Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tar e Ankaboot (Episode 12)

Tar e Ankaboot by Uzma Mujahid

“باری ۔۔”

اسے ہوش میں آتا دیکھ فیضان اسکی طرف بڑھے تھے۔

اس نے مندی مندی آنکھوں سے اپنے سامنے موجود شخص کو دیکھا۔

“وہ سراب ہی تھیں ،ایسی دیوی جسے مندروں کی گھنٹی بجا کے پوجا جا رہا ہے۔میرے خوابوں کی حقیقت سے آگاہ تھے نا آپ؟پھر… مجھے کیوں نہیں بتایا ۔۔۔فیضی میں نے کہا تھا نا مجھے میری منزل تک رسائی سے روکنے والے آپ ہو کیوں چھپایا سچ کیوں؟”

وہ ہیجانی کیفیت میں مبتلا تھا اسکے سوال ہمیشہ کی طرح بہت کڑے تھے۔

“میں گنہگار ہوا ایک بار تو حقیقت بتائی ہوتی میں لوٹ آتا۔”فیضان یک ٹک اسے دیکھ رہے تھے جو اسے مخاطب کرتا خود سے باتیں کرنے لگا تھا۔

“باری ایک موقع تو دیا ہوتا ایک بار تو یقین کیا ہوتا وہ غلط نہیں ہے ۔”فیضان نے ڈرپ لگے ہاتھوں کو تھامتے چوما۔

باری کی سانس اکھڑنے لگی تھی۔

فیضان کو پتا چلا تھا اس نے خود کو ذہنی اضطراب سے نکالنے کیلئے ڈرگز کا استعمال شروع کردیا تھا جو اسکے نروس سسٹم کو بری طرح متاثر کرچکی تھیں۔

✪✪✪✪✪✪

“کیوں پہن لیا یہ روایتوِں کا چولا آپ نے ۔”

وہ روتے ہوئے زرمینہ شاہ کے قدموں میں بیٹھی تھی۔

افق شاہ جب سے گھر آئی تھی انہیں ان گنت سوالوں کے پلندے میں تول رہی تھی۔

“کوئی بھی خوشی سے ایسی زندگی نہیں اپناتا افق۔”

زرمینہ شاہ نے جان چھڑانے والا انداز اپنایا تھا۔

“مت بھولیں اگر افق شاہ ٹوٹی ہے تو اسکی وجہ آپ ہیں باری کی نفرت کی وجہ آپ ہیں بتائیں مجھے کیوں کرتا ہے وہ آپ سے اتنی نفرت۔”

افق کو آج اپنے ہر سوال کا جواب چاہیئے تھا۔

زرمینہ شاہ نے ایک بے بس نگاہ افق پہ ڈالی ۔

“زرمینہ شاہ جو سلجوق شاہ اور ثقلین شاہ کی اکلوتی بہن ہے ہاتھ کا چھالہ بنا کے جسے پالا گیا آخر کیا ایسا ہوا جو وہ ایک پہیلی بن گئی۔جانتی ہیں کیا کہتا ہے وہ آپ کو ایک مکڑی،مکڑی جو دھوکے باز ہے جو اپنا گھر خراب کردیتی ۔میری مینہ پھوپھو تو ایسی نہیں ہیں بتائیں مجھے میں۔۔”

“زر۔۔زر کہتا تھا مجھے وہ۔۔”زرمینہ نے افق کی بات کاٹتے کسی خواب کی سی کیفیت میں اسے اپنی روداد سنانی چاہی۔

“کون؟”افق نے سوالیہ نظروں سے انہیں دیکھا۔

“فیضی،جانتی ہو وہ مجھ وہ اپنا زر سمجھتا تھا ۔اپنا اکلوتا قیمتی سرمایہ۔اسکے پاس میرے علاوہ کچھ نہیں تھا لیکن وہ روایات کی پاسداری چاہتا تھا پر ہار گیا آخر ایک دن زرمینہ شاہ سے الفت اسے یہاں کھنیچ لائی تھی ٹھیک اسی دن جب زرمینہ شاہ یہ روایتوں کا چولا پہننے لگی تھی۔”

زرمینہ سانس لینے کو رکی تھی وہیں افق کی سانسوں کی رفتار بڑھی کچھ انہونے انکشاف اسے وہم میں ڈالنے لگے تھے۔

“میں ایسی کسی رسم کو نہیں مانتا جو صرف آپکی اختراعی سوچ ہے اور کچھ نہیں ۔”کافی دیر چپ رہنے کے بعد فیضان نے سفید لباس سے نظریں چراتے بڑی بیبی کو مخاطب کیا۔

“تمہارے ماننے یا ناماننے سے حقیقت بدل نہیں جائے گی برسوں سے چلی آرہی اس روایت کے خلاف جانے والوں کے انجام سے شاید تم انجان ہو لیکن مینہ نہیں اسیلئے بہتر یہی ہے کہ یہاں سے چلے جاؤ۔”

زرمینہ شاہ کی ماں نے فیضان کی باتوں کا جواب دیتے اسے باہر کا راستہ دکھایا۔

“پلیز زر تم اپنے لیے اسٹینڈ کیوں نہیں لے رہی۔”

فیضان نے بڑی بیبی کو مکمل اگنور کرتے

زرمینہ شاہ کے سامنے آتے کہا۔

“فیضی آپ پپ پلیز یہاں سے جائیں اماں سائیں صیح کہہ رہی ہیں پلیز۔”زرمینہ شاہ نے بجائے اسکی بات سمجھنے کے وہاں سے جانے کا مشورہ دیا تھا۔

“نہیں کبھی بھی نہیں میں تمہیں اس فرسودہ رسم کی بھینٹ نہیں چڑھنے دونگا۔”فیضان اپنے مؤقف پہ قائم تھا۔

“ٹھیک ہے اگر تمہاری یہی خواہش ہے تو اپنے انجام کیلئے تیار رہنا۔”بڑی بیبی اسے وارن کررہی تھیں۔

زرمینہ شاہ نے اپنے سر سے دوبٹہ اتارے فیضان کے قدموں میں رکھتے اسے وہاں سے جانے کی التجا کی۔

کتنی دیر وہ بےیقینی سے اس لڑکی کو دیکھ رہا تھا جو دل کے مکین ہونے کا ناجائز فائدہ اٹھا رہی تھی۔

“آپکو ہماری پاکیزہ محبت کا واسطہ فیضان یہاّں سے چلے جائیں۔”بڑی بیبی نے تنفر بھری نظروں سے یہ منظر دیکھتے رخ موڑ لیا تھا۔

وہ شکست خوردہ سا وہاّں سے نکل آیا تھا۔بیرونی دروازے سے نکلتے وہ وہاں سے نکل رہا تھا جب راستے میں ایک عورت آٹہری تھی۔

“تم اسے یہاں سے لے جاؤ ،وہ یہاں رہنے کیلئے نہیں بنی۔”

سفید لباس اوڑھے وہ عورت مضبوط آواز میں بولی تھی۔

فیضان نے الجھی نظروں سے اسے دیکھا۔

“آ آپ کون ؟” اسے زرمینہ سے ملن کی آس جگی تو فوراً اس عورت کے بارے میں جاننا چاہا تھا۔

“زرمینہ ،زرمینہ ہی سمجھ لو مجھے اس حویلی کے چپے چپے پہ تمہیں زرمینہ کا روپ دھارے عورت ملے گی اس لیے اسے لے جاؤ۔آزاد کروا لو اسے ان غلام گردشوں سے۔”

آنکھوں سے آنسو پھسلتے جھریوّں زدہ چہرے پہ پھیلے تھے۔وہ دم سادھے انہیں دیکھ رہا تھا۔

“وہ نہیں جائے گی۔”فیضان نے شرمندگی سے اعتراف کیا۔

“بچی ہے نا نہیں جانتی ان میکدوں میں پہاڑ جیسی زندگی بنا کسی امنگ کے جینا کتنا دشوار ہے۔”

اب کے لہجہ ٹوٹا ہوا تھا۔

“لیکن کچھ دیر میں اسکا نکاح ہے شاید۔۔۔قرآن کے سا۔..”

“جب اس گھر میں ثقلین شاہ ،سلجوق شاہ کے بچوں کی قلقاریاں گونجیں گی اسے اپنے اندر ایک احساس محرومی ہوگی،جب انکی بیویاں سج دھج کے شوہر کی نظروں کا خراج وصول کریں گی چاہے جانے کی تشنگی بڑھے گی ایسے میں اندھیری راتوں میں کسے اپنا سہارا بنائے گی روشنی کی اس کتاب میں خیروبرکت ہے،امان ہے زندگی گزارنے کی راہ لیکن ایک عورت ذات کئی محرومیوں کا ازالہ نہیں۔”

فیضان نے انکی بات کی گہرائی کو سمجھتے اثبات میں سرہلایا تھا۔

“لیکن۔۔۔”

“کچھ دیر کو یہی رک جاؤ ،وہ آجائےگی۔”

فیضان انکے اس اعتماد پہ حیران سا رکا تھا۔

کچھ دیر وہ اسے لیے اپنے حجرے کی طرف بڑھیں تھیں۔

“یہاں عمررسیدہ پاک بیبیوں کو آزادی مل جاتی ہے بیٹا کوئی ان ہڈیوں کیلئے بھلا کیوں آئے گا ۔”

فیضان کے دل میں واقعی کئی خدشے سر اٹھانے لگے تھے لیکن ٹھیک پندرہ منٹ بعد زرمینہ شاہ انکے پاس تھیں۔

“پھوپھو بابا سائیں ہمیں کبھی معاف نہیں کریں گے۔”

وہ روتے ہوئے انکے گلے سے لگی تھی۔

“اور شاید خدا مجھے کبھی معاف نہ کرے ظالموں کا ساتھ دینے پہ۔”حلیم لہجے میں کہتے انہوں نے زرمینہ کو گلے لگایا تھا۔اگلے چند گھنٹوں میں وہ فیضان کے ساتھ سیدہ والی حویلی اور گاؤں کی حدود سے باہر آچکے تھے۔

“نکاح کی کیا رسم تھی کئی سالوں سے بیٹیوں کو انکی جائیداد کے حق سے محروم رکھنے کا بہانہ تھا ڈر تھا کہیں بہن بیٹیوں کی نسل میں سے کوئی اتنا جانبدار نہ آجائے جو کبھی انکی برابری کرتے جائیداد کا حقدار بننے کی کوشش کرے ۔

جائیداد کی اس تقسیم کو روکنے ایک نیا رواج چل نکلا تھا۔”

زرمینہ نے گہری سانس لیتے کئی ایک پچھتاووں سے نکلنا چاہا۔

“پھر انہوں نے آپکو چھوڑا کیوں؟”

افق کی آواز سرد تھی۔

“انہوں نے نہیں میں نے چھوڑا تھا۔”

زرمینہ نے آنکھیں میچتے کتنی دیر اس کرب کو محسوس کرنا چاہا جنکے غلط فیصلے نے باری کا تشخص بگاڑ دیا تھا۔

رسم کے مطابق گھر کی خواتین زرمینہ کے کمرے کی طرف بڑھی تھیں مگر خالی کمرہ انکا منہ چڑا رہا تھا۔

سیدہ والی حویلی قیامت کا منظر پیش کرنے لگی تھی جب سلجوق شاہ کو مخبری ملی زرمینہ شاہ کے بھاگنے میں پھوپھو اماں کا ہاتھ تھا۔

بنا کسی عمر کے لحاظ کے اس نے پھوپھو اماں پہ لاتوں گھونسوں کی بارش کردی تھی۔

کتنے دن انہیں بھوکاپیاسا رکھا گیا تھا۔

کئی دن قید کی صعوبتیں برداشت کرنے کے بعد بلآخر انہیں اس بےرنگ زندگی سے چھٹکارہ حاصل ہوگیا تھا۔

✪✪✪✪✪✪✪

“مجھے یقین ہی نہیں ہورہا کہ میں نے اپنی منزل حاصل کرلی ہے زر۔”کچھ دیر پہلے ہی فیضان کے دوستوں کی موجودگی میں اسکے فلیٹ پہ اسکا نکاح ہوا تھا جہاں زرمینہ شاہ ،زرمینہ فیضان بنکے انکے پہلوؤں میں بیٹھی تھیں۔

“نجانے حویلی میں کیا طوفان برپا ہوگا۔”

زرمینہ کے لہجے میں اداسی چھائی تھی۔

“وقت کے ساتھ سب ٹھیک ہوجائے گا زرمینہ اور

اب تو تم اس فضول رسم سے بھی محفوظ ہو۔”

فیضان نے اسکا ہاتھ تھامے ہلکا سا دبایا تھا۔

زرمینہ چونکتے ہوئے سیدھی ہوبیٹھی۔

“کچھ دیر پہلے ہوئے نکاح کی رسم اپنی جزئیات سیمت سامنے آٹہری تِھی۔اس نے شرماتے ہوئے سرجھکا لیا۔

“مجھ سے وعدہ کرو زر حالات جیسے بھی کٹھن ہوں تم مجھے چھوڑ کے نہیں جاؤگی۔”

فیضان نے اسکے ہتھیلی کی پشت پہ لب رکھتے ساتھ اپنا ہاتھ اسکے سامنے کیا۔

زرمینہ نے کچھ جھجکتے اسکا ہاتھ تھام لیا۔

“اب تو ساری کشتیاں جلا دی ہیں۔”

شرمائے لہجے میں گویا اس نے فیضان کے

خدشوں کو دور کرنا چاہا تھا۔

“بس مجھے یہی حوصلہ چاہیئے زر اب جو کچھ بھی ہوں میں ہوں،”

فیضان نے اسکی طرف جھکتے کہا ۔

آنے والے دنوں کی کئی خوشگوار ساعتوں نے انہیں خوش آمدید کہا تھا۔

دن ہفتوں اور پھر چھ مہینوں میں گزرے وہ فیضان کے ہمراہ اپنی زندگی کو مکمل طور پہ جی رہی تھی جب ڈاکٹرز نے اسے دوسرے جی سے ہونے کی نوید سنائی۔

فیضان یہ خوشخبری سنتے اتنا خوش تھا اسکا بس نہیں چلتا تھا کہ وہ اسے زمین پہ پیر نہ رکھنے دے لیکن زرمینہ کے اندر مسلسل خاموشی اور اداسی کا ڈیرہ تھا۔

“تم خوش نہیں ہو زر؟”فیضان نے بوجھل انداز میں پوچھا جہاں زرمینہ کی مسلسل خاموشی اسے کوئی مجرم ثابت کررہی تھی۔

“ہمارا بچہ رشتوں کے معمالے میں کیا ہمیشہ محروم رہے گا۔”گھٹنوں پہ چہرہ ٹکائے اس نے فیضان سے سوال کیا۔

“نہیں بلکل بھی نہیں زر دیکھنا امی جلد ہی مان جائیں گی زر ہمارا بچہ ہمارے رشتے لوٹا دے گا۔میں کم ہمت نہیں ہوں بس ایک ڈر سا ہے کہیں تمہارے گھر والوں کے بعد میرے گھر والے بھی مخالفت کرتے ہمیں کسی مشکل کا شکار نہ کردیں میں تمہیں کھونا نہیں چاہتا اور اب تو بلکل بھی نہیں۔”

فیضان نے اسکے سر پہ بوسہ دیتے نجانے خود کو تسلی دی تھی یا اسے۔

دن سبک روی سے گزر رہے تھے ۔

دونوں ہی اپنے گھروں سے دور اپنی کبھی اداس تو کبھی خوش زندگی انجوائے کررہے تھے جب انکیلئے پہلی آزمائش کھڑی ہوئی۔

روٹین کے چیک اپ کے مطابق وہ اسے ہاسپٹل لایا تھا ۔ڈاکٹر سے فارغ ہوتے اسے کوریڈور میں بٹھائے وہ میڈیسن لینے گیا تھا جب ہاسپٹل میں ایک زخموں سے چور شخص لایا گیا۔

وقت کے ہزارویں لمحے میں اس نے اس شخص کو پہچان لیا تھا۔وہ دوڑتے ہوئے وہاں تک پہنچی۔

دھڑکتے دل سے دوبارہ زخموں سے چور شخص کو دیکھا۔

“یہ کک کیا ہوا ہے انہیں۔”کسی کھائی سے آواز آئی تھی۔

“لاوراث نعش پڑی تھی روڈ پہ کوئی بھی پہچان نہیں

پارہا تھا۔”

“کتنا برا ایکسڈینٹ ہوا ہے۔”

“سنا ہے ام الخبائث کے نشے میں دھت تھا۔”

مختلف لوگوں کی زبانوں سے نکلنے الفاظ پہ اس نے اپنے چکراتے سر کو تھاما۔

سید سلجوق شاہ جب زمین پہ بھی چلتا تھا تو اسکے کروفر سے زمین کانپ اٹھتی جو اب ایک لاوارث نعش کی طرح سامنے تھا ۔کتنی دیر لگی تھی اسے اپنے حواس مجتمع کرنے میں۔

فیضان وہاں آیا تو اسکا یوں لٹا پٹا انداز دیکھتے گھبرا سا گیا تھا جو سامنے موجود میت کے پاؤں پاس ٹہری تھی۔

“کیا ہوا زر۔”کسی انہونی کے تحت اس نے زرمینہ کے کندھوں پہ ہاتھ رکھا ۔اتنے اجنبیوں میں ایک آشنا کی شکل دیکھتے وہ ٹوٹ کے بکھری تھی۔

“فیضی بب بھا۔ ۔سلجوق بھائی۔”بڑی مشکل سے لفظ ٹوٹ ٹوٹ کے ادا ہوئے اسکے انکشاف پہ فیضان نے ایک گھبرائی ہوئی نگاہ میت بنے اس شخص پہ ڈالی۔

“زر”

“لاوارث کہہ رہے ہیں یہ مم میرے بھائی کو فف فیضی انہیں بتاؤ یہ کک کون ہے جسکے پیچھے ایک دنیا چلتی وہ لاوارث نہیں ہے۔”وہ اسکے سینے سے لگی رو رہی تھی۔

“ایکسکیوزمی کیا آپ انہیں جانتے ہیں۔”

ڈاکٹر نے زرمینہ کی جزباتیات دیکھتے کہا تھا۔

فیضان کا سر میکانکی انداز میں ہلا ڈاکٹر نے اسے اپنے ساتھ آنے کا اشارہ کیا تھا۔

وہ زرمینہ کو ایک سائیڈ پہ بٹھاتے اندر کی طرف بڑھ گیا۔

“دیکھیں یہ لاوارث لاش روڈ سے ملی اور لوگ یہاں لے آئے بظاہر ایکسڈینٹ نظر آنے والی یہ موت قتل کی بھی سازش ہوسکتی آپ انکے گھر والوں کو اطلاع کردیں یا ہمیں کانٹیکٹ نمبر دیں ہم رابطہ کرلیتے۔”

ڈاکٹر کے انکشاف پہ اسکا دل بوجھل ہوا تھا بمشکل زرمینہ سے نمبر لیتے اس نے سیدہ والی حویلی کال ملائی تھی ۔

حویلی والے زرمینہ کو یہاں دیکھتے حیران ہوئے تھے لیکن ثقلین شاہ نے اسکے سر پہ ہاتھ رکھتے اسے گھر چلنے کا کہا تھا ۔غم میں نڈھال زرمینہ کو دیکھتے فیضی نے بھی چپ اختیار کرلی۔

“اپنا اور ہمارے بچے کا خیال رکھنا زر۔”

فیضان نے ایک فاصلے پہ رہتے اس سے کلام کیا۔

ثقلین شاہ کی کاٹدار نگاہیں اسے زمین میں گاڑ رہی تھیں لیکن فیضان کو زرمینہ کا یوں جانے کا فیصلہ کئی خدشات میں بھی مبتلا کررہا تھا۔

✪✪✪✪✪

“باری کیا ہوا بیٹا اتنا پریشان کیوں ہو؟”

الماس نے اسے دو دن سے کمرے میں بند دیکھتے

بلآخر اس سے پوچھ ہی لیا۔

“میں ٹھیک ہوں مما۔”

باری نے لاڈ سے کہتے انکی گود میں سر رکھا تھا۔

“کچھ تو ہے جو میرا بیٹا مجھ سے چھپا رہا ہے اور فیضی کو دیکھو وہ بھی گم ہے ۔اس لڑکے کا مجھے نہیں پتا چلتا کبھی کہاں تو کبھی کہاں ۔تمہاری کوئی بات ہوئی اس سے؟”

الماس نے ایک ساتھ ان دونوں کی کلاس لی۔

“مما ایک بات پوچھوں؟”

باری نے الماس کاہاتھ تھامے بےچینی سے کہا تھا۔

“ارے میرے بیٹے کو کب سے اجازت کی ضرورت

پڑگئی مجھ سے کچھ پوچھنے کی۔”

الماس نے اسکے ماتھے پہ تھپڑ مارتے آنکھیں دکھائیں۔

“میں کس جیسا ہوں زرمینہ شاہ جیسا یا فیضی جیسا۔”

باری کے الفاظ نے ان سے بات کرنے کی قوت چھین لی تھی۔کتنی دیر وہ ہکا بکا اسے دیکھتی رہیں۔

“بتائیں نا مما۔”

باری کی آنکھیں آنسوؤں سے ڈبڈبانے لگی تھیں۔

“بب باری یہ کک۔۔ کس نے کہا تم سے تت تم میرے بیٹے ہو مجھ جیسے ہو۔”کتنی دیر بعد وہ کچھ بولنے کے قابل ہوئی تھیں۔

“میں سب جانتا ہوں مما۔”

باری کے انکشاف نے انکے رونگٹے کھڑے کردیے تھے۔

کچھ حقیقتیں جان لیوا ثابت ہوتیں۔

الماس کو بھی یہی لگ رہا تھا جیسے انکا جسم بے

جان ہورہا تھا۔

“فیضی۔۔”

“نہیں وہ بہت بزدل ہیں،سچائیوں سے چھپکے کتابوں کی دنیا میں رہنے کا ناٹک کرنے والے ۔جانتی ہیں مما مجھے آپ سے بہت پیار ہے لیکن مجھے ان دونوں سے بے انتہا نفرت ہے جو مجھے کسی گناہ کی طرح چھپا رہے ہیں۔”

باری نے بے بسی سے کہتے الماس کے ہاتھ چومے جیسے فیضان اور زرمینہ سے نفرت کرنا اس کے بس میں نہ ہو۔

“نہیں باری ایسے مت کہو،تم بہت انمول ہو ،

تمہاری مما بہت پاکیزہ ہیں۔”

الماس کو سمجھ نہیں آرہا تھا باری انہیں آزما رہا تھا یا واقعی وہ حقیقتوں سے آشنا ہے۔

“جو بچہ میرے خواب میں آتا ہے وہ میں ہوں نا؟لاوارث۔”

باری نے درد سہتے مزید بولا۔

الماس کو لگ رہا تھا وہ صرف بولنا چاہتا ہے سننا نہیں۔

“کیسی فضول باتیں کررہے ہو باری ۔

اگلے ہفتے شادی ہے اور یہاں تم نے فضول باتیں لے رکھی ہیں خود پہ ،چلو اٹھو شاباش فریش ہوجاؤ۔میں آج اپنے بچے کا فیورٹ ناشتہ بنانے لگی ہوں۔۔۔اور۔”

“آپ پھوپھو سے کہیں وہ بآبا کی خواہش کو پورا کرنے کے چکر میں ایسے لڑکے سے اپنی بیٹی کو نا منسوِب کریں جسکی ذات بے نشان ہے۔”

باری نے انکے ہاتھ تھامے انہیں ایک اور جھٹکا دیا تھا۔

“با۔۔”

“ایک اور دکھ شاید آپکا باری سہل نہیں کرسکے گا ۔”

ان آنکھوں کی ویرانی الماس کو تڑپانے لگی تھی۔

“میں یہ شادی نہیں کرسکتا مما رئیلی سوری۔”

اسکی آنکھوں سے بےنام آنسوؤں گرا تھا ۔

الماس کی ذات مسلسل نئے نئے انکشافات کی زد میں آتے لاچار سی ٹہری تھی۔

فیضان کا بھی کوئی اتہ پتہ نہیں تھا

اور باری کا صاف انکار گھر میں انتشار پیدا کرگیا تھا۔

عنائیہ سمیت سب نے کوشش کرلی تھی اسے سمجھانے کی لیکن اسکی نا ہاں میں نہیں بدلی تھی۔

“اگر آپ لوگ مجھے فورس کریں گے میں یہ گھر چھوڑ کے چلا جاؤنگا۔”باری کی برداشت کا پیمانہ لبریز ہوگیا تھا وہ چیختے ہوئے ہر چیز تہس نہس کردینے کے درپہ تھا۔اسکی اتنے دنوں کی خاموشی واقعی بہت بڑا طوفان لارہی تھی ۔

“ارے جاؤ جاؤ میاں ہمیں بھی کوئی شوق نے یوں ٹٹ پونجیے کے ہاتھ اپنی بیٹی دینے کا جسکی ماں کا تو آج تک پتا نہیں چل سکا ۔نجانے فیضی نے کن گلیوں میں منہ کالا کیا تھا جو تم جیسی اولاد پیدا ہوتے ہی اگلی دروازے پہ پھینک گئی۔”

پھوپھو کے الفاظ تیر کی طرح اسکے سینے میں چبھے تھے ۔

“آپا کیا کہہ رہی ہیں آپ خدارا چپ ہوجائیں۔”

الماس نے انہیں چپ کروانا چاہا جبکہ باری اپنی ذات کے پرخچے ہوا میں معلق ہوتے دیکھ رہا تھا۔

“ارے کاہے کی چپ ، یہ لور لور اس لڑکی کو کیا نام ہے ہاں افق اسکے ساتھ منہ کالا کرتا پھر رہا تھا پل پل کی خبر تھی پھر بھی ہم نے عنیزے کی ضد اور بھائی صاحب کی زبان کی لاج رکھ لی۔”

وہ سرجھکائے اپنی ذات سے منسوب قصے سن رہا تھا۔

“مما پلیز ۔”عنیزے نے کی طرف پڑنے والی باری کی کٹیلی نگاہ شرم سے پانی کرگئی ۔جو دوست ہؤکے اسکے رازوں کی پردہ دار نہیں کرسکی تھی۔

“تم بھی سن لو اب اگر اس لڑکے کی حمایت میں بولی تو بیٹی کو گھر بٹھاؤ گی۔” عنائیہ نے حیرانی سے انکے الفاظ سنے اس منجدھار میں پھنسی الماس نے بے بس نگاہ باری پہ ڈالی جنکا فیصلہ پورے گھر میں بھونچال لایا تھا۔

“آپ لوگوں کی دنیا آپکو مبارک ہو۔۔”

“باری۔۔”الماس نے آگے بڑھتے اسے روکنا چاہا۔

“آہاں نن ۔۔نو مما ناؤ اٹس آل اوور،کہانی ختم ۔۔ارے اس کہانی کے راجہ رانی اپنی اپنی دنیا میں مگن ہیں خوش ہیں لیکن شہزادے کا کیا؟ ہاہاہاہا شہزادہ عبدلباری آپکا بہت شکریہ آپ نے ایک لے پالک بیٹے کیلئے اتنا کچھ کیا۔

اور مجھے دیکھو میں نے کیا کیا ؟”

اس نے بہکے انداز میں اپنی طرف ہاتھ کیا تھا۔الماس کو لگ رہا تھا وہ ابھی گر جائے گا۔عنائیہ نے آگے بڑھتے اسے تھامنا چاہا تھا لیکن اسکے قریب سے اٹھتی ام۔الخبائث کی باس نے عنائیہ کو جھٹکا دیا تھا۔

“باری تم نے ڈرنک کی ہے؟”

اس نے باری کا بازو پکڑے اسے جھنجوڑا تھا۔

“نن۔۔نہیں مم کیوں کرونگا ڈرنک؟”

باری نے سرخ ڈوروں سے بھاری پلکیں اٹھائیں جہاں اسکی سرخ خون چھلکاتی نگاہیں دیکھتے عنائیہ کا ہاتھ بے ساختہ سینے پہ پڑا تھا لیکن دوسرے ہی لمحے وہ باری کے منہ پہ پڑا تھا۔

“شرم تو نہیں آتی ان خرافات میں پڑتے ہمارا باری تو ایسا نہیں تھا۔”آج پہلی بار اس نے باری پہ ہاتھ اٹھایا تھا اور خود ہی اپنا ہاتھ تھامے رو پڑی۔

“بب۔۔باری آپکا تھا کب ۔وہ تو اپنا بھی نہیں ہوسکا۔۔افق کا نہیں ہوسکا کسی کا نہیں ہوسکا۔۔ہا ہا ہا۔”

غائب دماغی سے کہتے وہ زمین پہ بیٹھا تھا۔

“لو ہوگیا ثابت بدی کا انجام یہی ہوتا۔”

پھوپھو نے تنفر سے کہتے وہاں سے جانے کیلئے پر تولے۔

عنیزے سے لگا بنٹی ،باری کو ایسے دیکھتے رو پڑا تھا۔

وہ تو ہمیشہ ہنستا ہوا شرارتیں کرتا ہوا اچھا لگتا تھا۔

یہ باری تو کسی کو بھی اچھا نہیں لگ رہا تھا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *