Teri Meri Rah Mein by Fariha Islam Readelle50355 Teri Meri Rah Mein Episode 12
Rate this Novel
Teri Meri Rah Mein Episode 12
وہ رات کو ہی گھر آگیا تھا سر سے ایک بڑا بوجھ ہٹا تھا وہ ارحم کا احسان مند تھا جس نے اس کو یہ راہ دکھائی تھی ورنہ تو اس کی سہی والی بینڈ بج جانی تھی رات وہ کافی پرسکون نیند سویا تھا ہر فکر سے آزاد کھانا بھی اپنی پسند کا کھایا تھا
رات دیر تک وہ مووی دیکھتا رہا تھا مووی دیکھتے دیکھتے کب آنکھ لگی اسے احساس ہی نہیں ہوا
صبح آنکھ کھلی تو صبح کے گیارہ ہورہے تھے وہ ہڑبڑا کر اٹھا تھا ۔
وہ آج پھر آفس سے لیٹ ہوگیا تھا
ارے یار کیا مصیبت ہے وہ بیزار ہوا تھا موبائل کی تلاش میں سائیڈ ٹیبل پر ہاتھ رکھا لیکن موبائل غائب تھا
موبائل کہاں گیا۔۔۔۔۔ خود سے بڑبڑاتے اسنے موبائل کی تلاش شروع کی جو کہ نا ملنا تھا اور نا ہی ملا۔۔
موبائل پر لعنت بھیج کر وہ جلدی جلدی سے تیار ہوا تھا حاشر بھی ابھی تک نہیں آیا تھا یقیناً میٹنگ لیٹ ہوئی ہوگی
فل تیار ہوکر خود پر پرفیوم چھڑک کر وہ بلکل تیار تھا تبھی ڈور بیل بجی تھی
حاشر کا خیال کرکے وہ جلدی سے ڈور تک آیا تھا مگر جیسے کی ڈور اوپن کیا سامنے کھڑی ہستی نے اس کے چھکے چھڑائے تھے۔۔۔
اسے یہ تو پتا تھا دادو آئیں گی مگر اتنی جلدی۔۔
وہ شاکڈ سا کبھی ان کو دیکھتا تو کبھی ان کے پیچھے کھڑے حاشر کو جس کے چہرے پر خفگی کے تاثرات تھے
ہٹ راستے سے۔۔۔ دادی کی گرجدار آواز پر وہ تھوک نگلتے سائیڈ ہوا تھا
اور بے بسی سے حاشر کو دیکھا۔۔
یار دادو کہاں سے آئیں؟؟ وہ دبی آواز میں حاشر سے مخاطب ہو اتھا
مجھ سے پوچھ نا اس سے نہیں۔۔
دادو کے کان اس عمر میں بھی غضب کے تھے
نہیں وہ دادو۔۔۔۔
حاشر تیار ہوکر آفس جا یہ آج یہی میرے ساتھ رہے گا۔۔
لیکن دادو۔۔۔۔۔
ایک آواز سمجھ نہیں آئی میری۔۔
اس نے زندگی میں پہلی بار انہیں اتنے غصے میں دیکھا تھا اسکا وکیل بھی آج بے بس تھا
حاشر کندھے اچکاتا تیار ہونے کے لئے اندر چلے گیا جب کہ وہ پریشان سا انہیں دیکھ رہا تھا جو ناجانے کیا سوچ رہی تھیں۔۔۔
نور صبح ناشتے کے بعد گھر آئی تھی۔۔ اس نے بات کرنی چاہی لیکن نور نے رخ پھیر لیا کیونکہ اس کے اس اچانک شادی پر وہ ناراض تھی
اس لئے اپنا ضروری سامان اٹھایا اور اسپتال واپس چلے گئی تو اس نے اپنا سر دیوار سے ٹکایا
اس شادی کی وجہ سے بہن ناراض تھی جس کا کوئی مستقبل ہی نہیں تھا اس نے نکاح کیا تھا لیکن ایک نا ایک دن اسے ختم ہو جانا تھا وہ من چاہی نہیں تھی جو اس نکاح پر خوش ہوتی یا سب کو مناتی پھیرتی
روشنی بھی اس سے ناراض تھی
وہ تلخی سے ہنس دی خودغرضی دیکھاتی تو بری بنتی بے غرض ہوکر کچھ کرنا چاہا تو سب کی بری بن گئی
ہونہہ مجھے کیا مجھے کونسا فرق پڑتا ہے میرا گھر میری دوکان مجھے کیا کسی سے لینا ۔
غصے سے بڑبڑاتی وہ کچن میں گھس گئی ناشتہ کرنا تو تھا نہیں بس دل بہلانے کے لئے وہ سامان ادھر ادھر پٹخنے لگی۔۔۔
![]()
![]()
![]()
![]()
![]()
![]()
![]()
![]()
![]()
![]()
![]()
![]()
I
کہاں ہے وہ؟؟؟؟ ان کے بولنے پر اس نے ناسمجھی سے انہیں دیکھا
کون؟؟؟
کون سے کیا مراد ہے ابرہیم حیات خان؟؟؟؟ انہوں نے اسے تیکھے چتونوں سے سے گھورا تو وہ ہڑبڑایا
نہہ۔۔نہیں دادو وہ میرا مطلب۔۔۔
کوئی مطلب نہیں ابرہیم حیات خان میں نے پوچھا بہو کہاں ہے؟؟؟
اس عمر میں بھی ان کی آواز بے حد کڑک اور رعب دار تھی
یہ جو گھر کا حال ہے نا لگتا نہیں ہے کہ کوئی عورت یہاں رہ کر گئی ہے۔۔
انہوں نے ایک طائرانہ نظر پورے گھر پر ڈالی تھی جو سارا کا سارا بکھرا پڑا تھا
وہ دادو۔۔۔ اسے سمجھ ہی نہیں آیا کہ کہے تو کیا کہے عجیب مصیبت میں پھنس گیا تھا دماغ کام ہی نہیں کر رہا تھا
کہا ہے بہو؟؟؟ وہ ایک بار پھر گرجی تھیں
یہاں نہیں ہے دادو۔۔۔۔
کیا مطلب یہاں نہیں ہے ؟؟ کہاں ہے پھر نکاح کیا بھی ہے یا جھوٹ کہا ہے ہاں؟؟
اگر یہ جھوٹ ہوا تو آج ہی لالی کی بیٹی سے نکاح کروگے تم ہر حال میں۔۔۔ وہ کرخت لہجے میں بولی تھیں
لالی کی بیٹی….. اس نے ذہن میں جھماکہ سا ہوا تھا ان کی دوست کی پوتی ایک نمبر کی چپکو اور عجیب جو اسے ایک آنکھ نہیں بھاتی تھی
اس نے شکر ادا کیا تھا کہ اس نے نکاح کرلیا
میرا مطلب ہے وہ ابھی اپنے گھر پر ہے دادو۔۔۔
کیوں کیا لینے گئی ہے اپنے گھر ہاں شوہر کا گھر چھوڑ کر ایسے کون جاتا ہے
دادو ادھر بیٹھے بات سنیں پلیز۔۔۔ وہ ان کا ہاتھ تھامے صوفے تک لایا جو جب سے آئی تھیں ایک ہی جگہ کھڑی تھیں
میں مانتا ہوں جو ہوا غلط ہوا مجھے یہ سب نہیں کرنا چاہیے تھا مگر میں مجبور تھا اسکی امی کینسر کی پیشنٹ ہیں کل ہی سرجری ہوئی ہے ان کی بس یہ سب اتنا اچانک ہوا کہ مجھے کچھ سوچنے کا وقت ہی نہیں ملا۔۔پلیز معاف کردیں وہ وہی ان کے گھٹنے سے لگ کر بیٹھ گیا
اب کیسی ہیں اسکی امی۔۔ کینسر کا لفظ سن کر وہ نرم پڑی تھیں
جی بس ویسے ہی ہیں۔۔
ہممم اللّٰہ پاک صحت کاملہ عطا فرمائے۔۔ آمین۔۔
نام کیا ہے اسکا؟؟؟
اور یہاں آکر اسکی سٹی گم ہوئی تھی نام تو اسے یاد ہی نہیں تھا
اسکا نام۔۔۔۔ اس نے تھوک نگلا
کیوں نام نہیں پتا اپنی بیوی کا؟؟؟ انہوں نے مشکوک نظروں سے اسے دیکھا
افففف دادو کیوں نہیں پتا ہوگا بس آپ جب ملیں خود ہی پوچھیے گا اس سے ابھی میں آپ کے لئے بہت اچھا سا ناشتہ بناتا ہوں آپ فریش ہو جائیں۔۔وہ بات بدلتا اٹھا تھا
اس نے انکا سامان لے جا کر روم میں شفٹ کیا تھا
مجھے اسکی ماں سے ملنا ہے۔۔۔
لو بھئی ایک اور ٹینشن اس نے ماتھا مسلا
مل لینا ابھی تو آپ آئی ہیں ریسٹ کریں مجھے بھی آفس جانا ہے میڈ آکر صفائی کر جائے گی ۔
ابھی مطلب ابھی ابراہیم۔۔۔۔۔۔وہ بضد تھی
دادو حاشر کو آنے دیں پھر چلتے ہیں نا۔۔۔ ضروری میٹینگ ہے نا اس نے ناشتہ ان کے آگے کیا اور فوراً سے وہاں سے نکلا تھا مبادہ وہ پھر اپنی ضد پر آجائیں سر درد سے پھٹ رہا تھا ایک جھوٹ کی وجہ سے کتنے جھوٹ بولنے پڑ رہے تھے۔۔۔
اداسی سے وہ منڈیر پر بیٹھی تھی زندگی کے بہت کم موقعوں پر وہ اداس ہوتی تھی
کیوں چھوڑ گئے آپ تینوں دیکھیں آپ کی بچی کیسے رل رہی ہے
جس نے لئے اپنی زندگی داؤ پر لگائی اس نے تو پلٹ کر بھی نہیں پوچھا بس ایک بوجھ کی طرح اتار پھینکا ایسی زندگی کی خواہش تو نہیں کی تھی میں نے بابا۔۔۔
میں تو آپ کا بہادر بچہ تھی نا آپ کی سب باتیں مانتی تھی پر دیکھیں یہ زندگی مجھے کہاں لے آئی ہے سب مجھ سے خفا ہوگئے مگر مجھے فرق نہیں پڑتا میں تو ہمیشہ سے محبت کے لئے ترسی ہوں بابا ۔۔
مجھ سے اچھے تو یہ پرندے ہیں کیسے خوش ہیں سب ان سے پیار کرتے۔ شبانہ خالہ کہتی تھیں کہ میرا شوہر مجھ سے پیار کرے گا مگر وہ تو کسی اور کا ہے۔۔وہ تلخی سے ہنسی تھی
تو یہ طے ہوا بابا کہ آپ کی بیٹی کے نصیب میں نا محبت ہے نا خوشیاں۔۔۔
وہ آج مایوس ہوگئی تھی
اسے اپنا دم گھٹتا محسوس ہورہا تھا۔۔۔
تبھی دروازے پر ہوتی دستک پر وہ گہرا سانس بھرتی باہر آئی جہاں علی کو دیکھ وہ ٹوٹی تھی
ایک وہی تو تھا اسکا دوست بچپن کا ساتھی۔۔۔
کیوں کیا تم نے ایسا جس کے لئے اسکو دیکھا ہے۔۔۔
وہ تلخی سے بولا تو وہ حیرت سے اسے دیکھنے لگی
کچھ ہوا ہے؟؟؟
کچھ نہیں ہوا چھوڑ پانی پلا دے پلا سکتی ہے تو۔۔۔۔۔
اچھا لاتی ہوں وہ پریشان سی اس کے لئے پانی لائی تھی۔۔۔
اب بتاؤ کیا ہوا ہے؟؟ کیوں چہرے پر بارہ بج رہے؟؟؟
وہاں تیری سوتیلی نے اماں کو بتایا کہ تیرا چکر تھا اس ابرہیم صاحب کے ساتھ۔۔
کون ابرہیم؟؟ اس نے حیرت سے آنکھیں بڑی کی تو علی نے تاسف سے اسے دیکھا۔۔
وہی جس سے نکاح کیا تھا اپنی ماں کے علاج کے لئے تو نے۔۔۔
اوو۔۔۔ چھوڑ نا بولنے دے کیا فرق پڑتا میں کونسا اچھی تھی جو اب اچھی رہونگی
تیری قسم نے روک دیا ورنہ ۔۔ورنہ شرنہ کچھ نہیں۔۔
تو کسی کو کچھ نہیں بولے گا ویسے بھی اور بھی کئی مسئلے ہیں مجھے۔۔۔
ہمم بس خود ہی سب کر تو لیکن اب وہ کچھ بولی تو میں لحاظ نہیں کرونگا۔۔۔علی نے اسے وارن کیا تو وہ ہنس دی
چلو کوئی تو ہے جسے میری پرواہ ہے ۔۔۔
تو اس قابل ہے آنسہ کے تیری پرواہ کی جائے۔۔۔
مجھے ایسا نہیں لگتا۔۔۔ علی کی بات کر وہ تلخی سے ہنسی تھی۔۔۔
وہ آفس آیا تو حاشر اسے کہیں نظر نہیں آیا وہ بے تاب تھا اس سے بات کرنے کے لئے مگر پھر کام میں اتنا مصروف ہوا کہ اسے کچھ یاد ہی نہیں رہا
وہ تھک کر اپنے آفس میں آکر بیٹھا ہی تھا کہ دروازہ دھاڑ سے کھولتا حاشر اندر آیا تھا
تو نے آنسہ سے شادی کرلی ابراہیم؟؟؟ اس کے لہجے میں بے یقینی تھی
اسے دیکھ کر ابرہیم نے سر کھجایا تھا
ہاں۔۔۔ ایک لفظی جواب۔۔
اور وہ بھی اس سے جسے تو پسند تک نہیں کرتا مجھے تو نور سے پتا چلا وہ سب سمجھ رہے تیرا آنسہ سے افئیر تھا۔۔وہ پریشان تھا کہ ایک دن میں ہوا کیا تھا
واٹ افئیر۔؟؟؟ اسے ٹھیک ٹھاک جھٹکا لگا تھا
پاگل ہوگئے ہیں کیا اسے میں منہ لگانا پسند نا کرو اور بات کر رہا آفئیر کی۔۔
واہ منہ لگانا پسند نہیں نکاح کرنا پسند ہے۔۔۔اسکی بات پر پہلی بار حاشر کا کیا اسکا منہ توڑ دے
افف بات سن اس سے شادی صرف دادی کی وجہ سے کی ہے شادی بھی نہیں بس ایک کانٹریکٹ ہے۔۔
پوری بات بتا ابرہیم۔۔۔۔وہ سخت کنفیوز ہورہا تھا اسکی باتوں سے۔۔
تبھی اسنے گہرا سانس لیتے ہوئے سب بتایا تھا
مطلب وہ بچاری قصور نا ہوتے ہوئے بھی بدنام ہورہی ہے صرف تیری خود غرضی کی وجہ سے۔۔۔ حاشر کا دل کیا اسکا منہ لال کردے
دیکھ میری مجبوری۔۔۔
بس کردے ابرہیم ایسے کیسے مان لوں ہاں میں نے تجھے جھوٹ بولنے کو کہا تھا اسے سچ کرنے کو نہیں تجھے اندازہ بھی ہے تو نے کیا کیا ہے۔۔؟؟؟ وہ اسے ملامت کررہا تھا
میرے پاس کوئی دوسرا آپشن نہیں تھا۔۔ وہ لب کاٹتے بولا تھا
مجھے تجھ سے یہ امید نہیں تھی۔۔تو نے اچھا نہیں کیا ابراہیم۔۔
اور وہ ارحم اسکے کہنے پر تو نے اپنا بڑا کام لیا مجھ سے پوچھنا تو دور بتانا بھی ضروری نہیں سمجھا تو ٹھیک اب اپنے مسئلے خود ہی سلجھانا مجھ سے امید نا رکھنا۔۔غصے سے کہتا وہ تن فن کرتا باہر کی طرف بڑھ
یار حاشر بات تو سن۔۔ وہ اسکے پیچھے لپکا تھا مگر وہ رکا نہیں
شٹ کیا مصیبت ہے۔۔۔وہ گاڑی پر ہاتھ مارتا بے بس ہوا تھا وہ جانتا تھا حاشر غصہ ہوگا مگر اتنا۔۔
کہاں پھنس گیا ہوں میں یار۔۔۔
اس وقت اسے احساس ہوا تھا کہ بے بسی کیا ہوتی ہے گھر جانے کا تو اسکا دل ہی نہیں کیا تھا جاتا تو دادی کو جواب دہ ہونا پڑتا،سیٹ پر ڈھے جانے کے انداز میں بیٹھا تھا سر سیٹ کی پشت سے لگائے اس نے آنکھیں موندی تھیں
واقعی ایک دن میں کیا سے کیا ہوگیا تھا
کیوں کیا میں نے یہ ۔۔۔۔۔ سیٹ پر سر پٹختا وہ پچھتاوں کی زد میں آیا تھا۔۔
