Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Wehshat E Ishq by Saniya Shah Episode09

Wehshat E Ishq by Saniya Shah Episode09

آخر وہ دن آ ہی گیا
جب اسے زین کے نام کی مہندی لگائی جانے والی تھی فنکشن کمبائن رکھا گیا تھا ہر طرف گہما گہمی تھی خوشیاں مسکراٹیں آج زمان والا میں ایک الگ ہی سماں تھا کیوں نہ ہوتا آج انکی اکلوتی بیٹی کی مہندی تھی
دادو اور زمان صاحب چاہتے تھے کہ گڑیا پہلے اپنی پڑھائی پوری کرلے عمر بھی ابھی بہت کم تھی مگر اماں بھی کے بے حد اصرار پر اور اس بات کے یقین دلانے پر کہ شادی کے بعد بھی گڑیا اپنی تعلیمی سلسلہ جاری رکھ سکتی ہے
زمان صاحب اور دادو چپ ہوگئے
فنکشن چونکہ کمپائن تھا تو سبھی وہاں پر موجود تھے زین بلیک قمیض شلوار میں کسی ریاست کے شہزادے سے کم نہیں لگ رہا تھا
جبکہ گڑیا کا معصوم حسن بھی اپنی مثال آپ رکھتا تھا پیلے رنگ کی خوبصورت انارکلی فراک میں بالوں کی ڈلی سی چھٹیاں کیے کانوں میں پھولوں سے بنے زیورات پہنے جو اس کے گالوں کو بار بار چوم ریے تھے کسی شہزادی سے کم نہیں لگ رہی تھی
دونوں کی جوڑی کو چاند سورج کی جوڑی کہا جاتا تو غلط نہ تھا نانو اور اماں بی دونوں کی بلائیں لیتے نہ تھک رہی تھی
سعد کی بھی آج چھاپ کی الگ تھی وائٹ سوٹ میں گلے میں پیلے رنگ کا دوپٹہ ڈالے وہ یہاں سے وہاں بنگھڑلے ڈالتا نظر آرہا تھا ۔
وہ اپنے دوست کی زندگی میں آنے والے اس خوبصورت موڑ پر بہت خوش تھا اور دوسری طرف رانوبھی گڑیا کی بیسٹ فرینڈ اور بہن ہونے کا پورا پورا ثبوت دیتی ہوئی سب سے آگے تھی کبھی وہ مہمانوں کے آگے پیچھے گھوم رہی تھی تو کبھی مہندیوں کی تھالی تیار کر رہی تھی
اس سب میں اسنے کہیں بار خود کو کسی کی نظروں کے حصار میں پایا لیکن جب بھی وہ اپنے اردگرد دیکھتی تو اسے کوئی نظر نہ آتا
اس لیے وہ اپنی غلط فہمی سمجھ کر پھر کسی نہ کسی کام میں مصروف ہو
———————————-
اگلی صبح جب شاہ کی آنکھ کھلی
تو کمرے میں اکیلا تھا اس نے واشروم چکن سب جگہ چیک کرلیا لیکن یشال کہیں ہی بھی نہ تھی
پھر کچھ سوچتے ہوئے لان کی طرف آیا جہاں وہ دنیا جہاں سے بے خبر ایک سرخ گلاب کے پودے پر جھکی پھول کی خوشبو کو اپنے اندر اتار رہی تھی
اور کچھ سوچ کر مسکرا بھی رہی تھی کبھی شرما کر اپنے ہاتھ اپنے چہرے پر رکھ دیتی ۔
وہ اتنے سارے گلابوں کے درمیان خود بھی ایک کھلتا ہوا گلاب لگ رہی تھی شاہ کی آمد سے بے خبر ہو اپنی ہی سوچوں میں گم مسکرا رہی تھی پھر کچھ سوچ کر شرما دی
اس کے لمبے بال گھنے بال کمر پر بکھرے ہوئے اس کی پوری کمر چھپا گئے آوارہ بالوں کی لٹیں بار بار اس کے چہرے پر آ رہی تھی ۔
انہیں نے وہ بار بار اپنے کانوں کے پیچھے کرتی لیکن وہ پھر سے چہرے پر بکھر جاتی ۔وہ خوبصورت صبح کا کوئی حصہ معلوم ہورہی تھی
رات کے منظر کے بارے میں سوچ کر شاہ بےساختہ مسکراتے ہوئے اس کی طرف بڑھا۔ اس کی کمر پکڑ کا خود سے قریب کر لیا اور اسکے گال پر اپنے لب رکھ دیے
یشال اس اچانک حملے کے لیے بالکل تیار نہ تھی اس لیے بری طرح سے گھبرا گئی
اور گلاب کے خوبصورت پودے کے ساتھ لگے کہیں کانٹے اس کی ہتھیلی میں چھپ گئے ۔
یشال کے لبوں سے بے ساختہ سسکی نکلی جس پر شاہ اس کی طرف متوجہ ہوا
اس کے ہاتھ سے بہتا خون دیکھ کر شاہ پریشان سا ہو گیا
اور اسے لئے تیزی سے اندر کی جانب بڑھا
آئی ایم سوری جان ایم ریلی سوری میں ایسا نہیں چاہتا تھا ا اس کے ہاتھ پر مرہم لگاتے ہوئے بار بار اس سے معافی مانگ رہا تھا
جس پر یشال بے اختیار مسکرا دی
کوئی بات نہیں شاہ معمولی سی چوٹ ہے یہ تو خود ہی ٹھیک ہو جاتی لیکن اب آپ نے اس پر مرہم بھی لگا دیا ہے
آپ فریش ہو جائیں میں آپ کے لئے ناشتہ بناتی ہوں یشال نے اس کے ہاتھ سے اپنا ہاتھ نکالتے ہوئے کہا
نہیں کوئی ضرورت نہیں ہے تمہیں کچھ بھی کرنے کی آرام کرو دیکھ نہیں رہی تمہیں کتنی زیادہ چوٹ لگی ہےے
وہ اس کا ہاتھ دوبارہ تھامتے ہوئے بولا
اور اس کے ہاتھ پر اپنے لب رکھ دئے جس پر یشال کے گالوں پر سرخی سے دوڑگئی
تم بیٹھو میں فریش ہو کر آتا ہوں آج میں تمہیں اپنے ہاتھ سے کھانا بنا کر دوں گا اور تم جج کروگی کہ کیسا بنا ہے
مگر شاہ۔ ۔۔۔۔۔۔ یشال نے کچھ کہنے کے لیے ابھی آپ نے لب کھولے ہی تھے جب شاہ نے اس کے لبوں پر اپنی انگلی رکھ دی
بہتری اسی میں ہے کہ جو میں کہہ رہا ہوں اسے چپ کرکے مان جاؤ ورنہ تم جانتی ہو کہ مجھے چپ کرانے کے اور بھی طریقے آتے ہیں شاہ نے ایک آنکھ دباتے ہوئے کہا ۔
شاہ کی بات کا مطلب سمجھ کر یشال پے اختیار اپنا چہرہ اپنے ہاتھوں میں چھپا گئی
جس پر شاہ قہقہ لگاکر ہس دیا اور اٹھ کر واشروم میں چلا گیا
————————————
وہ گلاب کی پتیوں سے سجا مہندی کا تھال ہاتھ میں لیے جلدی جلدی سیڑھیاں اتر رہی تھی کہ کسی سے بری طرح ٹکرا گئی
اس سے پہلے کہ وہ
سیڑھیوں سے نیچے گر جاتی کسی کے مضبوط بازو نے اسے تھام لیا
پھولوں کی پتیاں اور مہندی سیڑھیوں پر یہاں سے وہاں بکھر گئی
کچھ دیر کیلئے رانو سمجھ ہی نہ پای کہ آخر اس کے ساتھ ہوا کیا ہے
جبكے سامنے والا مسلسل اسے اپنی باہوں میں لئے اسے گھورنے میں مصروف تھا
رانو نےجلدی سے خود کو اس کی بہو کے کے حصار سے نکالا
آنکھیں ہیں یا بٹن مانا کے خدا نے خوبصورت آنکھیں دی ہیں مگر اس کا مطلب یہ تو نہیں کہ آپ ماتھے پر سجا کر گھومتے رہیں گے اللہ میاں نے یہ آنکھیں استعمال بھی کرنے کے لئے دی ہیں
نہ کہ نمائش کرنے کے لیے
وہ مسلسل سعد کو سنا رہی تھی
جبکہ سعد مسلسل اس کو بس دیکھے ہی جا رہا تھا
آج رانو نے سبز رنگ کا شرارہ پہن رکھا تھا جس کے ساتھ گولڈن رنگ کا دوپٹہ اس نے خوبصورتی کے ساتھ سیٹ کر رکھا تھا کانوں میں بڑے بڑے جھمکے جو بات کرنے پر بار بار اس کے گال چوم رہے تھے بے حد خوبصورت لگ رہی تھی
سعد کو اپنے دل کی دھڑکن صاف سنائی دے رہی تھی
عجیب واحیات انسان ہیں آپ شرم نام کی کوئی چیز نہیں ہے مسلسل گھورے جا رہے ہیں
کیا آج سے پہلے زندگی میں کبھی اپنے کوئی لڑکی نہیں دیکھی
حد ہے اگر زین بھائی کے دوست نہ ہوتے تو آپ کا دماغ ٹھکانے لگا دیتی
اب منہ کیا دیکھ رہے ہیں رستہ چھوڑیں میرا
جبکہ سعد ابھی تک اسے دیکھنے میں مصروف تھا
میں نے کہا رستہ چھوڑیں میرا اس بار اس نے اونچی آواز میں کہا
جس پر سعد بے اختیار ہوش کی دنیا میں واپس آیا
اور ایک سائیڈ پر ہو گیا جبکہ رانوں مہندی ہاتھ اٹھائیں وہاں سے نکلتی چلی گئی سعد ابھی تک بے یقینی کی کیفیت میں وہیں کھڑا تھا یہ مجھے کیا ہوگیا تھا وہ لڑکی مجھے اتنا سنا کر چلی گئی اور میں اس کے سامنے کل بھی نہیں بول پایا
اگلی بار جب یہ لڑکی مجھے ملے گی تو سارا حساب برابر کروں گا
ابھی بھی انہی سوچوں میں گم تھا کہ اماں بی اسے پکارتی ہوئی اس کے قریب آئیں
میاں کہاں گم ہیں آپ اگر آپ کو یاد نہیں ہے تو میں آپ کو یاد دلادو کہ آج آپ کے دوست کی مہندی ہے جس کے لیے آپ یہاں تشریف لائے ہیں نہ کہ یہاں مٹرگشت کرنے کے لئے
اماں بی میں تو آپ کے لئے اندر آیا تھا آپ ہی ہر بار مجھے لیٹ کروا دیتی ہیں سعد جلدی جلدی بولتا انہیں اپنے ساتھ لے باہر کی جانب چلا اب ہم ہر جگہ لیٹ کروا دیتے ہیں یہ بھی سہی کہی آپ نے
آپ جو تیار ہونے میں چھ گھنٹے لگا کر لڑکیوں کو بھی پیچھے چھوڑ دیتے ہیں تب آپ کو دیر نہیں ہوتی
اماں بی اور بھی نہ جانے کیا کچھ کہتی جب رانو ان کی طرف آئیں
اماں بی چلے نا گڑیا کو مہندی لگانی ہے اور ان کا ہاتھ پکڑے انہیں وہاں سے لے کر چلی گئی
جبکہ سعد کو مکمل طور پرا گنور کیا گیا تھا
جیسے وہ یہاں موجود ہی نہ ہو
جبكے سعد رانو كے اس طرح خود کو اگنور کرنے پر مسکرا دیا فنکشن رات دیر تک چلا اب لوگ بری طرح تھک چکے تھے مگر زین اور گڑیا کی آنکھوں سے نیند بہت دور تھی وہ دونوں ہی بے حد خوش تھے زین کو تم مانو اس کی منزل مل چکی تھی…..
🌹🌹🌹
شاه اور یشال کاغان ناران کے لیے نکل چکے تھے یشال کافی زیادہ ایکسائٹڈ تھی باربار گاڑی سے باہر ادھر دیکھ رہی تھی کبھی کوئی اونچا پہاڑ دیکھ لیتی تو شاه کا بازو بری طرح ہلادیتی شاه وه دیکھیں کتنا اونچا پہاڑ ہے کہیں کوئی پھولوں پھلوں سے لدادرخت دیکھ کر خوشی سے پھولی نہ سماتی وہ بے حد خوش تھی اور شاہ اس کی خوشی دیکھ کر خوش تھا شاہ اور کتنا ٹائم باقی ہے یشال تین بار یہ بات پوچھ چکی تھی
جانو ابھی بہت ٹائم ہے شاه نے پیار سے جواب دیا
جب یشال ادھر ادھر دیکھ دیکھ کر تھک گئی تو سو گئی گی شاه کافی دیر اسے سوتا ہوا دیکھتا رہا
اس نے دو تین بار یشال کوآوازدی مگر یشال تو لگ رہا تھا کہ نہ جانے کتنے سالوں بعد سوئی ہے جواٹھنے کا نام ہی نہیں لے رہی
جب شاه بار بار جگا کر تھک گیا تو یشال کو اس کے حال پر چھوڑ دیا اور خود ڈرائیونگ کرنے میں مصروف ہوگیا
🌹🌹🌹
سعد ابھی تک رانو کے سراپے میں کھویا ہوا تھا اس کے شانوں تك آتے بال بڑی بڑی آنکھیں جن میں جہاں کی معصومیت سمائی ہوئی تھی اس کا لگاتار بولنا سعد کو بری طرح سنانا ہر کام میں آگے رہنا بزرگوں کا احترام کرنا اماں بی کا خیال رکھنا ایسی ہی تو وہ بیوی چاہتا تھا اپنے لئے جس میں یہ تمام خوبیاں موجود ہوں
رانو سعد كے حواس پر بری طرح سوار تھی
سعدا سے اور اس کی باتوں کو سوچتا خود ہی مسکراتا جا رہا تھا
جانے کتنی دیر سے سوچتے اب نیند کی وادیوں میں گم ہوگیا
🌹🌹🌹
اگلی صبح اماں بھی نے سعد کو سات بجے ہی اٹھانا شروع کر دیااٹھ جاؤ میاں آج شاید نہیں یقینا تمہارے اکلوتے دوست کی برات جانی ہے کچھ شرم کرو گے بچہ اکیلا ہی لگا ہوا ہے اور تم یہاں گدھے گھوڑے سب کچھ بیچ کر سو رہے ہو
اٹھتا ہوں اماں بھی بس پانچ منٹ اور سونے دیں یہ کہتے ہوئے چادر واپس اپنے منہ پر كر لی
میاں آپ سوتے رہیں ہم اکیلے ہیں زین کی برات لے جائیں گے کوئی ضرورت نہیں ہے ہم ماں بیٹے کو آپ کی
یہ کہتے ہوئے اماں بھی غصے میں باہر چلی گئی
کچھ دیر تو
سعد ویسے ہی پڑا رہا پھر جلدی سے اٹھ کر واش روم کی طرف بھاگا اماں كا کیا بھروسہ اس کے بنا ہی اس کے اکلوتے دوست کی برات لے کر چلی جاتی
سعد جلدی جلدی تیار ہو کر نیچے آیا
جہاں اماں بی زین کی سہرا بندی کی رسم زور و شور کے ساتھ کر رہی تھی
ذین ہائف وائٹ شیروانی میں کلین شیو بہت ہینڈسم لگ رہا تھا جبکہ اماں بی سفید شرارہ پہنے نفاست سے کیا ہوا دوپٹے کے ساتھ بہت پیاری لگ رہی تھی
واه شہزادےآج تو چھا ہی گیا سعد نے زین کے شانوں پر ہاتھ پھیلاتے ہوئے کہا
واه میاں ہوگی آپ کی صبح
ابھی بھی ٹائم ہے جا کے سو جائیں ابھی ٹائم ہی کیا ہوا ہے ہمیں آج تھوڑی بارات لے کے جانی ہے ہمیں تو قیامت کے دوسرے دن بارات لے کر جانی ہے تاکہ زندہ لوگ بھی خوش رہیں اور مردہ بھی
سعد کی آتے ہی اماں بی نے اسے آڑے ہاتھوں لیا
اماں بی اٹھ گیا ہوں اور دیکھیے بالکل ریڈی ہوں
سعد نے اماں بی کو گلے لگاتے ہوئے کہابلیک شلوار سوٹ میں ہلکی بڑی ہوئی شیو کے ساتھ سعد بے شک کمال لگ رہا تھا
🌹🌹🌹
شاه اسے رکھنے کی پوری کوشش کر رہا تھا مگر نہ تو وہ شاہ کی بات سن رہی تھی اور نہ ہی رک رہی تھی بس مسلسل چلے جا رہی تھی
شاه ا سے روکتے ہوئے کہیں باہر گرا کہیں جگہ اسے چوٹیں آئیں شاہ کے جسم سے جگہ جگہ سے خون رس رہا تھا مگر
یشال بس چلے جا رہی تھی نہ تو شاہ کی آواز کا اس پر کوئی اثر ہو رہا تھا
اور نہ ہی شاہ كا درد اسے روک پا رہا تھا
یشال کے پیچھے بھاگتے بھاگتے شاہ کا پاؤں ایک پتھر سے ٹکرایا اور شاه ‏‏منه کے بل گر گیا
یشال……..
شاه کی پکار میں نا جانے کیسا درد تھا كے
یشال نے پلٹ کر اس کی طرف دیکھا جہاں شاہ خون میں لت پٹ پڑا اس کی طرف دیکھ رہا تھا
یشال بھاگتی ہوئی اس کی طرف آئی اور شاہ کا سر اپنی گود میں رکھ لیا
یشا……شال……..یشال
یشال میں تم سے بہت پیار کرتا ہوں پلیز مجھے چھوڑ کر مت جاؤ شاہ تکلیف کے مارے اٹک اٹک کر بول رہا تھا
یشال کو لگا جیسے اس كا دل کسی نے مٹھی میں پکڑ کر بھیچ دیا ہو
شاہ آپ کو کچھ نہیں ہوگا میں ہوں نہ آپ کو چھوڑ کر کبھی نہیں جاؤں گی
آپ سے بہت پیار کرتی ہوں شاه اس کی بات سن کر اتنے درد میں بھی مسکرا دیا
شاه کی آنکھیں بند ہو رہی تھی مگر وہ زبردستی آنکھیں کھلی رکھنے کی کوشش کر رہا تھا وه یشال کو جی بھر کر دیکھنا چاہتا تھا شاہد آخری بار……..
یشال نے شاه كو روتے ہوئے کہی بار پکارا مگر شاہ نے اس کی کسی پکار کا جواب نہ دیا وہ انسان جو اس کی آنکھوں میں ایک آنسو برداشت نہیں کرسکتا تھا آج بالکل چپ تھا شاید یشال نے شاه كو ہمیشہ کے لئے کھو دیا تھا ….. اس
سوچ کے آتے ہیں یشال بری طرح رو دی
وہ بار بار شاہ کو پکار رہی تھی مگر شاہ بالکل خاموش تھا ….
جاری ہے🍁

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *