Teri Meri Rah Mein by Fariha Islam Readelle50355 Teri Meri Rah Mein Episode 8
Rate this Novel
Teri Meri Rah Mein Episode 8
وہ کافی دونوں سے نوٹ کر رہی تھی کہ زلیخا کافی سست سست رہنے لگی ہے ہر وقت سر میں درد رہتا تھا نور کو کئی بار اس نے پوچھنے کے لئے بھیجا بھی تھا
تو خود کیوں نہیں پوچھ لیتی جب اتنی فکر ہے
مجھے تو فکر نہیں تیری ماں ہے اس لئے بول رہی
اچھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ نور نے اچھا کو کافی لمبا کھینچا تو اس نے نور کی کمر پر ایک دھپ رسید کی۔۔۔
ہاں۔۔۔۔۔ اب اٹھ اور جا کر روٹی بنا
تو خود بھی کچھ کرلیا کر سارے کام مجھ سے کرواتی ہے ساس جوتے مارے گی
ابے چل مجھے مارنے والا ابھی پیدا نہیں ہوا
ہاں ہاں وہ تو وقت آنے پر پتا چلے گا
وہ دونوں اپنی باتوں میں ہی لگی ہوئی تھیں تبھی زلیخا کی آواز آئی وہ نور کو بلا رہی تھی
جی امی۔۔۔
میں جارہی ہوں گھر کا خیال رکھنا بیٹا
پر امی آپ کی تو طبیعت ٹھیک نہیں نا…
ارے کچھ نہیں ہوتا ٹھیک ہوں میں دوا لی ہے ٹھیک ہوجاؤنگی
وہ اسے بول کر گھر سے نکل گئی۔۔۔
وہ دونوں لاونج میں بیٹھے ٹی وی دیکھنے میں مصروف تھے تبھی ابراہیم کا موبائل رنگ ہوا
نمبر دیکھ کر اس نے حاشر کو ہلایا
کیا ہوا؟؟؟
دادو ہیں.. کیا کروں۔۔۔۔
مجھے دے میں بات کرتا ہوں حاشر نے اسکے ہاتھ سے موبائل لیا
اسلام وعلیکم دادو کیسی ہیں ؟
وعلیکم السلام ٹھیک ہوں میں بیٹا تم کیسے ہو؟
میں بھی ٹھیک دادو۔۔وہ مسکرایا تھا
ابراہیم کہا ہے بیٹا؟؟
جی دادو وہ واشروم میں گیا ہے
ہمم بات کراؤ میری آئے تو۔۔۔
جی ٹھیک ہے اس کے آتے ہی کال بیک کرتا ہوں میں۔۔
کال بیک نہیں حاشر مجھے ابھی بات کرنی ہے۔۔ انکا لہجہ ایک دم سخت ہوا
جی جی دادو کرواتا بات یہ لیں آگیا اس نے جلدی سے موبائل اسکی طرف بڑھایا کہ کہیں دادو اس پر ہی غصہ نا اتار دیں
اسلام وعلیکم دادو۔۔۔ اس نے حاشر کو گھورتے ہوئے موبائل کانوں سے لگایا۔۔
وعلیکم السلام دادی اتنی بری ہوگئی کہ اب بات نا کرنے کے بہانے بنانے کی ضرورت پڑ گئی۔۔وہ سخت خفا تھیں
نہیں نہیں دادو ایسی کوئی بات نہیں۔۔وہ گڑبڑایا
ایسی ہی بات ہے بوڑھی دادی اتنی بری ہے تو بول دو نا۔۔۔
دادو ایسا نہیں۔وہ۔منمنایا
تو کیسا ہے ہاں کیوں نہیں مانتا شادی کے لئے بول۔۔۔
دادو۔۔۔۔۔وہ بے بس ہوا تھا
نہیں بس ابراہیم اب تو کرے گا شادی بس جلدی میں رشتہ لے کر جارہی کنزہ کی نند کے لئے۔۔
دادو میں یہ شادی نہیں کرسکتا۔۔وہ ایک دم بولا تھا
کیوں نہیں کرسکتا؟؟؟ وہ بھی بھڑکی تھی
کیونکہ میں نکاح کر چکا ہوں جھوٹ پٹارے سے نکل چکا تھا اب بس انتظار تھا دادی کے ریکشن کا۔۔۔۔
لیکن انہوں نے بنا کچھ بولے ہی فون بند کردیا
یعنی وہ ناراض ہوگئی تھیں
کیا ہوا ؟؟؟حاشر نے اسے فون کو گھورتے دیکھ تجسس کے ہاتھوں مجبور ہوکر پوچھا
ابراہیم کے چہرے پر ایک دل فریب مسکان آئی۔۔۔
پلین سکسیس فل![]()
![]()
![]()
اس کے بولتے ہی حاشر نے فوراً بھنگڑے ڈالے۔۔۔
دیکھا میرا آئیڈیا….. حاشر نے فرضی کالر اٹھائے۔
ہاں میری جان مان گیا۔۔۔
تو ڈنر پکا نا میرا؟؟؟ حاشر کی ٹانگ کھانے پر ہی ٹوٹی
ابے ہاں نا چل میں جارہا ہوں کل ملتے ہیں
کہاں جارہا ہے؟؟
ردابہ کی طرف انوائیٹیڈ ہوں
اوہو بڑے مزے آرہے کبھی ہم غریب کو بھی لے جایا کرو
غریب بولنے سے پہلے اپنی شکل دیکھ لیا کر تو آئینے میں۔۔
وہ حاشر کو جواب دیتا ردابہ کی طرف کے لئے نکلا تھا
پارٹی ایک کلب میں ارینج کی گئی تھی اس کی نظر ردابہ پر پڑی جو سلیو لیس میکسی پہنی ہوئی تھی جو اتنی فٹ تھی کہ خدوخال سارے نمایاں تھے
وہ اس تک آیا تو وہ مسکراتے ہوئے اس نے گلے لگی
کم ان اے بی لیٹس ڈانس۔۔۔۔
وہ کافی بہترین ڈانس کرتی تھی ابھی بھی فلور پر اسکا ہی قبضہ تھا
کافی دیر تک وہ اسکے ساتھ اس رنگین دنیا میں کھویا رہا وہ پارٹیز میں جانا پسند نہیں کرتا تھا لیکن ردابہ کے لئے سب کر سکتا تھا
ناجانے ایسی کونسی بات تھی جس کی وجہ سے اسے ردابہ سے محبت ہوگئی تھی
جتنی وہ حسین تھی کسی کو بھی اس سے محبت ہوسکتی تھی۔
افس کے بعد اسکا سارا وقت آج کل ردابہ کے ساتھ ہی گزر رہا تھا
اس نے ماڈلنگ اسٹارٹ کرنے کا فیصلہ کیا تھا
ردابہ یہ پروفیشن اچھا نہیں ہوتا تم نہیں کرو گی ماڈلنگ۔۔۔۔وہ دوٹوک انداز میں بولا تھا
تم کون ہوتے مجھے بتانے والے کے مجھے کیا کرنا ہے اور کیا نہیں وہ اسکی طرف دیکھ کر بولی انداز عجیب ہی تھا
آئی تھینک میں تمہارا۔۔۔
ویٹ ویٹ اب یہ مت کہنا کہ ریلیشن میں ہیں تو میں بول سکتا نو وے یہ میری لائف ہے اور اسے گزارنے کا طریقہ بھی میرا ہے جب میں تمہیں کسی چیز کے لئے نہیں روکتی تو تم کیوں؟ میں بولوں کے حاشر سے فرینڈ شپ ختم کردو تو کیا کردو گے۔۔۔۔
یہ کیسا سوال ہے؟؟؟ وہ جنجھلایا۔۔۔
نہیں چھوڑو گے۔۔ جانتی ہوں تو فضول میں آرگیو نہیں کرو ہم دونوں کی الگ الگ لائف ہے سو پلیز ڈونٹ انٹرفئیر
اس کا اچھا خاصا منہ بن گیا تھا ابراہیم کو اپنی بات پر شرمندگی ہوئی
اچھا سوری یار موڈ تو ٹھیک کرو
ہمم ٹھیک ہے میرا موڈ۔۔۔
کم ان یار…..
پلیز اے بی ابھی تم جاؤ مجھے بھی کچھ کام ہے وہ اپنا بیگ اٹھا کر وہاں سے نکل گئی تو وہ افسوس کرتا رہ گیا کہ کیا ضرورت تھی اسے اسکا موڈ خراب کرنے کی۔۔۔۔
کیا ہوا طبیعت ٹھیک ہے آپکی ؟؟ حاشر اندر راؤنڈ پر آیا تو زلیخا کو سر پکڑے دیکھ ان کے پاس آیا
جی وہ صاحب ٹھیک ہوں میں۔۔۔ اسے دیکھ زلیخا جلدی سے بولی تھی مبادہ نوکری ہی نا چلی جائے
زلیخا بی آپ ٹھیک نہیں لگ رہی ہیں مجھے۔۔
نہیں نہیں بس وہ ایسے کام تھوڑا زیادہ تھا تو تھک گئی
ہمم آپ تھوڑی دیر ریسٹ کرلیں کوئی ایسا مسئلہ نہیں ہے حاشر کے بولنے پر وہ اسکی شکر گزار ہوتی اندر ریسٹ روم میں چلی گئیں
وہ ابھی اپنے کیبن کی طرف بڑھا ہی تھا کہ موبائل رنگ ہونے لگا
فون پر نظر پڑتے ہی اسکی جان نکلی تھی
دادی کا نمبر تھا
اسنے موبائل سائلنٹ پر لگایا اور آگے بڑھ گیا تبھی نیچے شور کی آواز سن کر وہ واپس پلٹا تھا جہاں زلیخا ہوش و حواس سے بیگانہ پڑی تھیں سارے ورکر ان کے اردگرد جمع تھے
ہٹیں پلیز وہ سب کو ہٹاتا آگے آیا۔۔۔۔
ان پر پانی کے چھینٹے مارے مگر کوئی فائدہ نہیں ہوا
انہیں اٹھا کر باہر لایا اور گاڑی میں ڈال کر ڈرائیونگ سیٹ سنبھالی تھی
اجمل ان کے گھر کال کر کے انفارم کرو۔۔ کلرک کو بول کر وہ تیز اسپیڈ سے گاڑی بھگا کر لے گیا
اسکے پیچھے اجمل نے گھر پر کال کر کے انہیں فوراً اسپتال آنے کا کہا تھا
وہ دونوں فوراً اسپتال آئیں تھی نور کا تو رو رو کر برا حال تھا آنسہ اسے سنبھالے ہوئے تھی دل تو اسکا بھی رونے کو تھا مگر خود کو کمزور ثابت کرنا اسکی فطرت میں نہیں تھا
حاشر کو دیکھ کر وہ چونکی تھی لیکن ایسے ظاہر کیا کہ پہچانی نا ہو
نور حاشر کی طرف بڑھی تھی
سر میری امی؟؟؟؟
اندر ہیں ٹریٹمنٹ چل رہا ہے ابھی تک ڈاکٹرز نے کچھ نہیں بتایا۔۔
وہ پریشان سی بینچ پر بیٹھ گئی آنسہ کیا ہوگیا ہے اماں کو؟؟ اس کی آنکھیں نم تھیں
کچھ نہیں ہوا ہے ٹھیک ہو جائیں گی تو پریشان نہیں ہو ابھی ڈاکٹر آکر بتائیں گے نا۔۔۔اس نے تسلی تو دی تھی مگر اپنا دل خود پریشان تھا اسکا۔۔۔
تبھی ڈاکٹر باہر آئے تھے۔۔۔
پیشنٹ کے ساتھ کون آیا یے؟؟؟ ڈاکٹر نے بولنے پر وہ دونوں آگے بڑھی تھی
آپ کے ساتھ کوئی جینٹس نہیں ہے۔۔۔
میں ہوں ڈاکٹر ان کے کچھ بولنے سے پہلے ہی حاشر سامنے آیا تھا
آپ کیبن میں آئیں میرے ساتھ۔۔۔
یہ ہمارے کچھ نہیں لگتے میں بیٹی ہوں ان کی آپ مجھ سے بات کریں۔۔۔
حاشر کو آگے بڑھتا دیکھ وہ آگے بڑھ کر بولی تھی
آپ بھی آجائیں پھر۔۔ ڈاکٹر ایک نظر اس پر ڈال کر بولتا آگے بڑھ گیا
میں آؤں کیا آنسہ؟؟؟نور کے پوچھنے پر اسنے نفی میں سر ہلایا
نہیں تو یہاں بیٹھ اور دعا کر ٹھیک ہے نا وہ اسکا گال تھپتھپا کر حاشر کے ہم قدم ہوئی..
آئیں بیٹھیں ان کے اندر آتے ہی ڈاکٹر نے انہیں بیٹھنے کا اشارہ کیا اور خود اپنی سیٹ سنبھالی۔۔
دیکھیں گھوما پھیرا کر بات کرنے کا فائدہ نہیں ہے اس لئے سیدھی بات کرونگا۔۔
آپ کے پیشنٹ کے ٹیسٹ اچھے نہیں آئے ہیں۔۔
کیا مطلب؟؟ حاشر نے نا سمجھی سے انہیں دیکھا
انہیں برین ٹیومر ہے۔۔۔
ڈاکٹر کے الفاظ نے گویا اسکی قوت گویائی چھیینی تھی وہ یک ٹک بس ڈاکٹر کو ہی دیکھے جارہی تھی۔۔۔۔
