Teri Meri Rah Mein by Fariha Islam Readelle50355 Teri Meri Rah Mein Episode 15
Rate this Novel
Teri Meri Rah Mein Episode 15
وہ تھکا ہارا سا ان کے سامنے بیٹھا تھا جن کے چہرے پر آج ایک الگ قسم کی ہی چمک تھی وہ انہیں بس دیکھتا رہ گیا
حاشر اپنے انکل کو کال کرو اور بولو جلد از جلد پاکستان آنے کی کریں کنزہ کو میں کال کرچکی وہ بھی اپنا ویزہ وغیرہ دیکھ لے گی۔۔
حاشر نے پریشانی سے اسے دیکھا جو دم سادھے بیٹھا تھا
سن بھی رہے یا نہیں ۔۔۔حاشر کو چپ دیکھ وہ ایک دم بولی تھیں
جی دادو میں بات کرتا ہوں انکل سے۔۔
اور گھر کا کام بھی مکمل کرواؤ۔۔۔ان کے انگ انگ سے خوشی جھلک رہی تھی
دادو سب ہوجائے گا آپ آرام کریں۔۔حاشر نے انکا ہاتھ تھامے انہیں تسلی دی تو وہ مسکراتی اپنے کمرے کی طرف بڑھ گئیں
کیا مسئلہ ہے تجھے چپ کیوں ہے؟؟ وہ پریشان سا اس کے پاس آکر بیٹھا تھا
کچھ نہیں ہوا مجھے کیا ہونا ہے۔۔وہ تلخی سے ہنس دیا تھا
اور اسکے یوں کرنے پر حاشر کے دل کو کچھ ہوا تھا۔۔
ادھر دیکھ ابراہیم کیا ہوا ہے؟؟ اسکا چہرہ اپنی طرف موڑے وہ ایک دم ٹھٹھکا تھا
اس کی آنکھیں لال سرخ ہورہی تھیں
دیکھ ابراہیم کیوں خود کو تکلیف دے رہا ہے میں بات کرتا ہوں دادو سے۔۔
وہ ایک اٹھا تھا تبھی ابراہیم نے اسے روکا تھا
کرنے دے انہیں جو کرنا ہے۔۔
مگر ردابہ؟؟ وہ ایک دم پوچھ بیٹھا جس پر وہ مسکرا دیا
اسے اپنا کیرئیر بنانا ہے وہ میرے بغیر خوش رہ سکتی ہے۔۔ٹوٹے لہجے میں بولتا وہ حاشر کو مسلسل پریشان کررہا تھا
ادھر دیکھ ابی بتا مجھے۔۔۔اس کے یوں پوچھنے پر وہ اسے اپنے اور ردابہ کے درمیان ہوئی بات بتاتا چلا گیا
حاشر کو افسوس ہوا تھا وہ جانتا تھا ابراہیم کتنا سیریس ہے اسے لے کر۔۔
تو پریشان مت ہو دیکھ ابراہیم ہر چیز کے پیچھے یقیناً کوئی نا کوئی مصلحت ہوتی ہے اگر یہ سب ہوا تو ضرور اللّٰہ پاک نے تیرے لئے کچھ بہترین سوچا ہے۔۔
ہممم۔۔
بس اب خوش رہ انشاء اللہ سب ٹھیک ہی ہوگا۔۔۔
حاشر کے سمجھانے پر وہ سر ہلاتا اٹھ گیا۔۔۔
یہ وقت پر لگا کر اڑا تھا اس نے خود کو بے حد مصروف کرلیا تھا حیات مینشن ایک بار پھر پوری آب و تاب کے ساتھ اپنی جگہ کھڑا ہوا تھا۔۔
حیات صاحب دراب کنزہ سب پاکستان پہنچ چکے تھے
وہ بظاہر مسکراتا سب سے مل رہا تھا مگر اسکا دل بجھ کر رہ گیا تھا وہ کسی طور آنسہ کو اپنی زندگی میں شامل نہیں کرنا چاہتا تھا مگر اب بہت دیر ہوگئی تھی حاشر خوش تھا کہ وہ موو آن کر رہا ہے مگر وہ اس بات سے بے خبر تھا کہ اسکے دماغ میں اس وقت کیا چل رہا ہے جان جاتا تو یقیناً اسے سمجھانے کی کوشش کرتا۔۔
کنزہ تو آنسہ سے مل کر بہت خوش ہوئی تھی
وہ لوگ حیات مینشن شفٹ ہوگئے تھے گھر کو دولہن کی طرح سجایا گیا تھا آخر کو اس گھر کی آخری شادی تھی
حاشر بھی اس سب میں آگے آگے تھا
اسکی خاموشی دیکھ حیات صاحب نے خود حاشر سے پوچھا تھا کہ کیا ابراہیم خوش ہے جس پر اس نے انہیں تسلی دی تھی۔۔
دوسری طرف وہ سب سے بیزار بیٹھی تھی اسکا دل ہی نہیں کرتا تھا کچھ کرنے کا جتنی وہ ایکٹیو تھی اس سے کہی زیادہ وہ سست ہوگئی تھی
نور اس کے پاس بیٹھ گھنٹوں پیلینگ کرتی تھی مگر وہ گونگی بہری بنی بیٹھی رہتی۔
روبینہ بیگم نے کسی قسم کا جہیز لینے سے صاف انکار کردیا تھا یہاں تک کے کپڑے بھی۔۔
بری کے نام پر کنزہ اور حمیرا اس کے لئے ایک سے بڑھ کر ایک قیمتی سامان لائی تھیں وہ بس چپ چاپ یہ تماشہ دیکھ رہی تھی
ناجانے ایسا کیا تھا جو وہ دل میں دبائے بیٹھی تھی
کل اسے مایوں بیٹھ جانا تھا ایسے وقت میں ایک لڑکی کو اپنوں کی اشد ضرورت ہوتی ہے اسے بھی اپنی ماں کی کمی آج پھر شدت سے کھلی تھی
وہ ناشکری نہیں تھی اس نے اللّٰہ کے ہر فیصلے پر سر جھکایا تھا
اگر اللّٰہ نے اس سے کچھ لیا تھا تو اسے بیش بہا چیزوں سے نوازہ بھی تھا
وہ چھت پر لیٹی آسمان کو دیکھ رہی تھی ٹھنڈی ٹھنڈی ہوا روح میں اتر کر عجیب سا۔ احساس پیدا کر رہی تھی ۔۔
تبھی نور نے اسکو خود میں بھینچا تو وہ گردن موڑ کر اسے دیکھنے لگی
کیا دیکھ رہی ہے آنسہ؟؟
کچھ نہیں تو کب آئی؟؟ وہ اسکا ہاتھ ہٹا کر اٹھ کر بیٹھی تھی
میں تو تبھی آئی جب آپ ہمارے دولہا بھائی کے خیالوں میں گم تھیں۔۔
نور کی بات پر اسکا دل کی قہقہ لگا کر ہنسے
میں ایسے کام نہیں کرتی جو مجھ پر جچتے نا ہو۔۔
بس بھی کر یار آنسہ قسم سے کل مایوں بیٹھ جانا اور تو یہاں سن ہوئی بیٹھی ہے۔۔
تو کیا کروں بھنگڑے ڈالوں؟؟ وہ چڑ کر بولی تھی نور کے پاس اسکے علاؤہ کوئی ٹاپک ہی نہیں تھا۔۔
ناراض ہے مجھ سے ؟؟ نور نے اسکا چہرہ اپنے ہاتھوں کے پیالوں میں بھرا تو وہ مسکرا کر نفی میں سر ہلا گئی
نہیں تو میں بھلا کیوں تجھ سے ناراض ہونگی؟؟
اماں بہت درد دیتی ہیں نا آنسہ میں جانتی ہوں ان کی باتیں مجھے اتنی تکلیف دیتیں ہیں تو تجھے کتنا زیادہ برا لگتا ہوگا مجھے احساس ہے میں ان کی طرف سے معافی مانگتی ہوں آنسہ۔۔ اس نے ایک دم اس کے آگے ہاتھ جوڑے تھے۔۔
پاگل ہوگئی ہے کیا نور ایسے کیوں کر رہی تو جانتی ہے مجھے فرق نہیں پڑتا ہے۔۔
بس کردے کیوں خود کو پتھر ظاہر کرتی ہے جسے کوئی فرق نہیں پڑتا میں جانتی ہوں تجھے فرق پڑتا ہے میری ماں غلط کر جاتی ہے اور تو بس کر اب۔۔
اسے گلے سے لگائے وہ رونے لگی اور اسکے یوں کرنے پر آنسہ کو اس پر بے تحاشہ پیار آیا تھا
افف بس کردے شادی میری ہے رو تو رہی اگر ایسے روئے گی تو میں نے شادی سے انکار کردیا پھر سوتیلی ساری زندگی یونہی مجھے سناتی رہے گی۔۔
اسے پچکارتے وہ ہنس کر بولی تو وہ منہ بنا کر اس سے الگ ہوئی
سوچنا بھی نہیں ایسا میری سب سے بڑی خوشی ہے تجھے خوش دیکھنا دادو بہت اچھی ہیں تجھے اماں کی طرح نہیں سنائیں گی تو بہت خوش رہے گی ابراہیم بھائی بھی تجھے بہت سارا پیار کریں گے۔۔
وہ خوشی خوشی بول رہی تھی یہ جانے بغیر کہ اس شخص کے نام پر اسکا دل برا ہوا تھا
وہ شخص جو مجھے کچھ عرصے بعد مجھے چھوڑ دے گا اس سے کیسی محبت ملے گی مجھے۔۔۔۔
خود سے بولتی وہ تلخی سے ہنسی تھی۔۔
پورے حیات مینشن کو دولہن کی طرح سجایا گیا تھا
وسیع وعریض لان کو برقی قمقموں سے سجایا گیا تھا مہمان گو کو بس اپنے ہی تھے مگر پھر بھی انتظام انہوں نے بھرپور کیا تھا
بےبسی کیا ہوتی ہے یہ آج ابراہیم نے جانا تھا
پیلے کرتے پر سفید پاجامہ اور چنری ڈالے ہلکی بڑھی شیو وہ گہری کالی آنکھیں جو آج اداس سی تھی اسکی وجاہت کو مزید بڑھانے کا سبب بن رہی تھیں
روبینہ بیگم نے فوراً اس کی نظر اتاری تھی۔۔
آنسہ لوگ آتے ہی ہونگے حاشر جیسے ہی وہ لوگ آئیں ابراہیم کو لے کر آنا ہے۔۔
نیچے سے آتی کنزہ نے حاشر کو بول اب اپنے بھائی کا صدقہ اتار رہی تھی
ویسے آپی بھائی تو میں بھی آپکا ہوں اور آج کافی وجہہ لگ رہا ہوں تو آپ کو نہیں لگتا میرا صدقہ بھی اتارنا چاہیے آپ کو۔۔
اسکے شوخی سے کہنے پر کنزہ نے ہنستے ہوئے اسکا بھی صدقہ اتارا تھا۔۔
بی بی کی دولہن بیگم اور انکے گھر والے آگئے ہیں۔۔ملازمہ بھاگتی انہیں اطلاع دینے آئی تھی۔۔
چلو بچوں جلدی سے آجاؤ نیچے۔۔
جاتے جاتے وہ حاشر کو تاکید کرتی نیچے آئی تھیں
جہاں اب انہیں اپنی ہونے والی بہو کا اسکے شایانِ شان استقبال کرنا تھا۔۔۔۔
گاڑی میں بیٹھی وہ اس گھر کو دیکھ رہی تھی جہاں کل اسے آنا تھا اور پھر طلاق لے کر واپس اپنے گھر جانا تھا وہ خود کو ہر طرح سے تیار کر کے بیٹھی تھی
نور نے ہاتھ بڑھا کر اسے باہر نکالا تھا
مسٹرڈ کلر کی گھیر دار فراک پہنے ہم رنگ نیٹ کا دوپٹہ گھونگھٹ کی صورت لئے پھولوں کے زیورات سے سجی وہ آج ہر دیکھنے والی آنکھ کو خیراں کررہی تھی کھلتی سے رنگت پر آج نرالی سی چمک تھی
کنزہ نے محبت سے اسکا ہاتھ تھام کر اسے ابراہیم کے پہلو میں کھڑا کیا تھا
کیسے نرالے دولہا دولہن تھے جو ایک دوسرے سے سخت چڑ محسوس کئے کھڑے تھے۔۔
فلش لائٹس ان پر پڑ رہی تھیں
خوشی سب کے چہروں سے عیاں تھی
انہیں کے جا کر اسٹیج پر ساتھ بیٹھایا گیا تھا
اس کے بیٹھتے ہی ابراہیم اس کے پہلو میں بیٹھا لمحے میں ان کا ہاتھ ٹچ ہوا تھا
تبھی اس نے اپنا ہاتھ اتنی زور سے آگے کیا کہ اسکی کہنی ابراہیم کی پسلی میں لگی تھی
کیا پاگل ہو انسان بن کر بیٹھو۔۔۔وہ آواز نیچی کئے غرایا تھا
تم انسانوں کی طرح بیٹھنا سیکھو پہلے۔۔
وہ گھونگھٹ کے اندر سے بڑبڑائی تھی
تمیز نہیں ہے بات کرنے کی بدتمیز۔۔۔
ہاں خود نے تو جیسے پی ایچ ڈی کی کوئی ہونہہ۔۔۔
اس سے پہلے وہ کوئی جواب دیتا کنزہ ان کے پاس آکر بیٹھی تھی
کیا باتیں ہورہی ہیں بھئی صبر کرو میرے بھائی کل تمہارے پاس آجانا ہماری بھابھی نے۔۔۔
کنزہ شرارت سے بولی تھی اور اس کی بات پر ان دونوں نے پہلو بدلہ تھا۔۔
چلو بھئی رسم شروع کرو۔۔۔۔
سب سے پہلے بولتے کے ساتھ دادو ان کے پاس بیٹھی تھیں اور رسم ادا کی تھی اسکے بعد ایک ایک کر کے سب نے رسم ادا کی اور اسے ڈھیروں پیار کیا ناچاہتے ہوئے بھی اسکی آنکھیں نم ہوئی تھیں دادو نے اسے سینے سے لگایا تھا
ایسے نہیں روتے گڑیا۔۔۔انہوں نے اسے خود میں بھینچا تھا
اسے انکے سینے سے لگے سکون سا ملا تھا
سب کی آنکھیں نم ہوئی تھیں
ہونہہ ویسے تو بڑی زبان چلتی اب جیسے معصوم بن رہی ڈھونگی عورت۔۔
اسے یوں اپنی دادو سے لپٹا دیکھ وہ جل بھن کر کباب ہوا تھا
جبکہ اسکی بڑبراہٹ سنتے ہی حاشر نے پیچھے سے اسے نوچا تو وہ بلبلا کر رہ گیا۔۔
منحوس انسان۔۔۔
