Tar e Ankaboot by Uzma Mujahid NovelR50607 Tar e Ankaboot (Episode 13)
Rate this Novel
Tar e Ankaboot (Episode 13)
Tar e Ankaboot by Uzma Mujahid
سلجوق شاہ کے سوئم کے بعد اسے فیضان کو کال کرنے کا خیال آیا تھا۔مسلسل بےآرامی کی وجہ سے اسکو اپنی طبیعت مزید گرتی ہوئی محسوس ہورہی تھی۔
وہ فون کی طرف بڑھ رہی تھی جب راستے میں ثقلین شاہ سے سامنا ہوگیا۔
جوان جہاں بھائی کی موت کے غم سے نڈھال شاید وہ اس حویلی کے مکینوں کو فراموش کرچکی تھی۔
“میرے ساتھ آؤ۔”
ایک جملے میں اپنے آنے کا مقصد بیان کرتے وہ اسے اپنے پیچھے آنے کا کہتے آگے بڑھ گیا ۔
وہ خاموشی سے سرجھکائے دھڑکتے دل سے اسکے پیچھے پھوپھی ماں کے حجرے میں داخل ہوئی تھی
جو خالی ویران تھا۔زرمینے ایک دم چونکی اسے تو خیال ہی نہیں تھا ان تین دنوں میں اس نے پھوپھی ماں کو نہیں دیکھا تھا۔
“حیرانی ہورہی ہوگی اس حجرے کو خالی دیکھتے؟”
ثقلین شاہ نے تنقیدی نظروں سےاسکا جائزہ لیتے کہا۔
زرمینہ نے اثبات میں سرہلایا۔
“لاڈلی بہن تھیں بابا سائیں کی،بڑی چاہ سے پالا تھا ۔بابا سائیں کہتے ہیں منہ کا نوالہ نکال کے بھی کھلا دیتے تھے ۔ اکلوتی تھیں نا بھائیوں کا دل۔”
ثقلین شاہ نے بڑے نپے تلے انداز میں بات کا آغاز کیا۔
“معلوم ہوگا تمہیں؟کوئی نئی بات تو نہیں بتا رہا نا میں؟”
اب کے انہوں نے اپنا رخ زرمینہ کی جانب کیا تھا۔
وہ نظریں جھکائے زمین پہ بچھے بیش قیمتی کارپٹ کو دیکھ رہی تھی۔
“جج جی۔”ایک دم گلے میں کچھ اٹکا تھا بمشکل جواب دینے کیلئے سر اٹھایا۔
“بہت وفادار تھیں مرحومہ اپنے بھائی مطلب ہمارے بابا سائیں کی ۔”ثقلین شاہ نے زرمینہ کی طرف قدم بڑھاتے
کہانی سنانا جاری رکھا۔
زرمینہ نے انکے بڑھتے قدموں کو اپنی طرف
اٹھتے دیکھ منتشر ہوتے حواسوں کو بمشکل
یکجا کیا۔
خوف کی لہر سنسنی بن کے پورےجسم میں دوڑی تھی۔
“بلکل ہماری مینے کی طرح،تمہیں یاد ہے مینہ سلجوق شاہ اور میں کتنا لڑتے تھے کہ مینہ کا گھوڑا میں بنوں گا اور وہ کہتا تھا میں بنوں گا؟”
اسے شانے سے پکڑتے اپنے قریب کیا تھا۔
زرمینہ کی آنکھیں دہشت سے ٹپکنے لگی تھیں۔
“یاد ہے نا؟کتنا پیار کرتے تھے تمہارے بھائی تم سے؟”
اب کے سوال ڈائریکٹ اسکی آنکھوں میں دیکھتے کیا گیا تھا۔زرمینہ نے جلدی جلدی سر اثبات میں ہلایا ۔
“پھر تم کیوں وفادار نہیں بنی بھائیوں کی؟”
سوال در سوال زرمینہ کو نڈھال کرنے لگے تھے ۔
“بب بھائی۔۔”اس نے بولنا چاہا تھا لیکن ثقلین شاہ
کے بھاری ہاتھوں نے اسکے لبوں کو اپنی قید میں کرلیا تھا۔
زرمینہ شاہ کی سانس اکھڑنے لگی تھی۔
موت کے خوف سے پھیلتی آنکھوں کا منظر ثقلین شاہ نے بخوبی دیکھا تھا۔
“بتاؤ زرمینہ شاہ کہاں کمی تھی جو تم غدار نکلیں؟”
اب کے ثقلین شاہ کی آواز میں وہی شاہوِں والا مخصوص کروفر چھلک رہا تھا۔
“غداروں کی سزا پتا ہے نا کیا ہوتی دیکھو پھوپھو اماں وفادار رہیں یہاں دیکھو یہاں اونچے سنگھاسن پہ بیٹھتی تھیں۔لیکن ایک غفلت ایک غلطی دیکھو وہاں میناروں کے نیچے لے گئی منوں مٹی تلے۔۔”
زرمینہ نے خود کو اسکی گرفت سے نکالنے کیلئے اپنے ہاتھ انکے ہاتھوں پہ رکھتے ہٹانا چاہا مگر وہ کمزور جان ذرا سی مزاحمت سے تھک گئی۔
“ایک غیر مرد کی محبت تمہارے لیے اتنی لازم ملزوم ہوگئی کہ تمہیں اس حویلی کی روایات توڑنی پڑیں ،یہ نشست جسے تم خالی دیکھ رہی ہو یہ تمہاری امانت تھی جسے تم نے دنیاوی عیش وعشرت کیلئے چھوڑ دیا زرمینہ شاہ۔” ایک جھٹکے سے اپنی گرفت سے آزاد کیا تھا۔
آکسیجن کی بحالی ہوئی تو وہ بری طرح کھانسنے لگی تھی۔
“مم معاف کردیں مجھے۔”
اس نے روتے ہوئے بھائی کے قدموں میں سر رکھا۔
جسے ٹھوکر مارتے پیچھے کیا گیا تھا۔
“معافی اس خدا سے مانگوں جسکے احکامات کے منافی کرتے گناہ کبیرہ کی مرتکب ہوئی ہو تم۔”
ثقلین شاہ نے نیچے جھکتے اسے شانوں سے پکڑے کھڑا کیا۔
“ازالہ ممکن بھی ہے زرمینہ شاہ اگر تم چاہو؟”
ثقلین شاہ کے چہرے پہ پھیلی مبہم مسکراہٹ زرمینہ کی کنپٹی میں درد کرنے لگی تھی اس نے ان شاہوں کی۔
وحشت کے کئی منظر دیکھے تھے۔
“واپسی کے راستے اس حویلی میں قدم رکھتے تم نے خود پہ بند کردیے لیکن اپنی زندگی کی خواہش ہے تو اس نشست کو اپنالو۔”
ثقلین شاہ نے اسے موت کا پروانہ تھمایا تھا۔
اسے اندازہ ہورہا تھا کہ وہ انتہائی قدم اٹھا چکی تھی۔
“مم۔۔”
“نہیں بلکل بھی نہیں ،اتنی گنجائش مل رہی کافی نہیں ہے کیا یا پھر اپنے ساتھ ساتھ اس لڑکے کی بھی موت چاہ رہی ہو جسے اس گدی کے بدلے ہم بخشنے کا سوچ رہے ہیں۔”
ثقلین شاہ نے گویا اسکی دکھتی رگ پہ ہاتھ رکھا تھا۔
زرمینہ شاہ کے پاس اور کوئی چارہ بچا ہی نہیں تھا۔
موت کے دائرے میں وہ خود چلی آئی تھی اور فیضان کو بچانے کیلئے اس نے اپنی قربانی دے دی تھی۔
ثقلین شاہ کو منہ کی کھانی اسوقت پڑی جب
ڈاکٹر نے کہا کہ اگر وہ اس اسٹیج پہ بچہ ابارٹ کرے
گی تو اسکے بچنے کی امید بھی نہیں بچتی۔
وقتی مصلحتوں میں جکڑے سیداں والی حویلی کے مکینوں کو زرمینہ شاہ کی اولاد دنیا میں لانی ہی پڑی تھی۔
جسے کسی گناہ کی طرح چھپائے پاک بیبی کی بہانہ کا عذر کرتے کئی مہنیوں شہر والے گھر میں چھپانے کے بعد ایک روز فیضان کی دہلیز پہ چھوڑ دیا گیا تھا۔
✪✪✪✪
“جب یہ خط اور ہمارا بچہ آپ کو ملے گا اسوقت تک میں ایک عام انسانوں کی زندگی سے کئی میل دور آچکی ہونگی۔حویلی کی روایات کو زندہ رکھنے کیلئے مجھے یہ گھونٹ پینا پڑ رہا ہے ۔جو زندگی میں نے اصل معنوں میں جی ہے وہ آپکے سنگ تھی ہوسکے تو میرے بچے سے اپنی ماں کے اس تاریک پہلو کو چھپا لیجئے گا۔
میں نہیں چاہتی وقت کی دھول ہمارے بچے کو اسکی ماں کی چاہ میں ان غلام گردشوں تک لائے۔
ہمارے خوابوں کے شہزادے کا نام جو ہم نے سوچا تھا وہیں ہوگا ۔
“عبدلباری” پاکیزگی کا شہزادہ۔۔۔برکت والا باری۔”
فیضان کو جب دہلیز پہ ملے بچے کے ساتھ یہ مختصر خط ملا کتنی ساعتیں وہ حیران سا ٹہرا تھا۔جہاں اس نے زرمینہ شاہ کے ملن کی امید کھوئی تھی وہیں اپنے بچے کی آس بھی چھوڑ دی تھی۔
گھر میں ایک طوفان کھڑا تھا۔
“کون ہے یہ ؟”
“ہزار بار کہہ چکا ہوں میرا بیٹا ہے یہ۔”
فیضان مے جھنجلاتے ہوئے کہا تھا ۔
“کون ہے اسکی ماں کسی بھی حرافہ کی اولاد کو ہم اپنا مان لیں گے تو یہ تمہاری بہت بڑی بھول ہے میاں۔”
انکی ماں نے ایک نظر دو ماہ کےنومولود بچے کو دیکھتے کہا۔
“آپ میری اولاد کو ایسے گالی نہیں دے سکتیں ۔ٹھیک ہے اگر آپ لوگ میری اولاد کو نہیں اپنا سکتے تو میں بھی یہ گھر چھوڑ دونگا۔”
بڑے بھیا کو جتاتی نگاہوں سے دیکھتے اس نے کہا تھا۔
اسکی ماں کو ایک دم چپ لگی تھی۔
“کہاں ہے اسکی ماں ملنا چاہتی ہوں میں اس سے ۔”
کچھ دیر سوچنے کے بعد وہ بولیں۔
“مرچکی ہے۔۔”
فیضان کی آواز نے کتنی دیر کسی کو کچھ بولنے جوگا نہیں چھوڑا تھا۔
فیضان نے ایک جزب سے آنکھیں بند کرتے کہا تھا۔
آنکھوں کے سامنے اس دن کا منظر گھوم گیا جب وہ زرمینہ کو لینے گیا تھا اور ثقلین شاہ نے کچھ تصاویر اسکے سامنے کیں جہاں بڑی آپا کے شوہر کو شراب کے نشے میں دھت کسی لڑکی کے ساتھ نازیبا حالت میں دیکھتے اسکے پاؤں تلے سے زمین سرکی تھی۔
“یقیناً تم نہیں چاہو گے کہ عزت داروں کے یہ کارنامے کل صبح کے کسی اخبار کی زینت بنیں۔”
ثقلین شاہ نے تصویریں اسکی طرف اچھالیں جسکے
انداز میں چھپی دھمکی اسے چپ کروا گئی تھی اور بنا اپنی جنگ لڑے شکست خوردہ سا واپس آگیا تھا۔
لیکن ثقلین شاہ نے اسکے ہاتھوں میں تصویروں کا وہ پمفلٹ ضرور پکڑوا دیا تھا۔
“جب بھی حویلی کی عزت کی طرف نگاہ اٹھنے کی گستاخی کرے ایک نظر یہاں ضرور کرلینا۔”
ثقلین شاہ نے اسے طنزیہ نگاہوں سے دیکھتے وہاں سے واپسی کےلیے قدم اٹھا لیے ۔
وہ اس گھر کی عزت کیلئے اپنی محبت اور عزت ہار آیا تھا بنا اس چیز کی پرواہ کیے وقت اسے بزدل،کائر مرد کچھ بھی کہے لیکن گھر آتے اس نے وہ پمفلٹ بڑے بھیا کو پکڑوایا تھا۔
“مبارک ہو دو خاندانوں کی عزت جیت گئی اور فیضی کی محبت ہار گئی۔”
بڑے بھیا کے چہرے کے تاثرات دیکھنے کیلئے وہ وہاں رکا ہی نہیں تھا۔
اور یوں دو خاندانوں کا شملہ اونچا رکھنے کیلئے انہوں نے اپنی محبت ہارتے وقت تسیرے وجود کا انجام تو سوچا ہی نہیں تھا۔
باری کا رونا انہیں حال میں کھینچ لایا تھا۔
گھر میں کوئی بھی اسکا وجود تسلیم نہیں کرنا چاہ رہا تھا ۔فیضان کی ساری دنیا باری تک محدود ہوکے رہ گئی تھی۔
ایک رات اڑھائی بجے اسکا رونا فیضان کو ایک شدید فیصلہ لینے پہ مجبور کرگیا تھا اگلے دن وہ بنا انجام کی پرواہ کیے سیدہ والی حویلی کی طرف رخصت ہوگیا تھا ۔
✪✪✪✪
“پاک بیبی کے حجرے کی طرف نگاہ کرنے والوں کا انجام بہت برا ہوتا ہے شہری بابو۔”ایک دربارن نے بڑی زور سے اسکی کمر میں لات ماری تھی وہ نڈھال سا پڑا تھا جہاں منہ سے نکلتا خون اور مٹی اسکے نتھنوں میں گھسے جارہے تھے۔
“منع کیا تھا نا آپکو وجدان صاحب یہاں اپنا کام کرنے آئے ہیں وہیں کریں لیکن آپکی ناقصلعقل دماغ میں یہ بات بیٹھ ہی نہیں پائی۔”ثقلین شاہ نے غصے میں اسے کہا تھا۔
وہ جو انکا جگری دوست تھا اور انکی شادی کی تقریب میں آیا تھا زرمینہ شاہ کے سحر میں گرفتار ہوتے بنا انجام کی پرواہ کیے انکے حجرے تک جانے کی گستاخی کا مرتکب ہو بیٹھا تھا۔
ایک نظر بظاہر معزز نظر آنے والے ثقلین شاہ پہ ڈالتے اسکی آنکھیں بند ہونے لگی تھیں۔
“جا کے پھینک دو اسے سڑک کے کنارے شہر سے آتی کوئی گاڑی کچل جائے گی تو عبرت ملے گی سب کو، اس حویلی کی طرف آنکھ اٹھا کے دیکھنے والوں کو۔”
انتہائی کروفر سے کہتے وہ وہاں سے چلے گئے تھے۔
وجدان نے ایک سسکتی نگاہ اس پہ ڈالی جو شخص
دوستوں کا بھی سگا نہیں تھا۔
فیضان نے ایک نظر فرنٹ سیٹ پہ سوئے باری پہ ڈالی وہ نہیں جانتا تھا کہ وہ بے آس لوٹایا جائے گا یا کچھ ہاتھ آئے گا لیکن ایک بار وہ حویلی والوں سے اپنی زندگی کی بھیک مانگنے جارہا تھا۔
باری سے نگاہ ہٹائے اس نے سامنے سڑک پہ نظریں مرکوز کیں جہاں شاید کوئی زخمی پڑا تھا۔
رات کے اس پہر یہ کوئی ٹریپ بھی ہوسکتا ۔
کچھ لمحے سوچنے کے بعد وہ گاڑی سے نکلا تھا۔
زخموں سے چور وہ شخص شاید اپنی آخری سانسیں لے رہا تھا۔
“کون ہوتم ؟کیا تم مجھے سن سکتے ہو۔”
فیضان نے ہمددردانہ انداز میں دیکھتے کہا۔
“پپ پانی۔”وجدان کی آواز سنتے اسے کچھ ڈھارس بندھی تھی۔لیکن وہ یہاں کے ہاسپٹل سے انجان تھا اور رات کے اس پہر کسی اور شخص کا ملنا بھی ناممکن لگ رہا تھا تبھی اپنی زندگی کی سب سے بڑی بازی پس پشت ڈالے وہ اسے گاڑی میں ڈالے واپش شہر آگیا تھا۔
وہ زخمی کچھ سنبھلنے لگا تھا اسکا نام وجدان تھا جو فلاسفی کا اسٹوڈنٹ تھا اور ثقلین شاہ کی شادی میں شریک ہونے گیا تھا یہ ابتدائی کہانی تھی جو فیضان کو اس نے سنائی تھی۔
گئے دنوں میں جہاں اسکی حالت سنبھلنے لگی تھی وہیں فیضان اور اسکی دوستی بھی جمنے لگی۔
ایسے ہی ایک دن فیضان نے اسے اپنے فلیٹ پہ مدعو کیا تھا جہاں فیضان کے پہلو میں ٹکی زرمینہ شاہ کی۔
تصویر دیکھتے اسے شدید جھٹکا لگا تھا۔
“یہ کون ہیں۔”وجدان نے اپنے تاثرات پہ بمشکل قابو پاتے کہا۔
“باری کی ماں میری بیوی زرمینہ شاہ۔”
فیضان کے انکشاف نے اسکا دل کئی ٹکڑوں میں تار تار کیا تھا۔
“مگر میں نے انہیں حویلی میں دیکھا ہے۔”
وجدان کی بات پہ وہ زور سے چونکا تھا ۔
“کک کیا تم سچ کہہ رہے ہو تم ملے تھے زرمینہ شاہ سے کک کیسی ہے وہ؟”
فیضان کا بس نہیں چل رہا تھا ان آنکھوں کو چوم لیتا جو آنکھیں اسے دیکھ کے آئی تھیں۔
وجدان نے اپنی پسندیدگی کی بات چھپائے مختصر انداز میں زرمینہ شاہ سے ملنے کا قصہ کہہ سنایا تھا۔
حویلی کے مکینوں کے جبر کی داستان سنتے اس نے ایک نگاہ باری کو دیکھا اور پھر باری کی خاطر زرمینہ شاہ کو اپنے دل کے کونے میں ایک یاد کی طرح چھپا کے رکھ لیا۔
باری نے قدم قدم چلنا شروع کردیا تھا جب وہ اسے پنجاب لے آیا تھا ۔
“میں نہیں جانتا میں زرمینہ کی جگہ کبھی کسی کو دے پاؤنگا یا نہیں لیکن میری ایک خواہش ہے باری کو عنائیہ کی طرح اپنا لیں میں نہیں چاہتا میرا بیٹا زندگی میں کوئی محرومی دیکھے ۔”
فیضان نے ہاتھ جوڑے الماس اور بڑے بھیا سے کہا ۔وہ جو عنائیہ کے بعد کچھ کمپلیکشنز کی وجہ سے دوبارہ ماں نہیں بن سکتی تھیں اور بیٹے کی کسک دل میں رہ گئی تھی فیضان کو رد نہیں کرسکیں اور باری کو اپنا لیا حتٰی کہ ولدیت کے خانے میں بھی فیضان کا نام نہیں رہا۔
اور یوں دنیا کے سامنے وہ الماس کی اولاد بن کے رہ گیا۔
✪✪✪✪
“بھابھی آپکی بات ٹھیک ہے لیکن یوں ،میرا مطلب ہے آج تک فیضی نے باری کی ماں کے بارے میں کچھ نہیں بتایا پھر یہ تو ایک نئی آنے والی نسل کی بات ہے اگر کبھی یہ بات کھل گئی کہ باری آپکا بیٹا نہیں تو؟”
صالح زیدی کے سوال پہ الماس نے چپ اختیار کرلی۔
“آپ ایسی باتیں کیوں کررہی ہیں آپا باری میرا ہی بیٹا ہے کیا ہوا اگر اپنے خون سے نہیں سینچا مگر راتوں میں جاگی ہوں اسکیلئے وہ میرا بیٹا ہی ہے۔”
الماس شاید رنجیدہ ہوگئی تھیں اور وہیں۔
دروازے پہ رکے باری کی ذات کئی حصوں میں بٹ گئی تھی۔
آنے والے وقتوں میں پھوپھو کا کٹا کٹا سا انداز اسے ذہنی طور پہ منتشر رکھتا تھا مگر کچھ بھی ایسا انوکھا نہیں
تھا جو کھٹکتا۔
اکثر وہ فیضان سے اس راز کی وجہ جاننا چاہتا تھا پر لبوں پہ پڑے قفل کھل ہی نہیں پائے جب یونیورسٹی میں ہوئے واقعے نے اس کی ذات کی دھجیاں اڑا دیں۔
“ہاؤ آر یو مین۔”
صبح اسکی آنکھ وجدان انکل کی کال سے کھلی تھی۔
“فائن شائن بگ بی ۔”
باری نے اپنے بھاری لہجے پہ قابو پاتے کہا جو کئی راتوں کی اذیت کا شاخسانہ تھا۔
“شرم کرو میں تو تمہیں اپنا داماد بنانے کے چکروں میں ہوں اور تم نے رشتے بگاڑ رکھے ہیں۔”
وجدان کا شرارتی انداز بے ساختہ اسے کہلکھلانے پہ
مجبور کرگیا تھا۔
“خیر ہمارے رائزنگ سن آپکو ایک اہم خبر دینی تھی آج ہم مابدولت آپکی یونیورسٹی میں آرہے ہیں۔”
وجدان نے اس فریش نیوز سنائی اگر وہ دماغی طور پہ۔حاضر ہوتا تو یقیناً فیضی کے دوست کے ملنے پہ خوش ہوتا لیکن اس نے نوٹس ہی نہیں کیا تھا۔
“وجدان انکل۔۔”
باری نے انکی بات کے قطعی نظر کہا تھا ۔
“یس مائے سن۔”انہوں نے مسکراتے ہوئے پوچھا۔
“زرمینہ شاہ کون تھیں؟”
باری کا سوال وجدان کو چونکا گیا۔
یہ حقیقت تو باری سے چھپائی گئی تھی پھر کیسے؟
“باری کچھ ہوا ہے کیا؟”
ایک بے چینی نے وجدان کو گھیرا۔
“شناخت کھوگئی ہے شاید اسے ڈھونڈنا ہے سنا ہے مجرم زرمینہ شاہ تھیں۔”
باری نے کھوئے کھوئے انداز میں کہا وہ جانتا تھا کہ وجدان اور فیضان یک جان دوجسم تھے انکی گہری دوست میں زرمینہ شاہ کے وجود سے انجان رہنا ناممکن ہے۔
“باری جو ہوا اسے بھول جاؤ۔میں جانتا ہوں تم فیضی سے بہت محبت کرتے ہو ایسا کرتے ہیں اسکیلئے لڑکی دھونڈتے ہمسایوں کی لڑکی کے بارے میں کیا خیال ہے۔”
وجدان نے ہلکا پھلکا شرارتی انداز اپنایا تھا انہیں لگ رہا تھا شاید وہ فیضی کی اجاڑ زندگی سے اداس ہے تبھی اسکے لفظوں کی گہرائی کو نہیں ماپ سکے تھے۔
ادھر ادھر کی باتیں کرکے انہوں نے موبائل رکھ دیا تھا۔
وہ اپنے لیکچر کے بعد باری سے تفصیلی بات کرنے کا سوچ رہے تھے لیکن افق شاہ پہ پڑنے والی انکی غیر ارادی نگاہ نے بیس سال کا وقت کھنچ کے انکے سامنے لا رکھا۔
باری کی ذہین نگاہوں سے وجدان کے چہرے پہ آیا پسینہ اور باری کو دیکھتے افق کی طرف انکا مخفی رویہ باری کو چونکا گیا تھا۔
وہ کڑی سے کڑی جوڑنے لگا تھا۔
زرمینہ شاہ اور افق شاہ کا سندہ سے ہونا ہی پہلا اشارہ تھا ناموں سے مشہابہت اور پھر وجدان کا کنی کترانا باری کے شک کو یقین میں بدلنے لگا تھا۔
اور پھر اسکے شک کو یقین کی سند فیضان کی ڈائری میں لگی تصویر نے بخش دی۔
وہ افق شاہ تھی جو فیضان کے پہلو میں ٹکی تھی لیکن نہیں بیس سال پہلے کی تصویر میں شاید افق شاہ کا وجود ہی اس دنیا میں نہ تھا وہ زرمینہ شاہ تھیں افق شاہ کی پھوپھو اور اسکے بابا ثقلین شاہ کی بہن حد درجہ مشابہت یقیناً ایک ہی خون کاامتزاج تھی۔
باری کی ذات کا غرور اسوقت چکنا چوڑ ہوگیا جب خط میں چھپے اسکے ماں کے بزدل رویے نے اسے مزید توڑا اور پھر باری نے کہانی کا رخ موڑ دیا۔
کئی بار اسکے وجدان نے خواب بنکے اسے روکنا چاہا تھا آگاہی کے در کھولنے چاہے، اسے انتقام کی راہ سے بھٹکانا چاہا تھا پر وہ ابن آدم جو جنت سے ہی اپنی ایک نافرمانی اور غلطی سے نکالا گیا ہر طرف سے کان آنکھیں بند کیے اس نے اپنی بکھری ذات کا بدلہ افق شاہ سے لیا۔۔۔۔
