Teri Meri Rah Mein by Fariha Islam Readelle50355 Teri Meri Rah Mein Episode 19
Rate this Novel
Teri Meri Rah Mein Episode 19
حیات صاحب اور دادو کے کہنے پر وہ اسے اپنے ساتھ اسلام آباد لے جانے کو راضی ہوا تھا وہ یہ بھی جانتا تھا کہ آنسہ کو اس کام کا شوق ہے اس نے اکثر زلیخا بی کو کہتے سنا تھا کہ اس کام میں ان کی دونوں بیٹیاں تاک ہیں وہ کوئی رسک نہیں لینا چاہتا تھا مگر دادو اور بابا کی وجہ سے مجبور تھا
حاشر وہاں پر لوکیشن دیکھ کر آیا تو وہ اور حاشر دوبارہ جاکر ڈیک فائنل کر آئے تھے اب وہاں ان کی مرضی کے مطابق کام ہورہا تھا
آنسہ نے اپنی سی کوشش کی تھی کہ وہ یہی رہے مگر دادو کی ضد اور حیات صاحب کی خواہش کی وجہ سے وہ چپ ہوگئی
اسے ابراہیم یہاں برداشت نہیں ہوتا تھا وہاں کیسے ہوگا یہ سوچ سوچ اسکا سر دکھنا شروع ہوگیا تھا
دادو اسے زبردستی شاپنگ پر لے کر گئی تھیں جہاں سے انہوں نے اسے ایک سے بڑھ کر ایک سوٹ دلایا تھا
اس کے لئے یہی بہت تھا کہ وہ لوگ اس کے بارے میں سوچتے تھے اس سے پیار کرتے تھے۔۔۔
ان لوگوں کے جانے سے پہلے دادو نے زلیخا اور نور کو گھر دعوت پر بلایا تھا
نور تو بے حد خوش تھی کہ وہ اپنے شوق کو آگے بڑھا رہی ہے مگر اسے زرا خوشی نہیں تھی۔۔
وہ کسی کام سے باہر آئی تو سامنے حاشر کسی سے بات کرنے میں مصروف تھا اسے دیکھ رکنے کا اشارہ کیا تو وہ ناسمجھی سے اسے دیکھنے لگی
اس کے قریب آنے پر اس نے سوالیہ نظروں سے اسے دیکھا تھا
سوری بھابھی یوں روکنے کے لئے مگر مجھے آپ سے کچھ بہت ضروری بات کرنی تھی۔۔۔
بولو۔۔۔۔
دراصل مجھے بتا ہے ابراہیم نے کس مقصد کے لئے آپ سے شادی کی تھی۔۔۔
تو۔۔۔؟ اس کی بات کاٹتے اس نے سوال کیا تو وہ سٹپٹایا تھا
مجھے بس یہ کہنا ہے کہ وہ بےوقوف ہے اسے نہیں بتا ہوتا کہ کیا کرنا ہے وہ اکثر دوسروں کی باتوں میں آکر اپنے لئے مشکلات کھڑی کرلیتا ہے۔۔
یہ سب میں جانتی ہوں حاشر آگے بولو۔۔۔
میں نہیں چاہتا آپ لوگ الگ ہوں وہ بےوقوف ہے اسے کھرے کھوٹے کا فرق نہیں سمجھ آتا آپ کوشش کریں گی تو یہ رشتہ کبھی ختم نہیں ہوگا دادو اور خالو کہ لئے آپ یہ کوشش کریں پلیز۔۔۔
میں ہی کیوں سب کے لئے سوچوں کوئی میرے لئے کیوں نہیں سوچتا ایک بارسوچ کر دیکھا تھا باخدا رسوائی کے سوا کچھ نہیں ملا اور ویسے بھی نصیب کا لکھا کوئی نہیں بدل سکتا تو تم پریشان نہیں ہو۔۔
سپاٹ لہجے میں کہتی وہ اندر بڑھ گئی
ہونہہ جسے دیکھوں مجھ سے ہی امیدیں لگائے بیٹھا ہے میں بلا یہ انسان جائے بھاڑ میں یہاں یہ چند مہینے رہنا عذاب ہے ساری زندگی کا تو سوچ بھی نہیں سکتی میں۔۔۔
خود سے بولتی وہ اپنا سامان پیک کرنے لگی۔۔
تبھی نور کمرے میں آئی تھی۔۔
میں آجاؤں آنسہ؟؟
آجاؤ نور تجھے کب سے اجازت لینے کی ضرورت پڑ گئی۔۔
اپنا بیگ سائیڈ پر رکھتے اس نے نور کو بیٹھنے کے لئے جگہ دی تھی
جب سے ہمارے درمیان فاصلے آگئے ہیں۔۔۔
یہ فاصلے تو تم لوگوں کے خود کے بنائے ہیں خیر بتا سب ٹھیک ہیں ؟؟
ہاں سب ٹھیک ہیں تجھے بہت یاد کرتی ہیں سب سے زیادہ تو روشنی خالہ شان اور علی۔۔
ان سب کو تو میں بھی بہت یاد کرتی ہوں خاص کر علی کا اس نے ساتھ گزرا وقت تو میں بھول ہی سکتی کبھی۔۔۔
وہ حسرت سے بولی تھی اور کمرے میں آتے ابراہیم نے اس کے الفاظ بہت اچھے سے سنے تھے
تو کیا یہ بھی میری طرح زبردستی اس رشتے میں بندھی اور کسی اور کو پسند کرتی ہے۔۔۔
چلو اچھا ہی ہے میرے اوپر کوئی الزام نہیں آئے گا۔۔
خود کو مطمئن کرتا وہ جیسے آیا تھا ویسے ہی واپس چلے گیا
تم اب جب واپس آؤ تو گھر آنا نا ہم بہت مزے کریں گے۔۔
کوشش کرونگی ابھی تو بابا نے ایک زمہ داری دی ہے دعا کرنا اچھے طریقے سے نبھا سکوں۔۔
انشاء اللہ تم ضرور کامیاب ہونگی۔۔
آمین۔۔۔
چلو اب میں جاؤ پھر کل کالج بھی جانا ہے۔۔
کالج کے نام پر اسکا دل ڈوبا تھا مگر کیا کرتی۔۔۔
چل ٹھیک آجا نیچے چلیں۔۔۔
وہ دونوں نیچے آئی تو زلیخا بی سب سے باتوں میں مصروف تھیں
اچھا بھائی صاحب اجازت دیں۔۔۔
وہ سب سے اجازت لے کر نکلی تھیں
اور اس کے بعد وہ کافی دیر تک دادو نے پاس بیٹھی رہی دل یہ سوچ کر ہی اداس ہورہا تھا کہ ان سے دور رہنا ہوگا
میں کیسے رہوں گی آپ کے بغیر۔۔۔
لو بھئی شوہر کے بغیر عورت یہ کہتی ہے اور تم دادی کو ایسے بول رہی۔۔۔ دادو نے ہنس کر بولنے پر اس نے خفگی سے منہ بنایا تھا۔۔
اور اس کے یوں منہ بنانے کر وہ ہنس دیں
جھلی نا ہو تو۔۔۔۔
ان کی فلائٹ نو بجے کی تھی اس لئے وہ سب سے ملکر نکلے تھے فلائٹ میں بیٹھنے کا اس کا یہ پہلا تجربہ تھا مگر وہ یہ ابراہیم پر ظاہر نہیں کرنا چاہتی تھی
اس لئے پورے اعتماد سے اس کے قدم سے قدم ملا کر چلی تھی
مگر جیسے ہی جہاز نے اڑان بھری اس کا دل ڈوبا تھا اس نے سختی سے ابراہیم کا بازو تھاما تھا اور سر اس کے ہاتھ پر رکھا تھا ابراہیم نے اسے چونک کر دیکھا تھا
میچی آنکھوں کے ساتھ ابراہیم کو وہ چھوٹی سے بچی لگی تھی
ریلیکس آنسہ کچھ نہیں ہے۔۔۔اسے اپنے لہجے کی نرمی پر حیرانی ہوئی تھی
نہیں مجھے ڈر۔۔۔۔ لفظوں کو توڑ کر کہتی وہ اسکے ہاتھ پر اپنی گرفت مضبوط کرگئی
اور اسے دیکھ وہ مسکرایا
چلو بھئی یہ جھانسی کی رانی بھی کسی چیز سے ڈرتی ہے۔۔۔
پورے سفر نے ایک لمحے اسکا ہاتھ نہیں چھوڑا تھا
ائیر پورٹ پر اترتے ہی اس نے ایک دم اسکا ہاتھ چھوڑا تھا
باہر نکلتے انہوں نے اس شہر کو دیکھا تھا جس کے بارے میں جیسا سنا تھا ویسا ہی پایا۔۔
اپارٹمنٹ کے باہر گاڑی رکتے ہی وہ باہر نکلے تھے
مگر اپارٹمنٹ کے اندر جاکر وہ چونکے تھے وہ جو سوچ کر آئے تھے کہ یہاں آزادی سے رہ سکیں گے اس ایک روم کے اپارٹمنٹ کو دیکھ ارمانوں پر اوس پڑی تھی
وسیع لاونج کارنر پر موجود کچن کا دروازہ اور باہر کی طرف ڈائننگ ٹیبل۔۔۔
سامنے بالکونی میں کھولتا دروازہ اور اس کے ساتھ منسلک بیڈ روم۔۔۔
سامان لاونج میں رکھتا وہ صوفے پر ڈھے سا گیا تھا۔۔
تھکن سے برا حال تھا بھوک بھی لگ رہی تھی مگر گھڑی اس وقت رات کا ایک بجا رہی تھی ۔۔
شٹ اس وقت تو کوئی ریسٹورنٹ بھی اوپن نہیں ہوگا۔۔ زور سے بڑبڑاتا وہ آنکھیں موند گیا۔
آنسہ نے ایک نظر اسے دیکھا اور کچن کا رخ کیا تھا مگر وہاں سوائے چند برتن اور کچھ نہیں تھا اور یقیناً یہ برتن صبح صفائی کرتے وقت رکھے گئے تھے کیونکہ ان کے ساتھ ہی چائے کا سامان رکھا تھا۔۔
کچھ سوچ کر اس نے چائے کا پانی چڑھایا تھا اور اندر کمرے میں آکر اپنے بیگ سے کچھ سامان نکال کر کچن کا رخ کیا تھا۔۔۔
کچھ دیر بعد وہ باہر آئی تو اس کے ہاتھ میں ٹرے تھی ٹرے ٹیبل پر رکھتے اس نے ابراہیم کو دیکھا تھا برتن کی آواز پر اٹھ کر سیدھا ہوا تھا۔۔۔
یہ سب۔۔
سامنے ٹیبل پر رکھے نوڈلز،چپس نمکو کے پیکٹ دیکھ اس نے حیرانی سے اسے دیکھا تھا
فلحال تو کچن میں کچھ بھی نہیں تھا کہ سامان میرے پاس تھا تو میں نے بنالیا شروع کریں۔۔
نوڈلز اس کی طرف بڑھاتی اس نے چپس کا پیکٹ کھولا تھا۔۔
تھینکس۔۔
کوئی بات نہیں بس کچھ ضروری سامان ہے برتن وغیرہ وہ ہمیں کچن کے لئے لانا پڑے گا۔۔
اس نے بولتے کے ساتھ چپس کا پیکٹ اس کی طرف بڑھایا تھا۔۔
کھانے کے برتن سمیٹ وہ اس کے آگے چائے کا کپ رکھتی واپس کچن میں گھسی تھی۔۔
اور چائے پی کے اس نے واقعی خود کو بہت ہلکا پھلکا محسوس کیا تھا
وہ کمرے میں آیا تو اسے کھڑکی میں کھڑا پایا۔۔
اس کی نظر بیڈ پر پڑی وہاں کوئی ایکسٹرا صوفہ وغیرہ نہیں تھا اور باہر موجود سیٹ اس قابل نہیں تھا کہ اس پر سویا جا سکے اسے ڈیلر پر رج کر غصہ آیا تھا ۔۔
یہ سامان کہاں رکھنا ہے مجھے نیند آرہی ہے۔۔
بیڈ پر اس کا سامان دیکھ وہ پوچھ بیٹھا تو اسنے آگے بڑھ کر اپنا سامان وہاں سے ہٹایا۔۔
میں نے ہٹا دیا ہے تم سوجاؤ۔۔ اسے بولتی وہ کمرے میں باہر کی طرف بڑھی تبھی اسکی آواز نے اسکے قدم جکڑے تھے
باہر کا صوفہ سونے کے قابل نہیں ہے اس لئے یہی بیڈ پر آجاؤ۔۔
اس کی آفر کر اسنے مڑ کر اسے دیکھا تھا
میرا مطلب تھا جب تک سیٹنگ نہیں ہوجاتی ہم شئیر کرسکتے ہیں بیڈ۔۔
اپنی بات کی وضاحت کرتا وہ پتا نہیں کیوں آنسہ کے چہرے پر مسکراہٹ لے آیا تھا
وضاحت کی ضرورت نہیں مجھے پتا ہے۔۔ اسے کہتی وہ باہر بڑھ گئی۔۔
تھوڑی دیر بعد وہ پانی کی بوتل لئے کمرے میں آئی تھی
بیڈ پر لیٹتے اس نے آنکھوں پر ہاتھ رکھا تھا مگر دماغ سوچوں سے خالی نہیں تھا۔۔۔
حسب معمول وہ کالج کے لئے گھر سے نکلی تو قدموں کی آواز اپنے پاس محسوس کرتے وہ ایک دم گھبرا کر مڑی تھی
جہاں ایک لڑکا اس کے پیچھے تھا اسے رکتے دیکھ اس کے قدم بھی رکے تھے اور اس نے ایک بھرپور مسکراہٹ اسکی طرف اچھالی تھی
کیسی ہو نور؟؟؟ اس نے مسکرا کر کہا تھا
اور اس کے منہ سے اپنا نام سن وہ ایک دم گھبرائی تھی اور اپنے قدم بڑھائے تھے
ارے میری بات تو سنو نور۔۔۔ رکو۔۔
اپنے پیچھے مسلسل اپنے نام کی آواز اسکو بدحواس کر رہی تھی قدم تیزی سے بڑھاتی وہ تقریباً بھاگتی ہوئی کالج میں داخل ہوئی تھی آنکھوں سے آنسوؤں کا سیل رواں ہوا تھا۔۔
خود کو سنبھالتی وہ واشروم کی طرف بڑھی تھی منہ دھو کر کلاس میں آئی مگر دل کہیں باہر کی اٹک گیا تھا ڈر کے مارے اسکے ہاتھ کپکپا رہے تھے۔۔
خود کو سنبھالتی اس نے پانی پڑھائی پر دھیان دیا تھا…
