Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Wehshat E Ishq by Saniya Shah Episode13

Wehshat E Ishq by Saniya Shah Episode13

وہ اسے لیے سیدھا گیسٹ روم میں آیا تھا کیونکہ اپنے روم کی حالت وہ تباہ کر چکا تھا
یشال پوری طرح بھیگ چکی تھی اور ہلکے ہلکے کانپ رہی تھی
شاه نے جلدی سے اس کے کپڑے چینج کروائے اور اس پر کمبل کر ڈالا
تب تک ڈاکٹر صاحب بھی آچکے تھے
ڈاکٹر نےا سے انجکشن لگایا تاکہ وہ پرسکون رہے
ڈاکٹر انکل یشال ٹھیک تو ہو جائے گی نا
یہ ہوش میں کیوں نہیں آ رہی
تمہاری بیوی بالکل ٹھیک ہے ینگ مین بس ہلکا سا بخار ہے ایک دو دن میں اتر جائے گا
لیکن احتیاط ضروری ہے
میں نے اسے نیند کا انجکشن دیا ہے یہ کسی بھی وقت ہوش میں آ سکتی ہے صبح تک
اب تم بھی کپڑے تبدیل کر لو کہیں تمہیں ٹھنڈ نہ لگ جائے
ڈاکٹر نے اس کی بھیگے کپڑوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا
اور باہر کی جانب بڑھ گئے
شاه یشال کے پاس ہی کرسی پر ٹک گیا اس کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے لیا
تمہیں کچھ نہیں ہوگا میں ہمیشہ تمہارے ساتھ رہوں گا تم مجھ سے کبھی الگ نہیں ہو سکتی
مجھے معاف کر دو جان میں نے ہمیشہ تمہیں تکلیف دی ہے
میں جب بھی تمہیں خوشی دینا چاہتا ہوں
ہمیشہ دکھ دے دیتا ہوں
وہ اس کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیے مدھم آواز میں بول رہا تھا
رات کی نہ جانے کون سے پہر شاه كی آنکھ یشال کی آواز سے کھلی جو کچھ کہہ رہی تھی
میں تو انہیں اپنی وفا کا یقین دلانا چاہتی تھی میں ان کو خوشیاں دینا چاہتی تھی
اللہ میاں آپ کو تو پتہ ہے نا کہ میں ان سے کتنی محبت کرتی ہو وہ کیوں نہیں سمجھتے
میں کیسے یقین دلاؤں ان کو
کتنی آسانی سے آج انہوں نے مجھے مس یشال زمان صدیقی کہہ کر بلایا
مطلب کبھی بھی مجھے چھوڑ
ایسا کیسے ہوسکتا ہے وہ نیم بے ہوشی میں بھی رو رہی تھی
شاه نے بے اختیارا سے اپنی باہوں میں سمیٹ لیا
ایسا کچھ نہیں ہوگا جان
کبھی نہیں ہوگا بس کہیں نہیں جا رہا میں چھوڑ کر نہ تمہیں خود سے الگ ہونے دوں گا
شاه اسے باہوں میں لیے مدہم آواز میں بڑبڑایا
یشال بھی اس کی باہوں میں آکر پرسکون ہوگی
_______________________
صبح جب یشال کی آنکھ کھلی تو وه کمرے میں بالکل اکیلی تھی باتھ روم سے پانی گرنے کی آواز آرہی تھی جس کا مطلب ہے کہ شاه واش روم میں ہے
یشال کی پہلی نظر اپنے کپڑوں پر اور دوسری واش روم سے باہر نکلتے شاه پر پڑی
رات کو شاه نے اس کا لباس تبدیل کیا تھا اس خیال کے آتے ہی اس کے گال سرخ ہوگئے
آپ یہاں کیا کر رہے ہیں یشال نےمارے شرمندگی کے سوال بھی الٹا ہی کیا تھا جس پر شاہ ہنس دیا
یشال کو اپنے سوال کی سمجھ دیر سے آئی وہ جلدی سے اٹھی اور کمرے سے باہر جانے ہی والی تھی کے شاه نے اس کا راستہ روک لیا
شاه پلیز مجھے جانے دیں یشال کے آنسو مسلسل بہہ رہے تھے
جان شاه
اپنے آنسو صاف کرو جانتی ہوں نہ تمہارے آنسو مجھے کتنی تکلیف دیتے ہیں
تکلیف شاہ آپ تکلیف کی بات کرتے ہیں کیا کیا تھا میں نے کیا میرا کوئی حق نہیں تھا آپ پر
کیا میرا حق نہیں تھا کہ میں آپ کی زندگی کے بارے میں جانتی
کیا میرا حق نہیں تھا آپ کی تکلیف جانے كا
کیا مجھے نظر نہیں آتا کہ آپ رات کو بےچین رہتے ہیں
کہ آپ نے اتنا عرصہ ہم دونوں کے بیچ فاصلہ بنا کر رکھا کیا اتنا بھی حق نہیں رکھتی تھی
ایک طرف آپ کہتے ہیں کہ آپ میرے ہیں تو آپ کی ہر چیز میری ہے
اور دوسری طرف آپ ایک ڈائری پڑھنے پر ہمارے رشتے کو ختم کرنے کی باتیں کرتے ہیں
کیا لگا تھا شاہ آپکو کے ڈائری کے پڑھنے سے کیا ہوگا
شاہ آپ مجھے ایک بات بتائیں کہ ہمیشہ وفا کو عورت کے نام سے نتھی کیوں کیا جاتا ہے
اگر ایک عورت نے بے وفائی کی تو دنیا کی ہر عورت بے وفا ہے
شاہ کے چہرے کے تاثرات ایک پل کے لیے بدلے تھے مگر جلد ہی اس نے اپنے آپ پر کنٹرول کر لیا
اور یشال کو اپنی باہوں میں بھر لیا
میں سمجھتی رہی کہ شاه كے میں نے کوئی بہت بڑی غلطی کرتی ہے جس کی وجہ سے آپ مجھ سے دور ہو
مگر میں کتنا غلط تھی نا
آپ تو کسی اور کی بیوفائی کی سزائیں مجھے دے رہے تھے
یشال مجھے معاف……
مگر شاہ سب ایک جیسے نہیں ہوتے ایک مرد تین شادیاں کرتا ہے اس کے باوجود بھی وہ اپنے کسی آفس وركر کے ساتھ فلرٹ کرنے سے باز نہیں آتا
مگر وہ بے وفا نہیں ہوتا اسے کوئی غلط مرد کا طعنہ نہیں دیتا ایسا کیوں ہے شاہ
وه شاه کی بات سنے بنا بے خودی کے عالم میں بولے جا رہی تھی
میں تو بس محبت چاہتی تھی آپ کی
اور پچھلے کچھ دنوں میں آپ نے مجھے اتنی محبت دی کہ مجھے تو آپ کی زندگی کے بارے میں جاننے کی خواہش نہیں رہی تھی
آپ ویسے کیوں تھے کیوں مسکرانا چھوڑ دیا بابا کہتے تھے کہ بچپن میں بہت شرارتی اور خوش مزاج انسان تھے تو وہ وجہ ڈھونڈ رہی تھی
کہ جس کی وجہ سے ایک انسان اکیلا اداس تنہائی پسند ہو گیا
مگر شاہ کیا آپ کا اور میرا رشتہ اتنا کمزور تھا کہ آپ نے ختم کرنے کی بات کی
مجھے اس بات کا دکھ نہیں کہ آپ نے مجھے کمرے سے جانے کے لیے کہا
مگر شاہ خود سے الگ کرنے کی بات…….
وہ اسی کے سینے سے لگی پھوٹ پھوٹ کر رو دی.
____
شاه نے کافی دیر بعد اسے خود سے الگ کیا وہ اسے بولنے دینا چاہتا تھا تاکہ اس کے دل کی بھڑاس نکل جائے
اس نے یشال کو بیڈ پر بٹھایا اور خود اس کے پاس نیچے زمین پر بیٹھ گیا
اس کے ہاتھوں کو اپنے ہاتھوں میں لے کر اپنے لبوں سے لگایا تم جانتی ہو نا شاہ تمہارے بنا کچھ بھی نہیں میں تم سے بہت محبت کرتا ہوں تم اس دل کی دھڑکن ہو
شاه نےاس کا ہاتھ اپنے دل کے مقام پر رکھتے ہوئے
بولنا شروع کیا
ہاں جانتا ہوں رات کو غصے میں بہت الٹا سیدھا بول دیا مگر اس کا مطلب یہ تو نہیں کہ میں تمہیں اپنی زندگی سے نکال دوں گا ایسا کبھی نہیں ہو سکتا
تم ہو تو شاہ ہے تم نہیں تو کچھ بھی نہیں
تمھیں مجھ سے اور مجھے تم سے بس ایک ہی چیز الگ کر سکتی اور وہ ہے میری موت
شاه كی اس بات پر یشال کے روكے ہوئے آنسو پھر سے بہنے لگے
اب بس ایک آنسو بھی نہیں
جانتی ہوں نا تمہاری یہ آنسو برداشت نہیں کر سکتا بہت درد ہوتا ہے یہاں جب تم روتی ہو شاہ نے اپنے سینے پر دھرے اس کے ہاتھ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا
____
کل بہت پریشان تھا میں شبنم بیگم ہاسپٹل میں ایڈمٹ ہیں
امی اسپتال میں ایڈمٹ ہیں یشال نے بے یقینی سے شاه كی طرف کی طرف دیکھتے ہوئے مدھم آواز میں سوال کیا
ہاں
کیسی ہیں وہ کیا ہوا نہیں آپ ملے ان سے یشال نے ایک ہی سانس میں کئی سوال پوچھ ڈالے
انہیں کینسر ہے میں نے ان كو ہاسپیٹل میں ایڈمٹ کروا دیا ہے میں ان سے ملنے نہیں گیا جا ہی نہیں پایا
میں شاید کبھی معاف نہ کر پاؤں
شاه نے اس کی گود میں سر رکھتے ہوئے مدھم آواز میں جواب دیا
شاہ آپ کو ملنے جانا چاہیے تھا بلکہ ہمیں ملنے جانا چاہیے
یشال میں اس وقت اس بارے میں بات نہیں کرنا چاہتا پلیز میں نہیں جانا چاہتا ان سے ملنے
مگر شاه وه ماں ہیں آپ کی آپ کو جانا چاہیے
ماں کونسی ماں کی بات کرتی ہو تم
تم جانتی ہو ہر برتھ ڈے پر میں انتظار کرتے کرتے سو جاتا تھا مگر وہ کبھی نہیں آتی تھی
وہ مصروف ہوتی تھی کہاں اپنے پارٹیز میں میرے ہر سپیشل دن پر بس بابا ہی میرے ساتھ ہوتے تھے
ہم ایک ہی گھر میں رہتے تھے مگر ایسے لگتا تھا جیسے ہم الگ الگ ملکوں میں رہتے ہیں
تین تین چار چار دن میں اپنی ماں کی شکل تک دیکھ نہیں پاتا تھا
کیوں کیوں كے مصروف ہوتی تھی
14 سال کا تھا میں جب وہ ہمیں چھوڑ کر چلی گئی کیونکہ انہیں آزادی چاہیے تھی وہ اپنی زندگی جینا چاہتی تھی کسی اور کے ساتھ
انہوں نے بابا کی محبت کا تو چھوڑو میرا خیال بھی نہیں کیا
لوگوں کے طعنے باتیں میں نے کیسے برداشت کیا بس میں ہی جانتا ہوں
بابا بھی مجھے اکیلا چھوڑ کر چلے گئے
اگر زمان انکل کا ساتھ نہ ہوتا تو میں شاید کسی
گلی میں پڑا ہوتا وہ اذیت سے ہنس دیا
یشال میں بے اختیار شاہ کا چہرہ اپنے ہاتھوں کے پیالے میں لیا
شاہ آپ کو پتا ہے غلطیاں سب سے ہوتی ہیں کوئی بھی فرشتہ نہیں ہوتا ہم سب انسان ہیں آپ میں سب
ہم سب سے بھی کہیں نہ کہیں غلطی ہو جاتی ہے امی سے بھی غلطی ہوگئی شاید یہی لکھا تھا ہماری قسمت میں
مگر امی اس غلطی کے لئے شرمندہ ہیں امی اپنی غلطی کے لیے معافی مانگنا چاہتی ہیں
غلطی کرنے والے کو تو خدا بھی معاف کر دیتا ہے شاہ ہم تو پھر انسان ہیں
کیا آپ امی کو ایک موقع بھی نہیں دے سکتے
پلیز آپ سب بھول کر امی کو ایک موقع دے سب ٹھیک ہو جائے گا
کیا آپ کے اندر کا بیٹا یہ گوارا کرے گا کہ آپ کی ماں ایسے ترپ تڑپ کر آپ کا انتظار کرتے ہوئے مر جائے
شاه نے ایک شکایتی نظر اس پر ڈالی
جانتی ہوں کہ میں سخت الفاظ کا استعمال کر رہی ہو
مگر آپ کو یہ سمجھنا ہوگا شاہ کہ وہ ماں ہیں آپ کی
اللہ نہ کرے اگر آج امی کو کچھ ہوجاتا ہے تو آپ ساری زندگی اس گلٹ میں رہیں گے کہ کاش ایک بار میں اپنی ماں سے مل لیتا
بس جو بھی ہوا بھول جائیں امی کو ہماری ضرورت ہے
اور میں کچھ نہیں جانتی ہم ابھی امی سے ملنے جا رہے ہیں بس
________
ہسپتال کے کمرے کے باہر آتے ہیں شاہ کی ہمت جواب دے گی
اتنے سالوں بعد وہ ا س عورت سے کیسے ملے گا جو اس کی ماں تھی
وہ واپس پلٹنے والا تھا کہ یشال نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا اور اسے لئے اندر کی جانب بڑھ گئی
السلام علیکم امی !
شبنم ذرا سی چونکی بہت سالوں بعد کسی نے انہیں امی کہہ کر پکارا تھا مگر اندر آنے والی بالکل انجان تھی وہ اسے نہیں پہچانتی تھی
مگر جیسے ہی ان کی نظر اس لڑکی کے ساتھ کھڑے وجود پر پڑی
انہیں ایسا لگا جیسے زندگی رک سی گئی ہو
کتنی دعائیں مانگی تھیں انہوں نے اس ایک لمحے کیلئے کتنا کچھ سوچا تھا
کہ وہ سامنے آئے گا تو اسے معافی مانگی اسے سینے سے لگا لیں گے
مگر کیا یہ سب اتنا ہی آسان تھا كیا یہ سب ممکن تھا کیا وہ انہیں کبھی معاف کر پائے کا مگر انہیں معافی مانگنی تھی ایک بار اسے بیٹا کہہ کر پکارنا تھا
ایک بار اسے سینے سے لگانا تھا
شاہد شاہد کہ اللہ نے ان کے گناہ معاف کر دیئے ہوں شاید ان کی سزا ختم ہوگئی ہو
وہ یہی سوچتے ہوئے زاروقطار رو دی
شاہو
بیٹا ایک بار مجھے معاف کر دو میں تمہارے سامنے ہاتھ جوڑتی ہوں شبنم بیگم نے ان کے آگے اپنے ہاتھ جوڑ دیئے
یشال جلدی سے ان کی طرف بڑھی اور انکو سہارا دے کر بٹھایا اور ان کے بہتے آنسو کو اپنے ہاتھوں سے صاف کرنے لگی
جبکہ شاہ ابھی تک بت بنا انہیں دیکھ رہا تھا
جھریوں زدہ چہرہ ہڈیوں کا ڈانچہ جسم ویران آنکھیں سوکھے ہونٹ جنہیں وہ بار بار زبان سے تر کرنے کی کوشش کر رہی تھی
یہ عورت اس کی ماں تو نہیں تھی اس کی ماں تو بہت خوبصورت ہر وقت سج دھج كر رہنے والی عورت تھی
شاہو
شبنم بیگم نے دونوں بازو اس کے لئے پھیلاتے ہوئے اسے پکارا
پلیز بیٹا مجھے معاف کردو وہ مسلسل روتے ہوئے اس سے معافی مانگ رہی تھی
شاہ خاموشی سے ان کے کھلے بازو میں سما گیا اور ان کے کمزور وجود کو اپنے حصار میں لے کر پھوٹ پھوٹ کر رو دیا
وه وهی چھوٹا سا بچہ بن گیا تھا جو ہر سپیشل دن پر اپنی ماں کا انتظار کرتا تھا
آپ نے کیوں کیا ایسا امی
کیوں آپ مجھے اور بابا کو چھوڑ کر چلی گئی ایک بار بھی آپ نے میرے بارے میں نہیں سوچا ایک بار بھی آپ کو میرا خیال نہیں آیا
کیوں امی کیوں آپ نے ایسا کیوں کیا
شاہ ان کے سینے سے لگا کسی معصوم بچے کی طرح ان سے شکوہ کر رہا تھا
اب میں آپ کو کہیں جانے نہیں دوں گا آپ ہمیشہ میرے ساتھ رہیں گی ہیں نا امی آپ رہیں گئی نہ میرے ساتھ
آپ کو پتہ ہے میں آپ کو بہت یاد کرتا تھا ساری دنیا سے کہتا تھا کہ میں آپ سے نفرت کرتا ہوں مجھے آپ کی یاد نہیں آتی مگر سچ میں مجھے آپ کی بہت یاد آتی تھی رات کو میں آپ کو یاد کرتے کرتے سو جاتا تھا
امی آپ کیوں نہیں آئی میرے پاس
اب کیوں چلی گئی مجھے چھوڑ كر
مجھے معاف کر دو بیٹا میں بہت غلط تھی
میں نے جس سے انسان کے لیے تمہیں چھوڑا مرتضی کو چھوڑا وہ تو بس دولت کا بھوكا تھا جلد ہی جب دولت ختم ہوگئی تو اسکے پیار کا نشہ بھی اتر گیا
اور وہ اپنی اصلیت پر آگیا جلد ہی وہ مجھ سے اتنا تنگ آگیا کہ مجھے چھوڑ کر چلا گیا
کس منہ سے آتی میں تم لوگوں کے پاس
کیا جواب دیتی میں مرتضی کو کہ میں نے جس انسان کے لئے تم جیسے مخلص انسان کو دھوکہ دیا
وہ بس دولت کا بھوکا تھا
جب دولت ختم ہوگئی تو مجھے در در کی ٹھوکریں کھانے کے لئے چھوڑ کر چلا گیا
شبنم بیگم بہت مشکل سے اٹک اٹك كر جواب دے رہی تھی
میں تم سے اور مرتضیٰ دونوں سے بہت شرمندہ تھی
بس مجھے ایک بار معاف کر دو تاکہ میں سکون سے مر سکوں
امی پلیز آپ ایسا نہ بولے یشال نے بے اختیار شبنم بیگم کو ٹھوکا تھا
امی آپ کو پتا ہے میری شادی ہوگئی ہے یہ آپ کی بہو
ہے نہ پیاری شاہ نے یشال کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا
ماشاءاللہ بہت پیاری ہے اللہ خوش و آباد رکھے
شبنم بیگم نے یشال کی پیشانی پر بوسہ دیتے ہوئے دعا دی
تم میرے بیٹے کا بہت خیال رکھنا اسے ہمیشہ خوش رکھنا اس کا ساتھ کبھی مت چھوڑنا دونوں ہمیشہ ایک ساتھ خوش رہو آباد رہو
اچانک بات کرتے کرتے شبنم بیگم کی سانسیں اکھڑنے لگی
تمہیں پتا ہے شاہو
مرتضی جب بھی ملنے آتے تھے نا وہ ہمیشہ منہ دوسری طرف کر لیتے تھے جیسے بہت ناراض ہوں
ہونا بھی چاہیے آخر میں نے انکے پیارے بیٹے کو تکلیف دی تھی مگر آج دیکھو وہ دونوں بازو پھیلائے کھڑے ہیں مسکرا رہے ہیں بہت خوش ہیں وہ آج
امی پلیز آپ بات نہ کریں آپ کی طبیعت خراب ہو رہی ہے
شاه نے بے اختیار انہیں خاموش رہنے کے لیے کہا
وہ دیکھو نہ میرا انتظار کر رہے ہیں دیکھو مجھے اپنے پاس بلا رہے ہیں مجھے ان کے پاس جانا ہے مجھے ان کے پاس جانا ہے وہ بے خودی کے عالم میں یہی الفاظ دوہرا رہی تھی..
جاری ہے🌹

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *