Wehshat E Ishq by Saniya Shah NovelR50813 Wehshat E Ishq by Saniya Shah Last Episode
Rate this Novel
Wehshat E Ishq by Saniya Shah Episode01 Wehshat E Ishq by Saniya Shah Episode02 Wehshat E Ishq by Saniya Shah Episode03 Wehshat E Ishq by Saniya Shah Episode04 Wehshat E Ishq by Saniya Shah Episode05 Wehshat E Ishq by Saniya Shah Episode06 Wehshat E Ishq by Saniya Shah Episode07 Wehshat E Ishq by Saniya Shah Episode08 Wehshat E Ishq by Saniya Shah Episode09 Wehshat E Ishq by Saniya Shah Episode10 Wehshat E Ishq by Saniya Shah Episode11 Wehshat E Ishq by Saniya Shah Episode12 Wehshat E Ishq by Saniya Shah Episode13 Wehshat E Ishq by Saniya Shah Episode14 Wehshat E Ishq by Saniya Shah Episode15 Wehshat E Ishq by Saniya Shah Last Episode (Watching)
Wehshat E Ishq by Saniya Shah Last Episode
Wehshat E Ishq by Saniya Shah Last Episode
سعد اور رانو کا نکاح ان دونوں کی مرضی کے مطابق نہایت سادگی سے کیا گیا تھا چند قریبی رشتہ داروں اور دوستوں کو ھی انوائٹ کیا گیا سعد بلیک ڈنر سوٹ میں بہت ہینڈسم لگ رہا تھا دوسری طرف رانو پیچ کلر کے شرارہ سوٹ میں لائٹ میک اپ کیے بہت خوبصورت لگ رہی تھی
نکاح کی رسم کے بعد دونوں کو ایک ساتھ بٹھایا گیا
اماں بی دونوں کو دعائیں دیتے نہیں تھک رہی تھی
بہت خوبصورت لگ رہی ہو شکریہ میری زندگی میں شامل ہونے کے لئے
سعد نے مدہم آواز میں رانو کے کانوں میں سرگوشی کی جس پر رانو دھڑکتے دل کے ساتھ اپنا جھکا ہوا سر مزید جھکا گئی
یشال بھی چہکتی ہوئی یہاں سے وہاں گھوم رہی تھی
مگر شاہ وہاں موجود نہیں تھا
یہ شاہ کہاں چلے گئے اچانک ابھی تو یہیں تھے
یشال شاه كو ڈھونڈتے ہوئے اندر آئی تو کسی نے اسے اپنی طرف کھینچ لیا
یشال اس اچانک حملے کیلئے تیار نہ تھی اس لیے کھینچنے والے کے سینے سے جا لگی
شاه آپ
آپ یہاں کیا کر رہے ہیں سب آپ کو ڈھونڈ رہے ہیں
اور یہ کیا طریقہ تھا آپ نے تو میری جان ہی نکال دی
تمہاری جان میں کیسے نکال سکتا ہوں شاہ نے اس کے بالوں کے لٹیوں کو اس کی چہرے سے ہٹاتے ہوئے کہا
مگر آپ یہاں کیا کر رہے ہیں یشال نے حیرانگی سے پوچھا
بیوی میں دیکھ رہا ہوں کہ تم پچھلے کچھ دنوں سے اپنے بھائی اور سہیلی کی وجہ سے اپنے شوہر کو بالکل بھول چکی ہو
شاه نے اسے خود سے قریب کرتے ہوئے اس کے کانوں میں سرگوشی کی
شاہ ایسا تو کچھ بھی نہیں
یشال نے جھکی پلکوں کے ساتھ جواب دیا
اسی کے من پسند سرخ کلر کے سوٹ جس پر خوبصورت کڑھائی کی گئی تھی بڑے سے دوپٹے کے ساتھ بالوں کو کھلا چھوڑ کے كانوں میں بڑے بڑے جمکے وہ نظر لگ جانے کی حد تک خوبصورت لگ رہی تھی
شاه چھوڑیں نہ کوئی آجائے گا شاہ کو مسلسل اپنے آپ کو دیکھتے پاکر وہ ادھر ادھر دیکھتی
شاہ کو بہت پیاری لگی
کون آئے گا
شاه نے مزید اسے خود سے قریب کیا
تم جانتی ہو جان جب سے تم زندگی میں آئی ہونا سب کچھ بہت اچھا بہت پیارا سا لگتا ہے تمہاری یہ باتیں معصومیت ہر گزرتے دن کے ساتھ تم میری زندگی بنتی جا رہی ہوں اگر تم مجھ سے دور ہو گی نہ تو یہ شاه مر جاے
یشال نے بے اختیار اس کے لبوں پر اپنا ہاتھ رکھ دیا آپ ایسا کیوں بول رہے ہیں شاه
یشال آنکھوں میں آنسو لیے ناراضگی سے پوچھ رہی تھی
آج کے بعد آپ نے ایسا بولا نا تو میں آپ سے ناراض ہو جاؤ گی اور آپ سے کبھی بات نہیں کروں گی
اچھا بابا سوری آج کے بعد ایسا کبھی نہیں بولوں گا
شاه نے اس کی آنسو صاف کرتے ہوئے اپنے کانوں کو ہاتھ لگایا
یشال بےاختیار کھلکھلا کر ہنس دی
اچھا سنو نا تم نے مجھے بولا نہیں ابھی تک
شاه نے شرارت سے کہا
کیا نہیں بولا یشال نے اس کی طرف دیکھتے ہوئے معصومیت سے پوچھا
یہی کہ تم مجھ سے کتنا پیار کرتی ہو
شاه آپ بھی نا آپ کو سب پتا تو ہے یشال نظریں جھکائے کہا
ہاں مگر مجھے تمہارے منہ سے سننا ہے
شاه چھوڑیں کوئی آجائے گا
یشال نے گھبرائے ہوئے لہجے میں کہا
آج جب تک تم بولو گی نہیں میں تمہیں جانے نہیں دوں گا شاه نےا سے مزید خود سے قریب کیا
شاه میں میں
کیا میں بولونا شاہ نے اسے بولنے پر اکسایا
شاه ای
اماں بی آپ یہاں
شاہ جلدی سے اسے الگ ہوا
جواب ہنس رہی تھی
اتنی آسانی سے تو میں آپ سے نہیں کہوں گی
یشال اسے چیڑاتے ہوئے وہاں سے بھاگ گئی جبکہ شاه اس کی معصوم شرارت پر مسکرا کر رہ گیا
_______
صبح سعد اور رانو کی رسمیں حنا تھی
یشال نے صاف کہہ دیا تھا کہ نکاح پر اپنی مرضی کرلی مگر وہ مہندی پر خوب انجوائے کرے گی
جس پر دونوں نے حاموشی اختیار کرلی تھی فنكشن جوں كے کمبائن تھا
اس لیے تقریب کا سارا انتظام زمان ولا میں کیا گیا تھا
ساره لان برقی قمقموں سے بہت خوبصورتی کے ساتھ سجایا گیا تھا
دلہا اور دلہن کو بٹھانے کے لیے جھولے کو خوبصورتی کے ساتھ گلاب کے تازہ وائٹ اور یلو پھولوں کی مدد سے سجایا گیا
جو بے حد خوبصورت لگ رہا تھا
یشال نے بہت محنت اور محبت کے ساتھ اپنی دوست اور بھائی کے لیے سجایا تھا
شاہ قدم پر اس کے ساتھ تھا
_____
رانو سبز اور پیلے لباس میں پھولوں کے زیورات پہنے شرمائی گھبرائی سی بہت پیاری لگ رہی تھی
سعد وائٹ شلوار سوٹ میں یلو کلر کا دوپٹہ گلے میں ڈالے بھنگڑے ڈالنے میں مصروف تھا
ذین تھوڑی دیر بعد اس کو پکڑ کر جھولے پر بٹھاتا مگر جیسے ہی ذین کسی کام سے ادھر ادھر ہوتاسعد پھر سے بھنگڑے ڈالنے والوں کے ساتھ بھنگڑا ڈالنے لگتا
رانعم حیرت سے کبھی بھنگڑا ڈالتے اپنے مجازی خدا كو دیکھتی تو کبھی آئے ہوئے مہمانوں کو جو ہنس رہے تھے مگر سعد کو کہا کسی کی پرواہ تھی
وہ شخص خوش خوش سا بھنگڑے ڈالنے میں مصروف تھا
جبکہ یشال سرے سے غائب تھی
شاہ کافی دیر سے یشال کو یہاں وہاں تلاش کر رہا تھا
جب وہاں وه کہیں نہ نظر آئی تو وہ اسے ڈھونڈتا ہوا اندر آیا
جہاں وہ کچھ ڈھونڈنے میں مصروف نظر آئی
کیا ہوا جان کیا ڈھونڈا جا رہا ہے
شاه دیکھیں نہ مجھے میرے جھمکا نہیں مل رہا
ابھی تو پہنا ہوا تھا لیکن نہ جانے کہاں گر گیا
وہ پریشان سی اسے بتا رہی تھی
کوئی بات نہیں تم کچھ اور پہن لو
نہیں نا میرے پاس میچنگ بس وہی تھے
تبھی سکینه کی بیٹی آمنہ
بھاگتی ہوئی آئی یشال آپی آپ كو اماں بی بلا رہی ہیں مہندی کی رسم شروع کرنی ہے
اس نے اماں بی کا پیغام دیا اور وهاں سے بھاگ گئی
یشال نے باہر جانے کے لیے قدم بڑھائے ہی تھے کہ شاہ نے اسے پکارا
جلدی بولیں شاہ اماں بی بلا رہی ہیں
یشال نے واپس اس کی طرف پلٹتے ہوئے پوچھا
شاه نے اس کے بالوں کو ایک سائیڈ سے ایسے آگے کیا کہ اس كا كان مکمل طور پر چھپ گیا
اور اسے لیے باہر کی جانب بڑھ گیا
یشال ہلکے سے مسکرا دی
وہ اس کی چھوٹی سے چھوٹی بات کا خیال رکھتا تھا
______
مہندی میں یشال اور سعدی نے بہت ہلا گلا کیا کبھی شاہ ان کا ساتھ دینے لگتا اور کبھی تھک کر بیٹھ جاتا جبکہ انہیں دیکھ کر رانو بھی مسکرارہی تھی
اس سادہ دل انسان کے ساتھ زندگی بہت پرسکون گزرنے والی تھی اس کا دل اس بات کی گواہی دے رہا تھا
وہ بھی پر سکون سے ان دنوں کو دیكھ كر انجوائے كر رہی تھی
آج کا دن بےحد تھکا دینے والا تھا سارے مہمان اپنے گھروں کو رخصت ہو چکے تھے جبکہ شاه اور یشال
زمان والا میں ہی تھے
یشال رانو کو سعد کے نام سے کافی بار چھیڑ چکی تھی
اور ہنستی کھلکھلاتی اپنی دوست کی آنے والی زندگی کے لیے دعائیں کر رہی تھی
تبھی اس کے موبائل کی رنگ ٹیون بجی
سکرین پر نمبر دیکھ کر وہ مسکراتی ہوئی کمرے سے باہر نکل گئی
میں نیچے ہی آ رہی ہو آپ بھی نہ حد کرتے ہیں موبائل کان سے لگائے وہ مسکراتی ہوئی بولی اور کال بند کر دی
یشال جلدی جلدی سیڑھیاں اتر رہی تھی کہ اس کی آنکھوں کے آگے اندھیرا چھا گیا
اس نے اپنے آپ کو سنبھالنے کی بہت کوشش کی
مگر اس كا ذہن تاریکی میں ڈوبتا چلا گیا
آخری بات جو اس نے محسوس کی کوئی اس پر جھکا اس کا چہرہ ہاتھوں میں لیے اسے مسلسل پکار رہا تھا۔
———
شاه نے فون بند کرکے جیب میں رکھا اور سیڑھیوں كی طرف دیکھنے لگا جہاں یشال مسکراتے ہوئے سیڑھیاں اتر رہی تھی
ابھی وه آدھی ہی سیڑھیاں اتر پائی تھی کہ شاہ نے اسے لڑکھڑاتے ہوئے محسوس کیا اس کا رنگ ہلدی کی طرح زرد ہو رہا تھا
شاہ ایک ساتھ دو دو سیڑھیاں پھلانگتا ہوا اس تک پہنچا اس سے پہلے کےوه زمین بوس ہوتی شاہ اسے تھم چکا تھا
یشال اس کی باہوں میں ہوش حواس سے بیگانہ پڑی تھی
یشال
یشال آنکھیں کھولو کیا ہوا تمہیں
وہ پریشانی سے پکار رہا تھا
مگر وہ اس کی کسی پکار کا جواب نہیں دے رہی تھی
وہ جلدی سے اسے اٹھائے باہر کی جانب بڑھا رانو بھی شور سن کرباہر آئی تب تک شاه یشال کو گاڑی میں ڈالے وہاں سے نکلتا چلا گیا
یشال آنکھیں کھولو کیا ہوا ہے تم شاه مسلسل رابش ڈرائیونگ کرتے ہوئے اسے پکار رہا تھا
شاه كا فون مسلسل بج رہا تھا مگر اسے ہوش ہی کہاں تھا اس کی ساری توجہ تو اس کی بے ہوش پڑی یشال پر تھی
شاه آندھی طوفان کی طرح گاڑی بھگاتے ہوئے ہسپتال پہنچا تھا
سنو ڈاکٹر اسے کچھ بھی نہیں ہونا چاہیے اگر اسے کچھ ہوا نہ تو میں اس پورے اسپتال کو آگ لگا دوں گا سمجھ رہی ہو نہ تم وه ڈاکٹر کو دیکھتے ہوئے بولا اس کی آنکھوں سے آنسو مسلسل بہہ رہے تھے
اسے کچھ نہیں ہونا چاہیے پلیز ڈاکٹر ا سے کچھ نہیں ہونا چاہیے
آپ پلیز وہاں بیٹھیں ہمیں مریض کو دیکھنے دیں
ڈاکٹر اسے تسلی دیتے ہوئے خود یشال کی طرف متوجہ ہوگئی جو ابھی تک بے ہوش تھی
شاه نے مسلسل بجتے فون بنا دیکھے کان سے لگایا
ذین کہاں ہو تم گھر میں سب کتنے پریشان ہیں
رانعم نے تمہیں یشال کو لے کے جاتے ہوئے دیکھا تھا
وه ٹھیک تو ہے سعدی نے ایک ہی سانس میں کہیں سوال کر ڈالے
سعد پتہ نہیں اسے کیا ہوگیا ہے وہ بے ہوش ہو گئی تھی وہ میری کسی بات کا جواب نہیں دے رہی
شاه كسی ہارے ہوئے انسان کی طرح مدھم آواز میں بڑبر آیا
سعدی اس کی آواز سن کر مزید پریشان ہوگیا
تو کہاں ہے میں ابھی پہنچ رہا ہوں
شاه نے اسے ہسپتال کا پتہ بتایا اور سر اپنے ہاتھوں میں تھام لیا
اللہ آپ نے مجھ سے ہر وہ انسان چھین لیا جس سے مجھے محبت تھی
مگر یشال نہیں
اگر اسے کچھ ہوگیا تو میں بھی زندہ نہیں رہ پاؤں گا
اسے ٹھیک کردیں
وہ اپنے اللہ سے مدہم آواز میں ہمکلام تھا
تب ہی ڈاكٹر باهر آتی ہوئی نظر آئی
آپ کی بیوی بالکل ٹھیک ہے بس ان کا بی پی لو ہو گیا تھا جس کی وجہ سے وہ بے ہوش ہوگئی مگر اس حالت میں آپ کو ان کا اور بھی خیال رکھنا چاہیے ڈاکٹر مسکراتی ہوئی بولی
وہ ٹھیک تو ہے نا اسے کچھ ہوا تو نہیں شاه نے فکرمندی سے ڈاكٹر کو دیکھتے ہوئے سوال کیا
وہ بالکل ٹھیک ہے ایسی حالت میں اکثر چکر وغیرہ آتے ہیں آپ ان کا کھانے پینے کا دھیان رکھیں
اس حالت میں مطلب
شاه نے ناسمجھی سے ڈاکٹر کو دیکھا
لگتا ہے آپ کو پتا نہیں اور مجھے نہیں لگتا کہ مسز شاه بھی جانتی ہیں
مجھے کیا نہیں پتہ اور یشال کیا نہیں جانتی
شاه نے ایک بار پھر سوال کیا
یہی کہ آپ پاپا بننے والے ہیں
پاپا……
شاه كا منہ حیرت سے کھل گیا میں پاپا بننے والا ہوں شاه نے پھر سے ڈاکٹر سے پوچھا
سعد ابھی پریشان حال وہاں پہنچا تھا
کیا ہوا زین یشال ٹھیک تو ہے نا
تم نے کسی کو بتایا کیوں نہیں اور کہاں ہیں وہ
سعد پریشانی سے اس کی طرف دیکھتا اس سے پوچھ رہا تھا جبکہ شاه اب مسکرا رہا تھا
یہاں میری جان نکل رہی ہے اور تو مسکرا رہا ہے سعد كا دل كیا کے وه شاه كے منہ پر مکا جڑ دے
شاه نے اسے اپنے بازو میں اٹھا کر گول گول گھمانا شروع کردیا
میں پاپا بننے والا ہو تو چاچا بننے والا ہے شاه نے اسے زور سے گلے لگاتے ہوئے کہا
میں چاچا بننے والا ہوں
سعدی نے اس سے الگ ہوتے ہوئے اس سے سوال کیا
شاه نے ہاں میں سر ہلایا
سعدی نے اسے ایک بار پھر سے گلے لگا لیا
_______
وه یشال کے پاس آیا تو وہ شرمائی ہوئی پہلے سے زیادہ پیاری لگی تھی
تم نے تو مجھے ڈرا ہی دیا تھا شاہ نے اس کا ہاتھ اپنے لبوں سے لگاتے ہوئے کہا
جس پر وہ دھیرے سے مسکرا دی
آپ کے ہسبنڈ آپ سے بہت پیار کرتے ہیں آپ بہت لکی ہیں
جس وقت یہ آپ کو یہاں پر لے کے آئے تھے بے حد پریشان تھے اور ڈاکٹر کو دھمکی بھی دے دی اگر اسے کچھ ہوگیا تو پورے ہسپتال کو آگ لگا دوں گا
نرس نے شاه کی نقل کرتے ہوئے یشال سے کہا
یشال نے ایک نظر شاہ کی طرف دیکھا اور اپنی پلکیں جھکا دی
تھوڑی ہی دیر میں اماں بی زمان صاحب رانعم سعد سب اس کے ارد گرد جمع تھے
سب بے حد خوش تھے اماں بی کتنی بار اس کی نظر اتار چکی تھی
سب باتیں کرنے میں مصروف تھے جبکہ رانعم ایک سائیڈ پر خاموشی سے بیٹھی ہوئی تھی
سعد اس کے نزدیک آیا کیا ہوا تم یہاں خاموشی سے کیوں بیٹھی ہو
ایک بہت پریشانی والی بات ہے
کیا ہوا سعد نے حیرانگی سے پوچھا
باقی سب بھی سے دیکھنے لگے تھے
یار میرا بےبی مجھے کیا کہہ کر بلائے گی
خالا چاچی یا پھپھو
وہ کنفیوزڈ سی سب کو دیکھ رہی تھی
سب ہی اس کے معصوم سوال پر مسکرا دیے تھے
چھوڑو میرا بےبی تو مجھے آنی کہہ کر بلائے گا ٹھیک ہے نہ ذین بھائی
رانو نے سب كو اگنور كرتے ہوئے ذین سے پوچھا
جیسا بےبی کی خالا پلس پھوپھو پلس چاچی بولی گی ویسا ہی ہوگا
شاه نے رانو کے سر پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا
ایک آسودہ سی مسکراہٹ اس کے ہونٹوں پر تھی
_________
شاه یشال كو باہوں میں بھرے مسلسل مسکرا رہا تھا جس وقت سے وہ ہسپتال سے واپس آئے تھے ایک پل کے لئے بھی مسکراہٹ اس کے ہونٹوں سے جدا نہیں ہوئی تھی
آپ خوش ہیں شاہ یشال نےاس کے سینے سے سراٹھا کر مدھم آواز میں پوچھا
بہت خوش
اب کوئی تو ہوگا جو مجھ سے محبت کرے گا
ورنہ یہاں تو مجھ سے کوئی پیار ہی نہیں کرتا
کیا مطلب ہے آپ کا کہ میں آپ سے پیار نہیں کرتی
وه جلدی سے بول اٹھی
کرتی ہو
شاه نے اس کے گال پر بوسہ دیتے ہوئے سوال كیا
شاه میں آپ سے کچھ کہنا چاہتی ہوں
تو کہو نہ جان روکا کس نے ہے
____
کیسے کہوں اپنا بنا لو مجھے
باہوں میں اپنی سما لو مجھے
بن تمہارے اک پل بھی کٹتا نہیں
تم آ کر مجھ سے چرا لو مجھے
زندگی تو وہ ہے سنگ تمہارے جو گزرے
دنیا کے غموں سے اب چھپا لو مجھے
میری سب سے پہلی خواہش ہو پوری
تم اگر پاس اپنے بلا لو مجھے
یہ کیسا نشہ ہے جو بہکا رہا ہے
تمہاری ہوں تو پھر تم هی سنبھالو مجھے
نہ جانے پھر کیسے گزرے گی زندگی
اگر اپنے دل سے کبھی تم نکالو مجھے
اتنے خوبصورت اظہار محبت پر شاه سرشار سا اسے مزید خود میں سمیٹنے لگا
چمكتے چاند نے بھی ان کی خوشیوں كے قائم رہنے کی دعا کی تھی
______________
دو سال بعد
…….
سعد وہ والی بھی
ہاں وہ والی رانعم نیچے کھڑی اشارہ کر رہی تھی
سعدی بچاری سی شکل بنائے کبھی درخت كے ایک تنے پر جا رہا تھا تو کبھی دوسرے
رانعم آج کے لئے اتنا ہی کافی ہے باقی پھر کبھی اتار لیں گے سعد نے چوتھی بار کہا تھا
بس وہ والی لاسٹ اس کے بعد بے شک آپ نیچے آجانا
رانعم نے معصومیت سے آنکھیں پٹپٹا تے ہوئے کہا
اس معصومیت پر تو سعدی جان دینے کے لئے تیار تھا پھر یہ تو بس ایک كیری تھی
سعدی چھلانگ لگا کر درخت سے نیچے اترا اب خوش وہ اس کے ہاتھوں كیری تھماتے ہوئے بولا
جن میں پہلے ہی کافی ساری کیریاں موجود تھی
بہت خوش
اب چلو اندر ڈاکٹر نے زیادہ چلنے پھرنے سے منع کیا تھا نہ
سعد نے اس کے شانے پر بازو پھیلاتے ہوئے اسے اپنے ساتھ لگایا
رانعم کا لاسٹ منتھ چل رہا تھا مگر اس کی فرمائشیں ختم ہونے کا نام نہیں لیتی کبھی کیریاں کبھی آئسکریم تو کبھی کیا کبھی کیا
سعد اس کے بچپنے کو جہاں پوری طرح انجوائے کر رہا تھا وہاں اکثر گھبرا بھی جاتا
اتنے کم وقت میں وہ اس کے دل کے اور بھی قریب آگئ تھی
وہ اپنی زندگیاں اماں بی کی دعاؤں کے حصار میں ہنسی خوشی گزار رہے تھے
_________
شاه اب اٹھ بھی جائیں کتنی دیر سے آپ دونوں کو جگا رہی ہو آپ دونوں اٹھنے کا نام ہی نہیں لے رہے
یشال اپنے سوئے ہوئے مجازی خدا اور اپنی ننھی دنیا کو جگانے کی پوری کوشش کر رہی تھی
مگر سب بے سود وہ دونوں ایک دوسرے کی کاپی تھے
اچانک یشال کی نظر شاه پر پڑی
جس کے گال پر ڈمپل نمایاں ہوکر غائب ہوچکا تھا جس کا مطلب تھا کہ وہ جاگ رہا ہے
وہ مسکراتے ہوئے اس کی طرف بڑھی
اور اپنے گلے بال اس کے چہرے پر جھٹک دئے
شاه نے ایک جھٹکے سے اس کا ہاتھ پکڑا اور اسے خود پر گرا لیا
آپ جاگ رہے تھے تو آپ نے جواب کیوں نہیں دیا
یشال نے جھکی نظروں كے ساتھ اس سے پوچھا
وه شاه کی سنگت میں پہلے سے زیادہ خوبصورت ہو چکی تھی
اب اتنے خوبصورت انداز میں جگاۓ جانے کی امید ہو تو کون کافر اس کو مس کرے گا
شاه نے مسکراتے ہوئے اس کے گال پر اپنے لب رکھ دیے
شاه چھوڑیں مجھے آپ بھی نا حد کرتے ہیں
یشال نے شرماتے ہوئے خود کو چھڑوانے کی کوشش کی وہ آج بھی پہلے دن کی طرح اس سے شرماتی تھی
ابھی شاه مزید کوئی شرارت کرتا کہ ان کی معصوم اینجل نے رونا شروع کر دیا
ذشل نے ایک سال پہلے ان کی دنیا میں آکر ان کی دنیا مکمل کی تھی
وہ اس معصوم پری کو پا کر بے حد خوش تھے اس کی معصوم شرارتوں نے ان کی زندگی کو مزید خوبصورت بنا دیا تھا
یشال اور شاه نے ایک دوسرے کو دیکھا
یشال کھلکھلاکر ہنس دی
جبكے شاه نے بے اختیار اپنی اینجل کو اپنی باہوں میں اٹھا لیا
______
ختم شد
