Teri Meri Rah Mein by Fariha Islam Readelle50355 Teri Meri Rah Mein Episode 16
Rate this Novel
Teri Meri Rah Mein Episode 16
فنکشن کے اختتام تک وہ بے تحاشہ تھک گئی تھی گیارہ بجے کے قریب حاشر ان لوگوں کو گھر چھوڑ کر گیا تھا ہرے گرارے میں موجود نور کو دیکھ اس نے بمشکل نظریں ہٹائی تھیں۔۔
اور اب بھی فنکشن میں لی اسکی تصویر دیکھتے وہ مبہوت سا ہوا تھا
جبکہ دوسری طرف اسکی فیلنگ سے انجان وہ آنسہ کے پاس بیٹھی تھی
کچھ بات ہی کرلے میں بور ہورہی۔۔وہ سخت بیزار ہورہی تھی
سوجا نور قسم سے سر درد سے پھٹ رہا ہے میرا۔۔۔
دفع ہوجا مر تو۔۔وہ منہ بنا کر کہتی کروٹ بدل گئی۔۔
جبکہ دوسری طرف اس نے اپنے آنسو پونچھے تھے۔۔۔۔
اگلا دن اس کی زندگی میں عجیب سی ویرانی لایا تھا
بارات ان کے چھوٹے سے گھر میں آئی تھی اور زلیخا کے کہنے پر یہ سب ہوا تھا وہ دولہن بنی بے حس و حرکت بیٹھی تھی تبھی زلیخا کمرے میں آئی تھیں
جا نور مہمانوں کو دیکھ۔۔۔
جی اماں۔۔فراک سنبھالتی وہ کمرے سے باہر نکل گئی۔۔
اتنی شریف ہے تو نہیں جتنی تو بن رہی لیکن خیر آج میں کوئی بدمزگی نہیں چاہتی مگر۔۔
وہ لمحے کو رکی تھیں…
میں نہیں چاہتی کہ دوبارہ کبھی اس گھر میں قدم رکھے۔۔۔ تیرے جو لچھن ہیں وہ میری بیٹی کے کردار پر بھی داغ لگا دینگے۔۔۔
اس نے حیرت سے اس عورت کو دیکھا تھا۔۔
ایسے مت دیکھ اور رہی بات اس مکان اور دوکان کی تو بے فکر رہ وہ تیرا ہی رہے گا بس اپنا منحوس وجود لے کر واپس مت آنا۔۔۔
اپنی بات کہہ کر وہ رکی تھی
جبکہ اس کے پاس تو شاید الفاظ ختم ہوگئی تھے یا آواز گنگ۔۔
خاموشی کے ساتھ وہ باہر آئی تھی رخصتی کے وقت گھونگھٹ لئے اسکی آنکھ سے ایک آنسو بھی نہیں گرا تھا
جس کے لئے قربانی دی وہ خود اس کے کردار کو داغدار کرگئی اپنا فیصلہ اس نے اللّٰہ کے سپرد کیا تھا۔۔۔
حیات مینشن میں اسکا استقبال بیت شاندار انداز میں ہوا تھا مگر وہ تو جیسے گونگی بہری ہوگئی تھی
ابراہیم نے کسی بھی طرح کی رسم کرنے سے صاف انکار کردیا تھا
لیکن پھر بھی دادو اور کنزہ نے ضد کر کے رسمیں ادا کی تھیں۔۔
ان سب سے بیزار ہوتا وہ لان میں آیا تھا
اپنا بولا جھوٹ بہت برے طریقے سے اس کے گلے پڑا تھا
سیگریٹ سلگھاتے وہ سخت مضطرب تھا اندر وہ لڑکی اس کی بیوی کے روپ میں موجود تھی جو اسے سخت ناپسند تھی
موبائل نکال کر اس نے ردابہ کی تصویر کھولی تھی اور اسے خود پر غصہ آیا وہ جذبات میں ایک اور غلط قدم اٹھا چکا تھا
اس نے واپس موبائل پاکٹ میں رکھا ہی تھا کہ وہ رنگ ہوا تھا
موبائل پر ردابہ کا نمبر دیکھ اسے ٹھیک ٹھاک جھٹکا لگا تھا
لمحے سے پہلے اس نے کال ریسیو کی تھی
ابراہیم۔۔۔اسے لگا وہ روئی ہے۔۔
کیا ہوا ہے ردابہ آر یو اوکے؟؟ وہ پریشان ہوا تھا
میں ٹھیک ہوں ائم سوری میں ہرٹ کرتی ہوں مگر میں نہیں رہ سکتی تمہارے بغیر۔۔
تو آجاؤ نا واپس۔۔
اسکی آواز سن وہ موم بن کر پگھلا تھا..
ابراہیم تم جانتے ہو نا میں نے اس سب نے لئے کتنی محنت کی ہے اب مجھے چانس ملا ہے تو میں نہیں چھوڑ سکتی پلیز۔۔
بٹ آئی پرامس میں وہاں سے آتے ہی گھر میں بات کرونگی پلیز مینج کرلو۔۔
ٹھیک تم ریلکس کرو میں انتظار کرونگا۔۔
اسے تسلی دیتے اس نے فون رکھا تھا
مگر اب اس کو اگلا لائحہ عمل تیار کرنا تھا اسے ردابہ کے آنے تک اس زبردستی کے ان چاہے رشتے کو گھسیٹنا تھا ۔۔۔
کنزہ اسے کمرے میں بیٹھا کر گئی تو سجے کمرے کو دیکھ اسکو وحشت ہوئی تھی لمحے کو دل کیا سب نوچ ڈالے اس انسان کا گریبان پکڑ کر پوچھے کیوں اس نے اپنی خاطر اس کو ہوں رسوا کروایا
وہ ایک جھٹکے سے اٹھی تھی اپنے اوپر سے ایک ایک سامان نوچ نوچ کر اتارتی وہ وحشت زدہ سی ہوگئی تھی۔۔
کوئی اسے اس حال میں دیکھتا تو اسکا دل پھٹ جاتا۔۔۔
ناجانے وہ کتنی دیر یونہی بیٹھی رہی۔۔ہوش آیا تو اپنے آپ کو دیکھ وہ بے یقین ہوئی تھی۔۔
اٹھ کر خود کو سنبھالتی وہ منہ دھو کر صوفے پر آکر بیٹھی تھی
نہیں آنسہ نہیں تو ایسی نہیں ہے تو یوں ہمت نہیں ہار سکتی۔۔
خود کو ہمت دیتی وہ صوفے پر کشن ٹھیک کرتی آنکھیں موند گئی۔۔۔۔
تقریباً آدھے گھنٹے بعد اس کمرے کا دروازہ کھلا تھا اور وہ اندر داخل ہوا تھا
اندر آتے ہی اسکی نظر صوفے پر لیٹی آنسہ پر پڑی تو حلق میں کڑواہٹ گھل گئی۔۔
اچھا ہے جو اپنی اوقات خود ہی جانتی ہے مجھے اس پر اپنی الفاظ ضائع نہیں پڑے۔
بہت جلد چھٹکارہ حاصل کرلوں گا بس ایک بار ردابہ آجائے۔۔
شیروانی سائیڈ پر رکھ وہ فریش ہونے گیا تھا واپس آکر لائٹس آف کرتے اسکے دماغ میں بس ردابہ تھی۔۔۔۔
صبح اسکی آنکھ کافی دیر سے کھلی تھی رونے کی وجہ سے آنکھیں سر دونوں بھاری ہورہا تھا
جسم درد سے دکھ رہا تھا وہ اپنا سر تھام کر رہ گئی
کیا مصیبت ہے یار۔۔
بڑبڑاتی وہ دوپٹہ سنبھالتی اٹھی تھی تبھی واشروم کا دروازہ کھولتا وہ اندر کمرے میں آیا تھا۔۔۔
نکھرا نکھرا سا نم بال ماتھے پر پڑے ہوئے تھے جنہیں ہاتھوں کی مدد سے پیچھے کرتا وہ ڈریسنگ مرر کے سامنے کھڑا ہوا تھا وہ اس کے سائیڈ سے نکلتی واشروم کی طرف بڑھی تھی تبھی اس کی آواز نے اس کے قدم روکے تھے۔
تمہیں صوفے پر دیکھ اچھا لگا مطلب تم اپنی حیثیت اور اوقات دونوں جانتی ہو آگے بھی اسی طرح کی سمجھداری کی توقع رکھو گا مجھے مایوس مت کرنا۔۔۔۔اس کے لہجے میں جتنی چبھن تھی یہ صرف وہ ہی جانتی تھی۔
مضبوط قدم جماتی وہ ایک دم اسکی سامنے آئی تو اس نے اپنی آئی برو اچکائی تھی۔۔
حیثیت اور اوقات کی بات وہ لوگ کرتے ہیں جن کی خود کی کوئی عزت ہوتی ہے اینڈ یونو تمہاری اوقات کیا ہے؟؟؟
تم جیسوں سے بات کرنا تو دور میں انہیں دیکھنا بھی پسند نہیں کرتی کجا کہ تمہارے اس بیڈ کو استعمال کرنا تو یہ غلط فہمی تو دور کرلو کہ مجھے تم سے کوئی مطلب۔
آنسہ تو کبھی کسی کی اترن نہیں پہنتی چاہے وہ کپڑے ہی کیوں نا ہوں اور تم تو پھر۔۔
سینے پر ہاتھ باندھے اس نے دانستہ جملہ ادھورا چھوڑا تھا
خیر صبح صبح مجھے میرا موڈ تمہاری شکل دیکھ کر خراب نہیں کرنا تو کوشش کرنا مجھ سے کم کم ہی مخاطب ہو۔۔
مضبوط لہجے میں کہتی وہ واشروم کی طرف بڑھ گئی
جبکہ وہ کھولتا اپنا غصہ ضبط کرنے کے چکر میں لال ہوگیا تھا…
سمجھتی کیا ہے خود کو جنگلی جاہل۔۔۔وہ بڑبڑایا تھا تبھی دروازے پر ہوئی دستک اسے کنٹرول رہنے پر مجبور کرگئی۔۔
سامنے کنزہ کو دیکھ وہ مسکرایا تھا
اٹھ گئے۔۔
جی بلکل اٹھ گیا دادو اٹھ گئیں؟؟
اسے راستہ دیتا وہ اس سے پوچھنے لگا
ہاں کب کی۔۔ اس نے جواب دیتے ساتھ ایک نظر واشروم سے نکلتی آنسہ کو دیکھا تو مسکرائی۔۔
مارننگ بھابھی جان۔۔۔ اسکی شوخی سے بھرپور پکار پر وہ مبہم سا مسکرائی۔۔
اسلام و علیکم۔۔وہ آگے بڑھی تو کنزہ نے اسے ساتھ لگایا۔۔
ابراہیم نے حیرت سے اسے دیکھا جو ابھی اس کے ساتھ بکواس کر کے گئی تھی اور اب اسکی بہن سے میٹھی بن کر باتیں کر رہی تھی۔۔
دوغلی عورت۔۔منہ ہی منہ بڑبڑاتے اس نے خود پر پرفیوم چھڑکا تھا
میں نیچے دادو کے پاس جارہا ہوں۔۔
تم بتاؤ کیا پہننا ہے؟ ابراہیم کے جاتے ہی کنزہ اس سے مخاطب ہوئی تھی
کچھ بھی۔۔ وہ مسکرا کر بولی
ویسے میں نے تو سنا تھا ہماری بھابھی شیرنی ہے مگر یہاں تو حالات ہی کچھ اور ہیں۔۔ کنزہ کے یوں چھڑنے پر اسے لگا کسی نے اسکے زخموں پر مرچیں بھر دی ہوں۔۔۔
بس جب انسان کو یہ یقین ہو کہ وہ اکیلا ہے اور اسے اس دنیا میں رہنے کے لئے خود ہی لڑنا ہے تو اسے شیر بننا پڑتا ہے ورنہ یہ دنیا اسے چیر پھاڑ کر رکھ دیتی ہے۔۔
اسکے لہجے کی سختی کو محسوس کئے کنزہ کو اپنے سوال پر پچھتاوا ہوا تھا
اچھا خیر دادو نے تمہاری امی کو ناشتے کا منع کردیا ہے یونو شام میں ولیمہ ہے تو اب تم جلدی سے ریڈی ہوجاو پھر سارا سامان بھی دیکھنا ہے۔
اور ہاں ابھی تو آجاؤ نا ناشتے کے لئے بلانے آئی تھی اور کیا کیا باتیں لے کر بیٹھ گئی۔۔
اسکا گال تھپتھپا کر وہ بولی تو اسے اپنے لہجے کی سختی کا اندازہ ہوا تھا۔۔
جی میں بس پانچ میں ریڈی ہوتی پھر ساتھ چلتے۔۔۔ مسکرا کر کہتی وہ جلدی سے تیار ہوئی تھی
نیچے لاونج میں قدم رکھتے ہی اس کی نظر سامنے صوفے پر حیات صاحب کے ساتھ بیٹھے ابراہیم پر پڑی تھی
بلیک ٹی شرٹ جینس میں کوئی کافی فریش لگ رہا تھا
ہونہہ دوسرا کا دل دکھا کر ناجانے لوگ کیسے اتنے مطمئن رہ سکتے ہیں۔۔
ارے ہماری بچی آگئی۔۔۔دادو کی نظر جیسے ہی اس پر پڑی وہ فوراً اٹھی تو وہ سب کو سلام کرتی ان کے پاس آئی تو انہوں نے اسے ڈھیروں پیار کیا تھا۔۔۔
بھئی اماں ہمیں بھی زرا دعائیں دینے دیں اپنی بہو کو۔۔
حیات صاحب کے انداز پر وہ کھول کر مسکرائی تھی۔۔
اور اٹھ کر ان کے پاس آکر بیٹھی تو انہوں نے شفقت سے اسکے سر پر ہاتھ رکھا تھا
چندا یہ اب تمہارا گھر ہے جو چاہے کرو کوئی روک ٹوک نہیں اور اگر یہ میرا نالائق کچھ کہے تو فوراً شکایت کردینا۔۔
ان کے شرارت سے کہنے پر وہ ہنس دی اور ابراہیم کو اس وقت وہ نیلے تھوتھے سے بھی زیادہ زیر لگی جو اس کے گھر والوں کو اسکے خلاف کرنے آگئی تھی۔۔
ولیمے کے لئے وہ لوگ ھال پہنچ چکے تھے زلیخا نور وغیرہ سب وہاں پہنچ چکے تھے
وہ اسٹیج پر مسکراتی سب سے مل رہی تھی سامنے سے آتے علی کو دیکھ وہ ایک دم اٹھی تھی۔۔
علی۔۔۔۔
آرام سے آرام سے دولہن بیگم۔۔ وہ مسکراتا اس کے پاس آیا تھا
اللّٰہ علی میں بتا نہیں سکتی کتنا مس کیا تجھے میں نے قسم سے۔۔فرط جذبات سے اسکا تھام تھامے وہ روہانسی ہوئی تھی۔۔۔
اوئے پاگل کوئی یوں دیکھے گا تو کیا سوچے گا۔۔رونا نہیں
کیا سوچے گا میں نے آج تک کسی کی پرواہ کی ہے؟؟
ہاں یہ بھی ہے ویسے اس ابراہیم کا رویہ تھیک تھا؟؟
ٹھیک اسے تو ٹھیک کرکے رکھ دونگی میں۔۔۔
وہ چبا کر بولی جیسے دانتوں میں ابراہیم ہو
اس نے انداز پر علی کا قہقہ گونجا تھا اور اپنی بات پر وہ خود بھی ہنسی تھی
جبکہ یہ منظر کسی نے بڑے جلے دل سے دیکھا تھا۔۔۔
