306.8K
23

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Teri Meri Rah Mein Episode 11

ایک منٹ۔۔۔ اس نے اسے روکا تھا

ائم سو سوری مجھے ایسے نہیں کہنا چاہیے تھا لیکن مجھے واقعی آپ کی ہیلپ چاہئیے۔۔

وہ اب کی بار نرمی سے بولا تھا

مجھے کوئی مدد نہیں کرنی اور نا آپ کا کوئی احسان لونگی رہے آپ کے پیسے تو میں وہ جلد واپس کردونگی

یہ بولتے ہوئے اسکا دل ڈوبا تھا جانتی تھی اتنی جلدی پیسوں کا انتظام وہ چاہ کر بھی نہیں کرسکتی تھی

دیکھوں مجھے پیسے نہیں چاہیے بس ہیلپ چاہیے ائم سوری میں دوست کی باتوں میں آکر پتا نہیں کیا بول گیا

وہ پریشان تھا اس لئے لہجے کو نرم کرتے بولا تھا۔۔

پلیز بیٹھو۔۔ اس کے بولنے پر وہ ناچاہتے ہوئے بھی بیٹھ گئی

ابرہیم نے اس کے آگے اپنا مسئلہ رکھا تھا

پیپر میرج نہیں تو نکاح پلیز۔۔۔

دیکھو میں تم سے کسی قسم کی کوئی ڈیمانڈ میں رکھتا بلکہ تمہیں مجھے یہ پیسے واپس کرنے کی بھی ضرورت نہیں ہے یہ بات تم بھی جانتی ہو کہ کینسر نے علاج کے لئے سرجری کے بعد بھی اتنا پیسہ لگتا ہے میں ہر طرح سے ہیلپ کرونگا بس تم میری ہیلپ کردو

وہ ملتجی انداز میں بولا تھا

امل نے بس خالی نظروں سے اسے دیکھ رہی تھی سودا برا نہیں تھا وہ نور اور اپنے باقی بہن بھائیوں کے لئے اتنا تو کرسکتی تھی اسے تو ویسے بھی کسی کی ضرورت نہیں تھی نا اسکی کسی کو اس نے بس لمحے کو سوچا تھا

آج اگر وہ زلیخا کی سرجری روکتی ہے اور اپنی انا کے لئے پیسے واپس کرتی ہے تو نور کا کیا ہوگا وہ تو اپنی ماں کے بغیر رہ چکی ہے وہ کیسے رہے گی

ٹھیک ہے مجھے کوئی مسئلہ نہیں ہے۔۔۔۔

بالآخر اس نے ابرہیم کو اچھی خبر سنائی تھی

ٹھیک ہے ہم آج ہی نکاح کریں گے میں مزید تاخیر نہیں چاہتا۔۔

وہ خوشی سے بولا تھا کتنا بڑا بوجھ تھا جو اس نے سر سے ہٹا تھا

تمہیں تو کوئی مسئلہ نہیں ہے نا ؟؟ اسے امل کا خیال آہی گیا تھا اس نے نفی میں سر ہلایا

اس نے جلدی سے ارحم کو کال کر کے نکاح کا ارینج کرنے کو بولا

وہ بس خاموشی سے سارا تماشہ دیکھ رہی تھی کیا کرنے جارہی تھی وہ اپنی زندگی کا سب سے بڑا فیصلہ اور بھی اس طرح کے مستقبل کی کوئی خبر نہیں وہ کبھی کمزور نہیں پڑی تھی نا پڑنا چاہتی تھی لیکن تھی تو وہ بھی ایک لڑکی ہی نا بھلے شادی کو لے کر اس نے ارمان نہیں تھے لیکن اس طرح شادی تو اس نے بھی نہیں سوچی تھی اور وہ اس کے لئے شادی کرے گی جس سے اسکی بنتی ہی نہیں تھی

ایک منٹ۔۔۔ اس کے اچانک بولنے پر وہ رکا تھا

کیا ہوا؟

میرا کوئی ولی نہیں ہے۔۔۔

تو اب۔۔۔

ولی کی موجودگی لازمی ہے۔۔ اس نے سر جھکا کر کہا

اپنوں کے چہرے کبھی کبھی بہت کمزور کردیتے ہیں

تمہاری امی کی موجودگی میں نکاح کرنا ہوگا کیا ؟؟

مجھے نہیں پتا۔۔ وہ سرے سے دامن بچا گئی تھی

اس سے اسے مزید وقت مل سکتا تھا سوچنے کے لئے شاید کوئی راہ نکل آتی۔۔۔

لیکن مایوسی تب ہوئی جب وہ اسے لئے اسپتال لایا تھا

زلیخا بی بے سدھ سی بستر پر پڑی تھیں

آپ سے ایک اجازت چاہتا ہوں بی وہ ان کے پاس کرسی گھسیٹ کر بیٹھا تھا

انہوں نے ناسمجھی سے اسے دیکھا جو ان کے لئے اتنا کر ریے تھے

آپ کی بیٹی کو اپنے نکاح میں لینا چاہتا ہوں آپ کی اجازت درکار ہے

اسے حیرت کا جھٹکا لگا تھا یہ کیا کررہا تھا وہ کہاں وہ پیپر میرج کی بات اور کہاں اب یہ سب …..

اور دوسرا جھٹکا اسے تب لگا جب۔۔۔۔

زلیخا بی نے لمحہ سوچ کر ہاں میں سر ہلایا تو وہ مسکرا اٹھا۔۔۔

جب کے وہ آخری امید کے ٹوٹنے پر رو بھی نا سکی۔۔

وہ اپنے کام کے سلسلے میں یہاں آیا تھا مگر واپسی اب ناممکن سی لگ رہی تھی

وہ پریشان حال سے ہوٹل کے روم میں بیٹھا تھا رہ رہ کر نور اور زلیخا بی کا خیال آرہا تھا نا جانے آپریشن ہوا بھی ہوگا یا نہیں ان میں سے بس علی کا نمبر تھا اس کے پاس باقی کے نمبر پتا نہیں کیسے مس ہوگئے تھے اس سے ۔

ابرہیم بھی کال ریسیو نہیں کر رہا تھا وہ پریشان ہوگیا تھا میٹنگ ڈیلے پر ڈیلے ہورہی تھی

یا اللّٰہ پلیز اب مزید تاخیر نا ہو۔۔۔

تبھی اس کے فون کی بیل رنگ ہوئی تھی

بنا نمبر دیکھے ان سے کال ریسیو کی تھی

ہیلو اسلام وعلیکم۔۔۔

وعلیکم اسلام حاشر۔۔۔

دادو۔۔۔ وہ زیر لب بڑبڑایا ۔۔

اتنے کیوں حیران ہورہے ہو؟؟ انہیں نے اچھنبے سے اس سے پوچھا

نہیں نہیں دادو وہ بس یہاں میٹنگ میں پھنسا ہوا ہوں تو بس اس لئے۔۔۔

اس نے صفائی پیش کی تھی

کل صبح کی فلائٹ سے آرہی ہوں اور اپنے دوست کا خیر خواہ بن کر اسے یہ بات بتانے کی قطعی ضرورت نہیں ہے

وہ دو ٹوک لہجے میں بولی تھیں

مگر دادو…..

کچھ مت بول تو تم دونوں نے بہت دکھ دیا ہے مجھے تجھے اس لئے بتا رہی ہوں کہ ڈرائیور کو بھیج دینا کیونکہ تم لوگوں کو تو دادی بوجھ لگتی ہے نا

ایسی بات نہیں ہے دادو۔۔

بس کر مجھے صفائی نہیں چاہیئے یہ کہہ کر انہوں نے کھٹاک سے فون رکھ دیا

یا اللّٰہ۔۔۔ اسے سر ہاتھوں میں گرایا

اس نے ایک بار پھر ابرہیم کو کال تھی جس کا نمبر بند ہی جارہا تھا آفس کی ٹائمنگ بھی اب ختم ہوچکی تھی

علی کو کال کی تو پتا چلا وہ ہاسپٹل میں ہے آخر تھک کر اس نے وقت پر سب چھوڑا اور میٹنگ کے لئے میٹنگ روم میں بڑھ گیا

یہ جانے بغیر کے واپسی پر ایک بم اس پر پھوٹے گا۔۔۔

ایک تماشہ تھا جو اسکی زندگی کا آج لگا تھا کبھی کسی کی ایک نا سننے والی اپنی زندگی کے اتنے بڑے فیصلے پر چپ تھی ہارے جواری کی طرح بیٹھی وہ اپنے بے رنگ ہاتھوں کو دیکھ رہی تھیں جن پر سہاگ کا کوئی رنگ نہیں لگ تھا

مولوی صاحب آئے تو اس نے ایسے نکاح کیا جیسے اسکا نہیں بلکہ کسی اور کا ہو

سخت جان تو وہ شروع سے تھی جن کے ماں باپ نہیں ہوتے انہیں خود کو مضبوط کرنا پڑتا ہے اس دنیا میں اس نے بس دو لوگوں سے شدید محبت کی تھی ایک اسکا باپ اور ایک نور۔۔

ان دونوں کی ہی محبت اس کے لئے بے غرض تھی اس نکاح کے پیچھے بھی نور کا چہرہ تھا جو گلابی رنگ سے سفید ہوگیا تھا شاید ماں کو کھونے کا اس میں حوصلہ نہیں تھا اور اس میں بھی بھلا کہا تھا اتنے اپنوں کو کھو چکی تھی اب سوتیلی بھی چلی جاتی تو وہ کہاں جاتی یہ زمانہ تو ویسے بھی کسی کا نہیں سب تاک میں رہتے ہیں

زلیخا کو آپریشن تھیٹر میں لے جایا گیا تھا اس کے پاس نور بیٹھی تھی جو اس نے یوں نکاح کرنے پر اس سے خفا تھی لیکن اسے ابھی پرواہ نہیں تھی پرواہ تھی تو اس وجود کی جو اندر زندگی موت کی جنگ لڑ رہا تھا

البتہ علی سے اس نے کچھ نہیں چھپایا تھا وہ تو اسکے بچپن کا ساتھی تھا ہر قدم پر اسکے ساتھ ہاں البتہ وہ شخص غائب تھا جس کے نام کے ساتھ اسکا نام کچھ گھنٹے پہلے جوڑا گیا تھا اور اسے پرواہ بھی نہیں تھی کیونکہ جس مقصد کے تحت یہ سب ہوا تھا وہ اب پورا ہوگیا تھا اب انتظار تھا ڈاکٹر کا

تقریباً چار گھنٹے بعد ڈاکٹر نے آکر آپریشن کے کامیاب ہونے کی خبر سنائی تھی تو جیسے مانوں سب کی جان میں جان آئی تھی

زلیخا بی فلحال ہوش میں نہیں تھیں لیکن خطرے سے باہر تھیں

نور کی خوشی سے آنکھیں چمک رہی تھیں اس کی خوشی دیکھ کر وہ مسکرا دی

اگر وہ آج یہ نکاح نا کرتی تو ان آنکھوں میں خوشی کیسے دیکھتی اسے خوش دیکھ کر وہ خود بھی مسکرادی

دل سے بوجھ سرکا تو اس نے اللّٰہ کا شکر ادا کیا تھا۔۔۔

اگلے دن صبح زلیخا بی کو ہوش آیا تھا سب سے پہلے انہوں نے نور کو پکارا تھا جو تقریباً بھاگتے ہوئے ان کے پاس گئی تھیں ایک ایک کر کے سب ہی لوگ ان سے ملے تھے

لیکن زلیخا بی نے نا اسکا پوچھا اور نا وہ خود گئی دل تو ایسے ہمک رہا تھا کہ جائے اور سینے سے لگ کر روئے کبھی ماں کی محبت محسوس ہی کب کی تھی اس نے اس کے آنچل میں چہرہ چھپانے کا موقع دیا ہی نہیں تھا زندگی نے

اور اب بھی وہ تنہا اسپتال کے کاریڈور میں بیٹھی تھی جیسے اسکا کوئی اپنا ہی نا ہو سب اندر تھے وہ خاموشی سے اٹھ کر گھر آگئی اب دل رکنے کا تھا ہی نہیں صبح سے اس انتظار میں تھی کہ اب زلیخا بلائے اور وہ ماں کہہ کر لپٹ جائے…

مگر انسان جو سوچتا ہے وہ ہوتا کب ہے بھلا۔۔۔