Teri Meri Rah Mein by Fariha Islam Readelle50355 Teri Meri Rah Mein Episode 17
Rate this Novel
Teri Meri Rah Mein Episode 17
رات گئے وہ لوگ گھر پہنچے تھے تھکن سے سب کا برا حال تھا اس لئے بنا رکے سب نے اپنے اپنے کمروں کا رخ کیا تھا
وہ بھی تھکی ہاری سی کمرے میں آئی تھی تو چینج کر خود کو ریلکس کیا تھا تبھی وہ اندر آیا تھا۔۔
آنسہ نے ایک کڑوی سی نظر اس پر ڈالی اور تکیہ چادر سنبھالے صوفے کا رخ کیا تھا۔۔۔۔
نخرے تو دیکھو جیسے کوئی پری ہو۔۔
وہ سوچتا سر جھٹکتا چینج کرنے گیا تھا
ایسے رشتے بھلا کب پائیدار ہوتے ہیں جو یوں شرطوں پر مبنی ہوں یہ تو ہمارے لوگ ناجانے کہاں سے سیکھ کر آجاتے ہیں ایسی واہیات باتیں،۔۔
کروٹ لیتے اس نے دل میں سوچا تھا۔۔
وہ دادو اور کنزہ سے دل سے متاثر ہوئی تھی وہ دونوں تھی ہی ایسی حیات صاحب نے بھی جس طرح اسے پیار دیا اس کی آنکھیں بھیگ گئی تھیں ان میں سے اسے کامران صاحب کی خوشبو آئی تھی۔۔۔۔
اس واقعے نے اس سے واقعی اسکی ساری اکڑ اسکا غصہ سب لے لیا تھا آج اس نے خود کو ان لڑکیوں کی جگہ رکھا تھا جن کے ماں باپ نہیں ہوتے اور وہ دوسروں کے در پر پڑی ہوتی ہیں کسی دوسرے کا بوجھ سنبھالنا آسان نہیں ہوتا اور ہر لڑکی مضبوط بھی نہیں ہوتی اس کے قدم مضبوط نہیں ہوتے کوئی اسکا پرسان حال نہیں ہوتا ۔۔۔
یہاں یتیموں کے حق کے لئے بھلا کب کوئی بولا ہے۔۔
اس کے ساتھ بھی تو یہی ہوا تھا اسے کمزور سمجھ وہ اسکے ساتھ یہ معاہدہ کرگیا وہ کمزور نہیں تھی مگر نور کی خاطر اسے یہ سب کرنا پڑا اور فائدہ کیا ہوا اس نے تو بس ماں کی محبت چاہی تھی مگر یہاں تو اسے ایک محبت کا بول تک سننے کو نا ملا اس نے بس سب اللّٰہ پر چھوڑ دیا تھا۔۔۔
صبح اس کی آنکھ کھلی تو گھڑی صبح کے چھ بجا رہی تھی۔۔
بیڈ پر ابراہیم کو خواب خرگوش میں دیکھ وہ اٹھ کر فریش ہوئے باہر آئی تھی پورے گھر میں سناٹہ چھایا ہوا تھا
وہ چلتی ہوئی لان میں آئی تھی صبح کا منظر بے حد حسین تھا پرندوں کی چہچہاہٹ عجیب سا سرور بخش رہی تھی
پاؤں کو چپل کی قید سے آزاد کرتی وہ ننگے پیر گھاس پر قدم بڑھانے لگی تھی
تازگی کا احساس رگ وپے پر چھایا تھا
کتنا خوبصورت بنایا تھا اللّٰہ نے دنیا کو۔۔۔
اپنے پیچھے کھٹکے کی آواز پر وہ ایک دم مڑی تھی سامنے دادو کو دیکھ اس نے مسکرا کر سلام کیا تو وہ دھیمے قدم چلتی اس کے پاس آئی تھیں
کیا بات ہے اتنی جلدی اٹھ گئیں گڑیا؟؟
جی دادو بس آنکھ کھل گئی تو یونہی باہر آگئی۔۔
اس نے مسکرا کر انکا ہاتھ تھاما اور پاس پڑی چئیر پر بٹھایا۔۔
ایک راز کی بات بتاؤں؟؟ ان کے قدرے جھک کر کہنے پر اس نے انہیں دیکھ سر ہلایا تھا
جب ابراہیم نے بتایا نا کہ اس نے شادی کرلی تو مجھے بڑا غصہ آیا پھر دل میں عجیب طرح کے وسوسے کہ ناجانے کیسی لڑکی پسند کرلی مگر تمہیں دیکھ دل ایک دم پرسکون ہوگیا ہے برسوں پہلے ہمارا گھر شاد و آباد تھا پھر حیات چلے گیا تو ہم دونوں ساس بہو مل کر رہتے۔۔
اسکی موت نے ایک خلا سا پیدا کردیا لیکن تمہیں دیکھ ناجانے کیوں یہ دل کہتا کہ اب کوئی ہے جو اس کے جیسا ہے جو کہ گھر سنبھال لے گا ہمیں سنبھال لے گا
ان کی بات پر اس نے ان کے ہاتھ پر اپنی گرفت مضبوط کی تھی
میں پوری کوشش کرونگی کہ اپنے فرائض میں کوئی کوتاہی نا کرو ایک عرصہ میں نے اپنی ضد میں گزارہ ہے زندگی کبھی مہربان ہی نہیں رہی سرد و گرم تو چلتے ہی رہے ماں کی محبت کو ہمیشہ ترسی مگر آپ کے پاس سے جو گرمائش ملی شاید سب کو اپنی ماؤں سے ایسی ہی ملتی ہے۔۔
ان کے ہاتھ چومتی وہ بولی تو انہوں نے اس کے ماتھے پر بوسہ دیا تھا
میں جانتی ہوں سوتیلی ماں آخر کو سوتیلی ہوتی ہے میں نے محسوس کیا اور میں یہ بھی جانتی ہوں کہ تم نے ہمیشہ خود کو مضبوط رکھا بس میرے گھر کو بھی ایسے ہی مضبوط رکھنا۔۔
ان کے لہجے میں مان تھا اب وہ انہیں کیا بتاتی یہ تو بس چند مہینوں کا معاہدہ تھا۔۔۔
میں پوری کوشش کرونگی۔۔ اس نے بولنے پر انہوں نے اسے اپنے ساتھ لگایا تھا اور یہ منظر کھڑکی پر کھڑے ابراہیم نے بڑے سڑے دل سے دیکھا تھا۔۔۔
دن بہت تیزی سے گزر رہے تھے ان کی شادی کو ایک مہینہ ہو چلا تھا اور اس ایک مہینے میں اس نے حیات مینشن کو مکان سے گھر بنایا تھا وہ ذہین تھی سگھڑ تھی اوپر سے محبت و توجہ نے اسکا دل خوبصورت کردیا تھا وہ ہر کام صرف دادو کی خوشی کے لئے کرتی تھی اور ان کی طرف سے ملی ستائش اس کا سیرو خون بڑھا دیتی تھی۔۔۔
ابراہیم کی اسے اتنی پرواہ نہیں تھی کیونکہ وہ شادی کے چوتھے دن ہی اپنے کام کے سلسلے میں دبئی گیا ہوا تھا۔۔۔
کنزہ بھی کچھ دن پہلے ہی واپس لوٹی تھی اور اس دوران اس کی کافی دوستی بھی ہوگئی تھی
ابھی بھی اکثر ہی وہ وڈیو کال پر موجود ہوتی تھی۔۔
اس نے دادو سے کافی چیزیں سیکھی تھیں اور اس عرصے میں وہ ایک بار بھی گھر ملنے نہیں گئی تھی۔۔
حیات صاحب تو اسے دیکھ کر پھولے نہیں سماتے تھے۔۔
وہ روز ان کی فرمائش پر ناجانے کیا کیا بنا رہی ہوتی تھی تو کبھی دادو کے ساتھ اکثر کبھی کوئی کہانی سن رہی ہوتی تو کبھی کچھ نیا سیکھ رہی ہوتی۔۔۔
زندگی ایک دم حسین ہوگئی تھی وہ بہت خوش رہتی تھی مگر پھر ایک دم اداسی کا غلبہ اس پر چھا جاتا کہ یہ سب وقتی ہے سب ختم ہو جائے گا ایسے میں اسکا دل ڈوب جاتا تھا
مگر پھر نئے سرے سے خود کو مضبوط کرتی وہ خوش رہنے کے لئے کوشاں رہتی تھی۔۔۔
اس وقت وہ سب لان میں بیٹھے چائے سے لطف اندوز ہورہے تھے تبھی دروازہ کھلا تھا اس نے گھر میں قدم رکھا تو گانوں میں ہنسی کی آواز آئی اس نے رخ پھیر کر آواز کی سمت دیکھا تو لمحے کو مبہوت ہوا تھا
کائی رنگ کی فراک میں بالوں کی فرنچ باندھیں وہ ہنستی ہوئی بت تحاشہ حسین لگ رہی تھی
وہ بس یک ٹک اسے دیکھتا رہ گیا عجیب سی کشش تھی یا کیا وہ سمجھ نا سکا سمجھ آیا تو اپنی بےخودی پر وہ خود کو ملامت کرتا اندر آیا تھا
اسلام وعلیکم۔۔۔
اس کی آواز پر سب اسکی طرف متوجہ ہوئے تھے
دادو تو خوشی سے ایک دم اسکے پاس آئی تھیں
آرام سے دادو۔۔۔وہ ناچاہتے ہوئے بھی انہیں ٹوک گئی۔۔
کچھ نہیں ہوتا گڑیا تیری دادو کو۔۔ اے میرا شہزادہ آیا ہے۔۔
میرا بچہ۔ابراہیم کا ماتھا چومتی وہ مسکرائی تو وہ بھی مسکرا دیا
اتنا وقت لگا دیا۔۔
بس دادو کام بہت تھا نا۔۔
جا آنسہ ابراہیم کے لئے کافی بنا کر لا۔۔ ان کے بولنے پر ناچاہتے ہوئے بھی وہ اٹھی تھی
اس کا سڑا چہرہ دیکھ ابراہیم کے چہرے پر مسکراہٹ آئی تھی
دادو بھوک بھی بہت لگی ہے پلیز کچھ فریش بنوائیں نا۔۔۔
اور اندر کی طرف جاتی آنسہ اس کی فرمائش پر کھول کر رہ گئی تھی۔۔
آنسہ۔۔۔ انہوں نے اسے پکارا تھا
سن لیا ہے دادی لاتی ہوں۔۔
کچھ میں آکر اس نے پاستہ بوائل کے لئے رکھا تھا کھانا ملازمہ نہیں بناتی تھی بلکہ یہ زمہ داری اس نے لی تھی۔۔
پاستہ کے ساتھ اس نے کباب فرائی کئے اور کافی ریڈی کرتی وہ باہر آئی تو وہ سکون سے بیٹھا حیات صاحب سے کوئی بات کررہا تھا کپڑے چینج تھے جسکا مطلب تھا وہ فریش ہوچکا ہے۔۔
سب کو چیزیں سرو کرتی وہ دادو کے پاس آکر بیٹھی تھی
انہوں نے بغور ان دونوں کا دیکھا تھا دل میں ایک خیال سا گزرا تھا فل وقت اس خیال کو جھٹک وہ چائے پینے لگی مگر دماغ کئی تانے بانے بن رہا تھا۔۔
آج گرمی زیادہ تھی اوپر سے کالج سے بھی دیر ہوگئی تھی تبھی اسے لگا کوئی اسکے پیچھے ہے۔۔
وہ ایک دم چونک کر پیچھے مڑی تھی مگر پیچھے کسی کو نا پاکر اسے عجیب سا احساس ہوا وہ آگے بڑھی تبھی پھر اپنے پیچھے قدموں کی آہٹ پاکر اس کے قدموں میں تیزی آئی تھی۔۔۔
اللّٰہ۔۔۔ہلیز مدد۔۔۔ تیز قدموں سے بھاگتی وہ اپنے محلے میں داخل ہوئی تھی۔۔
پیچھے مڑ کر دیکھا تو کوئی نہیں تھا
پھولی سانسوں کے درمیان میں وہ گھر میں داخل ہوئی تھی
نور کیا ہوا خیریت سانس کیوں پھول رہا؟؟؟
اسے ہانپتے دیکھ زلیخا نے تعجب سے اسے دیکھا تھا
کچھ نہیں اماں گرمی بہت ہے نا بس تیز چل کر آئی تو۔۔۔
وہ انہیں بتا نا سکی کہ اسے مسلسل یہ لگ رہا تھا کہ کوئی اس کے پیچھے ہے۔۔۔۔
چل منہ دھو کر آ کھانا لگاتی میں ۔۔۔
نہیں آپ بیٹھو میں لگا لونگی۔۔ وہ کہتے کے ساتھ اندر بڑھی تھی
دل ابھی تک زور زور سے دھڑک رہا تھا۔۔۔
تو پاگل ہے نور ہوسکتا ہے تیرا وہم ہو۔۔۔
دل کو سنبھالتی وہ کچن میں آئی کھانا نکال کر کمرے میں آگئی جہاں زلیخا بیٹھی ٹی وی دیکھنے میں مصروف تھی
اللّٰہ جانے کیا ہوگا اس ملک کا۔۔
کیا ہوا اماں؟
بھئی ایک لڑکی گھر سے بھاگ گئی بھائی باپ نے قتل کردیا
بس یہ لڑکیاں بھی نا ڈوب کر نہیں مرتیں ایک اس ناگن نے چاند چڑھایا۔۔
اماں۔۔۔ تم ہر بار اسے بیچ میں کیوں لے آتی ہو سب جانتے ہیں وہ ایسی نہیں ہے۔۔۔
بس کر تو زیادہ حمایتی نا بنا کر۔۔۔ اسے جھڑکتی وہ کھانے میں مصروف ہوگئی جبکہ وہ بس انہیں دیکھ کر رہ گئی۔۔۔
