Teri Meri Rah Mein by Fariha Islam Readelle50355 Teri Meri Rah Mein Episode 20
Rate this Novel
Teri Meri Rah Mein Episode 20
خود پر پڑے بوجھ کو محسوس کئے اس کی آنکھ کھلی تھی مگر برابر نظر پڑتے وہ ساکت ہوئی تھی
اپنا ہاتھ پاؤں اس پر رکھے ابراہیم بے خبر سو رہا تھا
اس نے فوراً سے پہلے اسکا ہاتھ اپنے اوپر سے ہٹانا چاہا تھا تبھی وہ ایک دم اٹھا تھا اور خود کو آنسہ کے اتنے قریب دیکھ وہ تھما تھا
تمہارا ہاتھ… ابراہیم کو خود کو تکتا پاتے وہ اتنی دھیمی آواز میں بولی تھی کہ ابراہیم کو بمشکل سنائی دی تھی
پہلی بار کوئی یوں اسکے اتنے قریب آیا تھا اسکا دل ہتھیلی میں دھڑکا تھا
ایک جھٹکے سے اسنے اپنا ہاتھ اس کے اوپر سے ہٹایا تھا اور اس نے پھر لمحہ نہیں لگایا تھا وہاں سے اٹھ کر بھاگنے میں۔۔۔
شٹ ابے یار۔۔ اپنی حرکت پر شرمندہ ہوا تھا
بیڈ پر یونہی لیٹے لیٹے ناجانے کتنا وقت ہوا تھا کہ فون کی آواز پر وہ بے اختیار چونکا تھا
فون ریسیو کئے وہ بالکونی میں آیا تھا۔۔
بات ختم کئے وہ سامنے دیکھنے لگا جہاں کا منظر بے حد خوبصورت تھا تبھی اپنے پیچھے آہٹ محسوس کئے وہ مڑا تھا جہاں وہ سادگی میں بھی غضب ڈھا رہی تھی
گھر میں کوئی سامان نہیں ہے ناشتہ کیسے بناؤ۔۔
نہایت سنجیدگی سے کہتی وہ سامنے دیکھنے لگی۔۔
ٹھیک ہے میں فریش ہوتا ہوں پھر لاتا ہوں اسے بولتا وہ چینج کرنے گیا تھا جب کے وہ یونہی بالکونی میں کھڑی ہوگئی۔۔۔
کتنا بدل گئی تھی وہ اپنے حق میں بولنا چھوڑ چکی تھی خود کو وقت کے دھارے پر چھوڑ دیا تھا مگر یہاں کوئی ایسا بھی تو نہیں تھا کہ جس سے وہ لڑتی جھگڑتی۔۔۔
اسکا تو ابراہیم سے بھی لڑنے کا دل نہیں کرتا تھا حاشر کی باتیں اسکے دماغ میں گھوم رہی تھیں۔۔۔
اپنا سر جھٹک کر وہ باہر آئی پورا گھر سیٹ کرنا باقی تھا شروعات اس نے بیڈ سے کی تھی بیڈ صاف کرتی وہ لاونج میں آئی تھی جب تک ابراہیم واپس آیا تھا
اس نے اسکے آگے پانی کا گلاس رکھا اور ناشتہ اٹھاتی کچن میں چلی گئی
ٹیبل پر ناشتہ کرتے ابراہیم نے اسے مخاطب کیا تھا
ایک کام کرتے ہیں ناشتہ کرکے بوتیک سائیڈ جانا ہے تو تم بھی ساتھ چلو اس کے بعد اسٹور سے گھر کے لئے کچھ سامان بھی لے آئیں گے۔۔
ٹھیک ہے میں لسٹ بنا لیتی ہوں۔۔
چلو ٹھیک ایک کام کرو یہ سب رکھ کر ریڈی ہوجاؤ۔۔۔
ابراہیم۔۔۔ وہ جو باہر کی طرف بڑھا تھا اس کی آواز پر ٹھٹکا تھا
ہمم بولو۔۔
دادو سے بات کروا دیں میرے پاس بیلنس نہیں ہے۔۔
اچھا ٹھیک ہے میں تھوڑی دیر میں کرواتا ہوں۔۔
وہ اسکے ساتھ بوتیک آئی تھی ان دونوں نے مل کر بہت ساری چیزیں چینج کروائی تھیں
وہاں سے نکل کر انہوں نے باہر ہی لنچ کیا تھا
گھر آتے آتے انہیں رات ہوگئی تھی اس لیے کھانا وہ پیک کروا کر لائے تھے
وہ دونوں ہی اپنی اپنی جگہ گھر کو مس کر رہے تھے۔۔
اس وقت بھی وہ بالکونی میں کھڑا تھا جب وہ کافی لئے وہاں آئی تھی۔۔
آنسہ۔۔وہ جو کہ رکھے جانے کو مڑی تھی اسکی پکار پر رکی تھی
کیا ایسا ممکن نہیں کہ ہم یہاں دوست بن کر رہیں؟؟
اسکی بات پر وہ حیران ہوئی تھی۔۔۔
کیا ہم دوست بن سکتے ہیں؟؟ اس نے سوال پر سوال کیا تھا۔۔
ہاں بلکل اگر تم مجھے آپ کہو،مجھے تھوڑا کم زلیل کرو اور میری ہر بات نا سہی کچھ کچھ باتیں مان لیا کرو۔۔۔
اس کی بات پر بے اختیار ہنسی تھی اور وہ اس کی ہنسی میں کھو سا گیا تھا
ویسے اچانک اس دوستی کا خیال کیسے آگیا؟؟ اس کے شرارت سے پوچھنے پر وہ ہنس دیا۔۔
اب تم بات بات پر لڑتی نہیں ہو نا تو اب تم شریف ہوگئی ہو تو دوستی کے بارے میں سوچا جا سکتا ہے۔۔
اس کے یوں بولنے پر اس نے آنکھیں چھوٹی کی تھیں
دادو نے مجھ سے پرامس لیا تھا کہ آپ کی عزت کرونگی تو مجبوراً مجھے کرنی پڑی۔۔
ایک منٹ تم نے مجھے آپ بولا تو دوستی پکی۔۔۔
اس کی طرف ہاتھ بڑھائے وہ مسکرا کر بولا تو اسنے بھی ابراہیم کا ہاتھ تھاما تھا۔۔
چلو اسی بات پر واک پر چلتے ہیں موسم پیارا ہے آئسکریم کھا کر آئینگے۔۔
اسے اگر دیتا وہ باہر نکلا تو چادر لئے وہ بھی اس کے ساتھ باہر نکلی تھی۔۔
پورے راستے وہ دونوں باتیں کرتے آئے تھے وہ سوچ بھی نہیں سکتے تھے کہ ایک دن یوں بھی آئے گا۔۔
وہ لڑکا تقریباً روز ہی اسکے سامنے آنے لگا تھا وہ ڈر کی وجہ سے گھر میں بھی نہیں بتا سکتی تھی۔۔
اس روز بھی معمول کے مطابق وہ کالج سے نکلی تھی گلی کے کونے پر پہنچتے ہی وہ لڑکا ایک دم اسکے سامنے آیا تھا اور اس کے ہاتھ میں خط تھماتا غائب ہوا تھا۔
اس حرکت پر بدحواس ہوئی تھی ہاتھ میں تھما کاغذ دبوچے وہ گھر میں داخل ہوتے ہی کمرے میں بند ہوئی تھی۔۔
دھڑکتے دل کے ساتھ کاغذ کھولے اس نے پڑھنا شروع کیا تھا۔۔
میری جان نور۔۔۔۔
بہت سارا پیار جب سے تمہیں دیکھا ہے دل میں بس ایک ہی چاہ ہے تمہیں اپنا بنانے کی۔۔۔
ایک بار تم سے مل کر دل کا حال سنانا چاہتا ہوں کل کالج کے پیچھے والے پارک میں تمہارا انتظار کرونگا نہیں آئیں تو انجام کی زمہ دار تم ہونگی۔۔
تمہارا اور صرف تمہارا۔۔۔۔
عاشق۔۔
جیسے جیسے وہ پڑھتی جارہی تھی اسکے پیروں سے جان نکلتی جارہی تھی۔۔
کھڑا ہونا مشکل ہوا تو وہ زمین بوس ہوئی تھی یہ کیسی مصیبت تھی جو یوں اچانک اس پر آئی تھی۔۔
نہیں پلیز اللّٰہ جی پلیز مجھے بچا لیں میں نے تو کچھ بھی نہیں کیا پلیز مجھے بچا لیں۔۔دعا مانگی تھی۔۔
نور۔۔۔۔ نور۔۔۔۔۔ زلیخا بی کی آواز پر وہ آنسو صاف کرتی جلدی سے باہر آئی تھی
آئی اماں۔۔۔
آج آتے ہی کمرے میں چلے گئی خیریت تو ہے اور یہ آنکھیں کیوں لال ہورہی ہیں۔۔
کچھ نہیں اماں بس سر بہت درد کر رہا۔۔
خود کو سنبھالتی اس نے جھوٹ کا سہارا لیا تھا کہ جانے بغیر کے یہ جھوٹ کل کو اس نے کے لئے کیا نئی مصیبت لانے والا ہے
اچھا چل میں زرا شبانہ کی طرف جارہی تو دروازہ بند کرلے اور کھانا کھا لینا۔۔
اماں نہیں جاؤ نا۔۔۔ وہ انکا ہاتھ تھام گئی تھی
کیا ہوا ہے تجھے؟؟ ان کے پوچھنے کر وہ ایک دم گڑبڑائی تھی
نہیں کچھ نہیں بس یوں ہی۔۔
شبانہ نے بلوایا ہے اس لئے جارہی تو کھانا کھا کر سوجانا۔۔ اسکا ہاتھ تھپک کر وہ باہر نکل گئی تو اسنے بھاگ کر دروازہ بند کیا تھا
یہ یہاں نہیں وہاں رکھیں۔۔۔
ارے یہاں نہیں وہاں۔۔ وہ اسے پینٹنگ کی ڈائریکشن بتا رہی تھی
تبھی وہ چڑ کر نیچے آیا تھا
کیا مصیبت ہے بھئی تم کوئی دس دفعہ جگہ تبدیل کر چکی ہو۔۔
ہاں تو وہ وہاں سوٹ نہیں کر رہی تھی نا ۔۔ وہ بھی اسے کے انداز میں بولی تھی
ایک کام کرو آپ یہاں سے بتاؤ میں اوپر چڑھتی۔۔اسے بولتی وہ اسٹول پر چڑھی تھی
آرام سے آنسہ گر نا جانا۔۔۔
اتنی نازک نہیں آپ کی طرح۔۔۔۔ اس پر طنز کرتی وہ اپنا کام مکمل کرنے لگی جب کے خود کو نازک بولنے پر وہ اسٹول کے پاس آیا تھا
ابھی بتاتا ہوں کون ہے نازک۔۔ دانت پیس کر بولتا اسنے اسٹول ہلایا تھا
ااااااا۔۔۔۔۔۔ کیا کر رہے میں گر جاؤں گی۔۔
ارے اتنی نازک۔۔۔ ہنس کر کہتا وہ پھر سے اسٹول ہلانے سے باز نہیں آیا تھا۔۔
ابراہیم قسم سے نیچے آئی نا حشر بگاڑ دونگی۔۔۔ قدم مضبوط کرتی وہ دھمکی پر اتر آئی تو وہ ہنستا ہوا رکا تھا اور ہاتھ بڑھا کر اسے اترنے میں مدد دی تھی
کھانے کا کیا سین ہے بھوک لگ رہی ہے ۔۔
پاستہ بنایا ہے اور ساتھ میں اسپیگھٹی بھی ہے۔۔
اسے بتاتی وہ روم میں گئی تھی۔۔
جب تک وہ واپس آئی وہ ٹیبل پر کھانا کھا چکا تھا
تھینکس۔۔۔ اسے بولتی وہ آکر بیٹھی تھی اور دونوں کی پلیٹ میں کھانا نکالا تھا۔۔
بوتیک میں کام شروع ہوچکا تھا وہ اکثر اسے ساتھ لئے وہاں جاتا تھا انہوں نے وہاں مل کر کافی چیزیں کی تھیں۔۔
انہیں یہاں آئے تین مہینے ہوچکے تھے۔۔
ڈور بیل کی آواز پر وہ کچن سے نکلتی باہر آئی تھی جہاں ابراہیم کھڑا تھا اس کا کورٹ تھامتی وہ اندر بڑھی تھی
آنسہ دادو کی کال آئی تھی بہت یاد کر رہی ہیں۔۔
تو چلتے ہیں نا کراچی میں بھی انہیں بہت مس کر رہی۔۔ اسکے ہاتھ پانی کا گلاس گھماتی وہ وہیں اسکے پاس بیٹھی تھی
اوکے پھر کام تو یہاں کا الریڈی ڈن ہے تو چلتے ہیں اس سنڈے۔۔
اوکے اس کی بات پر وہ ایک دم خوش ہوئی تھی مگر پھر اسکے چہرے سے مسکراہٹ غائب ہوئی تھی
ان کی شادی کو چھ مہینے مکمل ہوگئے تھے اب ان کے علیحدہ ہونے کا وقت آگیا تھا یہ سوچ کر ہی اسکا دل ڈوبا تھا
پاگل ہے کیا آنسہ یہ تو پہلے سے طے تھا تو کیوں اداس ہونا خود کو سرزنش کرتی وہ اٹھی تھی مگر دل کی ویرانی کم ہونے کے بجائے بڑھ گئی تھی
کب کیسے کیوں… پر وہ ابراہیم کو دل میں بسا بیٹھی تھی۔۔۔
بے دلی سے کام کرتی وہ بالکونی میں آگئی۔۔
تاحد نگاہ اندھیرے میں روشنیاں جگنو جیسی لگ رہی تھیں۔۔۔
ناجانے کتنی کہ دیر وہ یونہی کھوئی رہتی کہ ابراہیم کی آواز پر وہ مڑی تھی
کیا سوچ رہی ہو کب سے آواز دے رہا ہوں ۔۔
کچھ نہیں بس یونہی۔۔۔ اپنا چہرہ سیدھ میں کئے وہ بولی تھی۔۔
کچھ سوچ رہی ہو؟؟ اس کے برابر آکر کھڑے ہوتے اس نے اسکو دیکھا تھا جس کا چہرہ بلب کی روشنی سے منور ہورہا تھا
کچھ نہیں بس یہی سوچ رہی تھی کہ چھ مہینے مکمل ہوگئے ہیں ہمارے راستے اب الگ الگ ہونے والے ہیں۔۔
دادو کو کیا بتاؤ گے؟؟ بولتے ساتھ اس نے اپنا رخ اسکی طرف کیا تھا جو اسکی بات پر چپ ہوا تھا وہ اسکی خاموشی سے کوئی نتیجہ اخذ نہیں کرسکی تھی
کھانا لگا رہی ہوں آجاؤ۔۔ اسے بولتی وہ باہر بڑھی تھی
جب کے وہ ریلنگ کو تھام گیا تھا۔۔۔
کیا اتنا آسان تھا سب ختم کرنا ؟؟ وہ سر جھٹک کر خود کو کمپوز کرتا اندر کی طرف بڑھا تھا۔۔
