306.8K
23

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Teri Meri Rah Mein Episode 18

آنسہ بیٹا زرا میرے کمرے میں آنا۔۔۔ وہ ملازمہ کے ساتھ کام کروا رہی تھی دادو کے پکارنے پر سر ہلاتی وہ ان کے کمرے میں آئی تو وہ بیڈ پر بیٹھی تھیں

آجاؤ بیٹا۔۔۔ ان کے بولنے پر وہ انکے پاس جاکر بیڈ پر بیٹھ گئی۔۔

ایک بات پوچھوں گی سچی سچی بتانا۔۔

جی دادو۔۔

بیٹا ابراہیم اور تمہاری لڑائی ہوئی ہے یا کوئی اور بات؟؟ میں جانتی ہوں یہ ذاتی سوال ہے

مگر۔۔۔

نہیں دادو ایسا نہیں ہے ہم کیوں بھلا لڑیں گے۔۔۔

تو پھر کیا بات ہے کوئی نئے شادی شدہ جوڑے والی بات ہی نہیں ہے وہ اپنی دنیا میں رہتا تم اپنی۔۔۔

تم بھی بلکل بھی ایسا نہیں لگتا کہ ابھی شادی ہوئی ہے

بس وہ تو ایسے ہی مجھے یوں تیار رہنا پسند نہیں ہے دراصل شروع سے عادت نہیں تو۔۔۔

عادت ہے نہیں تو بناؤ نا بیٹا یہ کچھ سامان ہے تمہاری ساس کا اب اس پر بس تمہارا حق ہے ۔۔

پر دادو یہ بہت قیمتی۔۔۔سامنے رکھی جیولری کو دیکھ وہ جھجھکی تھی۔۔۔

قیمتی تب ہوگا جب تم یہ پہنو گی چلو شاباش اسے رکھو۔۔

جی وہ سامان اٹھا کر کمرے میں آئی اور اسے لاکر میں رکھ کھڑکی کر آگئی

حیات صاحب کا وقت آج کل آفس میں ہی گزرتا تھا دراب اور کنزہ سے اکثر ان کی بات ہوتی رہتی تھی۔۔

ابراہیم سے تو بمشکل ہی اسکی ملاقات ہوتی تھی اور اسی میں ان کی عافیت تھی ورنہ تو دونوں ہی ایک دوسرے کو کاٹ کھانے کو دوڑتے تھے۔۔۔

باہر کا موسم آج بہت خوبصورت ہورہا تھا شاید بارش ہونے والی تھی کچھ سوچ وہ واپس سے کچن میں آئی تھی

رشیدہ ماسی مجھے بیسن نکال کر دیں۔۔

انہیں بولتی وہ باقی سامان نکالنے لگی

حیات صاحب تو آج خوش ہوجاتے وہ کھانے کے شوقین تھے اسکا اندازہ تو اسے شروع میں ہی ہوگیا تھا۔۔

وہ تن دہی سے اپنے کام میں لگے تھی جبکہ رشیدہ ماسی برابر اسکی مدد کررہی تھیں

اس نے شاید ہی کبھی اتنے شوق سے کوئی کام کیا تھا

تب اس کو ایسی محبت بھی کب ملی تھی یہاں تو ہر کوئی اس سے محبت کرتا تھا سوائے اس پاگل آدمی کے۔۔۔

کنزہ دراب بھائی بھابھی دادو اور بابا ہاں وہ اسکے بابا تو تھے جیسے کامران صاحب تھے ویسے ہی حیات صاحب تھے پہلے وہ اکثر یہ سوچ کر اداس ہوجاتی تھی کہ وہ یہ گھر چھوڑ کر چلی جائے گی مگر اب اس نے سوچنا چھوڑ دیا تھا وہ خود میں آئی تبدیلیوں کو بھی اچھے سے محسوس کررہی تھی اس جگ لہجے میں نرمی آگئی تھی مزاج میں ٹہراؤ آگیا تھا

وہ خوش رہنے لگی تھی کہاں اسکا گھر میں رہنے کا دل نہیں کرتا تھا اور اب اسکا یہ گھر چھوڑنے کا دل نہیں کرتا تھا۔۔

کبھی وہ کچھ کر رہی ہوتی تو کبھی کچھ۔۔

کبھی دادو کے ساتھ بیٹھ ماضی کا کوئی قصہ سن رہی ہوتی تو کبھی حیات صاحب کے ساتھ مل کر کچن میں کچھ ٹرائے کر رہی ہوتی۔

زندگی حسین ہوگئی تھی اور یہ سچ ہے اپنوں کے ساتھ زندگی بے حد حسین ہوجاتی ہے وہ تو ابراہیم کو دیکھ کر حیران ہوتی کہ یہ کھڑوس بابا کو بیٹا اور دراب بھائی کا بھائی ہے۔۔۔

ویسے ابراہیم مجھے لگتا تمہیں مزید اپنے کام کو آگے بڑھانا چاہیے تمہارا کیا خیال ہے حاشر؟؟

بلکل خالو میں نے بھی ابراہیم کو یہی مشورہ دیا ہے کہ ہمیں ایک بوتیک اسلام آباد میں بھی اوپن کرنی چاہیے وہاں کے لوگ اکثر آرڈر پر ہمارے ڈریس بک کرتے تو اس کا بھی یہی مشورہ ہوتا کہ ایک برانچ اسلام آباد میں بھی ہونی چاہیے

پر بابا میں اکیلے وہاں سب کیسے ہینڈل کرونگا۔۔

اکیلے کیوں آنسہ بٹیا ہے نا ہماری۔۔

اس کو تو اس کام میں کافی مہارت ہے ہم اکثر ہی ڈسکس کرتے ہیں

ہاں خالو بھابھی کو تو یہ کام آتا ہوگا ان کی امی بھی کافی ایکسپرٹ تھی ہیں نا ابراہیم۔۔

حاشر نے بات بولتے اس کی تائید چاہی اس نے اسے گھوری سے نوازہ تھا

یار خالو میں زرا راؤنڈ پر سے آتا ہوں آپ لوگ بات کرو تب تک۔۔۔

حاشر نے وہاں سے کھسکنا ہی ضروری سمجھا

کیا بات ہے ابراہیم میرا مشورہ پسند نہیں آیا؟؟ ان کے بولنے پر وہ سٹپٹایا تھا

نہیں بابا ایسی تو کوئی بات نہیں ہے آپ کو کیوں ایسا لگا؟؟

مجھے ہی نہیں ہم سب کو لگتا کہ تم آنسہ کے ساتھ خوش نہیں ہو کوئی ایسی بات ہمیں نظر ہی نہیں آتی ۔۔

ارے بابا ایسی بات نہیں ہے بس آپ جانتے تو ہیں آج کل کام کتنا لوڈ ہے۔

کام چاہے کتنا ہی کیوں نا ہو بیٹا انسان کو گھر سے لاپرواہ نہیں ہونا چاہیے

ایسے تو تمہارا رشتہ خراب ہو جائے گا جو کم از کم ہمیں بلکل اچھا نہیں لگا گا وہ بہت پیاری بچی ہے۔۔

پیاری بچی کے نام پر اسکی آنکھیں پھیلیں تھی اور اسے دیکھ انکا قہقہ گونجا تو ایک دم سیدھا ہوا تھا

بتایا تھا حاشر نے کیسے ہوئی تھی تم لوگوں کی پہلی ملاقات۔۔

منحوس کمینہ۔۔۔ اسے حاشر پر رج کر غصہ آیا تھا

ارے بابا ایسی کوئی بات نہیں ہے میں اب سے کوشش کرونگا کہ اسے ٹائم دوں۔۔۔

وہ مسکرا کر بولا تو وہ اسکے کندھے پر ہاتھ رکھ کھڑے ہوئے تھے

کام نبٹالو پھر ساتھ گھر چلتے آج تو موسم بھی بارش کا ہورہا ہے۔۔

جی بابا۔۔

آپ یہاں بیٹھیں میں بس راؤنڈ لگا کر آتا پھر چلتے ہیں۔۔

انہیں بول کر وہ باہر نکلا تو وہ کھڑکی پر آکر کھڑے ہوگئے

ماتھے پر سوچ کی لکیریں تھیں جیسے کچھ چل رہا ہو ان کے دماغ میں۔۔۔

وہ سب گھر پہنچے تو آنسہ نے لان میں ہی سارا ارینجمنٹ کیا ہوا تھا

حیات صاحب تو سب سے پہلے جاکر بیٹھے تھے جبکہ دادو پہلے ہی وہاں موجود تھیں

یہ بڑا اچھا کام کیا بچی نے قسم سے بڑا دل تھا

ٹیبل پر رکھے سموسے پکوڑے کچوری دیکھ وہ تو خوش ہی ہوگئے تھے

بابا یہ سب آپ کو نہیں کھانا آپ کے لئے الگ سے کم آئل میں بنایا ہے آپ وہ کھائیں گے صحت کو لے کر کوئی کمپرومائز نہیں۔۔

ابے بھئی۔۔۔وہ سخت بیزار ہوئے تو وہ کھلکھلا کر ہنس دی اور ابراہیم نے پہلی بار اسے ہوں غور سے دیکھا تھا شاید

بس پتر تیری ہی بیوی ہے بعد میں دیکھ لینا۔۔۔ حیات صاحب کے چھیڑنے پر وہ ہوش میں آیا تھا

ایسی بھی بات نہیں بابا۔۔وہ منمنایا تھا

اسے کچھ دن پہلے آنسہ سے اپنا معاہدہ یاد آیا تھا

جب وہ کمرے میں آیا تو وہ بیڈ پر بیٹھی کوئی کام کر رہی تھی اس نے اسکا ہاتھ تھام اسے کھڑا کیا تھا

تم سمجھتی کیا ہو میرے بابا اور دادو کو اپنی طرف کرلو گی۔۔

ہاتھ چھوڑو میرا۔۔ اپنا ہاتھ اسکی گرفت سے نکالنے کو وہ پھڑپھرائی تھی

کیا چل رہا ہے ہاں کیا چاہ رہی ہو؟؟

میں کیا چاہ رہی تم بتاؤ تم کیا چاہ رہے ہو کب تک مجھے یوں تمہارے گھر میں رہنا پڑے گا ہاں کب تک یہ ڈھونگ کرنا پڑے گا

کیا مطلب ہے اس ڈھونگ کا ہاں جب تک میں چاہوں گا تمہیں یہاں رہنا پڑے گا۔

ایسا سوچنا بھی مت صرف چند دن اور میں یہاں سے بہت دور چلی جاؤنگی مگر ایک حقیقت تمہیں آج ضرور بتا دوں

تم ایک ایسے انسان ہو جس کی اپنی کوئی سوچ نہیں جو دوسروں کے اشاروں پر ناچتا ہے

اپنا دماغ استمال کرو ورنہ نقصان اٹھاو گے۔۔۔

مجھے تمہارے مشورے کی ضرورت نہیں

وہ۔ سخت جھنجھلایا تھا

ضرورت نہیں تو میرے معاملات میں بولنے کی بھی ضرورت نہیں۔۔۔

تم میرے گھر والوں سے دور رہو۔۔۔

انہیں بولو مجھ سے دور رہیں ۔۔۔۔

میں نہیں بولوں گا۔۔۔ وہ جزر ہوا تھا

تو پھر چپ رہو نا تم میرے معاملات میں بولو نا میں بولو نگی۔۔۔۔

اپنی بات کرتی وہ ٹھک ٹھک کرتی کمرے سے ہی نکل گئی

تو یہ طے ہے تو ان لڑکیوں کے آگے لاجواب رہے گا ۔۔

بالوں کو نوچتے اس نے خود کو لعنت بھیجی تھی تب سے وہ دونوں ایک دوسرے سے الجھتے ہی نہیں تھے

اسے بھی ویسا اپنا سکون بڑا پیارا تھا۔۔۔

وہ کافی دن سے محسوس کر رہی تھی کہ کوئی کالج سے اسکا پیچھا کرتا تھا اور گھر تک آتا تھا اسے اب خوف محسوس ہونے لگا تھا وہ پیچھے مڑ کر دیکھتی تو کوئی موجود نہیں ہوتا تھا اسکا کالج جانے کا دل نہیں کرتا تھا مگر پھر زلیخا کو کیا جواب دیتی ان کی اپنی طبیعت ٹھیک نہیں تھی تو وہ انہیں ٹینشن دینے کا سوچ بھی نہیں سکتی تھی۔۔

آج بھی وہ کالج سے گھر کے لئے نکلی تو اسے محسوس ہوا کوئی پیچھے ہے مگر اگنور کئے چلتی رہی

موسم ابر آلود تھا ہوا پوری رفتار سے چل رہی تھی تبھی اسے اپنے عقب سے آواز آئی تھی

نور۔۔۔۔۔

گھبرا کر وہ پلٹی تو سامنے ایک لڑکے کو دیکھ وہ ڈری تھی

یار ڈرو نہیں مجھ سے کیسا ڈر؟؟ وہ کوئی پچس چھبیس سال کا خوبرو سا لڑکا تھا

اس نے ایک قدم آگے بڑھایا تو وہ ڈر کر تقریباً بھاگی تھی۔۔

بھاگتے بھاگتے سانس پھولا تھا مگر وہ رکی نہیں۔۔

ایسا لگ رہا تھا جیسے اس نے پیچھے کوئی بھوت لگ گیا ہو

گھر پہنچ کر اسنے پیچھے دیکھا تو اس کی جان ہتھیلی میں آئی تھی وہ لڑکا وہاں کھڑا اسے دیکھ رہا تھا اسکے دیکھنے پر ہاتھ ہلایا تھا

منحوس ذلیل۔۔۔ گھر میں قدم رکھتے ہی اس نے درازہ ٹائٹ سے بند کیا تھا دل پسلیاں توڑ کر باہر آنے کو تیار تھا

کاش میں آنسہ جیسے مضبوط ہوتی تو آج اس انسان کو ٹھیک ٹھاک سبق سیکھاتی۔۔۔

ٹھیک ہی کہتی تھی آنسہ ایک لڑکی کو اتنا مضبوط تو ہونا ہی چاہیے کہ وہ اپنی حفاظت کرسکے اپنا دفاع کرسکے خود کو دنیا کی غلیظ نظروں سے محفوظ رکھ سکے جو لڑکیاں کمزور ہوتی ہیں لوگ بھی انہیں کو ٹارگٹ بناتے ہیں

ماں باپ کو بچپن سے ہی بچیوں کی تربیت اس انداز میں کرنی چاہیے تاکہ باہر کہ یہ آوازہ کتے انہیں ڈرا نا سکے۔۔

مجھے ہمت کرنی ہوگی مجھے نہیں ڈرنا۔۔

وہ خود کو ہمت دے رہی تھی مگر جانتی تھی وہ کبھی اتنی بہادر نہیں بن سکتی۔۔۔۔