریس
کرلینا۔۔۔ عائش نے جلدی سے بات کا رخ بدل دیا۔۔۔۔۔
~~~~~~~~~~~~~~~
بیٹا لگتا ہے ۔۔۔ رنگوں کو بکھیرنا اور سمیٹنا چھوڑ دیا ہے تم نے۔۔۔ بھر سے کوئی سکیچ کوئی پینٹنگ نہیں بنائی کیا۔۔۔۔ وہ سب ہال میں بیٹھے ارمغان اور ایزل کے رشتے کے متعلق بات چیت کر رہے تھے کہ صارم نے حورم کو محاطب کیا۔۔۔۔
ہاں پاپا بس شادی تھی نا آپی کی ٹائم ہی نہیں ملا۔۔۔۔ زبردستی کی مسکان لبوں پر سجا کر جواب دیا ۔۔۔۔۔
تھوڑی دیر بعد وہ اٹھ کر اپنے روم میں اگئی۔۔۔ ولیمہ کے لئے ڈریس نکال کر پریس کیا۔۔۔ پھر اپنی بالکنی میں آئی اور کینوس سے کپڑا ہٹایا۔۔۔کافی ساری عادتیں ادینہ ہی کی اپنائی تھی۔۔۔گھر سے باہر جاتی تو سکارف سے بالوں کو کور کرتی اور گھر میں دوپٹہ اچھی طرح اوڑھتی۔۔۔۔دوپٹہ اتار کر بالوں کو چھوٹے سے سکارف میں فولڈ کرکے باندھ دیا۔۔۔۔ اور اپنی جادوئی ہاتھوں میں پنسل پکڑ کر مہارت سے اپنی تخیل کی دنیا میں کھو گئی۔۔۔۔۔۔
مائنڈ بلوئینگ۔۔۔۔۔
وہ جو محویت سے تصویر کے ایک ایک نقش کو اپنی ماہرانہ فن سے نکھار رہی تھی اپنے عقب میں ڈیڈ کی آواز نے اسے بری طرح ٹھٹکا دیا۔۔۔اور رخ موڑ کر اپنے ڈیڈ کی آنکھوں میں ڈھیر سارا تخیر دیکھ کر بے خودی میں اسے تکنے لگی ۔۔۔۔۔
بھئی ماننا پڑے گا ۔۔۔ میرا شہزادہ تو اصل سے زیادہ اس عکس میں دل دھڑکا گیا۔۔۔۔ وہی سنجیدہ چہرہ، متفکر جبیں ، اور وہی گہری انکھیں۔۔۔ایسا لگ رہا ہے کہ اسے سامنے بٹھا کر اس کا ایک ایک نقش خفظ کرواکر اسے کینوس پر بہت اختیاط کے ساتھ چھاپ دیا گیا ہو۔۔۔۔ وہ حورم کے تاثرات سے یکسر بے نیاز تبصرہ کرتے ہوئے ایک وجد کے عالم میں ایک ایک چیز کو سراہ رہا تھا۔۔۔ تم ایسا کرنا اس کے لئے دوسرا بنانا اور یہ مجھے دے دینا ۔۔۔۔۔
حورم نے بے اختیار رخ موڑ کر کینوس پر ایک نگاہ ڈالی تو پتھر سے ہوگئی۔۔۔ پنسل ہاتھ سے چھوٹ گیا۔۔۔۔۔
آریز کے پاکٹ میں رکھا موبائل فون رنگ ہوا۔۔۔اس نے نکال کر اوکے کرکے کان سے لگایا اور نکلنے لگا ۔۔۔۔۔
اسے کمپلیٹ کرکے یاد سے میرے روم بھجوا دینا ۔۔۔ جاتے جاتے تنبیہ کی۔۔۔۔۔
یہ کیسے ہوگیا۔۔۔۔ میں نے کیسے اتنا پرفیکٹ ۔۔۔۔ کیسے ۔۔۔۔۔ وہی رکھی گئی چئیر پر دھت سے بیٹھ گئی اور اپنا سر تھام لیا۔۔۔۔۔
پھر سے سر اٹھا کر کینوس پر نظر ڈالی۔۔۔ ڈیڈ کا تجزیہ سو فیصد ٹھیک تھا۔۔۔ وہی آنکھیں ، وہی چہرہ ۔۔۔۔ کیا وہ اتنا ذہن اور خواسوں ہر سوار تھا کہ وہ بے خبری میں مار کھا گئی۔۔۔۔۔۔
ن۔ن۔نہیں۔۔۔۔ میں نہیں۔۔۔ میرے دل میں اس کے لئے ایسی کوئی فیلنگز نہیں ہے۔۔۔کیسے اس نے میرے تصور تک رسائی حاصل کی۔۔۔۔۔
کینوس پر کپڑا ڈال کر وہ روم میں چلی ائی۔۔۔ لمبے لمبے سانس لے کر اپنے منفی خیالات سے چھٹکارہ پانے کے باہر لان میں چلی گئی تو کچھ حد تک پرسکون ہوگئی۔۔۔۔
ڈیڈ کیا سوچے گا۔۔ کہ میں نے کیوں عائش کی تصویر بنائی۔۔۔۔ اس نے کچھ پوچھا کیوں نہیں۔۔ کیا اس کی زیرک نگاہوں نے میرا چہرہ پڑھا ہوگا۔۔۔۔ ن۔۔۔ن۔۔ نہیں۔۔۔ اگر اس نے پوچھ لیا تو میں صاف بتا دونگی کہ عائش نے فرمائش کی تھی۔۔۔۔ وہ تھوڑی سوال جواب کرےگا ۔۔۔۔۔آج پتہ چلا جس چیز سے پرھیز ہو اس کی طلب زیادہ ہوتی ہے۔۔۔۔۔
خود سے راز ونیاز کرکے وہ تیار ہونے چلی گئی تھوڑی دیر بعد سب کو ولیمہ کے لئے نکلنا تھا۔۔۔۔۔
~~~~~~~~~~~~~~~
ایزل مجھے تم سے کچھ بات کرنی ہے۔۔۔
ارمغان کب سے موقع ڈھونڈ رہا تھا ایزل سے بات کرنے کے لئے۔۔۔ آخر ایک جگہ وہ اسے بیٹھتی دکھی ۔۔۔۔
جی ارمغان بھائی۔۔۔ بیٹھے نا۔۔۔ کون سی بات ۔۔۔
بھائی کا ورڈ سن کر ارمغان نے خشمگیں نظریں اٹھا کر اس کے چہرے پر گاڑ دی۔۔۔وہ اتنی تپاک سے ملی مطلب وہ خود بھی لاعلم تھی بڑوں کے درمیان کئے گئے فیصلوں سے۔۔۔۔۔
آپ کو کچھ بولنا تھا ۔۔۔ ایزل نے اس کے چہرے پر چھائی تشویش محسوس کرکے دوبارہ پوچھ لیا۔۔۔۔۔
وہ گھر میں میری شادی کی بات چل رہی ہے۔۔۔ سانس لینے کو تھوڑا سا رکا ۔۔۔۔۔
یہ تو اچھی بات ہے نا۔۔۔۔ زارش آپی کی شادی کے بعد آپکی شادی ہونی چاہیے تاکہ سب کو آپی کی کمی محسوس نا ہو۔۔۔۔اپنے تئیں ایزل نے تحمل سے جواب دیا۔۔۔ تو غیر ارادی طور پر اس کی نظریں ایزل کے معصوم چہرے کا طواف کرنے لگی۔۔۔۔ اب اس کی کیا غلطی کہ میں اس کے ذات کو نشانہ بناؤں۔۔۔ کتنی مشکل سے یہ اپنی اذیت ناک ماضی سے جان چھڑا رہی ہے اور میں اسے کیوں حال کے جھروکوں میں جھونک دو۔۔۔۔
میں ابھی آیا۔۔۔ قدرے خجالت سے کہہ کر وہ رکا نہیں۔۔۔۔۔
ہیلو ڈیرئیسٹ کزن ۔۔۔ ایک ساتھ شارق اور عائش نے دھاوا بول دیا۔۔۔۔
کل پورے دو گھنٹے کا لیکچر سسنے کے بعد بھی آج تم اکیلی یہاں بیٹھی ہو۔۔۔ حد ہے یار۔۔۔ بندہ تھوڑی بہت لاج ہی رکھ لے۔۔۔ شارق نے مصنوعی خفگی کا اظہار کیا۔۔۔۔
ہاں تو ٹھیک ہے نا۔۔ برسوں پرانی عادتیں ایک دن میں چینج نہیں ہوتی نا۔۔۔ اور تم نے شائید قسم کھائی ہے آسیب کی طرح میرے اوپر نازل ہونے کی۔۔۔۔۔
عائش بیٹا کھانا لگ گیا ہے آجاؤ سب۔۔۔ حنا فاروقی کی آواز پر وہ سب ساتھ اٹھے۔۔۔
~~~~~~~~~~~~~
سنینہ جلدی نکلو بیٹا ۔۔۔۔آج تمہارے ڈرائیور انکل نہیں آئے اس کی طبیعت خراب تھی تو میں تمہیں کالج ڈراپ کردوں گا۔۔۔۔اسفند جو کب سے سنینہ کا ویٹ کر رہا تھا صبر کا پیمانہ لبریز ہوگیا تو بلا بیٹھا ۔۔۔۔
آئی بابا ۔۔۔ بس ایک منٹ۔۔۔۔۔
ایک منٹ بول بول کے ایک گھنٹہ لگا دیا۔۔۔۔۔
بابا ہمیں کالج ٹرپ پر جانا ہے۔۔۔ یہ پرمیشن لیٹر ہے۔۔۔ وہ جیسے ہی گاڑی میں بیٹھ گئی سنینہ نے جلدی جلدی بیگ سے پرمیشن لیٹر نکال کر باپ کے سامنے کیا۔۔۔۔
ہمممم۔ کب جانا ہے۔۔۔ کتنے دن کا ٹریپ ہے۔۔۔۔
سٹرڈے کو۔۔۔ دو دن کا ہے۔۔۔۔۔
گاڑی کالج کے سامنے روک کر لیٹر سائن کردیا۔۔۔۔
اللہ حافظ بابا۔۔۔ اسفند نے اس کو کس کر کے رخصت کردیا۔۔۔۔۔
انکل۔۔۔۔۔ وہ گاڑی سٹارٹ کرنے والا تھا کہ پیچھے سے کوئی پکارا۔۔۔ تو سنینہ کے بڑھتے قدم رک گئے۔۔۔۔ اپنے ٹیچر کے نگاہوں کے تعاقب میں اپنے باپ کو دیکھا ۔۔۔۔
سنینہ یہ۔۔۔؟؟؟اس کے میتھ کے ٹیچر نے اسفند کی طرف اشارہ کرکے پوچھا۔۔۔
سر یہ میرے بابا ہے۔۔۔۔
اسی دوران اسفند نے گاڑی کا دروازہ کھولا اور باہر نکلا۔۔۔۔
دنیا اتنی چھوٹی ہے۔۔۔ اسے یقین نہیں آرہا تھا۔۔۔ وہ بھی پھرتی سے آگے بڑھا اور اسفند کے قریب پہنچ کر اس کے گلے لگا۔۔۔۔
تقریباً چھ سال سے میں آپ لوگوں کو ڈھونڈھ رہا تھا۔۔۔ کہاں کہاں خوار نہیں ہوا میں۔۔۔ایک بار بھی نہیں پوچھا کہ ہم کہاں ہے ۔۔۔ کیسی زندگی جی رہے ہیں۔۔۔۔وہ اس کے گلے لگ کر رندھی آواز میں شکوہ کر رہا تھا۔۔۔۔
سنینہ ہونق بنی اپنے ٹیچر کو دیکھ رہی تھی۔۔۔ جو پورے کالج میں سر کھڑوس کے نام سے مشہور تھا۔۔۔۔ یہی حال اسفند کا بھی تھا۔۔۔۔کڑی سے کڑی ملانے کی کوشش کر رہا تھا مگر کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا۔۔۔۔
کچھ لمحے بعد وہ خود اسفند سے دور ہوا۔۔۔۔
سوری برخوردار میں نے پہچانا نہیں۔۔۔ اسفند خود تذبذب کا شکار تھا۔۔۔۔
بابا یہ ہمارے میتھ کے ٹیچر ہے۔۔۔ ایان احمد۔۔۔۔
بس ایک پل میں جیسے برسوں کا سفر طے ہوگیا۔۔۔
ایان ۔۔۔۔۔۔۔۔
جی انکل میں ایان ادینہ پھپھو کا بھتیجا ۔۔۔
انکل میری پھپھو کہاں ہے۔۔۔ آپ سب لوگ ایک ساتھ کہاں شفٹ ہوگئے تھے۔۔۔
اسفند نے ایک بار پھر سے ایان کو گلے لگایا۔۔۔۔
بیٹا تمہاری مما تم دونوں کو لے کر یہ شہر چھوڑ کر چلی گئی تھی۔۔۔ ادینہ پاگلوں کی طرح تم لوگوں کو ڈھونڈ رہی تھی۔۔۔ پتہ نہیں زمین کھا گئی جس آسمان نگل لیا ۔۔۔ہم نے اپنے سورسز بروئے کار لاکر چھپا چھپا چھان مارا لیکن نہیں ملے تم لوگ۔۔۔۔۔
انکل ہم بڑے ماموں کے پاس گئے تھے باہر۔۔۔ چھ سال پہلے واپس لوٹ آئے ہیں۔۔۔
تمہاری مما کیسی ہے۔۔۔۔اور ابیان کیا کر رہا ہے ۔۔۔۔
مما بھی ٹھیک ہے۔۔۔ اور ابیان ہمیشہ سے صارم ماموں سے انسپائرڈ تھے ابھی سی ایس ایس کی تیاری کر رہا ہے۔۔۔۔
گڈ ۔ ماشاءاللہ ۔۔۔
انکل ابھی میری کلاس سٹارٹ ہونے والی ہے۔۔۔ میں سنینہ کے ساتھ پھر گھر چکر لگا دوں گا۔۔۔مما کو بھی ساتھ لیکر آجاوں گا پھپھو سے بھی ملنا ہے ۔۔۔۔۔ خوشی اس کے انگ انگ سے پھوٹ رہی تھی۔۔۔۔
ضرور۔۔۔۔بیٹا ٹیک کئیر ۔۔۔۔۔
~~~~~~~~~~~~~~
