Tar e Ankaboot by Uzma Mujahid NovelR50607 Tar e Ankaboot (Episode 10)
Rate this Novel
Tar e Ankaboot (Episode 10)
Tar e Ankaboot by Uzma Mujahid
انیتا کی شادی تھی جہاں افق اور ایلیاء سمیت پوری کلاس انوائیٹڈ تھی۔ہندو رسم ورواج کی پیروی کرتے انیتا اور دھرمیش رشتہ ازدواج میں منسلک ہوچکے تھے۔
افق فیضان کے مشورے پہ اسکے فلیٹ میں شفٹ ہوگئی تھی۔ اسکی بڑی وجہ یہ بھی تھی کہ باری کا اصرار تھا کہ وہ وہاں پہ رہے۔۔
“بہت خوبصورت لگ رہے ہیں نا۔”
باری نے اسکے قریب آتے کمپلیممٹ دیا تھا۔
“ہاں واقعی ایک دم دونوں کا پرفیکٹ کپل ہے۔”
افق نے سادگی سے تعریف کی تھی۔
“ہمارا نا۔”باری کی شرارت نما سرگوشی ابھری تو وہ اسے دیکھنے لگی ۔وہ تو سمجھ رہی تھی باری انیتا اور دھرمیش کی بات کررہا تھا۔
“پاگل ہیں آپ۔”اس نے بغل میں ٹہرے باری کو کہنی ماری۔
“تمہارے عشق میں گوڈے گوڈے قربان میری جان۔”
باری کی مستی افق کو حیران کررہی تھی۔
“بس کردیں کبھی کبھی مجھے لگتا ہے ہمیں ہماری
ہی نظر لگ جائے گی۔”افق نے شرمیلے انداز میں کہا تو باری نے گہری نظروں سے اسے دیکھا۔
“دل بیمان ہورہا ہے ،پھر کہوگی باری بےشرم ہے۔”
باری نے اسکی کمر کے گرد بازو بڑھایا۔اتنے لوگوں کی موجودگی میں اسکی یہ بےباکی افق کی جان نکالنے لگی تھی۔
“لوگ کیا کہیں گے۔”
اس نے باری کا ہاتھ جھٹکتے کہا تھا۔
“مجھے پرواہ نہیں لوگوں کی۔”
باری نے ڈھٹائی کا مظاہرہ کیا تھا۔
تبھی افق کا سیل بجنے لگا تھا مینہ پھوپھو
کالنگ دیکھتے اسے ہوش آیا تھا کہ وہ زمین پہ
رہ رہی جہاں اسکے اردگرد رشتوں کا حصار بھی ہے۔
باری نے ناگواری سے دیکھتے اسکے ہاتھ سے موبائل
لیتے کال آف کردی۔
“باری۔۔۔”
“اہشش ایک لفظ نہیں جب تک میرے ساتھ رہوگی
گھر والوں سے کوئی بات نہیں،ایک وہم سا لگ جاتا
جیسے وہ تمہیں مجھ سے چھین کے لے جائیں گے۔”
باری نے سینہ مسلتے افق کو وجہ بھی پیش کی۔
باری کا اپنے لیے اتنا پوزیسو ہونا اسے آسمانوں پہ لیے
جارہا تھا۔وہ کسی کا بھی ڈریم بوائے ہوسکتا تھا۔
باری انیتا اور کی طرف بڑھا تو ایلیاء اسکے پاس آئی۔
“افق۔۔ باری اور عنیزے کی بھی شادی ہورہی ہے۔”
ایلیاء نے پوری تقریب میں اسے باری کے گرد دیکھا
تھا تبھی اسے کچھ جتلانا چاہا۔
“جانتی ہوں میں۔”افق نے انتہائی ڈھٹائی سے کہا۔
اسے لگ رہا تھا ایلیاء اسے باری کے خلاف کرنے آئی ہے جبکہ وہ خود باری کے گھر ایک ہفتہ رہ کے آئی تھی جہاں ایسی کوئی بات سننے اور دیکھنے کو نہیں ملی تھی اور نہ ہی اس نے باری کے گھر میں عنیزے کا زیادہ ذکر سنا تھا جس سے وہ یہی اندازہ لگاپائی تھی کہ باری ٹھیک کہتا تھا اس نے گھر والوں کے پریشر میں یہ منگنی کی تھی۔
“پھر بھی تم اسکے ساتھ ہر حد تجاوز کرنے لگی ہو۔کیا یہ سچ نہیں تم باری کے فلیٹ میں اسکے ساتھ رہ رہی ہو۔”
ایلیاء نے طنز سے کہتےا سے آئینہ دکھانا چاہا تھا۔
“پلیز ایلیاء میں کسی کے معماملات میں نہیں
گھستی تو بہتر ہے تم سب بھی اس چیز سے دور رہو۔”
اس نے ایلیاء کو دوٹوک انداز میں کہتے باہر کی طرف قدم بڑھائے۔
“باری تمہیں ڈچ کرے گا افق پلیز خود کو اسکے قدموں میں مت روندو،صرف ایک بار اپنے گھر والوں کا سوچ لو کتنے ٹرسٹ سے انہوں نے تمہیں یہاں بھیجا اور تم کیا کررہی ایک لڑکے کیلئے اپنے گھروالوں کو بھی دھوکا دے رہی ہو۔”
ایلیاء نے اچھی دوست ہونے کا حق ادا کرنا چاہا پر افق اسے آنکھیں دکھاتے وہاں سے ہٹ گئی تھی۔
فنکشن سے فارغ ہوتے وہ پھر سے باری کے ہمراہ تھی۔
“باری ایلیاء اور آپکی کوئی خصوصی دشمنی ہے کیا؟”
گاڑی میں بیٹھتے ساتھ اس نے باری سے پوچھا ۔
وہ چونکتے ہوئے سیدھا ہو بیٹھا۔
“نہیں تو کیوں؟کچھ ہوا ہے کیا؟”
باری کے دل نے اسکی چوری پہ سرزنش کی ۔
“آ ہاّں کچھ خاص نہیں ہروقت آپ سے دور رہنے کو کہتی۔”افق نے سادگی سے مسئلہ بیان کیا۔
“تو رہ لو نا دور ہمدرد ہی تو ہے تمہاری۔”
باری نے پوری دیانت داری سے اسے مشورہ دیا افق نے اسے آنکھیں دکھاتے رخ موڑ لیا.
باری کا جناتی قہقہ گاڑی میں گونجا تھا۔
“اوور کمپلیکس کا شکار لڑکی ہے یار ،تمہیں خوش نہیں دیکھ پارہی جانتی تو ہو تم پوری کلاس میں کوئی بھی لڑکا اسے منہ نہیں لگاتا۔ایسی لڑکیاں پھر اپنے دوستوں کے بوائے فرینڈز پہ نظر رکھتی ہیں پر وہ جانتی نہیں یہاں دل کا معمالہ ہے۔”
باری نے اسے مطمئن کرنا چاہا تھا۔ایلیاء کیلئے باری کے الفاظ اسے برے لگے تھے لیکن اسے باری کہیں پہ صیح بھی لگ رہا تھا۔
✪✪✪✪✪
میں خود کو بیچ دوں
پھر بھی، میں تجھ کو پا نہیں سکتا
میں عام سا ہمیشہ ہوں،
تو خاص سا مسلسل ہے
وقتِ وصال کی بھی
ایک آرزو ادھوری ہے
ایک آس سی ہمیشہ ہے،
ایک خواب سا مسلسل ہے
خطا کاروں کی قسمت میں
جنّت ہوا نہیں کرتی۔۔
میں خطا کار ازل سے ہوں،
تو پارسا مسلسل ہے…
“مجھے اپنی مشکل بتاؤ بیٹا ہوسکتا ہے کوئی حل خاص ہو میرے پاس۔”ہاتھ میں لکڑی کا کوئلہ لیے وہ زمین پہ آڑی ترچھی لائنیں کھینچ رہا تھا جب مرشد سائیں اسکے سامنے آبیٹھے۔وہ چند لکیروں سے بڑھ کے کچھ نہ تھیں مگر دیکھنے والے کمال کی نگاہ رکھتے ہیں تبھی انہوں نے ان لکیروں کی صورت بنے جال کو بغور دیکھا۔
“یہ میرا گھر تھا لیکن میں نے توڑ دیا ،نہیں اس پاک بیبی نے توڑ دیا ۔۔شاید میں نے ہی توڑا ہوگا۔”
اس نے نظریں اٹھاتے مرشد سائیں کے پرشفیق چہرے کو دیکھا تھا۔
“اپنا ہاتھ دکھائیں گے مجھے۔”
ایک انوکھی فرمائش مرشد سائیں نے اسکے سامنے ہاتھ کیا جہاں عمر کے واضع آثار تھے اور کئی ایک لکریں مدہم ہوچکی تھیں جبکہ پورے ہاتھ پہ بوڑھی لکیروں کا جال بچھا تھا۔
“دیکھا آپکا بھی گھر ہے ،حفاظت کیسے کی اس گھر کی؟ میرا گھر نہیں ہے ۔آپ نے تو نہیں چرا لیا۔”
انتہائی سنجیدگی سے کہتے اس نے اپنی آخری بات پہ قہقہ لگایا تھا کوئی بھی شخص اسکی حرکتوں پہ اسے پاگل قرار دیتا لیکن مرشد سائیں کو اسکے الفاظ کی کھوج تھی جو اس نے بولے تھے۔
“نہیں تمہارا گھر بھی تو مکمل ہے ۔مجھے بتاؤ کہاں ہے تمہارا گھر میں خود تمہیں چھوڑ آؤنگا گھر والوں سے ان بن توہو ہی جاتی ہے ۔میری بھی اکثر لڑائی ہوجاتی اور میں اپنا سکون تلاش کرنے یہاں آجاتا ہوں بلکل تمہاری طرح لیکن اس دہلیز کو پار کرنے کے بعد کی الگ دنیا ہے ایک بار آ کے تو دیکھو۔”
مرشد سائیں نے مسکراتے ہوئے اسے مسجد کے اندر کی راہ دکھائی جہاں کئی ایک نمازی صفیں درست کررہے تھے۔
نجانے کیسا شخص تھا جسکے کانوں میں پانچ وقت فلاح کی طرف آنے کی صدا آتی تھی لیکن وہ مسجد کے سامنے بیٹھ کے دربار کے اندر جانے کے شوق رکھتا تھا جہاں کے مکین اسکیلئے کچھ نہیں کرسکتے تھے اور جو کچھ کرسکتا تھا اسکی طرف وہ پیٹھ کیے بیٹھا رہتا تھا۔
مرشد سائیں نے اسکی خاموشی کو طویل ہوتا دیکھا تو سمجھ گئے کہ وہ اب مزید کچھ نہیں بولے گا۔
مسجد میں تکبیر تحریمہ کی ادائیگی ہورہی تھی۔
اسکے سامنے سفید فراک میں ملبوس لڑکی آئی تھی جو ہنستے ہوئے اپنی طرف بلا رہی تھی۔
“آجاؤ بیٹا نماز کا وقت ہوگیا ہے۔”
مرشد سائیں نے پانچ وقت دہرائی جانے والی بات پھر سے دہرائی لیکن وہ دربار کے وسط میں سیاہ ماربل سے بنائے گئے نقش ونگار پہ ٹہری لڑکی طرف متوجہ تھا۔
“نن نہیں وہ مجھے بلا رہی مم مجھے اس سے ملنا ہے۔”
خشک ہونٹوں کو زبان سے تر کرتے وہ وہاّں سے جانے کیلئے اٹھا تھا جب چادر کا ایک کونہ اسکے پاؤں پہ اڑسا تھا اور وہ منہ کے بل مسجد کی چوکھٹ پہ گرا تھا۔
“بتلا ہم کو راہ سیدھی (۶)راہ ان لوگوں کی جن پہ تو نے اپنا فضل فرمایا ف۶ جن پہ نہ تیرا غصہ ہوا اور نہ وہ گمراہ ہوئے (۷)” سورہ الفاتحہ۔۔
امام مسجد سورت فاتحہ کی آخری آیات کا ورد کررہا تھا اسکی آنکھوں کے آگے اندھیرا چھانے لگا تھا۔مرشد سائیں نے آگے بڑھتے اسے پانی پلانا چاہا لیکن وہ ہوش وحواس سے بیگانہ پڑا تھا ایک طرف نماز سے دیری دوسری طرف فرض انسانیت انہوں نے اسکی خاطر اپنی پہلی نماز قضا کردی تھی جس نے شاید ہی کبھی نماز پڑھی تھی۔
✪✪✪✪✪
“باری مجھے لگتا ہے ہمیں اس رشتے کو ڈس کلوز کردینا چاہیئے۔”اسکے شانے پہ سر ٹکائے افق نے کہا تھا
جسکا تمام تر فوکس مووی پہ تھا۔
“ہوں کردونگا۔”باری نے بےتوجہی سے جواب دیا۔
“مجھے لگتا یوں فلیٹ میں اکیلے رہنا میرے لیے
مناسب نہیں ہے اگر ابا سائیں تک بات پہنچی تو
اسکا انجام بہت برا ہوگا۔”وہ باری سے آج دوٹوک
بات کرنے کے موڈ میں تھی لیکن وہ اسکی طرف متوجہ ہی نہیں تھا۔
جب سے وہ فلیٹ میں شفٹ ہوئی تھی گھر میں باری دوستوں کا بہانہ کرتے اسکے پاس رہنے لگا تھا۔
“تمہیں میری طرف سے کیا خدشات ہیں افق تمہیں
لگتا میں تمہیں چیٹ کررہا ہوں رائٹ۔”اسکے بےسرا
راگ الاپنے
پہ وہ جھنجلاتے ہوئے ٹی وی بند کرگیا۔
افق اسکے شدید ریکشن پہ سہم سی گئی تھی۔
“باری میں نے ایسا کچھ نہیں بولا ۔
آپ بھی جانتے ہو میں کیا کہہ رہی ہوں۔”
افق کو اسکا انداز غصہ دلا رہا تھا۔
“اوکے فائن کرتا ہوں کچھ دنوں تک بات ابھی
تو فیضی کو لے کے گھر میں شادی کے معمالات چل رہے ہیں۔”
باری نے اپنے لہجے پہ قابو پایا تھا۔
افق کے معمالے میں وہ خود الجھ چکا تھا۔
اسکا جسم باری کیلئے ایک نشے کی حثیت اختیار کرچکا تھا جس سے وہ جان نہیں چھڑا سکتا تھا۔اور اسکے ساتھ رہنے کے تو باری نے کبھی خواب ہی نہیں دیکھے تھے۔
جہاں افق کبھی کبھی خود کو بندگلی میں دیکھتی باری بھی اپنے جزبات کو دو کشتیوں میں سوار دیکھ رہا تھا لیکن شایدا سے اندازہ نہیں تھا دو کشتیوں کا سوار کبھی منزل مقصود تک نہیں پہنچ پاتا۔
افق اسکے تیوروں سے خائف ہوتے بیڈروم میں چلی گئی تھی ۔اسے لگ رہا تھا باری اسے منانے آئے گا لیکن وہ نہیں آیا تھا۔کتنی دیر اسکا انتظار کرتے رہنے کے بعد جب وہ آنکھیں موندے پڑی تھی اسے کمرے میں آہٹ محسوس ہوئی۔
“آئی۔ایم سوری یار میں روڈ نہیں ہونا چاہتا تھا لیکن تمہاری ایک ہی بار بار کی بات نے مجھے کافی ڈپریس کردیا تھا۔میں بھی چاہتا ہوں کہ ہماری شادی ہو ۔تمام رسم ورواجوں کے ساتھ لیکن کچھ مجبوریاں ہیں اگر تم نہیں سمجھو گی تو اور کون ساتھ دے گا افق پلیز۔”
اسکی پیشانی پہ بوسہ دیتے وہ ملتجیانہ بولا تھا۔
جہاں اس لڑکی کو جھکانا تھا وہاں اسے بار بار خود جھکنا پڑرہا تھا ۔
افق نے کوئی جواب نہیں دیا تھا۔
باری نے آگے بڑھتے اسکی لرزتی پلکوں پہ لب رکھے تھے۔
“افق پلیز۔۔”
باری نے آخری کوشش کی تھی۔
“مجھے آپ سے بات نہیں کرنی سونے دیں مجھے نیند آرہی۔”وہ نروٹھے پن سے کہتی اسکی طرف سے کروٹ بدل گئی ۔
“اوہ تو افق شاہ اب بیویوں والا روپ دھار چکی ہیں۔”
وہ شرارت سے کہتے اسکی طرف جھکا تھا۔
اسکی قربت محسوس کرتے افق کا دل بری طرح دھڑکنے لگا تھا۔جب جب باری اسکے قریب آتا وہ خود کو ان دیکھے خدشوں میں گھرا دیکھتی تھی لیکن اسکی بے باکیوں پہ پل بھی کبھی نہیں باندھے تھے ہمیشہ کی طرح وہ اب بھی اسے زیر کرنے لگا تھا۔
“کچھ غلط ڈیمانڈ کیا تھا میں نے۔”
افق اسکا ہاتھ جھٹکتے اٹھ بیٹھی تھی۔
“نہیں بلکل بھی نہیں لیکن میری سچویشن بھی تو سمجھو نا یار مجھے بھی یوں چھپ چھپ کے رہنا کہاں اچھا لگتاہے یار۔”باری نے اسے اپنی طرف کھینچتے کہا۔
وہ جو اپنے خیالوں میں تھی اس پہ آن گری جہاّں اسکی دراز زلفیں باری کے چوڑے سینے پہ پھیلی تھیں۔
“اور کتنا وقت باری۔۔”
اسکی سوئی وہیں پہ اٹکی تھی۔ایلیاء کی باتیں ڈیپارٹمنٹ میں عنیزے اور باری کی قربت کے منظر اسے منزل کے قریب پہنچنے سے پہلے ہمسفر چھننے کا مژدہ سنا رہے تھے۔
” بہت جلد اب اور کوئی بحث نہیں افق مجھے ان لمحوں کو محسوس کرنے دو یار نجانے کیا جادو کردیا ہے تم نے باری کو تمہارے سوا کچھ دکھتا ہی نہیں ۔گھربار چھوڑے یہاں پڑا ہوں پر مجال ہے جو کسی کو کوئی خیال آجائے۔ “باری نے اسے اپنے اندر سموتے ہوئے اسکا دھیان بٹایا تھا جہاں باری کی قربت اسکے حواسوں پہ۔چھانے لگی تھی وہیں ہر انجام ہر فکر سے وہ آزاد ہورہی تھی ۔
“مجھے بےبی چاہیئے افق بلکل میرے جیسا۔”
باری کی سرگوشی اسکے جسم میں سنسنی دوڑا گئی تھی۔
“نن نہیں باری جب تک گھر والے نہیں مان جاتے ایسا ممکن نہیں۔”اس نے باری کی فرمائش رد کی تھی۔
“ایسے زیادہ آسانی رہے گی گھر والوں کو منانے میں افق۔”باری نے اسے پیار سے رام کرنا چاہا تھا لیکن افق کو باری سے ڈر لگنے لگا تھا۔
✪✪✪✪✪
“ارے افق کیسی ہیں آپ۔” وہ ایلیاء کے ساتھ کچھ شاپنگ کرنے آئی تھی جب عنائیہ کی اس پہ نظر پڑی تھی۔
“میں ٹھیک ہوں آپ کیسی ہیں۔” افق نے متلاشی نگاہوں سے اسکے اردگرد دیکھا۔پچھلے ایک ہفتے باری غائب تھا نہ ہی اسکی فون کال کا جواب دے رہا تھا نہ یونیورسٹی آرہا تھا۔عنیزے سے اسکے تعلقات اتنے سرد پڑچکے تھے باری کی بابت دریافت کرنا اسے اچھا نہیں لگ رہا تھا۔
“ارے میں بلکل ٹھیک پھر دوبارہ سے چکر ہی نہیں لگایا گھر کا تم نے باری کی شادی پہ تو اسکے دوستوں کو آگے آگے رہنا چاہیئے ۔بھائی ہمارے گھر کی اکلوتی شادی ہے ہم سب تو بڑے ایکسائیٹڈ ہیں۔”
عنائیہ نے اپنی دانست میں اسے خوشخبری سنائی تھی۔
افق نے بےساختہ ایلیاء کا سہارا لیا تھا۔
“باری کی شادی ،بتایا ہی نہیں اس نے اور نہ ہی عنیزے نے کلاس میں ذکر کیا۔”ایلیاء نے البتہ اسکی نسبت جوش وخروش سے پوچھا تھا۔
“ارے ایسے نہیں بتایا میں ان لوگوں سے پوچھتی ہوں ۔عنیزے اور باری بھی تو ساتھ میں ہی ہیں ہم انکی شادی کی پی شاپنگ کررہے ہیں۔”
عنائیہ نے ہاتھ میں پکڑے شاپنگ بیگز کی طرف اشارہ کیا تھا۔ایلیاء نے بغور اسکی زرد پڑتی رنگت کو دیکھا۔اسے افق سے ہمدردی سی محسوس ہونے لگی۔
“نن نہیں ہم پھر ان سے مل لیں گے ایکچوئلی ہم بھی شاپنگ کرنے آئے تھے لیکن کافی ٹائم ہوگیا ایلیاء کو کچھ پسند ہی نہیں آرہا تھا پھر ملتے ہیں نا سی یو۔”
افق نے خود پہ قابو پاتے بڑی مشک سے عنائیہ سے معذرت کرتے ساتھ ہی وہاں سے جانے کو قدم بڑھا دیے۔
“ارے افق۔۔۔عجیب لڑکی ہے اتنی جلدی کیا بھلا۔”
عنائیہ اسے پکارنے کا ارادہ کرتی رہ گئیں۔
“ہوگئی شاپنگ مما نیکسٹ میں نہیں آنے والا آپ لوگوں کے ساتھ۔” باری عنیزے اور الماس کے ساتھ وہاں آیا تھا۔
“باری تم لوگوں نے افق کو اپنی شادی کا نہیں بتایا۔”
عنائیہ کی بات پہ وہ چونکا تھا۔
“اوہوں اپنی معشوقہ سے ذکر کرتے مار کھانی ہے اس نے۔”عنیزے کے لہجے میں افق کے نام پہ بیزاری ہی بیزاری تھی۔
“آپ کیوں پوچھ رہی ہیں۔”کچھ انہونی کا احساس باری کو اپنی لپیٹ میں لینے لگا تھا۔
“ابھی ملی تھیں تمہاری کلاس فیلوز افق اور آئی تھنک ایلیاء نام ہے نا اس کریسچن لڑکی کا۔” عنائیہ نے اپنی یاداشت پہ ذور دیتے سوچا جبکہ باری کو لگا تھا کسی نے آسمان اسکے سر پہ گرایا ہے۔
اسے بلکل اندازہ نہیں تھا افق اسطرح سے حقیقت جان لے گی۔
✪✪✪✪✪
“باری” ہاسپٹل کے اسٹریچر پہ لاوارث پڑے اس شخص کو دیکھتے وہ اسکی طرف بڑھے تھے۔بدرنگ لباس ،بڑھی ہوئی داڑھی میں اٹکے ہوئے تنکے کے پتے اسے صحراؤں میں بھٹکا کوئی بےحال مسافر ظاہر کررہی تھی۔
“کیا ہوا ہے انہیں ؟کون لایا یہاں؟” فیضان نے اپنی آواز پہ۔قابو پانے کی کوشش کی تھی لیکن ہونہیں پایا تھا۔
چھ مہینوں کی تلاش کے بعد جو باری انکے سامنے تھا وہ تو انہیں پہچانتے ہی نہیں تھے۔
“پتا نہیں کسی مسجد کے امام تھے شاید۔”
اسکے قریب موجود نرس نے کہا تھا وہ پریشان سا اسے دیکھ رہا تھا جہاں زندگی کی خبر دینے والی نبض آہستہ آہستہ موت کی وادی کی طرف بڑھ رہی تھی۔۔۔
