Wehshat E Ishq by Saniya Shah NovelR50813 Wehshat E Ishq by Saniya Shah Episode14
Rate this Novel
Wehshat E Ishq by Saniya Shah Episode01 Wehshat E Ishq by Saniya Shah Episode02 Wehshat E Ishq by Saniya Shah Episode03 Wehshat E Ishq by Saniya Shah Episode04 Wehshat E Ishq by Saniya Shah Episode05 Wehshat E Ishq by Saniya Shah Episode06 Wehshat E Ishq by Saniya Shah Episode07 Wehshat E Ishq by Saniya Shah Episode08 Wehshat E Ishq by Saniya Shah Episode09 Wehshat E Ishq by Saniya Shah Episode10 Wehshat E Ishq by Saniya Shah Episode11 Wehshat E Ishq by Saniya Shah Episode12 Wehshat E Ishq by Saniya Shah Episode13 Wehshat E Ishq by Saniya Shah Episode14 (Watching)Wehshat E Ishq by Saniya Shah Episode15 Wehshat E Ishq by Saniya Shah Last Episode
Wehshat E Ishq by Saniya Shah Episode14
Wehshat E Ishq by Saniya Shah Episode14
شبنم بیگم کو گزرے تین ماہ سے زیادہ کا عرصہ گزر چکا تھا سب کچھ اپنے معمول پر آ چکا تھا شاه نے آفس جانا شروع کر دیا تھا یشال کی وہی روٹین . یاتو کچن میں شاه کے لئے کچھ نہ کچھ بنا رہی ہوتی کبھی گھر کی سیٹنگ چینج کر رہی ہوتی تو کبھی رانو سے لمبی لمبی کالیں چل رہی ہوتی
شاہ اور یشال اپنی زندگی سے پوری طرح مطمئن تھے وہ دونوں ایک دوسرے کے ساتھ بے حد خوش اور مکمل تھے
آج بھی یشال کچن میں شاه کے لیے کوئی اٹالین
ڈش تیار کرنے میں لگی ہوئی تھی کہ دینو بابا نے اسے سعد بھائی اورشاه كے آنے کی اطلاع دی
سعدی کے آنے کا سن کر وہ بے اختیار خوش ہوگی
اسلام علیکم سعد بھائی کیسے ہیں آپ اور آج کے دن بعد آپ کو اپنی بہن کی یاد کیسے آگئی
یشال نے شکوہ کرتے ہوئے کہا
ارے جاؤ یار کونسی بہن کون سا بھائی کونسا یار کسی کو میرا خیال ہی نہیں ہے ایک یہ ذین خود تو شادی کر کے بیٹھ گیا میرا کسی کو خیال نہیں آتا
سعد نے ذین کی طرح اس طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا
ایک مجھے تم سے ہی امید کہ چلو میری بہن ہے میرے بارے میں ضرور سوچے گی مگر نہیں جی ہماری بہن کو کب ہماری پرواہ ہے
بس ہم تو دنیا داری کے لیے بھائی ہیں کسی نے ہمیں بھائی سمجھا ہی کب ہے
اور ایک وہ ہماری اماں جان جن کو لگتا ہے کہ ابھی تو میں خود بچہ ہوں بلا بیوی کو کیسے سنبھالوں گا
شاه کی بار تو نہیں لگا تھا بچہ ماشاللہ ایک سال ہونے کو آیا ہے شادی کو اور ایک میں ہی بچہ لگتا ہوں سب کو
مطلب یہ تو حد ہو گئی ناانصافی کی جس عمر میں ذین دادا بنے گا اس عمر میں اچھا لگوں گاباپ بنتے
شاہ جو کافی دیر سے اس کی بك بك سن رہا تھا اس بات پر ہنس دیا جب کہ یشال بری طرح شرما دی
سعد بھائی آپ بھی
بتائیں تو آخر ہوا کیا ہے یشال نے معصومیت سے سوال کیا
ہوا کیا ہے تمہیں ابھی تک پتہ نہیں چلا کہ کیا ہوا ہے سعدی کا دل کیا کہ اپنا سر دیوار پر دے مارے
میری پیاری بہن کسی کی یاد میں بے قرار ہوگیا ہوں میں بھوک نہیں لگتی پیاس نہیں لگتی سارا سارا دن اس کے خیالوں میں کھویا رہتا ہوں کسی کام پر توجہ نہیں دے پاتا
اب اسے اپنی زندگی میں شامل کرنا چاہتا ہوں اس سے شادی کرنا چاہتا ہوں
اور کچھ جاننا چاہتی ہو تو بتاؤ
سعدی نے کسی فلمی غمگین ہیروئن کی طرح ایکٹنگ کرتے ہوئے جواب دیا
شاہ تو ہنس ہنس کر برا حال ہو چکا تھا جبکہ یشال ابھی تک سمجھنے کی کوشش کر رہی تھی کہ یہ چکر کیا ہے
کون ہے وہ لڑکی جسے آپ پسند کرتے ہیں آخر یشال کے دماغ میں بات آہی گی
کون ہو سکتی ہے وہی لڑاکا بلی جس نے آپ کی شادی میں میرے بھائی کو کنگال کر دیا تھا
سعدی نے شرماتے ہوئے جواب دیا
کیا مطلب آپ رانو کو پسند کرتے ہیں آپ رانو سے پیار کرتے ہیں
رانو بھی آپ کو پسند کرتی ہے اتنی بری بات ہے میری بیسٹ فرینڈ نے مجھے بتایا تک نہیں کب سے چل رہا ہے یہ سارا چکر
اس کی تو میں بعد میں خبر لونگی
یشال نے سعدی کو گھورتے ہوئے سوال پر سوال کیا
ارے بہنا ذرا سانس تو لو وہ تو میری جان کی پکی والی دشمن ہے پوری لڑاکا بلی ہے کاٹ کھانے کو دوڑتی ہے
مجھے روڈ سائیڈ ریمیو عاشق آوارہ بے غیرت انسان اور نہ جانے کیا کیا سمجھتی ہے
بلکہ دو بار تو اپنے معصوم گال پر اس کے ہتھوڑے جیسے ہاتھوں سے تھپڑ بھی کھا چکا ہوں
سعدی نے معصومیت کے سارے ریکارڈ توڑتے ہوئے جواب دیا اس بار یشال بھی کھلکھلا کر ہنس دی
تم تو میری پیاری بہن ہوں ذرا معاملہ کی کلیئر کروا دو نا
میرے ہونے والے بچے بھی تمہیں دعا دیں گے
اسے سمجھاؤں کہ میں کوئی ایسا ویسا انسان نہیں ہوں بہت شریف اور سیدھا سادہ سا بندہ ہوں
سعدی نے منت کرنے والے انداز میں یشال کو کہا
ہاں تو یہ بات ہے سعدی بھائی اب آپ بالکل بھی فکر نہ کریں کیونکہ آپ کی وکیل یشال شاه ہیے اور میں کبھی بھی نہیں ہار تی انشاءاللہ ہم یہ کیس بھی جیت جائیں گے
یشال بےحد خوش تھی کہ اس کی پیاری دوست کے نصیب میں ایک اتنا اچھا انسان لکھا ہے
یہ ہوئی نہ میری بہن والی بات
چلو اب اسی بات پر جلدی سے مجھے کچھ کھلا دو بہت بھوک لگی ہے تین چار دن سے کچھ کھایا بھی نہیں سعد نے دہائی دینے والے انداز میں کہا
جبکہ شاه بس اسے دیکھ کر رہ گیا کیونکہ ابھی آفیس میں وہ دو برگر تین سموسے اور دو کوک کے کین ہضم کر كے آ رہا تھا
دوسری طرف یشال جلدی سے کھانا لگانے کے لئے اٹھ کھڑی ہوئی
__________
رات کو یشال کافی دیر تک اماں بی سے فون پر بات کرنے کے بعد کمرے میں آئی تھی
شاہ بیڈ کے ساتھ ٹیک لگائے اسی کا انتظار کر رہا تھا
ارے جان آج اتنی لیٹ کیا باتیں ہورہی تھیں اماں سے
شاہ آپ کو پتا ہے میں بے حد خوش ہو ں رانو اور سعد بھائی ایک ساتھ کتنے اچھے لگیں گے نہ
وہ اس کے ساتھ بیڈ پر بیٹھتے ہوئے بولی
ہاں وہ تو ہے لیکن تم کہاں تھی آج تمہارا بھائی کیا آیا تم تو اپنے معصوم شوهر کو بھول ہی گئی
شاه نے اسے اپنی باہوں کے حصار میں لیتے ہوئے شکوہ کیا
ارے نہیں ایسا کچھ نہیں ہے میں تو آپ کو بتا رہی تھی کہ اماں بی سے میں نے بات کر لی ہے وہ تو خود چاہتی ہیں رانو ان کے گھر کی بہو بنے
میں اور اماں بی كل با قائدہ پاپا کے ہاں رشتہ لے کے جا رہے ہیں
کتنا مزا آئے گا نہ شادی میں
یشال کب سے اپنی ہی بولے جا رہی تھی جبکہ شاہ اس کی زلفوں میں کھویا ہوا تھا
شاہ آپ میری بات سن رہے ہیں
شاہ کو خود سے الگ کرتے ہوئے یشال نے مصنوعی غصے سے اسے گھورا
میں تو ہر وقت بس تمہیں سنتا ہوں تمہیں دیکھتا ہوں
شاه نے معصومیت سے جواب دیا
وہ ابھی اور نہ جانے کیا کہنے والی تھی کہ شاہ نے ایک جھٹکے سے اسے اپنے قریب کیا
اور اس کے ہونٹوں پر اپنے ہونٹ رکھ دیے
________
یشال اور اماں بھی جس وقت زمان والا میں پہنچے رانو گھر پر موجود نہیں تھی
وہ لائبریری گئی ہوئی تھی
اماں بی نےبنا آگے پیچھے کی بات کیے زمان سے
سعدی کے لیے رانو کا ہاتھ مانگ لیا
بہن مجھے تو کوئی اعتراض نہیں ہے جیسے میرے لئے ذین ہیں ویسے ہی سعدی بھی ہے گھر کا دیکھا بھالا بچہ ہے مجھے بھلا کیا اعتراض ہو سکتا ہے
لیکن میں پھر بھی ایک بار انو سے بات کرنا چاہتا ہوں
اس کی فکر آپ مت کریں پاپا اس سے بات کر لوں گی یشال جلدی سے بولی
پھر مجھے بھلا کیا اعتراض ہو سکتا ہے جیسے آپ لوگوں کی مرضی
زمان صاحب نے مسکراتے ہوئے جواب دیا
پا پا ہم سب ایسا کرتے ہیں کہ آج رات آپ ڈنر ہمارے ساتھ کریں اور میں رانو سے بات بھی کر لوں گی
یشال نے جلدی سے سارا پروگرام سیٹ کر لیا
جس پر اماں بی اور زمان صاحب دونوں ہنس دیے.
_____…
شاه آج آفس سے جلدی اٹھ آْ یا تھا کیوں كے یشال گھر میں اکیلی تھی سکینہ اور اس کی بیٹی اپنے کسی رشتہ دار سے ملنے کے لیے گئی ہوئی تھی اور یشال نے سب کوڈنر پر بلایا تھا
اوپر سے اس کی طبیعت صبح سے ہی کچھ ناساز تھی
شاہ جب گھر پہنچا تو یشال کچن میں مصروف تھی
کیا ہو رہا ہے جان شاہ
کچھ نہیں شاہ بس ڈنر کی تیاری کر رہی ہوں یشال نے مصروف سے انداز میں جواب دیا
میں نے کہا بھی تھا کے باہر سے کھانا منگوا لیتے ہیں کیوں تم اتنی محنت کر رہی ہو
شاه نے پیار سے اس كے چہرے سے بالوں کی لٹیں ہٹاتے ہوئے کہا
نہیں نا مجھے یہ سب کرنا اچھا لگتا ہے اور آپ کو ہوا کیا ہے کام ہی کتنا ہے کبھی آپ نوکر رکھنے کی بات کرتے ہیں کبھی آپ کھانا باہر سے منگوانے کی بات کرتے ہیں
یشال نے ناراضگی سے شاه كو گھورتے ہوئے سوال کیا
کیونکہ میں نہیں چاہتا کہ تم کام کرو میں چاہتا ہوں تم بس خوش رہو
تو مجھے یہ سب کرکے خوشی ہی تو ملتی ہے یشال نےشرارت سےآْٹے والے ہاتھ شاہ کی ناک پر لگاتے ہوئے جواب دیا
اچھا لاؤ میں تمہاری مدد کر دیتا ہوں
آپ میری مدد کریں گے یشال نے مذاق اڑانے والے انداز میں شاه کو چھیڑا
ہاں تمہیں کیا لگتا ہے مجھے کھانا بنانا نہیں آتا تم پیچھے ہٹو دیکھو میں ا بھی کیسے آٹا گوندھتا ہوں
شاہ نے یشال کو وہاں سے ہٹاتے ہوئے اپنی شرٹ کے بازو فولڈ کئیے اور آٹا گوندھنے لگا
جبکہ یشال کا ہنس ہنس کے برا حال تھا
شاه نے آٹے میں پانی بہت زیادہ ڈال دیا تھا
شاہ ایک نظر ہستی ہوئی اپنی بیوی پر ڈال رہا تھا جبکہ دوسری نظر اپنے ہاتھ میں موجود تھالی پر جسے میں آتا کم اور پانی زیادہ تھا
آپ ہٹے یہاں سے مجھے یقین آ گیا کہ آپ دنیا کے سب سے اچھے کوک ہے
یشال نے ہنستے ہوئے شاہ کو وہاں سے ہٹایا اور خود آٹا گوندھنے لگی
جب اچانک شاہ نے اسے اپنے حصار میں لیا اور کمر سے پکڑ کر اسے خود سے بے حد قریب کر لیا
شا ه پلیز چھوڑیں مجھے
میں کام کر رہی ہوں یشال نے اسے خود سے الگ کرنے کی ناکام کوشش کی
کرو ناکام میں نے کب منع کیا ہے شاه نے ایک بار پھر یشال کو خود سے قریب تر کر لیا
تھبی باہر سے رانعم یشال کو ڈھونڈتے ہوئے کچن میں داخل ہوئی
گڑیا مجھے بتا تو دیتی میں جلدی آ جاتی تمہاری مدد
اندر کا منظر دیکھ کر اس کی باقی بات منہ میں ہی رہ گئی اس نے اپنے ہاتھ جلدی سے اپنے آنکھوں پر رکھنے کے بجائے کانوں پر رکھ لئے
میں نے کچھ بھی نہیں دیکھا بلکہ میں تو یہاں ابھی آئی بھی نہیں ہو رانو نے معصومیت سے کہا
شاہ جلدی سے یشال سے الگ ہوا میں تو بس آٹا…. کچھ نہیں آتا تمہاری دوست کو سب کام بالکل بھول چکی ہے میں بس اس کی مدد کر رہا تھا وه اور بھی کچھ کہتا کہ رانعم کو ہنستے دیکھ کر وہاں سے نکلتا چلا گیا
یشال کا چہرہ لال ٹماٹر کے جیسا ہو گیا تھا رانو اور یشال نے ایک دوسرے کو دیکھا دونوں کھلکھلا کر ہنس دی
______
ڈنر خوشگوار ماحول میں کیا گیا ڈنر کے بعد اماں نے رانو کو اپنے پاس بلایا اور اپنی خاندانی انگوٹھی جو انہیں انکی مرحومہ ساس نے پہنائی تھی وہ اس کی انگلی میں ڈال دی رانو ہکا بکا سی دیکھتی رہ گئی اسے کچھ سمجھ ہی نہیں آ رہا تھا
وہ سب کو یک تک دیکھ رہی تھی جو بے حد خوش تھے رانو نےکچھ کہنے کے لیے لب کھولے ہی تھے کہ اماں بی بول اٹھی
جب تک تم نہیں چاہتی رخصتی نہیں ہوگی تم آرام سے اپنی تعلیم مکمل کر سکتی ہو
رانعم بنا کچھ کہے خاموشی سے وہاں سے اٹھ کر چلی گئی
جسے اماں بی نے شرم کا نام دیا
سعد کے تو پاؤں ہی زمین پر نہیں تک رہے تھے اسے ابھی تک یقین نہیں آرہا تھا کہ رانو اتنی آسانی سے مان سکتی ہے وہ بے حد خوش تھا جبکہ
دوسری طرف رانو کمرے میں مسلسل یہاں سے وہاں چکر کاٹ رہی تھی
اسے ابھی تک یقین نہیں آرہا تھا کہ یہ سب اچانک ہوا کیسے
وہ نظرباز فلرٹی انسان مجھ سے شادی کیسے کر سکتا ہے
رانو مرگی
رانو نے اپنے ہی ہاتھوں سے اپنا سر پیٹ ڈالا تھا
رانو کا دل کر رہا تھا کہ اپنا سر دیوار پر دے مارے مگر اس سے تو درد مجھے ہی ہوگا نا
ہاںےیہ ضرور مجھ سے بدلہ لینے کے لیے شادی کرنا چاہتا ہے میں نے اسے تھپڑ مارا تھا نہ اب میں کیا کروں کس سے بات کروں كون مجھے اس ظالم انسان سے بچائے گا
مجھے گڑیا سے بات کرنی ہوگی وہی میری مدد کر سکتی ہے مجھے نہیں کرنی اس انسان سے شادی
وہ جلے پیر کی بلی کی طرح یہاں سے وہاں چکر کاٹ رہی تھی
_____
شاہ میری بات سنیں یشال نے شاہ کو پکارا
ہاں بولو جان
وہ انگلیاں مروڑتے ہوئے اس سے کچھ کہنے کی کوشش کر رہی تھی
بالکل بھی نہیں
تم جانتی ہو نہ مجھے تمہارے بنا رہنا پسند نہیں
مجھے تو تمہارے بنا نیند بھی نہیں آتی
شاه نے اسے اس کے ارادے سے باز رکھنے والے انداز میں کہا
ایک ہی تورات کی بات ہے مجھے رانو سے بہت سی باتیں کرنی ہیں
ہاں تو میں صبح میں خود لے جاؤں گا نا
شاه نے یشال کو اپنی باہوں میں بھرتے ہوئے کہا
شاہ پلیز بس
آج کی رات
یشال نے معصومیت بھرے انداز میں شاہ کو منانے کی کوشش کی
جان یہ میرے لئے ایک رات نہیں ایک سال جیسا ہوگا میں تم سے ایک پل بھی دور نہیں رہ سکتا اور تم مجھ سے دور جانا چاہتی ہوں
میں آپ سے دور تھوڑی جاننا چاہتی ہوں یشال جلدی سے بول اُٹھی تو پاس آنا چاہتی ہوں شاه نے اس کو مزید خود سے قریب کرتے ہوئے اس کے کانوں میں سرگوشی کی
شاه میں رانو سے سعد بھائی کے بارے میں بات کرنا چاہتی ہوں وہ شام سے ہی کافی چپ چپ سی ہے
ہاں تو اسے یہاں روک لو نا
شاه شادی کے بعد ایک بار بھی بابا کے ہاں نہیں گئی بس آج کی رات کی تو بات ہے میں صبح ہوتے ہی واپس آ جاؤں گی
اوکے ٹھیک ہے مگر بس آج کی رات شاه ہار ماننے والے انداز میں کہا
تھینک یو شاہ آپ بہت اچھے ہیں
یشال نے جلدی سے اس کے گال پر کس کی اور وہاں سے باہر نکل گئی
جبکہ شاہ اس کی اس حرکت پر بس گہری سانس بھر کر رہ گیا.
جاری ہے
