306.8K
23

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Teri Meri Rah Mein Episode 14

زندگی اپنی ڈگر پر چل رہی تھی آج زلیخا کے آپریشن کو ہفتہ ہوگیا تھا مگر ان کے اندر کی تلخی وہ زبان کے زریعے باہر نکالتی رہی تھی لوگ تو اتنے بڑے آپریشن کے بعد بدل جاتے ہیں خوف خدا ان کے دل میں ڈیرے ڈالے ہوتا ہے مگر وہ تو اور زیادہ اس نے لئے بڑی بن گئی تھیں اب یہ ان کی طبعیت کی وجہ سے تھا یا کیا مگر وہ اسے تکلیف دے رہی تھیں اور وہ تو جیسے ڈھیٹ ابن ڈھیٹ ایک بار پھر پتھر جیسی بن گئی تھی جیسے نا سنتی تھی نا محسوس کرتی تھی پہلی بار اسے ایک ماں کی گود چاہیے تھی مگر ہائے رے قسمت

کبھی کبھی تو وہ اپنی قسمت کر روتی نہیں ہنستی تھی اتنی بڑی ہوگئی مگر ماں کے پیار کے لئے ترستی رہی اب تو دل نے خواہش بھی چھوڑ دی تھی مگر ایک وقت تھا جب اسکا دل ہمکتا تھا ماں کی ممتا کے لئے۔۔۔

حسب معمول وہ چھت پر بیٹھی آسمان کو تک رہی تھی جبکہ روشنی اس کے پاس بیٹھی میری کھانے میں مصروف تھی

آنسہ تیری ابراہیم بھائی سے بات ہوتی ہے؟؟

کون ابراہیم؟ اس نے اچنبھے سے پوچھا

اور پھر جن نظروں سے روشنی نے اسے دیکھا وہ زندگی میں پہلی بار شرمندہ ہوئی تھی

ارے بھئی میرا دھیان ادھر ادھر تھا

تبھی بنتے دروازے پر انکا دھیان وہاں گیا تھا یہ نور کہاں رہ گئی وہ خود سے بولتی نیچے اتری مگر تب تک نور دروازہ کھول چکی تھی اس لئے بنا دیکھنے کی زحمت کئے وہ واپس اوپر آگئی

کون تھا ؟؟

مجھے نہیں پتا نور نے دیکھ لیا شاید اسکی ماں سے کوئی ملنے آیا ہے۔۔

اچھا چل چھوڑ تو پتا مارکیٹ چلے گی اتنا وقت گزر گیا ہم نے کوئی تفریح نہیں کی۔۔

یہاں اپنی تفریح بنی ہوئی ہے۔۔وہ تلخی سے ہنسی تھی

بس کردے تو۔۔روشنی نے چڑ کر کہا تو وہ ہنس دی

اچھا چل کر دیتی بس۔۔۔وہ ہنس کر بولی تو روشنی نے ایک دھپ اسے رسید کی تھی

چل اب جارہی میں ورنہ امی نے بے عزتی کر دینی ہے۔۔

ہاں تو جا۔۔۔اسے بول وہ واپس اپنے چھوڑے گئے شغل میں مصروف ہوگئی تھی

نیچے سے آتی آوازوں پر اس نے کان دھرنا ضروری نہین سمجھا تھا

تبھی نور ہانپتی ہوئی اوپر آئی تھی

آنسہ۔۔۔آنسہ۔۔۔

کیا ہوا ہے بہن خیریت؟؟ کونسی ریس دوڑ کر آرہی ہو؟؟

ریس تو کوئی نہیں دوڑ رہی تمہارا بلاوہ آیا ہے۔۔

کیوں بھئی اب کیا کردیا میں نے ۔۔۔

کیا کچھ نہیں بس تم سے ملنے کچھ لوگ آئے ہیں جلدی سے آؤ اور حلیہ ٹھیک کرلینا۔۔۔

اپنی بولتی وہ وہاں سے واپس نیچے بھاگی تھی۔۔

حد ہے بھئی۔۔۔ہاتھ میں پکڑی کیری کا پیس پلیٹ میں رکھتی وہ ہاتھ صاف کرتی اٹھی تھی

اب اسکا رخ نیچے کی طرف تھا۔۔

کمرے میں داخل ہوئی تو سامنے ہی صوفے پر ایک بڑھی خاتون اور ایک زلیخا کی عمر کی عورت کو دیکھ وہ ٹھٹھکی تھی وہ کہیں سے بھی اس ماحول کا حصہ نہیں لگ رہی تھیں ان کی ڈریسنگ ہی ان کے اپر کلاس ہونے کی گواہ تھی اسے بے حد عجیب سا لگا تھا

مگر پھر سر جھٹک کر وہ اندر آئی اور سب کو مشترکہ سلام کیا تھا

اسکے سلام پر سفینہ بیگم اور دادو نے اسے دیکھا تھا

بلیک لیلن کی قمیض اور پاجامہ پہنے کالے بالوں کی چوٹی ڈالے بھرا بھرا جسم کھلتی رنگت اس پر متضاد اسکی آنکھیں۔۔

اسکا میک اپ سے پاک چہرہ۔۔

ان دونوں کے چہرے کر ستائش ابھری تھی

آجاؤ بیٹا ہمارے پاس آؤ۔۔۔ دادو کے بولنے پر وہ جھجھکتی ان کے پاس آئی تھی

ابراہیم کی دادی ہیں یہ اور میں خالہ۔۔۔سفینہ بیگم نے اسے پریشانی میں دیکھا تو اپنا تعارف کروایا جبکہ ابراہیم کے نام پر اسکا حلق تک کڑوا کڑوا ہوا تھا وہی تو تھا فساد کی جڑ۔۔۔

ماشاءاللہ بہت پیاری۔۔۔ روبینہ بیگم تو اسکے واری صدقے گئی تھیں

انہیں آنسہ بہت پیاری لگی تھی بناوٹ سے پاک۔۔

ہمم بس یتیم بچی کی پرورش کرنا آسان نہیں ہوتا۔۔زلیخا کی بات پر وہ ناسمجھی سے انہیں دیکھنے لگی

ان کے بیچ کیا کچھ باتیں ہو چکی تھیں اس سے وہ انجان تھی

بس اب آنسہ سے مل لیا تسلی ہوگئی اب بہت جلد اپنی بیٹی کو ہم لینے آئینگے جو بھی ہوا اور جن حالات میں بھی ہوا اسے بھول جائیں۔۔

دادو نے محبت سے اسکا ہاتھ تھپتھپایا۔۔

اسے تو سمجھ ہی نہیں آیا کہ آخر کرے تو کیا کرے۔۔

نور نے اچھی خاصی ٹیبل سجائی تھی مگر مجال ہے جو وہ اٹھی ہو یونہی ٹھس بیٹھی رہی شادی اور اسکی اور اس شادی کا انجام وہ سب بے خبر تھے مگر غصہ اسے ابراہیم کر آرہا تھا جو اسکی زندگی برباد کر اپنی خوشیوں کی آس لگائے بیٹھا تھا

میرا کردار مشکوک بنایا میرے لئے اپنے ہی گھر میں رہنا محال کیا تمہیں بھی سبق ملنا چاہیے محترم ابراہیم تلخی سے سوچتی وہ اٹھ کر کمرے سے باہر آگئی

پتا نہیں کون ہوتے تھے جو یوں اچانک شادی پر تماشے لگاتے تھے لمبی چوڑی پنچائیت لگتی تھیں یہاں تو سب افسانوں جیسا ہوا تھا اس کے ساتھ اور اسے غم تھا کہ اسکے ساتھ ہی کیوں ہوا۔۔

اندر ناجانے کیا کیا باتیں چل رہی تھی اسے غرض نہیں تھی اس لئے منہ بنائے وہ چھت پر آگئی تاحد نگاہ سرمئی شام چھارہی تھی جیسے اسکی زندگی اندھیروں کی زد میں آرہی تھی مگر کیا وہ جانتی تھی کہ اس اندھیرے کے پیچھے کتنی روشنی چھپی ہے جسے تلاشنے کے لئے کئی مراحل اسے طے کرنے تھے۔۔۔

کیا بکواس ہے یہ تو مجھے اب بتا رہا یار حاشر۔۔۔۔

وہ جو ابھی آفس سے آئے تھے گھر کو خالی دیکھ حاشر نے کال کرکے پوچھا تھا اور جو اسے بتایا گیا وہ ان دونوں کو پریشان کرگیا تھا

مجھے بھی تو تیرے سامنے ہی پتا چلا ہے نا ۔۔اسکے یوں بولنے وہ بھی تپا تھا

جبکہ ابراہیم نے اپنا سر پکڑا تھا بات تو طویل ہوتی جارہی تھی وہ بھنا کر رہ گیا تھا

کہا پھنسا دیا یار ارحم۔۔۔

وہ بڑبڑایا۔۔

ہاں اور سن اسکی اب کیا کرے گا اس رشتے کو ختم کرنے کی بات ہوئی تو سوچ دادو تیرے ساتھ کیا کرینگی۔۔۔

مجھے کیا پتا تھا کہ یہ سب ہوجانا یار یہ کہانیوں میں کیسے آرام سے لوگ دیکھا دیتے میری تو جان نکل رہی ہے ایسا لگ رہا کسی نے بیچ آگ کے دریا میں کھڑا کردیا نا تیر کر بھاگ سکتا نا کھڑے رہ سکتا دونوں صورتوں میں جھلسنا ہی مقدر ہے۔۔

اور اس آگ کے دریا کا انتخاب تو نے خود کیا ہے خود کو اب ہر چیز کے لئے تیار رکھ۔۔

اسے بولتا وہ کمرے میں چلا گیا۔۔

تبھی اسکا موبائل رنگ ہوا تھا ردابہ کا نمبر دیکھ دیکھ اس نے گہری سانس خارج کی تھی

اور اٹھ کر بالکونی میں آیا تھا خود کو کمپوز کرتا اس نے فون اٹھایا تھا

ہیلو ابراہیم کب سے کال کر رہی کہاں تھے؟؟ دوسری طرف سے شکوہ کیا گیا تھا

بزی تھا ردابہ۔۔۔

آر یو اوکے۔۔۔اسکے بجھے لہجے کو محسوس کرتے اس نے سوال پوچھا تھا

ہاں بلکل آئی ایم اوکے تم سناؤ واپسی کب ہے؟؟

اسکے پوچھنے پر اس نے خود کو چئیر کیا تھا

واپسی۔۔یار اے بی ایکچوئیلی ڈینی اور میں شارجہ جارہے ایک کانٹریکٹ کے لئے۔۔اس کے لہجے میں ایسا پتا نہیں کیا تھا کہ ابراہیم چونکا تھا

کتنے دن کے لئے۔۔۔

چھ مہینے۔۔۔ اسکے بولتے ہی اسکا دماغ گھوما تھا

دماغ خراب ہے تمہارے یہاں میں پاگل بنا بیٹھا ہوں کہ تم آؤ اور میں اپنی فیملی سے بات کرو مگر تم تو مجھے سیریس ہی نہیں لے رہی ہو شادی کی باتیں ہورہی ہیں میری اور تمہیں کوئی پرواہ نہیں۔۔۔

اب۔۔

شٹ اپ جسٹ شپ اپ ردابہ کیا سمجھا ہوا ہے مجھے ہاں کوئی غلام ہوں میں جو ہوں رکا رہوں تمہارے لئے۔۔ اسکا غصے سے برا حال ہوا تھا تم نے کہا تھا تم واپس آکر شادی کرو گی اور اب یہ چھ مہینے کا تماشہ۔۔۔

ویٹ ۔۔۔یہ تم بات کس لہجے میں کر رہے ہوں ہاں میں نے کہا تھا کہ انتظار کرو تمہیں پتا ہے میرے لئے میرا کرئیر بہت اہم ہے اور غلام واٹ ربش۔۔۔

اگر تم ویٹ نہیں کرسکتے تو الگ ہوجاو کیونکہ فلحال کچھ سال تک میرا ارادہ صرف اپنے کرئیر پر فوکس کرنے کا ہے۔۔۔

اسکے دوٹوک انداز پر اسکا دماغ گھوما تھا

ٹھیک ہے پھر تم کرو جو کرنا مگر پھر سے گلہ مت کرنا۔۔۔

غصے سے بولتے اس نے فون کٹ کردیا لمحے میں وہ ایک نتیجے پر پہنچا تھا ساری پریشانی ہوا ہوئی تھی

بہت پچھتاؤ گی تم ردابہ بہت زیادہ۔۔۔۔

موبائل میں اسکا نمبر دیکھتا وہ خود سے بولا تھا۔۔

گھر آئے مہمان جا چکے تھے مگر جانے سے پہلے موت کا پروانہ اسے تھما کر گئے تھے اس نے ہاتھ میں انگوٹھی ڈال کر شادی کے لئے انہوں نے اگلے مہینے کی تاریخ مانگی تھی زلیخا نے اتنی جلدی تیاری کی وجہ پیش کی تو انہیں کچھ نہیں چاہیے بول انہوں نے زلیخا بیگم کی ساری پریشانی ہوا کی تھی وہ سمجھ رہی تھی ان کی خوشی کی وجہ ایک ان چاہے بوجھ سے جان چھوٹ جانے والی تھی۔۔

نور تو بے حد خوش تھی مگر خوشی تو دور اسکے چہرے پر کسی قسم کے کوئی تاثرات تک نہیں تھے

علی اس سے ملنے آیا تھا مگر زلیخا کی آواز پر وہ باہر آئی تھی

تم لوگوں نے تو بگاڑا ہے اسے اب کیوں آئے ہو کسی کی امانت کے اب دور رہو اس سے۔۔۔

وہ علی کو سنا رہی تھی اس کے ماتھے پر لاتعداد بل پڑے تھے

بس کردیں بس بہت ہوگیا اب تک چپ تھی کیونکہ لحاظ تھا کہ ابھی آپریشن ہوا ہے مگر آپ کو خدا کا خوف نہیں کیا سمجھتی ہیں آپ بچی ہوں جانتی نہیں ہوں کچھ اگر چپ ہوں تو بس اسکی وجہ سے۔۔اس نے نور کا بازو تھام کر ایک دم آگے کیا تھا

اگر بولی نا تو آپ اپنی اولاد کو کیا منہ دیکھائیں گی ہاں ۔۔۔

میں چپ ہوں کیونکہ اب میں کوئی بدمزگی اس گھر میں نہیں چاہتی تو برائے مہربانی مجھے بولنے پر مجبور نہیں کریں اور یہ بھائی ہے میرا دوست ہے اس نے نہیں بگاڑا مجھے تمہارے رویے نے بتایا ہے جس شخص کی جائداد چاہیے نا میں بھی اسی کی بیٹی ہوں۔۔۔وہ تڑخ کر بولی تھی

زلیخا بیگم کو اس سے اتنی صاف گوئی کی امید نہیں تھی ان کی زبان کو ایک دم بریک لگے تھے

چل علی۔۔۔ علی کا ہاتھ تھامتی دوپٹہ سنبھالے وہ باہر نکل گئی۔۔۔

دیکھا اس کو کیسے اپنا خون پسینا ایک کر اس ناگن کو پالا اور مجھے اتنا سنا کر چلی گئی۔۔

امی۔۔ یہ کس بارے میں بات کرکے گئی ہے کہ آنسہ۔۔ نور ان کے پاس آئی تھی

کچھ نہیں دماغ نا کھا میرا جا یہاں سے۔۔۔

اسے جھڑکتی وہ اندر بڑھ گئی دماغ میں ایک دم ٹیسیں اٹھی تھیں مگر انہیں پرواہ نہیں تھی پرواہ تھی تو بس ایک چیز کی جس پر اب وہ جلد از جلد عمل کرنا چاہتی تھی۔۔۔