Teri Meri Rah Mein by Fariha Islam Readelle50355 Teri Meri Rah Mein Episode 01
Rate this Novel
Teri Meri Rah Mein Episode 01
آرام سے چل لے میرے پاؤں میں درد ہورہا ہے اب تو نور کے بولنے پر بھی اسکی اسپیڈ کم نہیں ہوئی تھی وہ ہوا کے گھوڑے پر سوار تیز تیز قدم اٹھا رہی تھی
اوئے کسی کے کئے کی سزا اپنے پیروں کو کیوں دے رہی ہے آہستہ چل لے وہ خود اسکی اسپیڈ سے تو چل ہی نہیں سکتی تھی آج ایسا لگ رہا تھا کہ اگر وہ اولمپکس کی ریس دوڑتی تو اول آتی۔۔۔۔۔۔۔۔
تو میرے پیچھے مت آ دماغ سٹکا ہوا ہے فضول میں تیری شامت آجائے گی
ہاں تو بھلے آنے دے ۔۔۔۔۔ وہ بھاگتی بھاگتی بلا آخر اسکے ہم قدم ہوئی تھی اور اسکا ہاتھ پکڑ کر روکا پھولی سانس بحال کرنے میں اس نے کچھ ٹائم لیا تھا
کیا مصیبت ہے تجھے نور کی بچی کیوں خالی پیلی میں دماغ گھوما رہی بول دیا نا کہ آئندہ اس گھر میں قدم نہیں رکھوں گی تو نہیں رکھوں گی جا بول دے اپنی ماں کو
ہائے میری بہنا اتنا غصہ نور نے حیران ہونے کی بہت گندی اداکاری کی
اپنا یہ پوپلے جیسا منہ لے کر غرق ہو جا تو ورنہ اسی سال پرانی جوتی سے منہ لال کردینا میں
ہائے پوپلا منہ ہو میرے دشمن کا۔۔۔۔۔۔
ہاں تو تیری دشمن تو ہی ہے نا اب جا اکیلا چھوڑ مجھے
کیوں ایسے کر رہی ہے چھوڑ نا گھر چل وہ اسکی منتیں کرنے پر اتر آئی تھی
ہاتھ چھوڑ میرا مجھے نہیں جانا کہیں بھی۔۔۔۔
وہ غصے سے بھری بیٹھی تھی
میرے لئے چل لے پلیز اس نے ترچھی نظر اس پر ڈالی اور منہ پھیر لیا
دیکھ چل کے شام ہونے کو آرہی ہے اماں آجائیں گی تو بہت غصہ ہونگی
تیری ماں کو آتا ہی کیا ہے اور اس کی بات پر وہ اور بھڑکی
اچھا اب میں بولوں گی نا اماں کو تجھے کچھ نا کہا کریں بس تو چل نا
پکا وعدہ بولے گی ۔۔ اس نے ہاتھ آگے پھیلا کر تصدیق چاہی
ہاں میری بہنا پکا وعدہ نور نے اس کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھ کر مضبوطی سے پکڑا
یہ بات وہ دونوں ہی جانتی تھی کہ یہ وعدہ کبھی وفا نہیں ہوگا نا کبھی ہوا لیکن وہ ہر بار ایسے کی وعدہ کیا کرتی تھیں شاید اس سے اسے خوشی ملتی تھی۔۔
تو غصہ مت کیا کر نا تجھے پتا تو ہے اماں کا۔۔نور نے اسے سمجھایا تھا
تو یہ بات اسے بھی بول سکتی ہے نور کہ ایک یتیم سمجھ کر ہی میرا پیچھا چھوڑ دیا کرے۔۔۔
میں تو پھنس جاتی ہوں نا ایک طرف ماں ایک طرف بہن۔۔۔
تو پھر تو چپ رہا کر اپنی ماں کی وکالت نا کیا کر میرے سامنے۔۔وہ سخت چڑی ہوئی تھی۔۔
اففف اللّٰہ ایک تو تیرا غصہ۔۔ کم کر ورنہ ساس جوتے مارے گی۔۔۔
نور نے اسے ڈرایا
ہاں جیسے میں آرام سے کھا لونگی ہیں نا۔۔ آنسہ کامران اتنی آسانی سے ہاتھ آنے والوں میں سے نہیں ہے۔۔۔۔
اس نے فرضی کالر کھڑے کئے تو نور ہنس دی۔۔۔
🥀🥀🥀🥀🥀🥀🥀🥀🥀🥀🥀🥀🥀
اووو بھائی کیوں جان کا دشمن بنا ہوا ہے میری اسپیڈ کم کر۔۔۔گاڑی فل اسپیڈ سے روڈ پر ہواؤں سے باتیں کر رہی تھی
وہ فل اسپیڈ سے گاڑی دوڑاتا ایک نظر ساتھ بیٹھے گھبرائے گھبرائے اپنے یار پر بھی ڈال لیتا جو خوف نے مارے سفید پڑ رہا تھا
لیکن اس کی چیخ و پکار سے بے نیاز وہ فل اسپیڈ سے گاڑی چلاتا میوزک بھی تیز کر چکا تھا
مائکل جیکسن کا گانا گاڑی میں گونج رہا تھا اور میوزک کے ساتھ اس کے ہاتھ بھی اسٹیرنگ پر چل رہے تھے جیسے وہ فل انجوائے کرنے کے موڈ میں ہو
جتنی دیر تک وہ لوگ کلب پہنچے حاشر کا آدھا خون تو خشک ہی ہوچکا تھا گاڑی رکتے ہی وہ غصے سے کھولتا گاڑی کا دروازہ زور سے بند کرتا باہر نکلا تھا ۔۔۔
ابراہیم نے ایک نظر اپنی ناراض حسینہ کو دیکھا جو منہ پھلائے باہر کھڑی تھی وہ زیر لب مسکراتا گاڑی سے باہر نکلا
آجا یار چل اس نے حاشر کا بازو پکڑا تو اسنے فوراً سے پہلے اپنا ہاتھ اس سے چھڑایا تھا
ہاتھ مت لگا تو کمینے مجھے۔۔۔۔وہ سخت ناراض تھا جس کا ثبوت وہ اسے دے رہا تھا
ارے یار اچھا سوری نا۔۔۔اسکا پھولا منہ دیکھ ابرہیم کو اپنی ہنسی کنٹرول کرنا مشکل ہورہا تھا
ہاں تیرا سوری ہوگیا جب میں مر جاتا ہارٹ اٹیک سے تو تب بھی یہی بولتا تو اور اگر ایکسیڈنٹ ہو جاتا تو؟؟؟ وہ حد سے زیادہ ہی جذباتی تھا
کچھ ہوا تو نہیں نا دیکھ تجھے صحیح سلامت یہاں لے کر آگیا ہوں تو اب موڈ خراب مت کر انجوائے کر آجا وہ زبردستی اسکو تقریباً گھسیٹتا اندر کی طرف بڑھا۔
لنگڑا نہیں ہوں جو یوں لے کر جارہا یے چھوڑ۔۔۔
اس سے خود کو چھوڑا کر وہ خود لمبے لمبے ڈاگ بھرتا اندر گھس گیا
وہ بھی اسکے پیچھے بھاگا تھا کیونکہ اپنی ناراض سی حسینہ کو منانا بھی تو تھا۔۔۔
اندر کلب میں رنگ و بو کا سیلاب آیا ہوا تھا
لڑکے لڑکیاں اپنی اپنی مستیوں میں مگن تھے کوئی کاؤنٹر پر بیٹھا تھا تو کوئی فلور پر ڈانس کرنے میں مصروف وہ اندر آیا تو کئی نظریں اس تک آئی تھی اور پلٹنا بھولی تھی
صاف رنگت پر کھڑی ناک بکھرے بال ہلکی بڑھی شیو وائٹ شرٹ اور بلیک پینٹ پہنے بے نیاز سا ادھر ادھر کسی کو دیکھ رہا تھا
وہ کبھی زیادہ ڈریس اپ نہیں ہوتا تھا آفس کے بعد اسکا حلیہ ایسا ہی ہوتا تھا میسی سا جس میں وہ سکون محسوس کرتا تھا
حاشر پر نظر پڑتے ہی وہ اسکی طرف بڑھا
اور اس کے گلے میں بازو ڈالے
جند جان تو کیوں ناراض ہوتا ہے اپنے یار سے۔۔۔۔وہ لاڈ سے اسکے پاس آیا تھا
اور اس کے اس انداز پر حاشر کی ساری ناراضگی دور ھوئی تھی لیکن تھوڑا نخرہ دیکھانا تو بنتا تھا نا کبھی کبھی تو وہ ہاتھ لگتا تھا
اس لئے ناراض ہوتا ہوں کہ تجھے نا میری پرواہ ہے نا اپنی۔۔
ایسے گاڑی چلاتا ہے جیسے رشتہ دار کی سڑک ہو
خدا نا خواستہ کچھ ہوجاتا تو۔۔۔وہ اب بھی اسے اس کی غلطی کا احساس دلا رہا تھا کیونکہ وہ اسکا دوست تھا مخلص دوست۔۔
اچھا چل نا کان پکڑ کر سوری اب چل نا منہ ٹھیک کر۔۔۔
ابرہیم نے اسے پیار سے پچکارہ
ہممم۔۔۔۔ اس نے ہمم کہنے پر اکتفا کیا
کیا ہمممم؟ چل نا معاف کر اور بتا کیا کھائے گا
چیز پاستہ۔۔، رشین سیلڈ اور گرل چکن ود سیون اپ۔۔۔۔ ابرہیم کے پوچھنے پر اسنے مزے سے اپنا آرڑر بتایا تھا
اتنا کچھ۔۔۔۔۔ اس کی آنکھیں باہر کو نکلیں تھیں
منگوانا ہے تو ٹھیک ورنہ میں ناراض ہی ٹھیک ہوں۔۔۔ وہ اب بھی فل موڈ میں تھا
اچھا نا بھوکے فقیر منگواتا ہو۔۔۔ اس نے اسکی ناراضگی کی وجہ سے ہتھیار ڈالے تھے
ویری گڈ میرا بچہ ہاں اب بتا کیا کرنا۔۔۔۔۔؟؟؟ کھانا آرڈر ہوتے ہی وہ ابراہیم کے گلے پڑا تھا
تو بہت کمینہ ہے حاشے۔۔۔۔۔۔اس نے مصنوعی خفگی سے کہا تھا
ہاں لیکن تو میرا بھی باپ ہے اس نے دانت نکالے تھے
کبھی کبھی تو ہاتھ لگتا ہے تو اب اس میں بھی بندہ شریف بنا رہے ایمپوسیبل۔۔۔۔
اسکا اپنا موڈ آن ہوچکا تھا ابراہیم نے شکر ادا کیا تھا
دفاع ہو وہ ابھی اسے اور بھی کچھ سناتا کہ پیچھے سے آنے والی آواز نے اسکی زبان کو بریک لگائے تھے۔۔۔۔۔۔
ہائے ابے بی کیسے ہو؟؟؟؟
اسنے آواز پر پلٹ کر دیکھا تو دیکھتا رہ گیا
ٹائٹ جینس پر ٹاپ پہنے گلے میں مختلف رنگوں کی مالا پہنے گوری رنگت پر لال رنگ میں رنگے بال جو اس پر جچ بھی رہے تھے ہیزل براؤن لینس لگائے ہونٹوں کو لال رنگ میں رنگے وہ اروبہ جمشید تھی
جس کی ایک نگاہ کے لئے لڑکے ترستے تھے لیکن ابراہیم کے ساتھ تو اسکا خاص رشتہ تھا
اےےے روبی میں فٹ تم کیسی ہو؟ میوزک کی وجہ سے وہ تھوڑا اونچا بول رہا تھا
ایم گڈ تم یہاں کیا کررہے ہو میں کب سے ویٹ کر رہی ہوں چلو ڈانس فلور پر وہ اسکا ہاتھ تھامتی ڈانس فلور پر آگئی میوزک کی بیٹ پر وہ مہارت سے اسٹیپ کر رہی تھی اور ابراہیم اسکا ساتھ دینے کی کوشش۔۔۔۔
تم اپنے اس چمچے کو کیوں ساتھ لے کر گھومتے ہو وہ تھوڑا اس کی طرف منہ کر کہ بولی اور حاشر کی طرف اشارہ کیا جو ایک کونے میں بیٹھا اپنے موبائل میں مصروف تھا۔۔
اسے ناگوار تو گزرا مگر اس نے ظاہر نہیں کیا تھا
دوست ہے یار میرا۔۔۔۔ اس نے بھی اسی طرح اس کی طرف جھک کر کہا شور اتنا تھا کہ کان پڑی آواز سنائی نہیں دے رہی تھی۔۔۔۔۔
بہت ہی تھرڈ کلاس دوست ہے ڈریسنگ ہی دیکھ لو تم تمہیں دیکھ کر ہی کچھ سیکھ لے وہ منہ بنا کر بولی جبکہ ابراہیم نے اسے حیرت سے دیکھا
حاشر کا ڈریسنگ سینس بہت زبردست تھا وہ خود اکثر اسکے کمرے پہن لیا کرتا تھا
چھوڑو اسے یار آجاؤ کچھ کھاتے پیتے ہیں وہ اسکا ہاتھ تھام پر کاؤنٹر پر لے آیا۔۔
اور اس کے اور اپنے لئے جوس آرڑر کیا
کم ان یار مجھے نہیں پینا یہ بچوں جیسی چیز۔۔ وہ منہ بناتی گلاس پرے کر گئی آجاؤ شیشہ پیتے ہیں اس نے اسے شیشہ کارنر پر لے جانا چاہا۔۔
اروبہ نہیں میں نہیں پیتا۔۔اس نے اسے منع کیا تو وہ منہ بنا گئ
کم ان یار کیا عجیب بات کر رہے اٹس ٹرینڈی لیٹس گو وہ تقریباً اسکا ہاتھ گھسیٹتی اسے کارنر پر لائی ایک کش پر ہی اسکی حالت ٹائٹ ہوئی تھی
کیونکہ شاید اس میں کچھ ملا ہوا تھا
ون مور نا بے بی وہ اس تک آئی
لیکن وہ کھانستا ہوا جلدی سے کاؤنٹر پر آیا اور پانی کا گلاس جلدی سے خالی کیا۔۔۔۔۔۔
اووو اے بی تم تو بہت ہی کمزورہو ایک شیشہ برداشت نہیں کرسکے وہ ہنستے ہوئے بولی تھی
اٹس ٹو ہارڈ اروبہ ۔۔۔۔۔
اووو سوری پر اٹس جسٹ کا پرانک بٹ یو فیل۔۔۔ اس نے منہ بنا کر کہا
سوری یار پر یو نو میں یہ سب یوز نہیں کرتا۔۔وہ ناجانے کیوں شرمندہ ہوگیا
ہمم آئی نو۔۔۔ وہ کندھے ویل انجوائے مجھے جانا ہے ایک کام سے۔۔۔
کہا؟؟؟
بس جانا ہے ہر بات بتانی ضروری تو نہیں نا وہ اسکے گال سے اپنا گال مس کرتے اسے بائے بول کر کلب سے نکل گئی
جبکہ وہ پیچھے اسے دیکھتا رہا۔۔۔
کیا ہوا گئی وہ۔۔۔ حاشر نے اسکے کندھے پر ہاتھ رکھا تو اس نے چونک کر اسے دیکھا اور ہاں میں سر ہلایا
چل پھر چلتے ہیں ہم بھی بہت دیر ہوگئی ہے اور میں تو قسم سے بور ہوگیا ہوں وہ سڑے منہ کے ساتھ بولا تو وہ ہنس دیا
چل پھر۔۔۔
اسکے بولنے وہ اسکا ہاتھ تھامتا باہر کی طرف بڑھا تھا۔۔
