Wehshat E Ishq by Saniya Shah NovelR50813 Wehshat E Ishq by Saniya Shah Episode07
Rate this Novel
Wehshat E Ishq by Saniya Shah Episode01 Wehshat E Ishq by Saniya Shah Episode02 Wehshat E Ishq by Saniya Shah Episode03 Wehshat E Ishq by Saniya Shah Episode04 Wehshat E Ishq by Saniya Shah Episode05 Wehshat E Ishq by Saniya Shah Episode06 Wehshat E Ishq by Saniya Shah Episode07 (Watching)Wehshat E Ishq by Saniya Shah Episode08 Wehshat E Ishq by Saniya Shah Episode09 Wehshat E Ishq by Saniya Shah Episode10 Wehshat E Ishq by Saniya Shah Episode11 Wehshat E Ishq by Saniya Shah Episode12 Wehshat E Ishq by Saniya Shah Episode13 Wehshat E Ishq by Saniya Shah Episode14 Wehshat E Ishq by Saniya Shah Episode15 Wehshat E Ishq by Saniya Shah Last Episode
Wehshat E Ishq by Saniya Shah Episode07
Wehshat E Ishq by Saniya Shah Episode07
سعد کافی دنوں سے دین کی بے چینی نوٹ کر رہا تھا زین کا گڑیا کو دیکھ کر کھو جانا گڑیا کا زین سے گھبرا نہ کچھ بھی سعد کی نظروں سے پوشیدہ نہیں تھا
ایک طرف اس کا جان سے پیارا دوست جبکہ دوسری طرف وہ لڑکی تھی جسے اس نے بہن کہا ہی نہیں مانا بھی تھا
سعد نے زین سے سیدھا بات کرنے کی ٹھانی اور زین کے کیبن کی طرف چل دیا زین کسی فائل کو کھولے بیٹھا تھا مگر صاف لگ رہا تھا کہ وہ کسی اور سوچ میں ڈوبا ہوا ہے
سعد نے اس کے ٹیبل پر ہلکے سے ہاتھ مارا تو وہ ہوش کی دنیا میں واپس آیا کیا بات ہے یار میں کافی دنوں سے نوٹ کر رہا ہوں تو کافی پریشان اور کھویا کھویا سا ہے سعد نے کرسی پر بیٹھتے ہوئے سوال کیا
ارے کچھ نہیں یار بس ایسے ہی
زین تو مجھ سے جھوٹ مت بول بچپن سے جانتا ہوں تجھے کچھ تو ہے جو پریشان کر رہا ہے آخر بات کیا ہے
کہیں کسی لڑکی کا چکر تو نہیں سعداپنے پوئنٹ کی طرف آیاجس کے بارے میں بات کرنے کے لئے وہ زین کے پاس آیا تھا
ارے نہیں تو کیا الٹا سیدھا سوچ رہا ہے ایسا کچھ بھی نہیں ہے زین نے اس سے نظریں چراتے ہوئے کہا
اچھا میں غلط سوچ رہا ہوں گڑیا کو دیکھ کر تیرا کھوجانا گڑیا کا تم سے گھبرا نہ اس کا تجھے دیکھ کر بھاگ جانا کیا ہے یہ سب
کیا میں غلط سوچ رہا ہوں پہلے مجھے لگا کہ یہ سب میری غلط فہمی ہے مگر آج تیرا نظریں چرا نہ یہ ثابت کر گیا
کہ میں بالکل صحیح سوچ رہا تھا صاف لگ رہا ہے کہ کوئی تو بات ہے
سعدی میں تجھے کیا بتاؤں یار جب کہ میں خود ہی کچھ نہیں سمجھ پا رہا
زین نے بیچارگی سے جواب دیا
اسے دیکھتا ہوں تو ایک سکون سا اتر جاتا ہے دل میں دل کرتا ہے بس اسے دیکھتا ہی رہوں دل کرتا ہے اسے سب سے چھپا کراپنے پاس رکھ لو اسے بس میں دیکھو میں سنو ں میں محسوس کروں مگر
تجھے اس سے محبت ہوگئی ہے سعد میں ذہن کی بات کاٹتے ہوئے کہا
ہاں کرتا ہوں محبت اس سے محبت نہیں عشق کرتا ہوں میں اس سے مگر
کیا مگر سعد نے ایک بار پھر سے زین کی بات کاٹی
تو جانتا تو ہے سب
ہاں جانتا ہوں سبب
دنیا کی ہر عورت بے وفا نہیں ہوتی یہ بات تو سمجھ لے
غلط بالکل غلط دنیا کی ہر عورت بے وفا ہے نفرت کرتا ہوں میں عورت ذات سے دوغلی بےوفا فریبی جھوٹی اور دھوکہ باز ہوتی ہے عورت
زین نے غصے سے ٹیبل پر پڑا گلاس دیوار پر دے مارا مگر سعدی پرسکون انداز میں بیٹھا رہا
اچھا پھر تو اماں بی بھی دوغلی اور دھوکہ باز ہیں
ان کا پیار بھی جھوٹا ہے سعد بکواس بند کر نکل جا یہاں سے
اس سے پہلے کہ میں تیرا منہ توڑ دوں
بولنے سے پہلے اتنا تو سوچ لے تو کس کے بارے میں بات کر رہا ہے
جس عورت کے بارے میں تو بات کر رہا ہے وہ ماں ہے تیری زین غصے میں دھاڑا
میں تجھے یہ سمجھانے کی کوشش کر رہا ہوں کہ ہر عورت شبنم بیگم نہیں ہوتی بلکہ کچھ ماہ نور بی بھی ہوتی ہیں جو
بیوگی کی چادر اوڑھ کر لوگوں کے گھروں میں کام کرکے اپنے چھ سالہ بیٹے کو پالنے میں اپنی ساری زندگی گزار دیتی ہیں
سعد نے اپنی آنکھوں میں آئی نمی کو چھپاتے ہوئے کہا
باقی مرضی تیری ہے یار جو تجھے سہی لگتا ہے وہ تو کر
سعد زین کو سوچوں میں ڈوبا چھوڑ کر وہاں سے نکلتا چلا گیا
دو دن سے زین نوٹ کر رہا تھا کہ سعد اس کو اگنور کر رہا ہے
نہ تو اس سے بات کر رہا تھا اور نہ ہی اسے بات کرنے کا موقع دے رہا تھا
زین نےدو تین بار بات کرنے کی کوشش کی مگر سعد نے اسے اگنور کر دیا
آج زین کا صبر کا پیمانہ لبریز ہو گیا اور وہ سیدھا اس کے گھر جا پہنچا
دروازہ سعد نےہی کھولا اور اسے دیکھ کر دروازہ کھلا چھوڑ کر وہ انہیں قدموں پر واپس پلٹ گیا
زین میں اس کا اترا ہوا منہ دیکھا تو بے اختیار مسکرا دیا
وہ ایسا ہی تھا چھوٹی چھوٹی بات پر ناراض ہوجانا اور فورا مان جانا
وہ اندر داخل ہوا تو اماں بھی صوفے پر بیٹھی تسبیح پڑھنے میں مصروف تھی
اسے دیکھ کر ناراضگی سے منہ موڑ گئی اماں بی سعدی تو ناراض ہے ہیں آپ بھی اپنے بیٹے سے ناراض ہیں زین نے ان کے پاس بیٹھتے ہوئے کہا
اب بچاری بھوڑی ماں کیا کریں ہمارے بیٹوں کے پاس ہمارے لئے وقت ہی نہیں ہے اماں نے ناراضگی سے جواب دیا
ایسا کچھ نہیں ہے ماں ذہن نے ان کے شانے پر بازو پھیلاتے ہوئے کہا
ارے چھوڑیے میاں بیوقوف کسی اور کو جا کےبنائیں
ایک ہم ہیں جو آپ کو اپنا بیٹا مانتی ہیں آپ ہمیں اپنی ماں تھوڑا سمجھتے ہیں ہم روز انتظار کرتے ہیں کہ ہمارا بیٹا آج ائے گا ہمارا بیٹا آج ائے گا لیکن ہمارے بیٹے کو تو ہمارے لئے ایک پل کی بھی فرصت نہیں ہے اماں بی کی ناراضگی ابھی تک برقرار تھی
آپ جانتی ہیں نہ کہ آپ کے علاوہ میرا ہے ہی کون آپ اور سعدی تو میرے سب کچھ ہیں
وہ صوفے سے اٹھ کر ان کے قدموں میں بیٹھ گیا
وہ اپنی ناراضگی زیادہ دیر برقرار نہ رکھ پائیں اورآگے بڑھ کر اس کی پیشانی پر بوسہ دیا
دور کھڑا سعد بھی ان کا پیار دیکھ کر مسکرا دیا
تم دونوں بیٹھو میں نے تمہارے پسند کی بریانی بنائی ہے جلدی سے گرم کر لے کے آتی ہوں سعد نے مجھے بتایا کہ آج تم آنے والے ہو زین اور سعد نے ایک دوسرے کو دیکھا اور ان کے قہقے سے پورا گھر گونج اٹھا
کھانا کھانے کے بعد سعد اور ذین دونوں لان میں چہل قدمی کر رہے تھے جب کے اماں بی نماز ادا کرنے کے لئے اپنے کمرے میں چلی گئی تھی
تجھے کیسے پتہ کہ آج میں آؤں گا زین نےسعد سے پوچھا
بس جگر دوستوں کی حد کہاں تک ہے سعد اچھے سے جانتا ہے مطلب
تو مجھے اتنے دن سے جان بوجھ کر اگنور کر رہا تھا
تیری ناراضگی سب ایک ڈرامہ تھا زین نے حیرانگی اور غصے کے ملے جلے تاثرات لے کر سعد سے پوچھا
سعد جانتا تھا کہ اب اس کی خیر نہیں اس لیے اس نے بنا جواب دیے اندر جانے والے راستے کی طرف دوڑ لگا دی
کے اب اماں بی اسے ذہن کے اتب سے بچا سکتی تھی
کھانا کھانے کے بعد سعد اور ذین دونوں لان میں چہل قدمی کر رہے تھے جب کے اماں بی نماز ادا کرنے کے لئے اپنے کمرے میں چلی گئی تھی
تجھے کیسے پتہ کہ آج میں آؤں گا زین نےسعد سے پوچھا
بس جگر دوستوں کی حد کہاں تک ہے سعد اچھے سے جانتا ہے
مطلب
تو مجھے اتنے دن سے جان بوجھ کر اگنور کر رہا تھا
تیری ناراضگی سب ایک ڈرامہ تھا
زین نے حیرانگی اور غصے کے ملے جلے تاثرات لے کر سعد سے پوچھا
سعد جانتا تھا کہ اب اس کی خیر نہیں
اس لیے اس نے بنا جواب دیے اندر جانے والے راستے کی طرف دوڑ لگا دی
کے اب اماں بی اسے ذہن کے اتب سے بچا سکتی تھی
زین جب اماں بی کے کمرے میں داخل ہوا تو وہ جائے نماز رکھ رہی تھی
اماں بی سعد کہاں ہے زین نے بیڈ پر بیٹھے ہوئے پوچھا
تمہارے ساتھ ہی باہر گیا تھا یہی ہوگا
اماں بی نے مسکرا کر اسے جواب دیا
اور اس کے خوبصورت چہرے پر ایک نظر ڈالی
بلاشبہ وہ ایک خوبصورت اور بھرپور مرد تھا
ماشااللہ
اماں بی نے زیر لب بہت سی دعائیں پڑھ کراس پر پھونكی
زین مسکرا دیا
اماں بی شروع سے سعد سے زیادہ اس کا خیال رکھتی تھی
مجھے آپ سے کچھ بات کرنی ہے
زین نے بلا جھجك اماں بی کو مخاطب کیا
ہاں بیٹا بولو
اماں بھی پوری طرح ذہن کی جانب متوجہ ہوئی
اماں بی میں شادی کرنا چاہتا ہوں
ذین کی بات سن کر جہاں اماں بی کا منہ کھلا کا کھلا رہ گیا
وہی سعدی بی ہوش ہوتے ہوتے بچا جو کب سے باہر کھڑا ان کی باتیں سن رہا تھا
کیا کہا تم نے اماں کو لگا کے انہیں سننے میں غلطی ہوئی ہے
میں شادی کرنا چاہتا ہوں زین نے اپنی بات دہرائی
اماں بھی نے بے اختیار آگے بڑھ کر اس کی پیشانی چوم لی
کہا ان کا یہ بیٹا جو عورت ذات سے دور بھاگتا تھا
شادی کا نام سن کر غصے سے آگ بگولا ہو جاتا تھا وہ آج خود شادی کا کہہ رہا تھا
اماں بھی بے حد خوش تھی ایسا لگ رہا تھا کہ انہیں قارون کا خزانہ مل گیا ہے
کہاں ہیں وہ کون ہے وہ کس کی بیٹی ہے کہاں رہتی ہے کیا کرتی ہے جلدی سے مجھے بتاؤ ہم ابھی ایک ہی سانس میں کئی سوال پوچھ ڈالے
جس پر دین بے اختیار مسکرا دیا
میں ابھی اس کو اپنے بیٹے کے لئے مانگ لوں گی اماں بھی کی خوشی دیکھنے کے قابل تھی
وہ تو اسی وقت اپنی چادر لئے اٹھ کھڑی ہوئی
تبھی سعد اندر داخل ہوا اور اماں بی کو شانوں سے پکڑ کر واپس بیڈ پر بٹھایا اماں بھی کافی رات ہوچکی ہے ہم صبح چلیں گے
اماں بی کو تو ایسا لگ رہا تھا کہ جیسے صبح نہ جانے کب آئے گی اور کب اپنے بیٹے کی پسند کو دیکھنے کے لئے جائیں گے
سعد بھی اس کے فیصلے سے بے حد خوش تھا اور آنکھوں ہی آنکھوں میں نہ جانے اسے کیا اشارہ کر رہا تھا جینے سمجھ کر زین بے اختیار مسکرا دیا
اماں بھی سامان سے لدی پدی اگلے ہی دن زمان صاحب کے گھر جا پہنچی زمان صاحب گھر میں ہی موجود تھے
دادو نے انہیں احترام سے ڈرائنگ روم میں بٹھایا اور زمان صاحب کو بلانے کے لئے چلی گئیں
زمان صاحب کہ اتے ہی اماں بی نے کوئ بھی فضول بات کئے بغیر اپنے آنے کا مقصد آسان لفظوں میں بیان کیا
دیکھے زمان بھائی
اگر بات سعد کی ہوتی تو میں آپ کو سوچنے کے لیے وقت ضرور دیتی مگر بات یہاں پہ زین کی ہے جو آپ کا اپنا بچہ ہے آپ کی آنکھوں کے سامنے پلا بڑا ہے اس کے کردار کی گواہی آپ خود دے سکتے ہیں
اس لئے میں انکا ر بالکل نہیں سنوں گی
ہاں
اگر آپ گڑیا کی مرضی جاننا چاہتے ہیں تو مجھے کوئی اعتراض نہیں کیونکہ میں بھی زبردستی کا قائل نہیں ہوں
آپ ہماری بیٹیا سے اس کی مرضی پوچھ کر ہمیں آرام سے جواب دے سکتے ہیں
مگر کیا میں ایک بار اپنی بیٹی سے مل سکتی ہوں
کیوں نہیں مہ نور بہن گڑیا آپ کی بھی بیٹی ہےجب چاہے اس سے مل سکتی ہیں
میں گڑیا کو بلا کر لاتی ہوں دادو نےاٹھتے ہوئے کہا
دادو کمرے میں داخل ہوئی تو گڑیا بیڈ پر لیٹی اپنی سوچوں میں گم تھی
گڑیا بیٹا اٹھو آپ سے کچھ مہمان لیے آئے ہیں دادو نے اس کے بالوں کی لٹ کو سوراتے کرتے ہوئے کہا
کون ہے دادو
آپ کے بابا کے پرانی جاننے والی ہے
دادو نے اس کے سر پر دوپٹہ جمایا
اور اسی لیےڈرائنگ روم کی جانب چل دی
گڑیا کمرے میں داخل ہوئی اور ادب سے اماں بی اور سعد کو سلام کیا سعد کو دیکھ کر وہ حقیقی معنوں میں حیران ہوئی تھی
دادو نے تو بابا کے کسی ملنے والی سے ملنے کے لیے بلایا تھا مگر یہ تو سعد بھائی ہیں اور یہ سعد بھائی کے ساتھ کون ہے گڑیا اپنی ہی سوچوں میں گم تھی
اماں بھی آگے بڑی اور محبت سے گڑیا کو اپنے سینے سے لگایا اور اس کی پیشانی پر بوسہ دیا گڑیا کے اندر پرسکون اترگیا اس ایک لمس کے لیے وہ کتنا ترسی تھی یہ کوئی اس سے پوچھتا
برسوں بعد اس نے ممتا کا احساس محسوس کیا تھا
بے شک ماں ایک عظیم تحفہ ہے جو میری قسمت میں نہیں
گڑیا نے افسردگی سے سوچا
اور وہی ان کے ساتھ سوفے پر ٹک گئی
اماں بھی کافی دیر اس کے ساتھ چھوٹی چھوٹی باتیں کرتی تھی اس کی کالج دوستوں کے بارے میں باتیں کرتی رہی
او جانے سے پہلے گڑیا سے وعدہ لے گی کہ وہ ان کے گھر ضرور آئے گی اور ڈھیر ساری باتیں کرے گی ان کے بلانے میں اتنا خلوص تھا کہ گڑیاچاہا کر بھی انکار نہ کر پائی
دادو نے کھانے پر روکنے کی بہت کوشش کی مگر وہ یہ کہہ کر چلی گئی کہ وہ جلد ہی واپس اپنے سوال کا جواب ہاں میں لینے آئینگی
تب ضرور کھانا کھائیں گے
گڑیا کو کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا یہ کیا ہو رہا ہے.
اماں بھی اور سعد كے جانے کے بعد زمان صاحب نے دادو سے بات کی دادو کو بھی سنجیدہ مزاج ذہن بے حد پسند تھا
زمان صاحب کی خواہشیں یہی تھی انہیں آج بھی وہ دن یاد تھا جب گڑیا پیدا ہوئی تھی
مرتضی بےحد خوش تھا وہ گڑیا کو باہوں میں لیے کبھی اس کے ماتھے پر پیار کرتا تھا کبھی اس کے گال پر
گڑیا تھی بھی بے حد خوبصورت اپنی گول مٹول آنکھوں سے مرتضیٰ کو دیکھ کر دھیرے سے مسکرا دیتی
اس کی اس ادا پر تو مرتضی قربان ہوجاتا
گڑیا کو گود میں لیے مرتضی نے زمان سے وعدہ لیا کہ گڑیا صرف اور صرف ان کے گھر کی بہو بنے گئی مرتضی کی اس بات پر زمان بے ساختہ مسکرا دیا
وہ وقت یاد کرکے زمان صاحب کی آنکھیں بھیگ گئی
کیا ہوا بابا اب رو رہے ہیں گڑیا متفکر سی ان کے پاس آئی
کچھ نہیں بابا کی جان آؤ بیٹھو مجھے تم سے کچھ بات کرنی ہے
زمان صاحب نے گڑیا کو اپنے پاس بٹھاتے ہوئے کہا
جی بابا بولیں
بیٹا آپ کے لئے ایک رشتہ آیا ہے
بابا پلز میں نے آپ نے کہا تھا کہ مجھے شادی نہیں کرنی
گڑیا نے انکار کرتے ہوئے کہا
بیٹا ایسا نہیں کہتے ایک نا ایک دن تو آپ کو اپنے گھر کا ہونا ہی ہے کیا آپ کسی اور کو پسند کرتی ہیں زمان صاحب نے پیار سے پوچھا
ایسا کچھ نہیں ہے بابا گڑیا نے جواب دیا
بیٹا آپ کے لیے ذہن کا رشتہ آیا ہے
کیا بابا زین کا رشتہ
گڑیا اتنی حیران تھی کہ اپنا منہ بند کرنا ہی بھول گئی
ہاں پیٹا اور مجھے تمہاری دادو کو اس پر کوئی اعتراض نہیں ہے
کیا آپ اس سے خوش ہیں گڑیا نے جھکی پلکوں کے ساتھ پوچھا
ہاں بیٹا میں خوش ہوں بے حد خوش
ٹھیک ہے بابا مجھے کوئی اعتراض نہیں گڑیا یہ کہہ کرکمرے سے چلی گئی
زمان صاحب مسکرا دیے یه کیسے ہو سکتا تھا کہ اپنی بیٹی کے چہرے کے بدلتے رنگ بھی پہچان نہیں پاتے وه
مسرور سے وہاں سے اٹھ کر اپنے بیڈ روم کی طرف چل دیے وہ جان چکے تھے کہ ان کی بیٹی بھی اس رشتے سے بے حد خوش ہے
وہ خوش تھی بے حدخوش جس انسان کی اس نے تمنا کی تھی جسے دیکھ کر نہ جانے چپکے چپکے سے کتنی دعائیں مانگی تھی کہ وہ شخص ساری دنیا میں بس اسی کا ہو جسے اس نے اپنے رب سے مانگا تھا وہ اس کا بننے جارہا تھا اس کا محرم وہ خوش کیوں نہ ہوتی جس کا ساتھ پانا اس کی سب سے بڑی خواہش تھی وہ آج اسی کا ہونے جا رہا تھا نیند تو اس کی آنکھوں سے کوسوں دور تھی کیا وہ بھی مجھ سے محبت کرتا ہوگا یہ سوچ کر ایک بے ساختہ مسکراہٹ میں اس کے ہونٹوں کو چھوا
محبت کیا مجھے اس سے محبت ہو گئی ہے اس نے شرما کر اپنا چہرہ تکیہ میں چھپا لیا
تھینک یو اللہ میاں زین کو میری زندگی میں لانے کے لیے یہی
سب سوچتے سوچتے وہ نیند کی وادیوں میں کھو گئی
اماں بی کی خوشی دیکھنے کے لائق تھی ان کے ایک بیٹے نے تو گھر بسانے کے بارے میں سوچا تھا وہ بے تحاشہ خوش تھی وہ روز
سعد کو ساتھ لیے مارکیٹ چلی جاتی
زین اور گڑیا کے لئے ڈھیر ساری شاپنگ کرتی سعد نے بہت بار انہیں سمجھانے کی کوشش کی تھی یہ ابھی رشتے کے لئے ہاں نہیں ہوئی لیکن وہ بی اماں تھی مجال ہے جو سعد کی کسی بات کا سیدھے سے جواب دے دے
ارے میاں بڑے ہم ہیں یا تم ہو ہمیں اچھے سے پتہ ہے کہ ہمیں کیا کرنا ہے ہمیں سمجھانے کی کوشش مت کرو
یہ کہہ کروہ ہمیشہ سعد کو ٹال دیتی
دونوں نے اماں بی کو ان کے حال پر چھوڑ دیا تھا
آخرکار ایک ہفتے کے بعد دادو کا فون آ ہی گیا
یہ ایک ہفتہ نہ صرف اماں بی بلکہ ذہن نے بھی بہت بے چینی سے گزارا تھا
حال چال کے بعد دادو نے گڑیا کی رضامندی کے بارے میں بتایا
اماں بھی خوشی سے اٹھی وہ جلد از جلد گڑیا کو اپنی بہو کے روپ میں دیکھنا چاہتی تھی دونوں طرف
سے منگنی کی تیاریاں زور و شور سے شروع ہوگی
اماں بی کے تو مانو پاؤں ہی زمین پر نہ ٹك رہے تھے وہ کبھی سعد کا بازار لیے جا رہی تھی کبھی ذہن کو اور کبھی رانو اور گڑیا کو
وہ ہر چیز خوبصورت سے خوبصورت لے رہی تھی سچ میں اماں بی نے زین کو بیٹا کہا ہی نہیں بلکہ دل سے مانا بھی تھا
کہیں بار زین اور سعد نے انہیں روکنے کی اپنی سی کوشش کی کے کہیں ان کی طبیعت ہی خراب نہ ہو جائے مگر اماں بھی اپنے نام کی ایک تھی وہ ان دونوں کی تمام باتیں ایک کان سے سن کر دوسرے کان سے نکال دیتی
وہ دونوں بیچارگی سے اماں بی کو دیکھتے رہ جاتے
آج یشال کا birthday تھا بابا کا فون صبح ہی صبح آ گیا تھا
سکینہ(نوکرانی) نے بی یشال کو ایک خوبصورت سندھی کڑھائی والی شال گفٹ کی تھی
سکینہ گفٹ دیتے وقت کافی ہچکچاہٹ کا شکار تھی
مگر یشال نے گفٹ کی اتنی تعریف کی کہ وہ کھل اٹھی
سچی بی بی جی آپ کو یہ شال اتنی پسند آئی
ہاں سکینہ مجھے یہ بہت اچھا لگا
آپ کا بہت بہت شکریہ
آمنہ سکینہ کی بیٹی نے بھی یشال کو ہینڈ میڈ برتھ ڈے کارڈ دیا جو بے حد خوبصورت تھا
یشال نے دونوں چیزیں کو قیمتی تحفوں کی طرح سنبھال کر رکھ لیں
بی بی جی بی کتنی اچھی اور معصوم ہیں بلا ہم غریبوں کے تحفے بھی کوئی یوں سنبھال کر رکھتا ہے
سکینہ اپنی آنکھوں میں آئے آنسو چادر سے صاف کرتی ہوئی کچن میں چلی گئی
یشال لا شعوری طور پر شاہ کے وش کرنے کے انتظار میں تھی مگر شام کے پانچ بج گئے اور شاہ کا فون تک نہ آیا
صبح وہ اس کے جاگنے سےپہلے ہی آفس جا چکا تھا
اب یشال مکمل طور پر مایوس ہو چکی تھی
آپ کو تو میرا برتھ ڈے بھی یاد نہیں کیا اس کے لبوں نے شکوه كیا
تبھی بیڈ پر پڑا اس کا فون بج اٹھا نمبر دیکھ کر بے اختیار اس کا دل دھڑک اٹھا اخر اس کے شاہ کو یاد آ ہی گیا تھا
ہیلو یشال
پلیز تم جلدی سے تیار ہو جو میرے ایک دوست نے آج ہمیں ڈنر پر بلایا ہے
یشال بے حد خوش تھی کے شاه كو
اس کا برتھ ڈے یاد آگیالیکن دل مسوس كر ره گی
شاه كو میرا برتھ ڈے تک یاد نہیں بہت سے آنسو اس کی پلکوں کی قید سے آزاد ہو کر گرنے لگے.
جاری ہے
