Wehshat E Ishq by Saniya Shah NovelR50813 Wehshat E Ishq by Saniya Shah Episode03
Rate this Novel
Wehshat E Ishq by Saniya Shah Episode01 Wehshat E Ishq by Saniya Shah Episode02 Wehshat E Ishq by Saniya Shah Episode03 (Watching)Wehshat E Ishq by Saniya Shah Episode04 Wehshat E Ishq by Saniya Shah Episode05 Wehshat E Ishq by Saniya Shah Episode06 Wehshat E Ishq by Saniya Shah Episode07 Wehshat E Ishq by Saniya Shah Episode08 Wehshat E Ishq by Saniya Shah Episode09 Wehshat E Ishq by Saniya Shah Episode10 Wehshat E Ishq by Saniya Shah Episode11 Wehshat E Ishq by Saniya Shah Episode12 Wehshat E Ishq by Saniya Shah Episode13 Wehshat E Ishq by Saniya Shah Episode14 Wehshat E Ishq by Saniya Shah Episode15 Wehshat E Ishq by Saniya Shah Last Episode
Wehshat E Ishq by Saniya Shah Episode03
Wehshat E Ishq by Saniya Shah Episode03
مرتضیٰ صاحب اس بچے کو پا کر بہت خوش تھے انہیں ایسا لگ رہا تھا جیسے دنیا جہاں کی دولت انہیں مل گئی ہو__
دوسری طرف ان کی بیوی کے چہرے پر بےزاریت سے بھرپور تاثرات تھے جنہیں دیکھ کر مرتضی صاحب دکھی ہو گئے __
شبنم دیکھو خدا نے ہمیں کتنا پیارا تحفه دیا ہے خدا نے ہمیں اپنی نعمت سے نوازا ہے __
کیوں ناشکری کر رہی ہو کیا ہوا ہے تمہیں__
دیکھو مرتضیٰ
میں نے پہلے ہی کہا تھا کہ میں ا بھی اس بچے کو نہیں چاہتی
میں اپنی زندگی بھر پور طریقے سے انجوائے کرنا چاہتی ہوں
شبنم بیگم نے ناگواری سے کہا __
مرتضیٰ صاحب نے بمشکل خود کو کوئی سخت لفظ کہنے سے روکا اور اپنے معصوم بچے کو سینے سے لگائے کمرے سے باہر نکل گئے
________________________________________
شاہ کی گاڑی جیسے ہی شاہ والا میں داخل ہوئی__
اپنے سامنے یشال کو دیکھ کر اسے اپنے دن بھر کی تھکاوٹ دور ہوتی محسوس ہوئی__
وہ کبھی ایک گلاب کو ہاتھ لگاتی کبھی دوسرے کو ہاتھ لگاتی بالکل کسی چھوٹی بچی کی طرح لگ رہی تھی __
مگر دوسرے ہی پل جیسے ہی شاہ کی نظر سامنے گھر والوں کے ٹیرس پر پڑی
اسے ایسا لگا جیسے کسی نے اسے جلتی ہوئی آگ میں ڈال دیا ہو ___
سامنے ایک لڑکا ہوس بھری نظروں سے یشال کی وجود کو گھور رہا تھا
شا ه نے یشا ل کا ہاتھ پکڑا اور اسے گھسیٹتے ہوئے اندر لے گیا __
آج کے بعد میں تمہیں گارڈن میں نہ دیکھوں شاہ بولا نہیں بلکہ دھاڑ ا تھا
جی
یشال کے منہ سے بامشکل یہ الفاظ نکلے
_________________________________________________
ماہی آوے گا
اوووووووو
ماہی آوے گا
میں پھلاں نال دھرتی سجاوں گی __
گڑیا آم کے درخت پر چڑی ہوئی تھی اور کڑیاں توڑ کر نیچے پھینک رہی تھی
جینے رانو بامشکل اپنی ہنسی روکتے ہوئے کیچ کرنے کی کوشش کر رہی تھی__
گڑیا بس کر جاؤ تمہاری سریلے گانے سے تو مردے بھی اپنی قبروں سے باہر آجائیں گے ___
رانو اچھا ہے نہ میری خوبصورت اور سریلی آواز مردوں میں بھی زندگی پیدا کر دیتی ہے ___
گڑیا نے بے پروائی سے جواب دیا
اور واپس اپنے پسندیدہ مشغلے میں مصروف ہوگئی ___
ماہی آوے گا
ماہی آوے گا
محترمہ کیا زمان صاحب کا گھر یہی ہے__
ایک انجان آواز سنتے ہی گڑیا کا توازن بگڑا اور وہ سیدھا آنے والے کے اوپر جاگری
یا خدا
کیا مصیبت ہے آنے والے نے خود پر سے ہٹاتے ہوئے کہا __
ایم سوری
اچانک میراپاؤں پھسلا اور میں نیچے گر گئی
گڑ یا نے معذرت انداز میں جواب دیا
کیا زمان صاحب کا گھر یہی ہے __
آنے والے نے واپس اپنا سوال دہرایا
جی ہاں
لیکن وہ تو ابھی گھر نہیں ہے آپ .
اوکےاس نے میں اپنا ہاتھ اٹھاتے ہوئے کہا میں بعد میں آ جاؤں گا__
یہ کہتے ہیں وہ مغرورانه چال چلتا گیٹ سے باہر نکل گیا
کیا عجیب انسان ہے پوری بات بھی نہیں سنی __
گڑیا نے اونچی آواز میں اظہار خیال کیا
چھوڑو نہ ہمیں کیا
چل ہم کچی کیڑیوں کی چٹنی بناتے ہیں
رانوں نے چٹخارا لیتے ہوئے کہا
ہاں چلو گڑیا تیزی سے اندر کی جانب بڑھی
_______________________________________________
وہ دونوں بھاگتی ہوئی کچن میں داخل ہوئی
دادو دادو__
آپ باہر جائیں آج کا کھانا میں اور رانو بنائیں گے __
توبہ ہے لڑکیوں آرام سے او
ابھی گر جاتی تو دونوں کو چوٹ لگ جاتی
اوہو دادو
کچھ نہیں ہوتا __
آپ باہر جاؤ آج کا کھانا ہم بنائیں گے
گڑیا نے دادو کو شانوں سے پکڑتے ہوئے ان کا رخ باہر کی جانب کیا
اتنی بڑی ہو گئی ہیں دونوں مگر حرکتیں بچوں جیسی ہیں __
دادوکہتے ہوئے باہر نکل گئیں اور وہ دونوں کھلکھلا کر ہنس دی
______________________________________________
یشال جب کمرے میں داخل ہوئی شاہ کسی کے ساتھ کال پر مصروف تھا __
مجھے وہ گھر چاہیے تم سمجھ رہے ہو نا میری بات کو مجھے ہر حال میں وہ گھر چاہیے __
شاہ نےجیسے هی یشال کو کمرے میں داخل ہوتے دیکھا اپنی بات ختم کرکے کال کٹ کر دی __
آپ فریش ہو جائیں میں آپ کے کپڑے نکال دیتی ہوں یشال نے اتنے آرام سے کہا
كے شاه با مشکل اس کی آواز سن پایا
اور بنا کوئی جواب دیئے واش روم میں گھس گیا
شاہ سے بات کرتے ہوئے اکثر یشال کی آواز اس کے گلے سے نکلنے سے انکار کر دیتی تھی
____________________________________________
گڑیا یہاں آؤ بیٹا میں آپ کے بال بنا دوں
دادو نے اس کو پکارا جو اپنے بال پھیلائے بیٹھی تھی ____
نہیں دادو
آج میں اپنے بال ماما سے بنواوں گی
گڑیا یہ کہتے ہوئے لاریب کے کمرے کی جانب چل دی __
جہاں وہ نیٹ کی سفید ساری پہنے باہر جانے کے لیے تیار تھی
ماما پلیز میرے بال بنا دیں
نہیں گڑیا میں آگے ھی کافی لیٹ ہو چکی ہوں آپ زرمینه سے کہیں
وہ آپ کے بنا دیں گی
لاریب نےرکھائی سے جواب دیا
اور اپنے موبائل پر آنے والی کال کی طرف متوجہ ہوگئی
صوفی ڈیئر میں بس نکل رہی ہو ں ___
20منٹ تک پہنچ جاؤں گی
لاریب نے جلدی سے اپنا کلچ اٹھایا اور بنا گڑیا کی طرف دیکھے باہر نکل گئی
گڑیا خاموشی سے انھیں جاتا ہوا دیکھ رہی تھی ___
شاید اس کا دماغ یہ سمجھ چکا تھا کہ یہ اس کی ماما نہیں ہیں __
_____________________________________________
