Wehshat E Ishq by Saniya Shah NovelR50813 Wehshat E Ishq by Saniya Shah Episode05
Rate this Novel
Wehshat E Ishq by Saniya Shah Episode01 Wehshat E Ishq by Saniya Shah Episode02 Wehshat E Ishq by Saniya Shah Episode03 Wehshat E Ishq by Saniya Shah Episode04 Wehshat E Ishq by Saniya Shah Episode05 (Watching)Wehshat E Ishq by Saniya Shah Episode06 Wehshat E Ishq by Saniya Shah Episode07 Wehshat E Ishq by Saniya Shah Episode08 Wehshat E Ishq by Saniya Shah Episode09 Wehshat E Ishq by Saniya Shah Episode10 Wehshat E Ishq by Saniya Shah Episode11 Wehshat E Ishq by Saniya Shah Episode12 Wehshat E Ishq by Saniya Shah Episode13 Wehshat E Ishq by Saniya Shah Episode14 Wehshat E Ishq by Saniya Shah Episode15 Wehshat E Ishq by Saniya Shah Last Episode
Wehshat E Ishq by Saniya Shah Episode05
Wehshat E Ishq by Saniya Shah Episode05
زین صبح سے ہی شبنم بیگم کے جاگنے کا انتظار کر رہا تھا
دن کے سوا دو بجے شام بیگم نك سك تیار ہو کے نیچے آئیں
اور سکینہ کو آواز دینے لگیں سکینہ میری کافی لے آؤ
گڈ مارننگ مام
ذہن ان کے قریب سوفے پر بیٹھے ہوئےکہا
گڈ مارننگ
ماما کل میری برتھ ڈے تھی میں نے آپ کا کافی انتظار کیا آپ کہاں تھی
ہیپی برتھ ڈے جانو
انہوں نے اس کا گال چوم كر اسے وش كیا
ماما آپ نے وعدہ کیا تھا کہ اس بار آپ میرا برتھ ڈے میرے ساتھ سلیبریٹ کریں گی
میں بزی تھی بیٹا
کہاں بزی تھیں آپ اپنے اس دوست کے ساتھ جو کو آدھی رات کو گھر چھوڑنے کے لیے آیا تھا
زین نے ان کا ہاتھ غصے سے جھٹكتے کرتے ہوئے کہا
زین کونسا طریقہ ہے اپنی ماں سے بات کرنے کا
شبنم بیگم نے سے غصے سے ڈانٹا
نہیں ہیں آپ میری ماما
زین غصے سے چلایا
شبنم بیگم کا ہاتھ اٹھا اور اس کے منہ پر نشان چھوڑ گیا
میں آخری بار سمجھ آرہی ہوں کہ میری پرسنل لائف میں انٹر مت کرو
تم اور ایک وہ تمہارا باپ سمجھتے کیا ہو تم لوگوں کے لئے میں اپنی زندگی انجوائے کرنا چھوڑ دو
اور قید ہو جاؤ گھر میں شبنم بیگم نے چلاتے ہوئے کہا
میں تمہیں پیدا ہی نہیں کرنا چاہتی
تمہارے باپ کو شوق تھا بچے کا
اسے ہی اولاد چاہیے تھی
اب کیا ہوا سنبھال نہیں سکتا اپنے بچے کو
میری نظروں سے دور ہو جاؤ اس سے پہلے کہ میں تمہاری جان لے لو
زین
اپنی جگہ سے ایک انچ بھی نا هل پایا
اس کی ماں اسے پیدا ہی نہیں کرنا چاہتی تھی یہ سوچ جان لیوا تھی
یہ سوچ اس کے دل و دماغ پر نقش ہو کر رہ گئی
ایک آخری سوال پوچھنا ہے آپ سے
پوچھو
شبنم بیگم ایک ادا سے اپنے بال پیچھے کرتے ہوئے بیزاریت سے جواب دیا
کل جو شخص آپ کے ساتھ تھا وہ کون تھا کیا وہ کوئی آپ کا دوست
بوائے فرینڈ
شبنم بیگم نے اس کی بات کاٹتے ہوئے کہا زین کو لگا جیسے کسی نے پگلا ہوا سریا اس کے کانوں میں ڈال دیا ہو
میں نے پہلے بھی تمہیں سمجھایا ہے کہ میرے پرسنل میٹرز میں انٹر فیر کرنے کی ضرورت نہیں ہے
شبنم نے اسی وارن کرتے ہوئے کہا اور اور باہر نکل گئی
______________________________________
شاہ سوئی ہوئی یشال پر ایک نظر ڈال کر بیڈ پر اس کے ساتھ بیٹھ گیا
اور نرمی سے اس کا جلا ہوا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیا
اوراس پر مرہم لگانے لگا
سوتے ہوئے بھی وہ بے چین تھی جیسے وہ بہت تکلیف میں ہو
مجھے معاف کردو جان شاہ میں تمہیں تکلیف نہیں دینا چاہتا
لیکن تمہیں کوئی اور دیکھے چھوئے محسوس کرے
یہ مجھ سے برداشت نہیں ہوتا
دل کرتا ہے میں ساری دنیا کو آگ لگا دوں تمہیں ساری دنیا سے چھپا لوں
جان تم میرے لیے کیا ہو یہ تم خود بھی نہیں جانتی
تم شاہ کی چلتی ہوئی سانسوں کا وجہ ہو
اگر شاه دل هے تو اسكی دھڑکن تم ھو
تم نہ ہو تو شاید شاہ سانس بھی نہ لے پائے
وہ اسی کے جلے ہوئے ہاتھ پر لب رکھے کسی دیوانے کی طرح بول رہا تھا
اور یشال کے آنسو اس کی آنکھوں سے نکل کر تکیے میں جذب ہو رہے تھے تھوڑی دیر پہلے ہی تکلیف کی وجہ سے اس کی آنکھ کھلی تھی
_____________________________________
وه تین دن سے بخار میں جل رہا تھا اور مسلسل کچھ بڑبڑا رہا تھا
مرتضی صاحب کو جب اس کی بڑبڑا ت کا مطلب سمجھ آیا
وہ سیدھا شبنم کے پاس پہنچے
کیا بكواس كی ہے تم نے زین سے حالت دیکھی ہے اس کی
مرتضی صاحب نے بمشکل اپنا غصہ قابو کرتے ہوئے کہا
وهی کہا ہے جو سچ ہے میں تم سے طلاق لینا چاہتی ہوں
اور پھر برائٹ کے ساتھ اپنی ایک نئی زندگی کا آغاز کرنا چاہتی ہوں
بے حیا عورت تمہارے 15 سال کا ایک بیٹا ہے
یہ بكواس کرنے سے پہلے اسکا ہی سوچ لیتی
مرتضی كی آواز نہ جانے کب اونچی ہوگی
کون سا بیٹا کہاں کا بیٹا
وہ میرا نہیں تمہارا بیٹا ہے
شبنم نے اپنے موبائل پر انگلیاں چلاتے ہوئے تنك کر کہا
شبنم کیا نہیں دیا میں نے تمہیں دولت عزت پیار شہرت جو تم نے چاہا تمہارے مانگنے سے پہلے تمہارے قدموں میں ڈھیر کردیا
پھر بھی تم
دیکھو مرتضیٰ میں یہ سب نہیں جانتی میں بس اتنا جانتی ہوں کہ میں برائٹ سے بہت پیار کرتی ہوں
اور اب اس کے ساتھ اپنی زندگی کا ایک نیا سفر شروع کرنا چاہتی ہوں
پلیز مجھے طلاق دے دو
میں تمہارے جیسے انسان کے ساتھ نہیں رہنا چاہتی تم نے بیشک مجھے پیسہ دولت ہر چیز دی ہے
تمہاری سوچ گاؤں کے پینڈو جیسی ہے
کہ عورت بچہ پیدا کرنے کے لیے ہے
بچے پیدا کرو اسے پڑاؤ بڑھاؤ شادیاں کرو بوڑھے ہو اور مر جاؤں
میں ایسی زندگی نہیں گزارنا چاہتی
مرتضی
صاحب کا ہاتھ اٹھا شبنم بیگم تھوڑی دیر سكت سی دیکھتی رهی
تم نے مجھ پر ہاتھ اٹھایا گھٹیا انسان
میں تم جیسے آدمی کے ساتھ سیکنڈ کے لیے بھی نہیں رکھ سکتی
پلیز میری بات سنو مرتضی ان کے آنسو صاف کرتے ہوئے کہا
شبنم بے بس ہو کر وہیں بیٹد کے کنارے پر ٹک گئی
مرتضی پلیز مجھے طلاق دے دو مجھے یہاں سے جانا ہے شمیم بیگم نے روتے ہوئے مرتضیٰ سے کہا
شبنم میں تم سے بہت پیار کرتا ہوں
میں تمہیں خوش دیکھنا چاہتا ہوں
ہاں تو اسی پیار کا واسطہ پلیز مجھے یہاں سے جانے دو مجھے خوش دیکھنا چاہتے ہو
میں تمہارے ساتھ کبھی خوش نہیں رہ سکتی میری خوشی برائٹ ہے
مرد بزدل یا بیوقوف نہیں ہوتا بس وہ اپنی محبت سے ہار جاتا ہے
اس عورت کے چہرے پر ایک مسکراہٹ دیکھنے کے لیے جان بوجھ کر بے وقوف بن جاتا ہے جسے وہ بے حد چاہتا ہے
بڑے سے بڑا زخم جسم پر لگ جائے تو وہ نہیں روتا
مگر جس عورت کو وہ چاہتا ہے اگر اس کی آنکھ میں ایک آنسو آجائے تو مرد بری طرح ٹوٹ جاتا ہے
عورت کی ایک مسکراہٹ کے لیے وہ اپنی زندگی کی ساری کمائی اس پر لٹا دیتا ہے
اس کی آنکھ میں آئے آنسو روکنے کے لیے کسی بھی حد تک جا سکتا ہے
وہ سب کچھ کرسکتا ہے جو عورت چاہتی ہے
مرتضی صاحب بھی شبنم کے آنسو سے ہار گئے
اور شبنم بیگم کو ہمیشہ کے لئے اپنی اور زین کی زندگی سے رخصت کرنے کا فیصلہ کرلیا
ٹھیک ہے جیسا تم چاہتی ہو وہی ہوگا مرتضیٰ صاحب شبنم کے آنسو صاف کرتے ہوئے کہا اور کمرے سے باہر نکل گئے
____________________________________________
یشال شادی کی پہلی رات سے اپنی غلطی سمجھنے کی کوشش کر رہی تھی
آخر اس نے ایسی کیا غلطی کردی ہے جس کی وجہ سے شاہ اس سے بدگمان ہے لیکن اسے کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا
وه شاه کو سمجھنے کی کوشش میں بری طرح ناکام ہو رہی تھی
اس نے سوچا کہ وہ اس سے بات كرے گی کی آخر مسئلہ کیا ہے
لیکن اس میں اتنی ہمت نہیں تھی
شاه كا نرم کبھی گرم مزاج دیکھ کر وہ ہمیشہ اس سے بات کرنے کا بس سوچ کے ہی رہ جاتی
وہ سمجھ نہیں پاتی تھی ایک طرف وہ اسے تکلیف دیتا تھا
تو دوسری طرف اس تکلیف کی اذیت خود بھی محسوس کرتا تھا
وہ جتنا اس کا خیال رکھنے کی کوشش کرتی شاہ اتنا ہی اس پر غصہ کرتا
رخصتی کے وقت اس کے بابا نے کہا تھا
کہ بیٹا شاہ بہت ٹوٹا ہوا انسان ہے
تمہیں اپنے پیار محبت سے اسے زندگی کی طرف واپس لانا ہے تم سے بہت پیار کرتا ہے
وه تمہیں بہت خوش رکھے گا
مگر شاہ اسے اپنی زندگی میں داخل ہونے ہی نہیں دے رہا تھا
وہ دونوں ایک ساتھ ایک کمرے میں ایک گھر میں تو رہتے تھے
مگر ایسا کوئی رشتہ بھی نہیں بن سکا تھا جس کی وجہ سے یشال اس سے بات کر پاتی یا اس کے بارے میں جان پاتی یہ سب سوچتے سوچتے نہ جانے کب یشال کی آنکھ لگ گئی
______________________________
صبح جب یشال کی آنکھ کھلی تو شاہ سامنے رکھے صوفے پر سو رہا تھا
اس کی آنکھیں بند تھی اور بال ماتھے پر بکھرے ہوئے تھے جبکہ نیند میں بھی اس کے ہونٹ سختی سے بھیچے ہوئے تھے
ایک بازو اس کے سینے پر جبکہ دوسرا صوفے سے نیچے لٹک رہا تھا
یہ بندہ سوتے ہوئے بھی کتنا پیارا لگتا ہے
شاه کے اتنے برے سلوک کے باوجود یشال
شاہ کے لئے اپنی محبت کو ختم نہیں کر پائی تھیں
وہ جتنا اپنے دل سے محبت نکالنے کی کوشش کرتی
وہ بے رحم اتنا ہی اس کے دل میں جگہ بناتا جا رہا تھا
یشال كا دل چاہا کہ وہ اس کے ماتھے پر بکھرے بالوں کو سمٹے
مگر اپنے دل کی خواہش کو دل میں دباتے ہوئے
بنا کوئی آہٹ پیدا کیے واش روم کی جانب بڑھی
________________________________
.
زین نے غصے میں پاس پڑا گلدان دیوار پر دے مارا کیا ہوا بیٹا دینو بابا پریشان سے کمرے میں داخل ہوئے
کچھ نہیں بابا آپ پلیز اسے صاف کروا دیں زین نے دیوار کے ساتھ ٹوٹے گلدان کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا
اور کمرے سے باہر نکل گیا
کیا
بتاؤ بابا کو کہ میں ایک لڑکی سے ہار رہا ہوں
مجھے خود پر قابو پانے میں اتنی مشکل کیوں ہو رہی ہے
میں آنکھیں بند کرتا ہوں تو وہی پری چہرہ اپنے تمام جلووں سمت مجھے تنگ کرنے آ جاتی ہے
زین اپنی حالت خود ہی سمجھ نہیں پا رہا تھا
28 سالہ زندگی میں زین نے خود کو اتنا بے بس کبھی محسوس نہیں کیا تھا
وہ اپنے ہی دھیان میں گاڑی ڈرائیو کرتے نہ جانے کب زمان صدیقی کے گھر کے سامنے کھڑا ہوگیا
جب اسے محسوس ہوا اس نے گاڑی جلدی سے واپس موڑی اور آفس کی طرف چل دیا
___________________________________
طلاق ہونے کے بعد شبنم نے زیادہ انتظار نہ کیا اور ہمیشہ کے لئے کینیڈا چلی گی
انہوں نے ایک بات زین سے ملنے کی خواہش ظاہر نہ کی
نا هی زین اس عورت سے ملنا چاہتا تھا
شبنم بیگم کے جانے کے بعد کے بعد مرتضیٰ صاحب کافی کمزور ہوگئے تھے
زمان صاحب انکو سمجھانے کی بہت کوشش کرتے کہ ان کی کوئی غلطی نہیں تھی
لیکن وہ یہ بول كے ہمیشہ انہیں خاموش کروا دیتے
اگر میں اسے خوش رکھتا تو وه کبھی یہ خوشیاں باہر تلاش کرنے کی کوشش نہ کرتی
ہمیشہ اسے خوش رکھنے کی کوشش کی پیار محبت عزت جو اسے مانگا سے دیا
مجھے تو یہی لگا کہ وہ خوش ہے لیکن شاید اس سے کچھ اور بھی چاہیے تھا جو میں اسے کبھی نہ دے پایا
مرتضیٰ صاحب کی زندگی میں آنے والی وہ پہلی عورت تھی جسے مرتضیٰ صاحب نے بے حد چاہا تھا
اور شبنم کی بے وفائی مرتضیٰ برداشت نہیں کر پا رہے تھے
وه اندر هی اندر گھٹ رہے تھے
مرتضیٰ صاحب
نے خود کو کام میں بری طرح مصروف کر لیا تھا
لیکن انہوں نے پوری کوشش کی تھی کہ وہ ذین کو سنبھال سکیں
اس کے ساتھ وقت گزارتے لیکن انہوں نے محسوس کیا تھا
كے وه دن بدن چپ ہوتا جا رہا ہے
________________________________________
یشال فریش ہو کر واشروم سے نکلی بے دھیانی اس کا پاؤں پھسلا اس سے پہلے کہ وہ نیچے گرتی اور اسے چوٹ لگتی کسی کے مضبوط بازوؤں نے اسے تھام لیا
یشال بری طرح اس کے باہوں میں کانپ رہی تھی
معصوم چہرہ ستون ناک جس پر ایک ہیرے کی لونگ چمک رہی تھی گیلے بالوں کی لٹیں جو اس کے چہرے پر چپکی ہوئی تھی کم کپکپاتے ہونٹ
شاه بے خود سا اسے دیکھے گیا
ریلیكس
تم بالکل ٹھیک ہو شاه نے اسے اپنے سینے سے لگاتے ہوئے کہا
میں تمہیں کبھی بھی گر نے نہیں دوں گا
یشال كی سانسیں اب بھی اتھتل پھتل تھی
کچھ دیر شاه اسے ایسے ہی سینے سے لگا کر کھڑا
رہا شاہ نے جب اسے اپنے آپ سے الگ کیا اس کی آنکھیں بند تھی
وه بے اختیار آگے بڑھا اور اسکے کپکپاتے ہونٹوں پر اپنے لب رکھ دیے
یشال كانپ کر رہے گی
شاه
نے جب اس کی غیر ہوتی حالت محسوس کی
تو مسکرا دیااور اسے وہیں چھوڑ کر خود واش روم میں چلا گیا
اس انسان کی دوری اگر مجھے تڑپاتی ہے تو اس کی قربت بھی میری جان لے لے گی یشال وہیں کھڑی سوچ کر رہے گی
—————————————–
شاہ جب فریش ہو کر واپس آیا یشال ابھی تک وہی اپنی دل کی دھڑکنوں کو سنبھالنے کی کوشش كرتی کھڑی تھی
پہلے تو شاه پریشان ہوگیا لیکن جب اسے بات سمجھ ای تو اس کے ہونٹوں پر مسکراہٹ بکھر گئی
شاه اس کے قریب گیا اور اسے کمر سے پکڑ کر اپنی باہوں میں بھر لیا کیا بات ہے جان شاہ ابھی تک ایسے کیوں کھڑی ہو ناشتہ نہیں کرنا
كچھ ن ن نہیں
یشال شاه كی اس درجے قربت پر سٹپٹا کر رہ گئی
اور خود کو شاہ کی باہوں سے آزاد کرانے کی کوشش کرنے لگی
نہ جان اب یہ فرار ناممکن ہے یہ
کہتے ہوئے شاه نے اس كی صراحی دار گردان کو اپنے ہونٹوں سے چھوا یشال پوری جان سے كانپ کر رہے گی
شاه نے اس کی حالت سے لطف اندوز ہوتے ہوئے زوردار قہقہ لگايا
_____________________________________________
سعد مسلسل ذین کی غائب دماغی نوٹ کر رہا تھا
میٹنگ میں وہ زیادہ تر چپ هی رہا
سعد نے هی سب کچھ سنبھالا
میٹنگ ختم ہوتے هی سعد نے ذین كو مخاطب كیا
کیا بات ہے جگر صبح سے دیکھ رہا ہوں تو کچھ پریشان اور الجھا الجھا سا ہے
کچھ نہیں یار بس سر میں درد ہے
کچھ تو ہے مگر اب دوستوں سے بھی پردہ داری صحیح ہے
نہیں سعدی تو ایک ہی دوست ہے میرا تجھ سے کیا چھپا ہے
بس سر میں درد ہے
کس کے سر میں درد ہے برخودار
زمان صاحب نے اندر داخل ہوتے ہوئے کہا
انکل آپ اپ نے كیوں تکلیف کی مجھے بلا لیا ہوتا زین نے اپنی کرسی سے اٹھتے ہوئے کہا
واہ
اب بیٹوں کے کیبن میں آتے ہوئے مجھے تکلیف ہوگی
ارے نہیں انکل ہمارا ایسا کوئی مطلب نہیں تھا سعدی نے جلدی سے وضا خت دیتے ہوئے کہا
جانتا ہوں بیٹا
تم دونوں کو ڈینر کے لےاپنے ساتھ گھر لے جانے کے لیے آیا ہوں تم دونوں جلدی سے کام سمیٹو اور چلو میرے ساتھ
زمان صاحب نے جلدی سے کہا
سوری انكل آنے ویٹ کر رہی ہے میں تو نہیں چل سکوں گا
سعد نے جلدی سے کہا
چلو ٹھیک ہے لیکن تمہارا کوئی بہانہ نہیں سنوں گا
انہوں نے زین کی طرف دیکھتے ہوئے کہا
اوکے انكل جیسے آپ کا حکم زین نے ذرا سا جھکتے ہوئے کہا
__________________________________
زمان صاحب زین کو لئے ہال میں داخل ہوئے تو گڑیا بےچینی سے ان کا انتظار کر رہی تھی
گڑیا اپنا ریزلٹ لیے بھاگتے ہوئے زمان صاحب کے گلے سے لگ گئی
بابا دیکھیں میں اس بار بھی فرسٹ آئی ہو
ابھی گڑیا کی باتوں منہ میں ہی تهی کہ اس نے اپنے سامنے کھڑے ہٹے کٹے شخص کو دیکھا
ارے یہ تو اس دن والا کھڑوس ہے
گڑیا نے زین کو سر سے پاؤں تک گھورتے ہوئے سوچا
ارے واہ بیٹا مبارک ہو مجھے یہی امید تھی اپنی گڑیا سے
کہ میری گڑیا اس بار بھی مجھے مایوس نہیں کرے گی
زمان صاحب نے پیار سے گلے سے لگاتے ہوئے کہا
ارے ینگ مین تم کیوں رک گئے
گڑیا بیٹا جلدی سے اماں کو بولے کے کھانے کا انتظام کریں
اج ذین ہمارے ساتھ کھانا کھائے گا
زمان صاحب نے ذہن کی طرف مڑتے ہوئے کہا
جو دونوں ہاتھ سینے پر باندھے فرصت سے باپ بیٹی کا پیار دیکھ رہا تھا
______________________________
جاری ہے
