Tar e Ankaboot by Uzma Mujahid NovelR50607 Tar e Ankaboot (Episode 06)
Rate this Novel
Tar e Ankaboot (Episode 06)
Tar e Ankaboot by Uzma Mujahid
تم نے تو رہا کر دیا تھا خود ہمیں، لیکن
ہم ساتھ لیے پھرتے ہیں زنجیر تمہاری..۔۔
“جب آپ دونوں ایک دوسرے سے اتنی محبت کرتے تھے تو کیوں چھوڑ دیا ایک دوسرے کو؟”
افق نے مینہ پھوپھو کے گھٹنوں پہ سر رکھے کہا ۔
“روایات کی پاسداری کیلئے ۔”
انہوں نے خلا میں کسی کا عکس تلاش کرتے کہا ۔
“باری کا بس چلے تو ہوا پہ بندش لگا دے کہ افق کو چھوکے نہ گزرو اور انہوں نے آپکو چھوڑ دیا وہ آپ سے محبت ہی نہیں کرتے ہوں گے۔”
افق نے دونوں ہاتھ اٹھائے ان دیکھے شخص کی ذات پہ بےوفائی کا الزام لگایا۔
وہیں مینہ پھوپھو ماضی کی بھول بھلیوں میں جا پہنچیں تھیں۔
گیٹ کراس کیے جب وہ ڈیوڑھی کے قریب پہنچا تو ثقلین شاہ کی نظر اس پہ پڑی تھی۔
“کون ہیں آپ اور یوں گھر کے اندرونی حصے کی جانب بڑھنے کا کیا مقصد ہوا۔” ایک مخصوص گرج نے اسے سہما دیا وہیں باہر کی طرف بڑھتی زرمینے دو قدم پیچھے ہٹی تھی ۔
اسکے ہاتھ میں پکڑے شاپنگ بیگ گرے تھے جو بزرگ نے جو کہ شاید درزی تھا اسے پکڑا گیا تھا ۔
“وہ یہ بڑی بیبی تک پہچانے تھے۔”
ایک نگاہ بیگ کے گرنے سے زمین پہ گرے کپڑوں کو دیکھتے کہا۔
سید ثقلین شاہ کی نظر بھی ان کپڑوں پہ پڑی جہاں سفید ریشمی لباس پہ کیا گیا چاندی کا کام پتا دے رہا تھا کہ وہ انکے خاندانی کشیدہ کار کا بنایا گیا لباس ہے۔
“اچھا سہی دلہن کا لباس یوں گرا دیا تم نے احمق لڑکے اسے اندر لے جاؤ۔”
ثقلین شاہ بھی شاید جلدی میں تھے تبھی سر سری سی نگاہ اس لڑکے پہ ڈالی جنہیں وہ پہلی بار اپنے گاؤں میں دیکھ رہے تھے۔
“جی بہتر شاہ صاحب۔”
اس نے سر جھکائے مؤدبانہ نگاہیں جھکائیں۔
چوکھٹ پہ ٹہری زرمینہ نے باہر جاتے پرسکون ثقلین شاہ اور اندر کی بڑھتے اس شخص کو دیکھا ۔
“دلہن کا لباس سفید ہو وہ بھی یہاں کی روایتی شادیوں میں وہ شاید پہلی بار دیکھ رہا تھا۔
ایک مخصوص آڑ تک پہنچتے اسے آگے بڑھنے سے روک دیا گیا تھا کیونکہ وہ ان شاہوں کی پاک بیبیوں کا مسکن تھا جنہیں کوئی نامحرم تو کیا محرم بھی ایک حد تک دیکھ پاتا تھا۔
“سنو باہر جو شخص آیا ہے اسے گھر کی بالکونی میں بھیجو شاید درزی ہے مجھےکپڑوں کے حوالے سے بات کرنی ہے۔” زرمینہ نے ایک کم سن لڑکی کے ہاتھ پیغام بھیجا تو وہ حیرانی سے اسے دیکھنے لگی یہ دلہن بیبی بھلا کیوں ایک اجنبی سے ملنا چاہ رہی تھیں ۔غلام تھی اسیلئے بنا سوال اٹھائے اسکا حکم بجا لائی۔
“آپکو مینہ بیبی بلا رہی ہیں ادھر۔”
وہ جو حویلی کی ٹھاٹ باٹ دیکھنے میں مصروف تھا جو کسی مغلیہ دور کی سلطنت سے کم نہیں لگ رہی تھی ملازمہ کی بات سنتے ناسمجھی سے اسے دیکھنے لگا۔
“مینہ بیبی کون؟”
“جی وہیں دلہن بیبی زرمینہ شاہ۔”
ملازمہ نے اسکی مشکل آسان کی ۔
“کیا اتنی آسان تھی منزل جو آیا تھا کچھ لینے اتنی آسانی سے حاصل ہورہا تھا۔”
اہنے اندر ہوتی کشمکش سے الجھتے وہ ملازمہ کی ہمراہی میں محبوب کے کوچے کی طرف بڑھا۔
“بیبی جی درزی آگیا ہے۔”
ملازمہ نے زرمینہ کے کمرے سے باہر ٹہرتے کہا تھا۔
“ٹھیک ہے تم جاؤ ہم بات کرلیں گے۔”
پردے کی اور سے آتی آواز سنتے اسے لگ رہا تھا کئی صدیاں بیتی تھیں اس آواز کو سنے ۔ملازمہ مؤدب انداز میں سر ہلاتے وہاں سے چلی گئی تھی۔
کچھ دیر زرمینہ کی طرف کسی پیش قدمی کا انتظار کرنے کے بعد وہ پردہ اٹھائے اندر کی طرف بڑھا تھا۔
“زر” ایک جزب کے عالم میں اسے پکارتے قریب آیا تھا۔
“کیوں آئے ہو یہاں میرا امتحان بن کے؟”
وہ جو رخ موڑے ٹہری تھی اسکی جانب پلٹتے کہا۔
اسے اندازہ ہوا تھا کہ وہ رو رہی تھی۔
“زر میں۔۔”
“کہا تھا نہ مجھے زر نہ بولا کرو دیکھو آج زرمینہ شاہ ایک زر بن گئی ہے ۔”درد اسکی آواز سے چھلک رہا تھا۔
“میں اسٹینڈ لینے کو تیار ہوں زر ہم بھاگ چلتے ہیں یہاں سے ایک نئی زندگی منتظر ہے جہاں ہماری۔”
اس نے جذباتی ہوتے اسکی طرف قدم بڑھائے جب بڑی بیبی نے کمرے کا رخ کیا ۔ایک قیامت سی گزری تھی انہیں سید گھرانے میں ایک نامحرم کو اسطرح دیکھتے اور وہ بھی زرمینہ کے قریب ۔
“کون ہے یہ بدبخت اور یہاں کیا کررہا ہے مینہ؟”
جلالی آواز میں کہتے انہوں نے اپنے دوبٹے کا ڈھال بنایا تھا جہاں وہ بھی انہیں دیکھتےرخ موڑ گیا ۔
اتنی تعظیم تو فرض تھی ۔
“اماں وہ ۔۔۔” زرمینہ انکی طرف بڑھی تھی جب ایک زوردار تماچے نے اسے زمین پہ گرایا تھا ۔
“شاہوں کا خون اتنا ناپاک نہیں ہوسکتا یوں سربازار ہماری عزت اچھالنے کا حق کس نے دیا تمہیں مینہ؟”
غصے میں کہتے وہ اس پہ جھپٹیں جہاں نازک سی زرمینہ شاہ انکا بھاری تھپڑ کھاتے اپنے ہونٹ زخمی کر بیٹھیں تھیں۔
“کیا کررہیں آپ یہ محترم خاتون ۔” اسے اس حال میں دیکھا تو اٹھانے کیلئے لپکا تھا جہاں بڑی بیبی نے ہاتھ کے اشارے سے اسے زرمینہ کی طرف بڑھنے سے روک دیا تھا۔
“ہاتھ مت لگائیے گا انہیں یہ زرمینہ شاہ نہیں، پاک بیبی ہیں قرآن کی بیوی آج تمام رسومات سے انکا نکاح قرآن سے کرایا جائے گا جسکے بعد یہ اپنے باپ بھائیوں سے بھی پردہ نشین ہوجائیں گی۔یا تو تم اسکی زندگی بخشتے یہاں سے چلے جاؤ نہیں تو جہاں رسم نکاح ہونی وہاں سے دو جنازے نکلیں گے لڑکے۔”
انتہائی سخت لہجے میں تنے ہوئے نقوش والی خاتون نے اسکے بڑھتے قدموں کو بے جان کیا تھا۔
“قرآن سے شادی” ایک سرگوشی نما آواز نکلی تھی جہاں اسکی نظریں شاپنگ بیگ سے جھانکتے سفید لباس ریشم کے لباس پہ جم سی گئیں تھیں ۔
اسے اس لباس اور کفن میں زیادہ فرق معلوم نہیں پڑرہا تھا ۔
زرمینہ نے ٹھنڈی آہ بھرتے افق کے چہرے پہ بوسہ دیا جو اسکی روداد سنتے سنتے نجانے کب نیند کی وادیوں میں جابسی تھی۔ اسکی ناک میں چمکتی ہیرے کی لونگ زرمینہ شاہ کی نظروں کا محور تھی انہیں افق میں اپنی جھلک نظر آتی تھی۔
افق نڈر اور بےباک تھی تبھی ان غلام گردشوں سے نکلنے کی ہمت پیدا کرلی تھی جبکہ انکی زندگی ایک روشن کتاب کے ساتھ تاریکی میں گزر رہی تھی۔
وہ بہت سے بچے اور بچیاں جو اس درگاہ اور حویلی کی دیواروں کی مٹی چاٹ چاٹ کر بڑے ھوئے تھے انکے لیے “حویلی کی ان غلام گردشوں ” کے راز ،راز نہیں رہے۔
اس حویلی کے لیے لوگ کہتے تھے کہ اس پر سے نر پرندہ اڑ کر گذر جانے سے پہلے ہی بھگا دیا جاتا ہے۔
درگاہ پہ حاضری کے وقت باقاعدہ “ہوشیار خبردار پاک لوگ” جارہے ہیں کی صدا بلند کی جاتی جو اندھے عقائد کی ترجمان تھی۔
“سیداں والی حویلی” وہ حویلی تھی جہاں کی لڑکیاں برس ہابرس سے قرآن سے بیاہی جارہی تھیں۔
جانے کیوں اسےسب بے زباں سمجھتے ہیں
لڑکی کو کیوں نہیں زندہ جاں سمجھتے ہیں
وہ تو چپ چاپ روز جیتی روز مرتی ہیں
لوگ دفن ہونے کو موت کا نشاں سمجھتے ہیں
ظالم لوگ رواجوں کی بیڑی سے پابندِسلاسل ہیں
اور بےچارے خود کوموت کا پروانہ رواں سمجھتے ہیں
تقدیر کے فیصلے تو اللہ کی مرضی سے ہوتے ہیں
غرورکے پتلے خود کو مالکِ جسم و جاں سمجھتے ہیں
یہ حسب نسب کے بھوکے سیاہ بخت نصیب جن کے
خون رنگیں شملوں پر لکھا نام اپنا تاباں سمجھتے ہیں
جب آگہی کا درد رگوں میں نشتر بن کے اترنےلگے
اے پیاری زندگی تجھےپھر ہم ایک امتحاں سمجھتے ہیں۔
✪✪✪✪✪
“باری یہ کیا کیا ہے ،ہم نے تمہیں ایسی تربیت نہیں دی تھی۔”اس نے الماس کی آواز سنی تھی۔
“مما میں نہیں ،میں نے یہ نہیں کیا۔”
اس نے تھوک نگلتے وضاحت دی تھی۔
سامنے چارپائی پہ پڑے سفید چادر سے ڈھکے وجود سے خون برس رہا تھا اس نے کانپتے ہاتھوں سے چہرہ دیکھنے کیلئے ہاتھ بڑھایا تھا۔”
“اللّٰہ اکبر اللّٰہ اکبر “
(اللّٰہ سب سے بڑا ہے،اللّٰہ سب سے بڑا ہے)
آج پھر آذان کی آواز پہ۔
اسکی آنکھ کھلی تھی وہ پسینہ پسینہ ہوتے اٹھ بیٹھا تھا۔ہمیشہ کی طرح آج وہ اپنے خواب کو اگنور نہیں کرپایا تھا۔اسکی سانس پھولی ہوئی تھی کتنی دیر اس نے اپنے اردگرد کے ماحول کو سمجھنے میں لگی تھی۔اپنے ہاتھوں کو دیکھا جہاں مردانہ وجاہت لیے سفید ہاتھ بلکل صاف تھے جہاں کچھ دیر پہلے ہاتھ میں پکڑے چاقو سے خون ٹپک رہا تھا۔
“یہ سب خواب تھا ؟مگر کیوں تھا ؟
باری نے آج پہلی بار اسے سنجیدگی سوچا مگر کوئی سرا ہاتھ نہیں آیا تھا۔
ْآج اسکی اور عنیزے کی منگنی تھی ،ہنستے مسکراتے لوگ خوشیوں اور قہقوں کی بہاروں نے بھی اسکے وجود کو ذہنی انتشار سے نہیں نکالا تھا ۔
“حد ہے یار ایک تو تم نے تیار ہونے میں اتنا وقت لگا دیا ہے۔لگتا ہے شادی ہی نہیں کرنی لڑکے۔”فیضان نے شوخی سے کہتے اسے چھیڑہ تھا۔
“آپ بھی تو نہیں کرتے شادی اور میرے لیے اتنی جلدی کیوں۔”باری نے ناراضگی سے کہتے رخ موڑا۔
فیضان نے کندھے اچکائے اسے تیاری میں مدد دی۔
“کبھی دل نہیں چاہتا ان سے اس بے وفائی کی وجہ پوچھیں۔” فیضان جتنا اس موضوع سے بچنا چاہ رہا تھا باری اتنا ہی اس چیز کو موضوع گفتگو بنا رہا تھا۔
“قطعی تعلقی کے بھی آداب ہوتے ہیں ۔ ان میں سب سے پہلا قرینہ ”رازوں” کی تدفین ہوتی ہے۔”فیضی نے عام سے انداز میں کہتے وہاں سے واپسی کے قدم بڑھائے۔
“محبت کے راز ہنہہ،میرا بس چلے فیضی تو میں اس خاندان کی اینٹ سے اینٹ بجا دوں جس نے میرے ہمزاد کی زندگی کو ایک فل سٹاپ سے آگے نہیں بڑھنے دیا ۔”
تنفر سے کہتے افق شاہ کا چہرہ نظروں کے سامنے آیا تھا مگر اس نے سرجھٹکتے اسے بھی اپنی زندگی سے جھٹکا تھا۔۔
✪✪✪✪✪
“آپ نے کہا تھا عنیزے کی کوئی حثیت نہیں باری پھر یہ سب۔”وہ اتنا زور سے چلائی تھی کہ اسکے گلے میں خراش پڑگئی ۔باری نے اسکا جنونی انداز دیکھا تو اسے شرمندگی نے آن گھیرا ۔
“ایسے ہی تو وہ اسے شکست خوردہ دیکھنا چاہتا تھا ۔”
دل نے اسکی فتح پہ مباردکباد دی تھی۔
“وہ آج بھی کہیں نہیں ہے افق ،یہ تو بس امی وغیرہ کی ضد تھی تو اسیلئے بلیومی۔”باری نے اسکے مخروطی ہاتھوں کو تھامنا چاہا جسے اس نے جھٹک دیا تھا۔
وہ جو آج ہی حویلی سے آئی تھی باری اسے ریسوو کرتے ان دونوں کی فیورٹ جگہ پہ لایا تھا کامران کی بارہ دری۔
“تم نے اپنے لیے ہی اسٹینڈ نہیں لیا باری میں کیا یقین رکھوں کہیں میرے لیے کھڑے ہونے کا وقت آئے ایسے سرراہ چھوڑ دو گے نا؟”افق نے ان خدشوں کو زبان پہ لایا جو اسے رلا ریے تھے ۔اسے عنیزے سے پرابلم نہیں تھی لیکن اسے لگ رہا تھا اسکا متخاب غلط تھا جو شخص اپنی جنگ نہ لڑا سکا وہ اسکی کیا لڑے گا ۔
“میں نے سب کشیاں جلا کے یہ راہ چنی تھی باری۔”
افق نے آنسوؤں کا آخری قطرہ صاف کرتے اپنے دل کی بھڑاس نکالی۔
“بول لیا سب کچھ ؟اب بول لوں میں۔”
باری نے اسکے گرد اپنے حصار باندھے اپنے قریب کیا تھا۔
وہ اتنی زیادہ سٹریس میں آچکی تھی کہ باری کی پیش رفت کو نوٹس لگائے بغیر اسکے سینے پہ سر رکھے رو دی تھی۔
“ایسا کیوں کیا باری؟”
“مجبوری تھی گھر میں میرے اور تمہارے ریلشن کو لے کے عنیزے نے بہت فساد کیا ہوا تھا وہ جیلس ہے تم سے افق اور میں نہیں چاہتا تھا کہ وہ لڑکی اپنے جنون اور جیلسی میں تمہارے لیے کوئی مسائل کھڑے کرے ،سب ٹھیک ہوجائے میں سب ٹھیک کرلوں گا پلیز افق ٹرسٹ می۔”باری نے اسکے دائیے ہاتھ کو اپنی انگلیوں کی گرفت میں جکڑا تھا۔
“باری “افق نے پانی پہ گرتے نڈھال۔سے پرندے کو دیکھتے اسے پکارا۔
“ہممم،بولو افق ۔” اس نے ابھی تک اپنی قیمتی شے کی طرح اسے اپنے حصار میں لیے ہوا تھا ۔
وہ پرندہ پانی میں ڈبکی لگا رہا تھا۔
“وہ پرندہ ڈوب رہا ہے اسے بچا لاؤِ باری۔”
افق کی انوکھی فرمائش پہ چونکا جو بایاں ہاتھ اٹھائے اس طرف اشارہ کررہی تھی۔
باری نے حیرت سے پانی میں ڈبکی لگاتے پرندے کو دیکھا اور پھر افق کو جسکی آنکھوں پہ پھر سے موتی چمکنے لگے تھے۔
“وہ اپنی من مرضی سے ڈبکی لگا رہا ہے افق میں اسے کیوں روکوں ،شاید اپنے سکون کی خاطر وہ اسے انجوائے کررہا ہے۔”باری نے ایک بار پھر اس پرندے کو دیکھا۔
“کوئی خوشی سے موت کے کنوے میں چھلانگ کیوں لگائے گا؟” اسے نہ پرندے کی سمجھ تھی نہ ہی باری کی۔
اس نے باری کے سینے سے سر اٹھائے اسکے حصار سے آزاد ہونا چاہا تھا۔باری نے بنا کسی احتجاج فوراً سے اپنی گرفت سے آزاد کیا۔
“مجھے ہاسٹل جانا ہے۔”
وہ جو سمجھی تھی شاید اتنے دن ملنے کے بعد باری اس سے ڈھیروں شکوے شکایتیں کرے گا لیکن سب کچھ اسکی سوچوں کے برعکس ہوا تھا باری نے اسے یہاں لاتے ساتھ اپنی اور عنیزے کی فورسڈ انگیجمنٹ کا رونا رویا تھا ۔وہ جانتا تھا کہ افق کو کل ڈیپارٹمنٹ ہی پتا چل جاتا اسیلئے اس نے بنا وقت ضائع کیے اسے سب کچھ بتا دیا تھا مگر اپنے انداز میں۔
“پلیز افق کچھ دیر اور ابھی تو میں نے جی بھر کے دیکھا بھی نہیں ہے تمہیں۔”باری کو لگ رہا تھا وہ اس سے بدظن ہورہی تبھی اس نے انتہائی میٹھے انداز میں کہا۔
“بہت تھک چکی ہوں باری ،ایسا لگ رہا جیسے طویل سفر کے اختتام پہ پورے وجود پہ آبلے پڑ چکے ہیں۔”
افق نے انتہائی مدھم آواز میں کہا تھا۔
“ایسا کچھ نہیں ہوگا افق پلیز ٹرائی ٹو انڈرسٹینڈ مائے سچویشن۔”اس نے چہرے پہ بیچارگی سجائے افق سے منت بھرے لہجے میں کہا ۔
لیکن اسکا موڈ حددرجہ آف ہوچکا تھا تبھی باری کو مانتے بنی تھی۔
اگلے دن افق اسکی عجیب وغریب فرمائش سنتے حیران سی بیٹھی تھی ۔
“یہ کیا ہے باری میں بھلا آئی مین ہم ایسے کسطرح جاسکتے ہیں سب کیا کہیں گے ۔”افق نے باری کے ہاتھ میں پکڑے اسلام آباد کے دوٹکٹس دیکھتے کہا تھا۔
“آئی نیڈ سم ریفریشمنت بہت ہیکٹک ہوچا ہوں افق اور جب سے منگنی ہوئی ہے وہ لڑکی ہر دم میرے سر پہ سوار رہنے کی کوشش کرتی ہے کچھ دن میں یہاں سب سے دور صرف تمہارے ساتھ گزارنا چاہتا ہوں۔”
باری نے ٹکٹس کو فولڈ کیے سامنے لگے نیم کے درخت پہ نظریںں ٹکائے کہا تھا۔
“فرار مسائل کا حل نہیں ہے باری۔”اسکی انوکھی فرمائش پہ وہ جزبز سی تھی۔
“کچھ وقت اپنی من مرضی کا گزارنے کا حق بھی نہیں ہے مجھے تمہارے ساتھ۔”باری نے نروٹھے پن سے کہا تھا۔
“ایسا نہیں ہے باری ،شاید ابھی ان سب کا وقت نہیں آیا باری۔”افق نے جھجکتے ہوئے اپنے خدشات بیان کیے۔
“مجھے دکھ ہورہا ہے اس سوچ پہ افق شاہ میں صرف سکون کے کچھ لمحے آپکی رفاقت میں گزارنق چاہتا تھا اینڈ دیٹس اٹ ،اٹس اوکے اگر تم چاہتی تو میں یہ کینسل کردیتا ہوں۔”باری کا ٹوٹا ہوا انداز تھا۔
افق کو ایک دم شرمندگی نے آن گھیرا ،وہ شخص پہلے ہی معاشرتی الجھاؤ کا شکار تھا اور افق اسے مزید سٹریس آؤٹ کررہی تھی جو فیصلہ ہوش وحواس میں کرنے والا بھی تھا وہ دونوں اپنے اپنے خدشات میں اسے قبول کرتے وقت کے دھارے میں بہہ رہے تھے۔
✪✪✪✪✪
اس نے حیرت سے چوکھٹ پہ ٹہرے اجنبی شخص کو دیکھا اسوقت وہ بھول گئی تھی کہ وہ ایک نامحرم کے سامنے تھی ۔
وجدان یک ٹک اس اپسراء وجود لڑکی کو دیکھے جارہا تھا۔
“سفید لباس تو اداسی کی علامت سمجھا جاتا تھا مگر آج پتا چلا اس رنگ سے زیادہ خوبصورت شاید ہی کوئی رنگ خوبصورت ہو۔” میکانکی انداز میں کہتے اس نے ہرنی جیسی آنکھوں والی لڑکی کو دیکھا۔
“کک کون ہیں آپ اور یوں ہمارے کمرے میں کیا کررہے ہیں۔”اس نے گھبراتے ہوئے کہا وہ جانتی تھی اگر کسی کو بھی اسکے کمرے میں کسی اجنبی کی آمد پتا چلی تو کیا انجام ہوگا۔
“ایک اجنبی جو بہت جلد آپکا اپنا ہوجائے گا۔”
مبہم انداز میں سرگوشی کرتے وہ اسکا دل دھڑکا گیا تھا۔
“پلیز جائیں آپ یہاں سے۔”وہ پوری قوت سے چیخی تھی وجدان نے اسے ہذیاتی ہوتے دیکھا تو پھرتی سے وہاں سے نکلا تھا۔
اور اسی شام اس نے خبر سنی تھی گاؤں میں آئے مہمان کو حویلی کے دشمنوں نے قتل کردیا ۔کتنی دیر تک اسے اپنا ہوش نہ تھا۔بھلا اس سے زیادہ کون اس حویلی کے رازوں سے آگاہ تھا کہ پاک بیبی کے کمرے کی طرف بڑھنے والوں کا کیا انجام ہوتا ہے۔
اگلے روز درگاہ میں آتے اس نے اس اجنبی شخص کی مغفرت کی دعا کروائی۔
“سنا ہے بیچارہ پاک بیبیوں کے حجرے میں چلا گیا تھا۔”
ایک عورت کی سرگوشی اسکے کانوں تک پہنچی۔
“توبہ توبہ بہن ایسے مجرم کی تو یہی سزا ہونی تھی۔”
ایک اور آواز آئی تھی ۔
تخت پہ بیٹھی پاک بیبی نے سختی سے آنکھیں میچیں جہاں بار بار اس اجنبی کا چہرہ سامنے آرہا تھا۔
دربار کے معمالات نبٹاتے وہ نڈھال سی ہونے لگی تھی ایک مریدنی نے اسکی حالت کو دیکھتے شاہ صاحب کو خبر پہنچائی ۔
