Tar e Ankaboot by Uzma Mujahid NovelR50607 Tar e Ankaboot (Episode 08)
Rate this Novel
Tar e Ankaboot (Episode 08)
Tar e Ankaboot by Uzma Mujahid
مسجد کی طرف جانے کیلئے اس نے دروازہ کھولا تو پاؤں کسی چیز میں الجھا تھا۔اسں نے پاؤں میں اٹکنے والی چیز پہ نگاہ کی تو ششدر رہ گیا ۔وہ کمبل میں لپٹا کوئی انسانی بچہ تھا۔ساتھ ہی ایک خط موجود تھا۔
بچہ بھی نیند میں تھا مگر ٹھوکر لگنے سے وہ کسمساتے ہوئے رونے لگا تھا ۔ رونے کی آوازگھر کی دہلیز سے ہوتی آواز اندر کے مکینوں تک پہنچی تھی۔
“کیا ہوا کسکا بچہ ہے یہ؟” اسکی ماں کی آواز آئی تھی وہ جو خط پڑھتے کہیں کھویا تھا ایک دم حواسوں میں لوٹ آیا۔
“میرا” لفظ تھے یا سنگلاخیں جو اس گھر والوں کے دل کا خون کرگئی تھیں۔
“کیا بےہودہ مزاق ہے یہ تم جانتے بھی ہو کے کیا کہہ رہے ہو۔”اسکی بہن نے گربیان سے پکڑے ایک تھپڑ مارتے گویا اسے حواسوِں میں واپس لانا چاہا تھا۔
“یہ میرا بچہ ہے اگر آپ لوگ تسلیم کرسکتے ہیں تو کرلیں نہیں تو میں ابھی کے ابھی آپکا گھر چھوڑ دونگا۔”
چٹانوں جیسے لہجے میں کہتے وہ وہاں سے چلا گیا تھا۔
وہ اس گھر کا لاڈلہ بیٹا تھا اسے کھونے کا ظرف کسی میں کہا تھا اسیلئے اسکی بات پہ دل کڑا کرتے اسکے بچے کو بھی اپنا لیا گیا تھا ۔اسکی ماں کون تھی کہاں تھی کسی کو بھی اس بات میں ذرا برابر کوئی دلچسپی نہیں تھی۔
وہیں گھر کے مکینوں کے دلوِِں میں وہ ننھی قلقاریاں گھر کرنے لگی تھیں۔
“بیبی صاحب وہ وہاں بہت خوش ہے،سب بہت پیار کرتے ہیں گھر کا اکلوتا لڑکا ہے نا ۔”اسکی خاص ملازمہ نے رازداری سے اسے آگاہ کیا تھا۔ اوراسی شام اسے خبر ملی تھی کہ اسکی خاص ملازمہ ایک کار حادثے میں ماری گئی تھی۔
“سبکی ہی موت آسان بنا دی اماں سائیں ایک میں ان چاہا وجود ہوں اپنے کھوکھلے وجود سے آزادی چاہتی ہوں مجھے بھی زہر لادیں۔ میری سانسیں مجھ پہ بھاری ہیں کتنے لوگوں کو ماریں گی آپ میری وجہ سے۔”
اس نے روتے ہوئے اپنی ماں سے درخواست کی۔
“کچھ حساب دنیا میں ہی ہوجائیں تو بہتر ہوتا ہے۔اس بچے کو دنیا میں لانا تمہاری ضد تھی ۔اب تم بھول جاؤگی کہ اس بطن نے کبھی کوئی بچہ جنا تھا ۔”
کروفر سے کہتے اسکی ماں نے ایک ٹھوکر مارتے
اسے اپنے پاؤں کی قید سے آزاد کیا ۔
“خدا کے فیصلے اسی پہ چھوڑ دیں ،مت اسکے بندوں پہ اتنے قہر برسائیں۔”وہ درد کی شدت سے چلائی تھی۔
“تمہارے بچے کو چھوڑ دیا کیا اتنا کافی نہیں ہے تمہارے لیے۔” خشونت بھری آواز اسکے لب سی گئی تھیں۔
اسکے راز کو راز رکھ لیا گیا تھا بلکہ اسکی ماں اور دادی نے اسکی آخری خواہش سمجھتے مکمل پردہ داری میں اسے شہر رکھا تھا جہاں اسکے جسم میں ہونے والی تبدیلیاں ہر ایک سے پوشیدہ رہ گئی تھیں اور آج اس بوجھ سے بھی آزادی مل گئی تھی جسے اسکی ماں اور دادی ناجائز اولاد کہتے ہر روز ٹارچر کرتی تھیں۔
مگر آج اسکی محبت کی بےنام نشانی اپنے صیح حقدار تک پہنچ گئی تھی۔
✪✪✪✪✪
باری کی آنکھ سسکیوں کی آواز پہ کھلی تھی۔ماؤف ہوتے ذہن پہ دباؤ ڈالے وہ اٹھ کے بیٹھا تھا جب نگاہ کمرے کے میں دبکی بیٹھی افق پہ پڑی تھی۔
“کیا ہوا افق۔۔”اسے لٹے پٹے انداز میں بیٹھے دیکھ اس نے قدم اسکی جانب بڑھائے تھے۔
“آئی ہیٹ یو باری۔”وہ چیختے ہوئے پھر سے سر گھٹنوں میں دیے رونے لگی تھی ۔باری کو اپنے اقدام کی سنگینی کا احساس ہوا تھا ۔وہ شرمندہ شرمندہ سا اسکا ہاتھ پکڑنے لگا جب افق نے اسے جھٹکتے خود سے دور کیا۔
“میرے قریب مت آنا باری پہلے ہی تم میری بےہوشی کا ناجائز فائدہ اٹھاچکے ہوں دور رہوں مجھ سے۔”
وہ اتنے زور سے چلائی تھی کہ گلے پہ خراش پڑگئی تھی۔
“افق میری بات سن لو پلیز ،آئی ایم سوری یہ جو کچھ ہوا سب انجانے، آئی میںن میری ایسی کوئی اٹنیشن نہیں تھی۔”باری نے کمزور آواز میں وضاحت دی تھی۔
“میں نے تو تمہیں اپنا رکھوالا سمجھا تھا باری اور تم ہی لوٹیرے بن گئے۔”اس نے ہچکیوں کے درمیان بات مکمل کی۔
“ایسا کچھ نہیں ہے افق پلیز میری بات سمجھنے کی کوشش کرو۔”باری نے آخری بار اسکی بدگمانی دور کرنی چاہی تھی ۔
“معاف کردو باری مجھے میں اس لمحے کو کوس رہی ہوں جب میں نے تم پہ اعتبار کیا ،میں نے تم پہ اعتبار کیا ہی کیوں۔”غصے سے کہتے وہ باری پہ چلائی تھی جب اس نے آگے بڑھتے افق کو خود میں بھینچ لیا۔
“آئی۔ایم سوری افق میں تمہیں اپنانا ضرور چاہتا تھا پر ایسے نہیں ،میں کمزور مرد نہیں ہوں مگر پھر بھء جذبات کے دھارے میں بہہ گیا تھا مجھے معاف کردو افق۔”باری نے اسکے سر میں انگلیاں پھیرتے وضاحت کی جو ابھی تج ہچکیاں لیتے اسکے سینے سے لپٹی رو رہی تھی ۔
کمرے میں چھائے سکوت کو افق کی کچھ دیر بعد لی جانی والی سسکیاں توڑ رہی تھیں۔
باری اسے خود سے لگائے دیوار کے سہارا بیٹھا تھا ۔
“میں نے بہت برا کیا ہے نا افق میں سب ٹھیک بھی کرلونگا ۔”باری نے مصمم ارادے سے کہتے اسے خود سے الگ کیے سامنے کیا تھا۔افق نے اس سے نظریں چراتے ہاسٹل جانے کی استدعا کی تھی۔
وہ خود بھی ذہنی طور پہ اتنا منتشر ہوچکا تھا
بنا بحث اسے ہاسٹل چھوڑ آیا تھا۔
✪✪✪✪✪
“خدا کے بندوں کو دہکتے الاؤ کی نظر کر کے اگر آپ یہ سمجھ رہی ہیں ،خدا آپ کو معاف کردے گا تو میں اس پہ سراپا احتجاج ہوں ،وہ ذات حقوق اللّٰہ سے پہلے ، اپنے بندوں کے حقوق کا سوال کرے گی۔ یہ کفن کا چولا آپکو پاک بیبی تو ثابت کردے گا مگر ایک بہترین انسان نہیں۔” وہ چیختے ہوئے بولا تھا جہاں پاک بیبی درگاہ کی طرف بڑھ رہی تھیں ایک دم پلٹ کے اس شخص کو دیکھا تھا ۔
“کون ہے یہ بدبخت جو پاک بیبی کی شان میں گستاخی کررہا۔”ایک درباری کو اسکی یہ حرکت پسند نہیں آئی تھی۔پاک بیبی نے ہاتھ کے اشارے سے اسے روکنے کا کہا۔
“بیبی سائیں ایسے لوگ دربار کی بدنامی کرنے آتے ہیں یہاں۔” دربان نے مؤدب انداز اپنائے سرجھکائے کہا تھا۔
اس نے ملازمہ کو کچھ اشارہ کیا تھا جس نے وہاں موجود تمام درباریوں کو ہٹانے کا بولا تھا اور درگاہ کی جانب بڑھتے اس سائل کو بھی پاک بیبی کے حضور پیش ہونے کا کہا گیا تھا ۔
کسی مجرم کی طرح سر جھکائے وہ درگاہ میں آیا تھا جہاں سفید پردوں کی باڑ لگاتے مردوں کیا عورتوں سے بھی پاک بیبی کا پردہ رکھا گیا تھا۔
پردے کی اوٹ سے وہ آنے والے کو بخوبی دیکھ سکتی تھیں جو گزرے ماہ سال کی پرچھائی بنکے انکے سامنے آیا تھا۔
وہ ٹٹکی باندھے اس نوجوان کو دیکھ رہیں تھیں جسکا حلیہ بتا رہا تھا کہ اس نے اپنی عمر سے بڑے جوگ پال رکھے تھے۔دور کہیں ٹرین کے انجن کی آواز سنائی دے رہی تھی اور کچھ یادیں چھم سے آنکھوں کے سامنے آئی تھیں۔
“بیٹھو”عموماً وہاں آئے مردوں کو پاک ببیوں کی آواز سننے کا شرف حاصل نہیں ہوتا تھا ۔پر وہ اس سے مخاطب تھیں جو کسی تابع کی طرح انکے سامنے بیٹھا تھا۔
“کیا چیز کھینچ لائی ہے تمہیں یہاں۔”
مدبر انداز میں مخاطب ہوتیں پاک بیبی
نے اس شخص کی کچھ دیر پہلے کی گئی
بدتمیزی کو درگزر کردیا تھا۔
“سچ کی تلاش،اپنی پہچان ۔”
اس شخص کی آواز میں بلا کا کرب تھا۔
“سچ وہیں ہے جو تمہیں بتایا گیا ہے، سکھایا گیا
اس سے آگے کی داستان سوائے کچھ محرومیوں
کے اور کچھ نہیں ،لوٹ جاؤ یہاں پہ آنے والے بڑی مرادیں لے کے آتے ہیں لیکن یہاں کا سچ یہ بھی ہے کہ انکی مرادوں کے برآنے میں اس دربار کے مکینوں کا کوئی ہاتھ نہیں۔”
پاک بیبی کے آنکھوں سے آنسوؤں کی لڑی جاری تھی بھلا جسے نو مہینے اپنے خون میں سینچا تھا کیا وہ اسے نہیں پہچان پاتیں مگر اسے وہ ہمیشہ کی طرح عزیز تھا تبھی اسے راہ راست دکھانی چاہی۔
“ادھورے قصے بہت تکلیف دے رہے ہیں،ادھوری کہانی میری ذات کو بے نشان کررہی ہے آپ یہ سب اتنی آسانی سے بھلائے یہاں ایک جھوٹی شان لے کے بیٹھی ہیں
میں کبھی آپکو معاف نہیں کرونگا کبھی کبھی نہیں۔”
وہ تکلیف کی حدوں کو چھوتا درد سے بلبلایا تھا ۔
کچھ دیر کو وہاں مکمل سناٹا تھا ۔
“یہاں سے لوٹ جاؤ ،ایک مجبور ماں کی التجا سمجھ لو۔” اسے یقین نہیں تھا کہ اتنی آسانی سے اسے اسکی حثیت دے دی گئی تھی۔
اتنی جلدی اسے معتبر کردیا گیا تھا مگر اونچے مسند پہ بیٹھی پاک بیبی آج بھی اسکے خوابوں کی طرح اس سے دور تھیں۔
آج بھی تپتی دھوپ میں وہ تڑپتا بچہ چھاؤں سے محروم تھا ۔
“آپ نے بے نشان چھوڑا تو انہوں نے کب اپنی اولاد تسلیم کیا ،میرے وجود کو ایک ناسور بنا دیا آپ لوگوں نےجانتی ہیں یہ ناسور کتنا خطرناک ہوچکا ہے اس دکھاوے کی دنیا کو اجاڑ دے گا یہ ناسور ،پچھتائیں گے آپ لوگ ،گناہ کیا تھا نا پیدا کرکے اس گناہ کا بھگتان بھگتیں گے آپ لوگ نفرت ہے مجھے اپنے وجود سے نفرت ہے مجھے ان بزدل لوگوں سے جنہوں نے اپنی وقتی تسکین کیلئے ایک گناہ پیدا کرکے چھوڑ دیا ایک ناجائز اول۔۔۔”
“بس کرو خدا کا واسطہ ہے بس کردو۔۔”
انہوں نے چیختے ہوئے اسے بعض رکھنے کی کوشش کی مگر اپنے حواس پہ کنٹرول نہیں رہا تھا اور لہراتے ہوئے زمین پہ گریں۔وہ انکی طرف بڑھنا چاہتا تھا پر قدم آگے بڑھنے سے انکاری تھے وہ ان پہ رحم کھانا چاہتا تھا پر نہیں کھا سکتا تھا۔
کیونکہ اسکے ماں باپ نے اسکے وجود کو سوالیہ نشان بنا کے چھوڑ دیا تھا اور سب سے بڑی مجرم تو وہ عورت تھی جو ایک ماں ہوکے بھی اپنی اولاد ماننے سے انکاری تھی اسکے باپ کے مصلحتوں کی داستان تو الگ تھی ۔
بنا اس پہ نظریں ڈالے وہ باہر نکل گیا تھا۔آج اس نے اپنے دل کا غبار نکال ڈالا تھا اپنی پہلی داستان کا خلاصہ کیا تھا لیکن اسے سکون پھر بھی حاصل نہیں ہوا تھا کیونکہ اس نے اپنے ماں باپ کی بزدلی کی سزا ایک اور معصوم کو دی تھی ۔
