Teri Meri Rah Mein by Fariha Islam Readelle50355 Teri Meri Rah Mein Episode 9
Rate this Novel
Teri Meri Rah Mein Episode 9
لیکن آپ یہ کسی کو مت بتانا کہ میں آپ کے پاس مدد کے لئے آئی تھی پلیز وہ ملتجی انداز میں بولی تھی۔۔جاتے جاتے وہ واپس پلٹی تھی
آپ فکر مت کریں یہ بات آپ کے اور میرے درمیان رہے گی ۔۔وہ اسکی اس بات کا پس منظر سمجھتا تھا
تھینکس۔۔ اب میں چلتی ہوں اپنی بات بول کر وہ جلدی سے اٹھی تھی مبادہ کسی کو اس کے آنے کا پتا چل جائے
اللّٰہ حافظ۔۔۔۔
وہ فل اسپیڈ سے وہاں سے نکلی تھی دل میں ایک امید سی جاگی تھی کہ اب سب ٹھیک ہو جائے گا ماں کی بیماری کا تو اسے تبھی پتا چل گیا تھا جب امل نے علی اور شان کو بتایا تھا اس وقت وہ بس چپ روتی رہی تھی مگر اینڈ کی بات پر اسنے فوراً عمل کیا تھا اور بنا وقت ضائع کئے وہ آج یہاں آئی تھی دل درد سے پھٹ رہا تھا مگر اب تھوڑا سکون تھا کہ اماں کا علاج ہوسکتا ہے وہ ٹھیک ہوسکتی ہیں اسی امید کے سہارے وہ وہاں سے نکلی تھی
لیکن ابھی امتحان باقی تھے۔۔۔۔
وہ خاموش سا کیبن میں بیٹھا تھا تبھی ابرہیم اندر آیا تھا اسے اس طرح گم صُم بیٹھے دیکھ اس نے اسکا کندھا ہلایا
کہاں گم ہے؟؟
کہیں نہیں تو بتا کچھ سوچا کیا کرنا ہے اگے؟؟
کیا سوچنا دماغ نے تو ساتھ دینا ہی چھوڑ دیا ہے سچ بولوں تو بہت گلٹی فیل ہورہا ہے یار اس طرح جھوٹ بول کر۔۔۔
ردابہ کیا بولتی ہے؟؟
بات نہیں ہوئی اس موضوع پر میری…
کیا مطلب؟؟ تو پاگل ہے ابرہیم تو نے اتنا بڑا جھوٹ جس کے لئے بولا اسے بتایا تک نہیں؟؟
وہ بزی تھی تو۔۔۔
تو؟؟؟؟ مطلب میں نے یہ اس لئے بولا کہ جب تک دادو آئیں گی تب تک ردابہ سے تیری ساری بات ہوجانی ہے یا تو سنبھال لے گا
وہ اچھا خاصا تپ گیا تھا
میں پہلے ہی بہت پریشان ہوں مزید مت کر یار وہ واقعی پریشان تھا اب کچھ نا کچھ تو اسے کرنا ہی تھا لیکن سوچنے کے ابھی اسے مزید ٹائم چاہیے تھا۔۔
کہاں گئی نور بیٹا مجھے پانی دے۔۔ وہ کب سے سو رہی تھیں پیاس لگی تو نور کو آواز دی
یہ لو۔۔۔ اس نے پانی کا گلاس دیا تو زلیخا بی نے اسے دیکھا
بجھی ہوئی کیوں لگ رہی ہے امل؟؟؟
ان کے بولنے پر اس نے ایک نظر انہیں دیکھا
تم ایسے لیٹی ہو لڑو مجھ سے تو تھوڑی رونق لگے اب ایسے پڑی رہوگی تو ایسا تو ہوگا ہی نا وہ منہ بنا کر بولی تو وہ ہنس دی
ٹھیک ہو جاؤں گی میں فکر مت کر میری۔۔۔۔
تمہاری فکر کسے ہے میں تو اپنے لئے پریشان ہو سکون اچھا نہیں لگ رہا
وہ کہاں باز آتی تھی اس کی بات پر وہ ہنس دی
کرلے یہ بھی مرے مرنے کے بعد۔۔۔
کتنا فضول بولتی ہو سوتیلی چپ کر کے پانی پیو اور آرام کرو دماغ نہیں کھاؤ میرا۔۔۔ اسکی بات کاٹ کر وہ غصے سے بولی تھی
وہ بھلے سگی ماں نہیں تھی لیکن ایک سہارا تو تھا نا اسے اس طرح دیکھ اسکا دل پھٹ رہا تھا
ان کی طبعیت میں کوئی سدھار نہیں تھا وہ متفکر تھی ان کی صحت کو لے کر
اس نے علی اور شان سے گھر بیچنے کی بات کی تھی لیکن اتنی جلدی گھر بیچنا ناممکن تھا دوکان بھی بیچنے کے لئے کم از کم اسے دو مہینے رکنا پڑتا کیونکہ کرایے دار کی روزی کا سوال تھا
آج پہلی بار اسے بڑے بھائی اور باپ کی کمی شدت سے کھلی تھی
اب ایک آخری حل وہی تھا جو علی اور شان نے بتایا تھا اپنی انا کو کچل کر اسے کسی کے آگے ہاتھ پھیلانے پڑ رہے تھے
وقت واقعی کبھی کبھی بہت ظالم ہوتا ہے اور لوگ اسے مزید مشکل بنادیتے ہیں بیماری اگر امیر کو ہو تو وہ صرف زندگی کی پرواہ کرتا ہے کہ پیسہ ہے وہ بچ سکتا ہے
لیکن اگر غریب بیمار ہو تو اسے ہزاروں فکریں ستاتی ہیں علاج کیسے ہوگا پیسے کہاں سے آئیں گے اگر کچھ ہوگیا تو بچوں کا کیا ہوگا گزارہ کیسے ہوگا بیماری سے زیادہ تو اسے یہ سوچیں مار دیتی ہیں
اس لئے اس نے زلیخا بی کو ابھی کچھ نہیں بتایا تھا جب تک پیسوں کا انتظام نہیں ہوجاتا وہ اور ہی فکروں میں گھلی رہتی لیکن وہ بھی اسی کی ماں تھی انہیں اتنا تو اندازہ تھا کہ کوئی بڑی بات ہے جو چھپائی جارہی یے
مگر پوچھنے کی ہمت خود میں پاتی تھیں مبادہ کوئی ایسی بات نا ہو جسے سن کر وہ ہمت ہار جائیں کیونکہ اگر وہ ہمت ہار گئی تو ان سب کا کیا ہوگا ۔۔۔
نا چاہتے ہوئے بھی اس نے حاشر سے مدد لینے کا فیصلہ کیا تھا۔۔
زلیخا کو اس نے بہت ہمت کرکے بتایا تو وہ بس چپ ہوگئی البتہ نور جان کر بھی پھر سے روئی تھی ولید اور عریشہ تو ابھی چھوٹے تھے انہیں ویسے بھی بہت جلد یہاں سے چلے جانا تھا ان کے بڑے ماموں نے ان کی زمہ داری لی ہوئی تھی کیونکہ وہ بے اولاد تھے
وہ اپنی طرف سے جتنا کرسکتے تھے کر رہے تھے سفید پوش تھے لیکن بہن کے لئے بہت کررہے تھے لیکن پھر بھی اتنی رقم وہ پھر بھی نہیں دے سکتے تھے جتنی زلیخا کے علاج میں خرچ ہونی تھی
فلحال وہ حاشر سے ہی رابطے میں تھی اسی کے زریعے اسے دوسرے پارٹنر کا پتا چلا تھا وہ ان کی شکر گزار تھی کہ وہ اس کی مدد کر رہے تھے لیکن یہ بھی ایک قرضہ تھا جو اسے چکانا تھا
گھر اور دوکان وہ بیچ ہی نہیں پائی تھی۔۔
تھوڑا تھوڑا ہی سہی مگر وہ محنت کر رہی تھی زلیخا بی کا علاج شروع ہوگیا تھا دوائیں مہنگی تھی لیکن وہ یہ خرچا اٹھا رہی تھی سرجری کے لئے انہوں نے حاشر سے پیسے قرضے کے طور پر مانگے تھے
سرجری اسی مہینے کی پندرہ تاریخ کو ہونی تھی لیکن وہ نہیں جانتی تھی کہ یہ تاریخ اس کے لئے ایک نیا موڑ لائے گی۔۔۔۔
آبی ۔ابی۔۔۔۔۔ا بی۔۔۔ وہ تقریباً بھاگتا ہوا اس کے پاس آیا تھا
کیا ہوا خیریت تو ہے؟؟؟
اس کی اسپیڈ دیکھ کر وہ بھی کھڑا ہوا تھا
بہت برا پھسنے والے ہیں ہم یار شٹ شٹ شٹ۔۔۔۔۔۔ اس نے ہاتھ کا مکا بنا کر دوسرے ہاتھ پر مارا
بتا بھی حاشر ہوا کیا ہے کیوں ٹائم ویسٹ کر رہا۔۔۔
اپنا برا وقت آنے والا ہے یار قسم سے ۔۔۔
تو بتائے گا بھی یا یونہی بکواس کرتا رہے گا۔ وہ غصے سے بولا تھا پیٹ میں ویسے ہی ہول ہورہی تھی
دادو آرہی ہیں پاکستان۔۔۔۔
حاشر نے اس کے سر پر بم پھوڑا تھا۔۔۔ وہ بیچارہ تو گنگ رہ گیا
کہاں سے لائیں گے تیری بیوی۔۔؟؟؟ یار آبی یہ آئیڈیا بہت بکواس تھا یار سوری وہ روہانسا ہورہا تھا
ابرہیم کو تو جیسے سکتا ہوگیا تھا بالوں کو ہاتھوں میں جکڑ کر وہ وہی سیٹ پر بیٹھ گیا۔۔۔
سن تو ردابہ کو بول نا کہ وہ ہیلپ کرے۔۔
وہ بدحواس ہورہا تھا ابرہیم کو خود کو سنبھالنا پڑا تھا
ہمم اب بس یہی آخری راستہ ہے وہ پریشانی سے بولتا باہر کی جانب بڑھا تھا
ردابہ کو کال کی لیکن نمبر مسلسل مصروف جارہا تھا اس نے پریشانی سے ماتھا مسلا تھا
آخری کوشش کے طور پر اس نے نمبر ڈائل کیا جو ریسو کرلیا گیا
کیا مصیبت ہوگئی تھی یار اتنی کالز ریسو نہیں کر رہی تو بزی ہی ہونگی نا حد ہوتی ہے ایک بات
کال اٹھاتے ہی وہ اس پر برسی تھی جو پہلے ہی پریشان بیٹھا
بہت ضروری بات کرنی ہے مجھے ردابہ لیسن مجھے ہیلپ چاہیے تمہاری کچھ۔۔
ابھی میں بزی ہوں اےبی بعد میں بات کرتی اس نے جان چھڑانی چاہی تھی
پلیز ردابہ بات سنو وہ بے بس سا ہوا تھا
اچھا بولو۔۔۔ اس نے احسان کیا تھا
اس نے اسے اپنی پروبلم بتائی تھی پہلے تو دوسری طرف خاموشی چھائی رہی
لیکن تھوڑی دیر بعد اسکا قہقہ گونجا تھا
اوووو مائے گاڈ اے بی تم اتنے ڈرپوک ہو سوچا بھی نہیں تھا
وہ ہنسے جارہی تھی ابرہیم کو اسکا ہنسنا برا لگ رہا تھا
دیکھو اے بی یہ تمہارے مسئلے ہیں گوگل کرو بہت آئیڈیاز مل جانے میں کل دبئی جارہی ہوں آل دا بیسٹ۔۔۔
اس نے اپنی کہہ کر فون ہی بند کردیا
وہ سر پکڑ کر بیٹھ گیا تھا
پھر ردابہ کی بات یاد آئی تو موبائل نکال کر گوگل کیا اور جو آئیڈیا سامنے آیا وہ سارے ہی دل جلانے والے تھے تبھی موبائل رنگ ہوا تھا
ردابہ کا میسج تھا جس نے اسے جلد آنے کا کہا تھا کہ وہ آکر شادی کریگی
خوشی اور مصیبت ساتھ آئے تھے لیکن وہ پھر بھی خوش تھا آئیڈیا جو سامنے آیا تھا اب اس پر عمل کرنے کی دیر تھی
اب یہ کام خود ہی کرنا پڑے گا اس کا دماغ تیزی سے کام کررہا تھا اب آگے اس کے پاس بہت کم دن تھے اس پر عمل کرنے کے لئے۔۔۔
وہ خاموشی سے بیٹھا کچھ سوچ رہا تھا تبھی حاشر باہر آیا۔۔
کہا جارہا ہے حاشر؟؟
ہاسپٹل جارہا ہوں یار آج زلیخا بی کو سرجری کی ڈیٹ کنفرم کرنی ہے تو بس وہی جارہا ہوں
ہمم ویسے پیسے دے دئیے
ہاں لان کا کہا تھا انہوں نے تھوڑے تھوڑے کر کے دے دینگے ویل نا بھی دیں تو مسئلہ میں نہیں یہ میں اپنے اکاؤنٹ سے دے دوں گا غریب ہیں بچاری دو دو جوان بیٹیاں ہے ثواب ہی ملے گا
ہممم اچھی بات ہے چل تو جا
تو آفس نہیں جارہا؟؟
ہاں بس جارہا ہوں تو نکل میں بھی نکلوں گا تھوڑی دیر میں ۔۔
وہ حاشر کو بائے بول کر تیار ہونے چل دیا
آفس پہنچ کر وہ کام میں کافی مصروف رہا تھا تبھی اسے کسی کے آنے کی اطلاع ملی
اسکا دوست ارحم کافی ٹائم بعد اس سے ملنے آیا تھا
وہ اسے دیکھ کر بہت خوش ہوا
کہا غائب تھا یار ۔۔
کہیں نہیں یار بس باہر ہوتا ہوں
اوو گڈ ویسے کیا جاب کرتا وہاں ۔۔
آرام کرتا ہوں اور کیا وہ آنکھ مار کر بولا
کہا مطلب ؟؟
ارے گرین کارڈ ہولڈر سے شادی کی مطلب پیپر میرج اور اب مزے تو بتا
اس کی بات پر وہ حیران ہوا تھا
کوئی پرابلم ہے؟؟ اس نے ابرہیم کو پوچھا تو وہ اسے اپنی پرابلم بتاتا گیا
ارے تو اس میں کونسی مشکل ہے آج کل بہت ایسے طریقے بلکہ ایک طریقہ میں تجھے بتاتا اور جو طریقہ اس نے بتایا وہ ناچاہتے ہوئے بھی اسے ٹھیک ہی لگا تھا
لیکن میں؟؟
کچھ نہیں ہوگا ابھی میں ہوں یہاں سب ٹھیک کر کے جاؤں گا
اسے بول کر وہ ہنس دیا تو وہ بھی ریلیکس ہوا تھا
