Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tar e Ankaboot (Episode 09)

Tar e Ankaboot by Uzma Mujahid

ایک خواہش

اب کی بار ملو جب مجھ سے ۔۔

پہلی اور بس آخری بار

ہنس کر ملنا

پیار بھری نظروں سے تکنا

ایسے ملنا

جیسے ازل سے

میرے لیے تم سرگرداں تھے

بحر تھا میں تم موج رواں تھے

پہلی اور بس آخری بار

ایسے ملنا

جیسے تم خود مجھ پہ فدا ہو

جیسے مجسم مہر وفا ہو

جیسے بت ہو تم نہ خدا ہو..۔۔

گھڑی کی ٹک ٹک کی آواز نبض کے چلنے کی رفتار ظاہر کررہی تھی۔اسے اندازہ ہورہا تھا کہ وہ بھی زندوں میں شامل ہے۔ اماں سائیں کمرے میں داخل ہوئیں تو اپنی اکلوتی بیٹی کو ان حالوں میں دیکھتے دل رو رہا تھا پر وہ مجبور تھیں انہیں یاد تھا کہ اپنی بیٹی کی زندگی کیلئے وہ کتنا گڑگڑائی تھیں جب انکے شوہر کو پتا چلا تھا کہ انکے ہاں بیٹی پیدا ہونے والی ہے وہ تو اسے اور اسکی بیٹی کو زندہ دفن کردینا چاہتا تھے ۔خوبصورت گلابی گال شکر کی طرح گھل کے چپکے بن چکے تھے۔

وہ آنکھیں جن میں شرارت سے بھری زندگی ناچتی تھی ویران کھنڈر کی مانند نظر آرہی تھیں۔

آہٹ پہ اس نے آنے والی کو دیکھا تھا وہ جانتی تھی اسکی ماں کیوں آئی تھی۔

“ان مزاروں کا شملہ اونچا رہے گا نا جب میں بھی روایت کی پاسداری کرتے اہل کوفہ میں شامل ہونگی؟”

پیڑی جمے ہونٹوں پہ جنبش ہوئی تھی لیکن ادا ہونے والے الفاظ اپنے اندر کئی معنی لیے ہوئے تھے۔

“مجھے اپنی بیٹی کی زندگی عزیز ہے اسیلئے ان رسموں کی پاسداری لازم ہے بیٹا۔”

آج اتنے دن بعد انکے لہجے کی مٹھاس در آئی تھی۔

“یہ بھی تو کسی کی اولاد ہے،کسی کی کیوں آپکی بیٹی کی بیشک بدنصیب اولاد ہے پر اولاد تو ہے نا ،پھر اتنی سفاکیت کیوں ؟” اسکی لایعنی باتوں کا جواب اسکی ماں کے پاس نہیں تھا اور سب سے بڑھ کے انکے چاہنے نا چاہنے سے کیا ہوتا اگر بات اس کمرے کی حدود سے باہر جاتی تو یقیناً اسکی زندگی کا خاتمہ کردیا جاتا۔

“میری بیٹی اتنی ضدی تو نہیں تھی،وہ ماں کی بات مان جایا کرتی تھی۔” سیدہ بخت نے اسکے سر پہ بوسہ دیا تھا۔وہ جو کب سے ضبط کیے بیٹھی تھی ماں کےبوجود کی گرمی میسر آئی تو ٹوٹ کے بکھری تھی ۔

“اسے میرے وجود کا حصّہ رہنے دیں میں آپ سے آپکی گود کا واسطہ دے کے منت کرتی ہوں۔”

وہ نڈھال سی ہوتی التجا کررہی تھی ۔

“گود کا واسطہ دے کے کچھ حآصل نہیں ہوگا بیبی،تم جیسی اولاد ہو تو انسان بےاولاد ہی اچھا۔”وہ دونوں کمرے میں داخل ہوتے تیسرے وجود سے انجان تھیں۔

“اماں سائیں وہ۔۔۔” سیدہ بخت گگھیائی تھیں۔

“بس تم اور تمہاری بیٹی کے بہت ناز نخرے ہوگئے تھوڑی دیر میں ڈاکٹرنی آتی ہوگی لڑکی چپ چاپ جیسے کہے مان لینا نہیں تو اس گھر سے دو دو جنازے نکلیں گے یاد رکھنا تمہارے ساتھ تمہاری ماں کا بھی۔”

اسکی دادی نے آخری وار کیا تھا جو کامیاب بھی رہا تھا کچھ دیر میں وہ اسکے نام کی آخری زنجیر سے بھی آزاد ہوچکی تھی ۔کھوکھلے وجود سے وہ معتبر ٹہرائی جارہی تھی۔جنت جیسے عظیم مقام سے منہ موڑے وہ لوگوں کو جنت تک لےجانے والی پاک بیبی (نعوذباللّٰہ) ،جو صرف حقوق اللّٰہ اور حقوق العباد کیلئے اپنی باقی ماندہ زندگی گزارنے والی تھی جسے اپنے حقوق سے آگاہی نہیں تھی یا جان بوجھ کے آنکھیں بند کیے خود کو وقت کے حوالے کردیا تھا۔

سیدہ والی حویلی کا گوشہ گوشہ اس رات سکون سے سویا تھا کیونکہ ایک روایت کا بھرم رکھنے والی پاک بیبی اس حویلی کی زینت بن چکی تھی۔پہلے ہی قدم پہ اس نے خود کو حالات کے سپرد کرتے ان غلام گردشوں میں پلنے والی نسلوں کو مزید تقویت بخش دی تھی۔

اب تو شاید ہی کوئی ان رسموں کی اس زنجیر کو توڑنے والا پیدا ہوتا۔

✪✪✪✪✪

افق پلیز کب تک ایسے اگنور کروگی ,آئی آلریڈی اپلوجائز یو۔”یونیورسٹی سے نکلتے وہ وین کی طرف بڑھ رہی تھی جب باری نے اسکا راستہ روکا۔

“مجھے کوئی بات نہیں کرنی آپ سے پلیز لیومی آلون۔”

وہ مزید کچھ بولنے کی مہلت دیتی آگے بڑھنے لگی تھی جب باری نے بنا کسی کی پرواہ کرتے اسے بازو سے تھامے گاڑی کا رخ کیا۔

“باری یو گاٹ کریزی سب دیکھ رہے ہیں۔”

افق نے شرمندگی سے اپنے اردگرد لوگوں کو دیکھا جو رک رک کے انکا تماشہ دیکھ رہے تھے۔

“آئی ڈونٹ کئیر ایٹ آل۔”

فرنٹ ڈور کھولتے بنا اسکی مزاحمت کو کسی کھاتے میں لائے اسےگاڑی میں بٹھایا تھا۔

“تمہیں ایک بار کا کہا سمجھ نہیں آرہا کتنے دن سے میں بات کرنے کیلئے پاگل ہورہا ہوں اور تم ۔۔”

“بار۔۔۔”

“شٹ اپ ،جسٹ شٹ اپ حد ہوگئی ہے افق تم کیوں مجھے ایسے ریلائز کروا رہی ہو جیسے میں نے کوئی کبیرہ گناہ کیا ہے کیوں بھول رہی ہیں کہ آپ میرے نکاح میں ہیّں ہرحق رکھتا ہوں میں۔”

افق اسکی دھاڑنے پہ سہمتے دروازے سے لگ کے بیٹھی تھی۔

وہ تیزی سے گاڑی بھگائے وہاں سے نکل آیا تھا۔

“کس بات کا اتنا شور ڈال رہی ہو تم آخر۔”

باری کو اسکے آنسوں ڈسٹرب کرنے لگے تھے۔

پہلے کچھ غلط ہونے کا اعتراف اسے چین نہیں

لینے دے رہا تھا۔

“جو ہوا ہم دونوں نہیں چاہتے تھے افق پر کچھ تو مصلحت ہوگی اس میں بھی۔”باری نے گاڑی سائیڈ پہ روکے اسکے چہرے کو ہاتھوں میں لیتے کہا۔

افق نے رخ موڑ لیا ۔بیچارگی کی حدوں کو چھوتا باری

اپنے اندر ہوتی کشمکش سے بیزار تھا وہیں افق کا

رویہ اسے مزید تاؤ دلا رہا تھا۔

“میں یہ بےنام رشتہ ختم کرنا چاہتی ہوں باری۔”

افق نے اسکے سر پہ دھماکہ کیا تھا۔

ایک طرح سے افق نے خود ہی باری کی مشکل آسان کردی تھی پر کچھ چھن جانے کا وہم باری کو کھوکھلا کرنے لگا تھا۔کب یہ نفرت محبت میں بدلی اسے اندازہ نہیں تھا فلحال وہ بدلے کی آگ میں سلگتے اپنے دل میں جنم لیتی آتش عشق کی آنچ سے بےخبر تھا ۔

بدلہ اگر اسکے دماغ کی خواہش تھی تو دل بغاوت کی راہ اپناتے محبت پہ مائل ہونے لگا تھا افق شاہ اسکے دل کی چوائس بننے لگی تھی۔لیکن آگاہی کے در ابھی وا نہیں ہوئے تھے۔

دوسری طرف افق کا دل تیز تیز دھڑک رہا تھا اسے ڈر تھا کہیں باری اسکی بات مان نہ جائے باری کی خاموشی اسکے ترپ کا پتہ غلط جگہ پھینکنے کی نشاندہی کررہی تھی۔

“مجھے سوچنے کیلئے وقت دو افق یقیناً میں تمہاری ہر خواہش کا احترام کرونگا۔”باری نفرت کی اس داستان کو محظ چند لمحوں کی غفلت میں برباد نہیں کرسکتا تھا اس نے افق شاہ کو اس مقام تک لانے کیلئے بہت کچھ داؤ پہ لگا رکھا تھا ۔

گاڑی میں ایک نا ختم ہونے والی خاموشی چھائی تھی۔

“اگر تمہیں لگ رہا ہے کہ فرار ہی اس مسئلے کا حل ہے اور میں ایک ناقابل اعتبار شخص ہوں تو ساری زندگی ایک بوجھ تلے گزارنے سے اچھا ہے میں تمہاری بات مان لوں۔”

اسے نہیں اندازہ تھا کہ یہ خاموشی کتنی طویل تھی دن ،مہینوں یا سالوں پہ مشتمل مگر افق کو لگ رہا تھا وہ کڑی مسافت طے کرکے آیا تھا جتنا وہ بات کرتے ہانپ رہا تھا۔

“میری خواہش؟”

افق نے شاید پہلی دفع باری کے نقوش ازبر کرنے چاہے تھے۔

غیر یقینی کیفیت میں وہ رانی کی اس غلط چال کو سوچ رہی تھی اسے لگ رہا تھا وہ یہ سب باری سے کہے گی تو باری اس رشتے کو دنیا کے سامنے لانے کی بات کرے گا کیونکہ اس نے خود کہا تھا وہ افق پہ کسی کی پرچھائی برداشت نہیں کرسکتا بھلا اتنی آسانی سے اپنی محبت کو کسی اور کے حوالے کیسے کرے گا پر وہ مہلت مانگ رہا تھا ۔

تو کیا وہ رشتہ ختم کرنے کا سوچ رہا تھا پر کیوں؟

اس نے باری کی محبت کے سامنے دل نہیں ہارا تھا

پر وہ اپنا وجود ہار چکی تھی تو کیا اتنا آسان تھا

اپنی عزت کو یوں نیلام کرنے کے بعد راستہ بدل لینا؟

باری نے کہا تھا وہ سب ٹھیک کردے گا تو کیا وہ پاک دامن اور ان چھوئی افق شاہ بنا سکتا تھا اسے؟

لیکن وہ چاہتا تو اسے اپنا کے دنیا کے سامنے معتبر

تو کرسکتا تھا بات تو تھی کہ اگر وہ چاہتا تو۔۔۔۔

افق کا دماغ ان گنت سوچوں کی آمجگاہ بن چکا تھا وہ خود کو ایسی بندگلی میں محسوس کررہی تھی جہاں وہ واپسی کا راستہ بھول چکی تھی اور آگے کا راستہ باری نے انجانے میں بند کردیا تھا۔

وہ اسے ہاسٹل میں چھوڑنے آیا تھا ۔

“میری خواہش تھی کہ راوی کے کنارے چلتی افق ہمیشہ میری ہمقدم رہے لیکن انجانے میں ہوئی غلطی کا یہ خمیازہ تو مجھے بھگتنا ہی تھا۔”باری نے دروازہ ان لاک کرتے سامنے سٹرک پہ نظریں جمائے کہا تھا۔

“میں نے تو سنا تھا محبت بہت اعلٰی ظرف ہوتی ہے اپنے پیرو کاروں کو دوسرا موقع ضرور دیتی ہے لیکن سنا تھا لیکن جب خود پہ بیتی ہے تو یہ فلسفہ بھی غلط ہوگیا۔”

اسے خاموش دیکھتے وہ خود ہی بولے جارہا تھا۔

“میں جاؤں.؟”افق نے دروازے کی طرف ہاتھ بڑھاتے کہا۔

“میری دسترس میں افق شاہ کو لانے کا فیصلہ میرا تھا لیکن یہاں سے نکلنے کی آزادی تمہارے سر ہے بس ایک آخری ریکوسئٹ کرنی تھی ہوسکے تو ایک بار ان حسین لمحوں کو ضرور سوچنا جو ہم نے ساتھ میں گزارے تھے۔”

باری نے اس سے وداع لیتے کہا اب کے جزبات کا سہارا لیا ۔

اور پھر افق شاہ نے آنے والے دنوں میں ہر چیز کو بھلائے صرف باری اور اپنے بارے میں سوچا تھا اور اتنا سوچا تھا جتنا کہ شاید انکے رشتے کی گنجائش اور حق تھا۔

وہ لائر کے آفس میں داخل ہوا تھا۔

“ارے باری یار یہ تمہارے ڈائیورس پیپر ریڈی ہوچکے ہیں،

چٹ منگنی پٹ بیاہ تو سنا تھا پر یہاّں چٹ نکاح فٹ طلاق کا معمالہ کچھ افسوس ناک نہیں۔”

وکیل سے چونکہ اسکی اچھی بات چیت تھی اسیلئے اس نے طنزومزاح میں باری کی کلاس لی۔

“کسی کو آزمانے کو تھا اور وہ نالائق اسٹوڈنٹ اپنے پہلے میں امتحان میں فیل رہی ایسے میں عبدلباری بزدل لوگوں کے بارے میں نہیں سوچتا۔”

اس نے وکیل کی نسبت سنجیدگی سے جواب دیا تھا آج وہ اسے راوی کے کنارے بلا کے اس رشتے سے آزاد کرنے والا تھا۔

مقررہ وقت پہ پہنچتے باری کا دل کئی سو واٹ کی رفتار سے دھڑک رہا تھا اسے ابھی افق شاہ کو بہت سبق سکھانے تھے پر نجانے کیوں وہ خود ہی اپنا کھیل ہارنے لگا تھا۔سامنے ہی وہ کشمیری سیب پرپل اور پنک کنٹراسٹ کا ہلکا سا کامدار سوٹ پہنے اسکے قریب آرہی تھی ۔حسب معمول آج بھی سندھی کامدار شال اسکے کندھوں پہ تھی۔

باری کے دل نے ایک بیٹ مس کی تھی۔

“آتے ہوئے کوئی مشکل تو نہیں ہوئی آئی مین۔”

باری اسے ہمیشہ پک اینڈ ڈراپ دیتا تھا پر آج نہیں جب یہ کھیل اپنے اختتام کو بڑھ رہا تھا ایسے میں اسے مزید اپنی خدمات پیش کرنے کی ضرورت محسوس نہیں ہورہی تھی۔

“نہیں میں ٹھیک ہوں،آپ نے کیوں بلایا یہاں۔”

اجنبیت کی دیوار باری نے کھڑی کی تھی انا کی دیوار افق نے بنا لی۔

“کبھی نہ ملنے کی وجہ ختم کرنے۔”

باری نے بغور ڈوبتے سورج کو دیکھا ۔اسے محسوس

ہورہا تھا بچھڑنے کی اس ریت پہ سورج بھی اداس تھا۔

“اور میں اس وجہ کو ہمیشہ قائم رکھنا چاہوں تو۔”

افق نے ہوا کی وجہ سے اڑتے اپنے بالوں کو سمیٹا۔

“تب بھی یہ ادھورا ملن تکلیف دے گا کیونکہ تم آگے کے سفر سے ڈرتی ہو۔”باری نے اسکی آنکھوں میں جھانکتے کہا تھا۔

“مجھے لگ رہا تھا کہ یہ سفر آبلہ پائی کا سفر بن جائے گا اگر آپ نے مجھے ڈچ کیا تو۔”افق نے واضع الفاظ میں اپنا ڈر بیان کیا تھا۔

“آزماتی تو سہی۔”باری نے اعتماد سے کہتے گویا اس رشتے کے ختم ہونے کا الزام اسکے سر کیا۔

“آزمانے ہی تو آئی ہو۔” اب کے افق نے براہراست باری کی آنکھوں میں دیکھتے بات کی۔وہ گڑبڑایا تھا افق کے لبوں کو مبہم مسکراہٹ نے چھوا۔

باری نے آگے بڑھتے اسکے ہاتھ کو پکڑے لبوں سے لگایا۔

“آج تم نے میری محبت کو سرخرو کردیا افق،میں بہت جلد زندگی سے اپنے حصّے کی خوشیاں کشید کرنے جارہا ہوں۔”باری نے اپنے نئے پلاینز سے آگاہ کیا۔

افق سرشار سی ٹہری تھی اسے لگ رہا تھا باری

اس سے جان چھڑوا رہا ہے اپنے وجدان کی غلط آگاہی

پہ وہ شرمندہ سی ہوگئی بھلا اس نے باری کی

ایمانداری پہ شک کرلیا تھا۔

افق نے باری کے شانے پہ سر ٹکایا تو باری نے بھی اعلٰی ظرفی کا مظاہرہ کرتے اسکے گرد اپنے بازو کا حصار باندھے اسکے ماتھے پہ بوسہ دیا تھا افق نے شرم سے نگاہیں جھکائیں۔

“ایک اور بات افق تم ،تمہارے پاس میری امانت ہو اگر میرے سچے جزبوں کی پزیرائی نہیں کرسکتی تو میرا ہاتھ بھی مت جھٹکنا ۔”باری نے اس پہ حق بھری دھونس جمائی تھی۔

“ایسا کبھی نہیں ہوگا باری۔”اس نے پریقین ہوتے ہامی بھری۔

بازی الٹ گئی تھی باری تو ہار مان چکا تھا لیکن

افق ایک بار پھر اسے اس میدان میں سرخرو

کرنے چلی آئی تھی۔

سب کچھ روٹین پہ آنے لگا تھا۔

یونیورسٹی میں ایک بار پھر سے باری اور افق ایک ساتھ نظر آنے لگے تھے۔

“افق ” وہ گراؤنڈ میں بیٹھی انیتا اور ایلیاء کے ساتھ انیتا کی شادی کے فنکشن میں تیاری کو ڈسکس کررہی تھی جب عنیزے اسکے پاس آئی تھی۔

افق نے سر اٹھائے سوالیہ نظروں سےاسے دیکھا تھا۔

“کیا ہم کچھ دیر کیلئے بات کرسکتے ہیں۔”

عنیزے کا انداز کافی تیز تھا۔

“سوری میں بزی ہوں ۔”افق نے لاپروائی سے کہتے

دوبارہ سے انیتا اور ایلیاء کی جانب اپنی توجہ

مبذول کرلی تھی۔

“مجھے باری کے بارے میں کچھ بات کرنی ہے۔”

عنیزے کو اپنے لہجے کی تیزی کا احساس ہوا تو وہ ذرا نرم پڑتے بولی۔باری کے نام پہ اسکا دل سمٹا تھا۔

“کک کیا بات؟”افق کو مجبوراً اسکی طرف متوجہ ہونا پڑا تھا ۔

“یہاں نہیں مجھے پرسنلی کچھ بات کرنی ہے۔”

افق کا دل دھڑک رہا تھا کہیں باری نے اپنے گھر میں

اسے لے کے کوئی بات تو نہیں کی تھی۔

“آپکو جو بولنا ہے آپ میری دوستوں کے سامنے بول سکتیں۔”خوشفہمی کے دریا بہنے لگے تو افق نے ذرا گردن اونچی کرتے عنیزے کو نیچا دکھانا چاہا۔

“تم جانتی ہو نا باری میرا فیانسی ہے؟پھر اسطرح شغل

لپاڑے کیا معنی رکھتے ہیں تمہارا اپنا کوئی کردار بھی ہے کہ نہیں۔”عنیزے کا غصہ امڈ آیا تھا۔

افق کو چپ لگ گئی تھی ۔وہ اسے بتانا چاہتی تھی

کہ اسکا رشتہ باری سے زیادہ مضبوط ہے لیکن وہ بتا

نہیں سکتی تو صرف “جی تو” کہنے پہ اکتفا کرتے

عنیزے کی شکل دیکھنے لگی تھی۔

“بہت جلد ہماری شادی بھی ہوجائے گی اسیلئے

اپنی احمقوں کی جنت بسانی چھوڑ دو۔”

ہمیشہ نرم خو عنیزے کاٹدار انداز میں کہتی وہاں سے چلی گئی تھی۔افق کا دل ہر شے سے اچاٹ ہوا

۔

“افق اگر باری تمہارے ساتھ سنسئیر ہے اسے تمہارے

لیے سٹپ لینا چاہیئے یا کیا تمہارے ساتھ بھی

محبت کا ناٹک چلا رہا اور کتنی ڈھٹائی سے اسی

ڈیپارٹمنٹ میں اپنی فیانسی کے ساتھ بھی گھوم رہا ہوتا، دھرمیش میرے ساتھ ایسا کرتا میں اسکی جان نکال لیتی۔”انیتانے باری کی ڈپلومیسی کا غبار اسکے سامنے

نکالتے نظروں سے سامنے اشارہ بھی کیا تھا جہاں

وہ عنیزے کے ساتھ شیک شئیر کرتے باتیں کررہا تھا۔

“میں اتنی کنزرویٹوو نہیں ہوسکتی ،اسکی کزن بھی تو ہے عنیزے اس نے مجھے کبھی باؤنڈ نہیں کیا۔”

اور یہی تو اسکی وصف تھی جو افق آزادی چاہتی تھی باری نے اسے وہ سب دے رکھا تھا۔

افق نے لاپرواہی سے شانے اچکائے۔

اسکے نزدیک باری سے اسکا کوئی دل کا رشتہ نہیں

ایسے میں وہ جو کرے اسے فرق نہیں پڑتا۔

“کمال است۔”ایلیاء نے طنز سے کہا۔

“تم لوگوں ڈریسسز اوکے کررہے ہو یا میں جاؤں۔”

افق کو یہ سب فضول کی باتیں لگ رہی تھیں۔

“ہانجی آپکا شاہ جہاں آجو رہا ہے تو آپ تو بولیں گی۔”

انیتا نے افق کو چھیڑا کیونکہ باری اب انہی کی طرف آرہا تھا۔

“واقعی ہی شاہ جہاں ہے نا اور کچھ کرے نا کرے

افق تمہارے لیے محل نما مقبرہ تو ضرور بنا دے گا۔”

ایلیاء نے شوخی سے کہا تھا۔کبھی کبھی مذاق اور شغل میں کہہ باتیں بھی سچ ہوجایا کرتی ہیں۔

✪✪✪✪✪

“بیبی سائیں کون تھا وہ سائل۔”

اسکی خاص نوکرانی قدموں میں آبیٹھی تھی۔

“کہاں گیا وہ مائی میراں ؟”بےچین لب و لہجہ

ظاہر کررہا تھا کہ وہ کوئی خاص شخص تھا۔

“کہاں جانا اس شودے نے وہیں مرشد سائیں کی

چوکھٹ ہی جیسے اسکا اوڑھنا بچھونا ہے۔”

مائی میراں کے انداز سے اس اجنبی کیلئے

ہمدردی چھلک رہی تھی۔

“اسے یہاں سے کہیں بھیج دو مائی میراں ،

اس حویلی اس چوکھٹ سے دور وہ بچہ ہے

وہ نہیں جانتا اس دربار کا آسیب اسے سالم نگل جائے گا۔”پاک بیبی کی آنکھیں اشک بار تھیں۔

“بڑا ہی کوئی ڈھیٹ بندہ ہے بیبی جی کتنا کو

اس سے پوچھ لیا لیکن کچھ بولنے کو ہی تیار نہیں۔”

پائنتی سے لگی بیٹھی میراں بھی اس اجنبی کیلئے اتنا ہی پریشان تھی۔

“اسے واپس جانا ہوگا ،یہ اسکی دنیا نہیں ہے ۔”

وہ جزباتی ہورہی تھیں جبکہ مائی میرا انہیں بھی

افسوس سے دیکھتی وہاں سے ہٹ گئی۔

✪✪✪✪✪

‏کوئی ترسے یار دی جھلک لئی

کوئی کھڑ کھڑ ہسے یار دے سنگ

کوئی عشق دے وچ پنج وقتی اے

کوئی بلھے وانگوں وکھرے رنگ

کیتھے یار مناوان دا جچ کوئی نا

کیتھے عشق سکھاوے سارے رنگ

کیتھے عشق سولی چڑھا جاوے

کیتھے ہوئے سارے مست ملنگ….

فیضی نے انجان نمبر سے ریسیو ہونے والے مسیج کو بغور پڑھا۔تیوری پہ بل پڑے۔

“آہہم ! لگتا ہے مسسز فیضان کا کوئی پیار بھرا مسیج ہے۔”عنائیہ نے اسکے ہاتھ سے موبائل اچکتے کہا۔

“اسٹاپ اٹ عنائیہ پلیز تم لوگ یہ تماشہ بند کردو اور ان محترمہ کو بھی لمٹس میں رہنا سکھادو ورنہ بری طرح پیش آؤنگا میں۔”فیضان نے دیا کے شکوے بھرے مسیجز کا غصہ عنائیہ پہ نکالا ۔

“کیا چاچو یار لوگوں کے کزنز ہوتے ،چاچی نما کوئی چیز ہوتی اور ایک ہم ہیں ۔کتنا دل چاہتا میں بھی کسی کو چاچی بولوں۔” باری نے بھی عنائیہ کا ساتھ دیا۔

“جی پھر ہمارے جھگڑے ہوتے فیضی بھیا کہتے میں نے فیضی چاچو کی بیٹی سے شادی کرنی ہے اور میں کہتا نہیں مجھے ماموں کی بیٹی سے شادی کرنی۔”

بنٹی نے لاڈ سے کہتے فیضی کی گردن میں بازو لٹکائے۔

“سوری آپ لوگوں کے شوق کی خاطر میں سولی پہ نہیں چڑھ سکتا۔”

فیضان چاچو خوش اسلوبی سے دامن بچایا۔

“پر مما جانی نے تو تقریباً ڈن کردیا ہے دیا آنی سے رشتہ ۔”

عنیزے نے بھی محفل میں شمولیت اختیار کی۔

“پہاڑ جیسی زندگی اکیلے بسر نہیں ہوسکتی نا فیضی آپکو کچھ نا کچھ ڈیسائڈ کرنا پڑے گا کسی کمرظرف کی وجہ سے آپ اپنی خوشیوں کو گرہن لگا کے بیٹھ گئے ہیں۔”باری کا انداز بہت عجیب سا تھا ۔فیضان نے اسکی آنکھوں میں پنہاں درد دیکھے وہ سمجھ سکتا تھا کہ باری اسکی محبت میں ایک انجان لڑکی سے نفرت کرنے پہ مجبور ہے ۔

“کچھ گرہیں ابھی باقی ہیں باری وقت سے پہلے کسی کو کوئی سند نا دیا کرو۔”فیضی نے اسے صلاح دی تھی جسے ہمیشہ کی طرح اس نے پیٹھ پیچھے رکھ چھوڑا تھا۔

“آخر تمہیں اختلاف کیا ہے؟” الماس کو اسکی شادی کی چاہ ہورہی تھی اور ہر سال کے شروع میں انہیں یہ چاہت ہوتی تھی پر فیضان نے کبھی سنجیدگی سے نہیں لیا تھا۔

“وہ اپنی دنیا میں خوش ہیں تو آپ کیوں نہیں رہ سکتے۔” باری نے دبے دبے الفاظ میں غصہ کیا۔

“ابھی تم لوگوں کی عمر ہے یار مجھے تم لوگ رہنے دو۔”

ہمیشہ کی۔طرف انکے جوش وخروش کو پس پشت ڈالے وہ اٹھ گئے تھے۔

✪✪✪✪✪

رات کے ڈھائی بج رہے تھے جب افق کی بار بار آنے والی کال پہ وہ بیزار سا اٹھ بیٹھا۔اس سے پہلے کہ وہ کچی نیند سے جگائے جانے پہ اس پہ غصہ کرتا افق کی روتی ہوئی آواز میں بتائی جانے والی بات نے اسے ایک دم سنجیدہ کیا تھا۔

بیشک اسے افق سے کوئی ہمدردی نہیں تھی لیکن اس معمالے میں وہ اسے تنہا نہیں چھوڑ سکتا تھا۔وہ فیضی چاچو کے کمرے کی طرف بڑھا حسب معمول وہ کچھ لکھنے لکھانے میں مصروف تھے۔

“فیضی مجھے آپکی ہیلپ چاہئیے تھے۔”

اس نے چھوٹتے ہی ماتھا مسلتے اپنی پریشانی بیان کی۔

گرلز ہاسٹل میں کچھ لڑکیوں پہ ڈرگز ایڈکٹڈ اور سمگلنگ کی اطلاع پہ ہاسٹل میں ریٹ ہوئی تھی جس میں وارڈن کاہاتھ بھی نظر آیا تھا اور اس مد میں پولیس سب لڑکیوں کو تھانے لے جاچکی تھی ۔

افق کو اندیشہ تھا اگر بابا سائیں یا ادا سائیں میں سے کسی کو کچھ بتایا تو وہ اسے ہمیشہ کیلئے سندہ بلا لیں گے ۔اس ڈر سے اس نے باری سے رابطہ کیا تھا اور فیضی کے وکیل ہونے نے صیح ساتھ دیا تھا کچھ دیر بعد وہ تھانے سے باہر تھی ۔

“میٹ مائی بگ بی فیضی۔” باری نے فارمیلٹی کے طور پہ اسکا فیضان سے تعارف کروایا تھا جو کسی بت کی مانند افق کو دیکھ رہا تھا۔

افق حیرانی سے باری کو دیکھ رہی اس نے تو کبھی افق کو نہیں بتایا تھا کہ اسکا کوئی بڑا بھائی بھی ہے۔

“تھنکیو سر آپ نے مجھے اس مصیبت سے نجات دلائی بائے گاڈ مجھے اس چیز کا اندازہ ہی نہیں اور پولیس والوں کے الٹے سیدھے کیسچوئینز ۔۔۔”

افق کی آنکھوں سے آنسوؤں جاری ہوئے تھے۔فیضی اور باری کو اچھے سے اندازہ ہورہا تھا کہ بزدل لڑکی جلد ہی مشکلات سے گھبراجانے والوں میں سے ہے۔

“اٹس فائن بیٹا نونیڈ ٹووری ۔”

فیضی نے مسکراتے ہوئے اسکے سر پہ ہاتھ رکھا تھا ۔

“افق آپکو کہاں چھوڑیں آئی۔مین آپکی کسی دوست کی طرف ؟آئی تھنک ہاسٹل جانا مناسب نہیں رہے گا۔”

باری کا انداز انتہائی فارمل تھا افق کو ایک

نئی پریشانی نے آگھیرا تھا۔

“آپ مجھے کسی ہوٹل وغیرہ میں ڈراپ کردیں میں وہاں کچھ دن گزار لونگی جب کے ہاسٹل کا بندوبست نہیں ہوجاتا۔” اسکا محتاط انداز دیکھتے افق نے بھی درمیانی راہ نکالی۔

“نہیں یہ مناسب نہیں رہے گا باری آپ اپنی دوست کو ہمارے فلیٹ میں شفٹ کروا دیں بلکہ اگر انہیں مناسب لگے تو اس وقت یہ گھر چل لیں۔یوں اجنبی شہر میں اس آنے والی اچانک آفت کے ساتھ سروائیو مشکل ہوجائے گا۔” فیضان نے آسان حل پیش کیا تھا جس پہ کچھ ہچکچاہٹ کے بعد افق کو بھی مانتے بنی تھی ۔

اسے لگ رہا تھا باری کو شاید فیضان کا یہ فیصلہ پسند نہیں آیا لیکن وہ خاموشی اختیار کیے ہوئے تھا۔

رات کو اچانک افق کی آمد کئی سوال کھڑےکررہی تھی لیکن الماس ایک نرم دل خاتون تھیں اور دوسرے شہر سے آئی لڑکی کے مسائل کو سمجھتے اسے کھلے دل وہاّں رہنے کی آفر کی تھی۔ جب تک کسی اچھے ہاسٹل کا بندوبست نہیں ہوجاتا وہ بھی اسے وہاں رکھنے پہ باضد تھیں۔

بظاہر سب اچھا تھا لیکن باری کا رویہ افق کو کھٹک رہا تھا جو اس سے اجنبیت قائم کیے ہوئے تھا۔

عنائیہ بھی اس سے ملنے آئی تھیں انہیں بھی افق اچھی لگی تھی جبکہ باری اور اسکی دوستی خبر بھی عنیزے کی معاونت سے ان کے علم میں تھی۔افق کیلئے کسی دوسرے کے گھر میں رہنا ایک نیا تجربہ تھا وہیں اس نے سہولت سے گھر والوں سے سب کچھ چھپا لیا تھا۔

وہ بیٹھے بیٹھے اپنے اور باری کے گھر کے ماحول کا موازنہ کرنے لگتی جہاں کے رہنے والوں کے پاس افق جتنی عیش وآرام کی زندگی نہیں تھی لیکن جتنا تھا وہ اس پہ قناعت کیے مطمئن زندگی گزار رہے تھے۔

اس نے یونیورسٹی سے بھی کنارہ کیا ہوا تھا جبکہ باری اور عنیزے باقاعدگی سے یونیورسٹی جارہے تھے۔اگرچہ یوں کسی پہ برڈن بننا اسے پسند تو نہیں تھا لیکن اسکی رہائش کا کوئی بندوبست نہیں ہوپارہا تھا۔

“افق”وہ اپنی زندگی کے نشیب وفراز کی گتھی سلجھانے میں لگی تھی اپنے قریب سے آتی باری کی آواز پہ اچھلی۔

“آگئی یاد کہ افق نامی کوبلا بھی ہے اس دنیا میں۔”

اس نے خفگی سے کہتے رخ موڑ لیا۔وہ جب سے یہاں آئی تھی باری نے بات کرنا درکنار اسے دیکھنا بھی گوارہ نہیں کیا تھا۔

“اوہ تو پھر مانتی ہو ۔”باری نے شریر انداز میں کہتے اسکے گرد بازو کا حلقہ بنایا۔وہ اسکی حرکت پہ تھوڑا کسمسائی۔

“کیا؟”افق نے دانت پیستے پوچھا تھا ۔

“یہی کہ افق شاہ ایک بلا ہے جو باری سے چمٹ گئی ہے۔”

باری نے اسکے کانوں کی لو کے قریب ہوتے سرگوشی کی۔

اسکی اتنی قربت افق کی جان نکالنے لگی تھی۔

“بب باری پلیز کک کوئی آجائے گا ؟”

افق نے اسے احساس دلانا چاہا تھا کہ وہ

اسوقت کہاں موجود ہیں۔

“ڈونٹ وری یہاں سب نو بجے ہی سوجاتے ہیں۔”

افق کی پشت باری کے سینے سے لگی تھی اسکے باوجود بھی وہ اسکی دھڑکنوں کا ارتعاش محسوس کرسکتا تھا۔

“آپ تو مجھے جانتے نہیں پھر یہاں آنے کا مقصد۔”

افق نے اپنا آپ آزاد کروانے کی جدوجہد کی۔

“مجھے تمہاری عزت بہت عزیز ہے افق میں نہیں چاہتا کہ میری وجہ سے تمہاری عزت پہ کوئی لفظ بھی بولے۔”

آنچ دیتا لہجہ افق کی ساری ناراضگی پل میں ہوا ہونے لگی تھی۔

“میرا دل چاہتا ہے تمہیں ہمیشہ کیلئےیہی رکھ لوں۔”

باری نے اسکے کشمیری سیب جیسے رخساروں پہ چٹکی کاٹی تو وہ بلش ہوتی گردن جھکا گئی۔

کمرے میں خاموشی کا راج تھا ۔باری چپ ہوا تو خاموشی بولنے لگی تھی۔

باری کی سانسوں کا زیروبم وہ اپنی گردن پہ محسوس کررہی تھی۔

“ابھی بھی ناراض ہو۔۔”معنی خیز انداز میں کہتے وہ اسکی طرف جھکا تھا ۔افق نے جلدی جلدی نفی میں سر ہلایا تھا مبادہ وہ اسے منانے کیلئے کوئی اور گستاخی نہ کرے۔

“آپ جائیں مجھے ڈر لگ رہا ہے اگر کسی نے آپکو یوں میرے پاس دیکھ لیا تو کیا کہیں گے۔”وہ اپنی دھڑکنوں کو سنبھالتے اسے حقیقت سے روشناس کرانے لگی۔

“ہمم یہ مسئلہ تو ہے۔”

باری نے دھیرے سے اسکا رخ اپنی طرف کیا۔

افق نے سکھ کی سانس لی کہ اسکی پریشانی

سمجھ تو آئی باری کو۔

“مجھے کیوں لگ رہا تم مجھے یہاں سے بھگانے کے چکر میں ہوں جبکہ تم خود مجھے ہرحق کے استعمال میں آزاد کرچکی ہو۔”باری شرارتی انداز میں بولا ۔

افق کو لگ رہا تھا ابھی وہ یہی گر جائے گی۔

“لیکن”اس نے کچھ بولنے کو لب کھولے تھے جب باری کو دیوانگی سے اپنی جانب تکتا پاکر وہ نظریں جھکا گئی تھی۔

“مجھے زندگی جینے سے مت روکا کرو افق۔”اس نے افق پہ حاوی ہوتے کہا ۔وہ خود کو اسکی من مرضی کے حوالے کیے خاموش ہوگئی۔ویسے بھی وہ اسکے گھر میں مقیم تھی اور باری بنا روک ٹوک پورے گھر میں گھوم سکتا تھا تو وہ اسے کب تک اپنے پاس آنے سے روک سکتی تھی۔

وہیں باری خود کو ناچاہتے ہوئے بھی اسکے وجود کا عادی بنارہا تھا اس نے افق سے فرار کی راہیں خود مسدود کردی تھیں وہ دونوں اس بات سے انجان کے آنے والا وقت انکیلئے کتنی مشکلات لانے والا ہے ہر حد سے تجاوز کیے صرف ایک دوسرے کے ہوکے رہ گئے تھے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *