Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Wehshat E Ishq by Saniya Shah Episode06

Wehshat E Ishq by Saniya Shah Episode06

💕
کیا بات ہے زین بیٹا آج کل آپ کافی چپ چپ رہنے لگے ہو بابا نے پوچھا ۔
کچھ نہیں بابا بس یہ سوچ رہا تھا کہ ماما نے ایسا کیوں کیا۔۔۔۔ کیوں وہ مجھے اور آپ کو چھوڑ کر چلی گئی نفرت کرتا ہوں میں ان سے شدید نفرت زین کے لہجے میں اس کی ماں کے لئے نفرت وہ تو صاف محسوس کرسکتے تھے ۔
ایسا نہیں کہتے بیٹا جو بھی تھی جیسی بھی تھی وہ آپ کی ماں تھی آپ کو ان کی عزت کرنی چاہئے
عزت ۔؟
یہ آپ کہ رہے ہیں بابا ۔۔۔۔۔؟۔
آپ کو لگتا ہے کہ وہ عورت عزت کے قابل ہے
وہ عورت جو آپ کی عزت ڈوبو کر چلی گئی ۔کالج کا ہر لڑکا سوال کرتا ہے مجھ سے کہ تمہاری ماں کیوں چلی گئی کیا کہوں میں ان سب کو بولیں ۔۔۔۔۔کیا جواب دوں میں ان سب کے سوالوں کا ۔۔۔۔؟
اس عورت سے نفرت کرتا ہوں میں بلکہ عورت ذات سے نفرت ہے مجھے ۔۔۔
عورت ذات اس قابل ہی نہیں کہ اسے عزت دی جا سکے ۔عورت ذات کو عزت راس ہی نہیں آتی اسے اپنی مٹھی میں بند رکھنا چاہیے ۔
آپ اسے جتنی عزت اور محبت دو گے اتنی ہی سر پے چڑے گی
بیٹا کون سکھا رہا ہے آپ کو ایسی بے ہودا باتیں ۔کس نے کہا ہے آپ سے یہ سب کچھ بتائیں مجھے ۔بابا کو یقین تھا کہ اتنی گھٹیا سوچ ان کی بیٹے کی نہیں ہوسکتی ۔
جو بھی ہے بابا بالکل ٹھیک کہتا ہے ۔زین نے ناگواری سے کہا
اور بنا صدیقی صاحب کی حالت دیکھے وہ گھر سے باہر نکل گیا
💕
ابھی شبنم بیگم کو کینیڈا گئے ہوئے کچھ ہی وقت گزرا تھا کہ مرتضیٰ صاحب کو خبر ملی کہ وہاں انہوں نےشادی کرلی ہے ۔
یہ خبرمرتضی صاحب کے لیے کسی صدمے سے کم نہ تھی وہ یہ صدمہ برداشت نہیں کر سکے اور سینے پہ ہاتھ رکھ کے وہی ڈھے گئے
زین ابھی کالج سے واپس آیا تھا اس نے جب مرتضی صاحب کی حالت دیکھی تو بوکھلا گیا
اگر مرتضی صاحب کی جگہ کوئی اور ہوتا تو شاید زین کی ایسی حالت نہ ہوتی ۔لیکن اس کے پاس اس وقت یہی ایک اکلوتا رشتہ تھا ۔جسے وہ کسی حال میں کھونا نہیں چاہتا تھا وہ
ڈرائیور کو آوازیں دینے لگا
ڈرائیور چاچا دینو چاچا پلیز جلدی آئیں
گاڑی نکالے بابا کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے
دینو چاچا پلیز اب زمان انکل کو کال کر دیں اور جلدی سے ہسپتال پہنچنے کا کہہ دیں ۔
زین کو کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا مرتضی صاحب کی حالت بگڑتی جا رہی تھی
اس سے پہلے زین میں کبھی ایسی سچوئیشن ہینڈل نہیں کی تھی
💕
زمان صاحب جب ہسپتال کے کوریڈور میں داخل ہوئے تو ذہن زمین پر بیٹھا کسی چھے سال کے بچے کی طرح رو رہا تھا ۔
کیا ہوا بیٹا۔۔۔؟ کہاں ہے مرتضیٰ ۔۔۔؟ زمان صاحب نے پوچھا
انکل میرے بابا۔۔۔۔ زین نے ICUکی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا
سششس۔۔۔کچھ نہیں ہوگا مرتضیٰ کو تم رونا بند کرو کچھ نہیں ہوگا ۔۔
انکل بابا کو کچھ ہوگیا تو میں مر جاؤں گا پلیز کچھ کریں بابا کو بچالیں ۔
بابا کے علاوہ میرا اس دنیا میں کوئی نہیں ہے ۔
پلیز انکل کچھ کریں زین زمان صاحب کے سینے سے لگا کسی معصوم بچے کی طرح بلک بلک کر رو دیا ۔
زین اللہ پر یقین رکھو تم رونا بند کرو اللہ سے اپنے بابا کی زندگی کی دعا مانگو زمان صاحب نے اسے سمجھانے کی کوشش کی ۔
اور اسے سہارا دے کر پاس رکھے بینچ پر بیٹھیااور خود بھی ساتھ بیٹھ گئے ۔
یہ وقت زمان صاحب کے لیے بھی بہت پریشان کن تھا ۔
کیونکہ مرتضی صاحب ان کے اکلوتے دوست تھے ۔
ذین کی طرح وہ بھی انہیں کھونا نہیں چاہتے تھے
💕
ڈینر ہلکی پھلکی گفتگو کے ساتھ خوشگوار ماحول میں کیا گیا بلاشبہ کھانا بہت لذیذ تھا اور ذین نے ایسا کھانا کہیں سالوں کے بعد کھایا تھا اسی لیے وہ بنا تعریف کیے نہ رہ سکا اور بےاختیار اماں بی کو پکار بیٹھا اماں بھی کھانا بہت ہی لذیذ تھا میں نے طلب سے کہیں زیادہ کھایا آپ کا بہت بہت شکریہ
ارے بیٹا
میرا کہا شکریہ اب ان بوڑھی ہڈیوں میں اتنی جان کہاں کے سارا دن کچن میں گزار سکے ایک زمانہ تھا جب ہم اس سے کہیں زیادہ لذیذ کھانا بنایا کرتے تھے
اماں بی اپنے گزرے ہوئے زمانے میں کھوئی ہوئی تھی
تو کس نے بنایا یہ کھانا
آج کا سارا کھانا توگڑیا نے بنایا ہے اماں بی نے گڑیا کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا
جو پوری دلجمعی سے کھانا کھانے میں مصروف تھی جسے اس کے علاوہ اس کو کوئی اور کام ہی نہ ہو
ارے واہ سے باتیں بنانے کے ساتھ ساتھ کھانا بھی بنانا آتا ہے ذین دل ہی دل میں حیران ہو ا خود پر جمی دین کی نگاہ محسوس کرکے گڑیا چائےکا کہتے ہوئے وہاں سے چلی گئی
دین کی نگاہوں نے دور تک اس کا تعاقب کیا
💕
نہ دعا کام آئے نہ دوا اور مرتضیٰ صاحب ذین کو اس دنیا میں اکیلا چھوڑ کر ہمیشہ کے لئے منوں مٹی تلے جا سوے
ہر غم ہر دکھ ہر درد ہر اذیت ہر وفائی سے ہمیشہ کے لئے دور چلے گئے گئے
کہتے ہیں مرد بہت مضبوط ہوتا ہے برے سے برا صدمہ برےسے برا حادثہ آسانی سے برداشت کر لیتا ہے مگر دراصل مرد بھی ہوتا تو ایک انسان ہی ہے جو ہر تکلیف اذیت ہر درد ہر دکھ کو اسی طرح محسوس کرتا ہے جیسے کہ ایک عورت
مگر ہمارے معاشرے کا ایک المیہ ہے کہ ہم عورت کو کمزور سمجھتے ہیں لیکن مرد کو بہت مضبوط
ہم بچپن سے ہی بیٹوں کی ذہنوں میں یہ باتیں ڈالنا شروع کر دیتے ہیں
کہ بیٹا لڑکے بہادر ہوتے ہیں
ارے تم تو لڑکے ہو تم روتے ہوئے اچھے لگو گے
اور مرد اپنے ہر احساس کو ہر اذیت کو ہر دکھ کو اپنے ہی اندر رکھنا شروع کر دیتا ہے
اسے ہمیشہ یہ در رہتا ہے اگر مجھے کسی نے آنسو بہاتے ہوئے دیکھ لیا تو کیا سوچے گا کہ میں کتنا کمزور مرد ہوں
آج مرتضی صاحب کو گزرے ہوئے تیسرا دن تھا
زین کو نہیں اپنی خبر تھی اور نہ ہی تغریت کے لئے آنے والے مہمانوں کی
سارا انتظام زمان صاحب اور دینو چاچا ہیں سنبھال رہے تھے
زمان صاحب مہمانوں کو رخصت کر اندر آئے تو ذہن زمین پر بیٹھا خلاؤں میں نہ جانے کیا تلاش کرنے کی کوشش کر رہا تھا
تین دن پہلے کے پہنے ہوئے کپڑے بکھرے بال خاموش لب ویران آنکھیں
وہ انہیں کسی ایسے مسافر کی طرح لگا جو اپنا سب کچھ لٹا کر بیٹھا ہوں
زمان صاحب نے گہری سانس بھری اور اس کے ساتھ زمین پر بیٹھ گئے اور اپنے عزیزو جان دوست کے اکلوتے بیٹے کو اس حال میں نہیں دیکھ سکتے تھے
💕
اس کھڑوس کی اتنی ہمت کہ مجھے گڑیا کو گھور گھور کر دیکھ رہا تھا گڑیا کچن میں برتن تیچتے ہوئے بڑبرا رہی تھی اس کا بس نہیں چل رہا تھا کہ برتنوں کی جگہ ذین ہوتا اور وہ زین کو ٹیچ رہی ہوتی
غصہ تھا کہ کم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہا تھا اور چائے اوبل اوبل کر بلکل کالی ہو چکی تھی
اب آئے گا مزہ اب دیکھتی ہوں کہ کیسے گھورتا ہے مجھے تھوڑی سی چک لیتی ہوئے کیسی بنی ہے میری شاہکار چائے
گڑیا نے چائے کی ہلکی سی چسکی لی یک تھو اتنی خراب بیکار چائے لیکن زین صاحب کو مزا تو چکھنا پڑے گا
گڑیا نے چائے ٹرے میں سجائی اور کچن سے باہر نکل گئی
زمان صاحب رات کو چائے نہیں پیتے تھے کیونکہ پھر انہیں نیند نہیں آتی تھی
گڑیا نے ذین کے سامنے چائے کا کپ رکھا جو زمان صاحب کے ساتھ بیٹھا کسی میٹنگ کے بارے میں گفتگو کر نے میں مصروف تھا
اور سامنے رکھے سنگل صوفے پر برجمان ہوگی
ہنسی روکنے کی ناکام کوشش میں اس کا چہرہ بری طرح سرخ ہو رہا تھا
زین دلچسپی سے دیکھ رہا تھا
جیسے ہی زین نے چائے کی چسکی لیا سے لگا کے
اس نے کروا کریلا کھا لیا ہو
نا تو وہ چائے کو حلق سے نیچے اتار پا رہا تھا اور نہ ہی اسے سمجھا آ رہی تھی
کہ وہ کیا کرے
اس چائے کو پینا زین کو دنیا کا سب سے مشکل کام لگ رہا تھا
مگر اس نے جیسے تیسے کر کے آدھی چائے پی اور باقی سامنے رکھے ہوئے ٹیبل پر رکھ دی
بیٹا آپ رک کیوں گئے پیونا زمان صاحب نے زیین کو کپ رکھتے ہوئے دیکھ کر کہا ہماری گڑیا بہت اچھی چائے بناتی ہے
زین گڑیا کی شرارت سمجھ چکا تھا اس نے کھا جانے والی نظروں سے گڑیا کو دیکھا جو ایسے ظاہر کر رہی تھی جیسے ذہین سامنے موجود ہی نہ ہو
ارے نہیں انکل میں نے کھانا بہت زیادہ کھا لیا ہے اب بالکل بھی گنجائش نہیں ہو
زین نے ادب سے زمان صاحب کو جواب دیا اب کیا بتاتا کہ ایسی شاندار چاے اس نے اپنی پوری زندگی میں نہیں پی اور نہ ہی آگے پینے کا ارادہ رکھتا ہے
انکل آپ مجھے اجازت دے رات کافی ہوچکی ہے آپ بھی آرام کریں زندگی زمان صاحب سے اجازت طلب کرتے ہوئے کہا ٹھیک ہے بیٹا اپنا خیال رکھنا کل انشاءاللہ نےافس میں ملاقات ہوگی
زمان صاحب جب ذہن کو باہر رخصت کرکے آئے تو گڑیا کا ہنس ہنس کر برا حال تھا
کیا بات ہے بیٹا آپ اتنا کیوں ہنس رہے ہو زمان صاحب نے گڑیا سے سوال کیا
کچھ نہیں بابا اماں نے آج دن کو ایک لطیفہ سنایا تھا بس وہ یاد آگیا
آپ بھی آرام کریں کافی لیٹ ہو چکا ہے زمان صاحب گڑیا کے سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے اپنے کمرے کی جانب چل دے.
زین کے ذہن میں ابھی تک منتظر خان کی باتیں گردش کر رہی تھی منتظر خان ایک بگڑا ہوا رئس زارہ تھا جو عورت کو اپنے پیر کی جوتی سمجھتا تھا وہ مرتضی صاحب کا مخالف تھا مرتضی صاحب بزنس کی بہت اچھی سمجھ رکھتے تھے اور ہر بڑا پروجیکٹ ان کے حصے میں آتا جس کی وجہ سے منتظر خان اندر ہی اندر جل جاتا اس نے ہر ممکن کوشش کی کہ وہ M۔Zکے شیئرز خرید سکے لیکن مرتضی صاحب اور زمان صاحب اس کی ہر آفر کو ہمیشہ ہی رد کر دیتے کیونکہ وہ جانتے تھے کہ ان کی سوچ اور شہرت دونوں ہی ان کے مزاج سے نہیں مل سکتی منتظر خان اپنی ضد کا پکا اور انتہائی بد دماغ انسان تھا کہیں باراس کی عورتوں کے ساتھ بدتمیزی کی داستانیں میڈیا کے سامنے آچکی تھی زین ابھی تک اس کی باتوں کے زہر اثر تھا زین کو لگ رہا تھا کہ منتظر خان بالکل ٹھیک کہہ رہا ہے عورت پاؤں کی جوتی ہے اور اسے جتنا پیارجتنی عزت دی جائے وہ اتنا ہی سر چڑ کے ناچتی ہے اگر مرتضیٰ شبنم بیگم کو اتنی عزت اور پیار نہ دیتے تو کبھی باہر منہ مارنے کی غلطی نہ کرتی مرتضیٰ کیسا مرد تھا جو اپنی عورت پر قابو نہیں کر سکا زین جتنا سوچ رہا تھا اتنا ہی الجھ رہا تھا ایک طرف اس کا باپ تھا جو عورت کو سر کا تاج سمجھتا تھا جس کی سوچ یہ تھی کہ جو عزت اور محبت مرد کا حق ہے
اتنا ہی حق عورت کا ہے کہ مرد بھی اس سے مخلص رہے اور اسے ایک عزت اور پیار بھری زندگی دے لیکن بابا نے شبنم کو کیا نہیں دیا سب کچھ تو دیا عزت پیار مان وفا پر پھر بھی اس عورت نے کیا کیا؟ منتظر خان ٹھیک کہتا ہے زین اپنی سوچوں میں اتنامخو تھا کہ سے پتہ ہی نہیں چلا کہ کب زمان صاحب اس کے پاس آ کر بیٹھے ۔
💕
زین ۔۔۔زمان صاحب کی پکار نے زین کو اپنی طرف متوجہ کیا
زین نے خالی خالی نظروں سے زمان صاحب کی طرف دیکھا
اٹھو بیٹا کچھ کھا لو تم نے کل سے کچھ نہیں کھایا
انکل میرا دل بالکل دل نہیں کر رہا پلیز
بیٹا ۔زمان صاحب نے اسے سمجھانے کی کوشش کی
انکل بابا آپ کی ساری باتیں مانتے تھے تو پلیز بابا کو کہں نہ کہ وہ واپس آجائے آپ جانتے ہیں میں بابا سے بہت پیار کرتا ہوں میں نہیں رہ سکتا بابا کے بغیر وہ مجھے اکیلا چھوڑ کے چلے گئے انکل میرا کوئی نہیں ہے یہ سب یہ سب اس عورت کی وجہ سے ہوا ہے زہین نے غصے سے اپنی مٹھیاں بھینچ کر رکھی تھی۔
نفرت کرتا ہوں میں اس عورت سے اس سے کیا نفرت مجھے تو عورت ذات سے نفرت ہے بابا بھی منتظر خان انکل کی طرح اپنی بیوی کو دبا کر رکھتے اسے اپنی مرضی پر چلاتے اسے خود سے زیادہ پیار نہ کرتے تو آج حالات الگ ہوتے آج بابا زندہ ہوتے
زمان صاحب نے ذین کو اپنے سینے سے لگایا وہ چاہتے تھے کہ وہ ایک بار جی بھر کر اپنی بھڑاس نکال لے تاکہ اس کا دل ہلکا ہوجائے
بیٹا ایسا نہیں کہتے ۔میں ہوں نہ آپ کے ساتھ میں نے صرف اپنا دوست نہیں بلکہ آج اپنا بھائی کھویا ہے لیکن زندگی اسی کا نام ہے آپ کو آگے بڑھنا ہوگا کیا چاہتے ہیں کہ آپ کے بابا کی روح بےچین رہے
آپ کو ان کا خواب پورا کرنا ہوگا ایک مضبوط اور ثابت قدم انسان بن کر ۔
آپ کے بابا آپ کو ایک کامیاب انسان کے روپ میں دیکھنا چاہتے تھے ۔
کیا آپ اپنے بابا کے خوابوں کو پورا نہیں کریں گے کیا آپ اپنے بابا کے خوابوں کو ادھورا چھوڑ دیں گے ۔زمان صاحب محبت سے اسے سمجھا کر اپنے ساتھ باہر لے آئیں
💕
شاہ جب ہال میں داخل ہوا تو اندر کا منظر دیکھ کر منہ کھلا کا کھلا رہ گیا حال میں ایسا لگ رہا تھا جیسے ابھی کوئی آندھی آکے گزری ہو
سب کوشنز زمین پر پڑے تھے جگہ جگہ رنگ برنگے غبارے بکھرے تھے برتنوں میں نہ جانے کون کون سے کھانے تھے جو اپنی بے قدری پر رو رہے تھے
یشال اورآمنہ (سکینہ کی بیٹی )یہاں سے وہاں بھاگ رہی تھی اور سکینہ انہیں روکنے کی کوشش میں بحال ہورہی تھی
بی بی جی صاحب انے والے ہوں گے یہ سب صاف کرنا ہے آپ بس کر جائیں
ار ےسکینہ بی بی کچھ نہیں ہوتا آج آمنہ کی برتھ ڈے ہے اور ہم یہ دن بھرپور طرح سے انجوائے کر رہے ہیں
اور ویسے بھی آج آپ کے صاحب کی میٹنگ ہے تو وہ جلدی نہیں آنے والے
رات سے پہلے وہ واپس نہیں آئیں گے تو آپ بے فکر ہو جائے ۔
اور آپ کو میری ساری باتیں ماننی چاہیے کیونکہ شاہ کے بعد اس گھر کی مالکن میں ہوں یشال نے گردن آکڑآکر کہا ۔یشال کے اس انداز پر شاہ کا قہقے بیساختہ تھا
یشال نے جب شاہ کو دیکھا تو اس کے ہاتھ میں پکڑا کشین زمین پر گر گیا جبکہ آمنہ یشال کے پیچھے چھپ گئی اور سکینہ منہ کھولیں شاہ کو حیرت سے ایسے دیکھ رہی تھی جیسے کوئی جن دیکھ لیا ہو
شاہ نے انہیں اس طرح سے حیران اور پریشان کھڑے دیکھ کر اپنے چہرے پر مصنوعی غصہ سجایا
آدھے گھنٹے میں یہ سب کچھ صاف ستھرا ہونا چاہیے شاہ نے سرد مہری سے سکینہ کو دیکھتے ہوئے کہا
جی صاحب
ابھی صاف ہوجائے گا یہ
جبکہ یشال شاہ کو سکینہ سے باتیں کرتے مصروف دیکھ کر وہاں سے کھسک چکی تھی ۔برتھ ڈے پارٹی اپنی جگہ لیکن یشال کو فی الحال اپنی زندگی پیاری تھی
۔💕
مرتضی صاحب کے چالیسویں کے بعد زین زیادہ عرصہ پاکستان میں نہ روکا کیوں کہ گھر میں ہر جگہ اس کی بابا کی یادوں کے ساتھ شبنم بیگم کی تلخ یادیں بھی تھی ۔
جو زین کے لیے کسی اذیت سے کم نہ تھی زمان صاحب نے ہر مقام پر ایک اچھا دوست ہونے کا ثبوت دیا انہوں نے اپنے دوست کے بیٹے کو بیٹے سے بھرکر پیار اور توجہ دی
اور انکی توجہ محبت کی وجہ سے ہی زین نہ صرف اپنی منزل حاصل کر پایا بلکہ Z.M کمپنی کو کامیابی کی اونچی منزل تک لے گیا آج ان کی کمپنی کا نام ملک کی مایاناز کمپنیوں میں شامل ہو رہا تھا
اور زین بھی جب سے لندن سے واپس آیا تھا اس نے زمان صاحب کو بیٹے کی کمی محسوس نہ ہونے دیں ہر چیز وہ انتہائی خوش اسلوبی سے انجام دیتا اگر ذہن اپنے بابا کے بعد کسی کی عزت اور کسی سے محبت کرتا تھا تو وہ صرف زمان صاحب تھے وہ صحیح معنوں میں اس کے محسن تھے جنہوں نے اپنے دوست سے کیا ہوا وعدہ نبھانے کی ہر ممکن کوشش کی
زین نے بھی بیٹا ہونے کا پورا پورا ثبوت دیا وہ جب سے لندن سے واپس آیا تھا ہر قدم پر زمان صاحب کے ساتھ اور آفس اس نے سنبھال لیا تھا
زمان صاحب اب زیادہ سے زیادہ وقت گڑیا کے ساتھ گزارتے گڑیا بھی اپنے بابا کے کمپنی خوب انجوائے کرتی کبھی کبھی ان کے ساتھ زین اور سعد بھی شامل ہوتے سعد کے ساتھ گڑیا خوب ہلا گلا کرتی مگر زین سے تھوڑی کھینچی رہتی شایدزین کی سنجیدہ طبیعت کی وجہ سے مگر زندگی اب پرسکون گزر رہی تھی ۔
💕
شاہ یشال کو ڈھونڈتا ہوا روم میں آیا جہاں وہ دنیا جہاں سے بے خبر کتاب پڑھنے میں مصروف تھی اور اس کے ہونٹوں پر ایک پیاری سی مسکان تھی جیسے دیکھ کر شاہ خود بھی مسکرا اٹھا ۔
کافی دیر شاہ ایسے ہی کھڑے دیکھتا رہا مگر جب مقابل کا اگنور کرنا برداشت نہ ہوا تو درو؛زہ کھٹکا کر اپنے ہونے کا احساس دلایا یشال چونک کر سیدھی ہوئی اور اپنا دوپٹہ سیٹ کر کے یہاں وہاں دیکھنے لگی ۔
اس کی بوکھلاہٹ پر شاہ کی مسکان مزید گہری ہوئی
شاہ آہستہ سے قدم اٹھاتا اس کے ساتھ صوفے پہ آکے بیٹھا
کیا ہورہا ہے شاہ نے اس کے بالوں کی لیٹ اپنی انگلی پر لپیٹتے ہوئے کہا ۔
وہ میں ناول پر رہی ہوں
اچھا۔۔۔ کونسا۔شاہ نے دلچسپی لیتے ہوئے کہا
اک لفظ عشق۔
ارے وا کبھی میرے عشق کا احساس تو نہیں ہوا آپ کو۔
شاہ نے اس کے چہرے کو اپنی نظروں کے حصار میں لیتے ہوئے کہا ۔
جبکہ ہاتھ اب بھی اس کی آوارہ لٹ کو سلجھانے میں لگا تھا ۔
آپ مجھ سے عشق تھوڑی کرتے ہیں بےاختیاری یشال کے ہونٹوں سے پھسلا جس پر شاہ نے بے اختیار قہقہ لگایا
اچھا آپ کو کیسے پتہ کہ میں آپ سے عشق نہیں کرتا اسے مزید خود سے قریب کرتے ہوئے بولا ۔
یشال بری پھنس چکی تھی بات اس کے منہ سے نکل چکی تھی
جب شاہ نے اسے اچانک کھینچ کر اپنی باہوں میں لے لیا اور اسے اپنی محبت کا احساس دلانے لگا ۔
حملہ اتنا اچانک تھا کہ یشال سنبھل نہ پائی اور اس کے سینے سے ٹکڑائی ۔
شاہ اسکے ہوںٹوں پر گردن پر ہر جگہ اپنے عشق کی مہر ثبت کرتا اسے اپنے پیار کی بارش میں بگھونے لگا ۔
شاہ کے عشق کی شدت برداشت کرنا یشال جیسی نازک سی لڑکی کے بس کی بات نہ تھی اس نے تھڑ تھڑ کانپتے ہوئے شاہ کے سینے پہ اپنا نازک سا ہاتھ رکھے اسے خود سے دور کرنے کی کوشش کی ۔
اس کی غیر ہوتی حالت دیکھ کر شاہ کو اس پر ترس آگیا اور اسے احتیاط سے خود سے الگ کیا ۔
اس کی حالت دیکھ کر شاہ کی مسکراہٹ مزید گہری ہوگی شاہ نے اس کے کان کے قریب آکر سرگوشی کی ابھی تو میں نے اپنے عشق کی ایک چھوٹی سی جھلک دکھائی ہے اور تمہارا یہ حال ہے
سوچو اگر داستان عشق سنانے بیٹھا تو تمہارا کیا ہوگا اس کے گال کو اپنے ہونٹوں سے چھوتا ہواوہ وہاں سے اٹھ گیا جبکہ یشال و ہی بیٹھی اپنی بے اختیار دھڑکنوں کا شمار کرتی رہ گی.
جاری ہے🍁

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *