Teri Meri Rah Mein by Fariha Islam Readelle50355 Teri Meri Rah Mein Episode 2
Rate this Novel
Teri Meri Rah Mein Episode 2
آگئی مہارانی دل ہوگیا گھر آنے کا۔۔۔ وہ دونوں گھر میں آئیں تو زلیخا نے اسے دیکھتے ہی تیوری چڑھائی۔۔۔
کیوں میں کیوں نا آؤ۔۔ وہ سخت چڑی تھی
ہاں تو کیون آئی جب اتنی ہی ناک ہے تو ۔۔۔۔
اماں۔۔۔۔۔۔۔ نور نے انہیں اشارے سے منع کیا کہ کچھ نا بولیں
کیوں نا آتی میرے باپ کا گھر ہے تم جہیز میں نہیں لائی تھیں آئی سمجھ تو اگر جاؤ گی تو تم جاؤ گی یہاں سے میں نہیں۔۔۔وہ غصے سے بولی تھی
دیکھوں زرا کیسے قینچی جیسی زبان ہے اب تو چپ نہیں کروائے گی اسے مجھے ہی بولتی رہتی ہے۔۔۔ انہوں نے نور کا دیکھ کر اسے سنایا تو وہ بے بس ہوئی تھی
چپ کر نا آنسہ چل اندر چل۔۔۔ وہ اسے گھسیٹتی ہوئی اندر لے گئی تو وہ بڑبڑانے لگی
دیکھ لے اب پھر مجھے بولتی ہے ۔۔۔۔
چھوڑ نا یار اماں ہیں نا۔۔۔وہ اسے سمجھانے والے انداز میں بولی تھی بہت مشکل تھا اس کے لئے ان دونوں کو سنبھالنا
تیری اماں ہیں میری نہیں سمجھ آئی تو جیسا بولے گی ویسا سنے گی بھی۔۔وہ بھی پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں تھی
بچاری نور اسے دیکھ کر رہ گئی کیا بولتی وہ ماں اور بہن میں پھنس کر رہ گئی تھی بہن کی سائیڈ لیتی تو ماں کی بری،ماں کی لیتی تو بہن بھڑکتی۔۔
اچھا چھوڑ بتا کھانا کھائے گی لاؤں۔۔اس نے آنسہ کو پچکارا تھا
نہیں کوئی ضرورت نہیں بس چھالی دے اگر ہے تو ساری ختم ہوگئی۔۔اپنے پاس دیکھ وہ چنی کاکی بنی بولی تو نور کو ہنسی آئی
میرے پاس سپاری ہے وہ چاہیے تو بول نور کے بتانے پر اسکا منہ بنا تھا
بچے کھاتے ہیں یہ سپاری لیکن لا پھر بھی دے دے منہ کڑواہ ہورہا ہے۔۔اس کے ہاتھ سے سپاری لے کر وہ ایک ساتھ ہی ساری کھا گئی تھی
مت کھایا کر سارا خون نچوڑ لینگی تیرا۔۔۔۔
جتنا خون یہ تیری اماں نچوڑتی ہے نا اس سے زیادہ نہیں کرتی ہوں گی یہ چھالیاں۔۔۔ اس نے ہتھیلی پر دوسری سپاری کھول منہ میں ڈالی۔۔اور پھر کچھ یاد آنے کر اسکی طرف مڑی
سن کل روشنی کے گھر قرآن خوانی ہے چلے گی ؟؟؟
میں کیسے جاؤنگی اماں کام پر جائینگی تو گھر کون دیکھے گا۔۔۔۔ نور نے اپنے ناجانے کی وجہ بتائی تو وہ کندھے اچکا گئی
چل خیر ہے میں تو جاؤنگی بریانی ہی مل جائے گی کھانے کو۔۔ وہ تو سدا کی بریانی کی دیوانی تھی بس چلتا تو ہر وقت وہی کھاتی۔۔۔۔
اس نے اٹھ کر ریموٹ سنبھالا اور گانوں کا چینل لگا کر آواز تیز کردی جانتی تھی اب باہر بیٹھی عورت جلتی رہے گی۔۔۔۔
نور نے اسے تاسف سے دیکھا اور الماری میں سے کل کے لئے کپڑے نکالنے لگی
کس کی شادی ہورہی ہے جو یہ گانے اتنے تیز چل رہے بند کر نور میرے سر میں درد ہورہا ہے
وہ کافی دیر سے برداشت کر رہی تھی کہ کچھ نہیں بولے گی لیکن اب صبر کا پیمانہ لبریز ہوا تھا۔۔
اتنی تکلیف ہے تو جا کر باہر جاؤ یہ میرا گھر ہے
وہ بھی اونچی آواز میں بول کر آواز اور تیز کرنے لگی لیکن اللّٰہ کا کرنا اسی وقت لائٹ بند۔
اللّٰہ تیرا شکر… زلیخا کے ہنسنے کی آواز پر اسکے آگ لگی تھی
اللّٰہ پوچھے ان لائٹ والوں کو کمینے کہی کے جب دیکھو لائٹ کی بند کردیتے منحوس وہ بکتی جھکتی اوپر چھت پر چلی گئی جب کے اس کے چپ ہونے پر زلیخا اور نور دونوں نے سکھ کا سانس لی۔۔۔۔
روشن محلہ تمام علاقوں میں سب سے مشہور تھا تقریباً تیس کے قریب گھر تھے ایک مسجد اور کریانے کی دوکان۔۔۔۔
گلی کے کونے پر راحیل بھائی کا چپس اور سموسے کا ٹھیلا جس پر ہر وقت بچوں کا رش رہتا
اس کے علاؤہ ثریا خالہ کی ایک چھوٹی سی چیز کی دوکان بھی تو تھی جو انہوں نے گھر میں کھولی ہوئ تھی
رمضان کریانہ اسٹور پر روز رات محلے کے آدمی محفل جماتے حالات حاضرہ پر بحث کرتے تو وہی دوسری طرف رضیہ خالہ کے گھر کے باہر عورتیں چبوترے پر یا کرسی پر بیٹھ کر غیبتیں کرتی نظر آتی تو وہی لڑکیاں کسی ایک کی چھت پر ہوتی تو لڑکے باہر کبھی لڈو کیرم یا دوسرا کوئی کھیل کھیلتے نظر آتے
وہ واقعی روشن سا محلہ تھا جہاں ہر وقت رش ہوتا تھا کبھی سناٹا یا اندھیرا نہیں ہوتا تھا۔۔۔
اسی محلے کے ایک دو کمروں کے گھر میں کامران صاحب اپنی بیوی اور ماں کے ساتھ رہنے آئے تھے
وہ ریلوے میں کلرک تھے ایماندار اور بے حد رحم دل۔۔۔۔ انکی بیوی بھی انہیں کی طرح تھی نسا بیگم
وہ ٹوٹل تین ہی افراد تھے زندگی میں سکون تھا بہت۔۔۔
کامران صاحب نے اپنے باپ کی جائداد سے ملنے والی زمین کو بیچ کر مین بازار میں ایک دوکان خرید کر کرائے کر چڑھا دی تھی تاکہ ریٹائرمنٹ کے بعد ان کے کام آسکے
شادی کے دس سال بعد اللّٰہ نے انہیں اولاد سے نوازہ جس کا نام انہوں نے آنسہ کامران رکھا
گندمی رنگت پر گول گپا چہرہ اور اس پر پرکشش آنکھیں کہ دیکھنے والے کو خود ہی پیار آجائے
دوسرے بچے کی پیدائش پر نساء زندگی کی بازی ہار گئیں بچہ بھی چند دن بعد ہی چل بسا ان کی زندگیوں میں اچانک طوفان آگیا تھا۔
فریدہ بیگم نے پوتی کی زمہ داری لے لی لیکن وہ بوڑھی جان کب تک اسکے ساتھ رہتی انہوں نے کامران صاحب پر دوسری شادی کے لئے دباؤ ڈالا
وہ دوسری شادی کے لئے راضی نہیں تھے لیکن آنسہ کے لئے ہونا پڑا اور یوں ان کی خالہ زاد زلیخا ان کے نکاح میں آئیں جو ساتھ میں اپنی تین سالہ نور کو بھی لے کر آئی تھیں
جو شروع میں تو اسکے ساتھ بہت اچھی رہیں اسکے لئے اسکی ماں بن گئی لیکن پھر ولید اور عریشہ کے بعد انکا رویہ تبدیل ہوگیا فریدہ بیگم کے انتقال کے بعد کامران صاحب نے ایک فیصلہ کیا کہ اپنا گھر اور دوکان آنسہ کے نام کردی پتا نہیں انہوں نے اپنے باقی بچوں کے ساتھ انصاف کیا یا نہیں لیکن آنسہ کو وہ کبھی بھی تکلیف میں نہیں دیکھنا چاہتے تھے وہ انکی پہلی اولاد تھی ان کو اس نے باپ کا نام دیا تھا سب سے پہلے وہ اسکا بہت خیال رکھتے تھے لیکن اس کے بعد زلیخا کا رویہ اس سے تبدیل ہوا تھا پہلے جو تھوڑا بہت پیار کرلیتی تھیں وہ بھی ختم کردیا وہ اگر بہت بری نہیں تھی اس کے ساتھ تو اچھی بھی نہیں تھیں
وہ اسے ولید اور عریشہ کے ساتھ کھیلنے نہیں دیتی تھیں صرف نور تھی جو اسکے ساتھ رہتی تھی ہر حال میں زلیخا کے رویے کی وجہ سے اسکا سارا دن شبانہ کے یہاں گزرتا تھا جو اسکی ماں کی دوست تھی ان کے دو بیٹے اور ایک بیٹی تھی روشنی اس کی پکی سہیلی جبکہ شان اور علی اس کے استاد اسکول کے بعد وہ ڈائریکٹ ان کے گھر آتی تھی جہاں وہ تینوں اسے سوتیلی ماں سے نبٹنے کے طریقے سیکھاتے تھے جنہیں خود کچھ آتا جاتا نہیں تھا ![]()
![]()
![]()
وہ اسے اپنے ساتھ لڑکوں والے کھیلوں میں شامل کرتے تھے تو اسے بھی گڑیا گڈوں سے زیادہ کرکٹ اور گلی ڈنڈے میں دلچسپی ہوئی
جس عمر میں لڑکیاں گھر گھر کھیلتی ہیں وہ ہاتھ میں کنچے لئے اسو پنجو کھیلتی یا کسی کی چھت پر پتنگ اڑا رہی ہوتی۔۔۔
وہ زلیخا کو جلانے کے لئے روز ان لڑکوں کے ساتھ محلے میں کرکٹ کھیلتی
کامران تو خوش ہی ہوتے تھے کہ ان کی بچی لڑکوں کے مقابلے میں نا صرف کھیلتی ہے بلکہ جیت بھی جاتی ہے باقی کنچوں اور پتنگ کو لے کر وہ اسے سمجھاتے رہتے تھے
لیکن ایک دن اسکا یہ سمجھانے والا بھی اسے چھوڑ کر چلا گیا ایک ایکسیڈنٹ میں
اسنے رو رو کر خود کو بیمار کرلیا ناجانے کتنے دن وہ باپ کی یاد میں روتی تڑپتی رہی
پھر شبانہ اسے اپنے ساتھ گھر لے آئی علی اور شان ہر وقت اسکا دماغ کھاتے رہتے روشنی اس نے لئے ہر وقت کچھ نا کچھ نیا بناتی
یہاں اسکا بڑا دل لگا تو وہ تھوڑی سنبھلی اور دو مہینے بعد پھر محلے والوں نے آنسہ کو واپس اپنے موڈ میں دیکھا لیکن اس بار زلیخا نے اس پر سختی شروع کردی وہ اسے گھر سے نکلنے نہیں دیتی تھی
ہر وقت کی ڈانٹ پھٹکار سے تنگ آکر وہ چھتیں پھلانگ کر شبانہ کے گھر پہنچ جاتی
زلیخا اسے جتنا روکتی ٹوکتی وہ اتنا ہی اسکا جینا حرام کردیتی وہ روز شان اور علی سے سوتیلی ماں سے نبٹنے کے ایک سو ایک گن سیکھتی تھی
شبانہ ان کوسمجھا کر ڈانٹ کر تھک چکی تھی
لیکن ان پر اثر ہی نہیں ہوتا تھا اسے مار کٹائی وہ سیکھاتے تھے اسے بلکل ایسا کردیا تھا کہ وہ خود کو لڑکی نہیں لڑکا سمجھتی تھی اور اسے مزہ بھی اسی میں آتا تھا
کامران صاحب کے انتقال کے بعد انکا گزارہ ان کی پینشن اور دوکان کے کرائے سے ہوتا تھا اور اب زلیخا نے گھر میں ہی سلائی کا کام شروع کردیا تھا کسی کے کہنے پر اب وہ دفتروں میں کھانا پہچانے کا کام کرنے کا سوچ رہی تھیں جس کے لئے انہیں پیسے چاہیے تھے کرائے دار نے پیسے دینے سے صاف انکار کردیا تھا ایسے میں وہ بہت زیادہ پریشان تھیں تین بیٹیوں کا ساتھ آسان تھوڑی تھا
وہ مست مگن سی گھر میں داخل ہوئی تو گھر میں سناٹا چھایا ہوا تھا ورنہ سلائی مشین کی آواز تو لازمی ہی آتی تھی
اندر آئی تو زلیخا خاموش سی اک طرف لیٹی تھی
اس نے نور کو اشارہ کیا کہ کیا ہوا
تو اس نے آنکھوں کے اشارے سے اسے صبر کا کہا لیکن ہماری امل میڈم میں صبر تھا ہی کب
نور کی اماں کیوں چپ چپ لیٹی ہو؟؟
اس سے انکی خاموشی برداشت ہی نہیں ہوئی تو انکے پاؤں کا انگوٹھا ہلایا
ہٹ جا امل مجھے نہیں لگنا ابھی تیرے منہ
ہاں تو نہیں لگو لیکن ہوا کیا ہے یہ تو بتاؤ کیوں منہ سوجا کر بیٹھی ہو
کرایے دار نے کرایا دینے سے منع کردیا ہے بولتا ہے بھول جاؤ دوکان
نور کے بتانے پر اسکا دماغ گھوما تھا
اس کا تو باپ بھی کرایا دے گا وہ غصے میں باہر کی طرف نکل گئی
جبکہ نور اس کے پیچھے بھاگی تھی
جبکہ زلیخا نے اپنا سر پکڑا تھا
