Tar e Ankaboot by Uzma Mujahid NovelR50607 Tar e Ankaboot (Episode 16)
Rate this Novel
Tar e Ankaboot (Episode 16)
Tar e Ankaboot by Uzma Mujahid
سیداں والی حویلی میں تہلکہ مچا تھا جہاں عدالتی سمن لیے عبدلباری پولیس کی بھاری نفری سمیت وہاں پہنچا ہوا تھا۔ملک کے بڑے بڑے پردہ نشینوں کا نام خبروں میں اٹھ رہا تھا اسیلئے میڈیا بھی آگ لگانے کو وہاں آن موجود ہوا تھا۔
“اس حرام زادے کو پیدا ہوتے زمین میں گاڑ کیوں نہیں دیا،غلطی کی بہت بڑی غلطی کی ہے۔”
حویلی کے اندرونی دروازے بند کردیے گئے تھے۔
جبکہ ثقلین شاہ مکمل طور پہ خود کو بےبس محسوس کررہے تھے۔
کتے رام داس کتے فتح محمد ایہو قدیمی شور
نپٹ گیا دوہاں دا جھگڑا ، نکل پیا کوئی ہور۔۔۔
الٹے ہور زمانے آئے، تاں میں بھید سجن دے پائے
کاں لگڑنوں مارن لگے، چڑیاں جرے ڈھائے
پیوپتراں اتفاق نہ کائی، دھیاں نال نہ مائے
آپنیاں وچ اُلفت ناہیں ، کیا چاچے کیا تائے
سچیاں نوں پئے ملدے دھکّے ، جھوٹے کول بہائے۔۔۔
حویلی سےملحقہ کئی ایک حجروں سے ایسی عورتیں بھی نکالی گئی تھیں جنکا سیدزات سے دور دور تک واسطہ نہیں تھا لیکن دنیا والوں کے سامنے ان حجروں کی طرف نگاہ اٹھانا بھی جرم تھا لیکن وہاں حویلی کے مردوں کی عیاشی کا مکمل سامان موجود تھا۔
“بابا سائیں آخر وہ چاہتا کیا ہے؟ اگر بات صرف زرمینہ شاہ کی ہوتی تب بھی ٹھیک تھا لیکن اس نے مقدمے میں افق کو بھی گھسیٹا ہے۔”
سبطین شاہ نے پریشانی سے ماتھا مسلا تھا ابھی تو باپ کو مکمل بات نہیں بتا رہا تھا جہاں واضع الفاظ میں اسکی ماں اور بیوی کوانکا نکاح پہ نکاح کرواتے ساتھ،حبس بےجا میں رکھنے کی درخواست تھی۔
زرمینہ شاہ کی حد تک معمالہ سب سمجھ رہے تھے لیکن
افق کیوں؟
یہ ایک سوال تھا جو سبکو پریشان حال کیے ہوئے تھا۔
“اس حرام زادے کی اتنی اوقات کے وہ ثقلین شاہ کے سامنے تن کے کھڑا ہو؟”
کیس تو شاید ثقلین شاہ جیت بھی جاتے لیکن میڈیا جو انکے سیاسی کرئیر کی بینڈ بجا رہی تھی وہ سوالیہ نشان تھا۔
ڈپٹی کمشنر سے لے کے سی ایم تک نے بھی انکی مدد سے ہاتھ اٹھا لیے تھے کیونکہ یہ معمالہ میڈیا ہینڈل کررہا تھا اب انہیں اپنی عزت بچانے کیلئے مزمتی بیان دینے تھے نا کہ ثقلین شاہ کا ساتھ۔
انکے سیاسی حریف بڑھ چڑھ کے بیانات دے رہے تھے جہاں سے باری کی پوزیشن اور مستحکم ہوگئی تھی۔
آخر کب تک وہ بھی اس طوفان کو روک پاتے لیڈی کانسٹیبلز ہر کمرے کی چھانٹی کررہی تھیں۔
اردگرد کے لوگ اسے دربار اور اسکے گدی نشینوں کی توہین قرار دے رہے تھے لیکن کب تک کے ان اندھے عقائد کے لوگوں کی وجہ سے یہ روایتیں پروان چڑھتیں۔
اور جب ظلم حد سے بڑھ جائے تو مٹ جاتا ہے،سیداں والی حویلی کے فرعونوں کا احتساب کیا جارہا تھا۔
تمام تر اونچے شملے اپنے پورے وجود سے زمین پہ مسمار ہوئے تھے۔
صرف مردوں کو ہی نہیں گھر کی تمام خواتین کو کٹگہرے میں کھڑا کیا جانا تھا۔
زرمینہ شاہ نے ایک بار عبدلباری سے ملنے کی خواہش کی تھی لیکن اس نے صاف انکار کردیا تھا وہ کمزور نہیں پڑنا چاہتا تھا وہ ذات کے تقدس کے سامنے خود کو کمزور نہیں کرنا چاہتا تھا شاید یہ بھی اسی کے انتقام کا کوئی نیا انداز تھا۔
بُلھے نوں سمجھاؤن آیاں بہناں تے بھرجائیاں
آلِ نبی اولاد علی دی توں کیوں لیکاں لائیاں
من لے بُلھیا ساڈا کہنا ، چھڈ دے پلّہ رائیاں
دور کہیں بلھے شاہ کے مسکن پہ آنے والوں نے یوں بےنامی کی راہ چننے والوں کے جیسے تنبہی عبدلباری کو بھی کی تھی ۔سادات کا خون بھی تو اس میں شامل تھا جسکی لاج رکھنے کی دہائی دی جارہی تھی لیکن اس نے تمام قومیت،ذات کے تفرقے میں پڑے بغیر اس وقت کو آنکھوں کے سامنے لایا جب وہ ایک لاچار پنچھی کی طرح دربار کی چوکھٹ کا سائل تھا اسکی کوئی شناخت نہ تھی تو آج بھی اسے زرمینہ شاہ سے کوئی شناخت نہیں چاہیئے تھی۔
جیہڑا سانوں سیّد آکھے ، دوزخ ملن سزائیاں
جہیڑا سانوں رائیں آکھے ، بہشتیں پینگاں پائیاں
جے توں لوڑیں باغ بہاراں ، طالب ہو جا رائیاں۔۔۔
دقیانوسی رسوم و رواج اور روایتی بندھن ٹوٹ رہے تھے۔
ان زنجیروں کے چٹخنے کی آواز غلام گردشوں کو بھی چونکا رہی تھیں۔
نسلی تفاخر کو خاک میں ملانے کی پاداش میں ایک مخصوص طبقے کی طرف سے جو ثقلین شاہ جیسی روایت کی پاسداری کررہا تھا عبدلباری کو بار بار زیر عتاب لایا جارہا تھا۔
لیکن وہ اپنی سرمستی اور دھن میں چلتے مذہبی پیشواؤں کی چیرہ دستیوں کو تنقید کا نشانہ بنا رہا تھا۔
میڈیا نےے بھی عبدلباری کی بہادری ، جرات اور دلیری کا ساتھ دیتےان مذہبی ٹھیکیداروں کو رد کر دیا تھا۔
ملّا تے مشالچی دوہاں اکو چت
لوکاں کردے چاننا تے آپ ہنیرے وچ
کئی ایک علامہ نے بھی اس مسئلے کو سراسر اسلام سے مذاق کہتے اسکی بھرپور تردید کی تھی۔
ہرطرف ایک طوفان برپا تھا جہاں میڈیا اس آگ کو مزید تیلی لگا رہا تھا۔دربار پہ تالے پڑ گئے تھے آنے والے زائرین مایوس لوٹ جاتے۔
مسجد کے میناروں پہ بیٹھے پرندے تاسف سے اس آدم زاد کو دیکھتے جو درگاہ کے بند ہونے پہ تو مایوس لوٹ رہا تھا لیکن دوقدم پہ بنائی مسجد کی چوکھٹ کھلی دیکھ اسے خوشی نہیں ہورہی تھی ۔
کئی لوگوں کا کاروبار دربار سے منسلک تھا وہ ٹھپ ہوکے رہ گیا تھا ۔
کوئی چلتا پھرتا مسافر کچھ دیر سستانے کو وہاں ٹہرتا تو دربار کے پرندوں کی نظر اپنا بچا ہوا کھانا رکھ جاتا۔
پرندے بھی حیران تھے کہ انکا پیٹ درباروں پہ منت کا نام لے کے پھینکے جانے والے دانوں سے بھررہا تھا کہیں کوئی بھی انہیں اللّٰہ کے نام پہ اور برائے ایصال ثواب لقمہ نہیں دیتا تھا ۔
تو کیا سیداں والی دربار کے نیشنوں کی قبریں اب برکت اور منتیں پوری نہیں کرنے والی تھیں؟
یہ کیسے قبر نشین تھے جو کھلے دروازے ،برستے نوٹوں سے تو لوگوں کی خواہشیں پوری کرتے تھے لیکن تالے لگے کمروں سے وہ لوگوِں کو عطا نہیں کرپا رہے تھے ۔
کوئی ایک ایسا فرد واحد بھی وہاں نہیں تھا جو ایک بار سوچ لیتا اگر یہ قبر نشین ہماری منتیں پوری کرنے والے ہیں تو انہیں تالوں سے کوئی فرق نہیں پڑنا چاہیئے لیکن انہیں فرق پڑرہا تھا کیونکہ یہ وہی لوگ تھے جنکی عقل پہ تالے پڑے تھے۔
جنکی رسی دراز کردی گئی تھی جو بصارتوں کے ہوتے ہوئے بھی دیکھنے سے محروم تھے۔جو اس ذات کی نفی کررہے تھے جو زندہ وجاوید رہنے والی ہے ،جسے معاذاللّٰہ موت کی پرچھائی کا ڈر نہیں،جسے نہ نیند آتی ہے نا اونگھ ،نا تو وہ کسی کی کوئی اولاد ہے نا ہی وہ کسی کی اولاد ہے تو پھر سمجھنے والوں کی عقل پہ پردہ کیوں؟
وہ ایک جو پاک ہے ستر ماؤں سے زیادہ پیار کرنے والی ہے، شہہ رگ سے قریب تر ،تو کیا وہ اپنے بندے کی صدا نہیں سنے گی؟تو کیا وہ جو خلق کائنات کا بانی ہے اپنے بندے کو راہ مستقیم کی طرف بلانے والا،ابراھیّم (علیہ سلام)
کو آگ سے بچانے والا،صفاء،مروہ کی درمیان سے زم زم کی نوید سنانے والا،پتھر میں بھی کیڑے کو رزق عطا کرنے والا ،نوح کی کشتی کو طوفان سے بچانے والا،موسیٰ کیلئے نیل سے راستہ بنانے والا رب اپنے بندے کی کیوں نہیں سنے گا؟جس نے خواہش بھی تو کیا۔۔۔
مجھے پکارو۔
“میں پکارنے والوں کی پکار ضرور سنتا ہوں”
(البقرہ)
اور۔۔
الله أكبر، الله أكبر۔۔
،میری پکار سنو! وہ پکار جو پانج وقت تمہیں میری بڑائی اور کبریائی کا یقین دلاتی ہے۔۔
أشهد أن لا إلا الله۔۔۔۔
وہ پکار جو شہادت کی ہوتی ہے ایسی شہادت رب باری کی ذات واحد ہے ،یکتا ہے،اسکا کوئی شریک نہیں ،وہ جو کلمہ گو ہونے کا حق ادا کردے نا کہ کلمہ گو کی زبان پہ خدا کی پکار سے زیادہ قبر نشینوں کی تختیوں کو اہم جانا جائے ۔۔۔
أشهد أن محمد رسول الله۔۔۔
اے قبر نشینوں کے پیروکار اس محمد عربیﷺ
کی گواہی مانو اسکی بات سنو جس نے اپنی امت سے کہا میرے مرنے کے بعد میری قبر کو سجدہ گاہ نا بنا لینا ،جو کسی قبر نشین کی طرف گئے تو سلام کہتے ساتھ صرف یہ کہا ہم بھی جلد تم سے آملیں گے۔وہ لوگ جو تمہاری دعا کے منتظر ہیں بھلا وہ اپنے مسمار وجود کے ساتھ تمہیں کیا دیں گے؟
حي على الصلاة۔۔
حي على الفلاح۔۔
دور میناروں سے اصلاح اور فلاح کی آواز بلند ہوئی تھی لیکن میزاروں سے نہیں۔
ہرطرف انسانیت کے مرجانے اور انسانوں کے زندہ رہنے پہ اداسی چھائی تھی۔
عِلموں پئے قضیے ہور
اکھیں والے انھی کور
پھڑ لئے ساہ تے چھڈے چور
دوہیں جہانیں ہویا خوار
عِلموں بس کریں او یار
پڑھ پڑھ مسئلے روز سناویں
کھانا شک شبہے دا کھاویں
دسّیں ہور تے ہور کماویں
اندر کھوٹ باہر سچیار
علموں بس کریں او یار
پڑھ پڑھ نفل نماز گزاریں
اُچیاں بانگاں چانگھاں ماریں
منبر چڑھ کے واعظ پکاریں
تینوں کیتا حرص خوار
علموں بس کریں او یار۔۔۔۔۔۔
✪✪✪✪
“آپکی بیل ہوگئی ہے بیبی آپ جاسکتی ہیں۔”
وہ جو کچھ دیر پہلے حویلی کے باقی مکینوں کے ساتھ
تھانے پہنچی تھیں حیران رہ گئیں۔
“وکیل صاحب۔”انسپکٹر نے شاید وکیل کو بلایا تھا۔
زرمینہ شاہ کی نظریں بےساختہ آنے والے کی طرف اٹھی تھیں جہاں فیضان بلکل پروفیشنل انداز میں ہاتھوں میں ڈاکومینٹس لیے اندر آیا تھا۔
“سر یہ انکے قبل از وقت گرفتاری کی ضمانت کے کاغذات۔” فیضان نے کچھ کاغذات انسپکٹر کے سامنے رکھے تو اس نے خفیف سا اشارہ کرتے ساتھ انہیں لے جانے کا اشارہ کیا تھا۔
فیضان مطمئن سا افق اور زرمینہ شاہ کو لیے گاڑی کی طرف بڑھ گیا تھا۔
عبدلباری نے ایک سلگتی نگاہ ان سب پہ ڈالی جہاں وہ خود کو چادر سے چھپائے فیضان کے ساتھ جارہی تھیں۔۔
وہ سلگتے ہوئے انسپکٹر کے سر پہ پہنچا تھا ۔
“دیکھیں سر انکے پاس دائر کیس کی ڈگری اور باقاعدہ جج کے فیصلہ منسلک تھا یہ سراسر قانونی چارہ جوئی کے ساتھ ہوا ہم اس میں کچھ نہیں کرسکتے۔”
عبدلباری کے وکیل نے بھی اسے سمجھایا تھا۔
“ویسے بھی آپ کا جو مقصد تھا وہ پورا ہوچکا ہے،ثقلین شاہ سلاخوں کے پیچھے ہے اور حویلی میں ہو کا عالم برپا ہے،دربار پہ تالے پڑے ہیں جہاں تک خواتین کا بیان ریکارڈ کروایا گیا ہے وہ جبری طور پہ اس کا حصہ بنی ہیں۔”
وکیل نے فائل سے کچھ کاغزات نکالے اسکے سامنے کیے تھے جنہیں باری نے ہاتھ کا اشارہ کرتے ساتھ دیکھنے سے منع کیا تھا۔
“کیا یہ سچ ہے افق شاہ آپکے نکاح میں تھیں؟”
میڈیا جو اس سارے قصے کو کلیم کررہا تھا باری کو تھانے سے نکلتے لائیوو کوریج کیلئے آیا۔
“جی بلکل وہ ابھی بھی میرے نکاح میں ہے۔”
عبدلباری کی یقین بھری آواز تھانے میں موجود ٹی وی پہ گونجی تو سرجھکائے ثقلین شاہ نے سر اٹھایا تھا۔
“سر سننے میں آیا ہے کہ وہ آپکے بچے کی ماں بننے والی تھیں جنہیں ابارٹ کروا دیا گیا؟”
ایک اور صحافی کا سوال آیا تھا جو عبدلباری کیلئے بلکل غیر متوقع تھا اسکا دماغ بلکل سن ہوگیا تھا۔
“افق،بچہ،ابارٹ۔۔”لفظوں کی گونج اسکے دماغ پہ لگ رہی تھی ۔
“سر اب آپ کیا کریں گے جہاں میڈیا اور قانون کا پورا ساتھ ہے آپکے ساتھ ہے؟”دوسرے صحافی کا سوال آیا تھا جہاں عبدلباری کا وکیل آگے بڑھا تھا۔
“دیکھیں ہم مجرموں کو کیف کردار تک پہنچانا چاہتے تھے جسکی پہلی اینٹ رکھ دی گئی ہے باقی انشاءاللّٰہ کیس کا
جو فیصلہ ہوگا پھر ہی اس پہ بات ہوگی۔”
وکیل نے پہلو بچاتےجواب دیا تھا ۔
“سر ،سر باری سر، میڈیا والے اسے گھیر رہے تھے جبکہ وہ ان سے دامن بچاتا اپنی گاڑی کی طرف بڑھا تھا۔
“سر لاسٹ کیسچوئن پلیز زرمینہ شاہ کا تعلق آپکے چچا بریسٹر فیضان سے بنایا جارہا ہے اس رشتے میں کتنی صداقت ہے؟سر کیا وہ واقعی انکی بیل کروا کے گئے ہیں؟” ایک صحافی نے اسکی گاڑی کے شیشے کو بجاتے سوال کیا تھا۔
عبدلباری نے بنا کسی کو جواب دیے گاڑی بڑھا لی تھی۔
“آپکے بچے کی ماں بننے والی تھیں۔۔۔”
“بچہ ابارٹ ۔۔.”
“زرمینہ شاہ کا تعلق بیرسٹر فیضان سے۔۔”
جملوں کی تکرار تھی جو اسکا ذہن ماؤف کررہی تھیں۔
“نہیں افق شاہ تم ایسے نہیں کرسکتی تم ہمارے بچے کو۔۔۔”وہ ان گنت سوچوں میں الجھا سامنے سے آتی
ہائی اسپیڈ گاڑی کو نہیں دیکھ پایا تھا جب اپنا بچاؤ کرنے کے چکر میں وہ گاڑی ٹرن کرتے بےقابو ہوتے سامنے ہائی اسپیڈ بریکر سے ٹکرایا تھا۔
گاڑی بےتوازن ہوتی قلابازی کھاگئی تھی جہاں درد شدت کی سے تڑپ اٹھا اسے اپنی موت سامنے نظر آرہی تھی۔
“اللّٰہ” دنیا کو تہس نس کرنے پہ تلے شخص سے کتنے عرصے بعد اس مشکل کشاء کا نام لکھا تھا جس نے غفلت اور گناہوں میں ڈوبے شخص کو بھی لبیک بولتے اسکی حفاظت کرلی تھی۔
کیونکہ وہ اپنے بندے کو نہیں بھولتا چاہے اسے اسکا بندہ جتنا بھلائے رکھے۔۔
✪✪✪✪
“بب۔۔ بند کرو یہ ،جج۔۔ جھوٹ بھول رہا ہے یہ شخص مم۔۔ میری افق پپ ۔۔پاک ہے۔”
ثقلین شاہ کی آوازوں پہ سارا عملہ اکھٹا ہوا تھا جبکہ ساتھی قیدی بھی اسکی حالت دیکھتے پریشان ہو اٹھے۔
“نن۔۔نہیں۔۔افق۔”وہ زاروقطار زمین پہ بیٹھا رو رہا تھا۔
“جی بسم اللّٰہ سید صاحب بخیرو عافیت یہ فریضہ بھی پورا ہوگیا ہے مبارک ہو آپ کو۔”
“روٹی کھلاؤں پھر مہمان انتظار کررہے ہونگے ۔”
“دلہن بیٹی کو اسکے کمرے تک پہنچا دیا نا۔”
“ہاں اماں ماشآء اللّٰہ بہت خوش ہے ہمارے فیصلے سے۔”
وقت کی دھول ثقلین شاہ کی سانس میں بھررہی تھی۔
سیدہ بخت بھری اورماں کی آوازیں اسے ابھی کل کی بات لگ رہی تھیں جب انہوں نے افق کا نکاح قرآن سے کروایا تھا اور کچھ دن بعد انہوں نے اسکی بیماری کی خبر سنی تھی لیکن اب کے حقیقت کے ناگ پھن پھلائے انہیں ڈسنے کو تیار بیٹھے تھے۔
ثقلین شاہ کا تنفس تیز ہورہا تھا جہاں وہ دل پہ ہاتھ رکھے مندہم ہوئی عمارت کی طرح گرے تھے۔
“اللّٰہ” ایک درد میں ڈوبی پکار تھی۔
اونچے سنگھاسن پہ بیٹھے شخص نے دنیا کا پیراہن اوڑھے کئی بار اللّٰہ کا نام لیا تھا لیکن اب دیر ہوگئی تھی اسکا کروفر اسوقت ٹوٹا جب خدا نے اپنی رحمت کی دراز رسی کھنچتے اسے منہ کے بل گرایا تھا۔
تھانے میں ایک ہڑبونگ مچی تھی جہاں مندہم ہوئی عمارت کو اٹھانے کیلئے انتظامات کیے جارہے تھے۔
✪✪✪✪
جناح ہاسپٹل کراچی میں اسوقت دو ایمرجنسی کیس لائے گئے تھے جہاں پچاس سالہ ثقلین شاہ اور اکیس سالہ عبدلباری کو ایک ساتھ آئی۔سی یو میں لے جایا جارہا تھا۔
اسوقت تک کوئی انکے ورثان میں سے نا تھا۔
ہاسپٹل لاتے ساتھ پی آپریشن تھیٹر کی سرخ بتی
جلادی گئی تھی۔
دور مزار پہ بیٹھا فقیر اپنی دفلی بجاتےبابا بلھے شاہ کی کافی گنگنا رہا تھا۔۔۔۔۔۔۔
بلھیا کی جاناں میں کون ؟
نہ میں مومن وچ مسیتاں
نہ میں وچ کفر دیاں ریتاں
نہ میں پاکاں وچ پلیتاں
نہ میں موسی نہ فرعون
بلھیا کی جاناں میں کون ؟
نہ میں وچ پلیتی پاکی
نہ میں وچ شادی غمناکی
نہ میں آبی نہ میں خاکی
نہ میں آتش نہ میں پون
بلھیا کی جاناں میں کون ؟
نہ میں بھیت مذہب دا پایا
نہ میں آدم ہوا جایا
نہ کجھ اپنا نام دھرایا
نہ وچ بیٹھن نہ وچ بھون
بلھیا کی جاناں میں کون ؟
اوّل آخر آپ نوں جاناں
نہ کوئی دوجا ہور پچھانا
میتھوں ودھ نہ کوئی سیانا
بلھیا او کھڑا ہے کون
بلھیا کی جاناں میں کون ؟
