Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Wehshat E Ishq by Saniya Shah Episode10

Wehshat E Ishq by Saniya Shah Episode10

یشال بری طرح ڈر کر نیند سے جاگی تھوڑی دیر کے لئے تو اسے سمجھ ہی نہیں آیا کہ وہ کہاں ہے وہ ابھی تک شاہ کے دور جانے کے خوف میں جکڑی ہوئی تھی اس کی آنکھوں سے مسلسل سے آنسو بہہ رہے تھے ۔۔۔۔
اچانک یشال ہوش کی دنیا میں آئی تو بری طرح سے شاہ کو پکارنے لگی باہر شام کے سائے گہرے ہو رہے تھے اور شاہ کا آس پاس کہیں کوئی اتا پتہ نہ تھا وہ گاڑی میں بالکل اکیلی تھی اور گاڑی لاکڈ تھی وہ روتے ہوئے دروازے کو بجانے لگی مگر شاہ کہیں بھی نہ تھا ۔
وہ اکیلی ویران سڑک پر گاڑی میں بند تھی شاہ کے ساتھ نہ ہونے کا خوف ہو اکیلے ہونے کا خوف اتنی بے بسی یشال نے آج سے پہلے کبھی محسوس نہ کی تھی اپنی بے بسی پر یہ یشال بچوں کی طرح پھوٹ پھوٹ کر رو دی
شاہ جب واپس آیا تو یشال بری طرح سے رونے میں مصروف تھی شاہ یشال کو اس طرح سے روتے دیکھا جلدی سے اس کے پاس آیا پہلے تو گاڑی انلاکڈ ہونے سے یشال بری طرح سے گھبرا گئی مگر جب اپنے سامنے شاہ کو دیکھا تو اس کے سینے سے جا لگی ۔۔۔۔
کہاں تھے آپ۔۔۔۔؟ کیوں مجھے چھوڑ کر چلے گئے تھے آپ۔۔۔۔؟ یشال شاہ کے سینے سے لگی روتے ہوئے شاہ سے سوال کر رہی تھی
جانم گاڑی گرم ہو گئی تھی تم سو رہی تھی میں نے سوچا ۔
میں سو رہی تھی مر تو نہیں گئی تھی نہ یشال نے اس کی بات کاٹتے ہوئے غصے سے جواب دیا
بکواس بند کرو اپنی یشال شاہ نے یشال کا بازو پکڑ کر اسے خود سے الگ کیا شاہ کا ہاتھ اٹھتے اٹھتے رہ گیا وہی جانتا تھا کہ یشال کی اس سے بے ہودا بات کو اس نے کیسے برداشت کیا تھا
میں بکواس کر رہی ہوں۔۔۔۔؟ آپ۔۔۔ آپ مجھے یہاں اکیلا چھوڑ کر چلے گئے اور میں بکواس کر رہی ہوں آپ کی ہمت کیسے ہوئی مجھے چھوڑ کر جانے کی کیا میں آپ کو اتنی بری لگتی ہو وہ لگاتار روتے ہوئے شاہ کےسینے پر اپنے نازک ہاتھوں سے مکے مارنے لگی
بات سنو میری یشال شاہ نے یشال کے دونوں بازو تھام کر غصے سے پکارتے ہوئے کہا
ایک بات یاد رکھنا جانِ شاہ یشال کو شاہ سے الگ کوئی نہیں کر سکتا سوائے موت کے اگر یشال خود بھی چاہے گی تو شاہ یشال کو اس بات کی اجازت نہیں دے گا
شاہ نے اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے ٹھہرے ہوئے لہجے میں جواب دیا
اور اسے اپنے سینے سے لگا لیا یشال بی پرسکون سی ہو کر سینے میں منہ چھپا گئی
💕
زین کے چہرے سے مسکراہٹ جدا ہی نہیں ہورہی تھی آخرکاراس وہ اپنی پہلی محبت بنا کسی مشکل کے حاصل کرنے جارہا تھا
اس سے بر کر بلا کوئی خوش نصیبی ہوسکتی ہے
سعد بھی اپنے دوست کے ساتھ بے حد خوش تھا
آخرکار اس کے دوست کی زندگی میں بھی خوشیاں آنے والی تھی
وہ دل سے اپنے دوست کی خوشی کی سلامت رہنے کی دعائیں کرتا
ہنستا گاتا بھنگڑے ڈالتا اپنے دوست کی بارات میں آگے آگے تھا ۔
دوسری طرف زمان صاحب نے پورے گھر کو پھولوں اور برقی قمقموں سے سجا رکھا تھا
دلہن بنی گڑیا بے حد خوبصورت لگ رہی تھی
ریڈ بلیڈ لینگے میں برائیڈل میک اپ کیے خود کو سجائے زین کا انتظار کر رہی تھی ۔
زمان صاحب اور دادو کی آنکھیں بار بار نم ہو رہی تھی ان کی نازوں پلی بیٹی آج اپنے گھر کی ہونے جا رہی تھی رانو بار بار گڑیا کو چھیڑ رہی تھی
جس سے گڑیا کے چہرے پر شرمیلی مسکراہٹ آ جاتی ہے
باہر بارات آنے کا شور اٹھا تو رانو بھاگتی ہوئی گڑیا کے پاس گڑیا زین بھائی کیا کمال لگ رہے ہیں ہاے اتنے ہینڈسم ہیں ذہن بھائی ماشاءاللہ
چاند سورج کی جوڑی ہے تم دونوں کی
اللہ ہر بری بلا سے محفوظ رکھیں رانو سچے دل سے دعا کرتی اپنی پیاری سہیلی کے لیے بے حد خوش تھی
💕
کافی دیر تک شاہ یشال کو سینے سے لگائے بیٹھا رہا
باہر مکمل طور پر اندھیرا چھا چکا تھا
یشال جان میں گاڑی کو دیکھ لوں
رات بہت ہو رہی ہے یہاں زیادہ دیر روکنا ٹھیک نہیں شاہ نے دھیرے سے یشال کو خود سے الگ کرتے ہوئے کہا
اور گاڑی سے باہر نکل گیا شاہ کے گاڑی سے نکلتے ہی یشال بھی گاڑی سے اتری اور شاہ سے کچھ فاصلے پر جا کر کھڑی ہو گئی ۔
جہاں وہ تو شاہ کو دیکھ سکتی تھی لیکن شاہ اسے نہیں دیکھ سکتا تھا
شاہ شرٹ کے بازو کنیوں تک مڑے گاڑی کے ساتھ مصروف تھا ۔
رات کی ویرانی میں چاند کی مدھم روشنی شاہ کےچہرے کے تمام نقوش واضح کر رہی تھی ماتھے پر بال ڈالے وہ مکمل طور پر گاڑی کے ساتھ مصروف تھا ۔
کافی دیر یشال شاہ کو دیکھتی رہی
کیا بات ہے جانِ شاہ آپ ایسی کیوں دیکھ رہی ہیں مجھے شاہ نے یشال کو مخاطب کرتے ہوئے کہا
یشال خود کو محاطب کیے جانے پر ایک دفعہ چونکی
آپ کو کیسے پتہ چلا کہ میں یہاں ہوں اور آپ کو دیکھ رہی ہوں یشال نے حیرانگی سے پوچھا
تم جتنا بھی مجھ سے چھپ جاؤ شاہ تمہیں تمہاری خوشبو سے پہچان لیتا ہے
شاہ کے سینے میں تم دل میں دھڑکن بن کر دھڑکتی ہو
ایسا کیسے ہو سکتا ہے کہ میں اپنی دھڑکن کی موجودگی کو محسوس نہ کر سکوں ۔
شاہ گاڑی کا بونٹ بند کرتے ہوئے اس کے قریب آیا
اور اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے فرینٹ سیٹ پر بٹھایا اور خود بھی ڈرائیونگ سیٹ سنبھال لی
شاہ کے گاڑی میں بیٹھتے ہی یشال نے اس کا بازو پکڑ لیا اور اس کے کندھے پر اپنا سر رکھ دیا وہ ابھی تک اسی خواب کے زہر اثر تھی
کیا بات ہے جان آج تو آپ کی ہر بات ہی الگ ہے آج اتنا پیار کیوں آرہا ہے اپنے معصوم شوہر پرشاہ نے یشال کے سر پر بوسہ دیتے ہوئے اس کے کان میں سرگوشی کی جس پر وہ مسکرا دی
شاہ کا فی دیر سے ایک ہاتھ سے ڈرائیونگ کررہا تھا جو کہ بہت مشکل تھا اور مسلسل ایک ہی جگہ پر بیٹھے رہنے سے شاہ بری طرح سے تھک چکا تھا مگر اس نے یشال کو اس بات کا احساس نہیں ہونے دیا کہ آج پہلی بار یشال خود سے اس کے قریب آئی تھی یشال کے لئے تو وہ اپنی جان بھی دے سکتا تھا تو یہ چھوٹی سی تکلیف کیا چیز تھی
💕
·
بارات کا استقبال زور شور سے کیا گیا
گلاب کے پھولوں کی پتیاں دلہے پر اور دلہے کے دوست و اخباب پر برسائی گئیں
دودھ پلائی کی رسم رانو نے کی جس پر سعد نے اس کی خوب ٹانگ کھینچی
رانو مسلسل سعد کو اگنور کر رہی تھی مگر سعد بھی اپنے نام کا ایک تھا رانوکو تنگ کرنے کا کوئی بھی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دے رہا تھا
رانو مسلسل اسے نظراندازکرنے کی کوشش کر رہی تھی
جلد ہی گڑیا کو لاکر زین کے پہلو میں بٹھایا گیا
گڑیا دلہن بنی بہت خوبصورت لگ رہی تھی اس کا معصوم حسن زین کے دل کو دھڑکا رہا تھا اور وہ اپنی نگاہ گڑیا سے ہٹا نہیں پا رہا تھا
آج تم بہت خوبصورت لگ رہی ہو زین نے گڑیا کے کان میں مدم سی سرگوشی کی جس پر کنفیوز سی گڑیا اور خود میں سمٹ کر رہ گئی
گڑیا کے اس طرح سے سمٹنے نے پرزین مسکرا دیا
ابھی تو تم مجھ سے دور ہو رہی ہو مگر کچھ
ہی دیر میں اپنے تمام جملہ حقوق میرے نام کرنے والی ہو
پھر مجھ سے راہ فرار کیسے پاؤ گی
آ نا تو تمہیں میری پناہوں میں ہی ہے زین نے جھک کر اس کے کانوں میں سرگوشی کی اور سیدھا ہو کر بیٹھ گیا
راہ فرار پانا بھی کون چاہتا ہے۔۔۔ گڑیا یہ بات صرف اپنے دل میں سوچ سکتی تھی یہ کہنے کی ہمت وہ مر کر بھی نہیں کر پاتی یہ سوچ کر وہ جھکی ہوئی گردن مزید جھکا گئی
___________________
شاہ کافی دیر سے محسوس کر رہا تھا کہ یشال رو رہی ہے تو اسے اپنی مضبوط باہوں کے حصار میں قید کر لیا
کیا بات ہے جانِ شاہ تم رو کیوں رہی ہو۔۔۔۔؟
دیکھو میں بس پندرہ منٹ کے لیے گیا تھا تم سو رہی تھی اس لیے میں نے جگانا مناسب نہیں سمجھا رونا بند کرو
شاہ نے اس کے سر پر بوسہ دیتے ہوئے کہا
اور اسے پیار سے سمجھانے کی کوشش کی مگر یشال کے رونے میں مزید تیزی آگئی
یشال کیا بات ہے کیوں اس طرح کیوں رو رہی ہو دیکھو میں ٹھیک ہوں تمہارے پاس ہوں تو پھر ایسے کیوں رو رہی ہو بتاؤ مجھے
سوجی ہوئی آنکھیں سرخ ناک بکھرے بال وہ کسی بھی طرح سے صبح والی یشال نہیں لگ رہی تھی
شاہ کو کچھ غیر معمولی پن کا احساس ہوا
ادھر دیکھو میری طرف اس کے آنسو صاف کرتے ہوئے کہا بتاؤ مجھے کیا ہوا ہے کیوں رو رہی ہو
شاہ۔ ۔ یشال نے کپکپاتی آواز میں شاہ کو پکارا
جو اسے ہی دیکھ رہا تھا مجھے بہت ڈر لگ رہا ہے آپ مجھے پھر سے چھوڑ کر تو نہیں جائیں گے نہ یشال نے بچیوں سی معصومیت سے سوال کیا
جان میں تمہیں چھوڑ کر کبھی نہیں جاؤں گا مگر پہلے رونا بند کرو اور بتاؤ مجھے آخر ہوا کیا ہے
شاہ اگر میں خود بھی آپ سے دور ہونا چاہوں تب بھی مجھے چھوڑ کر نہیں جائیں گے نا یشال ابھی تک اسی خواب کے زیر اثر بول رہی تھی
ہم ہمیشہ ساتھ رہیں گے نہ وعدہ کریں یشال نے شاہ کے سامنے نازک ہاتھ پھیلاتے ہوئےاس سے وعدہ مانگا ۔
ہاں جان ہم ہمیشہ ساتھ رہیں گے شاہ نے اس کے نازک ہاتھ کو تھاما اوراسے اپنے ہونٹوں سے لگایا
ویسے جانم ایک بات ہے تم مجھے ہر حال میں پیاری لگتی ہو لیکن مجھے پتہ نہیں تھا کہ تم اس چڑیل جیسے خلیے میں بھی مجھے اتنی پیاری لگوگی
کیا میں چڑیل لگ رہی ہوں آپ کو وہ جلدی سے اس سے الگ ہوئی
ہاں دیکھو ذرا اپنا حال بکھرے بال یہ بکھرا ہوا کاجل پورے منہ پر پھیلا ہوا ہے بس دو لمبے لمبے دانت نہیں ہیں ورنہ پوری چڑیل لگتی
شاہ نے اسے چڑاتے ہوئے کہا
کیا کہا آپ نے میں چڑیل ہوں تو
آپ جن ہیں بلکہ نہیں دیو ہیں کبھی خود کو دیکھا ہے شیشے میں بس دوسینگوں کی ہی کمی ہے
وہ آ جاتے تو پورے جن لگتے
یشال نے دونوں ہاتھ سر پر رکھ کر پورا نقشہ پیش کیا جس پر شاہ قہقہ لگا کر ہنس دیا
شاہ کا مقصد کامیاب ہوچکا تھا اب یشال کافی نارمل تھی اور پھر سے باہر کے نظارے دیکھنے میں مصروف ہو چکی تھی اور ظاہر یہ کیا جا رہا تھا کہ وہ شاہ سے ناراض ہے
______________________
وہ لوگ رات 12 بجے کاٹچ میں پہنچے جہاں خان بابا ان کا انتظار کر رہے تھے ارے خان بابا میں نے آپ سے کہا بھی تھا کہ آپ آرام کیجئے گا چابیاں میرے پاس ہے آپ اتنی رات کو اتنی ٹھنڈ میں کیوں جاگ رہے ہیں شاه نے خان بابا کو گلے لگاتے ہوئے کہا
ارے بابا آپ کو پتہ ہے کہ آپ کا انتظار کرنا کتنا اچھا لگتا ہے آج آپ اتنے سال بعد یہاں آیا ہے ہم آپ کو بتا نہیں سکتا کہ ہم کتنا خوش ہے آپ کے ساتھ چھوٹی بی بی بھی آیا ہے ہمیں چھوٹی بی بی سے ملنے کا اتنا شوق تھا کہ کیا بتائیں
تو بابا آپ ہم سے ملنے کیوں نہیں آئے پھر یشال نے خان بابا کے سامنے اپنا سر جھکاتے ہوئے شكوه كیا
اتنی عزت پر حان بابا کی آنکھیں جیمیلا سی گی کوئی بات نہیں چھوٹی بی بی اب آپ آگیا ہے نہ ہم آپ کو پورا کوٹھ گھمائیں گے خان بابا نے یشال کے سر پر دست شفقت رکھتے ہوئے جواب دیا
اب کیا ساری رات یہیں کھڑے ہو کر باتیں کرنی ہے یا ہمیں اندر بھی لے کر چلیں گے شاه نے خان بابا کی شانوں پر اپنے مضبوط بازو پھیلاتے ہوئے کہا اندر کی جانب بڑھ گیا
______________
شاہ جب کمرے میں داخل ہوا تو یشال پوری طرح كمبل میں چھپی ہوئی تھی یہ کیا بیوی ابھی اتنی بھی سردی نہیں ہے
شاه آپ کو کیا پتا کتنی سردی نے بلا جن کو بھی کبھی سردی لگی ہے لیکن میں معمولی نازك معصوم سی انسان مجھے تو بہت سردی لگ رہی ہے
یشال نےسرتك کمبل تانتے ہوئے ہوئے جواب دیا
شاہ ابھی تک آپ و ہی پر کھڑے ہیں آ جائے ورنہ آپ کی کلفی بن جائے گی اور مجھے انسانوں کی كلفی پسند نہیں ہے
یشال كمبل کے اندر سے ہی بول رہی تھی
شاہ اس کے پاس آیا اور اس پر سے كمبل کھینچ لیا ہم یہاں سونے نہیں آئے
ہاں شاہ میں جانتی ہوں جانتی ہوں کہ ہم یہاں پر گھومنے آئے ہیں لیکن وه تو صبح جائیں گے اور مجھے ابھی نیند آرہی ہے آپ بھی سو جائیں اور مجھے بھی سونے دیں
یشال نے شاہ سے كمبل لیااور واپس بیڈ پر لیٹ گئی
یشال شاہ نے بے بسی سے پکارا
شاه پلیز …….
شاه چپ چاپ اس کے برابر لیٹ گیا
تھوڑی دیر بعد یشال نے خود کو کسی کے بازو کے حصار میں محسوس كیا
جان ہم یہاں سونے نہیں بلکہ اپنا ہنی مون منانے آئے ہیں شاه نے یشال کے کانوں میں سرگوشی کی اس سے پہلے یشال کچھ اور کہتی شاه نے اس کے ہونٹوں پر اپنے ہونٹ رکھ دیے اور خود کو سیراب کرنے لگا.
جاری ہے🍁

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *