Tar e Ankaboot by Uzma Mujahid NovelR50607 Tar e Ankaboot (Episode 01)
Rate this Novel
Tar e Ankaboot (Episode 01)
Tar e Ankaboot by Uzma Mujahid
لالچ اور حرص انسان کو رشتوں سے بےپہرہ کردیتا ہے اور اچھے برے کی تمیز مٹا دیتا ہے۔سندہ اور پنجاب کے وڈیروں میں چلی آئی “قرآن سےشادی کرکے ستی”کردینے کی اس رسم کے خلاف ایک ادنٰا سی کوشش امید ہے ہمیشہ کی طرح الگ موضوع آپکو پڑھ کے اچھا لگے گا جہاں آپ جان سکیں گے کہ مکڑی کے گھر کو قرآن میں کمزور کیوں کہا گیا ہے۔۔اور اس تار عنکبوت میں کیسے لوگ جکڑے ہیں۔۔۔۔
قلم از عظمٰی_مجاہد
✪✪✪✪✪✪✪✪✪✪
سفید لباس میں وہ آسمان سے اتری کوئی اپسراء ہی تھی جسے دیکھ کے وہ مبہوت ہوا تھا۔ ایک خواہش مسلسل تھی جو اسکی طرف بڑھنے پہ مجبور کررہی تھی اور وہ حسین شبہی مجسم بنا اسکی طرف دیکھے لال گنبد والے میناروں کی جانب بڑھ رہی تھی۔
“رک جائیں پلیز۔۔۔” فاصلہ بڑھ رہا تھاوہیں اسکی دھڑکنیں منتشر ہورہی تھیں وہ اسے روکنا چاہتا تھا مگر آواز تھی کہ حلق میں پھنس کے رہ گئی تھی۔
بولنے کی کوشش میں اسکا جسم پسینہ پسینہ ہورہا تھا جبکہ اپنی بےبسی پہ آنکھوں سے آنسو جاری تھے۔
“پاک بیبی ،پاک بیبی۔۔”کی صدا نے اسکے قدم جکڑے تھے۔سامنے کا منظر بدل رہا تھا جہاں کئی عورتوں نے اس اپسریٰ کو اپنے گھیرے میں لیتے عقیدت سے اسکے ہاتھوں کا بوسہ لینا شروع کردیا تھا۔
اس نے کوشش کی کہ چہرہ ہی نہ سہی وہ ایک بار اسکے ہاتھ ہی دیکھ لے مگر سفید پوشاک میں چھپے ہاتھ اس کی نظروں سے اوجھل رہے تھے ۔
آج وہ فیصلہ کرچکا تھا اب کے مایوس نہیں لوٹے گا۔
اس پہیلی کو سلجھانے کا اپنی بے چینی کو ختم کرنے کا شاید وقت آچکا تھا۔
تبھی بنا ادھر ادھر دیکھے وہ اس طرف بڑھا لیکن بڑھ نہیں سکا اسکاہاتھ کسی کی گرفت میں تھا۔
“مجھے جانے دیں پلیز آج نہیں۔۔”وہ ملتجیانہ انداز میں کہتے روکنے والے کی طرف دیکھنے لگا تھا مگر وہاں کوئی بھی نہ تھا۔ آج بھی کوئی طاقت اسے اسکی منزل کی طرف جانے سے روک رہی تھی۔کوئی سفید ہیولہ سا نظر آیا تھا۔
منظر پھر سے بدل رہا تھا۔اسکے اردگرد سفید کبوتروں کا مرغولہ گزارا تھا شاید وہ بھی اس عورت کی کی بیت کو جارہے تھے۔
مگر اسکے پاؤں میں ان دیکھی زنجیر تھی جو اسکے قدموں کو جکڑے ہوئے تھی۔
“عبدلباری” اسے لگ رہا تھا کہ اسکو روکنے والی طاقت اسکے آس پاس ہی ہے ۔
“کون ہوتم پلیز مجھے مت روکو ،ایک بار صرف ایک بار مجھے جانے دو اسکے پاس”وہ گڑگڑاتے ہوئے اپنے ہی قدموں پہ گرا تھا ۔
“باری”اب کے آواز بہت قریب سے ابھری تھی۔
“اس نگری کے واسی نہ بنو جہاں خاموشیوں کے سوا کچھ نہیں ملنا تمہیں۔”آواز بہت مانوس تھی۔
لرزتی پلکوں پہ اٹکے آنسوؤں کو لبوں سے سمیٹا گیا تھا۔
“فیضی” اسکے لبوں سے سرگوشی سی ہوئی تھی۔
“سراب کے پیچھے بھاگنا چھوڑ دو ،شعور کی دنیا بہت خوبصورت ہے۔”اب کے ماتھے پہ بوسہ دیا گیا تھا۔
اس نے آہستگی سے آنکھیں کھولیں ۔
خواب سے حقیقت کا سفر انتہائی کڑا تھا۔
اسکے سامنے اسکا ہم زاد ٹہرا تھا۔
“مجھے ایسا کیوں لگتا ہمیشہ آپ ہی مجھے اس تک رسائی نہیں دیتے۔”
شعور کی منزلیں طے ہوئیں تو آج بھی اپنے بے پہرہ خوابوں پہ خجالت ہوئی ۔
“سراب کے پیچھے کیسے بھاگنے دوں ،کیا ان لوگوں کیلئے ایک روگ کافی نہیں۔”
فیضان چاچو نے انتہائی شوخی سے کہتے اپنے اندر اٹھتے الاؤ کو دبایا۔
“کیا ان خوابوں کا حقیقت سے کوئی تعلق ہوگا؟”
ہمیشہ سے پوچھا جانے والا فضول سوال جسکا جواب ہمیشہ ہی نفی میں سرہلا کے دیا جاتا تھا۔
“یونیورسٹی نہیں جانا ؟”سوال کے بدلے سوال حاضر تھا ۔عبدلباری نے اسکے اسطرح دامن بچانے پہ منہ کے کئی زاویے بنائے۔
“یہاں تو آوے کا آوا بگڑا ہوا ہے،فیضی کس لیے بھیجا تھا میں نے کہ اس لارڈ گورنر کو اٹھا کے لے آؤ اور تم نے یہاں آتے گپیں ہانکنی شروع کردیں۔”الماس (عبدلباری کی والدہ) نے آتے ساتھ دونوں کی درگت بنائی۔
“کیا یار ممی آپ مجھے والدہ محترمہ کم اور ہٹلر زیادہ لگتیں۔ایک تو برے برے خواب دیکھو اوپر سے صبح صبح آپکی کڑوی کسیلی سنو میں نہیں کررہا ناشتہ۔”یہ کوئی نئی بات نہیں تھی جب بھی عبدلباری کو الیوژن ہوتے ایسے میں اسکا پورا دن برا گزرتا اور کسی کے پاس بھی اسکے ان خوابوِں کا علاج نہیں تھا ۔الماس نے کئی ایک پیروں فقیروں سے دم درود والے پانی اسے بنا بتائے پلا دیے تھے مگر کوئی اثر نہ تھا ۔کہیں نا کہیں وہ خود بھی اپنے خوابوں سے مانوس ہونے لگا تھا ۔
“یار فیضی ،پاکستان میں کتنے کو درگاہ اور مسجدیں ہونگی کوئی؟”آج اسکا انداز بدلہ تھا ۔فیضان کو اسکے سوال پہ ہنسی آئی مگر بنا جواب دیے کمرے سے نکل گیا۔
“حد ہے مطلب کے اپنی کوئی اوقات ہی نہیں۔”
باری کو اپنا اگنور کیا جانا تو بلکل گوارہ نہیں تھا ۔
“پچھلی بار کا سوال تھا پاکستان میں کتنے کو صحرا ہونگے اور اب بتانا تھا وکالت چھوڑ کے جاسوس بن جاتا ۔”
فیضان کی شوخ سی آواز آئی۔
“جاسوس ہی نہیں جیالوجسٹ بھی یہ کام کرسکتے۔”
عنائیہ نے فیضان کو جواب دیتے بھائی کی حمایت کی۔
“یہ چیز جیو میری شیرنی۔” باری کا اگرچہ موڈ کافی خراب تھا مگر عنائیہ کی آمد ایک ٹھنڈے جھونکے جیسی ثابت ہوئی تھی ۔جسکے ہاتھ میں گول مٹول سا دانیال، ماموں کو دیکھتے اسکی جانب لپکنے لگا تھا۔
“چھوڑو تم اسے آج صاحب کا موڈ ٹھیک نہیں میرے شیر۔”فیضان نے دانیال کو اٹھاتے عنائیہ کو بازو کے گھیرے میں لیا۔
باری نے ایک مسکراہٹ انکی طرف اچھالی ۔اندر جاتے ہی گھر میں مختلف آوازوں کی صدائیں بلند ہوئیں جن میں خوشی کی چھنکار واضع تھی۔
باری نے ایک افسردہ نگاہ آئینے میں نظر آتے اپنے عکس پہ ڈالی۔
آنکھوں کے سامنے پھر سے وہ ہیجانی کیفیت گزری تھی سر جھٹکتے وہ یونیورسٹی کی تیاری کرنے لگا تھا جبکہ باہر فیضان عرف فیضی نے اعلان کردیا تھا کہ آج صاحب بہادر کا موڈ آف اسیلئے کوئی نہ اس سے ٹکرائے۔
✪✪✪✪✪✪✪✪✪✪
“جی بسم اللّٰہ سید صاحب بخیرو عافیت یہ فریضہ بھی پورا ہوگیا ہے مبارک ہو آپ کو۔”
سیدہ بخت بھری نے شوہر کے آتے مبارک دی ساتھ میں دونوں بیٹے بھی تھے جو ماں کے دائیں بائیں کھڑے تھے۔
“روٹی کھلاؤں پھر مہمان انتظار کررہے ہونگے ۔”
سجادہ نشین سید ثقلین شاہ کے چہرے پہ بہت سکون نظر آرہا تھا جیسے کسی بھاری ذمداری سے آزاد ہوئے ہوں۔
“دلہن بیٹی کو اسکے کمرے تک پہنچا دیا نا۔”
سیدہ بخت بھری کی ساس اور ثقلین شاہ کی والدہ محترمہ نے چشمہ اتارتے کہا تھا۔
“ہاں اماں ماشآء اللّٰہ بہت خوش ہے ہمارے فیصلے سے۔”
آنکھوں کے دریچے پہ اکلوتی بیٹی کا آنسوؤں سے تر چہرہ سامنے آیا مگر شوہر اور ساس کے سامنے جگہ بنانے کا موقع کیسے ضائع جانے دیتیں۔
“چلو فریضہ تھا پورا ہوگیا ۔” ساس نے سر ہلائے خوشی کا اظہار کیا وہاں موجود ہر چہرہ خوش تھا سوائے اس فرد کے جسے دلہن کہا جارہا تھا۔
“دلہن۔۔۔۔”
نام سنتے ہی آنکھوں کے منظر پہ سرخ اناری سوٹ میں ملبوس خوشبؤؤں اور کہکشاؤں سے سجائی لڑکی کا چہرہ سامنے آتا ہے جو اپنے جیون ساتھی کہ ہمراہ آنکھوں میں خوبصورت زندگی کے دیپ جلائے بیٹھی ہو۔
سخاوت، مستحکم،خوش قسمت،قابل، خوشگوار جیسے لفظوں سے مزین” دلہن” اپنے اندر اس ایک نام کی سرشاری میں کتنے دن محسور رہتی ہے۔
چاؤ اٹھاتا دلہا اور دلہن ہر نظر کے اور شادی میں شریک لوگوں کا موضوع نگاہ ہوتے۔
مگر سیّد مخدوم ثقلین شاہ کی حویلی کی یہ دلہن ان میں سے کسی بھی معیار پہ پوری نہیں اتر رہی تھی۔
“دلہن ” تو تھی مگر روایتی لباس سے ہٹ کے سفید لباس کو زیب تن کیے ہوئے دلہن ایسی دلہن جسکے پہلو میں کوئی دلہا تو نہ تھا مگر “قرآن “کو اسکی جھولی کی زینت بنائے اسے دلہن کا خطاب دیا جارہا تھا۔
کیونکہ یہ رسم نکاح تھی اس دلہن کی جسے
“قرآن کی دلہن” کہا جارہا تھا ۔
باقاعدہ رسم ورواج کا خیال رکھتے وہاں موجود گاؤں کا ہر شخص خوش تھا کیونکہ انکیلئے یہ کوئی انو کھی بات نہ تھی۔
صدیوں سے چلی آتی اس رسم میں سید خاندان کی لڑکیاں ایک بے جان کی مورت جیسی قرآن کے نام پہ زندگی گزارنے والی لڑکیاں بھی دل اور جزبات رکھتی تھیں۔
مگر بھلا ہو اس برے وقت کا جو انہیں اس خاندان کا نام دیے جہاں ان سے نچلے لوگوں میں سر خرو کرتا وہیں خاندان کے حبس زدہ ماحول سے باغی بناتاتھا۔
مگر وہاں موجود دلہن چاہ کے بھی بغاوت نہ کر پائی تھی کتنی امیدیں ،امنگیں اور محبتوں کے وعدوں کو اپنے دل کے کونے میں ایک سسکتی یاد بنا کے وہ محض “قرآن کی دلہن” بنی بیٹھی تھی۔
وہ کہ جنکی جھولی میں قرآن ڈالے۔۔۔
تم نے کہا تھا۔۔۔
قرآن ہی اب تمھاراہے والی و وارث
لیکن قرآن نہ اندھیاری راتوں میں ھمدم بنے گا
اور نہ ھی وہ چوم سکتا ہے
اور ھم جو روٹھیں تو ہم کو نہ منوا سکے گا۔‘۔۔۔۔۔۔۔
مسلم قانون وراثت میں اکثریتی فقہوں میں تو عورت کا حق موروثیت (جسے اٹھوگ، یعنی ،آٹھواں حصہ یا ہشت،بھی کہا جاتا ھے) تو ہے ہی بہت تھوڑا سا اور یہ ساری حق بخشوائی ہے ہی اسکے حصے کی ملکیت گھر سے باھر چلے جانے سے روکنے کے لیےایک رسم میں انکی شادی قرآن سے کرائی جاتی۔
نئے کپڑے پہنائے جاتے ہیں اور پھر لڑکی کا باپ یا خاندان کا بڑا لڑکی سے کہتا بیٹی! آج سے آپ ستی ھیں۔”
اکثر جسے قرآن سے شادی کہا جاتا ہے وہ کوئی باقاعدہ شادی کی تقریب جیسی کوئی رسم کر کے نہیں کی جاتی۔ یہ تو بس ایک سادہ سی رسم ہوتی ھے۔
ملکیتوں کی تقسیم کے خوف سے لڑکیوں کی شادیاں نہ کرنا تو سندھ اور پنجاب کے بہت سے علاقوں اور گھرانوں میں موجود ہے لیکن قرآن سے شادی سید اور گدی نشینوں کی ایک بدعت سے کم نہ تھی جہاں کوئی بھی اس ظلم کے خلاف آواز اٹھانے والا نہ تھا۔
✪✪✪✪✪✪✪✪✪✪
“نفرت اور محبت کی بات تو آئی ہی نہیں مس سید زادی افق صاحبہ ۔”
باری کی آواز پہ وہ اسے کھاجنے والی نظروں سے دیکھتی لپکی تھی جبھی لاریب نے اسے بازو سے پکڑے روکا۔
“اسے کہو میرے منہ نہ لگے تم لوگوں کو کیا لگتا تمہارے پنجاب والے بہت ستی ساوتری ہیں۔”
اس نے باری کے ساتھ ساتھ لاریب کو بھی رگیدا ماحول ایک دم سیاسی ہوچکا تھا۔
“اوئے ہیلو بات وڈیرہ سسٹم کی ہورہی ہے تم سندہ سے اپنی وفاداری اپنے پاس رکھو۔”
باری نے بنا کسی لحاظ کے” افق ” کو کھری کھری سنائی تھی ۔
“یو چیپ باسٹرڈ تم سے تو بات کرنا ہی فضول ہے اچھے سے جانتی ہوں تم جیسے مڈل کلاس لوگوں کو، جنکو صرف کمپلیکس ہی رہنا ساری زندگی جلتے ہو تم ہم گدی نشینوں سے ۔”
افق نے ایک ادائے بے نیازی سے کہتے بالوں کو جھٹکا تھا۔
داور حشر مرا نامۂ اعمال نہ دیکھ ۔۔
اس میں کچھ گدی نشینوں کے بھی نام آتے ہیں۔۔
عبدلباری نے آرام سے “پردہ نشینوں ” کو گدی نیشنوں میں تبدیل کرتے شعر کا کباڑہ کیا۔
باری کے گروپ کے لوگوں نے سٹیاں بجاتے اسے داد تھی جبکہ اس سر پھری لڑکی کے مزید منہ لگنے کے بجائے اپنا سامان اٹھائے وہاں سے چل دیا۔
وائے قسمت کے راستے میں ہی وہ ٹہری تھی۔
“راستہ ملے گا یا پھر وہ بھی وڈیروں کے ہاں عرضی دینی پڑے گی۔”
باری نے جاتے ہوئے اسے تپانا ضرور سمجھا تھا وہ پاؤں پٹختے سائیڈ پہ ہوئی۔
“لوزر۔” افق کی بات پہ اس نے ابرو اچکائے جیسے کہا گیاہو! “کیا واقعی ہی؟”
افق نے منہ پھیر لیا تھا جبکہ وہ اسکی ادا پہ مسکرا کے رہ گیا۔
“مجھے کبھی بھی دربار پر ماتھا نہیں رگڑنا پڑا،نہ ہی دھکم پیل کی ذلالت برداشت کرنی پڑی ہے، نہ ہی گدی نشینوں سے اپنی جیب پر ڈاکہ پڑوانا پڑا اور نہ ہی در در کی ٹھوکریں کھائیں۔نفرت وڈیروں سے ہے سندہ سے نہیں کشمیری سیب۔ آئی لوو مائے پاکستان ۔”
باری نے جاتے ہوئے بھی کاروائی پوری کی تھی جبکہ وہ اسکے ٹونٹ پہ تلملا کے رہ گئی ۔
“ندھ سوہنیا لطیف سندھ میں,منجا لال لطیف آ سندھ میں،
منجا سہون شریف سندھ میں، منجا شاہ بھٹائی سندھ میں
آہ اجرک ، ٹوپی ، شال ا،سندھ دی آ پہچاں آ.”افق کے دوستوں نے اسے اداس دیکھتے اونچی آواز میں عابد بروہی کا ریپ گاتے اسے باری کی باتوں سے نکالنا چاہا۔
کیونکہ افق کی ماں کا تعلق کشمیر سے تھا جبکہ اسکے بابا سندہ سے تعلق رکھتے تھے ۔مگر جہاں اس نے اپنے بابا کا رعب بھرا لہجہ اپنایا وہیں ماں کے نقوش بھی چرا لائی تھی اور باری نے اسکے سرخ بھرے بھرے گالوں کو دیکھتے کشمیری سیب کا خطاب دے ڈالا تھا۔ ہمیشہ کی طرح اسکے ساتھ منہ ماری نے افق کو ایک بار پھر یہاں آکے پڑھنے پہ اسے پچھتاؤے کا شکار کیا تھا۔
یہ منظر تھا لاہور کی پنجاب یونیورسٹی کا جہاں فلاسفی کے سٹوڈنٹس ایک جتھے کی صورت میں جمع تھے وجہ ہمیشہ والا ہاٹ ٹاپک باری اور افق کی نوک جھونک۔
اب دونوں میں کوئی خاندانی دشمنی تو نہ تھی مگر ایک چیز تھی وہ افق کا سندہ سے آکے پی۔یو میں پڑھنا اور بدقسمتی سے باری کے مطابق چونکہ اسکا تعلق سندھ کے ایک بہت بڑے نواب گھرانے سے تھا س لیے انکی آپس میں بہت لگتی تھی ۔ لیکن باری کو افق سے کس واسطے کا بیر تھا یہ سمجھ سے باہر تھا۔بعض لوگوں کو یہ بھی لگتا تھا چونکہ ان دونوں کی فیملیز ایک مضبوط سیاسی بیک گراؤنڈ رکھتی تھیں اسیلئے فطری چڑ کی کوئی وجہ نہ تھی۔
✪✪✪✪✪✪✪✪✪✪
“زر” اس نے اسکے قریب آتے سرگوشی کی تھی۔
“کتنی بار بولوں مجھے نہ یہ زر بولا کرو آئی جسٹ ہیٹ دس ورڈ ۔” اس نے اپنی ننھی سی ناک کو سکوڑتے ہوا بولا ۔
“اگر کسی کے رومینٹک موڈ کا ناس بٹھانا ہو بلا لو محترمہ زرمینہ صاحبہ کو۔” اس نے منہ بنائے ناراضگی سے رخ موڑا لیا جبکہ اسکی تو جان پہ بن آئی تھی۔
“اچھا پلیز ناراض نا ہو جو دل چاہے بلا لینا پلیز ۔” دونوں ہاتھوں سے کان پکڑے اس نے اسکے سامنے بیٹھتے کہا تھا۔ جبکہ اسکی بات پہ وہ مسکاتے زندگی سے بھرپور قہقہ لگا گیا۔
” جانتی ہو میری زندگی کا کل اثاثہ تم ہی ہو زر ،کہنے میں کتنا اچھا لگتا ہے نا میں خود کو امیر امیر محسوس کرنے لگتا ہوں۔” اس نے اسکے ہاتھ پکڑے ایک جزب کے عالم میں بولا تھا۔
“اور اگر کوئی اور بھی مجھے اپنا زر تصور کیے ہوئے ہو تو؟”
زرمینہ نے معصومیت کے سارے ریکارڈ توڑے اسکے سامنے آنکھیں پٹپٹائیں جبکہ وہ اسکی اداؤں پہ فریفتہ ہورہا تھا۔
“آج کا دن میرے ساتھ پلیز ایسی کوئی اوٹ پٹانگ بات نہ کرنا مجھے پہلے ہی بہت غصہ تمہارے گاؤں جانے کا۔”
وہ سخت کبیدہ ہوریا تھا جبکہ وہ کھلکھلا اٹھی تھی۔
رہ نشینوں کو سواروں پہ ہنسی آنے لگی۔۔۔
غم کے ماروں کو ستاروں پہ ہنسی آنے لگی۔۔۔
اس نے میسنی صورت بنائے ایک شعر پڑھا جبکہ زرمینہ اسے آنکھیں دکھاتی رخ پھیر گئی تھی۔ جتنا اسے شاعرو شاعری سے چڑ تھی اتنا ہی وہ اسے جلانے کو اوٹ پٹانگ شعر پڑھتا رہتا۔
اسوقت وہ دونوں ہی سندہ یونیورسٹی کے آرٹ ڈیپارٹمنٹ میں ٹہرے تھے ۔ان دونوں کا ماسٹرز میں آخری سال تھا جبکہ اسکا تعلق پنجاب سے ہونے کی وجہ سے اسے زرمینہ سے بچھڑنے کا قلق محسوس ہونے لگا تو اسے پرپوز کردیا ۔
ہمیشہ ریزرو رہنے والے شخص کے منہ سے اپنے لیے پسندیدگی کا سنتے وہ کتنی دیر تو کچھ بول ہی نہ پائی تھی ۔
مگر جلد ہی اسے جذبوِں کو قبولیت کی سند دیتے محبت کی اس خار دار راہ میں اسکی ساتھی بن گئی تھی۔
وہ اپنے گھر والوں کو بھیجنا چاہتا تھا مگر زرمینہ چاہتی تھی کہ وہ اپنے گھر والوں کو پہلے اس شادی کیلئے منائے گی۔اسکا گھرانہ روایتی قدامت پسند گھرانہ نہ تھا جبکہ وہ ہم منصب تھے تو بظاہر اسے اعتراض کی کوئی وجہ نظر نہیں آرہی تھی ۔
وہ اسکے ساتھ ایک بھرپور دن گزارے اسکی محبتوں کا حصار باندھے گاؤں چلی آئی تھی جہاں اسنے اس بار اماں سائیں سے بات کرنے کا سوچ رکھا تھا۔
جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔
