Wehshat E Ishq by Saniya Shah NovelR50813 Wehshat E Ishq by Saniya Shah Episode08
Rate this Novel
Wehshat E Ishq by Saniya Shah Episode01 Wehshat E Ishq by Saniya Shah Episode02 Wehshat E Ishq by Saniya Shah Episode03 Wehshat E Ishq by Saniya Shah Episode04 Wehshat E Ishq by Saniya Shah Episode05 Wehshat E Ishq by Saniya Shah Episode06 Wehshat E Ishq by Saniya Shah Episode07 Wehshat E Ishq by Saniya Shah Episode08 (Watching)Wehshat E Ishq by Saniya Shah Episode09 Wehshat E Ishq by Saniya Shah Episode10 Wehshat E Ishq by Saniya Shah Episode11 Wehshat E Ishq by Saniya Shah Episode12 Wehshat E Ishq by Saniya Shah Episode13 Wehshat E Ishq by Saniya Shah Episode14 Wehshat E Ishq by Saniya Shah Episode15 Wehshat E Ishq by Saniya Shah Last Episode
Wehshat E Ishq by Saniya Shah Episode08
Wehshat E Ishq by Saniya Shah Episode08
یشال اداس سی شام کو پہنے جانے والا ڈریس دیکھ رہی تھی کی سکینہ اس کے کمرے میں داخل ہوئی بی بی جی یہ شاہ صاحب نے ڈرائیور چاچا کے ہاتھ بھیجا ہے
کیا ہے یہ سکینہ
پتہ نہیں جی آپ خود ھی دیکھ لیں
یشال نے وہ پارسل سکینہ کے ہاتھ سے لیا اور اس کے اوپر ایک خوبصورت سا کارڈ بھی تھا یشال نے وہ کارڈ کھول کر دیکھا تو اس میں شاہ کی خوبصورت رائٹنگ میں درج الفاظ دیکھ کر کو دھیرے سے سر جھکاگی
اگر آج اس لباس کو پہن کر آپ اس کی خوبصورتی میں مزید اضافہ کریں گے تو مجھے بہت خوشی ہوگی شاہ
یشال نے وہ پارسل کھول کے دیکھا تو شاہ كی پسند کی داد دیے بنا نہ رہ سکیں
ریڈ کلر کی بے حد خوبصورت ڈریس
جس پر خوبصورت ڈائمنڈ ورك کیا گیا تھا كسی كی پہلی پسند ہو سکتی تھی یشال کو بھی وہ لباس بے حد پسند آیا تھا
شاه جب کمرے میں داخل ہوا تو وہ اسی کی لائی ہوئی ڈریس میں ہلکا ہلکا میک اپ كیے نظر لگ جانے کی حد تک پیاری لگ رہی تھی
شاه نے بنا اس کی طرف دیکھے وڑدرواب سے ایک بلیک سوٹ نکالا اور باتھ روم میں گھس گیا
یشال کو لگا تھا کہ شاہ گھر آکر اسے وش کرے گا مگر اس کے سارے خواب ٹوٹ گئے
یشال کے گاڑی میں بیٹھتے ہیں شاہ نے گاڑی آگے بڑھا دی
یشال بار بار کچھ کہنے کی چاہت میں شاہ کی طرف دیکھتی جو آگے دیکھ كر ڈرائیو کرنے میں مصروف تھا
اور پھر لب بیچ کر رہ جاتی
یشال تمہیں کچھ کہنا ہے شاہ نے اس کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیتے ہوئے پوچھا نہیں نہیں تو
یشال گھبرا کر چپ ہو گئی
بولونا جانم کیا بات ہے
شاه کیا آپ کو آج کے دن کے بارے میں کچھ بھی یاد نہیں ہے
جانم اس کے بارے میں ہم گھر جا کر بات کرتے ہیں
شاه نے ریسٹورنٹ کے سامنے گاڑی روکتے ہوئے کہا
اور خود گاڑی سے باہر نکل گیا
شاہ نے اس کی سائیڈ کا دروازہ کھولا اور اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے گاڑی سے باہر آنے کا اشارہ کیا
وه خاموشی سے گاڑی سے اتر گئی
آخر کار وہ دن آ ہی گیا جب اسے ذہن کے نام کی انگوٹھی پہنائی جانے والی تھی
سکن کلر کے شرارے میں وہ بے حد پیاری لگ رہی تھی رانو صبح سے کہیں بار اس کی تعریف کر چکی تھی اور وہ شرمائی شرمائی سی مسکرادیتی
دادو کہیں بار اس کی نظر اتار چکی تھی انہیں یہ ڈر کھائے جا رہا تھا کہیں ان کی لاڈلی کو کسی کی نظر نہ لگ جائے
رسم سادگی سے ادا کی جانی تھی بس کچھ دوست تھے جنہوں نے ان کی خوشی میں شرکت کی تھی
اسٹیج کو پھولوں کی مدد سے خوبصورتی کے ساتھ سجایا گیا تھا
گڑیا جب ہال میں داخل ہوئی تو ہر نگاہ نے اس بے مثال خوبصورتی کو سراہا تھا
اماں بی اور دادو نے اس کی کہیں بلائیں لے ڈالی تھی
بے شک وہ بے تحاشا خوبصورت لگ رہی تھی
ایک پل کے لئے تو ذہن بھی مخو ہوکر اس کو دیکھتا رہ گیا
زین ہوش کی دنیا میں تب واپس آیا جب سعد میں اس کے پیٹ میں کنی ماری
جگر ہوش میں آج کیا کر رہا ہے تو خیال کر کے کہاں کھڑا ہے اس وقت تو
اماں ابی اور دادی یہی پر موجود ہے کچھ تو لحاظ کر
زین شرمندہ سا سر پر ہاتھ مار کر رہ گیا
دوسری طرف گڑیا نے زین کو اس طرح خود کو دیکھتے پاکر رانو کا ہاتھ مضبوطی سے تھام لیا
میں نے کہا تھا نا
زین بھائی تمہیں دیکھ کر تم پر سے نگاہیں ہٹانا ہی بھول گئے ہیں
رانو نے گڑیا کے کانوں میں سرگوشی کی
تبھی سعد کی نظر گڑیا کے ساتھ آتی ایک لڑکی پر پڑی
وہ بہت زیادہ خوبصورت نہیں تھی
مگر اس میں کچھ تو ایسا تھا کہ سعد ایک پل کے لیے
ساری دنیا کو بھول گیا
وہ گڑیا کے کانوں میں کچھ بولتی خود ہی مسکرا دی
گڑیا کو ذہن کے پہلو میں بٹھایا گیا
گڑیا كا دل ایسے دھڑک رہا تھا جیسے ابھی سینے سے باہر آجائے گا
زین نے دھیرے سے اس کا ہاتھ پکڑا اور اپنے نام کی انگوٹھی اس کی انگلی میں ڈال کر اسے ہمیشہ کے لیے اپنا بنا لیا
تم بہت خوبصورت لگ رہی ہو اتنی کہ دل کرتا ہے کہ کاش منگنی کی جگہ آج نکاح کرلو
اور تمہیں ہمیشہ کے لیے اپنے ساتھ لے جاؤ
اپنا بنا کر زین بھرے سے گڑیا کے کانوں میں سرگوشی کی
وہ دونوں ریسٹورنٹ میں داخل ہوئے اندر کا ماحول دیکھ کر یشال حیران رہ گئی
گلاب کے سرخ پھولوں سے حال کو بے حد خوبصورتی سے سجایا گیا زمین پر ہر جگہ سرخ غبارے بکھرے تھے
۔
اور حال کے بیچوں بیچ ایک گول ٹیبل پر ایک خوبصورت سا کیک رکھا گیا تھا جس پر ایک کینڈل جل رہی تھی ۔
رک کیوں گئی جانم آونا ۔
۔شاہ نے اس کا ہاتھ پکڑا اور ٹیبل کے طرف لے جانے لگا
جبکہ یشال سے کے جانم کہنے اور ہاتھ پکڑنے پر خود میں ہی سمٹ کر رہ گئی یشال کے گالوں پر سرخی دوڑ گئی
شاہ نے یشال کو کرسی پر بٹھایا اور پھر اس کے سامنے والی کرسی پر بیٹھ گیا یشال اس وقت ریڈ کلر کے انارکلی فراک نے خود بھی ایک گلاب کا پھول رہے لگ رہی تھی اسے اپنی طرف دیکھتا دیکھ کر یشال مزید کنفیوز ہو گئیں ۔
اور اس کا چہرہ بےحد سرخ ہو گیا وہ ہر تھوڑی دیر بعد پلکیں اٹھا کر شاہ کو دیکھتی اور پھر اسے اپنی طرف دیکھتا پا کر نظریں جھکا لیتی
۔شاہ آپ مجھے اس طرح کیوں دیکھ رہے ہیں۔۔۔؟
یشال نے دھیرے سے کہا
کچھ نہیں جانو تم بے حد حسین لگ رہی ہو
اتنا کہ میری نظر تم پر سے ہٹ ہی نہیں رہی
یشال کی بات پر شاہ نے مسکرا کر کہا
آوکیک کاٹو شاہ چھڑی اس کے ہاتھ میں تھماتے ہوئے کہا
یشال کیک دیکھ کر بے ساختہ مسکرا دی
جس پر بہت خوبصورتی سے ہیپی برتھ ڈے کے الفاظ لکھے گئے تھے
یشال نے کاٹا اور ایک پیس اس کی طرف برایا جو دلچسپی سے اسی کو دیکھ رہا تھا
شاہ نے یشال کا کیک والا ہاتھ پکڑا اور کیک کا وہ پیس اپنے منہ میں ڈال کر یشال کی انگلی کو اپنے لبوں سے چھوا
یشال پوری جان سے کانپ کر رہ گئی
شاہ
جی جانم بولو
شاہ پلیز چھوڑیں
شاہ یشال کے قریب آیا اور اس کے کانوں میں بولا
ہیپی برتھ ڈے جان شاہ
اور اس کے کانوں کی لوح کو اپنے لبوں سے چھوا
شاہ پلیز یشال اس کی بھرتی گستاخیوں پر مزید سرخ ہوگئی
شاہ نے یشال کی گردن سے بال ہٹائے اور اس کی گردن پر اپنے لب رکھے
بولو نہ جان شاہ ۔شاہ نے اسے بولنے پر اکسایا
جبکہ یشال نے ایک نظر اس کی آنکھوں میں دیکھا جہاں بس یشال کے لیے پیار ہی پیار تھا اور دھیرے سے اپنی پلکیں جھکا گئی
اس کی اداپر بے ساختہ مسکرا دیا اور یشال کو خود سے مزید قریب تر کر لیا
جان شاہ آج میں تم سے کچھ کہنا چاہتا ہوں اجازت ہے شاہ نےاس کی طرف دیکھتے ہوئے اجازت طلب لہجے میں کہا
ایشال نے بے ساختہ اپنی گردن ہاں میں ہلائی
اپنے احساس سے چھو کر مجھے صندل کر دو
مَیں کہ صدیوں سے ادھورا ہوں مکمل کر دو
نہ تمہیں ہوش رہے اور نہ مجھے ہوش رہے
اِس قدر ٹوٹ کے چاہو، مجھے پاگل کردو
تم ہتھیلی کو مرے پیار کی مہندی سے رنگو
اپنی آنکھوں میں مرے نام کا کاجل کر دو
شاہ بے شک بہت خوبصورت آواز کا مالک تھا ۔۔۔۔
اس کے سائے میں مرے خواب دھک اُٹھیں گے
میرے چہرے پہ چمکتا ہوا آنچل کر دو
دُھوپ ہی دُھوپ ہوں میں ٹوٹ کے برسو مجھ پر
اِس قدر برسو میری رُوح میں جَل تھَل کر دو
جیسے صحرائوں میں ہر شام ہوا چلتی ہے
اس طرح مجھ میں چلو اور مجھے تھَل کر دو
شاہ یشال کے بے حد قریب تھا اتنا کہ اس کی سانسوں کو اپنے چہرے پر محسوس کر رہی تھی ۔
تم چھپا لو مرا دِل اوٹ میں اپنے دِل کی
اور مجھے میری نگاہوں سے بھی اوجھل کر دو
مسئلہ ہوں تو نگاہیں نہ چُرائو مُجھ سے
اپنی چاہت سے توجہ سے مجھے حَل کر دو
یشال شاہ کی خوبصورت آواز کے سحر میں کہیں گھوسی گئی ۔
اپنے غم سے کہو ہر وقت مرے ساتھ رہے
ایک احسان کرو اس کو مُسلسل کر دو
مجھ پہ چھا جائو کسی آگ کی صورت جاناں
…..اور مری ذات کو سوکھا ہوا جنگل کر دو
شاہ نے یشال کو اپنے مزید قریب کیا اس کی خوبصورت آنکھوں پر اپنے لب رکھ دئے ۔
یشال شاہ کے سینے سے لگی ابھی تک اس کی آواز کے سحر میں گرفتار تھی
شاہ نے دھیرے سے اسے خود سے الگ کیا اور اس کی پیشانی پر اپنے لب رکھ دئے
یشال آنکھوں میں نمی لیے بس اسے دیکھ رہی تھی اتنا پیار اتنی محبت یشال ابھی تک شاہ کے لفظوں کے سحر میں ڈوبی اس کے سینے سے لگی تھی
جانم تمہارے لیے ایک سرپرائز ہے کل ہم کاغان ناران ایریا جارہے ہیں ہنی مون کے لیے شاہ نے ایک آنکھ دباتے ہوئے کہا
اسکی بات کا مطلب سمجھ کر یشال کے کانوں کی لو تک سرخ ہوگئی شاہ کی نظریں یشال کے چہرے سے ہٹنا بھول گئی۔
یہ برتھ ڈے یشال کی زندگی کا حسین ترین برتھ ڈے تھا مسکراہٹ اس کے ہونٹوں سے جدا نہیں ہو رہی تھی
شاه نے واپسی پر یشال کو اس کی من پسند آئسکریم بھی لے کر دی تھی
جس پر اس کا بچوں جیسا خوش ہونا شاہ کو مسکرانے پر مجبور کر گیا تھا
شاہ مجھے آپ والی بھی ٹیسٹ کرنی ہے یشال نے اپنی آئسکریم ختم کرنے کے بعد شاه کے ہاتھ میں موجود کون کو للچاتی ہوئی نظروں سے دیکھتے ہوئے کہا
اس کی بات شاہ کا قہقہ بے ساختہ تھا
نہیں تم اپنی ختم کر چکی ہوں یہ میری ہے شاہ نے تنگ کرنے والے انداز میں کہا
شاه میں کون سا ساری کھا جاؤں گی بس ٹیسٹ کرکے واپس کر دوں گی نا
یشال نے معصومیت سے جواب دیا
شاہ نے انکار میں گردن ہلاتے ہوئے آئسکریم کا ایک بائٹ لیا
یشال نے جب دیکھا کہ شاہ کسی بھی طرح آئسکریم دینے پر آمادہ نہیں تو بے اختیار اس کی آنکھوں میں چمک آئی
شاه …شاه
اس نے بے اختیار شاہ کا کاندھا ہلاتے ہوئے اسے اپنی جانب متوجہ کیا
بولو جانم کیا ہوا
شاه وہ دیکھیں گھوڑا ہوا میں اڑ رہا ہے
شاه نے بے یقینی سے یشال کو دیکھا کہ کہیں اس کی پیاری بیوی کا دماغ تو نہیں چل گیا
مگر یشال پوری توجہ سے باہر دیکھنے میں مصروف تھی
شانے بھی بے اختیار اپنی گردن موڑ کر بار دیکھا
بس ایک لمحہ لگا تھا یشال کو شاہ کے ہاتھ میں موجود کون کو اپنے قبضے میں لیتے ہوئے
کہاں ہے گھوڑا شاہ نے یشال کی طرف مڑتے ہوئے پوچھا جو مزے سے اسی کی آئس کریم کھانے میں مصروف تھی
کونسا گھوڑا کہاں کا گھوڑا کہاں ہے گھوڑا
یشال نے معصومیت سے ادھر ادھر دیکھتے ہوئے سوال کیا
شاه بے یقینی سے کبھی اپنے ہاتھ کو دیکھ رہا تھا تو کبھی اپنے سامنے موجود اپنی بیوی کو جو اسی کی آئس کریم کھانے میں مگن تھی
تم نے مجھے بیوقوف بنایا مجھ سے جھوٹ بولا شاه نے مصنوعی غصہ چہرے پر سجاتے ہوئے کہا
میں نے کیا جھوٹ بولا میں نے تو بس چھوٹو سا مذاق کیا آپ تو سیریس ہی ہو گے میری کیا غلطی
یشال مصومیت سے آنکھیں پٹپٹاتے ہوئے جواب دیا
لیکن میں نے تو آئسکریم کھائی ہی نہیں شاه نے افسرداگی چہرے پر سجاتے ہوئے جواب دیا
آپ اپنے لئے اور لے آئیں اس بار میں نہیں لوں گی آپ سے یشال نے شرمندگی سے سر جھکاتے ہوئے کہا
نہیں اب تمہیں اس بات کی سزا ملے گی
سزا کیسی سزا
یشال کے سامنے کیچن والا سارا منظر گھوم گیا وہ بے اختیار ونڈو کے ساتھ جڑ کر بیٹھ گئی
ابھی بتاتا ہوں جانم
شاه نے یشال كے ہونٹوں پرجھکتے ہوئے کہا
آپ کیا کر رہے ہیں یشال نے شاه كو خود جھکتے دیکھ کر اسے روکنے کی کوشش کرتے ہوئے کہا کوئی آجائے گا پلیز
شاه بھی جگہ اور وقت كو دیکھتے ہوئے با مشکل اپنے بے قابو ہوتے جذبات پر قابو پایا اور سیدھا ہو کر بیٹھ گیا ابھی تو میں تمہیں چھوڑ رہا ہوں مگر تم اس کی سزا ضرور ملے گی شاه نے خمار آلودہ لہجے میں جواب دیا اور گاڑی آگے بڑھا دی
سعد نے دین کا ریکارڈ لگانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی بار بار وہ اس کو گڑیا کو دیکھ کر کھو جانے پر اس کی ٹانگ کھینچ رہا تھا
کوئی تو کہہ رہا تھا کہ مجھے اس سے محبت نہیں ہاں یہ محبت نہیں عشق ہے عشق زین کو عشق کی بیماری لگ گئی ہے
اب تو اپنی ہونے والی دلہن کے لیے شاپنگ بھی اپنی مرضی اور پسند سے کی جا رہی ہے واه کیا بات ہیے
سعد اسے مسلسل تنگ كر رہا تھا
سعد كی ہر بات کا جواب میں ذہن مسکرا دیتا
واہ آج تو میرے یار کے چہرے سے مسکراہٹ ہی جدا نہیں ہورہی ہاے ماں صدقے ہاے ماں واری سعد نے اماں بی نقل کرتے ہوئے اس کی بلائیں لے ڈالی کافی دیر زین اس کی بے تکی باتیں برداشت کرتا رہا مگر جب برداشت جواب دے گی تو آخر بول ہی اٹھا
سعد یار کل ایک بہت عجیب بات ہوئی زین نے لہجے کو سنجیدہ بناتے ہوئے کہا زین کو سنجیدہ دیکھ کر سعد سیدھا ہو کر بیٹھ گیا کیا ہوا جگر سعدی نے پریشانی سے پوچھا
یار کل پوری تقریب میں کوئی میری سالی کو اپنی نظروں کے قید میں لیے ہوئے تھا
ایک پل بھی ایسا نہیں گزرا تھا جب اس نے رانو پر سے اپنی نظریں ہٹائی ہوں
میں ایسا کچھ نہیں کر رہا تھا سمجھا تو سعدی بے اختیار بولا
پر میں نے تیرا نام لیا ہی نہیں دین نے معصومیت کے سارے رکارڈ توڑتے ہوئے معصومیت سے جواب دیتے ہوئے کہا
پھر دونوں ہی ایک دوسرے کو دیکھ کر ہنس دیے
بتانا جگر کیا کیا معاملہ ہے زین نے سعد كے شانے پر بازو پھیلاتے ہوئے پوچھا ارے کچھ نہیں سعد نے ادھر ادھر دیکھتے ہوئے جواب دیا
ارے واہ ہمارا یار شرما رہا ہے آج کا دن تو ہسٹری میں سنہری حروف میں لکھا جانا چاہیے کہ سعدعلی شرما رہا ہے زین نےسعد کو مزید تنگ کرتے ہوئے کہا
بتانا یار کیا معاملہ ہے
یار پتہ نہیں میں اتنی لڑکیوں سے ملا ہوں جو بات اس میں ہے کسی میں نہیں جو معصومیت اس کے چہرے پر ہے وہ بس
میں ساری رات سو تک نہیں پایا سعد نے بیچارگی سے جواب دیا
زین سعد کے اس طرح کہنے پر بے اختیار ہنسا اور ہنستا چلا گیا
اماں بی کو کہنا پڑے گا کہ ان کا دوسرا بیٹا بھی دلہا بننے کی خواہش میں ہے
زین میں سعد کی طرف دیکھتے ہوئے کہا اس کی بات پر سعد بے اختیار مسکرا دیا
نہیں یار ابھی نہیں ابھی تو مجھے تیری شادی کی تیاری کرنی ہے پھر اماں دادو زمان انکل اور میں عمرہ کرنے جائیں گے واپس آکر شادی کا سوچوں گا سعد نے اس بار اسے تفصیل سے جواب دیا جس پر زین بھی مسکرا دیا
گاڑی جب پورچ میں آکر رکی شاه نے یشال کی طرف دیکھا جو کسی ماہر اداکارہ کی طرح سونے کی بھرپور ایکٹنگ کرنے میں مصروف تھی
شاہ گاڑی سے اترا تو یشال نے سکون کا سانس لیا اور دل ہی دل میں بر بڑائی بلا تلی
واه سیرت تمہارا آئیڈیا کام کر گیا
ابھی ٹھیک سے خوش بھی نہ ہو پائی تھی کہ اس کا سائیڈ کا دروازہ کھلا اور شاه نے اسے اپنی باہوں میں اٹھا لیا یشال ارے ارے ہی کرتی رہ گئی شاه اسے لیے اپنے کمرے کی جانب بڑھنے لگا ساتھ ہی اس کے کانوں میں سرگوشی كی جان نہ توتم سیرت ہو اور نہ ہی میں سا لار
اس لئے اچھا ہے سیرت کا ایک لفظ عشق چھوڑ کر میرے عشق پر توجہ دو
مگر آپ تو مجھ سے عشق کرتے ہی نہیں ہے ایک بار پھر یشال کی زبان غلط جگہ پر پھسلی تھی جیسے ہی یشال کو احساس ہوا کہ اس نے کیا کہا ہے اس نے اپنی زبان دانتوں میں دبا لی مگر اب کیا ہو سکتا تھا بات اس کی زبان سے نکل چکی تھی
جان شاه عشق کا بھی بتا دیں گے شاہ نے اسے مزید خود سے قریب کرتے ہوئے کہا
شاہ آپ نے یہ ایک لفظ عشق کہاں سے پڑھا کب پڑھا بتائیں نہ مجھے
یشال اد كو ادھر ادھر کی باتوں میں لگانے کی بھرپور کوشش کر رہی تھی مگر شاہ مسکراتا ہوا اسے اٹھائے آگے بڑھتا رہا
کمرے میں داخل ہوتے ہیں گلابوں کی خوشبو نے ان کا استقبال کیا
پورے کمرے کو پہلی رات کی دلہن کے کمرے کی طرح سجایا گیا تھا
یشال نے حیرانگی سے پورے کمرے پر ایک نظر ڈالی اور شا ه کی طرف دیکھا جو توجہ سے اسی کو دیکھنے میں مصروف تھا
شاه یه
یشال کے سارے الفاظ کیں گم ہوگئے شاه
اس کے قریب آیا اور اسے اپنے سینے سے لگا لیا
جانتا ہوں جان جو کچھ بھی ہمارے بیچ میں ہوا وہ بہت غلط تھا میں کسی بات كی صفائی نہیں دوں گا کیونکہ میں جانتا ہوں کہ جو کچھ بھی میں نے کیا غلط تھا
میں معافی کا بھی حقدار نہیں ہوں
میں پھر بھی تم سے معافی مانگنا چاہتا ہوں یشال نے بے اختیار شاہ کے لبوں پر اپنا ہاتھ رکھ دیا
جان آج مجھے مت روکو کہنے دو مجھے
لیکن میں تم سے وعدہ کرتا ہوں کہ آج کے بعد تمہاری زندگی میں صرف خوشیاں ہوگی صرف خوشیاں
کسی غم کو میں تمہارے نزدیک تک نہیں آنے دوں گا
جب تک اس جسم میں سانس باقی ہے کوئی دکھ کوئی غم میری یشال کو چھو تک نہیں پائے گا
بہت سے آنسو یشال پلکوں کی قید سے آزاد ہو کر اس کے گال بھگونے لگے
شاه نے یشال کو خود سے مزید قریب کر لیا اور اس کے رخساروں پر بہتے آنسو کو اپنے لبوں سے چننے لگا
یشال كی سانس اس کے سینے میں ہی کہیں قید ہو کر رہ گئی
شاه
یشال نے اپنے ایھتل پھتل ہوتی سانسوں کے درمیان اس کو پکارا
بولو جانم شاہ نے اس کے دوسرے رخسار لبوں سے سے چھوتے ہوئے جواب دیا
شاه مجھے بہت نیند آ رہی ہے یشال نے شاه باہو ں کا گھیرا توڑا اور تیر کی طرح سیدھی بیڈ پر جا کر لیٹ گئی اور سر تک چادر تان لی
شاہ اپنی بیوی کی اس ادا پر مسکرایا اور بیڈ پر اس کے ساتھ جاکر بیٹھ گیا
یشال تمہیں پتا ہے سالار نے جو
خواب دیکھا تھا
شاه جانتا تھا كے یشال اك لفظ عشق کی کتنی بڑی دیوانی ہے اس خواب كا كیا ہوا تھا
شاه نے یشال كی دکھتی رگ پر ہاتھ رکھا تھا
یشال نے چادر سے تھوڑا سا منھ باہر نکال کر دیکھا
شاه دونوں ہاتھ تھوڑی کے نیچے رکھے سوچنے کی بھرپور ایکٹنگ کرنے میں مصروف تھا وه
تھوڑی دیر تو اس کو دیکھتی رہی مگر جب اس سے برداشت نہ ہوا تو چادر پھینک کر اٹھ کر بیٹھ گئی
شاہ آپ کو پتا ہے سالار نے خواب میں دیکھا تھا کہ ایک لڑکی خوبصورت آواز کی مالک ہے اور صرف اسی کے لئے گانا گا رہی ہے مگر وہ اس لڑکی کا چہرہ دیکھ نہیں پایا تھا
پھر یشال اور بھی نہ جانے کیا کیا کہنے والی تھی کہ شاہ نے اس کے ہونٹوں پر اپنے لب رکھ دیے
اس کی چلتی زبان کو بریک لگا دیا
اسے اپنے عشق كی بارش میں بھیگو نے لگا یشال نے خود كو شاه کے حوالے کردیا اور اس کے عشق کی شدت کو محسوس کرنے لگی
جاری ہے
