Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tar e Ankaboot (Episode 04)

Tar e Ankaboot by Uzma Mujahid

سسکیوں کی آواز اسے بے بس کرنے لگی تھی۔

وہ آگے بڑھتے اس کا چہرہ دیکھنا چاہتا تھا جو سفید لباس میں ملبوس گھٹنوں میں سردیے رو رہی تھی۔

سرخ آندھی کا طوفان اٹھا تھا جو باری کی آنکھوں میں مرچیں بھرنے لگا تھا۔

صحرا کی اٹھتی ریت اسے پاؤں پاؤں زمین میں دھسا رہی تھی۔

“کون ہو تم کوئی شیطان،کوئی بری طاقت کیوں مجھے اس تک نہیں جانے دیتے وہ رو رہی ہے مجھے تکلیف ہورہی ہے پلیز مجھے جانا ہے۔”

اس نے آگے بڑھنے کی کوشش کی تھی مگر ناکام ٹہرا تھا۔

ریت کا ایک طوفانی چکر اسکے گرد منڈلانے لگا تھا۔

تبھی اس لڑکی کی سسکیوں کی آواز قہقوں میں بدلی تھی۔وہ باری کی طرف بڑھ رہی تھی۔

وہ آنکھیں صاف کرتے اسے دیکھنا چاہتا تھا جو آج پہلی بار خود اسکی طرف بڑھ رہی تھی ۔

ریت تھی کہ آنکھوں میں دھنس رہی تھی۔

ایک دھندلا عکس تھا۔سروقدوقامت والی وہ لڑکی باری کے بہت قریب آچکی تھی مگر وہ اسے دیکھ نہیں پا رہا تھا۔

“پانی پلیز میری آنکھیں جل رہی ہیں ۔”باری نے گھٹی گھٹی آواز میں اس دھندلے عکس سے التجا کی تھی۔

“مکافات عمل۔”ایک سرگوشی ہوئی تھی اور ہر طرف خاموشی چھاگئی تھی۔

“حیٰ الفلاح۔”

(چلے آؤ فلاح کی طرف)

آذان کی پھر صدا گونجی تھی۔وہ کتنی دیر بے سدہ پڑا چھت کو گھورتا رہا ۔آنکھوں سے نکلتا پانی اسے یاد دلا رہا تھا کہ کچھ دیر پہلے اسکی آنکھوں میں زہریلی ریت تھی۔

آذان کے صدا جاری تھی مگر اس نے کروٹ بدلتے آنکھیں بند کرلیں اور کچھ دیر کا الوژن ،اسکا ریکشن سب دماغ سے محو ہورہا تھا۔اسے لگ رہا تھا کوئی اسے گہری نیند سلانے میں لگا ہے ۔ایک ٹھنڈی مہک اور پرسکون نیند کا خمار اسے اپنے حصار میں لیتے سلا چکا تھا۔

✪✪✪✪✪

“فلسفاتی زندگی دو چیزوں پہ رک گئی ہے انصاف جہاں دوسروں کے ساتھ نیکی کا مدار ہے، جو شخص قدرت کے قانون کو سمجھ لیتا ہے وہ انصاف کا بول بالا کرتا ہے،

غیر منصف شخص قدرت کے قانون کو توڑنے والا کبھی لوگوں سے اچھائی نہیں کرسکتا۔۔

اپنے آپ کو جان کر ،اپنے آپ کو جان لینا سب سے بڑی عقلمندی ہے، ہم کون ہیں ؟کیوں ہیں اور کس مقصد کیلئے ہیں ہم زندگی کے اس فلسفے کو سمجھ لیں تو شاید بہت سی انہونیوں سے بچ جائیں ایک دوسرے کو تکلیف دینے سے بھی۔”

پروفیسر عظیم کی کلاس ہمیشہ خود سے آگاہی کا درس دینے والی ہوتی تھی اسوقت بھی تمام کلاس انکی سحر بیانی اس کائنات کی تخلیق کی وجہ اور نظریہ انسانیت کو بڑے شوق سے سن رہی تھی۔

“اس دنیا میں انسان کیلئے سب سے زیادہ تکلیف دہ چیز کیا ہے؟اسکی فطرت؟دوسروں سے اچھی امیدیں وابسطہ کرنے کا نظریہ۔” پروفیسر عظیم کی کلاس میں آج پھر ایک نئی بحث شروع ہونے لگی تھی۔

“دولت” مبشر کا جواب تھا جس سے دوستوں کا متفق ہونا بننا تھا۔

“دولت؟بھلا کیسے یہ تو آپکے سکون اور راحت کا سامان کرتی ہے۔”پروفیسر عظیم نے گویا اپنی مرضی کی بات اگلوالی تھی جو انہیں اگلے ایک گھنٹہ دلائل پیش کرنے کوکافی تھی ۔

“جس کے پاس نہیں ہو تو اس پہ “حاصل”کی دھن سوار رہتی جہاں وہ غلط صیح کی تمیز سے مبرا ہوتے صرف اسے حاصل کرنا چاہتا ہےجبکہ جسکے پاس ہو اسکا چور ڈاکوؤں سے بچانے کی فکر میں سکون حرام ہوجاتاہے۔”

اپنی طرف سے دانش نے بھی فلسفۂ پیش کیا تھا۔

“تو بینک میں رکھوا لے اور سکون سے سوجائے۔”

بیک بینچرز کی طرف سے شرارتی جواب آیا تھا۔

“ایف۔بی۔آر والوں کو کون جواب دے گا لالے۔”

پھر سے کلاس میں دبی دبی ہنسی کی آواز ہوئی۔

“رشتے”یہ آواز درمیانی بینچ سے آئی تھی ۔سب کی گردنیں اس آواز کو دیکھنے کیلئے مڑی تھیں۔پہلی بار اسکا کسی کلاس میں انٹرسٹ سب کیلئے چونکا دینے والا تھا۔

“رشتے جو ہمیشہ آپکیلئے آزمائش بنتے ہیں،آپکو ایموشنلی ٹارچر کا باعث بنتے۔”ایسا کہتے باری کی آنکھوں میں ایک شبہیہ لہرائی تھی اور درد کی ایک لہر پورے جسم میں سرائیت کرگئی تھی۔

“کوئی ایسا رشتہ جو آپکیلئے آزمائش کا سبب بنا ہو؟” پروفیسر کی طرف سے سوال آیا تھا۔

“میرے چاچو جنہوں نے ایک ایسی عورت سے رشتہ بنایا جسے رشتے نبھانے ہی نہیں آتے تھے وہ چلی گئیں اپنی دنیا بسانے اور انہوں نے کچھ جھوٹے وعدوں کی لاج میں عمر گنوا دی ایک جھوٹے رشتے کا بھرم رکھنے کیلئے۔”

باری کے چہرے سے چھلکتا خون اسکے اندر کے وبال کو ظاہر کررہا تھا ۔

“اس میں آپکیلئے آزمائش کہاں ہوئی؟”باری بات کرے اور افق اس پہ نقطہ اعتراض نہ رکھے ایسا کہاں ممکن تھا۔

“آپ شاید اپنوں کی تکلیف کو اپنے لیے آزمائش نہیں سمجھتی ہوں مگر میرے لیے انہیں اس حال میں دیکھنا بہت تکلیف دہ ہے۔” باری کی سنجیدگی کو دیکھتے اس نے بھی خاموشی اختیار کرلی۔

“سر یہ عورت ہی ہمیشہ بےوفائی کیوں کرتی ہے۔”

مبشر کو اپنے دوست کا ساتھ دینا تھا۔

“بے وفائی عورت یا مرد کی ذات سے منسلک نہیں یہ تو عادت ہوتی شاید۔”دی گریٹ ایلیاء نے اپنا نظریہ پیش کیا تو افق کے کڑے تیوروں کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

“عادت؟ عادت کیا ہے مس ایلیاء؟ ہمیشہ ٹھوس وجوہات پہ بات کرنے والے پروفیسر عظیم کے سامنے چول مارنے پہ ایلیاء شرمندہ سی بیٹھی تھی۔

“اگر ایک شخص انصاف سے فیصلے نہیں کرتا تو کیا یہ محظ اسکی عادت ہے یا کچھ اور؟اگر ایک انسان اپنی ذات سے آشنائی کی جستجو نہیں رکھتا تو اس عادت کو کیا کہیں گے؟وفا کرنا عادت ہے بے وفائی کرنا عادت ہے اس عادت کو ماپنے کا کیا پیمانہ ہے اور کیسے کہہ سکتے ہیں ہم کہ کسی نے محظ عادت سے مجبور ہوتے کسی سے قطع تعلق کرلیا؟کیا مسٹ باری کے انکل کی ایکس پہلے بھی لوگوں سے بے وفائی کرتی رہیں؟”

کسی جج کی طرح جرح کرتے پروفیسر عظیم کے سوالوں کا جواب ایلیاء کے پاس کہاں تھا۔دل میں باری کو سو صلواتیں سنائیں جسکی ضد میں اس نے جواب دیا اور جسکی دوست بن کے جواب دیا وہ اسے گھور کے ہی مارے جارہی تھی ۔

“سر کوئی مجبوری بھی تو ہو سکتی ہے ؟ہمیں کس نے حق دیا بنا کسی کو جانے اسکو سمجھے بغیر بےوفائی کا الزام عائد کرنے والے۔”افق نے ایلیاء کا ساتھ دینے کو جو منہ میں آیا بولا تھا ۔

“ایک عورت ہی دوسری عورت کا دفاع نہیں کرےگی تو کون کرے گا۔”باری نے تمسخر اڑاتی آواز میں افق کی بات ہوا میں اڑائی۔

پروفیسر عظیم نے مسکراتے ہوئے ان دونوں کو دیکھا جو اصل ٹاپک سے ہٹتے ذاتیات کی طرف بڑھ رہے تھے اور باری اور افق کے ذاتی عناد سے کون واقف نہیں تھا۔

“عورت بھی تار عنکبوت کا حصہ ہوسکتی ہے مسٹر باری۔”

افق نے اسی کی زبان میں جواب دینا مناسب سمجھا۔

“عورت کی بے وفائی کی داستان ہی عنکبوت سے شروع ہوتی ہے افق شاہ ۔”

اسوقت وہ دونوں شاید بھول چکے تھے وہ اس کلاس میں تھے۔

“عمل سے زندگی بنتی ہے جنت بھی جہنم بھی

یہ خاکی اپنی فطرت میں نا نوری ہے نا ناری ہے۔۔”

مبشر کے لقمے نے ان دونوں کے بحث کے تسلسل کو توڑا تھا۔

“مکڑی بھی عورت ہی ہوتی ہے۔”باری نے سب سےآنکھ بچاتے افق کو مبہم اشارہ کیا وہ تلملا کے رہ گئی۔۔

“ٹوڈیز لیکچر از اوور ول بی کنٹنئو ان نیکسٹ پورشن۔”

پروفیسر عظیم کی گھڑی نے ٹائم اوور کا الارم بجاتے کلاس میں ہونے والی مزید گرما گرمی کو بریک دیا تھا ۔

“یار کیا ہے یہ بندہ جسکی زندگی ایک مکڑی کے گرد گھوم رہی ہے۔”افق نے باہر نکلتے باری کی بھڑاس نکالی۔

“انتہائی فضول آدمی ہے عورتوں سے بات کرنے کی تمیز تک نہیں اسے۔”ایلیاء جو باری کے مداحوں میں نمبر ون پہ پائی جاتی تھی آج وہ بھی اس سے بدظن ہوئی تھی۔

“عورت؟کون ہے عورت یہاں۔”انیتا کو ایک دم یاد آیا کہ پوری کلاس میں معصوم لڑکیوں کو عورت کہہ کہ کے مخاطب کیا گیا تھا۔

“اوہ پلیز یار ڈونٹ بی اوور پوزیسو ناؤ جب انٹر کے لیے کالج میں انٹر ہوئے تھے صاف صاف الفاظ میں لکھا گیا ڈگری کالج برائے خواتین پڑھتے مجھے اندازہ ہوگیا تھا کہ اب ہم خواتین کی کیٹگری میں آچکے ہیں ۔”ایلیاء ابھی تک غم میں ڈوبی تھی جب انیتا کو ٹھیک ٹھاک سنا ڈالی تھی۔

“میں اس آدمی کی شکل نہیں دیکھنا چاہتی۔”

افق نے پھنکارتے ہوئے باری کا ذکر کیا۔

“میں بھی ۔”ایلیاء نے ناک بھوں چڑھائے کہا۔

“ہنمم شاید میں بھی۔”انیتا نے ان دونوں کی شکل پہ بکھری بیچارگی دیکھتے اپنا حصہ شامل کیا تھا۔

ان تینوں نے سنجیدگی سے ایک دوسرے کی شکل دیکھی اور پھر بے ساختہ پڑنے والا انکا قہقہ نیم کے درخت پہ بیٹھے پرندوں کو بھی وہاں سے اڑنے پہ مجبور کرگیا۔

سینٹرل عمارت کی اونچائی پہ بیٹھی فاختہ نے ایک اداس نگاہ ان ہنستی مسکراتی لڑکیوں پہ ڈالی کیونکہ آنے والا وقت انکی زندگی کو بدلنے والا تھا۔

✪✪✪✪✪

برگد کے پیڑ کے نیچے بیٹھا وہ شخص اپنے اردگرد سے بلکل بیگانہ تھا۔اسے نجانے کسکی کی تلاش آج اس مقام تک لائی تھی جہاں سے سال ہاسال اسکا گزر نہیں ہوتا تھا۔

برگد کے پیڑ کے نیچے سرخ اینٹوں کا فرش اسکی طرح اکھاڑ پچھاڑ میں لاحق تھا ۔

وہ یکسوئی سے اپنے اردگرد کا جائزہ لے رہا تھا جب اسکے کندھے پہ ایک لزرتا ہوا ہاتھ آن ٹکا تھا۔

“کون ہو تم بیٹا؟یوں تپتی دوپہر میں کیا چیز یہاں رکنے پہ مجبور کررہی ہے تمہیں۔” اس نے آنے والے کے چہرے کو دیکھا جہاں اسکے ہونٹوں پہ نرم سی مسکراہٹ کا شائبہ تھا۔

“سکون کی تلاش۔”

وہ کہنا نہیں چاہتا تھا پر شاید ان بزرگ کو پریشان حال۔لوگوں کا غم اگلوانا آتا تھا۔

“باہر کے سکون سے زیادہ اپنے اندر کے سکون کوتلاش کرو ، دوست ،پیسہ ،امارت اور طاقت تمہارے وجود کا سکون ہوسکتے ہیں پر روح کا نہیں، شاید وجود کا بھی نہیں کیونکہ ذہنی تھکاوٹ وجود کو بھی گھائل رکھتی ہے بیٹا۔” سفید داڑھی والے بزرگ نے اسکے سر پہ ہاتھ رکھتے اس شخص کی مضطرب طبیعت کو بھانپ لیا تھا۔

وہ جو اشک بار تھا اور دل کی بے چینی ،اندر کی کھلن اسے کسی پل سکون نہیں لینے دے رہی تھی خود کو ایک سایہ دار درخت کے تلے محسوس کرنے لگا تھا۔

“سکون کہاں ملے گا؟لحد میں۔”

وہ جانتا تھا کہ وہ کس مرض میں مبتلا ہے تبھی پہلی بار اس مرض کا علاج چاہا تھا۔

“اپنے اندر سکون تلاش کرو ،یوں در بدر بھٹکنے سے آس امید کے پیالے کسی اور کے چوکھٹ پہ لے جانے سے سکون نہیں ملے گا۔” بزرگ نے سختی سے اسکے سر کے بالوں کو اپنے شکنجے میں کچھ لمحے جکڑتے چھوڑ دیا۔

اسکے سر پسینے سے تر تھا۔اسے سکون کی تلاش تھی مگر جواب تو اب بھی کوئی نہ ملا تھا۔

بزرگ نے “حق اللّٰہ،سچ اللّٰہ” کی سدا بلند کرتے مسجد کی چوکھٹ پار کرلی۔وہ انہیں روکنا چاہتا تھا اپنا دل کسی کے سامنے کھولنا چاہتا تھا مگر آج بھی کوئی اسکو سننے والا نہ تھا۔

وہ انہیں بتانا چاہتا تھا کہ وہ جس کرب میں مبتلا ہے وہ اسکا تاریک ماضی ہے ،وہ محبت کی بددعا میں بے سکونی کا شکار ہوا ہے پر آج بھی کسی نے اسکی نہیں سنی تھی اپنے اندر سکون تلاش کرو کہنے والے بہت تھے پر کیسے ؟خود سے خود تک کا سفر انتہائی کٹھن تھا کچھ اعتراف تھے جنہیں کرتے ہوئے وہ شرمندہ تھا۔

✪✪✪✪✪

آج زرمینہ کی شادی تھی مگر دل مضطر کو کسی پل چین نہیں تھا۔

صیح اور غلط ،بنا کوشش اپنی محبت ہار دینے کا دکھ اسے بے کل کررہا تھا تبھی ایک فیصلہ لیے وہ زرمینہ کے گاؤں طرف بڑھ گیا تھا۔تین گھنٹوں کی مسافت کے بعد وہ اسکی محل نما حویلی کے سامنے ٹہرا تھا ۔جسکا شاید ہی کوئی پتا ایسا رہ گیا تھا جو نہ سجایا گیا ہو۔

ایک پیشمانی نے اسے گھیرا تھا کہیں اسکا فیصلہ زرمینہ کے ماں باپ کی جگ ہنسائی کا سبب نہ بن جائے ۔

پر یوں منزل پہ پہنچ کے واپس مڑ جانا بھی اسے گوارہ نہیں تھا تبھی اس نے آگے کی طرف قدم بڑھائے۔

“کون ہو تم بیٹا۔”ایک پرشفیق آواز نے اسکے قدم روکے تھے ۔

“جی میں وہ سید صاحب نے بولایا تھا کیٹرنگ کیلئے۔”

اسے بروقت جو بہانا سوجھا تھا اس میں کتنا وزن تھا وہ خود بھی نہیں جانتا تھا۔

“اچھا بیٹا مہمان خانہ اسطرف ہے۔”انہوں نے حویلی سے منسلک ایک گیسٹ ہاؤس کی طرف اشارہ کیا۔

اس نے سر کو خفیف سی جنبش دیتے گیسٹ ہاؤس کی جانب قدم بڑھائے تھے۔

“رکو بیٹا “اسکے بڑھتے قدموں ساتھ دل پہ تھم گیا تھا۔

“یہ کچھ سامان ہے اگر حویلی کے اندر پہنچا کے پھر اپنے کام سے چلے جاؤ تو تمہاری مہربانی ہوگی مجھے ابھی آگے ایک کام سے جانا ہے۔” ادھیڑ عمر کے اس شخص نے ہاتھ میں پکڑا بیگ اسکے حوالے کیا تھا جسے اس نے دھڑکتے دل سے لیا تھا۔

“یہ بڑی بیبی تک پہنچانا ہے کسی بھی ملازم کو دے دینا۔” وہ اپنا پیغام دیتے آگے بڑھ گئے اسے لگ رہا تھا شاید اللّٰہ نے اس شخص کو اسکی مدد کرنے کیلئے بھیجا تھا۔

دماغ میں اٹھتے کئی اندیشوں کو پس پشت ڈالے وہ حویلی کے کھلے گیٹ سے اندر داخل ہوا تھا۔

اپنے کمرے سے باہر کا جائزہ لیتی زرمینے نے حویلی کا گیٹ کراس کرتے شخص کو بغور دیکھا تھا۔

وہ یقین نہیں کرنا چاہتی تھی کہ جو وہ دیکھ رہی وہ سچ تھا ۔پر جو سچ تھا کسی اژدھے کی طرح اسے نگلنے کو تیار ٹہرا تھا۔بنا انجام کی پرواہ کیے وہ بالکونی سے ہوتے باہر کے دروازے کی طرف بڑھی۔

ان غلام گردشوں میں وہ شخص اسے رہائی کا سندیسہ لگ رہا تھا۔

✪✪✪✪✪

“افق “باری کی آواز پہ وہ چونکتے ہوئے پلٹی۔

“اگر آپ لوگ مائنڈ نہ کریں تو میں کچھ دیر اکیلے میں افق سے بات کرنا چاہتا ہوں۔”باری نے انیتا اور ایلیاء سے معذرت کرتے کہا جو بنا کچھ کہے وہاں سی چلی گئی تھیں۔

“مجھے آپ سے کسی معمالے پہ کوئی بات نہیں کرنی مسٹر باری پھر یہ بار بار کا ناٹک کیوں کل کیا کم تماشہ لگوایا آپ نے۔”افق نے آڈیٹوریم کی طرف بڑھتے باری کو مکمل اگنور کرتے کہا۔

“سوری۔” باری کے جواب نے افق کو بری طرح چونکایا تھا۔

“سوری میرے ہر اس عمل کیلئے جس سے تم ہرٹ ہوئیں۔”

باری کا بدلہ انداز افق کیلئے حیران کن تھا۔

“میں چاہتا ہوں ہم اچھے دوست بن جائیں ،آج نہیں تو کل یہاں سے جانا ہی ہے تو کیوں نا کچھ اچھی یادیں سمیٹ لی جائیں۔” وہ کہیں سے بھی نٹ کھٹ عبدلباری نہیں لگ رہا تھا۔

“آپ بھول رہے ہیں میں سندہ کے وڈیروں میں سے ہوں۔”افق نے اسے ناپسند کیے جانے کی وجہ جتانا لازمی سمجھا تھا۔

“سندہ ،پنجاب کچھ نہیں ہوتا یہ سب تو عارضی پہچان کی باتیں ہیں سب سے زیادہ اہم ہوتا انسان کا خوبصورت دل اور وہ میں جانتا ہوں افق شاہ کا دل بہت خوبصورت ہے۔”

باری کا لفظ لفظ سچ میں ڈوبا تھا۔افق اسکے خوبصورت گھمبیر لہجے میں کھونے لگی تھی۔

نفرتوں کے بادل چھٹنے لگے تھے پنجاب یونیورسٹی کی فضا میں محبت کے گیت بجنے لگے تھے۔

اور دیکھنے والوں نے حیرت زدہ ہوتے اس معجزے کو برپا ہوتے دیکھا جہاں عبدلباری افق شاہ کا سایہ بن کے گھومتا تھا۔

پنجاب یونیورسٹی کی فضائیں اس میں پنپتی محبت کی خوشبو سے منہ چھپائے پھرتی تھیں۔

“کبھی سوچا نہیں تھا میں یوں اسکے روبرو ہوتے اپنے آپ کھونے لگوں گی۔”افق کی آواز سے چھلکتا سرور انیتا کو چونکا گیا تھا۔

“کیا تم جانتی ہو عنیزے اور باری انگیجڈ ہیں اور یہاں سے فارغ ہوتے ہی انکی شادی ہوجائے گی ۔”انیتا نے انکشاف کیا تھا مگر افق نے کوئی رسپونس دینے کے بجائے کیاری میں لگے گلاب کے پودے پہ لگے کانٹوں سے کھیلنا شروع کردیا۔

“یہ پاگل پن نہیں تو اور کیا ہے افق کانٹوں سے کھیلنا کوئی مذاق تھوڑی ہے۔”انیتا نے اسکا ہاتھ کھینچا تھا اور بے دھیانی میں کانٹا افق کے ہاتھوں میں چبھا۔

مخروطی انگلیوں کے پورز خون میں بھیگنے لگے تھے۔

“کیا کررہی ہو احمق لڑکی۔”انیتا اسکی حرکت پہ حددرجہ ژچ ہوتی گھرکنے لگی۔ٹشو نکالے درمیانی دو انگلیوں کو دباتے خون روکنا چاہا۔

“میں جانتی ہوں شاید باری کا پیار میرے لیے ان کانٹوں سے بھی زیادہ خطرناک ثابت ہو مگر نجانے کیوں میں اس کے ساتھ خود کو محفوظ سمجھتی ہوں۔”افق کی کھوئی آواز پہ انیتا کا دل چاہا کوئی پتھر اٹھائے اسکے سر میں مارے۔

“افق میں یہاں آپکا باری نام سننے کو نہیں بیٹھی اچھا تھا کہ میں ایلیاء کی طرح چھٹی کرکے سکون سے سوتی۔”انیتا کا صبر جواب دے رہا تھا ۔

“ہیلو بیوٹی فل لیڈیز۔”باری کی آواز پہ وہ دونوں چونکی تھیں۔افق کے چہرے پہ کھلتے گلاب رنگ دیکھ انیتا مبہوت سی ہونے لگی تھی۔افق بھلا کیسے اتنی جلدی باری پہ ٹرسٹ کرسکتی اور اسکے انداز چیخ چیخ کے اسے اس نگر کا باسی ہونے کی خبر دے رہے تھے جہاں کے مسافر اکثر نامراد ہی لوٹتے ہیں۔

“افق میں ابھی آئی۔”

انیتا انہیں اکیلے بات کرنے کا موقع فراہم کرتی وہاں سے ہٹ گئی تھی۔اور اگر وہ نہ ہٹتی تو باری ہی جانے کو کہہ دیتا کیونکہ اپنی موجودگی میں وہ ایلیاء اور انیتا کو اسکے قریب نہیں پھٹکنے دیتا تھا۔

“اچھا ہے وہ رقیب ہٹ گئی بہت جیلس فیل کررہا تھا میں۔”باری نے اسکے برابر جگہ بنائی وہ جو نامحسوس انداز میں پیچھے ہٹنے لگی تھی باری کی حرکت پہ ساکن ہوئی۔

“اس گریز کی گنجائش تو نہیں ہے ہمارے رشتے میں افق۔”باری کا مدہوش کردینے والا لہجہ افق کو پلکیں جھکانے پہ مجبور کر گیاتھا۔

“باری میں۔۔۔”

“شش آج کچھ نہیں میں بولوں گا اور تم سنوں گی ،پلیز افق اتنا سمجھ لو میری زندگی کی ڈور تمہارے اس ایک فیصلے سے جڑی ہے۔”باری کا مبہم انداز افق کو پریشان کرنے لگا تھا۔

“ایسی باتیں کیوں کررہے ہیں آپ۔”

احساسات بدلے تو محبوب کو اونچے سنگھاسن پہ بیٹھا ڈالا۔

“صرف ایک بات افق اسکے بعد یا تو باری ہوگا یا نہیں۔”

باری کی آنکھوں میں دیپ جلے تھے جسکی روشنی افق کی آنکھوں چندھیانے لگی تھی۔وہ بنا کچھ بولے اسے سن رہی تھی۔

“ول یو میری می افق شاہ،ول یو بی مائن فار ایور۔”

باری نے اسکے مرمریں ہاتھوں کو اپنے ہاتھوں کی مضبوط گرفت میں جکڑتے اسے ایک نئے امتحان میں ڈالا۔

“باری”افق کی آواز کسی گہرے کنوے سے آتی محسوس ہوئی تھی۔

“نو افق یو ہیون اینی آپشن سے یس آر نو۔”

“No Ufaq You hav’nt any option say yes or no?”

باری کے لہجے میں کوئی رعایت نہیں تھی ۔

“یہ بہت جلدی ہے باری ابھی تو ہم دونوں۔۔۔”

“ہم افق جب باری اور افق کے نام کا فرق مٹائے ، ہم بن جائیں تو سوالوں کی گنجائش نہیں رہتی۔اکثر سوچ میں پڑتے راہوں کو متعین کرنے والے لوگ راستے سے بھٹک جاتے ہیں۔”

ہاتھ برھائے باری نے اسکے سر سے ڈھلکتے آنچل کو اسکی جگہ پہ ٹکایا تھا۔

افق اسکی ہر ادا ہر لفظ پہ فدا ہونے لگی تھی تبھی سر جھکائے اسکی پکار پہ اپنے اظہار کی مہر ثبت کرتے خود کو ایک بند گلی کا مسافر بننے کیلئے چھوڑ دیا۔

اسے لگ رہا تھا کہ اسکے ڈھلکے آنچل کی پرواہ کرنے والے شخص سے بڑھ کے کوئی اسکی عزت کا رکھوالا نہیں ہوسکتا۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *