Wehshat E Ishq by Saniya Shah NovelR50813 Wehshat E Ishq by Saniya Shah Episode15
Rate this Novel
Wehshat E Ishq by Saniya Shah Episode01 Wehshat E Ishq by Saniya Shah Episode02 Wehshat E Ishq by Saniya Shah Episode03 Wehshat E Ishq by Saniya Shah Episode04 Wehshat E Ishq by Saniya Shah Episode05 Wehshat E Ishq by Saniya Shah Episode06 Wehshat E Ishq by Saniya Shah Episode07 Wehshat E Ishq by Saniya Shah Episode08 Wehshat E Ishq by Saniya Shah Episode09 Wehshat E Ishq by Saniya Shah Episode10 Wehshat E Ishq by Saniya Shah Episode11 Wehshat E Ishq by Saniya Shah Episode12 Wehshat E Ishq by Saniya Shah Episode13 Wehshat E Ishq by Saniya Shah Episode14 Wehshat E Ishq by Saniya Shah Episode15 (Watching)Wehshat E Ishq by Saniya Shah Last Episode
Wehshat E Ishq by Saniya Shah Episode15
Wehshat E Ishq by Saniya Shah Episode15
_____
گھر آتے ہی رانو بنا کوئی بات کیے اپنے اور گڑیا کے مشترک کمرے میں چلی گئی
وہ اچھی خاصی ڈسٹرب لگ رہی تھی
یشال جب کمرے میں داخل ہوئی تو رانو یہاں سے وہاں چکر کاٹنے میں مصروف تھی
رانو سعدی بھائی تم سے بات کرنا چاہتے ہیں گڑیا نے موبائل اس کے ہاتھ میں تھماتے ہوئے کہا
جسے اس نے مکمل نظرانداز کر دیا
گڑیا مجھے تم سے کچھ بات کرنی ہے
ہاں کر لینا بات میں ساری رات یہاں ہوں پہلے تم سعد بھائی سے بات کر لو
یار نہیں کرنی مجھے بات
رانو نے موبائل بیڈ پر پھینکتے ہوئے غصے سے کہا
جبکہ دوسری طرف کال پر موجود سعد بھی اچھا خاصا پریشان ہو چکا تھا کہ وہ اس سے بات کیوں نہیں کرنا چاہتی
کیا بات ہے رانو تم ایسے کیوں بات کر رہی ہو
گڑیا یہاں بیٹھ تو میری بات سن دانو نے گڑیا کو بیڈ پر بیٹھتے ہوئے کہا
مجھے سعد سے شادی نہیں کرنی
کیوں تم کسی اور کو پسند کرتی ہو اب گڑیا بھی صحیح معنوں میں پریشان ہو چکی تھی
دوسری طرف سعد کو ایسا لگا کہ اس کی سانسیں تھم گی ہیں
ارے نہیں یار اگر ایسا کچھ ہوتا تو کیا میں تم سے کچھ چھپاتی
.سعد نے بھی شکر کی سانس لی تھی وہ کسی اور کو پسند نہیں کرتی
تو پھر کیا بات ہے گڑیا نے ناراضگی بھرے انداز میں کہا
یار تم نہیں سمجھو گی وہ صرف مجھ سے بدلہ لینا چاہتا ہے اس لئے تو مجھ سے شادی کرنا چاہتا ہے
رانو نے بیچارگی سے کہا
بدلا کیسا بدلہ کس بات کا بدلہ
یشال نے حیرانگی سے سوال کیا
ارے یار تمہاری شادی پہ وہ مجھے عجیب عجیب نظروں سے گھور رہا تھا
چھیچھورا انسان
یار ایسے تو نہ بولو سعد بھائی کو اتنے اچھے اور سیدھے سادے سے انسان ہیں
سعد كو اپنی بہن پر بے حد پیار آیا اور اس نے اس کی غائبانہ کہیں بلائیں لے ڈالی
جبکہ دوسری طرف رانو كا بس نہیں چل رہا تھا کہ گڑیا کو اٹھا کر اس کے بھائی کے گھر چھوڑ آئے
ہاں بالکل سیدھا اور شریف انسان ہیں بلکل جلیبی کی طرح
رانو نے منہ بناتے ہوئے جواب دیا جبکہ دوسری طرف سعد نے اپنی ہنسی بامشکل کنٹرول کی
رانو وہ بہت اچھے انسان ہیں میری بات تو سنو
مجھے کچھ نہیں سننا دانو نے سر سے پیر تک چادر تانی جس کا مطلب تھا کہ اب وہ مزید بات نہیں کرنا چاہتی
یشال نے بھی اپنا موبائل اٹھایا اور کمرے سے باہر نکل گی اس نے اپنے بھائی کو آج کی رپورٹ بھی تو دینی تھی
ہیلو سعدی بھائی آپ نے سنا آپ کی ہونے والی زوجہ آپ کے بارے میں کیسے خیالات رکھتی ہیں
یشال نے ہنستے ہوئے سعدی سے پوچھا
ہاں بہن سن لیا تم بس ایک کام کرو کسی طرح میری ایک ملاقات کروادو میری ہونے والی زوجہ سے باقی میں سب کچھ خود ہی سنبھال لوں گا
نہ بابا نہ مجھ سے نہ ہو پائے گا اگر اس کو پتہ چل گیا تو وہ تو میری جان ہی لے لے گی
یشال نے ڈرے ہوئے لہجے میں جواب دیا
کسی بہن ہو تم اپنے بھائی کے لئے اتنا بھی نہیں کر سکتی میرے ہونے والے بچے بھی تمہیں دعا دیں گے
بس کسی طرح ان کی اماں کو ایک بار مجھ سے ملنے کے لیے راضی کرلو
سعدی نےدہائی دینے والے انداز میں کہا
اچھا ٹھیک ہے میں کچھ سوچتی ہوں
اب آپ اپنا خیال رکھیں میں اندر جاتی ہوں کہیں اس کو شک ہو گیا تو آج کی رات میری زندگی کی آخری رات ہوگی
یشال نے ہنستے ہوئے فون آف کیا اور اندر کی جانب چل دی
_________
ابھی وہ روم کے دروازے پر پہنچی ہی تھی کہ ایک بار پھر اس کا موبائل بج اٹھا
موبائل کی سکرین پر موجود نمبر کو دیکھ کر اس کے ہونٹ بے اختیار مسکرا اٹھے
ہیلو کیسے ہیں آپ
یشال نے کال اٹھاتے ہی مسکراتے ہوئے پوچھا
کیسا ہو سکتا ہوں شاه نے اداس سسی آواز بناتے ہوئے جواب دیا
جس کی بیوی اتنی ظالم ہو وہ بھلا کیسا ہو سکتا ہے
کیوں آپ کی بیوی نے آپ پر کیا ظلم کر دیا ہے
یشال نے معصومیت سے پوچھا
تمہیں نہیں پتا
شاه نے ناراضگی سے جواب دیا
مجھے اکیلا چھوڑ کر چلی گئی
اور ایک بار مجھے ساتھ چلنے کے لئے بھی نہیں کہا
ہاں میں کہتی بھی تو آپ نے کونسا آ جانا تھا
بہت سمجھنے لگی ہوں مجھے شاه نے محبت بھرے لہجے میں کہا
ہاں میں جانتی ہوں آپ کو کسی اور کے گھر میں رات رکھنا پسند نہیں ہے
اچھا یہ سب چھوڑیں آپ بتائیں آپ کیا کر رہے ہیں
کچھ نہیں بس تمہیں یاد کر رہا ہوں
ابھی سے یاد ابھی تو مجھے آئے ہوئے دو گھنٹے بھی نہیں ہوئے
یشال نے حیرانگی سے کہا
تم کیا جانو تمہارے بنا گزرنے والا ایک ایک پل مجھ
پے کتنا بھاری ہے
شاه کہ لہجے میں موجود اپنے لئے پیار پریشال کی آنکھیں بھیگ گئیں
اتنی محبت کرتے ہیں آپ مجھ سے یشال میں کھوئے ہوئے انداز میں پوچھا
بہت زیادہ خود سے بھی زیادہ سب سے زیادہ
شاه كے اس انداز پر یشال بے اختیار مسکرا دی
آسمان پر موجود چاند بھی ان دونوں کی محبت نے مسکرا دیا
_________
یشال کب سے جلدی جلدی کا شور مچا رہی تھی کہ اسے آج شاپنگ پر جانا ہے اور رانو کو ہر حال میں اس کے ساتھ چلنا ہے
ارے بابا آ رہی ہو تھوڑا انتظار تو کرو رانو نے جلدی سے اپنا پرس اٹھایا اور اس کے ساتھ ہولی
اپنے لئے دو تین ڈریس لینے کے بعد یشال رانو كو ایك ریسٹورنٹ میں بٹھایا
تم یہاں رکھو میں بس دو منٹ میں آتی ہوں مجھے لگتا ہے کہ میں اپنی ڈریس کا بیگ وہیں چھوڑ کر آگئی ہو یشال نے پریشانی سے کہا
میں بھی تمہارے ساتھ چلتی ہوں
نہیں تم بیٹھو کچھ آرڈر کرو میں بس ابھی آتی ہوں
یشال یہ کہتے ہوئے ریسٹورنٹ سے باہر نکل گئی
_______
رانو کو وہاں بیٹھے ہوئے پندرہ منٹ سے زیادہ ہو چکے تھے مگر یشال کا کہیں کوئی اتا پتا نہیں تھا
اب رانو پریشان ہو چکی تھی کہ نہ جانے اس کی پیاری سہیلی کہاں چلی گئی ہے وہ کسی مصیبت میں نہ ہو
ابھی رانو اٹھنے کا ارادہ کر ہی رہی تھی کہ سامنے سے اسے سعد آتا ہوا نظر آیا
یہ یہاں کیا کر رہا ہے رانو نے برا سا منہ بناتے ہوئے سوچا
اور وہاں سے اٹھ کھڑی ہوئی تب تک سعد بھی اس کے قریب پہنچ چکا تھا
السلام علیکم رانعم
کیسی ہیں آپ
سعد میں اسے مخاطب کرتے ہوئے پوچھا
وعلیکم السلام
الحمدللہ میں بالکل ٹھیک آپ کیسے ہیں
رانو نے بمشکل اپنے چہرے کے زاویے سیدھے کرتے ہوئے پوچھا
میں بالکل ٹھیک بہت خوش
بیٹھیں نا جا کہاں رہی ہیں وہ جو جانے کے لئے آگے بڑھ رہی تھی سعد نے اسے روک لیا
نہیں تھینک یو کافی دیر ہوچکی ہوگی گڑیا بھی انتظار کر رہی ہوں گی اس نے برا سا منہ بناتے ہوئے کہا یہ تو پیچھے پڑ گیا ہے اب کیسے اس سے پیچھا چھڑواں رانو دل میں سوچ کر رہ گئی
یشال تو کب کی شاه کے ساتھ گھر چلی گئی ہے سعدی نے اس کی طرف دیکھتے ہوئے کہا
جس پر صحیح معنوں میں رانو کے دماغ نے کام کرنا بند کر دیا تھا
یشال مجھے اکیلا چھوڑ کر خود زین بھائی کے ساتھ چلی گئی
رانو مدہم آواز میں بربڑائی
سعدی با مشکل سن پایا
اکیلا کہاں وہ آپ کو میرے پاس چھوڑ کر گئی ہے
اصل میں مجھے آپ سے کچھ بات کرنی تھی آپ نے بات کرنے سے صاف انکار کردیا اس لئے مجھے یہ راستہ اپنانا پڑا
سعد ابھی اور بھی کچھ کہنے والا تھا کہ رانو نے اس کی بات درمیان میں کاٹ دی
دیکھیں مسٹر مجھے آپ سے کوئی بات نہیں کرنی نہ ہی مجھے آپ کی کوئی بات سنی ہے اور نہ ہی مجھے یہاں آپ کے ساتھ بیٹھنے کا ہی شوق ہے
آپ تو شروع سے ہی چھچھورے ہیں مگر گڑیا سے مجھے یہ امید نہیں تھی
وہ غصے میں بنا اس کی طرف دیکھے بولے جا رہی تھی جبکہ سعد کیلئے اپنی ہنسی قابو کرنا مشکل ہو رہا تھا
وہ نروس نروس سی کچھ بوکھلائی ہوئی اسے اپنے دل کے بے حد قریب لگ رہی تھی
رانعم پلیز بیٹھیں مجھے آپ سے کچھ ضروری بات کرنی ہے اس کے بعد میں خود آپ کو گھر چھوڑ آؤنگا
سعد نرم لہجے رانو سے کہا
رانعم حاموشی سے کرسی پر ٹک گئی جو بھی کہنا ہے جلدی سے کہے
رانعم آج سے پہلے کبھی اس طرح کسی سے نہیں ملی تھی لاکھ خود اعتماد اور بولڈ سہی مگر اس وقت وہ کافی گھبرائی ہوئی تھی
آپ پلیز ریلیکس ہوجائیں سعد نے پانی کا کلاس کی طرف بڑھاتے ہوئے کہا
جسے وہ ایک ہی سانس میں چڑھا گی اس وقت اس کا دل دوگنی رفتار سے دھڑک رہا تھا وہ خود بھی اپنی حالت سمجھنے سے قاصر تھی
وہ ایسے کرسی پر بیٹھی تھی جیسے ابھی اٹھ کر بھاگ جائے گی
سعد اس کی حالت پر مسکرا دیا
مجھے لمبے لمبے ڈائیلاگ بولنا نہیں آتے نا میں کوئی سرك چھاپ عاشق ہو جو کہ آپ مجھے سمجھتی ہیں بس اتنا کہنا چاہتا ہوں کہ پہلی نظر میں ہی میں آپ کو پسند کر بیٹھا
اور شادی میں جو بھی حرکت مجھ سے ہوئی میرا کوئی غلط ارادہ نہیں تھا مگر آپ مجھے غلط سمجھ بیٹھی تھی
ان سب کے لئے میں آپ سے معافی چاہتا ہوں
میں آپ کو بہت پسند کرتا ہوں اور آپ کو اپنی زندگی میں شامل کرنا چاہتا ہوں
میں کوئی بہت بڑے بڑے وعدے نہیں کرسکتا کہ آپ کے لئے یہ کر لوں گا وہ کر لوں گا
مگر میں پوری کوشش کروں گا کہ آپ کی ہر خواہش آپ کے کہنے سے پہلے پوری کر سکوں
امید کرتا ہوں کے آپ کے دل سے تمام شکوے ختم ہو چکے ہوں گے
اور ہاں ایک بات تو بھول ہی گیا میں آپ سے کوئی بدلہ نہیں لینا چاہتا اور نہ ہی میرا ایسا کوئی ارادہ ہے
رانو جو اس کی باتیں سن رہی تھی چونك كراسے دیکھنے لگی
جی کل رات جب آپ یشال سے باتیں کر رہی تھی تو میں اس وقت کال پر موجود تھا اسی وجہ سے میں نے آپ کو یہاں ملنے کے لیے بلوایا ہے سعدی نے وضاحت دیتے ہوئے کہا
مگر اس کے باوجود بھی اگر آپ کو لگتا ہے کہ آپ میرے ساتھ نہیں چل سکتی آپ میرے ساتھ نہیں رہنا چاہتی تو آپ مجھے بتا دیں میں اسی وقت شادی سے انکار کرنے کے لئے تیار ہوں آپ پر کوئی الزام نہیں آئے گا
وہ اس کے جواب کا منتظر تھا جبکہ رانو بالکل خاموش تھی
کیا میں آپ کی خاموشی کو انکار سمجھو
سعد نے اداسی سے پوچھا
نہیں آپ اماں کو بھیج دیں میں شادی کے لئے تیار ہوں
رانو نے نظریں جھکائے ہوئے جواب دیا
اور باہر کی جانب چل دی
سعد بھی اس کے ساتھ ہی اٹھ کھڑا ہوا
_________
رانو سارے رستے بلکل حاموش رہی تھی یہ بندہ اتنا بھی برا نہیں جتنا میں نے سوچا تھا مجھے پسند بھی کرتا ہے اور بدلہ بھی نہیں لینا چاہتا
رانو نے ایک نظر اس پر ڈالی جو مکمل طور پر ڈرائیونگ کرنے پر مصروف تھا
سعد رانو كا اس طرح دیکھنا محسوس کر کے مسکرا دیا
رانو جب گھر میں داخل ہوئی تو گڑیا پہلے ہی ڈرائنگ روم میں اس کا انتظار کر رہی تھی
تمہارا تو کوئی سامان رہ گیا تھا نا تم تو وه لینے گئی تھی نہ
پھر کیا وہاں سے کسی نے اغوا کرلیا تھا جو واپس نہیں آئی
زمان انکل نے کتنے پیسے دیے ان لوگوں کو تمہیں چھوڑنے کے لئے
وہ غصے سے تنفن کرتی اس کے سر پر کھڑی بول رہی تھی
اب میری کیا غلطی جب گھی سیدھی انگلی سے نہ نکلے تو انگلی تو تیڑھی کرنی پڑتی ہے نہ
میں نے تو اتنی کوشش کی تھی مجبوراً مجھے انگلی تیڑ ھی کرنی پڑی
یشال نے دنیا جہاں کی معصومیت چہرے پر سجاتے ہوئے کہا
گڑیا قسم سے اگر مجھے ہماری بچپن کی دوستی کا خیال نہ ہوتا نا تو میں آج تمہیں…..
وہ غصے سے کہتی اس کے ساتھ ہی صوفے پر بیٹھ گئی
وہ سب چھوڑو بتاؤ نہ سعدی بھائی نے کیا بات کی
کچھ نہیں کیا بات کرنی ہے اس چیچھورے انسان وہ کچھ کہتی کہتی رک گئی
میرا مطلب ہے تمہارے سعدی بھائی نے
اہم اہم
چھچھورے انسان سے تمہارے سعدی بھائی
مطلب کے معاملہ سیٹ ہوگیا گڑیا نے ایک آنکھ دباتے ہوئے اسے چھیڑا
میری پیاری بہنیا بنے گی دلہنیا
اف گڑیا چپ کر جاو رانو کا چہرہ ٹماٹر کی طرح سرخ ہو چکا تھا جب اس سے کوئی اور بات نہ بنی تو کشن اٹھا کر اپنے چہرے پر رکھ لیا
______
بھائی صاحب میں نے تو بہت سمجھانے کی کوشش کی مگر ان صاحب کا کہنا ہے کہ رانعم شادی کے بعد بھی پڑھ سکتی ہے
آپ ایک بار بات تو کریں وہ اچھی خاصی غصے میں لگ رہی تھی
ارے بہن جی نیک کام میں دیر کیسی جب بچے راضی ہیں تو ہمیں بھلا کیا اعتراض ہو سکتا ہے اس رشتے سے
جب سعد کو اس بات پر کوئی اعتراض نہیں کہ رانو شادی کے بعد بھی اپنی پڑھائی جاری رکھ سکتی ہے تو بھلا ہمیں کیا اعتراض ہو سکتا ہے آپ کی ہی بیٹی ہے آپ جب چاہیں اپنی امانت لے کر جا سکتے ہیں میری بھی زندگی کا کیا بھروسہ آج ہوں کل کس نے دیکھا ہے اچھا ہے میں اپنی دونوں بچیوں کا گھر بستے دیکھ کر مروں گا
زمان انکل پلیز ایسا مت کہیں رانو جو کب سے سر جھکا کر ان کی باتیں سن رہی تھی آنکھوں میں نمی لیے بول اُٹھی
ہاں بھائی صاحب ایسا مت بولیں اللہ آپ کا سایہ ان بچوں پر ہمیشہ سلامت رکھے اماں بی نے رانو کے سر پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا
تو پھر کب لے کے آئیں ہم بارات
جیسا آپ لوگوں کو مناسب لگے زمان صاحب نے مسکراتے ہوئے جواب دیا
میں چائے لے کر آتی ہوں رانو اٹھ کر چلی گئی اماں بی مسکرا دی کیونکہ چائے وہ کب کی پی چکی تھی.
جاری ہے
