Tar e Ankaboot by Uzma Mujahid NovelR50607 Tar e Ankaboot (Episode 15)
Rate this Novel
Tar e Ankaboot (Episode 15)
Tar e Ankaboot by Uzma Mujahid
ھمارے دِل کے اِک گوشے میں __ اب بھی!!
تُمھاری آرزو رکھی ہوئی ھے..
زُباں کو بے طلب رَکھا ھوا ھے
انا کی آبرو رکھی ہوئی ہے ..
کوئی انکے حجرےمیں آیا تھا وہ ایک دم سیدھی ہو بیٹھیں ۔
“کک کون ہے؟”
اس عمر میں بھی انکے خوف کا یہ عالم تھا جو آنے والے منجمد کرگیا تھا۔
“زر”اندھیرے سے روشنی کے ہالے نے ایک مجسم کو سامنے لاکھڑا کیا تھا۔
کتنی ساعتیں گزریں ،ماہ وسال کی گردش بیس سال پیچھے گئی تھی جہاں وہ فیضان کی زر تھی ۔فقط زرمینہ شاہ تھی۔
“فیض۔۔۔۔”آنکھیں دیکھنے سے چندھیائی تھیں ۔
صرف میرے لیئے نہیں رہنا۔۔۔
تم میرے بعد بھی حسین رہنا۔۔۔
وہ آج بھی ویسی ہی تھی ۔
گزرے وقت نے اسکے چہرے کو اور زیادہ پاکیزگی اور متانت بخشی تھی۔
برسوں بعد کا ملن اسکی آنکھیں اشک بار کرگیا تھا۔
فیضان نے اسکے سامنے معافی کے سے انداز میں ہاتھ جوڑے۔
“مجھے معاف کردو زر میں باری کو خوابوں سے حقیقت کی خاردار دنیا تک آنے سے نہیں روک سکا۔۔”
ناہی کوئی گزرے دنوں کی جدائی کی داستان نے ملنے کی آسودگی ،گر ذکر تھا بھی تو اس بنجر زمین ہستی کا جو انکی آبیاری کے باوجود بھی ویران تھی۔
فیضان کی آنکھیں اشک بار تھیں گزرے وقت نے زرمینہ شاہ کے سر میں چاندی کی جھلک دکھائی تھی تو ہمیشہ ٹپ ٹاپ رہنے والا فیضان جو باری کا بڑا بھائی دکھائی دیتا تھا ایک دم شکست خوردہ سا بڑھاپا طاری کیے ہوئے تھا۔
“اسے بتانا تھا نا کہ اسکی ماں بری نہیں ہے۔”
پہلے افق اور اب فیضان بھی باری کی نفرت کا سندیسہ
لایا تھا۔
“اسے ایک بار تو بتاتے کہ اسکی ماں نے اپنے پرکھوں کا سر اونچا رکھنے کیلئے۔۔۔۔”زرمینہ کے باقی ماندہ الفاظ کم پڑگئے تھے۔
“بولو زر۔”
فیضان اسے سننا چاہ رہا تھا دونوں میّں سے کسی نے بھی آگے بڑھتے صدیوں کی لگی باڑ کو نہیں توڑا تھا۔
“اپنے پرکھوں کی قبروں کا شملہ اونچا رکھنے کیلئے اپنا وجود ہار دیا۔”
ایک تھکن سی لہجے میں اتری تھی ۔فیضان کو وہ آج بھی قفس میں مقید بےبس پنچھی نظر آرہی تھی۔
جس نے زندہ انسانوں کو قبروں کے امیروں کی خاطر قربان کرڈالا تھا۔
“کیاملا زر؟”
وہ شکوہ نہیں کرنا چاہتا تھا وہ سوال بھی نہیں کرنا چاہتا تھا ۔
پھر بھی جسے بیس سال سے من کے مندر میں بیٹھائے خواب خواہشوں کی زندگی تیاگ دی تھی آج کیسے لبوں پہ سوال آیا تھا ۔
زرمینہ شاہ نے آنکھیں میچے جیسے اپنا نفع نقصان کا
حساب لگایا تِھا۔
“کیا ملا زر۔”سوال پھر دہرایا گیا تھا۔
“دنیا کا کوئی قانوں کوئی مذہب اس چیز کو نہیں مانتا۔۔۔”
شاید لوٹ آنے کی آس بول رہی تھی۔
“لیکن حویلی والے مانتے ہیں ،جس قسم کو توڑے آپ یہاں آگئے اس قسم کو نبھانے کیلئے میں نے خود کو الگ کرلیا تھا۔”
زرمینہ نے احتجاج بلند کیا تھا جیسے وہ خود ہی اپنے وجود کی جنگ سے تھک چکی تھی۔
“زر پلیز تھوڑی سی ہمت دکھادو تویہ خودساختہ زنجیریں ٹوٹ بھی سکتی ہیں۔”
فیضان نے آگے بڑھتے اسکا ہاتھ تھاما تھا۔
اتنے سالوں بعد وہ اس لمس کو محسوس کررہی تھی۔
فیضان اپنی بےاختیاری پہ شرمندہ تھا تو وہ سانس روکے سب محسوس کررہی تھی۔
“میّں اسے روک ہی نہیں پایا اسکے خواب بار بار اسے اسکی جڑوں تک دھکیل دیتے ،ہوش سنبھالتے ہی اس درگاہوں ،سلاخوں میں جکڑی عورتیں سفید لباس میں ملبوس پریاں دیکھنا شروع کردیں ہروہ رات اذیت میں
گزرتی جب وہ ایک نیا سوال لائے سامنے کھڑا ہوتا تھا میں اسے اس سے زیادہ دیر یہاں تک آنے سے نہیں روک پاؤنگا زر۔”
فیضان باری سے متعلق ہربات کھول کے بیان کی تھی۔
زرمینہ قدرت کے اس کھیل پہ حیران سی ٹہری تھیں۔
قدموں کی چاپ حجرے کے قریب آرہی تھی ۔
فیضان نے ایک بےبس نگاہ اس پہ ڈالتے ساتھ تیزی سے باہر کی طرف قدم بڑھا دیے۔
اسے آج بھی اسکا بھرم عزیز تھا محبت کا بھرم۔۔۔
اور پھر کوئی بھی باری کو روک نہیں سکا تھا اسکی تلاش اسے یہاں تک کھینچ لائی تھی۔
مرشد سائیں نے جب سائل کے منہ سے نکلے الفاظ”وہ میری قاتل ہیں۔”ان تک پہنچائے کتنی دیر وہ مراقبے کی حالت میں چلی گئی تھیں اور اب نجانے ہمیشہ کی طرح انہیں کتنے فیصد جھوٹ اور کتنے فیصد سچی خبر سنائی گئی تھی سائل کے مرنے کی داستان۔
✪✪✪✪
عشق ادھورا چھوڑ رہے ہو۔۔؟
ایسا تھوڑی ہوتا ہے۔۔۔
جوڑ کے رشتہ , توڑ رہے ہو۔۔
ایسا تھوڑی ہوتا ہے۔۔
میرے دل کو!
ٹکرے ٹکرے کر بیٹھے ہو تم۔۔۔
اب ان ٹکروں کو جوڑ رہے ہو ۔۔۔
ایسا تھوڑی ہوتا ہے ۔۔
ٹیکسی تیزی سے ائرپورٹ کی حدود کی بڑھ رہی تھی جب ایک جھٹکے سے رکی۔
افق ان گنت یادوں کے بھنور سے نکلی تھی ۔
“کیا ہوا ادا؟”ارگرد نگاہ دوڑاتے وہ بولی تھی۔
“پتانہیں بیبی جی آگے کسی نے گاڑی کھڑی کردی ہے۔”
ٹیکسی والے نے سادگی سے جواب دیا اس نے تھوڑا آگے
دیکھنا چاہا جب اسکی سائیڈ والا دروازہ کھلا تھا۔
“بب باری۔”
سرخ آنکھوں سے ٹپکتی وحشت افق کو ڈرا رہی تھی۔
“ارے صاحب آپ۔۔”
“دور رہو تم بیوی ہے میری۔”
ٹیکسی والے نے اسکی حرکت پہ روکنا چاہا تھا جب
وہ شعلے برساتے بولا۔
“سامان ڈالو گاڑی میں۔”
بنا دیکھے والٹ سے پیسے نکالے اسکی طرف اچھالتے ساتھ کہا تھا۔
“نن نہیں مجھے کہیں نہیں جانا میری فلائٹ کا ٹائم۔۔۔”
اسکی بات ادھوری رہ گئی تھی جہاں وہ اسے لیے اپنی گاڑی کی طرف بڑھا تھا۔
“کیوں کررہے ہو تم ایسے؟”
وہ تقریباً دھاڑی تھی۔
“تم یوں میری ذات کو میرے کردار کو سر راہ بےمول کرکے نہیں جاسکتی افق شاہ تمہیں اس چیز کا جواب دینا ہوگا۔”باری کی آواز تک پہنچنا اسکی آواز کی اوقات ہی نہیں تھی۔
“اور تم بھول کیسے سکتی ہو افق زادی کہ ابھی بھی تم میرے نکاح میں ہو۔”
باری نے اسے گاڑی میں تقریباً دھکا دیا تھا تو وہ حواسوں میں لوٹی تھی۔
“نن نہیں باری پلیز مجھے گھر جانے دو ادا سائیں
ائرپورٹ پہ انتظار کررہے ہیں مم میرا۔”
افق کے کمزور دلائل اس پہ اثر نہیں کررہی تھے جو ایک
اسکا ایک ہاتھ تھامے دوسرے سے ڈرائیونگ کررہا تھا۔
کوئی راستہ نہ پاتے اس نے رونے پہ اکتفا کیا تھا۔
باری نے تاسف سے اس شیرنی کو دیکھا تھا جو اب بلی
بن کے بیٹھی رو رہی تھی ۔
ایک لمحہ شرمندگی نے آن گھیرا کہ ایک کمزور ذات کو اپنی انا کا نشانہ بنا رہا ہے لیکن باری کا غصہ کم ہونے کا نام نہیں لے رہا تھا۔
وہ اسے لیے نسبتاً سنسان علاقے میں آیا تھا ایک گھر کا دروازہ کھولے اسے اندر لایا تھا۔
آس پاس گھر ضرور تھے لیکن کسی کو شاید یہاں ہونے والی کسی بات کی مخبری نہیں تھی ۔
باری اسے گھر میں لاتے ساتھ وہاں سے چلا گیا تھا نجانے کتنی ساعتیں گزری تھیں جو اس نے لوٹ کے آنے کا نام نہیں لیا۔
بھوک پیاس کی شدت سے بلبلاتی وہ نڈھال سی پڑی تھی جب دروازہ کھلنے پہ اسے اندر داخل ہوتے دیکھا۔
“کیا چاہتے ہو تم باری ؟کیوں لائے ہو مجھے یہاں ؟جس رشتے کا کوئی وجود نہیں ہے محض ایک دھوکا ہے اسکا کوئی حق نہیں رکھتے تم مجھ پر۔”
وہ چلاتے ہوئے اسکے سامنے آئی تھی ۔
“شش “اسے مسلسل بولتا دیکھ وہ اسکے قریب آتے اسکے بال مٹھی میں جکڑ گیا۔
باری کے وجود سے اٹھتی مہک بے اختیار افق کو پیچھے جانے پہ مجبور کررہی تھی۔
“کوئی دھوکا نہیں ہے،دھوکا تو تم لوگ دیتی ہو شاہوں
کی بیٹیاں ،افق شاہ، زرمینہ شاہ۔”
باری نے کہتے ساتھ بےہنگم قہقہ لگایا تھا۔
افق کو پہلی بار باری کی قربت سے کراہت محسوس ہورہی تھی۔
“کیا بولا تھا تم نے بدکردار،بھول گئی افق شاہ اس بدکردار شخص کی باہوں میں کتنے دن رات گزارے ہیں تم نے؟”
بنا افق کے احتجاج کو کسی کھاتے میں لائے وہ اسے مزید اپنے قریب کرگیا۔
“بب باری پلیز تم ہوش میں نہیں ہو۔”
افق نے اسے پیچھے دھکیلا تھا لیکن وہ دھان پان سی لڑکی بھلا اسکے فولادی جسم کا کہاں مقابلہ کرسکتی تھی۔
“بہت قرض ہیں افق شاہ ،سید خاندان پہ میری ہر ہر بے چین گھڑی کا مدوا تم کروگی۔”
اسکا بازو اسکی پشت لگائے وہ بے رحمی سے بولا تھا۔
“ہاں میں گیا تھا اس لڑکی کے قریب جانتی ہو کیوں؟۔۔۔تمہیں کیسے پتا ہوگا تم تو تھی نہیں۔۔یہ اس وجود کی خوشبو کھینچ کے لے گئی تھی وہاں،تت تم تمہارا وجود مم میری عادت ہے افق۔۔”
اسکے بالوں کو پونی کی قید سے آزاد کیے افق کی پشت پہ بکھیرتے اس میں اپنا چہرہ چھپایا ۔
افق کو لگ رہا تھا اگر مزید باری نے اسے اپنے قریب رکھا تو وہ حواس کھو دے گی۔
“تت تم کیوں جارہی تھی افق اپ۔۔ اپنے باری کو چھوڑ کے۔”لاڈ سے کہتے اس نے افق کے کندھے پہ سر رکھا تھا ۔
افق کو اسکی بے ہنگم باتیں رلا رہی تھیں وہ نشے میں دھت کتنا کچھ بولے جارہا تھا۔
“بب باری۔۔”افق نے اب کے کمزور احتجاج بلند کیے اسکا سر اپنے کندھے سے ہٹانا چاہا لیکن صبح سے بھوکا پیاسا وجود اپنے اندر کہاں اتنی ہمت رکھتا تھا۔
باری نے اسکے لبوں پہ ہاتھ رکھتے اسکی بولتی ہی بند کروا دی۔
“محسوس کرو نا افق ان تنہائیوں کو ان سناٹوں کو جو میرے اندر ہیں،مجھے منا لو افق باری بہت اچھا ہے لیکن وہ اندر سے خالی ہے،تت ۔۔۔۔۔تم اسے اپنے ساتھ لے جاؤ وہاں وہاں بہت سکون ہوگا نا میں زر زرمینہ شاہ سے ملنا چاہتا ہوں ،مم معاف نہیں کرونگا۔”
عبدلباری کی آواز مدھم ہورہی تھی شاید وہ غنودگی میں جارہا تھا ۔کتنی دیر وہ بےبس بیٹھی اپنے کندھے پہ سر ٹکائے عبدلباری کو دیکھا جو شاید سوچکا تھا۔
وہ آج پہلی بار غور کررہی تھی اس پہ جو ہوبہو زرمینہ شاہ کے نقوش چرا لیا تھا۔
اسکے اصل کا سوچتے وہ پیچھے ہونے لگی تھی جب عبدلباری نے اسکے کندھے سر آٹھائے آنکھیں کھولیں۔
لال انگارہ نیند کے خمار سے بھری آنکھیں اسے لرزا گئیں۔
“مجھے تمہاری ضرورت ہے افق۔”
کسی معصوم بچے کی طرح کہتے اس نے افق کے دونوں ہاتھ پکڑے افق کو اس پہ ترس آیا تھا لیکن وہ اتنا بھی ہمدردی کے قابل نہیں تھا۔
“تم کچھ نہیں بولو گی؟”
اسے جواب دیتا نا دیکھ وہ مایوسی سے بولا تھا ۔
افق نے بے ساختہ نفی میں سرہلایا۔
“کیوں؟کیوں افق شاہ ہر کوئی عبدلباری کو تماشہ بنانے
یہاں آئے گا۔۔ نن۔۔ نہیں تت۔۔ تمہیں زرم ۔۔۔سبکو اس نفرت کا جواب دینا ہوگا۔۔”
وہ پھر سے جنونی ہوتے اسے جکڑ چکا تھا۔
“چپ مت رہو افق پلیز۔۔۔”
شاید وہ صبر کی حدود سے باہر تھا۔
افق کو سمجھ نہیں آرہا تھا وہ ایسے شخص کو کیا بولے جو اسوقت اپنی ذات سے ناآشنا تھا۔
اچانک سے عبدلباری کی حرکت افق کو ہوش میں لائی تھی۔خود پہ جھکتے عبدلباری کو اس نے پیچھے دھکیلا مگر کوئی فائدہ نہیں ہوا تھا۔
“کک کیسے عبدلباری کے وجود سے انکار کرسکتی ہو تم۔۔ مم تت تمہارے وجود کا بھی حصہ ہوں۔”
وہ چلاتے ہوئے اپنا سارا غصہ اس پہ نکال رہا تِھا افق کا کوئی احتجاج کام نہیں آیا تھا جہاں وہ اپنے بدلے اور فتح کے جشن کی لگی آگ کو اسکے وجود سے مٹاتا رہا۔
آنے والے کئی دنوں تک وہ بھوک پیاس سے نڈھال اسکی ہوس کا نشانہ بنتی رہی تھی محبت کسی کونے میں بیٹھی سسکتی رہتی ۔
✪✪✪✪
معمول کے مطابق وہ گھر آیا تو افق کا کہیں کوئی وجود نہ تھا وہ پریشان ہو اٹھا تھا جب اپنے پیچھے کھٹکے پہ وہ مڑا لیکن تب تک افق نے ہاتھ میں پکڑا راڈ اسکے سر میں دے مارا تھا۔
عبدلباری نے بےیقین نظروں سے اسے دیکھا جو اپنا وار خطا ہونے پہ تھر تھر کانپ رہی تھی۔
“حیرت ہے افق شاہ جو کل تک محبت کی دعوایدار تھی اتنی نفرت کا مظاہرہ کیسے؟”
اسکے الفاظ ہی نہیں انداز سے بھی حیرت عیاں تھی۔
“کونسی محبت ،نفرت ہے مجھے تم جیسے شخص سے جو کسی کا سگا نہیں ہے۔”
افق نے بس اسکے منہ پہ تھوکا نہیں تھا باقی تمام تر انداز نفرت لیے ہوئے تھا ۔
طاق پہ بیٹھی نفرت اور محبت کا نام لیتے لڑنے والوں کو دیکھتے نفرت نے محبت کو دیکھا تو اس نے غرور سے منہ موڑ لیا۔
“تت تم مجھ سے نفرت نہیں کرسکتی افق شاہ۔”
عبدلباری نے اسے جھنجوڑتے جیسے نیند سے جگانا چاہا۔
نفرت نے آنکھیں سکیڑتے غصے سے عبدلباری کو دیکھا ۔
وہ تو اسکا پیراہن پہن کے رکھتا وہ تو نفرت کا مرید تھا پھر کیوں افق سے محبت کی بات کررہا تھا۔
“کیوں؟کیا یہ اختیار صرف تمہیں حاصل ہے؟”
وہ بنا خوف کے بولی تھی۔
نفرت نے فاتحانہ انداز میں محبت کو دیکھا ۔
عبدلباری منکر ہوا تو کیا ہوا افق شاہ اب اسکی مرید تھی۔محبت کو نفرت کی یہ گستاخی منظور نہیں ہوئی تو
عبدلباری کے سامنے جاکھڑی ہوئی۔
“عبدلباری تم افق شاہ کو نہیں کھو سکتے ،تم اسے بتاؤ گے کہ تمام تر نفرت کے باوجود تم اس سے ہار گئے ہو افق شاہ کی محبت تمہارے دل میں گھر کرگئی ہے۔”محبت نے باری کو حوصلہ دیا تھا وہ ایک دم محبت کا ساتھ پاتے مضبوط ہوا تھاوہ تنہا نہیں تھا اسکے ہمراہ محبت تھی۔
“میں نہیں جانتا کب کیوں کر میں افق شاہ کے سحر میں جکڑا گیا شاید اسوقت جب مری کے ہوٹل میں تنہائی حاصل ہونے کے باوجود بھی محبت نے عزت کو معتبر جانا تھا۔”
عبدلباری کے الفاظ پہ نفرت کے منہ تماچہ پڑا تھا۔
“شاید جب جب کامران کی دری پہ گیا وہاں کا ڈوبتا سورج مجھے میرے ادھورے وجود کے ساتھ کو قبول نا کرتے منہ چھپا لیتا تھا۔”
عبدلباری کا بےبس انداز وہ آج شاید پہلی بار اس جھیل کو ایک جمود میں دیکھ رہی تھی۔
“نہیں افق شاہ شاید اسوقت بھی میں تمہاری محبت کے حصار میں تھا جب میرال میرے پاس آئی تھی لیکن اسکی مہک افق شاہ جتنی مقدس نہیں تھی۔”
محبت نے نفرت کے سامنے سرخروئی کا اشارہ کیا تو نفرت اسے منہ چڑاتے افق کے سامنے جاٹہری۔
(“نہیں افق ہمت مت ہارنا اس شخص نے تمہیں استعمال کیا ہے،تمہاری توہین کی ہے ہر ہر موقعے پہ تمہیں نیچا دکھایا ہے تمہارے اصل سے نفرت کرنے والا کسطرح بھلا یوں اچانک سے محبت کو دوست بنا رہا ہے اسکے بہکاوے میں مت آنا”)نفرت اپنا پاٹ پڑھائے محبت کو تماشہ دیکھنے کی طرف اشارہ کررہی تھی۔
(میں تمہیں بددعا دونگی ،بدنام،بےعزت ہوکے نکلو گی محبت کی گلیوں سے۔محبت نے روتے ہوئے نفرت کو کہا ۔محبت کمزور پڑ رہی تھی پر نفرت تو ، وہ تو فاتح عالم بنی افق کو دیکھ رہی تھی۔)
“زرمینہ کو مکڑی سے تشبہیہ دے کے ساری زندگی نفرت کرنے والے شخص کو اگر یہ پتا چلے کہ وہ بھی ایک فتنے کا شکار ہوئی ہیں جہاں وہ درگاہ کے منبر سجائے لوگوں کیلئے مشکل کشا(تصیح النثر:نعوذباللّٰہ مشکل کشا صرف اللّٰہ کی ذات ہے) بن کے انکی حاجتیں پوری کررہی ہیں ۔وہ کئی درجے اس شخص سے بہتر ہیں جو ایک شرابی جواری اور دھوکے باز ہے۔”
نفرت سے کہتے اس نے باری سے منہ موڑ لیا تھا۔
جہاں اس نے شرم وحیا کی چلمن دیکھی تھی وہاں نفرتوں کے شعلے اسے جلانے لگے تھے ۔
“ان اونچے مکتبوں تک پہنچنا تم جیسوں کیلئے ناممکن ہے،وہ پاک بیبی ہیں ،پاک بیبی، دنیا کی غلاظت کا ان سے دور دور تک کوئی واسطہ نہیں ہے۔ تبھی خدا نے تمہارے جیسے نجس انسان کو انکے وجود کا حصّہ بنا کے بھی ان کی محبت سے دور رکھاہے۔ارے تمہیں تو اتنا بھی شرف نہ ملے جو کبھی انکے عقیدت مندوں میں شامل ہوجاؤ۔”
اسے گربیان سے پکڑے وہ ان حقیقتوں سے آشکار کروا رہی تھی جو اس نے بار بار خواب میں دیکھیں۔کبھی بھی تو پاک بیبی تک نہیں پہنچا تھا۔
محبت سسکتے ہوئے عبدلباری کے قدموں سے لپٹی اسکی منتیں کررہی تھی کہ وہ افق کو منا لےلیکن وہ بولا بھی تو کیا۔
“آج سے افق شاہ تمہاری آزادی کے دروازے تمہارے لیے کھلے ہیں ہاں لیکن لوٹ کے آنا چاہو کہیں بھی عبدلباری کو حق پہ پاؤ تو لوٹ آنا افق۔”
محبت کے سامنے عبدلباری نے ہاتھ جوڑے اسے اپنے پاس سے ہٹائے افق سے کہا۔
نفرت نے محبت کو دیکھا جو ابھی اسے بددعا دے رہی تھی اور خود کیا ماہی بےآب کی طرح سسک رہی تھی۔۔۔
“آئیندہ افق شاہ کے راستے میں مت آنا عبدلباری افق شاہ کی دنیا اس عام دنیا سے بہت الگ اور خاص ہے۔”
زرمینہ شاہ کے حق میں دلائل دینے والی افق شاہ اپنے
دفاع میں کچھ نہیں بول پائی تھی۔
عبدلباری خالی دل دماغ لیے اسے جاتا دیکھ رہا تھا جو اسکی عام دنیا سے خاص الخاص دنیا کی طرف جارہی تھی۔
نفرت نے تالی بجاتے محبت کو نیچا دکھایا۔۔
~اے محبت تیرے انجام پہ رونا آیا۔۔۔۔
✪✪✪✪
“افق تم جزباتیات میں کوئی فیصلہ نہیں لوگی۔”
زرمینہ شاہ کو اسکے بچے کی بابت معلوم پڑا تو روتے
ہوئے استدعا کی۔
“نہیں پھوپھو میں ایک اور عبدلباری دنیا میں نہیں لانا چاہتی جوں جو ریاکاری اور جھوٹ سر کا بیج ہو ،میں ایسے کسی پودے کی نشوونما نہیں کرونگی۔”
وہ ہاری تھی ٹوٹ کے بکھری تھی اور پھر اپنے کرچی کرچی وجود کو سمیٹے کھڑی ہوئی تھی۔
“افق وہ اکیلا ہی قصوروار تھا کیا؟”
ایک کٹھن سوال ۔افق کو ہنسی آگئی۔
“عبدلباری کی ماں بن رہی ہیں ،مت بھولیں آپ ایک مکڑی سے زیادہ کچھ نہیں اسکیلئے۔اسے کیا چاہیئے تھا اسے خود بھی نہیں پتا ہے۔اسے فیضان انکل کی زندگی آباد کرنی تھی یا افق شاہ کے ذریعے زرمینہ شاہ کو گزند پہنچانی تھی۔اسے لگ رہا تھا یہاں ۔۔”
اس نے اپنے دل پہ ٹھونک بجاتے کہا۔۔
“یہاں تکلیف ہوگی تو تکلیف یہاں بھی ہوگی۔”
ہونٹوں کا کونہ چباتے زرمینہ شاہ کے دل پہ ہاتھ رکھا تھا۔
“لیکن وہ شاید جانتا ہی نہیں ہے یہاں دوسروں کے دکھ درد کو بڑے حوصلے سے سنا جاتا ہے اور اس تکلیف کو ایک تعویز میں سمیٹ کے گلے کا ہار بنادیا جاتا ہے ۔۔ہاہاہا”
زرمینہ شاہ نے تڑپتے ہوئے اسے گلے سے لگایا۔
افق شاہ کا ضبط ٹوٹا تھا۔
“ہار گئی آپکی افق پھوپھو وہ ہار گئی ،آزادی کی چاہ کب محبت کی غلامی میں چلی گئی اسکا تو پتا ہی نہیں چلا ۔سب ختم ہوگیا سب اس نے صرف اپنی ذات کا مان غرور نہیں کھویا محبت بھی کھو دی وہ جھوٹے جزبوں کی بنیاد پہ رکھی جانے والی محبت ہار گئی پھوپھو،افق ہار گئی ہرا دیا اسکی نفرت نے افق کو اسکی محبت کو۔”
وہ اسکے سینے سے لگی ماتم کرتے زرمینہ شاہ کو بھی
رولائے جارہی تھی۔
“محبت یہاں کے مکینوں کی چاہ نہیں ہونی چاہیئے افق۔”زرمینہ شاہ نے تلخی سے مسکراتے کہا۔
“درگاہوں کو پوجنے والے ،مرے ہوئے لوگوں کی تعظیم کرنے والے زندہ انسانوں کو کیوں بھول جاتے ہیں ؟
زندہ انسانوں کے جزبات کو منوں مٹی تلے سوئے لوگوں کی خاطر روندنا کونسا مذہب سکھا رہا ہے آخر؟
پردہ نشینوں کیلئے یہ حجرے ،زمین کے اندر مکینوں کیلئے درگاہیں،اشرف المخلوقات کےعہدے پہ فائز ہونے والے انسان کی پست ذہنیت کی تخلیق نہیں ہے تو اور کیا ہے؟
کوئی تو آئے ،کوئی تو ان غلام گردشوں میں سسکتی زندگیوں کا ذاد راہ بنے کوئی تو غلامی کی زنجیروں کو توڑنے والا مسیحا بنے؟”
وہ روتے ہوئے ان سے گلہ کررہی تھی جنہوں نے اپنی زندگی کی بہاریں ان بھول بھلیوں کے نظر کردی تھیں بھلا وہ بھی کبھی اسے مطمئن کرپائی تھیں۔
“اب کے کوئی نجات دہندہ نہیں آنے والا ہے اللّٰہ کے بندے جب اللّٰہ کو ہی بھول گئے ہیں تو وہ اسکے بندوں کو کیلئے کیوں سوچے گے؟ ہماری تقدیر کا فیصلہ عرش نے فرش والوں کو دے دیا ہے میری بچی۔”
زرمینہ زندگی گزارے بیٹھی تھیں افق نے تو صرف منبر پہ موجود زرمینہ شاہ کو دیکھا تھا جبکہ وہ تو اپنی تین پھوپیوں کو ان زندانوں میں سسکتے دیکھ چکی تھیں۔
لیکن اس تارعنکبوت میں ایک روشنی کی کرن ہے امید کی مشعل جل رہی ہے۔اللّٰہ اپنے بندوں سے بہت پیار کرتا ہے وہ ہمیں مایوس نہیں لوٹائے گا۔
کیا یہ لوگ مرنا بھول گئے ہیں؟ آخر کب تک درباروں کی آڑ میں یہ اپنے قبلے سیدھے کریں گے۔
(القرآن)
اُولٰٓىٕكَ الَّذِیْنَ اشْتَرَوُا الْحَیٰوةَ الدُّنْیَا بِالْاٰخِرَةِ٘-فَلَا یُخَفَّفُ عَنْهُمُ الْعَذَابُ وَ لَا هُمْ یُنْصَرُوْنَ۠(۸۶)
یہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے آخرت کے بدلے دنیا کی زندگی خرید لی تو ان سے نہ تو عذاب ہلکا کیا جائے گا اور نہ ہی ان کی مدد کی جائے گی۔
(البقرہ )
“مکڑی اپنے نر مکڑی کو مار کے اور اسکے بچے اسے مار کر کیا کرتے ہیں ایک فتنہ ہی تو برپا کرتے ہیں۔
درحقیقت، فتنے، سازشیں اور آزمائشیں بھی مکڑی کی جال کی طرح پیچیدہ ہیں،جو کبھی کبھی گھروں میں بھی پنپتے ہیں ۔”زرمینہ نے اسے ماتھے پہ بوسہ دیا تھا۔
افق کی آنکھوں کے سامنے عبدلباری سے آخری ملاقات کا منظر آیا تھا جہاں وہ اسے ضمیر کے کٹہرے میں کھڑے کیے بار بار اسکی تذلیل کررہی تھی۔
اور اپنی خاص الخاص دنیا کے منبر پہ بیٹھتے ساتھ اس نے زرمینہ کے لاکھ سمجھانے پہ بھی نفرت کی اس داستان کو ختم کردیا۔
ایک اور عبدلباری کو اس دنیا میں لانے سے منع کردیا۔
یہ جانتے بھی کہ زندہ وجود کو دنیا میں لانے سے پہلے ابارٹ کرنا گناہ کبیرہ تھا وہ پھر بھی گناہ کی مرتکب ٹہری۔۔
کونے میں دبکی بیٹھی محبت نے آہ بھرتے سسکی لی ایسے تو وہ عبدلباری اور افق کو معاف کردیتی لیکن افق شاہ کے کڑے فیصلوں نے عبدلباری کو بھی جھکاتے اس در لا چھوڑا تھا۔
~جب کہا تھا محبت گناہ تو نہیں۔۔
پھر گناہ کے برابر سزا کیوں ملی۔۔
✪✪✪✪
“دیکھیں سر آپکا کیس بہت کمزور ایسے کیس میں مدعی اور گواہ دونوں کا متفق ہونا ضروری ہے اور جسطرح کی سچویشن آپ بتا رہے ہیں مجھے خاطر خواہ فائدہ ہوتا نظر نہیں آرہا،یہ وڈیرے جاگیر دار ،انکی اپنی الگ سلطنت ہے میرا نہیں خیال کوئی بھی اس چیز میں آپکی مدد کرے گا۔”
وکیل نے کیس سنتے انکار کردیا تھا۔
“یہ حق ہے کہ قرآن پاک اللہ کی وہ مقدس کتاب ہے جو حضرت محمد ﷺ پر نازل کی گئی۔ جو روز قیامت تک ہمارے لئے ہدایت اور رہنمائی کا سر چشمہ ہے مگر قرآن پاک کے ساتھ نکاح…. بالکل غیر شرعی ہے ، گناہ ہے۔ قانون میں پاکستان پینل کوڈ کے زیر دفعہ498Cکے تحت کوئی بھی ایسا شخص جو اپنی شادی کروانے کے لئے مجبور کرے یا موجب بنے اسے کم از کم تین سال قید اور زیادہ سے زیادہ سات سال قید اور جرمانہ کی سزا سنائی جائے گی۔۔۔”
متوازن لہجے میں کہتا وہ شخص اس وکیل کو حیران کرگیا ۔
“دیکھیں سر اگر آپ کو قانون کی اتنی ہی دیکھ ریکھ ہے تو آپ خود ہی یہ مقدمہ لڑ لیں۔”
وکیل نے اکتائے ہوئے انداز میں کہا تھا۔
“بلکل لیکن اہل علم ہونے سے بڑھ کے پاکستانی قانون کے مطابق آپکے پاس لاء کی ڈگری ہونی ضروری ہے۔”
وکیل کی جرح پہ اس نے مؤقف دیا تو کچھ دیر اس نے سوچنے کے بعد کہا۔
“دیکھیں میں آپکو بار بار کہہ رہا ہوں عام طور پر یہ جرم وہی لوگ کرتے ہیں جو زمین اور جائیداد کی تقسیم نہیں چاہتے اور بطریقہ اسلام بہنوں کے وراثتی حق کو تسلیم نہیں کرتے اور انہیں جائیداد سے دور رکھنے کے لئے ایسے حربے استعمال کرتے ہیں تاکہ وہ تمام عمر اُن کی دہلیز پر بیٹھی بیٹھی بوڑھی ہو جائیں اور وہ عیاشی کریں۔یہ لوگ بہت مضبوط ہوتے ہیں اور یہ تو صوبہ تبدیل ہے وہاں کے ایکٹ۔۔۔؟”
“قرآن سے نکاح پاکستان کے آئین اور قانون کی رو سے بالکل غیر قانونی ہے ۔ اسلام مکمل ضابطہ حیات ہے۔ ہمارے پیارے نبی حضرت محمد ﷺ نے اپنی لاڈلی بیٹی حضرت فاطمہ ؓ کا باضابطہ طور پر نکاح حضرت علی ؓ سے کیا تھا۔ جو کہ اس بات کی دلیل ہے کہ اسلام کسی بھی ایسے رواج کا قائل نہیں ہے ۔ یہ سراسر غیر شرعی ہے جبکہ کوئی عورت بھی اپنے پہلے شوہر سے طلاق لئے بغیر دوسری شادی نہیں کر سکتی۔ قانون میں ایسی شادی کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔ ایسی عورت یقینی طور پر سزا کی حقدار ہے۔”
وکیل کے بات کاٹتے وہ آرام سے بولا تھا مسئلہ یہی تھا کہ وہ شہر کے جانے مانے وکیل تھے اور وہ انہیں ہی ہائر کرنا چاہتا تھا۔
“سوری اگر آپ اتنا ہی انسسٹ کررہےہیں تو میں آپکو یہ بتادوں کوئی بڑے سے بڑا وکیل ہی کیوں نہ آجائے وہ یہ کیس ہار جائے گا کیونکہ سامنے ایک بہت بڑے سیاسی لیڈر سید ثقلین شاہ اور انکے بچوں کی بات ہے میں کیا کوئی بھی آپکی خاطر یہ رسک مول نہیں لے سکتا ہے۔آپکی تمام باتیں ٹھیک ہیں لیکن ہمیں اپنی روزی روٹی کے ساتھ بچے بھی عزیز ہیں۔”
وکیل نے کھڑے ہو ہوتے اسے باہر کی طرف اشارہ کیا۔
“بلکل آپکی روزی روٹی تو خدا کے ہاتھ میں ہے لیکن آپکے بچے اور بیوی میرے ہاتھ میں آگے آپ خود سوچ لیں۔”
اس نے موبائل سے ایک ویڈیو نکالے اسکے سامنے کی جہاں اسکی بیوی اپنے دونوں بچوں کو پارک میں لیے بہلا رہی تھی۔
وکیل صاحب کی آنکھیں باہر کو ابلی تھیں۔
انکے مفہوم میں چھپی دھمکی وہ جان چکا تھا۔
“دیکھیں یہ غیر قانونی طریقہ ہے۔”
وکیل نے پسینہ پوچھتے کہا۔
“بلکل جب قانون دان قانون کی عزت نہیں کریں گے تو پھر عام عوام کو انکے معیار تک آنا پڑے گا۔”
اسکے انداز میں چھپا طنز وکیل کو جزبز کرگیا۔
“ٹھیک ہے عبدلباری صاحب لیکن اس کیس میں سزاوار عورتیں بھی ہونگی۔”
وکیل نے حامی بھری تو وہ مسکرا دیا۔
“میں نے تو منع ہی نہیں کیا آپ پہلا فرد جرم زرمینہ شاہ اور افق شاہ پہ عائد کریں گے جنہوں نے ظالموں کا ساتھ دیتے اپنی ازدواجی زندگی کے ساتھ ساتھ اپنے بچوِں کا بھی قتل کیا ہے یہ رہے ثبوت کے معنوں میں نکاح نامے۔”۔۔۔
