Wehshat E Ishq by Saniya Shah NovelR50813 Wehshat E Ishq by Saniya Shah Episode11
Rate this Novel
Wehshat E Ishq by Saniya Shah Episode01 Wehshat E Ishq by Saniya Shah Episode02 Wehshat E Ishq by Saniya Shah Episode03 Wehshat E Ishq by Saniya Shah Episode04 Wehshat E Ishq by Saniya Shah Episode05 Wehshat E Ishq by Saniya Shah Episode06 Wehshat E Ishq by Saniya Shah Episode07 Wehshat E Ishq by Saniya Shah Episode08 Wehshat E Ishq by Saniya Shah Episode09 Wehshat E Ishq by Saniya Shah Episode10 Wehshat E Ishq by Saniya Shah Episode11 (Watching)Wehshat E Ishq by Saniya Shah Episode12 Wehshat E Ishq by Saniya Shah Episode13 Wehshat E Ishq by Saniya Shah Episode14 Wehshat E Ishq by Saniya Shah Episode15 Wehshat E Ishq by Saniya Shah Last Episode
Wehshat E Ishq by Saniya Shah Episode11
Wehshat E Ishq by Saniya Shah Episode11
__
رات کا ناجانے کون سا پہر تھا جب یشال کی آنکھ کھلی وه اس کے ساتھ بیڈ پر موجود نہیں تھا ایک لمحے کے لئے تو وہ خوف کا شکار ہوئی مگر دوسرے ہی لمحے اسے ٹیبل لیمپ کی ہلکی روشنی میں وہ بیٹھا نظر آیا جو سر جھکائے کچھ لکھنے میں مصروف تھا
وہ تجسس کا شکار ہوئی کیوں کہ یہاں آنے سے پہلے وہ اپنا تمام کام اپنے پارٹنر کو سونپ آیا تھا جو قابل اعتماد اور اس کا بہت قریبی دوست تھا
تجسس کے ہاتھوں مجبور ہوکر یشال خاموشی سے بستر سے اٹھی اور دبے پاؤں قدم اٹھاتی اس کے قریب آ گئی
وہ عورت پھر سے میری زندگی تباہ کرنے کے لئے آگئی ہے بابا
شا ه تیزی سے لکھنے میں مصروف تھا کہ اچانک سے اپنے پیچھے کسی کی موجودگی کا احساس ہوا اس نے جلدی سے ڈائری بند کی اور کرسی سے اٹھ کھڑا ہوا
کیا ہوا جان تم اچانک کیوں جاگ گئی
ایسے ہی پیاس لگی تھی تو آنکھ کھل گئی ہے یشال نے کھوجتی نظروں سے شاہ کو دیکھتے ہوئے جواب دیا
آپ کیا لکھ رہے تھے یشال نے شاه کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے سوال کیا کچھ نہیں کچھ افس ورک تھا شاہ نے اسے باہوں کہ حصار میں لیتے ہوئے کہا
شاہ آپ مجھ سے کچھ چھپا تو نہیں رہے یشال نے اس کے سینے پر سر رکھے ہوئے سوال کیا
نہیں جان تم سے کچھ کیوں چھپاؤں گا رات کافی ہوچکی ہے آرام کرو شاہ اس کو ساتھ لیے بیڈ کی جانب آیا
مجھے نیند نہیں آرہی یشال نے بچوں کی معصومیت سے کہا
اچھا او باتیں کرتے ہیں شاه نے یشال کے بالوں میں منہ چھپاتے ہوئے کہا
یشال کی سانسیں بے ترتیب ہونے لگیں بات تو چھوڑو اب تو وہ سانس بھی بہت مدھم لے رہی تھی
شاه
اس نے شاه كے سینے پر ہاتھ رکھ کر اسے خود سے دور رکھنے کی کوشش کی
بولو جان شاه
شاه نے اس کے بالوں میں منہ چھپائے جواب دیا
ہم باتیں کرنے والے تھے نہ یشال منہ بسورتے ہوئے کہا
جان تو کرو نہ باتیں میں سن رہا ہونا
ایسے میں کیسے بات کروں یشال نے بے چارگی سے کہا
شاہ اسے مزید تنگ کرنے کا ارادہ ترک کرکے اس سے الگ ہو کر بیٹھ گیا
جانم ایک بات تو بتاو میں تم سے بہت محبت کرتا ہوں
اور ہمیشہ اظہار بھی کرتا ہوں
یہ تو میں جانتا ہوں کہ تم بھی مجھ سے اتنی ہی محبت کرتی ہوں مگر تم نے کبھی اظہار نہیں کیا آج تو اپنے منہ سے کہہ دو کہ تم بھی مجھ سے محبت کرتی ہو
شاه نےخاموش بیٹھی یشال کو اپنی بانہوں کے حصار میں لیتے ہوئے سوال کیا
آپ سے یہ کس نے کہا کہ میں یشال شاہ آپ سے محبت کرتی ہوں یشال نے خوبصورت مسکان کے ساتھ سر جھکاتے ہوئے جواب دیا
اچھا تم مجھ سے محبت نہیں کرتی شاہ نے اس کے گلابی گال کو چھوتے ہوئے پھر سے اپنا سوال دہرایا
نہیں یشال نے نفی میں گردن ہلاتے ہوئے جواب دیا جبکہ شاہ اسے خود سے بے حد قریب کرچکاتھا
نہیں شاہ نے اس کا چہرہ اوپر اٹھا کر پھر سے اپنا سوال دہرایا یشال نے بنا کوئی جواب دیئے چہرہ اس کے سینے میں چھپا لیا
جانم دیکھ لینا
ایک دن تو مجھ سے اظہار محبت ضرور کرو گی
شاه نے اس کے کان میں سرگوشی کی اور اسے خود میں سمو لیا
__
اگلی صبح جب یشال کی آنکھ کھلی تو شاہ کمرے میں موجود نہیں تھا رات کو تو شا ه کی قربت میں سب کچھ بھول گئی تھی مگر اب رات کا سارا منظر کسی فلم کی طرح اس کی آنکھوں میں گھوم رہا تھا شاہ کا اسے دیکھ کر ڈائری چھپانا پھر سے وہ عورت زندگی تباہ
یشال كو کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا کہ یہ سب کیا ہے کون ہے وہ عورت جس کا ذکر شاہ نے اپنی ڈائری میں اپنے بابا کو مخاطب کرتے ہوئے کیا تھا
اس کے علاوہ کچھ پڑھ بھی نہیں پائی تھی کہ اسے سمجھ آتا
اپنے تجسس سے مجبور ہوکر یشال جلدی سے اٹھی اور شاہ كی ٹیبل پر جاکر وہ ڈائری تلاش کرنے لگی مگر یشال کو ڈائری کہیں بھی نہ ملی وہ پریشان سی واپس بیڈ پر جا کر بیٹھ گئی
شاہ ہاتھوں میں ناشتہ لے کر کمرے میں داخل ہوا
ارے واه بیوی
تم تو بڑی جلدی اٹھ گئی مجھے لگا تھا کہ تم ابھی سو رہی ہوگی شاہ نے پیار سے اس کے بال سوارتے ہوئے کہا
ہاں بس آنکھ کھل گئی میں ابھی فریش ہو کر آتی ہوں وہ جلدی سے واش روم میں گھس گئی جبکہ شاہ اس کے بدلے ہوئے رویہ پر غور کر رہا تھا
كیا یشال لے کچھ پڑھ لیا ہے شاه نے ماتھے پر ہاتھ مارتے ہوئے سوچا
لیکن میں نے تو ڈائری کل رات کو ہی چھپا دی
وہ انہی سوچوں میں گم تھا کہ یشال گیلے بالوں میں پنک کلر کی خوبصورت انارکلی فراک پہنے باہر نکلی اس کا معصوم حسن بنا کسی میک اپ كے هی غضب ڈھا رہا تھا شاہ کو خود کو سنبھالنا مشکل ہو گیا وہ آہستہ آہستہ قدم اٹھاتی شاہ کے برابر بیڈ پر بیٹھ گئی
وہ بے خودی کے عالم میں اسے دیکھنے میں مصروف تھا
شاه کے اس طرح دیکھنے پر یشال کی پلکیں جھك گئی اور اس کے رخسار سرخ ہوگئے
شاه …
یشال نے دھیرے سے اسے پکارا
مگر شاہ نے کوئی جواب نہ دیا
شاه…
یشال میں اس بار قدرے اونچی آواز میں شاہ کو پکارا
جس پر شاہ ہوش کی دنیا میں واپس آیا
اهاں
ایسے کیا دیکھ رہے ہیں یشال نے شاه کی طرف سوالیہ نظروں سے دیکھا
بیوی کے تم دن با دن خوبصورت ہوتی جا رہی ہو
شاه نے اس کے بھیگے بالوں کی لٹیں کانوں کے پیچھے اڑستے ہوئے اس کے گال پر اپنے لب رکھ دئے
شاه پلیز
یشال نے اس کے سینے پر ہاتھ رکھتے ہوئے اسے خود سے الگ کیا
ابھی وہ واپس اس پر جھکا تھا کہ یشال بول اٹھی
شاه مجھے بھوک لگی ہے
شاه اس کے گریز پر مسکرا دیا اور ناشتے کی ٹیبل اس کے سامنے کی
دیکھو جان آج میں نے اپنے ہاتھوں سے تمہارے لیے ناشتہ بنایا ہے
دونوں نے خوشگوار ماحول میں ناشتہ کیا اور گھومنے کے لیے نکل گئے
____
کاغان کے مختلف علاقوں میں گھومتے گھومتے دن کے دو بج چکے تھے اب یشال كو بھوک ستا رہی تھی شاہ بات سنیں نہ وه جو اس کی تصویریں كلک کرنے میں مصروف تھا یشال نے اسے پکارا کیا بات ہے جانم اچھا سا پوز دونہ شاہ نے موبائل کا کیمرہ اس کے چہرے پر زوم کرتے ہوئے جواب دیا شاہ چھوڑیں نہ یہ پکچر مجھے بھوک لگی ہے
شاه یشال سے کہیں بار پوچھ چکا تھا کہ لنچ کر لیتے ہیں مگر یشال انکار کر دیتی
وہ اس کی ایکسائٹمنٹ پر مسکرا دیتا
تھوڑا سا آگے چلو وہاں بہت اچھا ریسٹورنٹ ہے وہاں سے ہم لوگ لنچ بھی کرلیں گے اور تم تھوڑی دیر آرام بھی کر لینا
نہیں نہ مجھ سے اب نہیں چلا جاتا مجھے بہت بھوک لگی ہے یشال و ہی رکھے ایک پتھر پر بیٹھ چکی تھی
جانم تھوڑا سا اور آگے بس پانچ منٹ شاه اسے سمجھاتے ہوئے کہا میں
کچھ نہیں جانتی شاہ آپ مجھ سے اور نہیں چلا جاتا
یشال نے بیچارگی سے شاه کی طرف دیکھتے ہوئے کہا
اب تو میرے پاؤں بھی دکھ رہے ہیں
شاہ اس کی آنکھوں میں موجود شرارت محسوس نہیں کر پایا وہ تو اس کے پاؤں کا درد سن کر ہی پریشان ہو چکا تھا
کیا بہت درد ہو رہا ہے شاه اس کے پاس زمین پر پنجوں کے بل بیٹھ گیا
ہاں بہت
یشال نے تکلیف کے تاثرات چہرے پر لاتے ہوئے جواب دیا
شاه ابھی اس کے پاؤں کو ہاتھ لگانے ہی والا تھا کہ
یشال نے ہاتھ میں موجود برف کے گولے کو شاہ کے سر پر دے مارا
ایک پل کے لئے تو شاہ کی آنکھوں کے آگے تارے ناچنے لگے
جبکہ یشال وہاں سے ہستی ہوئی بھاگ کھڑی ہوئی تھی
اب سین کچھ ایسا تھا کہ آگے آگے ہنستی ہوئی یشال بھاگ رہی تھی اور شاه ا سے پکڑنے کی کوشش میں اس کے پیچھے بھاگ رہا تھا
یشال دھیان سے گر مت جانا شاه اسے اس طرح بھاگتے دیکھ کر ٹو کے بنا نہ رہ سکا
کچھ نہیں ہوتا شاہ آپ بھی نا ایسے ہی ڈرتے رہتے —
ابھی یشال کی بات منہ میں ہی تھی کہ وہ اپنی تمام شرارتوں سمت زمین بوس ہو چکی تھی
یشال کو اس طرح گرتے دیکھ کر شاہ بےاختیار ہنس دیا
جبکہ وہ شاہ کو اس طرح ہنستے دیکھ کر منہ بسورتی ہوئی اٹھی اور منہ موڑ کر کھڑی ہوگئی
شاه نے جب اپنی پیاری سی بیوی کی ناراضگی محسوس کی تو ہنستا ہوا اس کی جانب بڑھا اور اسے اپنی مضبوط بازو میں اٹھا لیا
شاہ کیا کر رہے ہیں آپ لوگ دیکھ رہے ہیں یشال نے سٹپٹاتے ہوئے کہا
تو دیکھنے دو نہ جان
کونسا کسی اور کی بیوی کو اٹھا رہا ہوں اپنی خود کی بیوی کو ہی تو اٹھا رہا ہوں کسی کا کیا جاتا ہے
شاہ اسے اٹھاے ہوئے آگے بڑھا
شاہ میں خود چل سکتی ہوں وہ دھیمی آواز میں منمنائی
جانتا ہوں جانم کے تم چل سکتی ہوں مگر وہ کیا ہے نہ تمہارے پاؤں میں بہت درد ہو رہا ہے اور میں تمہیں درد میں کیسے دیکھ سکتا ہوں شاه شرارت بھرے لہجے میں جواب دیا
جس پر یشال ہستی ہوئی اس کے سینے میں منہ چھپا گئی…
__…
شاه كا فون کافی دیر سے بج رہا تھا جسے وه مسلسل اگنور کر رہا تھا
شاہ آپ کا فون بج رہا ہے یشال نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر اسے فون کی طرف متوجہ کیا…
شاه كو کل رات سے ہی ہلکا ہلکا بخار تھا جس کی وجہ سے یشال نے آج کہیں بھی باہر جانے سے صاف انکار کردیا تھا شاه نے اسے بہت بار کہا کہ وہ ٹھیک ہے ہلکا سا بخار ہی ہے مگر یشال کہیں بھی جانے کے لیے تیار نہ ہوئی نہ صرف اس نے باہر جانے سے انکار کر دیا بلکہ وہ تو شاہ کو بیڈ سے ہلنے تک كی اجازت نہیں دے رہی تھی بار بار آ کر اس کا بخار چیک کر رہی تھیں وه بہت پریشان تھی صبح سے دو بار ڈاکٹر کو بلواکر چیک اپ بھی کروا چکی تھی اس کا دل انجانے خوف سے دھڑک رہا تھا
اسے رہ رہ کر اپنا وہ خواب یاد آرہا تھا
شاہ بجتے فون کی طرف متوجہ ہوا
میں نے کہا نہ میں نہیں آسکتا اور اگر میں آ بی پاتا تو اس عورت کے لئے میں کبھی بھی وہاں نہ تھا میں
نے ایک بار بول دیا نہ کہ اس عورت کے ساتھ میرا کوئی رشتہ نہ کبھی تھا اور نہ کبھی ہوگا یہ
بات تو وہ جتنی جلدی سمجھ لے ان کے لیے اتنا ہی اچھا ہوگا
اللہ اور رسول کے واسطے نہ دو وہ عورت کسی کی نہیں ہو سکتی
اس کی وجہ سے میں نے اپنی زندگی کی ہر خوشی كھو دی ہے
اب میں اپنی زندگی پر اس منہوس عورت کا سایہ بھی نہیں پڑھنے دینا چاہتا
آخری بار ملنا ہاہاہا
شاه نے طنزیہ ہنسی ہنستے ہوئے جواب دیا
اس عورت سے زندگی میں کبھی بھی ملنا نہیں چاہوں گا اگر وہ مجھے کہیں رستے میں بھی نظر آگئی تو تو میں اپنا منہ موڑ لونگا
شاہ غصے میں چلا رہا تھا جب یشال اندر داخل ہوئی جسے اس نے اپنے لئے کافی بنانے کے لیے بھیجا تھا
میں نہیں آ سکتا تو نہیں آسکتا بس بات ختم
شاه نے یشال کو دیکھ کر کال کاٹ دی
….
کیا بات ہے شاہ آپ اتنے غصے میں کیوں ہیں
کچھ بھی نہیں جان میں ان لوگوں کو منع کر رہا ہوں کہ میں نہیں آسکتا آخر میں اپنی پیاری بیوی کی بات کیسے ٹال سکتا ہوں مگر پھر بھی مجھے بار بار فون کرکے تنگ کر رہے ہیں تو غصہ ہی آئے گا شاه نے یشال کو اپنی باہوں میں لیتے ہوئے جواب دیا
شاہ آپ چھوڑیے مجھے میں آپ کو یہ کہنے کے لئے آئی تھی اس وقت آپ کافی نہیں پی رہے بلکہ کھانے کا وقت ہو رہا ہے تو ہم ساتھ کھانا کھائیں گے
یشال نے شاہ كے باہوں کے حصار سے نکلتے ہوئے اسے گھورا
اور آپ کو تو ہر وقت بس رومینس ہی سوچتا رہتا ہے
نہیں جانم اب بالکل بھی دل نہیں کر رہا ابھی کچھ بھی کھانے کا ابھی تھوڑی دیر سونا چاہتا ہوں پلیز تھوڑی دیر کے لئے کوئی بھی مجھے ڈسٹرب نہ كرے شاه نے بیڈ پر نیم دراز ہوتے ہوئے جواب دیا
ٹھیک ہے شاہ آپ آرام کریں میں ذرا نیچے کے پورشن کی صفائی کر لوں خان بابا بیچارے اکیلے کیا کیا کریں یشال بڑبڑاتے ہوئے وہاں سے چلی گئی جاتے ہوئے وہ لائٹ آف کرنا اور دروازہ بند کرنا نہیں بھولی تھی
شاه اس کی اس حرکت پر بے اختیار مسکرا دیا
………………………
یشال دو گھنٹوں کے بعد جب کمرے میں داخل ہوئی تو شاه کہیں جانے کے لیے تیار کھڑا تھا
شاه آپ کہاں جا رہے ہیں آپ کی طبیعت…
یشال ا بھی کچھ کہنے والی ہی تھی کہ شاه نے اس کی بات کاٹ دی
جان میں بالکل ٹھیک ہوں ایک ضروری کام سے کہیں جانا ہے بس دو تین گھنٹوں میں واپس آ جاؤں گا تم بالکل بھی پریشان نہ ہونا اور کھانا کھا لینا میں جلدی واپس آنے کی پوری کوشش کروں گا
اگر پھر بھی مجھے دیر ہوگئی تو خان بابا تمہارے پاس ہی ہیں
شاه نے پیار سے اس کا گال سہلاتے ہوئے کہا اور باہر کی جانب قدم بڑھا دئیے
یشال نے اس کی جاتے ہی ایک نظر پورے کمرے پر دہرائی جو پوری طرح بکھرا ہوا تھا
یہ شاه بھی نہ بچے ہیں سارا کمرہ بکھیر کر رکھ دیا وہ چیزیں سمیٹتے ہوئے بڑبڑائی
ہمیں تم سے پیار کتنا یہ ہم نہیں جانتے
مگر جی نہیں سکتے تمہارے بنا ہم
وہ شاہ کی تصویر دیکھتے ہوئے گنگنا رہی تھی ایک بہت پیاری سی مسکان اس کے ہونٹوں پر تھی
شاہ آپ کہتے ہیں نہ کہ میں ایک دن آپ سے محبت کا اظہار ضرور کروں گی تو میں بس
یہی کہنا چاہتی ہوں
تمہیں دیکھ كے ہی اب یہ سانسیں چلیں گی
تمہارے بنا اب نہ یہ آنکھیں کھلیں گی
میری بے قراری کیوں تم نہیں مانتے
ہمیں تم سے پیار کتنا یہ ہم نہیں جانتے
مگر جی نہیں سکتے تمہارے بنا ہم
بہت خوبصورت انداز میں وه شاہ سے اپنی محبت کا اظہار کر رہی تھی کہ اچانک اسكا ہاتھ بیڈ کے سائڈ ٹیبل پر پڑی ایک پھولوں کی ٹوکری سے ٹکرایا جو ہاتھ لگتے هی زمین پر گر گئ یشال جلدی سے بیڈ سے اتری اور وہ ٹوکری اٹھانے لگی پھول اٹھاتے ہی وہ حیران رہ گئی
اس کے اندر وہی ڈائری نظر آرہی تھی جس پر اس رات شاہ کچھ لکھنے میں مصروف تھا
یشال نے جلدی سے وہ ڈائری اٹھائی اور بیٹھ کے ساتھ ٹیک لگا کر زمین پر ہی بیٹھ گئی
………………………………
وہ آنکھوں میں نمی لیے گڑیا کا تمام ساماں دادو کے ساتھ مل کر رکھوانے میں مصروف تھی
اس کی جان سے پیاری سہیلی آج ہمیشہ کے لئے یہاں سے جانے والی تھی
اب وه پہلے کی طرح بے فکری سے ایک دوسرے کے ساتھ نہیں مل سکتی تھی
پہلے کی طرح شرارتیں نہیں کرسکتی تھی
ایک دوسرے کے ساتھ گھوم پھر نہیں سکتی تھی جہاں وہ
گڑیا سے الگ ہونے پر اداس تھی وہی وہ اپنی دوست کے لیے بے حد خوش بھی تھی کہ اسے اس کی محبت مل گئی
وہ ہاتھوں میں سامان اٹھائے تیزی سے باہر کی جانب جا رہی تھی کہ کسی سے بری طرح سے ٹکرا گئی
آنکھوں میں آنسو لیے وہ اس پر چڑ دوڑی آپ کو ذرا بھی شرم نہیں آتی حد ہوتی ہے بے شرمی کی کب سے دیکھ رہی ہوں کہ میں جہاں بھی جاتی ہوں آپ میرے پیچھے آ جاتے ہیں
اب آپ کو اگر میں نے اپنے آس پاس کی دیکھا تو مجھ سے بڑا کوئی نہیں ہوگا
وہ اسے وران کرتے ہوئے تیزی سے وہاں سے چلی گئی
جبکہ سعد اس کی آنکھوں میں آنسو دیکھ کر پریشان ہو چکا تھا
اسی لیے وہ اس کے پیچھے باہر کی جانب آیا اسی پل وه واپس اندر داخل ہوتے ہوئے پھر سے اس سے ٹکرائی
آپ پھر سے…
دیکھیں مسٹر میں بس اسی لیے لحاظ کر رہی ہو کیوں کہ آپ زین بھائی کے دوست ہیں اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں كے آپ کچھ بھی کرتے پھریں گے
میں نے منع کیا تھا کہ اب آپ مجھے یہاں نظر نہ آئیں
وہ مسلسل اسے سنانے میں مصروف تھی جبکہ وه اس کی آنکھوں سے بہنے والے آنسو کو دیکھ رہا تھا بےاختیار سعدی کا دل چاہا کہ وہ اس کے آنسو کو اپنے ہاتھوں سے چن لے
اپنے دل کے ہاتھوں مجبور ہوکر سعد نے اس کے گال پر بہتے آنسوؤں کو اپنے پوروں پر چن لیا
رانعم کو ایک کرنٹ سا لگا بے اختیار اس کا ہاتھ اٹھا اور سعد کے چہرے پر نشان چھوڑ گیا آپ کی ہمت کیسے ہوئی مجھے ہاتھ لگانے کی آپ جیسا بے غیرت انسان نے آج تک نہیں دیکھا نكل جائیں یہاں سے
سعد اپنے چہرے پر ہاتھ رکھے حیران سا اسے دیکھ رہا تھا جو اب روتے ہوئے وہاں سے بھاگ گئی تھی کچھ دیر سعد وہیں کھڑا اسے جاتا ہوا دیکھتا رہا پھر غصے میں وہاں سے نکلتا چلا گیا
……………………..
سعد ابھی تک اپنی بے اختیاری پر شرمندہ اور حیران تھا کہ اچانک کیا ہوگیا وہ خود کو قابو نہیں کر پایا کیوں اس کے بہتے آنسو اسے تکلیف دے رہے تھے
کیا ہے یہ سب کیوں میں اسے کوئی جواب نہیں دے پاتا اس نے میری اتنی بےعزتی کی اس نے مجھے کیا کیا نہیں بولا لیکن میں اسے چپ تک نہ کروا سکا
کیوں جب میرے سامنے آتی ہے تو میں دنیا کو بھول جاتا ہوں مجھے بس وہ نظر آتی ہے اور کچھ بھی نہیں اس کی ہنسی اس کے آنسو سب مجھے اتنا اثر کیوں کرتے ہیں
ٹھیک ہے میں اسے پسند کرتا ہوں مجھے اچھی لگتی ہے مگر اس کا مطلب یہ نہیں کہ مجھے کچھ بھی کہے اور میں اس کا کوئی جواب بھی نہ دے پاؤں
اور وہ اور وہ میرے بارے میں یہ سوچتی ہے کہ میں گھٹیا اور بےغیرت انسان ہوں
کہ جہاں وہ جاتی ہے میں اس کے پیچھے پیچھے آتا ہوں اور میں میں اتنا بے اختیار كب سے ہو گیا کہ خود پہ قابو بھی نہ پا سکا
ابھی وہ خود سے اور نه جانے کتنا الجھتا
کہ اماں بی نے اسے زین کے نکاح کے لیے اسے اندر بلا لیا
رانو نے ایک نظر اندر داخل ہوتے سعد کی طرف دیکھا اب اگر اس انسان نے میرا پیچھا کیا یا مجھے اپنے آس پاس بھی نظر آیا تو میں اس كی اچھی طرح پٹائی کروں گی
سمجھتا کیا ہے خود کو کہ جو اس کا دل کرے وه کرسکتا ہے یہ جانتا نہیں ہے مجھے اب ہاتھ تو لگا کے دکھائے
ہاتھ توڑ کے نہ رکھ دوں تو میرا نام بھی رانعم نہیں
ویسے تو اب سمجھ چکا ہوگا کہ میں کوئی عام سی لڑکی نہیں ہوں جو اسے ڈر جاؤں گی
ایک تھپڑ ہی کافی ہے اس کی عقل ٹھکانے لگانے کے لیے
………………………..
گڑیا کوزین کے پہلومیں بٹھادیا گیا تھا مولوی صاحب تشریف لا چکے تھے زمان صاحب دادو اماں بی سعد اور رانو بہت خوش تھے جلد ہی
مولوی صاحب نے رسم نکاح شروع كی
پہلے وہ زین سے مخاطب ہوئے
شازین شاہ ولد مرتضی شاه آپ کا نکاح یشال زمان ولد زمان صدیقی کے ساتھ حق مہر دس لاکھ سکہ راج الوقت قرار پایا ہے
کیا آپ کو یہ نکاح قبول ہے
جی مجھے قبول ہے
کیا آپ کو یہ نکاح قبول ہے
قبول ہے
مولوی صاحب نے آخری بار اپنا سوال دہرایا کیا آپ کو یہ نکاح قبول ہے
قبول ہے
ہر طرف مبارکباد کا شور اٹھا سعد نے زین کو گلے لگا کر اسے مبارکباد دی
مولوی صاحب گڑیا کی طرف آئے آپ کا نکاح شاه ذین ولد مرتضی شاه كے ساتھ قرار پایا ہے کیا آپ کو یہ نکاح قبول ہے
قبول ہے گڑیا نے دھڑکتے دل کے ساتھ مد ھم آواز میں جواب دیا
کیا آپ کو یہ نکاح قبول ہے
قبول ہے
کیا آپ کو یہ نکاح قبول ہے
قبول ہے
رانو نے بے اختیار گڑیا کو اپنے گلے سے لگایا اور دھیرے سے اس کے کان میں سرگوشی کی محبت کی پہلی جیت مبارک ہو میری جان
رانو كےگلے لگی گڑیا مسکرا دی اس نے کبھی سوچا بھی نہ تھا کہ جس انسان کو اس نے دل هی دل میں چاہا تھا وہ اتنی جلدی اس کا محرم بنا دیا جائے گا
………………….
جلد ہی رخصتی کا شور اٹھا مگر اس کی جان سے پیاری دادو کہاں تھی وه کہیں بھی نظر نہیں آ رہی تھی سب نے ہر جگہ دادو کو ڈھونڈنے کی کوشش کی لیکن کہیں بھی نہیں تھی
اچانک سب نے رانو کی چیخ سنی
زین بھائی ذمان انكل دادو یہاں پر ہیں
رانو دادو كا سر اپنی گود میں رکھے سب کو آواز دے رہی تھی
جن کا ایک ہاتھ اپنے سینے پر جبکہ چہرے پر درد کیا اثرات تھے
ذین نے جلدی سے
دادو کو اپنی باہوں میں اٹھایا اور گاڑی کی طرف دوڑا
سعد اس کے ساتھ ساتھ تھا جبکہ رانو گڑیا کو سنبھالنے کی کوشش کر رہی تھی
جو کہ اپنے سنجے سورے روپ سے بے نیاز بس دادو کو پکارے جارہی تھی
رانو میری دادو کو کچھ بھی نہیں ہوگا نہ وہ ہمیشہ میرے ساتھ رہیں گی نہ گڑیا نے رانو کے ہاتھوں کو تھامتے ہوئے کہا
رانو خود بھی بے اختیار رو دی
اس کا بھی دادو کے سوا کون تھا
وه دادو کے دور پار کے کسی رشتہ دار کی بیٹی تھیں جن کی وفات کے بعد وه اسےاوراسکی ماں اپنے ساتھ لے آئی تھی
وہ دونوں ہی اپنی دادو کی لمبی زندگی کے لیے دعاگو تھی
مگر ہونی کو کون ٹال سکتا ہے
ہسپتال پہنچنے سے پہلے ہی دادو نے دم توڑ دیا.
جاری ہے
