Teri Meri Rah Mein by Fariha Islam Readelle50355 Teri Meri Rah Mein Episode 6
Rate this Novel
Teri Meri Rah Mein Episode 6
کیا ہوا سب سیٹ؟؟؟ وہ کمرے میں آتے ہی بستر پر ڈھے سا گیا تھا تو لیپ ٹاپ پر کام کرتے حاشر نے اس سے پوچھا
ہممم۔۔۔۔۔وہ آنکھیں موندے اپنے بالوں پر ہاتھ پھیر کر رہ گیا
کیا ہممم بول بھی اب کیا ہوا ہے۔۔۔حاشر کو اسکی خاموشی عجیب لگی تھی اس لئے وہ کام چھوڑے سیدھا ہوکر بیٹھا۔۔۔
ردابہ نے خود سے ہماری شادی کی بات کی ہے۔۔
ہیں ؟؟؟؟سچ بول رہا حاشر اپنا کام چھوڑ کر اس تک آیا تھا۔
اتنی بڑی خبر ایسے سوکھے انداز میں کیوں دے رہا ہے؟؟
کیونکہ میں خود شاکڈ ہوں مجھے تو لگا تھا میں اسے پرپوز کرونگا یہاں تو الٹا ہی ہوگیا۔۔اس نے اپنے بالوں میں ہاتھ چلایا تھا
ہاں تو کیا ہوا خیر ہے ماڈرن ایج ہے نا۔۔۔۔حاشر کو لگا وہ اس بات پر پریشان ہے
ابے بےوقوف یہ نہیں بول رہا بس میں نے کچھ اور سوچا ہوا تھا خیر اب جلد ہی اس سے بات کر کے دادو کو بتاؤ گا ورنہ اس بار وہ پکا کسی کو لے کر آجائیں گی اور نکاح پڑھوا دینگی وہ سڑے منہ سے بولا تھا۔۔
تو ظاہر ہے اٹھائیس سال کا ہوگیا ہے تو اب تو شادی کر لے۔۔۔ حاشر نے اسے جتایا تو وہ ہنس دیا
ہاں اب میں سیریس میں شادی کا سوچ رہا ہوں دادو کو بھی خوش کردوں
ارے گڈ میرا بچہ چل اب اسی بات پر آجا کھانا کھائیں میں نے پیزا آرڈر کیا ہے۔۔۔ حاشر کے پچکارتے پر وہ مسکرا دیا
تھینکس یار۔۔۔۔ وہ حاشر کا ہاتھ تھام کر باہر بڑھا۔۔۔
کوئی پریشانی ہے کیا؟؟؟حاشر کو ناجانے کیوں تسلی نہیں ہوئی تھی
پتا نہیں حاشر مگر کبھی کبھی ردابہ کا رویہ میری سمجھ میں نہیں آتا کبھی بہت اچھی تو کبھی بہت روڈ۔۔۔
خیر ہے یہ کونسی بڑی بات یار امیر باپ کی بیٹیاں ایسی ہی ہوتی ہیں۔۔
ایسا تو نہیں ہے
اوئے شیرنی نہیں کیا کر پھڈے فضول میں سب تجھے لڑاکا سمجھے گے…
علی نے اسے سمجھایا جو پورا راستہ بکتی آئی تھی
تو تو چپ کر وہاں اس کو سوری بول رہا تھا ارے یہ بڑے گھر کی لڑکیاں ہم لوگوں کو کیڑا سمجھتی ہیں ان کو اوقات دیکھانا بہت ضروری ہے۔۔۔غصے سے بولتے اس نے علی کو گھورا
اچھا نا چھوڑ بس اب غصہ تھوک دے آجا تجھے آئسکریم کھلاؤ۔۔
اسکا موڈ ٹھیک کرنے کی خاطر وہ اسے لئے شاپ تک آیا تینوں کے لئے آئسکریم لی پھر وہ گھر آئے تھے امل تو ڈائریکٹ گھر ہی آئی تھی جہاں زلیخا غصے میں بھری بیٹھی تھی
کچھ تجھے خیال نہیں ہے نا جوان جہاں لڑکی ایسے دندناتی پھرتی ہے کچھ الٹا سیدھا ہوگیا دنیا تھو تھو کرے گی مجھ پر۔۔۔اسے دیکھتے وہ پھٹ پڑی تھیں
ہاں تو تجھے دنیا کی فکر ہے اور اپنی کہ دنیا تجھے برا کہے گی تو فضول میں میری فکر کا ناٹک نہیں کیا کر
اور ویسے بھی دم گھٹتا ہے اس گھر میں میرا۔۔۔۔
ہاں تو جان کیوں نہیں چھوڑ دیتی شادی کر اور اپنے گھر جا۔۔
ہاں ہاں چلی جاؤں گی تم فکر نہیں کرو جب وقت آئے گا چلی جاؤں گی لیکن یہ مت سمجھنا یہ اس گھر پر تم اکیلی حکومت کرو گی
ہاں ہاں تیرا ہی گھر ہے رکھ تو سنبھال کر ارے میرے دم سے چلتا ہے یہ گھر ورنہ تو نے تو برباد کرنا تھا سب کچھ۔۔۔۔
وہ تو جیسے بھری بیٹھی تھیں
ارے رہنے دو برباد تو پہلے ہی سب ہے منحوس گھڑی تھی جب تم میرے باپ کی زندگی میں آئیں میری ماں کی جگہ تو تم پھر بھی نہیں لے سکی
وہ بھی مقابلے پر آگئی تھی۔۔۔
نور نے افسوس سے ان دونوں کو دیکھا جو ایک دوسرے سے اس طرح بات کرتی تھیں جیسے دشمن ہو
اس نے تکیہ میں منہ دے دیا کیونکہ ان دونوں کو سمجھانا اب بے کار تھا
وہ باہر سے لڑ جھگڑ کر اب اسکے برابر میں آکر لیٹ گئی
جان عذاب ہوگئی ہے![]()
سوجاؤ آنسہ مجھے نیند آرہی ہے
ہاں تو مرو تم میں نے کب جگایا تمہیں وہ منہ بنا کر کہتی کروٹ لے کر لیٹ گئی
ایک آنسو اس کی آنکھ سے گرا وہ بہت مضبوط تھی زندگی کا مقابلہ کرنا جانتی تھی چھوٹی سی عمر میں ہی اس نے بہت کچھ سیکھ لیا تھا لیکن کبھی کبھی وہ کمزور پڑنے لگتی تھی لیکن ہمت کرنی تھی اسے جہاں وہ کمزور پڑی سب اسے زندہ رہنے نہیں دینگے۔۔۔۔
زلیخا نے اپنا کام شروع کردیا تھا اس لڑائی کے بعد وہ زیادہ تر وقت کتابوں میں گھسی رہتی انٹر تو اسے کرنا ہی تھا اسی لئے پیپرز تک اسنے اپنی ساری ایکٹیویٹی ترک کردی تھی
بس گھر میں رہ کر ہی اپنے کام کرتی رہتی علی اور شان سے بھی اس کی ملاقات نہیں ہوئی تھی روشنی البتہ آکر چکر لگا جاتی تھی
اسے ثابت کرنا تھا کہ وہ بھی کسی سے کم نہیں ہے
تین مہینے اس نے بس خود کو دئیے تھے سب حیران تھے کہ اسے کیا ہوا لیکن زلیخا سکون میں تھیں انکی جاب بہت اچھی چل رہی تھی محنتی تو وہ بہت تھی اس لئے انکا کام وہاں کے لوگوں کو پسند بھی بہت آرہا تھا وہ اپنے کام اور جگہ دونوں سے مطمئن ہوگئی تھیں
کیا ہوا؟ ابراہیم اس کے ساتھ ساحل پر آیا تھا جہاں اسکے لئے ابراہیم نے اسپیشل ارینجمٹ کروایا تھا
جسے دیکھ کر وہ بہت خوش ہوئی تھی تب ابراہیم نے اسکا ہاتھ تھاما اور خود گھٹنوں کے بل بیٹھا
ول یو میری می ؟؟؟؟
اس نے انگوٹھی اس کے آگے کی۔
وہ شاکڈ سے اسے دیکھنے لگی
کیا ہوا؟؟ اسے یوں خاموش کھڑا دیکھ اسے عجیب سا لگا تھا
کچھ نہیں ہوا بس حیران ہوں اتنا جلدی یہ سب۔۔۔۔ وہ مصنوعی سا مسکرائی
جلدی تو نہیں ہم اتنے سالوں سے ساتھ ہیں اور پھر اس دن تم نے ہی تو ہرپوز۔۔۔ اس نے بات ادھوری چھوڑی
اووو کم اے بی پرپوز کرنے میں اور شادی کرنے میں بہت فرق ہے پرپوز کر کے ہم سب میں کلیئر کردیتے کہ وی آر ان ریلیشن شپ اور شادی تو بہت بڑی کمٹمنٹ ہے جس کے لئے میں تو فلحال ریڈی نہیں ہوں
پر درا۔۔۔۔
پلیز اے بی ٹرائے ٹو ایڈرسٹینڈ می دیکھوں میں منع نہیں کر رہی تم سے شادی کے لئے بٹ ابھی کچھ ٹائم چاہیے۔۔۔
ٹھیک ہے تم ٹائم لو لیکن ایٹلیس انگیجمنٹ تو کر سکتے ہیں نا
نہیں وہ بھی نہیں اور پلیز فیملی کو ابھی کچھ بھی مت بتانا۔۔۔
خیر ابھی چلو یہاں سے مجھے کچھ کام ہے وہ بیگ اٹھا کر آگے بڑھ گئی لیکن وہ وہی کھڑا تھا وہ سمجھ رہا تھا اسے ٹائم چاہئے ظاہر ہے شادی اتنی جلدی تو ہوتی نہیں ہے
لیکن خود بول کر اس طرح کرنا اسے سمجھ نہیں آیا تھا
اسے گھر ڈراپ کر کے وہ فلیٹ آیا تھا جہاں حاشر وڈیو کال پر بات کرنے میں مصروف تھا وہ اتنی فرصت سے دادی سے ہی بات کرتا تھا اسنے حاشر کو اشارہ کیا کہ اس کا نا بتائے ورنہ شادی لیکچر پھر شروع ہوجانا تھا
کیا ہوا موڈ کیوں آف ہے؟؟؟فون بند کرتا وہ اس کی طرف مڑا تھا
نتھنگ تو بتا کیا ۔۔۔۔
جھوٹ تو بولا بھی مت کر مجھ سے
دادی کیا بول رہی تھیں ؟؟؟؟
وہی تیری شادی اور اس بار وہ حد سے زیادہ سیریس ہیں
تو کیا کرو میں ردابہ ابھی شادی نہیں کرنا چاہتی اسے ٹائم چاہیے میں یہ بات دادی کو بول بھی نہیں سکتا عجیب مسئلے میں پھنس گیا ہو میں۔۔
ردابہ نے صاف منع کردیا ہے ابھی فیملی میں بتانے سے۔۔۔وہ بیزار ہوا تھا
میرے پاس ایک حل ہے۔۔۔ حاشر کے بولنے پر اس وہ ایک دم چونک کر اٹھا تھا
کیا؟؟؟؟
تھوڑا رسکی ہے…
تو بول نا یار۔۔۔۔وہ بےچین ہوا تو حاشر نے لمبا سانس کھینچا
تو دادی کو بول تونے یہاں شادی کرلی ہے۔۔پٹاری میں سے بم نکلا تھا
دماغ خراب ہے تیرا؟؟۔ وہ ایک دم بھڑکا تھا
سن تو لے یار۔۔۔حاشر نے یوں اسکے غصے پر برا منایا تو وہ سر ہلا گیا
دیکھ تو دادی کو یہ بولے گا تو ظاہر ہے انہیں برا لگے گا ناراض ہونگی تو کچھ عرصے تک تجھے ٹائم مل جانا پھر بعد میں ردابہ کے مانتے ہی بول دینا کہ میں نے مذاق کیا تھا کون سا دادو نے یہاں آکر تیری وائف کو دیکھنا اور ان کی ناراضگی کا تو تجھے ویسے ہی پتا ہے۔حاشر کی بات اسکے دل کو لگی تھی
آئیڈیا برا نہیں یار وہ متاثر ہوا تھا اس آئیڈیا سے
ویسے بھی اگر دادی ایک بار ناراض ہوجائے تو پھر بہت مشکل سے مانتی ہیں اور میرے پاس اتنا ٹائم ہوگا کہ ردابہ مان جائے تب تک میں خود بھی کانٹیکٹ نہیں کرونگا۔۔وہ آگے کی پیلنگ کررہا تھا
واہ یار حاشو میری جان وہ اسکے گلے لگا
اچھا اچھا زیادہ نہیں
ویسے یہ کام کرے گا؟؟؟اس نے حاشر کو دیکھا
بلکل۔۔۔۔
چل پھر سوچتے کیا کرنا اگے
وہ دونوں اپنی پلینگ میں مصروف تھے یہ جانے بغیر کے کاتب تقدیر پہلے ہی ان کے لئے سب لکھ چکے ہیں ۔۔۔۔۔۔
