Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Wehshat E Ishq by Saniya Shah Episode04

Wehshat E Ishq by Saniya Shah Episode04

شاہ جب واش روم سے باہر نکلا یشال اس کے کپڑے استری کرنے میں مصروف تھی شاہ کے سامنے وہ منظر کسی فلم کی طرح چلنے لگا __
شاہ یشال کے قریب آیا اور اسکے کپڑے استری کرتا ہاتھ پکڑ لیا اس سے پہلے کے یشال کچھ سمجھتی
شاه نے گرم استری اپنے ہاتھ میں پکڑے یشال کے ہاتھ پر رکھ دیں حیرانگی اور خوف کے مارے یشال چیخ بھی نہ پائی__
شاہ نےاس کےبال مٹھی میں پکڑ کر اسے خود سے قریب کیا اتنے قریب کے وہ اس کی گرم سانسوں کو اپنے چہرے پر محسوس کر سکتی تھی___
تکلیف کے مارے یشال کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے
آج کے بعد اگر میں نے تمہیں گھر سے باہر دیکھا تو تمہاری جان لے لوں گا
بہت شوق ہے نہ تمہیں اپنی نمائش کا
شاه کے سامنے بار بار اس لڑکے کی ہوس ذدہ نظریں گھوم رہی تھی___
شاہ نے دھکا دے کر اسے بیڈ پر گرایا اور زور دار آواز میں دروازہ بند کرتے ہوئے کمرے سے باہر نکل گیا __
یشال وہیں بیٹھی اپنی بے بسی پر سسک سسک كر رو دی
_______________
وہ جب سے گھر واپس آیا تھا سوچوں میں الجھا ہوا تھا وہ پری چہرہ اس کی آنکھوں سے اوجھل ہونے کا نام نہیں لے رہا تھا __
کون تھی وہ كیا وه زمان صاحب کی بیٹی تھی یا ان کی بیٹی کی سہیلی __
کتنی معصومیت تھی اس کی آنکھوں میں کسی بھی دھوکے فریب سے پاک __
یا بس ایک نقاب تھا اس کے چہرے پہ میری نظر کا دھوکا وہ بھی فریبی ہے ہر عورت بس فریب بھی تو دیتی ہے مرد کے جذبات سے احساسات سے کھیلتی ہے___
اور جب اس کا دل بھر جاتا ہے تو سب چھوڑ کے کسی اور راستے کا انتحاب کر لیتی ہے__
نہیں وہ ایسی تو نہیں لگ رہی تھی بہت معصوم زندگی کو جینے والی لڑکی لگ رہی تھی__
دل میں دماغ کی بات کو رد کیا
اف
یہ میں کیا سوچ رہا ہوں زین نے اپنا سر اپنے ہاتھوں میں گرا لیا
کیا ہوا بابا آپ کی طبیعت ٹھیک ہے
دینو چاچا ادب سے اس کے پاس کھڑے ہوتے پوچھنے لگے
ہاں چاچا میں بھی ٹھیک ہوں بس سر میں ہلکا سا درد ہے آپ پلیز ایک کپ چائے بنوا دیں میں سٹڈی روم میں ہوں
__________________________________
وقت گزرتا رہا اور مرتضی صاحب کا بیٹا زین 15 سال کا ہوگیا __
آج اس کی پندرہویں سالگرہ تھی جس کا انتظام مرتضیٰ صاحب نے بہت بڑے پیمانے پر کیا تھا
لیکن ہمیشہ کی طرح اس کی ماں غائب تھی__
زین بیٹا چلو آؤ کیك کاٹو مرتضی صاحب نے اس کے شانے پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا نہیں بابا مما کا انتظار کر رہا ہوں مما آئیں گی تو ہی کیك کاٹوں گا
بیٹا آپ کی مما ضرور کسی ضروری کام میں پھنس گئی ہوگی
اور آپ کے دوست آپ کا انتظار کر رہے ہوں گے
نہیں بابا میں نے کہا نہ
ہم ان کا انتظار کریں گے___
مرتضیٰ صاحب نے بے بسی سے اپنے بیٹے کو دیکھا
وہ چاہ کر بھی اس پر سختی نہیں کر سکتے تھے
________
ذین 15 سال کا ہو چکا تھا اپنی ماں کا اسے اگنور کرنا وہ بری طرح محسوس کرتا تھا آج تک ایسا کبھی نہیں ہوا تھا کہ اس کی ماں نے اس کے لئے کچھ بنایا ہو یا پیار سے کھلایا ہو
وہ جب گھر آتا اس کی ماں اس کے ساتھ ٹائم گزارنے کے بجائے اپنی پارٹیز میں مصروف ہوتی
دینو
مرتضی صاحب نے اپنےخاص ملازم کو آواز دی
جی صاحب
سب مہمانوں کے کھانے کا انتظام کرو کسی چیز کی کمی نہیں رہنی چاہیے مرتضیٰ صاحب نے دینو کو کہا
اور مہمانوں سے معذرت کرنے هال کی جانب چل دیئے
مرتضی کیا بات ہے اتنے پریشان کیوں ہو زمان نے ان کے قریب آتے ہوئے کہا زمان اور مرتضی نہ صرف بزنس پارٹنر بلکہ بہت اچھے دوست بھی تھے
زمان
تم جانتے ہو یار شبنم کا رویہ زین کے ساتھ کیسا ہے
اسی لیے میں نے اسے ہمیشہ گھر کے ماحول سے دور رکھا
خود سے دو رکھا مگر اب وہ بچہ نہیں ہے جو ان باتوں کو سمجھ نہ پائے وہ شبنم کا رویہ محسوس کرتا ہے آج بھی وہ ضد لگا کے بیٹھا ہے کے اس کی ماما آئینگی تو وہ برتھ ڈے سیلیبریٹ کرے گا
تو یار بھابھی کہاں ہے
تم جانتے تو ہو اسکے ہائی کلاس کی شوق
ہو گی کسی پارٹی میں
یار تو بھابھی کو منع کیوں نہیں کرتا انہیں احساس دلانے کی کوشش کرکے ان کا ایک بیٹا ہے
جسے ان کی ضرورت ہے
یار میں نے بہت بار کوشش کی
لیکن اس کا ایک ہی جواب ہے
میں اس ذمہ داری کو نہیں اٹھا سکتی میں اپنی زندگی کو انجوائے کرنا چاہتی ہوں
اچھا تو ٹینشن نہ لیں انشاءاللہ سب ٹھیک ہو جائے گا زمان نے مرتضیٰ کو تسلی دینے والے انداز میں کہا
_______________________________
یہ میں نے کیا کر دیا شاہ مسلسل رابش ڈرائیونگ کرتے ہوئے سگریٹ پر سگریٹ پھونک رہا تھا ___
اس کی نگاہوں میں بار بار یشال کا بے یقین چہرہ گھوم رہا تھا
مجھے ایسا نہیں کرنا چاہیے تھا میں اس کے ساتھ ایسا کیسے کر سکتا ہوں __
میں تو اسے خوش دیکھنا چاہتا تھا میں چاہتا تھا کہ وہ ہمیشہ ہنستی مسکراتی رہے
لیکن شادی کے بعد مسلسل میں سے تکلیف دے رہا ہوں
مجھے اس سے معافی مانگنی چاہیے
یہ سوچتے ہوئے شاه نے گاڑی کا رخ گھر کی جانب موڑ دیا
گھر آتے ہی شاہ بنا ادھر ادھر دیکھے سیدھا اپنے کمرے کی طرف گیا
یشال
اس نے کمرے میں داخل ہوتے ہیں یشال کو پکارا
مگر اسے کوئی جواب نہ ملا
یشال اس بار اس نے اونچی آواز میں پکارا
مگر وہ کہیں نہیں تھی
شاه نے واش روم ٹیرس ہر جگہ دیکھا مگر یشال کہیں بھی نظر نہیں آئی
تو کیا وہ بھی مجھے چھوڑ کے چلی گئی
یہ سوچ زین میں آتے ہیں شاه كو لگا جیسے اس کے جسم سے کسی نے روح کھینچ لی ہو
شاه بے اختیار اپنا سر پکڑ کر بیٹھ گیا وہ مجھے چھوڑ کر نہیں جا سکتی
میں نے اس کی آنکھوں میں اپنے لئے محبت محسوس کی ہے
وہ اپنے بالوں کو مٹھی میں بھیجتے ہوئے بڑبرایا
میں اسے نہیں كھو سکتا
مجھے ایسے ڈھونڈنا ہوگا شاہ نے جلدی سےاپنے قدم باہر کی طرف بڑھائے.
شاہ جیسے ہی کمرے سے باہر نکلا وہ اسے کچن کی طرف جاتی نظر آئی__
یشال کو دیکھا شاہ کو ایسا لگا کہ جیسے اسے اس کی زندگی واپس مل گئی ہو__
وہ بے اختیار اس کی جانب بڑھا اور اسے کھینچ کر اپنے سینے سے لگا لیا __
یشال پلیز مجھے معاف کر دو میں تمہیں تکلیف نہیں دینا چاہتا تھا __
شاہ نے ہاتھ پکڑتے ہوئے کہا
یشال بس حاموشی سے شاہ کو دیکھتی رہی
شاه نے اس کا جلا ہوا ہاتھ دیکھاجہاں پہلے ہی مرہم لگا ہوا تھا
یہ کس نے لگایا شاه نے اس کے ہاتھ پر لگے مرہم کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ___
ماسی نے لگایا تھا یشال نے دھیمی آواز میں جواب دیا__
جسے سے سن کر شاه كے ماتھے پر لاتعداد شكنیں نمودار ہوئی
شاه نے چولها جلایا یہ آپ کیا کر رہے ہیں ___
تمہیں چھونے کا محسوس کرنے کادرد دینے کا تکلیف دینے کا مرہم لگانے کاحق صرف میرا ہے__
اس بات کو اپنے چھوٹے سے ذہن میں بٹھا لو مسز شاه
تم پر حق صرف اور صرف شاہ رکھتا ھے __
شاہ نے اس کا جلا ہوا ہاتھ مزید جلاتے ہوئے کہا
اس کی چیخیں پورے والا میں گونج رہی تھی
۔مگر وہاں کوئی ایک بھی انسان ایسا نہیں تھا جو اسے شاہ کے ظلم و ستم سے بچا پاتا
______________________
ذمان صاحب جب گھر میں داخل ہوئے تو گڑیا كے رونے کی آوازیں باہر تک آ رہی تھی
وه جلدی سے اندر کی طرف بھاگے
کیا هوا ا ماں جی گڑیا کیوں رو رہی ہے
بابا
گڑیا کو اپنی دوست رانو کی سالگرہ میں جانا تھا مگر دادو جانے نہیں دے رہی__
ایسا کیوں اماں جی جانے دیں بچی کا دل بہل جائے گا ____
زمان بیٹا گاڑی بی بی لے کر گئی ہیں
بابا میں نے ماما کو بتایا تھا کہ آج میری دوست کی سالگرہ ہے اور وہ بھی میرے ساتھ چلیں گئی لیکن وہ پھر بھی اپنے کسی دوست کے ساتھ چلی گئی اور ساتھ میں گاڑی بھی لے گئی ماما بالکل بھی اچھی نہیں ہے__
رانو کی ماما اس کیلئے لیے کھانا بناتی ہیں اسے گھمانے لے کے جاتی ہیں اسے شاپنگ لے کے جاتی ہیں لیکن میری ماں میرے ساتھ بالکل بھی ٹائم نہیں گزارتی __
میرے بال بھی نہیں بناتی گڑیا نے روتے ہوئے کہا
گڑیا ایسا نہیں کہتے بیٹا دادو نے اسے سمجھاتے ہوئے کہا
کوئی بات نہیں بیٹا میں اپنی گڑیا کو اس کی فرینڈ کی سال گرہ میں لے کے جاؤں گا اور ہم گڑیا کی دوست کے لیے ایک بہت اچھا سا گفٹ بھی خریدیں گے
سچی بابا گڑیا نے اپنے آنسو پونچھتے ہوئے کہا
ہاں میری جان بالکل سچ
زمان صاحب نے اج لاریب سے بات کرنے کے بارے میں سوچتے ہوئے گڑیا کو اپنی گود میں اٹھا لیا
________
زین کافی دیر تک شبنم بیگم کا انتظار کرتا رہا
تھك ہار کر جب وه سونے کے لئے اپنے کمرے کی طرف بڑھا
تو اس نے شبنم بیگم کو کسی اور کی باہوں میں باہیں ڈالے گھر میں داخل ہوتے دیکھا
وہ دونوں ایک دوسرے کے بے حد قریب تھے اس بات کی پرواہ کیے بغیر کوئی اور بھی نہیں دیکھ رہا ہے
سامنے کا منظر دیکھ کر زین کے دل سے بے اختیار دعا نکلی كے زمین پھٹے اور وہ اس میں سما جائے
زین بھاگتا ہوا وہاں سے نکلا اور اپنے کمرے کا دروازہ بند کر لیا
اور اس کے ساتھ ٹیک لگائے زمین پر بیٹھا چلا گیا
اسےکچھ سمجھ نہیں آرہا تھا
ابھی اس نے جو دیکھا وہ سچ تھا یا ایک بھیانک خواب لیکن اس کا دل دعا کر رہا تھا کہ یہ صرف ایک خواب ہو
_______
اگلی صبح زین جب ناشتے کی ٹیبل پر آیا تو اس کا سر بری طرح دکھ رہا تھا اور اس کی آنکھیں سوجی ہوئی تھی
کیا بات ہے زین آپ کی آنکھیں سوجی ہوئی ہیں آپ کی طبیعت تو ٹھیک ہے نا
مرتضی صاحب نے فکر مندی سے پوچھا
جی پاپا میں بالکل ٹھیک ہوں بس رات لیٹ نائٹ سٹڈی کرتا رہا اس لیے شاید نیند پوری نہیں ہوئی
زین نے بھاری آواز میں جواب دیا
زین بیٹا آپ جانتے ہو نہ کہ بابا صرف آپ کے ڈیڈ نہیں بلکہ بہت اچھے دوست بھی ہیں اگر آپ کو کوئی پریشانی ہے تو مجھ سے شیئر کر سکتے ہیں
سچ میں کوئی بات نہیں میں بالکل ٹھیک ہوں
مرتضی صاحب کو ذین کچھ الجھا الجھا لگا
لیکن انہوں نے اسے زیادہ چھیڑنا مناسب نہ سمجھا
نیند لونگا تو بالکل ٹھیک ہو جاؤں گا
اوکے بیٹا آپ ناشتہ کر کے آرام کرو انشاءاللہ شام کو ملاقات ہوگی انہوں نے اس کے سر پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا
اوکے بابا اللہ حافظ اپنا خیال رکھیے گا
مجھے ماما سے بات کرنی هو گی
کہ وہ شخص کون ہے جس کے ساتھ ماں آئی تھی
ہو سکتا ہے وہ صرف دوست ہوں میں غلط سوچ رہا ہوں لیکن کیا کوئی دوست اتنا قریب
میں کیا سوچ رہا ہوں تو ماما ہیں میری زین کا دماغ بالکل سُن ہو چکا تھا
اسے کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا اس کا دل کیا کہ وہ پھوٹ پھوٹ کر رو دے
________________________________________
لاریب جب کمرے میں داخل ہوئی تو زمان کو جاگتے ہوئے پایا
کیا بات ہے زمان آپ کی طبیعت تو ٹھیک ہے آپ ابھی تک سوئے نہیں
لاریب مجھے تم سے کچھ ضروری بات کرنی ہے
ہاں کہو
لاریب نے الماری سے اپنا نائٹ ڈریس نکالتے ہوئے مصروف انداز میں جواب دیا
آپ ابھی تک کہاں تھی رات کے بارہ بج رہے ہیں
میرے ایک دوست کی پارٹی تھی آج بهت انجوائے کیا آج ہم نے
یہ کہتے ہوئے واش روم میں چلی گئی جبکہ زمان انتظار کرنے لگے
لاریب جب واش روم سے باہر نکلی تو زمان صاحب بیڈ سے ٹیک لگائے بیٹھے تھے
لاریب کو ڈریسنگ ٹیبل کی طرف بڑھتے دیکھ کر زمان نے اسے آواز دی بیٹھو یہاں انہوں نے اپنے قریب اس کے لئے جگہ بنائی لاریب تم جانتی ہو نا کی گڑیا میری ایک ہی بیٹی ہے اور اسے تمہارے پیار اور توجہ کی ضرورت ہے مجھے امید تھی کہ تم اس کا خیال رکھو گی زمان نے ان کے ہاتھوں کو اپنے ہاتھوں میں لیتے ہوئے کہا
جانتی ___
لاریب پلیز پہلے میری بات سن ل
انہوں نے بھیچ میں سے اس کی بات کاٹ دی
گڑیا صرف دو ماہ کی تھی جب عائشہ میں اس دنیا میں اکیلا چھوڑ کر چلی گئیں
اگر ماں جی نہ ہوتی تو شاید میں گڑیا کو کبھی بھی سنبھال نہ پات
بیشک وہ میری ماں نہیں ہے وہ ہماری پرانی ملازمہ ہے
لیکن میں نے ہمیشہ انہیں ایک ماں جیسی عزت دی ہے اور انہوں نے مجھے ہمیشہ ایک بیٹے کا مان دیا ہے گڑ یا کا خیال رکھنا تمہارا فرض ہے
لیکن اماں جی اس کی پیچھے سارا دن ہلکان ہوتی رہتی
تم اپنے دوستوں کے ساتھ مصروف ہوتی ہو
یہ نہیں کہتا کے تم اپنے دوستوں سے ملنا چھوڑ دو
لیکن گڑیا کے ساتھ ٹائم گزرو اسے ٹائم دو انہوں نے انہیں پیار سے سمجھاتے ہوئے کہا
زمان پلیز
ابھی مجھے نیند آرہی ہے میں بہت تھکی ہوئی ہوں اس بارے میں ہم صبح بات کریں گے لاریب میں اپنے ہاتھ ان کے ہاتھوں سے نکالتے ہوئے کہا اور لائٹ آف کر کے سونے کے لئے لیٹ گئی
تو کیا میرا فیصلہ غلط تھا
گڑیا کو کبھی اس کی ماں نہیں ملے گی یہ سوچ ان کو دکھی کر گئی۔
جاری ہے🍁

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *