Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Wehshat E Ishq by Saniya Shah Episode12

Wehshat E Ishq by Saniya Shah Episode12

اور رانو کی ماں کی زندگی نے بھی زیادہ عرصے تک وفا نہ کی
اور وہ اس ظالم دنیا میں رانو کو دادو کے سپرد کرکے منوں مٹی تلے جا سوئی
رانو اور گڑیا جب جب اپنی ماں کے لیے روئی تھی دادو نے ان کے سر پر اپنا ہاتھ رکھا تھا
اور آج وھی دادو ان کو اس دنیا میں اکیلا چھوڑ کر چلی گئی تھی
ان دونوں کے آنسو نہ تھم رہے تھے
اس برے وقت میں شاه زین اور سعد نے ان کا پورا پورا ساتھ دیا تھا
……..
آگے کی کچھ صفات بلکل خالی تھے یشال کی آنکھوں سے مسلسل آنسو بہہ رہے تھے
وہ شاه كا درد پوری طرح محسوس کر رہی تھی ایک تیرہ سال کے بچے پر اس وقت کیا بیتی ہو گی جب اس کی ماں اس کے سامنے کسی اور کے ساتھ چلی گئ
جب اس کی ماں کی وجہ سے اس کا باپ اسے بھری دنیا میں اکیلا چھوڑ کر چلا گیا
جب لوگوں نے طرح طرح کی باتیں کی اس معصوم ذہن پہ کیا بیتی ہو گی
یشال کے آنسو رکنے کا نام نہیں لے رہے تھے اس نے جب صفات پلٹ کر آگے دیکھا تو ایک جگہ پر اسے وہ تحریر نظر آئی
بابا وه عورت ایک بار پھر سے میری زندگی تباہ کرنے کے لئے آگئی ہے اس پر میں اسے اپنی زندگی تباہ کرنے کی اجازت نہیں دوں گا
یشال شبنم بیگم کے بارے میں سب جاننے کے باوجود بھی اس سے نفرت نہ کر پائی تھی وہ نفرت کیسے کر پاتی وہ شاہ کی ماں تھی
اس کے شاه نے اس عورت کے باطن سے جنم لیا تھا
آج کے بعد شاہ کو کوئی غم نہیں ملے گا
وہ یہ بات جانتی تھی کہ شاہ اس سے محبت کرتا ہے لیکن اس حد تک محبت کرتا ہے یہ اس نے کبھی سوچا بھی نہ تھا
یہ ڈائری شاہ کی محبت کی گواہ تھی
كے کیسے اس كا شاه اسے درد دے کر پل پل تڑپا تھا
کیسے اس کی اذیت شاه نے برداشت کی تھی
شاه ایک بار مجھ سے بات تو کرتے آپ کو کیا لگا تھا کہ آپ کی یشال آپ کو چھوڑ کر چلی جائے گی
کیا آپ کو اپنی یشال کی وفا بھی یقین بھی نہ تھا
ایک بار مجھ پر یقین تو کرکے دیکھتے
ہر عورت شبنم بیگم نہیں ہوتی شاہ
آپ کتنا عرصہ اس درد میں رہے کہ میں بھی شبنم بیگم کی طرح آپ کو چھوڑ کر چلی جاؤنگی
میں تو آپ کی محبت کی قیدی تھی شاه اگر آپ مجھے خود بھی آزاد کرتے تو مجھے وہ آزادی منظور نہ ہوتی
لیکن اپ میں سب کچھ ٹھیک کر دوں گی
میں آپ کو یقین کرنا سکھاؤنگی اپنی وفا پہ خود پہ
کچھ بھی ہوجائے آب شاه کوئی یشال سے کوئی بھی الگ نہیں کر سکتا
وہ اسی کی دائری کو گلے سے لگا کر پھوٹ پھوٹ کر رو دی
اسے یاد تھا کہ دادو کی وفات کے تین ماہ کے بعد شاہ نے کتنی سادگی سے رخصتی کروائی تھی
اس کے باوجود بھی رنعم نے اسے اچھا خاصا تیار کر دیا تھا
اور پھر پہلی رات شاہ کا ہاتھ اٹھانا بعد میں اس سے معافی مانگنا
یشال کو ایک ایک بات اب سمجھ آرہی تھی
———————————-
رانو میں نے کہا تھا نہ کہ شاه برا انسان نہیں ہے کچھ تو ہے ان کی زندگی میں جو میں نہیں جانتی
دیکھو آج سب پتا چل گیا میں تو ابھی تک شبنم بیگم پہ حیران ہوں کہ وہ کیسی ماں تھی ماں
تو اپنے بچے کے لئے ہر خوشی بھول جاتی ہے
اپنے بچے کی ایک مسکراہٹ کے لئے ماں کچھ بھی کرنے کے لیے تیار رہتی ہے
اور ایک وہ ماں تھی جنہوں نے اپنی خواہشات کو پورا کرنے کے لئے اپنے بیٹے کی زندگی کے بارے میں ایک لمحے کے لئے بھی نہیں سوچا
وہ کیسے مرتضی انکل کی محبت کے ساتھ وفا نہیں کر پائی
کیا کوئی عورت اتنی خودغرض بھی ہو سکتی ہے
شاه نے اس عورت کی وجہ سے کتنا کچھ جھیلا ہے
ہاں گڑیا میں خود بھی یہی سوچ رہی ہوں کہ کوئی عورت کیسے اتنی بیوفا ہو سکتی ہے
لیکن اب تمہیں زین بھائی کو سنبھالنا ہے
اپنی وفا بھی یقین دلانا ہے
انہیں عورت کے ایک الگ روپ سے ملوانا ہے
………………
شاہ غصے سے بھرا گھر میں داخل ہوا
اور سیدھا اپنے کمرے کی جانب چلا گیا جہاں یشال دنیا جہاں سے بے خبر اسی کی ڈائری کو سینے سے لگائے سو رہی تھی
اس کے چہرے پر آنسوؤں کے نشانات تھے جیسے وہ بہت دیر تک روتی رہی ہو
شاہ غصے سے برا اس کی سر پر جا پہنچا
اس کے ہاتھ سے ڈائری چھین لی جس کی وجہ سے یشال کی آنکھ کھل گئی
شاه آپ کب آئے
یشال نے مد ھم آواز میں اس سے پوچھا
تمہاری ہمت کیسے ہوئی میری ڈائری کو ہاتھ لگانے کی
میں نے تمہیں کتنی بار منع کیا ہے کہ میری
پر سنل چیزوں کو ہاتھ مت لگایا کرو
شاه میں تو بس
کیا میں تو بس کیا جانا چاہتی تمہیں میرے بارے میں
کیوں تم مجھے چین سے جینے نہیں دیتی
شاه کمرے میں موجود ہر چیز توڑتا ہوا چلا رہا تھا
شاه میری بات تو سنیں
یشال نے ا سے کچھ بتانا چاہا نكل
جاؤ میرے کمرے سے مس یشال زمان صدیقی
میرے کمرے سے کیا میری زندگی سے اس گھر سے نکل جاؤ میں تمہاری شکل بھی نہیں دیکھنا چاہتا
اس سے پہلے کہ میں تمہارے اور میرے درمیان موجود ہر رشتے کو ختم کر دوں میری نظروں سے دور ہو جاؤ
چھوڑ دو مجھے اکیلا
یشال جو اسے کچھ کہنے کی کوشش کر رہی تھی
بے یقینی سے دیکھنے لگی
کیا اس کا اور شاه کا رشتہ اتنا ہی کمزور تھا کہ اتنی چھوٹی سی بات کو لے کے ختم ہوسکتا تھا
اس سے پہلے کی شاه ا سے کچھ اور کہتا ہے وہ بھاگتی ہوئی وہاں سے چلی گئی
________________
وہ بھاگتی ہوئی کمرے سے نکلی تھی اسے کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا وہ کیا کرے کہاں جائے
کیا شاه كا اس کا رشتہ اتنا ہی کمزور تھا کہ ایک ڈائری کے پڑھ لینے سے ختم ہوجائے کیا میں شاه كی زندگی میں اتنی بھی اہمیت نہیں رکھتی تھی کہ وہ اپنا درد بیان کرتے كیا شاه کو مجھ پہ اتنا بھی بھروسہ نہیں تھا..
کیسے آج شاه نے مجھے یشال زمان صدیقی کہہ کر بلایا اور کمرے سے نکال دیا
ایک بار بھی نہیں سوچا کہ میں تو ان سے اتنی محبت کرتی ہوں کتنا چاہتی ہوں
میں نے سوچا تھا کہ شاه كا سارا درد میں اپنے محبت کی مرہم سے ختم کرنے کی کوشش کروں گی شاه کو وہ ساری خوشیاں دو گی جن پر شاہ کا حق ہے مسکرانا سکھاؤنگی زندگی جینا سکھاؤنگی شاہ کو عورت کی وفا پہ یقین کرنا سکھاؤنگی اپنی وفا
سے امی کی بے وفائی کا غم ختم کر دوں گی
پھر سب کچھ صحیح ہوجائے گا مگر میں کتنی غلط تھی شاه نے تو مجھ سے محبت کی ہی نہیں تھی
…کیا ایک عورت کی بے وفائی کا غم اتنا گہرا ہو سکتا ہے کہ کسی دوسری عورت کی وفا محبت اسے کبھی بھر ہی نہ پائے
کیوں اللہ میاں کیوں میں نے ایسا کیا کیا ہے کیا گناہ کیا ہے جس کی وجہ سے آپ مجھے اتنی بڑی سزا دے رہے ہیں
پیدا ہوتے ہیں مجھ سے میری ماں کو چھین لیا
دادو جو مجھ سے اتنی محبت کرتی تھی انہیں چھین لیا
اور اب جس انسان کو میں نے خود سے زیادہ چاہا ہے جس کی ایک مسکراہٹ کے لئے میں کتنا ترسی تھی کتنی دعائیں کی ہیں کہ یہ شخص خوش رہے
کیا مانگا تھا میں نے آپ سے بس یہی نہ کہ پوری دنیا میں بس ایک یہی شخص میرا ہو
اللہ میاں آپ نے اسے میرا بنا بھی دیا
پچھلے کچھ دنوں میں شاہ نے مجھے اتنی محبت دی كے میں خود اپنے آپ کو بھولنے لگی تھی
خوش تھی میں میری زندگی میں وہ شہزادہ آگیا جو مجھے سارے غموں سے بہت دور لے جائے گا جو صرف میرا ہو گا مگر اللہ میاں اسے تو مجھ سے محبت ہی نہیں ہے
ان كےلئے یہ رشتہ کوئی معنی نہیں رکھتا وہ کبھی بھی رشتہ ختم کرسکتا ہے
کبھی بھی مجھے اکیلا چھوڑ کے جا سکتا ہے آج اس نے میرے نام کے ساتھ اپنا نام لگانا تک گوارا نہیں کیا
یا خدا آپ مجھے موت کیوں نہیں دے دیتے میں نے اکثر سنا تھا کہ محبت درد دیتی ہے تکلیف دکھ کے سوا کچھ نہیں دیتی
جب شاه نے مجھ پر ہاتھ اٹھایا مجھے تکلیف دی تب بھی وہ ہمیشہ یہی کہتے تھے کہ تم پر میرا حق ہے تم صرف میری ہو
اور میں ان کے اس یقین پر اس میری کہ احساس سے جی اٹھی تھی مگر شاہ نے کبھی مجھ سے محبت کی ہی نہیں
وہ کب سے ٹیرس پر کھڑی تھی کسی بھی گرم کپڑے کے بغیر سردی سے بے پروا ہو بس اپنی سوچوں میں گم تھی
آنسومسلسل اس کے رخساروں پر لکیریں بنا رہے تھے
شاہ اگر آپ کو بے رخی ہی دکھانی تھی تو کیوں آئے میرے اتنے قریب کیوں بنایا مجھے اپنا
کیوں بنایا مجھے اپنی محبت کاعادی
یشال روتی ہوئی وہیں زمین پر بیٹھی چلی گئی
شاه بہت محبت کرتی ہوں آپ سے کیسے بتاؤں آپ کو
آپ نے کتنی آسانی سے کہہ دیا کہ ہر رشتہ ختم کر دوں گا
وہ روتی روتی وہی هوش و حواس سے بیگانا ہوگی
____________
کیوں باباکیوں
وہ کیوں واپس آگئ ہیں شاہ کمرے میں موجود ہر چیز کو توڑ چکا تھا
وہ کہتی ہیں میں ایک بار ان سے مل لو
ایک بار معاف کر دوں تاکہ وہ سکون سے مر سکیں مگر پاپا جس عورت کی وجہ سے میں ساری زندگی بے سکون رہا اسے کیسے معاف کردوں
بابا آپ جانتے ہیں نہ میں اتنا بہادر نہیں ہوں میں نہیں بھول سکتا وہ تکلیف نہیں بھول سکتا لوگوں کی نظریں جن کا سامنا میں نے کیا ہے
بابا ماں تو فخر ہوتی ہے غرور ہوتی ہے نہ اولاد کا مگر میری ماں میرے لیے سر جھکانے کا سبب بنی کیسے بھول جاؤ ں وه سب
شاہ دن كے ۱۱ بجے کا نکلا رات کے دو بجے گھر واپس آیا تھا اس کی ماں جس نےکبھی سر جھکا کر چلنا نہیں سیکھا تھا
ایک گورنمنٹ ہوسپیٹل کے بیڈ پر پڑی تھی
جو ایک زمانے میں اس کے بابا کی دل کی دھڑکن تھی
آج وہ عورت کنسر کی آخری سٹیج پر تھی
اور زندگی کی آخری سانسیں لے رہی تھی اس کے بچنے کی کوئی امید نہیں تھی
وه ہر روز نرس کی نہ جانے کتنی منتیں کرکے شاہ کو کو ایک بار کال کرواتی تھی
شاه نے انہیں پاکستان کے بیسٹ کینسر ہاسپیٹل میں ایڈمٹ کروایا تھا اچھے سے اچھے علاج کا انتظام کیا مگر وہ اس عورت کو معاف کرنے کے لئے تیار نہ تھا جس کی وجہ سے اس کی زندگی میں سوائے ویرانی کے اور کچھ نہیں تھا
شاه نے شبنم بیگم کے علاج کی ساری ذمہ داری شاہ نے لے لی تھی
مگر وہ ایک بار بھی اس عورت سے ملنے کے لیے نہیں گیا تھا جو اسے اپنا بیٹا کہتی تھی
________
سارے دن کی تھکان اور ٹینشن کے بعد جب وہ گھر واپس آیا تو یشال اس کی ڈائری کو سینے سے لگائے سو رہی تھی
شاہ نے غصے میں نہ جانے اسے کیا کیا بول دیا تھا
اب شاه كو خود پہ غصہ آ رہا تھا کہ اس نے یشال کو ایسا کیوں بولا
ان سب نے اس کی کیا غلطی تھی اسے تو شاید کچھ پتا بھی نہیں تھا
یشال کا خیال آتے ہی جلدی سے اٹھا
اس نے تقریبا ہر جگہ یشال کو تلاش کرلیا تھا مگر وه کہیں بھی نہیں تھی
شاہ جلدی سے مین گیٹ کی طرف کیا کہیں یہ پاگل لڑکی گھر سے باہر کیوں نہیں چلی گئی
خان بابا آپ نے چھوٹی بی بی کو گھر سے باہر جاتے ہوئے دیکھا ہے
نہیں چھوٹے صاحب ہم تو یہاں دو گھنٹے سے بیٹھا ہے چھوٹی بی بی تو باہر آیا ہی نہیں
شاه نے بے اختیار سکون کا سانس لیا کہ گھر کے اندر ہی موجود ہے
مگر وہ ہے کہاں
شاه نے ایک بار پھر سے پورا گھر چیک کرنا شروع کردیا
پھر کسی خیال کے تحت جلدی سے سیڑھیاں چڑھتا ہوا ٹیرس پر چلا گیا
جہاں وہ ہوش و حواس سے بیگانہ زمین پر پڑی تھی
ایک پل کے لیے شاہ کو ایسا لگا جیسے مانو اس کی جان ہی نکل گی
شاه بھاگتا ہوا اس کے پاس آیا اور اس کا سر اٹھا کر اپنی گود میں رکھ لیا اور اس کا چہرہ اپنے ہاتھوں کے پیالے میں لے لیا
یشال .
یشال پلیز آنکھیں کھولو تمہیں کچھ بھی نہیں ہوگا
تم مجھ سے بات کیوں نہیں کر رہی میری بات کا جواب دو
وہ پاگلوں کی طرح اسے پکار رہا تھا
جس کا پورا بدن بالکل برف کی طرح ٹھنڈا ہو چکا تھا
اس کے ہاتھ پاؤں بے حد سرد تھے
شاه نے جلدی سےیشال کو باہوں میں اٹھایا اور بھاگتا ہوا نیچے کمرے کی طرف چلا گیا۔
جاری ہے🍁

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *