Tar e Ankaboot by Uzma Mujahid NovelR50607 Tar e Ankaboot (Episode 05)
Rate this Novel
Tar e Ankaboot (Episode 05)
Tar e Ankaboot by Uzma Mujahid
وہ تہی دست بھی کیا خوب کہانی گر تھا
باتوں باتوں مِیں مُجھے چاند بھی لا دیتا تھا۔۔۔
وہ نڈھال سی بیٹھی تھی ماں کے لاکھ سمجھانے پہ بھی اس نے انکی بات ماننے سے انکار کردیا تھا۔
“میرے پیار کی واحد نشانی تو میرے پاس رہنے دیں۔”
اس نے شکست خوردہ ہوتے کہا۔
“یہ پیار کی نہیں ذلت اور رسوائی کی نشانی ہے تمہیں کیوں سمجھ نہیں آرہا یہ گناہ میں شامل ہے۔جس راہ کی کوئی منزل نظر نہ آئے وہاں سے پلٹ آنا چاہہئے کیوں ہم سب کے سروں میں خاک ڈلوا رہی ہو۔”
اسکی ماں نے آخری بار اسے سمجھانا چاہا تھا۔
“صرف ایک بار مجھے اسے بتانے دیں ،وہ ہمیں یہاں سے لے کےجائے گا اماں ۔”اس نے دونوں ہاتھ پکڑتے منت بھرے انداز میں کہا۔
“اگر اسے لے کر ہی جانا ہوتا تو وہ یوں سرراہ چھوڑ کے نا جاتا ،ضد چھوڑ دو دھی رانی۔”
ماں نے اسکی بے وقوفیوں پہ جھڑکتے کہا۔
“ٹھیک ہے اماں ۔”جس نے کبھی بھی ماں کی بات نہیں مانی تھی ایک اچنبھا تھا کہ اس نے آسانی سے ہامی بھر لی تھی۔اسکی ماں وہاں سے مطمئن ہوتی چلی گئی تھی۔
مگر اسکے دماغ میں پکتی کھچڑی سے سب انجان تھے۔
✪✪✪✪✪
جے ایتھوں کدی راوی لنگھ جاوے۔۔۔
حیاتی پنج آبی بن جاوے۔۔۔
(اگر یہاں سے راوی گزر جائے تو زندگی پانچ دریاؤں جیسی زرخیز ہو جائے)
عبدلباری نے ایک نظر سفید لباس پہ میرون سندھی کڑاہی کے کام والی شال اوڑھے افق کو دیکھتے گنگنایا تھا۔
سندھ کے طاس میں مشرقی اور بہتا دریا اپنے پیٹ میں تھوڑا سا پانی لیے اپنی موجودگی کا احساس دلا رہا تھا۔
شام اداس سی بھیگتی ہوئی اپنا آج کا سفر تمام کرتے روانہ ہورہی تھی
۔
“لوگ اتنے ظالم کیوں ہیں جو قدرت کی رنگینی کو بھی معدوم کررہے؟”افق نے اداس لہجے میں کہتے باری کو دیکھا۔
“لوگ جو ہیں۔”باری نے اسکی بات مذاق میں اڑاتے اسکا رخ اپنی طرف کیا۔
“اداس ہو؟”
باری کے انداز سے چھلکتا فکر افق کو اچھا لگا تھا۔
“ہممم۔۔”
“کیوں ؟”وجہ مطلوب تھی ۔
“کبھی کبھی ان مصنوعی روشنیوں سے دل اکتا جاتا ہے تو،وہاں دریا کے کنارے پڑنے والی نرم ریت پہ ننگے پاؤں چلتے کہیں دور چلے جانے کو دل چاہتا ہے۔”
افق نے نظریں ڈوبتے سورج کے منظر پہ ٹکائیں۔
نجانے کیوں وہ باری سے کبھی دوبدو نظریں ملا نہیں سکتی تھی ۔
“اور اس کہیں دور جانے کی خواہش میں کسی ہمسفر کی ضرورت محسوس ہو تو بندہ حاظر ہے۔”
باری نے اسکے سامنے سینے پہ ہاتھ رکھے جھکتے ہوئے کہا۔
“آہمم شیور سوچوں گی اس بارے۔”
وہ جانتی تھی باری اسکا موڈ فریش کرنا چاہ رہا تبھی مضحمل طبیعت پہ قابو پاتے اس نے باری کا ساتھ دینا چاہا۔
“شکریہ آپ مابدولت پہ نظر کرم فرمانے لگی ہیں۔”
باری نے ایک آنکھ دبائے اسے مبہم اشارہ کیا تو وہ گل وگلزار ہوتی جھنیپ گئی۔
“چلیں؟” افق نے آگے کی طرف قدم بڑھاتے کہا۔
“افق میری خواہش کا کیا ۔”
باری نے اسکے ساتھ قدم نہیں بڑھائے تھے۔
“ابا سائیں اور دادا سائیں نہیں مانیں گے باری۔”
افق نے اپنی اداسی کی وجہ بیان کی۔
“اوہ کم آن افق اٹس ناٹ اٹین سنچری جسٹ کیم آؤٹ بابا سائیں ،ادا سائیں لوجکس ،کیا تمہیں میں پسند نہیں کیا تمہیں میرا ساتھ پسند نہیں۔”
عبدلباری کو اسکا جواب پسند نہیں آیا تھا تبھی اس نے ناک بھوں چڑھائے اسکے اعتراض پہ اپنا مؤقف بیان کیا۔
“ایسی بات نہیں ہے باری میں چاہتی ہوں تمہارا ساتھ مگر یوں انکی پگڑی اچھالنا۔۔”
افق کے دل میں کئی خدشات سر اٹھانے لگے تھے۔
“افق ایک بار یقین کرکے دیکھو آگے کی منزل بہت آسان ہے پلیز۔”افق نے باری کا انداز دیکھا جو چیخ چیخ کے بیان کررہا تھا کہ وہ اسکے بغیر نہیں رہ سکے گا۔
“میں سوچوں گی باری۔”افق نے اتنی آواز میں کہا کہ وہ بمشکل اپنی آواز سن پائی تھی۔
“اور کتنے دن افق۔۔”
“باری وہ عنیزے۔”
“عنیزے کچھ نہیں ہے جب ہم ساتھ ہونگے تو عنیزے کی وجہ نہیں بنتی میں بھی تو اسٹینڈ لے رہا ہوں نا۔”
باری نے فاصلہ سمیٹے اسکے برابر رکتے کہا ۔
“میں وعدہ کرتا ہوں افق میں سب ٹھیک کردونگا۔”
باری نے اسکا ہاتھ اپنے ہاتھ میں جکڑتے لبوں کے قریب لے جاتے کہا ۔افق کی جان ہوا ہونے لگی تھی۔
“باری پلیز۔۔۔”
اس نے کمزور سا احتجاج کیا۔
“افق “
باری کی پکار میں کیا کچھ نہیں تھا اس نے بنا کسی انجام کی پرواہ کرتے اپنا سر جھکایا تھا ۔
باری نے بے یقینی سے اسکے اقرار میں ہلتے سر کو دیکھا۔
“تھینکیو تھنیکو سو مچ افق تم نہیں جانتی میں کتنا خوش ہوں ،اف آج شاید ہی مجھ سے زیادہ اس دھرتی پہ کوئی خوشنصیب شخص ہو۔”
باری کی خوشی کا ٹھکانہ نہیں تھا اپنے لیے باری کی اتنی دیوانگی افق کو گم صم کرگئی۔
اور اسی اداس شام اس نے باری کو اپنے نام سے جڑنے کا استحقاق دے دیا کیونکہ عبدلباری بے وفائی نہیں چاہتا تھا وہ مکڑی کے گھر سے ڈرنے والا شخص تھا۔
اسے اپنے نام کیے ایک دنیا فتح کرلی تھی۔
ہاسٹل آتے اس نے گھر کال ملائے مینہ پھوپھو سے، اس بات کا انکشاف کیا جو اسکی اکلوتی سکھی تھی جس پہ وہ اعتبار کرسکتی تھی ۔
“افق بنا سوچے سمجھے اتنا بڑا قدم۔”
“پھوپھو پلیز میں آلریڈی بہت ڈپریس ہوں ،باری کی خواہش تھی میرے نام سے جڑنے کی اس سے آگے کچھ نہیں پھوپھو آئی پرامس یو۔”
افق نے بیزاری سے کہا۔
“افق تم ایسی نہیں تھی۔”
انکی آواز میں ان دیکھے خدشے بول رہے تھے۔
“پھوپھو اس زندان سے رہائی کا اور کوئی راستہ نظر نہیں آرہا مجھے۔”صدیوں کی تھکاوٹ افق کے لہجے میں سمٹی تھی۔
“محبت اپنے ساتھ مذاق کرنے والوں کا مذاق بنادیتی ہے افق جان وہ کبھی اپنی تذلیل برداشت نہیں کرتی۔”
انہوں نے اسے بعض رکھنے کی کوشش کی تھی۔
“مذاق کہاں وہ مجھ سے محبت کرتا ہے اگر میں اسے اپنے راستے کے کانٹے ہٹانے کیلئے استعمال کررہی ہوں تو اس میں برا کیا ہے مینہ پھوپھو سب کرتے ہیں یہ دنیا ہے یہاں ایسا ہی ہوتا،بنا مقصد کی کیا محبت۔”
افق نے شانے اچکائے حقیقت سے نظریں چرائیں۔
“تم سب جیسی نہیں ہو افق شاہ تم عام لڑکی نہیں ہو ،تمہیں عام لڑکیوں جیسے خواب بننے کا حق نہیں ہے۔”
انہوں نے اسے سرزنش کرتے کہا۔
“کیا فرق پڑتا ہے اس چیز سے باری مجھ سے محبت کرتا ہے وہ میرا زادراہ بنے گا۔” افق کا انداز ہر دیوار کو توڑنے پہ مضر تھا۔
اسکی بات سنتی مینہ کے دل دماغ میں تیز آندھی کے جھکڑ چلنے لگے تھے ۔
“عبدلباری ہی کیوں؟”
انکی آواز میں ٹھٹرتی سردی کی کڑک تھی۔
“اس نے نفرت سے محبت کا رخ کیا،میں اسکی کمزوری جانتی ہوں بہت آسانی سے دامن چھڑوا سکتی میں پھوپھو ۔”
افق نے پراعتماد لہجے میں کہا تھا ۔
“اور اگر تم خود کمزور پڑگئی تو۔”
انکی آواز کپکپائی تھی شاید عمر کا تقاضہ تھا۔
“کبھی نہیں آپکی افق بہت مضبوط ہے بھروسہ رکھیں صرف اپنوں کی ضد توڑنی ہے مجھے۔”
افق شاہ نے ضدی انداز میں کہا۔
“خود نہ ٹوٹ جانا افق۔”
مدھم آواز میں کئی اندیشے بول رہے تھے۔
اور افق نہ جڑنے ٹوٹنے کا دعویٰ نہیں کیا جو مستقبل دیکھ نہیں سکتی تھی۔
✪✪✪✪✪
“باری عنائیہ اپو کب سے کال کررہیں تمہارا سیل بار بار آف مل رہا۔”عنیزے جو باری کو ڈھونڈتے ڈیپارٹمنٹ کی لائبریری تک آئی تھی اسے افق سے محو گفتگو دیکھ اپنے آنے کی وجہ بیان کی ۔
“اوہ شاید جارجنگ ختم ہوگئی ہے اینی امپورٹنٹ مسیج۔”
باری نے موبائل پہ نظر کرتے مصروف سے انداز میں عنیزے سے پوچھا جو تنقیدی نظروں سے افق کا جائزہ لے رہی تھی۔
“ہنمم کچھ خاص نہیں اوکے کیری آن۔”وہ انہیں اسمائل پاس لیے آگے کی طرف بڑھ گئی ۔افق اپنے سامنے رکھے چارٹ کی طرف متوجہ ہوگئی ۔
“میرے خیال سے مجھے عنیزے کے سیل سے ایک بار عنائیہ کو کال کرلینی چاہئیے؟”باری نے افق سے پوچھا جس نے کندھے اچکاتے تمہاری مرضی کا اشارہ دیا۔
تبھی وہ عنیزے کو پکارتے اسکے پیچھے آیا تھا۔
“کیا ہوا باری؟”
“وہ عنائیہ کچھ خاص کہہ رہی تھی کیا جو تم۔شاید اسکے سامنے بتانا نہیں چاہ رہی تھیں۔”باری نے سرسری لہجہ اپنائے پوچھا۔
“کہہ رہی تھیں باری کہی کھو گیا ہے اسے ڈھونڈ کے لاؤ۔”
عنیزے نے گہری نظروں سے اسکا جائزہ لیتے کہا۔
“طنز کررہی ہو؟”
“نہیں حقیقت بیان کررہی ہوں ،ہمارا باری تو کہیں گھو ہے اس والے باری کو تو میں جانتی ہی نہیں ،جتنا میں باری کو جانتی اسے گرل فرینڈ بنانا پسند نہیں اسے نامحرم رشتوں سے چڑ ہے۔۔”
عنیزے نے اسکا جائزہ لیتے ایک نگاہ افق پہ ڈالی جو مگن سی چارٹ پہ کچھ بنانے میں مصروف تھی۔
“وہ میری گرل فرینڈ نہیں ہے اور شاید تم بھول رہی ہو اسے اس پروجیکٹ کا حصّہ تم نے ہی بنایا تھا۔”
باری نے افق کی رفاقت کا الزام اسکے سر کیا۔
“پروجیکٹ کا حصّہ بنایا تھا باری لیکن شاید تم نے تو اسے اپنی ذات کا حصّہ بنا لیا ہے۔”
عنیزے طنزیہ کہتے آگے بڑھی تھی جب باری نے اسکا راستہ روکا۔
“تمہیں غلط فہمی ہورہی ہے اور کچھ نہیں میرے لیے ہمارا رشتہ ہر چیز سے مقدم ہے۔”باری نے پرتقین انداز میں کہا۔
“افق سے بھی؟” عنیزے نے اسکی آنکھوں میں جھانکتے کہا وہ ایک لمحے کو گڑ بڑایا تھا۔
“کیا ہوگیا ہے یار اسکا میرا ساتھ کچھ دن کا ہے اور تم ہی تو چاہتی تھی کہ ہم دوست بن جائیں اور اگر بن گئے ہیں تو۔۔”
“یہی تو مسئلہ ہے میں چاہتی تھی کہ تم افق سے اپنے معمالات درست کرلو ،لیکن باری کچھ ایسا ہے جو مجھے کھٹک رہا ہے۔”
عنیزے نے قطعی اندازے میں کہتے واپسی کےلیے قدم بڑھائے ۔
“وہم ہے اور کچھ نہیں ۔”
باری نے اسکے پیچھے فقرہ اچھالا۔
افق نے انکے قریب اور دور ہونے کے منظر بخوبی دیکھے رقابت کے احساس نے انگڑائی لی تھی۔
“سوری یار تمہیں ویٹ کرنا پڑ گیا۔”
باری نے مسکراتے ہوئے اپنی نشست سنبھالی۔
“اٹس اوکے۔۔”
پینسل کو لبوں کے پاس لے جاتے اس نے خود کو لاپراوہ ظاہر کرتے ہوئے کہا۔
“کیا یار جیلس ہورہا ہوں میں ہٹاؤ یہ پینسل۔”
باری نے اسکے لبوں کے پاس سے پینسل ہٹاتے کہا اسکی بات کا مفہوم سمجھتے وہ حیا سے غرق آلود ہوئی۔
“باری پلیز مجھے اس گراف کو سمجھنے میں مدد دے کریں۔”اسکی بات کا اثر زائل کرنے کیلئے اس نے پینسل باری کی طرف بڑھائی۔
“پہلے آپ ہمیں تو سمجھ لیں مسسزباری یہ گراف ہم بعد میں کرلیں گے۔”باری نے آتے ساتھ انداز لگالیا تھا افق اسکی اور عنیزے کی قربت کے لمحات سے جزبز ہے۔
“باری پلیز۔۔”
“افق کبھی کبھی آنکھوں دیکھا بھی غلط ہوسکتا ہے ،ایک پل کی دیری آپکو اس سے پہلے کی سچویشن نہیں بتا سکتی۔”
باری نے اسکی ٹھوڑی کے تل کو دیکھتے کہا۔
“میں نے کچھ کہا آپ سے؟”
اسے تیکھے چتونوں سے گھورتے پھیلی ہوئی کتابیں سمیٹیں۔
“یہی تو مسئلہ ہے کہ آپ کچھ کہتی نہیں ہیں اور آپکی اسی چپ سے ڈر لگتا جو کسی آنے والے طوفان کی خبر دے رہے۔”باری نے اسے ژچ کرنا چاہا تھا۔
“ہم ایسے فضول ٹاپک پہ بات ہی کیوں کررہے ہیں۔”
افق نے باری کو خشگمین نگاہوں سے گھورا۔
“کیونکہ میں چاہتا ہوں میری پیاری بیوی میرے بارے کسی غلط فمہی کا شکار نہ ہو۔”
باری کا لقب اسکا دل دھڑکا گیا تھا اس کا اپنے لیے روز بروز بڑھتا جنون افق کے اردگرد خطرے کی گھنٹیاں بجانے لگا تھا۔
“باری پلیز آپ نے کہا تھا جب تک اسٹڈی کمپلیٹ نہیں ہوجاتی ہم اس بارے میں بات نہیں کریں گے۔”
افق نے اسکے عہدوپیمان یاد دلائے۔
“ہاں تو میں کونسا پریکٹکل ہورہا ہوں یار اتنا تو حق ہے کہ کبھی حق جتا سکوں۔”
باری کی بولتی نگاہیں افق کو اپنا امتحان لیتی محسوس ہورہی تھیں۔
“آئی ۔ایم۔ناٹ فیلنگ ول،میں ہاسٹل جارہی ہوں۔”
افق نے فرار چاہا۔
“کیا ہوا؟ڈاکٹر پاس چلیں۔”
باری نے فکر سے کہتے بےاختیاری میں اسکا ماتھا چھوا ۔
افق جھجکتے ہوئے دوقدم دور ہٹی۔
“شاید تھکن ہورہی میں ریسٹ کرونگی تو ٹھیک ہوجاؤنگی ۔” اس نے بودا سا بہانہ پیش کیا۔
“میں ایسے نہیں جانے دے سکتا نا افق پلیز سمجھو مجھے ٹینشن رہے گی۔”باری کی ضد کے سامنے اسے ہار مانتے بنی تھی اور وہ اسے لیَ کلینک آیا تھا جہاں سے اسے ریسٹ کی تلقین کے ساتھ جلدی فارغ کردیا گیا تھا۔
“افق ایک ہفتے تک تو مکمل ریسٹ کروگی اور یہ باقی کا پروجیکٹ میں سنبھال لونگا اوکے پلیز پریشان نہیں ہونا۔”باری کا لفظ لفظ اور اسکی فکر میں ڈوبا تھا ۔
وہ بھی کچھ دن فرار چاہتی تھی تبھی اسکی بات مانتے بنا باری کو بتائے گاؤں چلی گئی۔
✪✪✪✪✪
“کیا ہے یہ ؟”مبشر نے اسے سوالیہ نظروں سے دیکھتے کارڈ کھول کے دیکھا جہاں عنیزے اور اسکی منگنی کا انیوٹیشن سنہری حروف میں جگمگا رہا تھا۔
“باری یہ سب کیا ہے ہمیں تو لگ رہا تھا کہ ۔۔۔آئی۔مین۔۔۔
ہم تو سمجھ رہے تھے شاید افق اور تم۔۔”
مبشر نے اسکے چہرے کو بغور دیکھتے بات ادھوری چھوڑی۔
“پاگل ہوکیا شی از ان ایکسٹمریسٹ سپرئیرٹی کمپلیکس ،میرے ٹائپ کی نہیں ہے وہ۔”
باری نے سکون سے کہتے برگر آرڈر کیا ۔
“اور وہ جو تم دونوں ہروقت ایک ساتھ گھومتے پھرتے ہو؟” یقیناً مبشر بھی باقی سب کی طرح اس رشتے کو جاننا چاہتا تھا۔
“جسٹ ٹائم پاس اور کچھ نہیں اور ہم ساتھ میں اسائمنٹ بھی تو بنا رہے ہیں اب دیکھنے والے کیا دیکھ رہے کیا سوچ رہے آئی۔ڈونٹ کئیر۔”
باری کے لہجے میں دنیا جہاں کی بیزاری تھی جو مبشر کو چونکا رہی تھی۔ان کی نزدیکیاں اعلل اعلان تھیں پھر یہ سب۔۔۔”
“باری اگر یہ مذاق ہے تو پلیز اسے اسٹاپ کردو پوری یونیورسٹی میں وہ تمہارے نام سے اسکینڈلائز ہورہی ہے۔”
مبشر نے اسکے ارادوں سے بعض رکھنے کی کوشش کی۔
“جب وہ خود میرے ساتھ نتھی ہونے کی کوشش میں ہے تو پھر کسی کو کیا تکلیف؟”باری کے انداز سے چھلکتا کروفر مبشر کو حیران کرگیا۔
وہ باری کے اس روپ سے انجان تھا۔
“تم اسے عزت سے اپنا لو۔”
مبشر نے درمیانی راہ نکالی۔
“افق شاہ جیسی لڑکیاں جو پکے پھل کی طرح کسی کی بھی گود میں گرنے کو تیار ہوں انہیں رکھیل تو بناسکتے ہیں عزت نہیں۔”
باری نے اپنی اسپورٹس بائیک کی طرف بڑھتے تفخر سے کہا۔
“وہ تم سے محبت کرتی ہے۔”
مبشر نے آخری دلیل پیش کی۔
“کیا فرق پڑتا ہے میں تو ایسی مغلظات میں نہیں پڑتا نا۔”باری نے ہیلمٹ پہنتے ایک اچٹکتی نگاہ مبشر پہ ڈالی جس نے آدھا گھنٹہ افق جیسے غیرضروری ٹاپک پہ اس سے بحث میں گزارے تھے۔
“وہ ٹوٹ جائے گی باری۔”
مبشر نے سرینڈر کیا۔
“ٹوٹتا ہوا ہی تو دیکھنا ہے۔”
اسے نے بائیک کو کک مارتے اسٹارٹ کیا مبشر بائیک کے شور میں معدوم ہوتی اسکی آواز سن نہیں پایا جہاں افق کیلئے کوئی رعایت نہ تھی۔
