Wehshat E Ishq by Saniya Shah NovelR50813 Wehshat E Ishq by Saniya Shah Episode02
Rate this Novel
Wehshat E Ishq by Saniya Shah Episode01 Wehshat E Ishq by Saniya Shah Episode02 (Watching)Wehshat E Ishq by Saniya Shah Episode03 Wehshat E Ishq by Saniya Shah Episode04 Wehshat E Ishq by Saniya Shah Episode05 Wehshat E Ishq by Saniya Shah Episode06 Wehshat E Ishq by Saniya Shah Episode07 Wehshat E Ishq by Saniya Shah Episode08 Wehshat E Ishq by Saniya Shah Episode09 Wehshat E Ishq by Saniya Shah Episode10 Wehshat E Ishq by Saniya Shah Episode11 Wehshat E Ishq by Saniya Shah Episode12 Wehshat E Ishq by Saniya Shah Episode13 Wehshat E Ishq by Saniya Shah Episode14 Wehshat E Ishq by Saniya Shah Episode15 Wehshat E Ishq by Saniya Shah Last Episode
Wehshat E Ishq by Saniya Shah Episode02
Wehshat E Ishq by Saniya Shah Episode02
میں اس کے ساتھ ایسا کیسے کر سکتا ہوں میں اسے تکلیف نہیں دینا چاہتا تھا نہ خوف زدہ کرنا چاہتا تھا بابا آپ جانتے ہو نا آپ کا بیٹا ایسا نہیں ہے پر نہ جانے کیوں جب وہ میرے سامنے آتی ہے مجھے سب یاد آجاتا ہے میں کیا کروں مجھے کچھ سمجھ نہیں آتا بابا اس نے سیسکتے ہوئے اپنا سر میز پر کھلی ڈائری پر رکھ دیا بابا کی موت کے بعد یہ ڈائری ہی اس کا سہارا تھی جس میں وہ اپنے دل کی ہر بات لکھتا تھا
_______________________
خوبصورت سرخ رنگ کی انارکلی فراک جو اس کے گھٹنوں سے کچھ نیچے آ رہی تھی لائٹ سے میک اپ میں بالوں کو کھلا چھوڑے وہ نظر لگ جانے کی حد تک خوبصورت لگ رہی تھی__
شاہ نہ جانے کب سے دیوار کے ساتھ ٹیک لگائے اسے اپنی نظروں کی قید میں لیے ہوئے تھا جیسے ہی یشال کی نظر شاہ پر پڑی اس نے شرما کر اپنی پلکیں جھکا دیں __
اور اپنے خوبصورت ہونٹوں کو دانتوں سے کاٹنے لگی شاہ بے خودی کے عالم میں اس کی طرف بڑھا اور اس کے کانپتے وجود پر ایک نظر ڈالی اور دھیرے سے اس کے لبوں کو اسکےدانتوں کی قید سے آزاد کیا اتنا ظلم میری جان__
یشال اس کے چھونے سے خود میں سمٹ کر رہ گئی شاہ نے اس کے دہکتے ہوئے گالوں پر اپنے لب رکھ دیے __
یشال کو لگا کہ شاید وہ اگلی سانس بھی نہیں لے پائے گی شاہ نے جب اس کی غیر ہوتی حالت محسوس کی اس کے ہونٹوں پر ایک خوبصورت مسکراہٹ بکھر گئ__
یشال یک ٹک اس کے گال پر پرنے والے ڈمپل کو دیکھتی رہی اسے اپنا دل شاہ کے ڈمپل میں ڈوبتا محسوس ہو رہا تھا شاہ آپ کی مسکراہٹ بہت خوبصورت ہے بے اختیار یشال نےشاہ کی مسکراہٹ کی تعریف کردی اچانک شاہ کی مسکراہٹ غائب ہوگئی __
آو نیچے چلیں ناشتہ تیار ہے شاہ نے اس کا ہاتھ پکڑتے ہوئے کہا یشال اپنے ہاتھ پر شاہ کی سخت پکڑ محسوس کر کے کانپ کر رہ گئی __
اس کا دل گواہی دے رہا تھا کہ آنے والی زندگی آسان نہیں لیکن اسے اپنے اللہ پر پورا یقین تھا کے اس کی یہ پریشانیاں جلد ختم ہوجائیں گی ایک خوشحال زندگی اس کی منتظر ہوگی
___________________________
جیسے ہی مسز زمان صدیقی زمان ولا میں داخل ہوئیں ایک معصوم سی چھے سات سال کی لڑکی جس نے گلابی کلر کی فراک پہن رکھی تھی بھاگ کر زمان صدیقی کی ٹانگوں سے لپٹ گئی __
پاپا آپ آگے آپ میرے لیے ماما لے کر آئے ہیں نہ اس بچی نے اپنی خوبصورت آنکھیں معصومیت سے مسز زمان صدیقی پرٹکاتے ہوئے کہا __
جی میری جان یہ آپ کی ماما ہیں مسٹر زمان میں لاریب کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا__
اور
لاریب یہ ہے میری پیاری سی گڑیا __
ماما میں آپ کو اپنا روم دکھاتی ہوں گڑیا نے لاریب کا ہاتھ پکڑتے ہوئے کہا نہیں بیٹا ابھی میں بہت تھکی ہوئی ہوں بعد میں آپ کا روم دیکھ لوں گی لاریب ناگواری سے اپنا ہاتھ گڑیا کے ہاتھوں سے نکالا__
اور زمان کو پیار بھری نظروں سے دیکھتے ہوئے اپنے روم کے بارے میں پوچھنے لگی__
گڑیا خاموشی سے اپنے کمرے کی طرف بڑھ گئی_
زمان صاحب نے جب گڑیا کی خاموشی محسوس کی تو لاریب کو ٹو کے بنا نہ رہ سکے لاریب تمہیں گڑیا سے بات نہیں کرنی چاہیے تھی__
او صدیقی میں بعد میں اسے منا لو گی ابھی میں سچ میں بہت تھکی ہوئی ہوں تو کیا ہم اپنے کمرے میں چل سکتے ہیں__
دادو یہ منظر دیکھ کر آنکھوں میں آنسو لیے گڑیا کے کمرے کی طرف چل دی جانتی تھی کہ وہ معصوم کس قدر خوش تھی
گڑیا بیٹا میری جان کیا ہوا دادو نے اس کے آنسو صاف کرتے ہوئے کہا دادو ماما بالکل اچھی نہیں ہے وہ گندی ہیں __
نہیں میری جان ایسے نہیں کہتے __
آپ کو پتہ ہے نہ کہ کسی کے پیٹھ پیچھے اس کی برائی کرنے والے سے اللہ میاں ناراض ہوتے ہیں
سوری دادو
میں اب ایسا کبھی نہیں بولوں گی گڑیا نے معصومیت سے اپنے کان پکڑتے ہوئے کہا
اس کی معصومیت پردادومسکرا دی اور اسے اپنے سینے سے لگا لیا__
___________________________
وہ مسلسل کافی دنوں سے نوٹ کر رہی تھی کہ کوئی اس کا پیچھا کر رہا ہے وہ جہاں بھی جاتی وہ اس کے پیچھے آتا شاپنگ مالز کینٹین کالج ریسٹورنٹ غرض ہر وہ جگہ جہاں وہ ہوتی خود پر اس کی نظروں کو محسوس کرتی کچھ دن تو اگنور کرتی رہی کہ ہو سکتا ہے کہ اس کی غلط فہمی ہو__
لیکن آج جب وہ اپنی دوست کے ساتھ ایک ریسٹورنٹ میں بیٹھی کافی پی رہی تھی اسے وہاں موجود دیکھ کر اس کا پارہ ایک دم چڑھ گیا__
وہ ناصرف موجود تھا بلکہ مسلسل اسے گھور رہا تھا
وہ تیر کی طرح سیدھی اس کے میز پر جا پہنچی__
بھائی صاحب آپ کی پرابلم کیا ہے
آپ کسی مجنوں فرہاد پنو رومیو کے خاندان سے تعلق رکھتے ہیں
جہاں بھی میں جاتی ہوں آپ کسی چمگاڈر کی طرح میرے آس پاس منڈلا رہے ہوتے ہیں__
وہ بنا آگے پیچھے کی پرواہ کیے اس کو سنا رہی تھی اس کی دوست اس کو روکنے کی کوشش کرتے کرتے ہلکان ہو چکی تھی اور وہی رکھی کرسی پر سر پکڑ کر بیٹھ گئی__
نہیں میم ایسا تو کچھ نہیں آپ کوغلط فہمی ہوئی ہے
ہاہاہا غلط فہمی تو کیا بیوٹی پارلر میں میک اپ کروانے کے لیے آئے تھے اس نے طنزیہ ہنسی ہنستے ہوئے کہا__
وہاں موجود سبھی لوگوں کے چہروں پر مسکراہٹ بکھر گئی جہاں باقی لوگ اس تماشے کو ہنستے ہوئے دیکھ رہے تھے
وہی دو آنکھیں دلچسپی سے اس کے گلابی چہرے کو دیکھنے میں مصروف تھی بڑی بڑی آنکھیں چھوٹی سی ناک گلاب کی پنکھڑیوں سے بھی نازک ہونٹ جن پہ طنزیہ مسکراہٹ بکھری تھی کمر سے نیچے آتے بال جن کو باندھنے کی زحمت نہیں کی گئی تھی دونوں ہاتھ کمر پر رکھے نظر اپنے سامنے بیٹھے شخص پر جمائے وہ اس کے بولنے کی منتظر تھی__
وہ مجھے آپ سے کچھ بات کرنی تھی اچھا کرو بات وہ بالکل اس کے سامنے والی کرسی پر بیٹھ گی
نہیں_میرا _وہ
ہاں بولو میں سن رہی ہوں
وہ کچھ نہیں
اس لڑکے نے جلدی سے اپنی کرسی سے اٹھتے ہوئے کہا
رکو__
آج کے بعد میرا یا کسی بھی لڑکی کا پیچھا کیا تو یاد رکھنا آج تو پانی پھینکا ہے اگلی بار تیزاب پھینک کر جلا دوں گی__
سمجھ گئے اس نے پانی سے بھرا کلاس اس پر پھینکتے ہوئے کہا
اور ہوا کے جھونکے کی طرح ریسٹورنٹ سے نکل گئی
سعد کا کب سے کھلا وہ منہ دیکھ کر ذین نے اس کے سر پر ایک تھپڑ لگایا منہ بند کر میرے بھائی وہ جا چکی ہے
یار لڑکی ہے یا طوفان سعد نے حیرانگی سے کہا
چلیں میٹنگ کے لئے دیر ہو رہی ہے شاکر صاحب انتظار کر رہے ہوں گے
زین نے اپنی کرسی خالی کرتے ہوئے کہا
اوکے بوس__
سعد نے برگر کا آخری پیس منہ میں رکھتے ہوئے کہا اور کرسی سے اٹھ کھڑا ہوا
_______________________________
شاہ کا پورا وجود پسینے سے بھیگا ہوا تھا اس کا حلق پیاس سے خشک ہو رہا تھا کیا ہوا شاہ آپ ٹھیک تو ہیں یشال نے پریشانی سے اس کی کاندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا
پ _ا _نی
شاہ نے اپنےخشک ہونٹوں پر زبان پھیرتے بمشکل پانی مانگا
یشال جلدی سے پانی کا گلاس اسے پکڑایا
جو شاہ ایک ہی سانس میں خالی کر گیا __
آپ ٹھیک تو ہیں شاہ ہاں ہاں میں ٹھیک ہوں تم آرام کرو
شاہ نے لائٹ آف کرتے ہوئے کہا
شاہ کیا آپ نے کوئی برا خواب دیکھا ہے کچھ نہیں ہوا میں نے کہا نہ خود بھی سوجاو اور مجھے بھی سونے دو
پر شاہ
کہا نہ سو جاؤ شاہ نے دہاڑتے ہوئے کہا __
میں نے تو بس طبیعت کا ہی پوچھا تھا اس میں اتنا غصہ کرنے والی کیا بات تھی.
جاری ہے
