Tar e Ankaboot by Uzma Mujahid NovelR50607 Tar e Ankaboot (Episode 03)
Rate this Novel
Tar e Ankaboot (Episode 03)
Tar e Ankaboot by Uzma Mujahid
“افق پلیز یار بات تو سن لو میری۔”
عنیزے نے دو دن کی اگنورنس کے بعد تیسرے دن اسے جالیا تھا۔
“پلیز عنیزے مجھے تم میں اور تمہارے اس کزن میں کوئی انٹرسٹ نہیں۔” افق کو عنیزے اور باری کی مبہم گفتگو کھلائے جارہی تھی۔
“یار افق ایک ہفتے کی تو بات ہے۔”
“مجھے اس شخص کی ایک دن کیلئے بھی شکل نہیں دیکھنی آیا کہ ایک ہفتہ اور میں یہ کیسے بھول سکتی ہوں کہ تم اس کی کزن ہو، اسی کی طرح بنا کوئی وجہ کی دشمنیاں نبھاؤ گی مجھے ڈی گریڈ کرنے کا موقع تم دونوں جانے کیوں دوگے۔”
وہ حددجہ روڈ ہورہی تھی۔
عنیزے نے تاسف سے افق کو دیکھا۔
“ہم نے ڈیسائڈ کیا تھا نا کہ باری یا کسی تھرڈ پرسن کا ہماری دوست پہ کوئی اثر نہیں پڑے گا، پھر تم ایسے کیوں کررہی ہو افق۔”عنیزے کو اسکا رویہ ہرٹ کرنے لگا تھا۔
“آپ بھول رہی ہیں عنیزے میڈم کے اسے ہمارے درمیان آپ ہی لائی ہیں۔”
افق ان دونوں کا مل کے اپنا مذاق اڑانا بھول نہیں رہا تھا۔
“افق پلیز۔”
عنیزے کو احساس ہورہا تھا کہ باری اور افق کو ایک لائن پہ لانے کے چکر میں اپنی دوستی خراب کرچکی ہے۔
افق نے بنا اسے دیکھے انیتا اور ایلیاء کی طرف اپنا رخ موڑ لیا ۔
“اے پارٹنر واٹ ہیپنڈ۔”
باری نے عنیزے کو اداس دیکھتے اسکی طرف قدم بڑھائے جب وہ اسے سخت نظروں سے گھورتے وہاں سے چلی گئی۔
“تمہاری کشمیری سیب کے ساتھ پھڈا ہوا ہے محترمہ کا۔”
مبشر نے تفصیل سے آگاہ کیا تو باری نے ان تینوں کی طرف دیکھا جو خود بھی کافی ڈپریسڈ نظر آرہی تھیں۔
“ویسے تو میں خود ہی پروفیسر سے یہ گروپ والی کھپ ختم کرنے کی ریکوئسٹ کرنے والا تھا مگر یہ کشمیری سیب نجانے کیوں اب ایک چلینج سی لگنے لگی ہے جسے باری کے سامنے سرینڈر کرنا ہی کرنا ہوگا۔”
باری کے ماتھے پہ سوچوں کا ان گنت جال بچھا تھا۔
پِر اکثر ہونے لگا تھا کہ باری افق کے قریب رہنے کی وجہ ڈھونڈنے لگا تھا۔
“واٹ نان سینس یار اب ہم مکڑی کے گھروندے پہ ریسرچ کریں گے۔” افق کو باری کی فضول سجویشن نے چڑایا تھا جہاں حشرات کے رہن سہن اور سماجی رویوں پہ ایک جامع رپورٹ پیش کرنی تھی۔
“کیونکہ مکڑی دغاباز حشرات میں شامل ہے میں جاننا چاہتا ہوں کیوں؟” باری کی نرالی منطق نے افق کو مزید بھڑکایا تھا۔
“سوری میں ایسے کسی انسکٹ کو اپنی تحقیق میں نہیں لاؤنگی جسے بیان کرتے مجھے شرمندگی ہو۔یہاں انسانوں کی وفاداری کی کوئی گارنٹی نہیں جو اشرف المخلوقات ہیں اور یہ صاحب کیڑے مکوڑوں پہ ریسرچ کریں گے۔”
افق نے ہاتھوں سے ان دیکھی مٹی جھاڑی۔
“مس افق شاہ آپ اب بھی بنا تحقیق بات کررہی ہیں محترمہ ۔”رافع کو اسکا انداز بیان اچھا نہیں لگا تھا۔
اپنے منتخب ٹاپک اور اسکی وجوہات کو باقاعدہ تحریر کرتے ڈین کے آفس میں جمع کروایا گیا تھا جب باری سے اسکی وجہ پوچھی گئی تو اسکی بات کئی لوگوں کیلئے حیران کن تھی۔
“ایک تحقیق کے مطابق مادہ مکڑی بچے دینے کے بعد نر مکڑی یعنی اپنے بچوں کے باپ کو قتل کر کے گھر سے باہر پھینک دیتی ہے۔
پھر جب اولاد بڑی ہو جاتی ہے، تو اپنی ماں کو قتل کر کے گھر سے باہر پھینک دیتی ہے۔ کتنا عجیب و غریب گھرانہ اوریقیناً بدترین گھرانہ ہے۔
یہ اپنا گھر مکمل ہونے نہیں دیتی، یعنی یہ ایک خاندان یا گھر نہیں بنتی، بچوں کے پیدا ہوتے ہی باپ مارا جاتا ہے اور بچوں کے بڑے ہوتے ہی ماں ماری جاتی ہے۔ آخر کوئی تو وجہ ہوگی ؟؟”
کلاس میں تالیوں کی گونج پیدا ہوئی تو باری نے طنزیہ نگاہوں سے افق دیکھا ۔افق کو باری کی نظروں سے الجھن ہورہی تھی تبھی وہ اگلے اسٹوڈنٹس کو سنے بغیر وہاں سے اٹھ گئی۔
عنیزے نے باری کی ایک ایک حرکت کا بغور جائزہ لیا ، آخر وہ کیوں بری خصلت کے مالک کیڑے پہ اتنی توجہ دے رہا تھا جہاں تک وہ باری کو جانتی تھی وہ ایسی چیزوں کیلئے اپنے کرئیر کا اتنا اہم پروجیکٹ ضائع نہیں کرسکتا تھا۔کیا صرف افق کی دشمنی میں وہ اسے ان چیزوں میں الجھا رہا تھا یا واقعی باری کیلئے مکڑی کے گھروندے کی اہمیت تھی؟
عنیزے کا دماغ ان گنت سوچوں کی آمجگاہ بنا ہوا تھا۔
✪✪✪✪✪
اگر مجھے مرنا پڑا تو
میں مرنے سے پہلے
زندگی سے بھرا
اک بھرپور سانس لینے کی
خواہش کروں گی
اور پتا ہے کہ زندگی کیا ہوتی ہے؟
زندگی وہ لمحہ راحت ہوتا ہے
جب آپ کے آس پاس
ہر آنکھ جب بھی اٹھتی ہو
مسکراتی ہو اور بتاتی ہو
کہ ہم آپ کے اپنے ہیں.
اور اگر موت مہلت دیتی
تو سب اپنی زندگی میں
زندگی جی لیتے.
پر موت کا کہنا ہے کہ
میں موت ہوں
اور میں مارنے آئی ہوں.
بنا رکے، بنا سنے، بنا کہے
مجھے خاموش کرانا آتا ہے
اور تمہیں بتاؤں کہ
مجھے ایسی خاموشی
راس آتی ہے جس میں
میں بنا کہے، بنا سنے
خاموش ہو جاؤں.
اور پیچھے سب
آنکھیں صاف کرتے رہ جائیں.
اور پھر مسکرا کر کہیں..
یہ یہی تھی ابھی
اور اب ہمیشہ یہیں رہے گی.
تو میں تب موت کو بتاؤں گی
کہ تمہارا آنا بس مجھے اک
اور جہان میں لے آنا ہے.
چھوڑا تو میں نے کچھ بھی نہیں ہے.
اور دعا کرو کہ
موت تب مسکرا کر کہے
زہے نصیب….
یہاں بھی سب کچھ تمہارا ہی ہے……
“بیبی جی آج آپکی تخت پوشی کی رسم ہونی ہے سیّد ثقلین بلا رہے ہیں آپکو۔” ایک مریدنی اسکے حجرے میں داخل ہوتے عقیدت سے سر جھکائے کہا۔
“بابا سائیں سے کہو ہماری طبیعت ٹھیک نہیں یہ تقریب پھر کسی دن رکھ لیں۔” اس نے بنا مریدنی کی طرف دیکھے کہا ۔
“پر پاک بیبی۔۔”
“بھاڑ میں جائے سب تمہیں ایک بار کا سنائی نہیں دے رہا میں نہیں ہوں کوئی پاک بیبی،یہ دیکھو بلکل ایک عام عورت ہوں تمہاری طرح، اماں سائیں، دادی سائیں کی طرح ،اندھے ہو تم لوگ نظر نہیں آتا کچھ ۔۔”
وہ چیختے ہوئے ہذیاتی انداز میں بولی کہ گلے میں خراش پڑ گئی تھی ساتھ ہی آنکھوں سے پانی برسنے لگا۔
مریدنی نے اسکی حالت دیکھتے وہاں سے کھسکنا مناسب سمجھا۔
وہ جو بمشکل خود پہ قابو رکھنے کی کوشش میں
تھی سنسناتے دماغ سے زمین پہ گری تھی۔
اماں سائیں جو شور سنتے باہر آئی تھیں اسے گرتے دیکھ اسکی جانب بڑھیں ۔مریدنی کو گاؤں کی ڈاکٹرنی کا بلانے کا کہتے اسکے ہاتھ پاؤں مسلنے لگیں۔
ڈاکٹر نے جو انہیں جان افزاء خبر سنائی وہ کسی قیامت سے کم نہ تھی۔
“یہ تم نے کیا کیا کرم جلی ،کیا منہ دکھائیں گے ہم گاؤں والوں کو ارے ہم تو منکر ہوگئے جو عورت قرآن سے جڑ جاتی کسی نامحرم کو اسے دیکھنا چھونا بھی گناہ ہوتا اور یہ اتنا بڑا گناہ ہے ۔۔”سیدہ بخت بھری اگرچے سادہ لوح انسان تھیں مگر اس حویلی کے اصولوں سے روگردانی کرنے والوں کے انجام سے بھی آگاہ تھیں تبھی اکلوتی بیٹی کا اقدام اور اسکا انجام آنکھوں کے سامنے نظر آرہا تھا۔
“کیوں ماں اتنا وویلا کیوں؟کل جب دھوم دھام سے اپنی بیٹی کا جنازہ نکال رہے تھے آپ لوگ ایک بار بھی کچھ پوچھا تھا مجھ سے ۔میری خواہش میرے جزبات میں جیتی جاگتی انسان ہوں کوئی گڑیا نہیں۔۔۔”
“چپ کر بدبخت خبردار جو آواز اس کمرے سے باہر بھی گئی تو۔” ابھی اسکی بات مکمل ہی نہ ہونے پائی تھی جب دادی سائیں نے اسکے بالوں کو اپنی گرفت میں لیتے اپنے برابر کھڑا کیا۔
ضبط کرنے کے باوجود بھی ایک ہلکی سی چیخ نکلی تھی جو دادی سائیں کو مزید آگ بگولہ کرگئی۔
“ہم نے بھی تو اپنی بہن بیٹیاں دی ہیں تم میں ایسے کونسے سرخاب کے پر جڑے ہیں۔”انتہائی تنفر سے کہتے اسے بیڈ کی طرف دھکیلا تھا۔وہ جو ہمیشہ سے دادی کی لاڈلی رہی تھی اتنی سختی دیکھتے دل خون کے آنسو رونے لگا تھا۔
“اور سن لو تم دونوں ماں بیٹی اس گناہ سے جتنی جلدی ہوسکے جان چھڑواؤ ایسا نہ ہو کہ بات گھر کے مردوں تک پہنچے اور یہ اگلی سانس لینے کو ہی نہ رہے۔”
دادی سائیں نے گویا ان ماں بیٹی کی ذات پہ احسان کرتے اپنا حکم صادر کیا وہیں ڈاکٹر کو بھی کئی ایک تحائف سے نواز کے منہ بند کروا دیا گیا تھا۔
✪✪✪✪✪
ميں كس سے كہو……
كہ اگلى بارش كا وعده تھا اسكا
كوئى اسے بھى تو كہے
كہ لوٹ آئے..
بارش لوٹ آئى ھے ……
ایک افسردہ سی نگاہ ڈائری پہ ڈالی جہاں اپنے ہاتھ سے لکھی گئی نظم نے اسکے اندر کئی الاؤ دہکائے ۔اندر کی گھٹن بڑھنے لگی تو کمرے سے باہر نکل آیا ۔موسم میں چھایا حبس اسے مزید بے چین کرنے لگا۔
ایک دم اپنی زندگی بے رنگ نظر آنے لگی نہ جینے کی کوئی خاص وجہ نظر آرہی تھی نا کوئی مقصد۔
آج اسے ایک موٹوویشنل سپچ کا حصّہ بننا تھا ۔بیزاری سے اٹھتے اپنے لیے فارمل ڈریس سلیکٹ کیا اور کچھ دیر بعد وہ نک سک سا تیار ہوتے یونیورسٹی کی طرف بڑھ گیا۔
کمرے میں داخل ہوتے کئی توصیفی نگاہیں اسکی طرف اٹھی تھیں ۔اپنی تقریر کا آغاز کرنے سے پہلے اس نے ایک طائرانہ نگاہ وہاں پہ موجود طلباء پہ ڈالی ۔
لیکن اسکا سرسری نگاہ ڈالنا بھی قیامت ثابت ہوا تھا۔وہ چہرہ بھلا اتنی آسانی سے کہاں بھلایا جاسکتا تھا ۔وہ جو مگن سی بیٹھی موبائل پہ مصروف نظر آرہی تھی اپنے اوپر جمی نگاہوں سے بےخبر انیتا وغیرہ کو مسیجز بھیجے انکی غیر حاضری پہ برہم نظر آرہی تھی۔تبھی عبدلباری کا شریر ٹولہ عنیزے سمیت داخلی دروازے پہ نظر آیا تھا۔
ایک اچٹکتی نگاہ ان سب پہ ڈالے وہ سامنے دیکھنے لگی تھی۔پروفیسر نے اس سے نگاہیں چراتے اپنے ٹاپک کا آغاز کیا تھا۔
“ڈیموکریسی ،جمہوریت، آزادی رائے،حق خودارادی یہ سب ایک ہی بات کا نچوڑ ہیں جو ہمیں اعتراضات کی کی طرف مائل کرتی ہیں جنہیں ہم اپنی سو کالڈ آزادی رائے کہتے ہیں،کیونکہ ہم اس ملک کے باشندے ہیں اپنے ملک کے سسٹم کو برا کہنا ہمارا حق ہے مگر چند ایک اچھائیوں کو بیان کرنا ہمارے لیے مشکل امرہے صفائی نصف ایمان ہے کہ کے ہم اس پہ اشتہارات اور بل بورڈ نصب کروا سکتے ہیں تاکہ سب سیکھیں پر عملی نمونہ کیا رہ جاتا۔روڈ،پارک کو خراب کرنا ہمارا قومی فریضہ ہے چاہے وہ اشتہارات ہی کیوں نہ سڑکوں گندگی کا سبب بن رہے ہوں۔”
مائیک پہ گونجتی آواز نے سب کو اپنے سحر میں جکڑ رکھا تھا۔بات تھی سسٹم اور آج کے نوجوان کی جسکی شروعات ہی کسی ماہر استاد کے ہاتھوں کی جان والی چھترول سے ہورہی تھی۔
“تو سر کیا آپ چاہتے ہم فینسی میں جیئں ؟جو غلط ہے اسے آنکھ بند کرکے صیح کسطرح سے کہہ دیں ؟جب تک ہم چیزوں کے غلط ہونے پہ اعتراض نہیں اٹھائیں گے تو سسٹم کیسے صیح ہوگا؟”طلحہ کی بات پہ کئی طلباء نے اثبات میں سر ہلاتے اس سے متفق ہونے کا اعلان کیا۔
” ہماری نسل حددرجہ حقیقت پسند ہے ہم نقطۂ اعتراض تو اٹھاتے ہیں مگر اسکے حل کیلئے اپنا کردار نہیں نبھاتے، شاید اسیلئے بھی کہ اگر اسکا حل مل گیا تو اعتراض اٹھانے کا جواز کیا رہے گا۔ہمیں مسائل سے کوئی مسئلہ نہیں ،ہم چیزیں آبزرو کرتے ہیں مسائل کے حل کیلئے نہیں بلکہ اپنے سسٹم کو برا کہنے کیلئے،خامیاں نکالنا اپنا حق سمجھتے ہیں انفیکٹ اس سے چیز سے پیار بھی کرتے ہیں۔ہم اس صدی میں رہ کے بھی کسی مسیحا کا انتظار کرنے والے لوگ فینٹیسی میں ہی رہ رہے ہیں ۔کیا ہی اچھا ہو جو ہم خود مسیحا بن جائیں؟”
پروفیسر نے ایک بار پھر نوٹس بناتی افق پہ نگاہ ڈالی ۔
عبدلباری نے ایک سلگتی نگاہ پروفیسر پہ ڈالی تھی وہ بھی شاید باری کی نگاہوں کی تپش سے کچھ گھبرایا تھا۔
اپنے موضوع کو اختتام کی طرف لے جاتے اس نے طلباء سے الوادعی کلمات کہے ۔بحث وتمہید کافی لمبی تھی ۔
“اوکے سٹوڈنٹس بہت اچھا لگا آپ لوگوں سے مل کے گڈ لک آپکے بہترین مستقبل کیلئے۔”پروفیسر نے الوادعی کملات بولے تو تمام اسٹوڈنٹس انکی تعظیم میں کھڑے ہوئے۔
“نائس ٹو میٹ یو سر۔”افق کو شاید اب ہوش آیا تھا کہ وہ واحد اسٹوڈنٹ تھی جو خاموش رہی تھی ورنہ تمام کلاس نے اپنا نظریہ،نقطہ اعتراض ضرور زیر بحث لایا تھا۔ پروفیسر نے ایک الجھی نگاہ افق پہ ڈالی وہیں باری کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوا تھا۔
گیلری میں جاتے پروفیسر کو جالیا۔
“کیا تھا یہ ،کیوں گھور رہے تھے آپ افق کو۔”
باری کا بس نہیں چل رہا تھا کہ وہ پروفیسر کی اچھی خاصی ٹھکائی کردیتا وہیں کلاس انکے اردگرد جمع ہونے لگی تھی۔
“کیپ ڈسٹنس عبدلباری ۔”کلاس کے سامنے اپنی تضحیک شاید پروفیسر کو برداشت نہیں ہوپائی تھی۔
“آپ مجھے سکھائیں گے کہ کیسے ڈیسٹینس منٹین رکھنا ہے؟”عبدلباری کا ہاتھ انکی طرف بڑھا تھا جبکہ تماچے کی آواز نے وہاں موجود ہر شخص کو ساکن کردیا تھا۔
عبدلباری بھی ہکا بکا انہیں دیکھے جارہا تھا اسے اپنے عمل کا نہیں پتا تھا مگر پروفیسر کا یہ ردعمل اسے ضرور سکتے میں لے گیا تھا۔
ایک طائرانہ نگاہ سب پہ ڈالتے وہ سے تیز قدم اٹھاتے چلے گئے تھے۔
افق ہمیشہ کی طرح دیر سے پہنچی تھی اگرچے اسے معمالے کی نوعیت کا اندازہ نہیں تھا مگر عبدلباری کو پروفیسر سے پڑنے والے تھپڑ نے ضرور دھچکا دیا تھا۔
وہ تو ہر پروفیسر کا چہیتا تھا ایک دوسری یونیورسٹی کے پروفیسر سے تھپڑ کھاچکا وجہ کیا تھی سب کے درمیان چہ مگوئیاں ہورہی تھیں۔
عبدلباری کی نگاہ افق پہ پڑی تھی وہیں اسکی آنکھوں کے عجیب سے تاثرات افق کو خود میں سمٹنے پہ مجبور کرگئے تھے۔دوست تو وہ پہلے بھی نہیں تھے پر اسکی نگاہوں کا سرد پن افق کو نظریں چرانے پہ مجبور کرگیا تھا۔
“کیا ہوا۔ ” دھرمیش نے آتے ہی اسے گھیرا وہ بھی کلاس میں موجود نہیں تھا۔
باری نے نفی میں سر ہلاتے وہاں سے راہ فرار اختیار کرلی۔
“ایک انجان بندے کا یوں ہمارے دوست پہ ہاتھ اٹھانا ،اسکیلئے پروٹسٹ تو بنتا ہے نا۔”مبشر حددرجہ باری سے انسیت رکھتا تبھی اسکی تضحیک نے جذباتی کردیا تھا۔
وہاں موجود کچھ طلباء نے اسکی ہاں میں ہاں ملائی اور کچھ نے معمالے کی تہہ تک پہنچنے کا کہا تھا۔
وہ بائیک لیے ریور سائیڈ آگیا ۔ راستے میں سے اپنے سگریٹ کی ڈبی خریدی۔آنکھوں کے سامنے بار بار افق کا چہرہ اور پروفیسر کی نگاہیں گھوم رہی تھیں۔
ایک گھنٹے میں وہ پوری ڈبی ختم کرچکا تھا پر اندر کی جلن نے کہاں کم ہونا تھا۔
ایک فیصلہ کرتے اس نے یونیورسٹی کا رخ کیا۔
“انیتا افق کہاں ہے۔”ڈیپارٹمنٹ کی طرف بڑھتے اسکی نگاہ افق کی دوست پہ پڑی تو اس سے پوچھ لیا۔
باری اور افق کا نام لے یقیناً یہ اس صدی کا معجزہ تھا۔
“وو۔۔وہ تو چلی گئی اپنے ہاسٹل۔” انیتا نے بمشکل خود کو جواب دینے کیلئے تیار کیا۔
“اوکے۔”باری نے سرد لہجے میں کہتے قدم واپسی کی طرف بڑھائے مگر پھر الٹے پاؤں واپس آیا۔
“مجھے اس سے ملنا ہے ،نمبر دے سکتی ہیں آپ؟” وہ باری جو سیدھے منہ بات نہیں کرتا تھا افق کا نمبر مانگ رہا تھا یہ واقعی معجزہ تھا انیتا نے سرہلاتے بنا افق کے ریکشن کا سوچے جلدی سے اسکا نمبر نوٹ کروایا۔
اور پھر وہ بنا کوئی فارمیلٹی نبھائے جیسے ہوا کے جھونکے کی طرح آیا تھا ویسے ہی باہر جاچکا تھا۔
اگلے کچھ منٹوں میں وہ مبشر سے گرلز ہاسٹل کا پتا پوچھتے اسکے ہاسٹل سامنے ٹہرا تھا۔
افق نے انجان نمبر سے کال دیکھی اور اگنور کرتے اپنے کپڑوں کی تہہ لگانے لگی ۔اسے گاؤں جانا تھا تبھی وہ جلدی جلدی ہاتھ چلا رہی تھی پر کال کرنے والا ماہان ڈھیٹ ثابت ہوا تھا۔
“ہیلو”
“میں باری ابھی دو منٹ کے اند مجھے ہاسٹل کے باہر نظر آؤ !میں تمہارا ویٹ کررہا ہوں۔” اس نے موبائل کان سے ہٹاتے حیرانگی سے موبائل کو دیکھا تھا جہاں کچھ دیر پہلے شاید کوئی طوفان آیا تھا ۔
ٹیرس پہ آتے اس نے باہر جھانکا جہاں وہ اپنی اسپورٹس بائک کے ساتھ ٹیک لگائے دروازے پہ نگاہ جمائے ٹہرا تھا وہیں ناخنوں کو چباتا ہوا باری اسے مسمرائز کرنے لگا اگر تو یہ خواب تھا تو بےتکا تھا اور اگر حقیقت تھی تو بھی افق اس میں کہیں فٹ نہیں ہوتی ۔
پاؤں پٹختے اس نے باہر کا رخ کیا۔
باری نے دروازہ وا ہوتے دیکھا تو اسٹینڈ پوزیشن میں آیا۔
“مجھے تم سے بات کرنی ہے میرے ساتھ چلو۔”
بنا اسکی بات سنے باری نے اپنی سنائی آج شاید وہ صرف اپنی سنانے اور منوانے کے چکر میں تھا اور ایسا کیوں تھا کوئی نہیں سمجھ پارہا تھاشاید باری خود بھی۔
“آریو میڈ میں یوں ایک نامحرم شخص کے ساتھ بائیک پہ جاؤں گی؟کیا سمجھ رہے ہیں آپ مجھے مسٹر باری؟”افق کے تیور بگڑے تھے ۔
“وہ پروفیسر تمہیں کیوں دیکھ رہا تھا؟کیا چل رہا ہے تم دونوں کے درمیان۔”باری نے بنا کسی تمہید کے اپنا پہلا سوال اسکے سامنے رکھا تھا۔
افق اسکی بات سنتے بھونچکی رہ گئی۔
“آر یو کریزی مسٹر باری؟میں ان پروفیسر کو جانتی تک نہیں اور اگر بلفرض ایسا ہے تو تم کون ہوتے ہو مجھ سے یہ پوچھنے والے؟” افق کا اعتماد بحال ہوا تھا تبھی ابرو اچکائے باری پہ اسکا سوال دہرایا۔
“میں۔۔”باری نے مٹھی بھینجتے خود کو کچھ سخت بولنے سے روکا۔
“کیا ہم کہیں چل کے بات کرسکتے۔”
شاید اسے سمجھ آرہی تھی کہ افق اس سختی سے چڑ رہی۔
“نو،نیور ایور مسٹر باری ،آپ ہیں کون ؟میں آپکو جانتی کتنا ہوں سوری، آئی ہیو ٹرسٹ ایشوز۔”
افق نے دوٹوک جواب دیتے واپسی کی طرف قدم اٹھائے ۔
باری نے اسکے ارادے جانچتے فوراً اسے جالیا۔
“میری بات مکمل نہیں ہوئی،بنا یوں سنے مجھے تم یہاں سے نہیں جاؤگی۔”افق کو لگ رہا تھا شاید باری اپنے حواس کھوچکا۔
“تھپڑ نے شاید ذہنی توازن بگاڑ دیا آپکا مسٹر باری!ورنہ میں تو وہیں گدی نیشین خانزادی ہوں جس سے بات کرنا درکنار نام سننا گوارہ نہیں کرتے آپ۔”
افق کے ہاتھ آج موقع آیا تھا اسیلئے وہ اسکے ذہنی خلفشار کا بھرپور فائدہ اٹھا رہی تھی ۔
“اوکے کل ملتے ہیں کیمپس میں۔”
باری نے آنکھوں پہ سن گلاسسز لگاتے بائیک اسٹارٹ کی اور یہ جا وہ جا۔
افق نے اسے دور ہوتا دیکھا ۔
“سک پرسن۔” اسے نیا ٹائٹل دیتے ایک نظر موبائل پہ ڈالی نجانے اسکا نمبر کس نے اسے دے دیا تھا۔انیتا اور ایلیاء سے پوچھ تاچھ کرنے کا سوچتی وہ اندر کی طرف بڑھ گئی۔
وہ گھر میں داخل ہوا تو خاموشی کا راج تھا۔
“مام فیضی کہاں ہے۔”اسے آتے ہی اپنے ہمزاد کی یاد ستائی تھی۔
“دوستوں کے ساتھ کہیں باہر گھومنے کا پلین تھا آج اسکا،تم کہاں تھے یہ وقت ہے گھر آنے کا۔” الماس نے اسے بےنقط سنائیں تو وہ سرکھجاتے فیضی کے کمرے میں داخل ہوگیا۔ارادہ اسکی کوئی بک اٹھا کے پڑھنے کا تھا ۔
ٹیبل پہ پڑی سیاہ کور والی ڈائری نے اسکی توجہ اپنی جانب کھینچی۔وہ جانتا تھا کہ اس میں کیا ہونا ہے مگر پھر بھی اٹھاتے ہوئے اس نے پہلا صحفہ کھولا جہاں پہ لگی ایک تصویر نے اسے جھٹکا دیا تھا۔
“ہر اس شخص کی خواہش پوری ہوجاتی ہے اسے وہ سب کچھ مل جاتا ہے جو جانتا ہے کہ صیح وقت کا انتظار کیسے کرنا ہے۔” اسے تصویر کے نیچے درج چند الفاظ نے باری پہ کئی سوچوں کے نئے در کھول دیے تھے۔
✪✪✪✪✪
کتنی دیر وہ بے یقینی سے ٹیلی فون کو دیکھتا رہا جہاں سے اسے موت کا مژدہ سنایا گیا تھا۔
اس نے خود ہی تو زرمینے کو دھتکارا تھا جب وہ راہیں الگ کرنے ہی لگی تھی تو اس میں قصور اسکا ہی تھا۔
“تم خوش تو ہو نا؟” نجانے کس امید پہ ایک سوال لبوں پہ در آیا تھا۔
“بہت تمہیں پتا ہے یہاں حویلی میں سب بہت خوش ہیں پہلی بیٹی کی شادی ہے نا تو میں بس اماں کو سرخرو دیکھنا چاہتی ہوں،ایسا نہیں ہے کہ مجھے آپ سے محبت نہیں ہے مگر میں ایک محبت کی خاطر اتنی ساری محبتیں قربان نہیں کرسکتی۔” اس کے ایک سوال کے جواب کئی جوابات دیے گئے تھے وہ جانتا تھا کہ زرمینہ کو بولنے کا بہت شوق اور اسے ہمیشہ سننا اچھا لگتا تھا پر آج پہلی بار اسکا دل چاہ رہا تھا کہ وہ لڑکی نہ بولے۔
“زر”
سرگوشی میں ایک نام لبوں سے آزاد ہوا تھا جب دوسری طرف مکمل سکوت چھا گیا تھا۔
کتنی دیر تک مدھم سانسوں کا ارتعاش رسیور سے سانس لیتے وجود کی موجودگی کا احساس دلاتا رہا۔
“دیکھو کتنی انمول تھی نہ میں زر ہوں کبھی قدر ہی نہیں کی جنکوں قدر ہورہی وہ پلکوں پہ سجا رہے ہیں اپنی زر کو۔”وہ اسکی لایعنی باتوں سے اپنی مرضی کے مفہوم نکالنے لگا تھا۔
“ایک بار ملنا ہے مجھے۔”
وہ جانتا تھا کہ وہ لڑکی اپنے ارادوں میں کتنی مضبوط تھی پر ساری عمر کے پچھتاوے اپنے حصّے میں نہیں لکھنا چاہتا تھا تبھی خود کو اور اسے ایک موقع دینا چاہ رہا تھا۔
“کوئی فائدہ نہیں میں اب کسی اور کی امانت ہوں۔”
لہجہ ایک دم ہر احساس سے عاری تھی کیا اسکی زرمینے نے اتنی جلدی بازی ہار دی تھی؟
“صرف۔۔”
“صرف ایک بار بھی نہیں ،تم جانتے ہو کہ تم اس دنیا کے واحد شخص ہو جو میری طاقت بھی ہے اور کمزوری بھی فیصلہ تمہارے ہاتھ میں ہے چاہو تو میری طاقت بن کے مجھے ایک زمانے میں سرخرو کردو ،اور چاہو تو کمزور بنا کے زمانے میں رسوا ۔۔۔”
انتہائی مضبوط لہجہ وہ اسے ہمیشہ کی طرح لاجواب کرچکی تھی اور پھر اس نے اپنی زر کو زمانے کے سامنے سرخرو ہونے کیلئے چھوڑ دیا ، مگر وہ اسکی کمزوری بن کے ہمیشہ کیلئے اسکے دل کا ناسور بننے لگی تھی۔
کئی ایک پچھتاوے تھے جن میں درجہ اول تھا کاش کہ وہ اسکی کورٹ میرج کی پیشکش مان لیتا ۔۔
وہ ایک دوسرے کو زمانے کے سامنے سرخرو کرنے کی چاہ میں ایک دوسرے سے دور ہوگئے تھے ۔
✪✪✪✪✪
“سنو!وہ اس کونے والے کمرے میں کون رہتا ہے۔” وجدان قریشی کی بات پہ اس مریدنی نے سرتا پیر اسکا جائزہ لیا۔
“شہر سے آئے ہو بابو؟نئے لگتے ہو۔”
آواز کی کرختگی سے کہیں سے بھی اسے ملازمہ والا رویہ نہیں لگا تھا۔
“جی میں سید صاحب کے دوست کا بیٹا ہوں اور یہاں کچھ عرصے کیلئے چھٹی گزارنے آیا ہوں۔”عموماً وہ اپنے گھر کے ملازموں سے بھی بات نہیں کرتا تھا پر جو چیز اسے یہ سب کرنے پہ مجبور کررہی تھی وہ تھا تجسس ،جسکی بنیاد پہ انسان کئی بار بغیر نفع نقصان آگ کے دریا میں بھی کود جاتا۔
“صاحب چھٹی گزارنے آئے ہو چھٹی گزار کے جاؤ یہاں کدھر، کون، کیوں رہتا ہے جیسی باتوں میں نہ پڑو یہ حویلی ایک ایسی بھول بھلیوں کی آمجگاہ ہے جہاں آنے والے اکثر واپسی کا راستہ بھول جاتے ہیں۔”
ایک ان پڑھ عورت کی مبہم بات وجدان قریشی کو حواس باختہ کررہی تھی ۔
“سنیں! اس نے آگے بڑھتے اس بات کی وضاحت چاہی تھی مگر وہ کسی ربوٹ کی طرح وہاں سے نکلتی گئی۔
