Tar e Ankaboot by Uzma Mujahid NovelR50607 Tar e Ankaboot (Episode 02)
Rate this Novel
Tar e Ankaboot (Episode 02)
Tar e Ankaboot by Uzma Mujahid
“ایکسکیوزمی مس دیا آپ یوں اندر نہیں جاسکتیں۔”
وہ جو دوبٹے کو انتہائی سیلقے سے اوڑھے اندر کی جانب بڑھ رہی تھی بنٹی کی آواز پہ دروازے پہ رکھے ہاتھ کو واپس کھینچا۔
“کیوں؟کس لیے اندر نہیں جاسکتی؟”
اسے بنٹی ہمشہ سے زیادہ زہر لگا وہیں تو تھا جو اسکی محبت کی پینگیں بڑھنے میں روکاوٹ تھا۔
“کیونکہ یہاں دو ،ایک منٹ، نہیں تین جوان جہان لڑکے رہتے ہیں آپ کو کیا زیب دیتا ہے یوں منہ اٹھائے جوان لڑکوں کے گھر میں آنا جانا کوئی تربیت اخلاق ہیں آپ میں یا نہیں۔” بنٹی پوری طرح دروازے پہ برجمان ہوا۔
وہ تو جیسے گہرے صدمے میں تھی تین جوان جہان لڑکوں کی مخبری سنتے۔
“تمہیں ان جوان جہاں لڑکوں کا سیکیورٹی گارڈ بنایا گیا ہے؟” وہ بھی مکمل فارم میں آئی تھی۔
“جی ہاں! کیونکہ خواتین خانہ گھر سے باہر ہیں اسوقت۔” وہ کونسا کسی سے کم تھا۔
دیا افضال پاؤں پٹختی وہاں سے نکلتی گئی اب تو جواز ہی باقی نہ رہا تھا وہاں رکنے کا۔
“بنٹی میرے شیر شکر توں نے اس آفت کی پڑیا سے بچا لیا۔”باری اور فیضی نے ایک دم اس پہ دھاوا بولا تھا۔
“ویسے دو تو ٹھیک ہے یہ تیسرا نوجوان لڑکا کہاں ہے نظر نہیں آرہا؟” فیضی نے مسکراتے ہوئے سوچتے انداز میں اپنے آس پاس نظریں دوڑائیں جیسے اسے مل ہی نہ جائے وہ ان دیکھی مخلوق۔
“صیح وقت آنے پہ بتاؤں گا چلو بالنگ کرواؤ اب۔” رعب دار آواز میں کہتے اس نے باری کی طرف بال اچھالی۔
“دم ہے رے مارے چھوکرے میں۔” فیضی نے بنٹی کے کندھے پہ تھپکی دی ۔وہیں دیا اپنے گھر کے ٹیرس پہ ان مسخروں کو دیکھتے تاؤ کھانے لگی ۔
یقیناً ان دونوں نے اس ننھے فتنے کو سکھایا تھا دیا کو وہاں سے بھگانے کو۔
✪✪✪✪✪
“یو نو پھو پھو ہی از سو اریٹیٹنگ ہر بات پہ وڈیرے یوں ہوتے ، یوں ہوتے بس آل ٹائم خامیاں ٹوٹلی جیلس اور آپکو پتا موسٹ اریٹیٹنگ چیز کیا لگتی ہے مجھے اسکی۔۔”
افق نان سٹاپ کال پہ بولے جارہی تھی جبکہ دوسری طرف موجود اسکی پھوپھو نے اسے چپ ہوجانے کا کہا تھا ۔
“کیا یار ایک تو وہ پورا دن سڑیل میرا خون جلاتا رہتا ہے اوپر سے آپ کو مجھ سے نہیں بات کرنی ۔”
اپنا اگنور کیا جانا تو اسے کبھی گوارا نہ تھا ایسے میں جب اسکی فیورٹ پھوپھو یہ قدم اٹھائیں تو معافی کی گنجائش ہی نہ تھی ۔
“افق مجھے نماز پڑھنی ہے اسکے بعد درگاہ پہ جانا ہے جہاں سب مرید انتظار کررہے ہونگے۔”
اس نے ٹہرے ہوئے لہجے میں اپنی بات سنائی کیونکہ وہ جانتی تھی اپنی اکلوتی ضدی بھتیجی کو جس نے فوراً اپنے بابا سمیت سب سے اسکے روکھے رویے کی شکایت کر کے اسکی جان ہی عذاب میں ڈالنی تھی تبھی پیار سے مناتے بولی۔
” اوہ رائیٹ سوری بھول گیا مجھے اوکے کیری اون ۔”
افق نے طنزیہ کہتے انکی جان خلاصی کی ۔اسے اپنے گھر کے ان قاعدوں سے نفرت تھی جہاں خود کو کسی مورتی کی طرح پیش کرکے پوجے جانے کی حد تک عقیدت مند عورتوں کے مسائل کیلئے سراپا عبادت بن بیٹھتیں۔ وہ بچپن سے ہی ان کے سروں پہ ہاتھ پھیرتیں اپنی ماں،دادی ،پھوپھو اور چچی وغیرہ کو دیکھ رہی تھی اور گڈ لک کسی کی کوئی منت ،خواہش پوری ہو جاتی تو انکا عقیدہ اور پختہ ہونے لگ جاتا تھا۔
افق کا باغی رویہ سب کو دِکھ رہا تھا مگر مناسب وقت کے انتظار اور اسے بچی سمجھتے ہرکوئی درگزر کررہا تھا وہیں “سّیداں والی حویلی “کی اکلوتی لڑکی ہونے کا وہ بھرپور فائدہ اٹھا رہی تھی۔
سیداں والی حویلی گاؤں میں انتہائی تعظیم اور عقیدت کی نگاہ سے دیکھی جاتی۔محبت کا یہ عالم تھا کہ وہاں سے گزرتے کئی عقیدت مند حویلی کی دیواروں سے لگ کے بھی اپنی حاجات پوری ہونے کی دعائیں کرتے ۔
سوچوں نے پرواز پکڑی تو افق نے بیزار ہوتے تکیہ منہ پہ رکھ لیا۔
✪✪✪✪✪
“کیا وہ اتنی پاکیزہ ہے کہ میں اسے دیکھنے کا حق نہیں رکھتا؟”عنائیہ کی گود میں سررکھے وہ تصوراتی دنیا میں کھویا تھا۔
“میں نہیں جانتی وہ کون ہے کیسی اور کیوں تمہارے خوابوں میں آتی ہے باری ،لیکن نجانے ایسا کیوں لگتا ہے جیسے وہ تمہیں کچھ خاص کہنا چاہتی ہو جو تم،ہم سمجھ نہیں پا رہے۔”عنائیہ بھی اسکی بتائی خوابناک دنیا کے گرد گھومتے باری کے سر میں انگلیاں پھیر رہی تھی۔
“ایسے کبھی مجھے اپنی زندگی تار عنکبوت جیسی لگتی ،الجھی ہوئی جسے سمجھنا بہت مشکل ہو ایک پہیلی سی۔”باری کے لہجے کی یاسیت اس بھی دکھی کرگئی تھی۔
“تمہاری کشمیری سیب کیسی ہے؟”عنائیہ نے اسے سینٹی ہوتا دیکھ موضوع بدل ۔
باری کی آنکھوں کے سامنے چھم سے کشمیری سیب کے گالوں والی افق کا پھولا پھولا چہرہ آن سمایا۔
“اچھی ہے پر میرے ٹائپ کی نہیں ہے۔” باری نے لہجے کو شریر بناتے بنٹی کو اپنی طرف اشارے سے بلایا۔
“خبر ہے مجھے ساری تم اپنی حرکتوں سے باز آجاؤ باری سب ایک جیسے نہیں ہوتے،اس لڑکی سے تمہارا خداواسطے کا بیر ہمیں تو کچھ اور سجھا رہا ہے کہیں۔۔۔”
عنائیہ نے معنی خیزی سے کہتے آنکھ دباتے اشارہ کیا تو اسکی بات سمجھتے باری نے زوروشور سے نفی میں سر ہلایا۔
“قطعاً نہیں دنیا ادھر کی ادھر ہوجائے ،دنیا میں اور بھی غم ہیں افق کے سوا” ایک لے میں شعر پڑھتے اس نے بنٹی کو گھورا جس نے اسے مکمل اگنور کرتے عنیزے کے ساتھ اپنے کرکرےشئیر کیے۔
“باری تم نا وہ دِکھنے کی کوشش نہ کیا کرو جو تم ہو نہیں۔”عنیزے نے خفیف ہوتے ٹی وی کا ریموٹ اٹھائے والیم اونچا کیا جبکہ باری نے کندھے اچکائے عنائیہ کو سوالیہ نظروں سے دیکھا کہ اسے کیا ہوا؟
“عنا مجھے ایسے لگتا یہ باری نا جھوٹ بولتا ہے اسے کوئی الیوژن نہیں ہوتے اسپیشل ایسا بندہ جو ہرروز کسی کو ٹارچر کرکے گناہ کمائے اور افق کو اسطرح ٹارچر کرنا سمجھداری تھوڑی ہے ایک انسان آپکے ساتھ برا کرے تو آپ سب سے بدلہ لوگے ؟ہاؤ ڈسکسٹنگ یار اور وہ بیچاری اتنی فیڈاپ ہوچکی کہ یونیورسٹی چھوڑنے کا سوچ رہی ۔”
افق ،انیتا،ایلیا اور عنیزے بیسٹ فرینڈز تھیں ایسے میں باری کے کارنامے وہ گھر آکے ضرور بتاتی تھی کچھ مزید مرچ مصالحہ لگا کے۔
وہیں اس نے صبح والی بھڑاس باری پہ نکالی جو اسے یونیورسٹی نہیں لے کے گیا تھا۔
“سمجھدار لوگوں کے حصے میں ہمیشہ سمجھوتے آتے ہیں شاید اس لیے انہیں سمجھدار کہا جاتا ہے،سوری بہنا میں مدر ٹریسا نہیں بن سکتا۔اس گھر کو ایک ہی سمجھدار کافی ہے” بنٹی کے ہاتھ سے کرکرے پکڑتے باری نے اسکی بات کو مذاق میں اڑایا۔
“تمہارے بس چلے تو سب لڑکیوں کو ایک ہی لائن میں کھڑا کرتے گولی سے اڑا دو۔کتنا اریٹیٹنگ ہے یہ بندہ یار۔”
عنیزے اول تو کبھی گھر کے اور اسکے معمالات میں بولتی نہیں تھی اور اگر جو بولتی تو دلائل کم پڑجاتے تھے اسکو جواب دینے والے کو ۔
تبھی باری نے بھی منہ کے کئی زاویے بناتے خود کو ٹی۔وی کی طرف متوجہ کیا۔
تجھے عشق ہو خدا کرے ۔۔۔
کوئی تجھکو اس سے جدا کرے ۔۔۔
تیرے ہونٹ ہنسنا بھول جائیں ۔۔۔
تیری آنکھ پر نم رہا کرے ۔۔۔
تو اس کی باتیں کیا کرے ۔۔۔
تو اس کی باتیں سنا کرے ۔۔۔
اسے دیکھ کر تو رک پڑے۔۔
وہ نظر جھکا کر چلا کرے ۔۔۔
تجھے ہجر کی وہ جھڑی لگے ۔۔۔
تو ملن کی ہر پل دعا کرے۔۔۔
تیرے خواب بکھریں ٹوٹ کر ۔۔۔
تو کرچی کرچی چنا کرے ۔
تو نگر نگر پھرا کرے
تو گلی گلی صدا کرے ۔
تجھے عشق ہو پھر یقین ہو
اسے تسبیحوں پر پڑھا کرے ۔
پھر میں کہوں ” عشق ڈھونگ ہے “
تو نہیں نہیں کہا کرے ۔۔۔۔۔
قیصر نے دروازے سے داخل ہوتے سے شروع کی جانے والی غزل اسکے برابر دھپ سے بیٹھتے اختتام پزیر کی۔
باری کی آنکھیں باہر نکلنے کو تھیں۔
“کیوں بے مجنوں کی اولاد ،مجھے کیوں عشق ہونے لگا ۔دیکھ لو بہنا یہ بہنوئی صاحب پٹنے والے کام کررہے ہیں۔”
الماس جو قیصر کی آواز پہ آئی تھیں ۔باری کے منہ سے اپنے بہنوئی کیلئے ایسی باتیں سنکے سینے پہ ہاتھ رکھا۔
“شرم تو نہیں آتی،تم سے بڑا ہے وہ کوئی لحاظ کوئی عزت ہوتی ہے کہ نہیں اور نہیں تو رتبے کی شرم کرلو۔”
الماس کا بس نہیں چل رہا تھا اسے جانپھڑ رسید کردیں۔
“حد ہی ہوگئی ہے ماں میری جس طرف منہ کرو اسکی عزت رتبے کی پڑجاتی آپکو یہ نہیں پتا وہ جس نے آتے ہی منہ بھر بھر گالیاں دی ہیں آپکے اکلوتے سپوت کو اسکا کیا۔”باری نے آنکھوں سے ان دیکھے آنسوؤں صاف کرتے بنٹی کو گلے لگائے غم غلطاں کیا ۔
الماس نہ حیرانگی سے اپنے ہونہار داماد کو دیکھا جیسے انہیں یقین ہی نہ ہو کہ وہ ایسا کچھ کرسکتا۔قیصر نے ساس کے خطرناک تیوروں کو دیکھتے فوراً نفی میں سرہلایا۔
“قسم لے لیں مامی جان ،جو کچھ بولا ہو آپکے صاحبزادے کی شان میں ۔”قیصر نے تھوک نگلتے وضاحت دی ساتھ میں عنائیہ کو مدد طلب نگاہوں سے دیکھا جس نے کندھے اچکاتے “تمہارا معمالہ تم جانو “کہتے بات ہی ختم کردی۔
“ماں اس نے کہا تھا کہ تیرے خواب بکھریں ،ٹوٹ کر توں کرچی کرچی چنا کرے،اف اللّٰہ ماں اس نے مجھے کچرا چننے کی بددعا ہی دے ڈالی۔”باری کا میلو ڈرامہ شروع ہوچکا تھا۔گھر میں سب جانتے تھے کہ خوابوں والے معمالے پہ باری کا کوئی کمپرومائز نہیں تھا۔
“ہائے اللّٰہ نہ کرے بھائی میرا بیٹا کیوں کچرا چننے والا بنے۔”الماس بیٹے کی باتوں میں آچکی تھیں۔وہیں باقی حضرات کے چہرے پہ دبی دبی مسکراہٹ ابھری ۔
“اور تو اور ماں مجھے الٹی پٹیاں پڑھا رہے تھے عشق ،محبت والی اللّٰہ توبہ اتنی گندی باتیں۔” فیضان جو ابھی اس محفل کا حصّہ بنا تھا اور آتے ساتھ پانی کے گلاس کو لبوں سے لگایا ،اسے چھو لگ گیا تھا باری کی معصومیت تو ایسی تھی کہ کوئی کافر مرہی نہ جائے اس پہ۔
“عنیزے پلیز کچھ لادو یار ایسا نہ ہو میرا بلڈ پریشر لو ہوجائے۔”فیضی نے باقی کا پانی ایک سانس میں چڑھایا۔
“جی۔”عنیزے نے فوراً حکم کی تعمیل کی تھی۔
بخاری ہاؤس جہاں پہ اسوقت بابر بخاری اپنے خاندان سمیت رہائش پذیر تھے انکا آبائی گھر تھا ۔کئی سالوں سے یہاں پہ مقیم بابر بخاری کی دو اولادیں تھیں۔ عبدلباری اور بیٹی عنائیہ ۔
وہیں صالحہ زیدی جو کہ بابر بخاری کی اکلوتی بہن تھیں ،نوجوانی میں بیوگی کی چادر اوڑھے اپنے تین بچوں قیصر ، عنیزے ، عادل جسے عرف عام بنٹی کہا جاتا تھا سمیت مستقل بنیادوں پہ بخاری ہاؤس میں آن مقیم ہوئیں۔
بابر بخاری اور صالحہ زیدی سے چھوٹے فیضان بخاری تھے جنکا پہلا اور آخری عشق کتاب مانی جاتی تھی اور تاحال انتہائی سنگل بھی تھے۔لیکن اکثراوقات وہ اپنے شجرے سے باہر باری اور بنٹی کے ساتھ موج مستی کرتے دکھائی دیتے تھے۔وہیں کچھ مہینوں پہلے سامنے والے بنگلے میں ایک نئی فیملی شفٹ ہوئی تھی جنکا بزنس کمیونٹی میں بڑا نام تھا اور افضال غوری کی اکلوتی بیٹی دیا افضال جو کہ ابھی ماسٹرز کی اسٹوڈنٹ تھی فیضان بخاری کو دیکھتے ہی پہلی نظر کے آکٹوپس کا شکار ہوئی تھی بخاری ہاؤس والوں سے میل ملاپ بڑھانے میں مصروف عمل نظر آرہی تھی ۔پر بنٹی کی کرامات کہ وہ جلد ہی دیا کے دل کی بات اور یہاں پائے جان کی وجوہات جان گیا تھا جسکی خبر ہوتے ہی فیضان نے تو دیا کو سلام دینا درکنار اسکی موجودگی میں کمرے سے نکلنا ہی چھوڑ دیا تھا۔
عنائیہ اور قیصر کو دونوں بہن بھائی اور بچوں کی پسندیدگی پہ رشتہ ازدواج میں منسلک کردیا گیا تھا جنکا ایک بیٹا تھا اور وہ بھی صالحہ زیدی کے ساتھ اوپر والے پورشن میں رہ رہے تھے۔وہیں بچوں کا اتفاق اور محبت دیکھتے بڑوں کے درمیان عنیزے اور باری کے رشتے کی بھی کھچڑی پکائی جارہی تھی جسے فلحال بچوں سے چھپایا گیا تھا۔
✪✪✪✪✪
خبر ہے ہمیں لوٹیروں کے سب ٹھکانوں کی
شریک جرم نہ ہوتے تو مخبری کرتے۔۔۔۔۔
افق کلاس روم میں داخل ہوئی تو ہمیشہ کی طرح اسکی ذات پہ طنز کے تیر چلائے گئے۔وہ نہیں جانتی تھی کہ باری ایسا کیوں کرتا ہے ۔اس نے بنا دھیان دیے آگے نکلنا چاہا تھا جب پھر سے اسکی آواز نے صبر کی طنابیں توڑ دیں۔
تمہیں کیا پتا وفاؤں کا۔۔۔۔
مرشد۔
تم پنجاب سے تھوڑی ہو۔۔۔
“دیکھیں مسٹر باری ۔۔” اسکے صبر کا پیمانہ چھلکا افق نے شہادت کی انگلی اٹھائے اسکی طرف اشارہ کیا تھا مگر اسی وقت سر کلاس میں داخل ہوئے تھے وہ اپنا ہاتھ پیچھے کیے اپنی سیٹ پہ جا بیٹھی تھی۔
بار بار نگاہ باری کے سنجیدہ ایکسپریشن کو دیکھ رہی تھی۔جو ہمیشہ اسے ژچ کرنے کے بعد ایسے انجان بن جاتا کہ جیسے کچھ کیا ہی نہ ہو جبکہ افق کا اوور سنسٹو ہونا اسے حد درجہ ڈیپرس کر دیتا تھا۔
پروفیسر کی جانب سے کسی پروجیکٹ کی اناؤنسمنٹ ہورہی تھی جہاں پہ لڑکیوں کی تعداد کم ہونے کی وجہ سے ایک لڑکی اور دو لڑکوں کا گروپ بنایا جارہا تھا جسکی سلیکشن عنیزے کے ذمے تھی۔وہ بے فکری سے بیٹھا ہاتھ میں پکڑی پینسل کو گھما رہا تھا جب پروفیسر کی بات سنتے اس نے بے یقین نظروں سے عنیزے کو دیکھا جو اسی کی جانب دیکھ رہی تھی۔
“عبدلباری،رافع اور افق شاہ جبکہ عنیزے مبشر ،حسن کا گروپ بنایا گیا تھا وہیں انیتا اور ایلیاء کے ساتھ تمام کلاس کو مختلف گروپ میں تقسیم کردیا گیا تھا جنہیں آثار قدیمہ کے کئی ایک حشرات اور عجوبات پہ ریسرچ کرنی تھی۔
“سر کین آئی ریپلس مائی گروپ۔”افق کو تو وہ شخص ایک لمحے کو منظور نہیں تھا آیا کہ اسکے ساتھ کسی پروجیکٹ کی تعمیل۔
“جی بلکل کسے ریپلیس کرنا چاہیں گی آپ؟کوئی ہے ایسا اسٹوڈنٹ جو مس افق کے ساتھ گروپ ریپلیس کرنا چاہے؟” پروفیسر نے افق کو دیکھتے ایک نگاہ کلاس پہ ڈالی جہاں سے فلوقت کوئی بھی ایسا نہیں تھا۔
باری نے سختی سے اپنی مٹھی کو بند کرتے کھولا اسے لگ رہا تھا یہ اسکی تزلیل تھی جو افق اسکے ساتھ کام نہیں کرنا چاہتی مگر اسوقت خاموش رہ کے اسکی اس ناکام کاوش کو دیکھنا چاہتا تھا۔وہ جانتا تھا کہ عنیزے بہت تیز ہے اور اس نے جان بوجھ کے افق کو باری کے گروپ میں شامل کیا کیونکہ باقی تمام کلاس کو اس نے انکے دوستوں کے حساب سے کمپائل کیا تھا ایسے میں کون اپنے دوستوں کو چھوڑتا۔
“سر عنیزے زیدی کے ساتھ مجھے ریپلیس کردیں۔”افق نے انتہائی معصومیت سے کہتے عنیزے کو امید طلب نگاہوں سے دیکھا تھا۔
“نو،نو سر میرا مبشر اور حسن کے ساتھ کافی اچھا ورک ایکسپرینس ہے میں ریپلیس نہیں کرنا چاہوں گی۔”امید کا آخری دیا بھی بجھ گیا تھا۔ اپنی اتنی ہتک افق کو رولانے لگی تھی۔
“اٹس اوکے سر آئی ول منیج۔”افق نے نپے تلے انداز میں کہتے ساتھ اپنی نشست سنبھالی ۔
“دوست ،دوست نا رہا ،یار یار نا رہا۔”باری نے عنیزے کو بک مارتے بظاہر عنیزے کو سنایا تھا کہ اسے دکھ ہے کے وہ اسکے گروپ میں شامل نہیں کیونکہ ہمیشہ سے وہ اسکے ساتھ رہی تھی۔اب اگر عنیزے نے جان بوجھ کے افق کی جان کو مشکل میں ڈالا تھا وہیں باری بھگو بھگو کے مارنے میں ماہر تھا۔
افق کو اپنی بیسٹ فرینڈ کی یہ دھوکا دہی بہت کھلی تھی اسیلئے بنا کسی کو دیکھے وہ کلاس سے نکلتی چلی گئی۔
“ڈوب مرو تم ،پھر سے اسے پریشان کردیا۔”عنیزے نے باری کو گھورتے اسکے پیچھے اٹھنا چاہا تھا جب باری نے سرعت سے اسکے سامنے آتے راستہ روکا۔
“کیوں اتنی ہمدردی ہورہی ہے تو گیم،کھیلی کیوں؟ ریپلیس کرلیتیں نا تمہاری یہ بے وفائی ابد تک یاد رہنے والی ہے مجھے۔”وہ جو اپنا بیگ کلاس میں بھول گئی تھی باری کی آواز پہ عنیزے اور اسکے درمیان موجود کم فاصلے کو محسوس کیا۔نجانے عنیزے نے اسکے ساتھ یہ کیوں کیا تھا۔وہ جسطرح سے آئی تھی ویسے ہی باہر بڑھ گئی۔
“کیونکہ میں چاہتی ہوں تم دونوں ساتھ میں کام کرو،تم اسے سمجھو دیکھو کہ ساری دنیا ایک جیسی نہیں ہوتی۔”عنیزے کے نادر خیالات سنتے باری کا قہقہ بےساختہ تھا۔
“سوچ لو جیلس پھر تم نے ہی ہونا،میں تو دیکھ لوں ،سوچ لوں اور سمجھ بھی لونگا افق بیبی کو۔”
باری نے عنیزے کوچڑایا تھا مگر وہ بنا اسکی بات کی پرواہ کیے افق کی طرف بڑھی ۔
وہ جانتی تھی کہ افق کو منانے کا بھی ایک طویل مرحلہ طے کرنا تھا اسے ابھی۔
✪✪✪✪✪
وہ بہت خوبصورت بچہ تھا شاید اس نے اتنا خوبصورت بچہ پہلے کبھی دیکھا ہی نہ ہو۔ دھوپ میں جھلستا اس کا کپڑوں سے عاری وجود بےرحم دنیا کی دہائی دے رہا تھا۔
وہ ایسے کسی بچے کو تڑپتا کہاں دیکھ سکتا تھا ۔
دور دور تک کسی آدم کا وجود بھی نا تھا۔
وہ کب سے اسکی طرف قدم بڑھا رہا تھا مگر فاصلہ تھا کہ کم ہونے کا نام نہیں لے رہا تھا۔
دھوپ کی تمازت سے اسکا اپنا چہرہ جھلس رہا تھا۔
ابھی اس نے بچے کو اٹھانے کو ہاتھ بڑھایا تھا جب کانوں میں گونجتی مانوس آواز اسے آنکھیں کھولنے پہ مجبور کیا۔
“حییٰ الفلاح حییٰ الفلاح (چلو آؤ فلاح کی طرف، چلے آؤ فلاح کی طرف) “کانوں میں گونجتی آواز نے منظر کو بدل دیا تھا ہرطرف اندھیرا چھایا تھا۔
آذان کی گونج اسے جگا رہی تھی۔ باری نے آنکھیں کھولیں ۔آنکھوں میں تیز روشنی پڑی اسے لگ رہا تھا جیسے اب وہ کچھ دیکھ نہیں سکے گا لیکن دو تین بار پلکیں جھپکیں تو آنکھیں کمرے کے ماحول سے مانوس ہونے لگیں۔
اللّٰہ اکبر ،اللّٰہ اکبر لاالہ الا للّٰہ” آنکھوں کے سامنے منظر واضع ہوئے لیکن حیرت انگیز طور پہ اسکے لبوں پہ آذان کے آخری کلمات تھے۔باری کو ایک دم شرمندگی نے آن گھیرا تھا اسے تو یاد بھی نہیں تھا کہ اپنی بے ہنگم زندگی میں آخری بار آذان کی صدا کب سنی تھی۔
اسکا خواب پوری طرح سے اسکی یاداشت سے محوّ ہوچکا تھا۔
نجانے کونسی قوت تھی جو اسے اپنی جانب کھینچ رہی تھی تبھی اٹھتے الماری سے سادہ کرتا شلوار نکالتے اس نے مسجد کا رخ کیا۔ ابھی گیٹ پار بھی نہیں کیا تھا فیضی سے مڈبھیڑ ہوگئی اس نے حیرت بھری نگاہ باری کے حلیے پہ ڈالتے گھڑی پہ نگاہ کی۔
“یار مجھے چٹکی کاٹو۔” اس نے کسی خواب کی سی حالت میں باری سے کہا جسکے نتیجے میں اسکی بلند چیخ ابھری کیونکہ باری چٹکی کی جگہ اس کے کندھے پہ اپنے پنجے گاڑ چکا تھا ۔
“کیوں ایک نماز پڑھنے کا حق صرف فیضان قریشی کو ہے۔” باری نے اپنی شرمندگی کو بڑے طریقے سے چھپاتے ڈھٹائی دکھائی۔اور فیضی نے زبان کے جوہر دکھانے کے بجائے نفی میں سرہلایا۔
“خوشی ہورہی ہے مجھے ،بلکہ اہلیان محلہ بھی یقیناً وقت سے پہلے عید کا چاند دیکھنے کا شرف حاصل کرنے لگا ہے۔”فیضان کے چہرے پہ امڈتی شرارت مسکان نے باری کو خجل کیا ۔گھر سے مسجد تک کا فاصلہ کب طے ہوا وہ جانتا ہی نہ تھا۔
“قاری صاحب میرا بچہ رات کو خواب میں ڈر جاتا ہے کوئی حل بتا دیں۔” باری جو نماز کی ادائیگی کے بعد وہاں سے نکلنے لگا تھا اس شخص کی آواز پہ رکا تھا۔
اس کے چہرے پہ تجسس تھا کی قاری صاحب کیا حل۔بتائیں گے۔
“سوتے وقت آیت الکرسی پڑھ کرکے دم کردیا کریں انشاءاللّٰہ رب تعالٰی اپنی رحمت دکھائے گا۔”قاری صاحب نے انتہائی مشفقانہ لہجے میں کہتے اس بچے کے سر پہ ہاتھ پھیرا ۔وہ دل میں آیت الکرسی کا ورد کرنے لگا پر الفاظ تھے کے پکڑ میں نہیں آرہے تھے۔
وہ شرمندہ سا گھر کی طرف بڑھ گیا مگر دل میں مصمم ارادہ تھا کہ گھر جاتے ہی وہ آیت الکرسی کی تلاوت کرے گا پر مسجد سے نکلتے وہ پھر سے دنیا کے جھمیلوں میں کھونے لگا تھا۔
✪✪✪✪✪
اسے لگا شاید کوئی اسکے پاؤں کے قریب ٹہرا اسے جگا رہا ہے وہ کلسمندی سے آنکھیں موندے پڑی تھی جب ہڑبڑا کے اٹھ بیٹھی۔
“کون ہے؟” ہلکی سی سرگوشی کرتے اس نے سائیڈ بلب جلایا مگر وہاں کوئی بھی نہ تھا۔دور کہیں اذان کے آخری کلمات ادا ہورہے تھے۔
اس نے اپنے ماتھے پہ ہاتھ پھیرا جو پسینے سے تر تھا۔اپنی غفلت پہ خود کو کوستے وہ جلدی سے نماز کی تیاری کرنے لگی تھی۔ اس نے کبھی نماز میں غفلت نہیں برتی تھی مگر نجانے آج کیسے آنکھ نہیں کھلی۔اپنی حرکت پہ پیشمان ہوتی وہ مسکرا دی ۔
ایک ان دیکھی قوت تھی جس نے اسے اسکی غفلت سے بیدار کیا تھا مگر وہ اس قوت سے انجان نہیں تھی۔
نماز سے فارغ ہوتے اس نے تمام کھڑکیوں سے پردے ہٹاتے سحر کو خوش آمدید کیا۔
صبح کی تمام تر جزئیات کو اپنے اندر سمیٹے بالکونی کے راستے باہر نکل آئی۔
چپل سائیڈ پہ اتارتے ننگے پاؤں سبز گھاس پہ چلنا ایک عجب سی راحت بخش رہا تھا۔
وہ نماز سے فارغ ہوتے اپنے کمرے کی طرف بڑھ رہا تھا جب اسکی توجہ سفید لباس میں ملبوس اس لڑکی نے اپنی طرف کھینچ لی۔ایک لمحے تو اسے گمان اترا کہ شاید کوئی فلک سے اتری پری یہاں آن وارد ہوئی مگر دوسرے لمحے خود کو اس نگر میں بیدار کیا۔بے خودی میں اسکے قدم اسکی طرف بڑھے تھے۔
“ہائے آئی ایم وجدان ۔”انتہائی بشاشت سے کہتے وجدان تعارف کراتے اپنا ہاتھ اسکی طرف بڑھایا۔وہ جو کسی گہری سوچ میں زمین پہ نظریں جمائے چل رہی تھی ایک دم اپنے سامنے ایستادہ دیوار سے ٹکرانے سے خود کو بچایا۔
نظریں اس انجان شخص کی طرف اٹھیں اور دوسرے لمحے اسے زمین آسمان کی گردش اپنے اردگرد گھومتی دکھائی دی تھی۔
وجدان جو اسکی لزرتی چلمن میں کھویا تھا ایک واردات کا شکار ہوا جو سیدھا دل پہ ہوئی تھی۔ ابھی وہ سنبھل نہیں پایا تھا جب اس نے اپنے بےداغ شفاف چہرے کو اپنے آنچل سے چھپاتے خود کو وہاں سے غائب کیا۔
وجدان کو لگ رہا تھا شاید وہ کسی الیوژن کا شکار ہوا ہے مگر دروازے پہ ہلتا پردہ اسے اپنی جانب متوجہ کررہا تھا۔
“وجدان تم یہاں کیا کررہے ہو؟” شاہ صاحب کی آواز پہ اسکے قدم زمین پہ جکڑے تھے۔جبکہ وہ اسکو مشکوک نگاہوں سے دیکھتے دروازے کے ہلتے پردے کو بھی دیکھ رہے تھے۔وجدان ابراہیم کو یاد آیا کہ وہ اسوقت کہاں اور کیوں ٹہرا تھا۔
“سوری شاہ سائیں بس نماز پڑھ کے فارغ ہوا تو سوچا تھوڑی ہوا خوری کرلیں۔”چہرے پہ حتٰی المکان بشاشت سجائے اس نے شاہ صاحب سے نظر چراتے ایک چور نگاہ پھر سے دروازے کی طرف ڈالی۔
“ہنمم اچھی بات ہے ویسے بھی یہاں گاؤں کی خالص ہوا تمہاری صحت پہ بھی اچھے اثرات ڈالے گی۔بس ذرا دھیان رکھنا یہاں ہوا خوری ہی کرنی ہے”اسکے کندھے پہ ہلکا سا دباؤ ڈالتے اندر کی طرف بڑھنے کا اشارہ دیتے اسکے ہمراہ ہو لیے۔
وہ ناہموار سانسوں کو ترتیب دینے کی کوشش کررہی تھی اگر جو ابا سائیں اور ادا ،جان جاتے کہ وہ اس انجان شخص کے سامنے گئی تھی یقیناً شام تک حویلی میں صف ماتم بچھ جاتی۔
✪✪✪✪✪
“زرمینہ تم پاگل تو نہیں ہوچکی ہو؟” ماں کے تنبہیہ کرتی باتوں نے اسے کسی مجرم کی طرح سرجھکانے پہ مجبور کردیا۔
“اماں وہ بہت اچھا ہے ایک بار مل کے تو دیکھیں لالہ سائیّں۔” وہ منت بھری آواز میں کہتے ماں کے قدموں کے پاس بیٹھی۔
“تم کیوں حویلی کو کسی طوفان کی نظر کرنا چاہتی ،اور تمہارے بھائی وہ تو چاہتے ہیں کہ اپنی مینہ کو اپنی نظروں سے دور نہ کریں اگر تمہاری یہ حرکت ان تک پہنچے گی تو کیا جواب دونگی میں،گھر میں کیا محبت کی کمی ملی تھی جو تم ایک نامحرم سے رشتے جوڑنے بیٹھ گئ۔”اگرچہ وہ انتہائی سادہ لوح اور دھیمی آواز کی مالک خاتون تھیں مگر بیٹی کی سرکش طبیعت دیکھتے اسے آنے والے وقت سے آگاہ کیا۔
“کچھ بھی تو الگ نہیں نا ذات برادری کا کوئی مسئلہ پھر کیوں ایسے بول رہی ہے توں اماں اور مجھے پتا میرے بھائی میری خوشی دیکھیں گے۔”بھائیوں کیلئے چھلکتا مان اسکے لہجے سے ظاہر تھا ۔
اماں نے احمقوں کی جنت بسائے اپنی بیٹی کو دیکھا ۔ اسکی ماں نے بھی روایتی ماؤں کی طرح ڈانٹ ڈپٹ کے چپ کروادیا۔وہ بوجھل دیے شہر واپس آگئی۔
“مجھے ملنا ہے تم سے۔”ایک مختصر سا پیغام اسے بھیج کر اسکے جواب کا انتظار کرنے لگی تھی۔
“آجائیں میں آپکے ہاسٹل سے لینے آجاتا ہوں۔”اسے بھی زرمینے کو دیکھے کافی ٹائم ہوچلا تھا جبکہ اسکے گاؤں جانے پہ ناراض تھا مگر محبوب کا ایک پیغام اسے سرپٹ دوڑنے پہ مجبور کرگیا۔وہ اسے لیے شہر کے مقامی ہوٹل میں لے آیا جہاں سلام دعا کے بعد ہونے والی بات نے کتنی دیر اسے بولنے کے قابل نہیں چھوڑا تھا ۔
“زرمینے اگر تو یہ مذاق ہے انتہائی بے ہودہ مذاق ہے سوری میں ایسا کوئی قدم نہیں اٹھاؤِں گا جسکی وجہ سے میرے یا آپکے والدین کی دل آزاری ہو جبکہ میں اپنی سسٹر اور مام کو اپکے گھر بھیجنا چاہ رہا ہوں پھر ایسی کیا آفت۔” زرمینے کی بات نے اسے انگاروں پہ لابٹھایا تھا۔
“ادا سائیں نہیں مان رہے اور نہ ہی اماں سائیں لیکن ہم تمہارے بغیر رہ ہی نہیں پائیں گے۔”آنسوؤں کی دھار ساتھ کاجل کی دھار بھی غمگین آنکھوں سے نکلی تو وہ بے چین ہو اٹھا۔
“پلیز زر تم اگر ایسے کروگی تو کیسے چلے گا،تم کہو تو میں بات کروں؟”وہ کائر نہیں تھا اسے اپنانا چاہتا تھا مکمل عزت اور بھرے سماج میں مان کے ساتھ مگر زرمینے کے دل میں نجانے کونسے خدشات سر اٹھانے لگے تھے اس پہ کورٹ میرج کی دھن سوار تھی۔
یونہی دن آس و یاس میں گزر رہے تھے جب اچانک اماں سائیں کی طبیعت خرابی کی کال موصول ہوئی وہ بنا کچھ سوچے سمجھے اور اس سے ملے گاؤِں چلی گئی۔
وہ اس سے روٹھ کے جارہی تھی مگر وہ نہیں جانتے تھے کہ اب کا ملن بھی آخری تھا اور روٹھنا بھی۔
